Rate this Novel
Episode 27
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 27
“ماہین میری جان … وہ اسے گلے لگا گئیں ,وہ ان کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی , سعدیہ بیگم بھی آنسو بھارہی تھیں …. ماں تھیں بیٹی کے درد سے کب تک نظر چراسکتیں تھیں …
“ماں میں تھک گئی ہوں صفائیان دیتے دیتے , ہر دن ہر روز سب کو نہیں بتاسکتی اپنے حصے کا درد , میرا درد ہے کوئی تماشہ نہیں جسے ہر روز لگاؤں میں … ماہین نے بھیگے لہجے میں کہا …
” جانتی ہوں اپ جتنا علم نہیں رکھتی میں ہمارے مذہب کا پر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ ہمارے مذہب میں اجازت ہے عورت کو خُلا لینے کی , اگر یہ مجھے حق حاصل ہے تو میں اپنا حق ضرور استعمال کروں گی اور دوسری بات میں سوسائٹی کے ڈر سے اپنے اندر کے جذبات کو نہیں مارنا چاہتی , میں کھل کر جینا چاہتی ہوں ہر بوجھ سے ازاد ہو کر … ماہین نرم لہجے میں ہر بات واضع کرگئی …
“ہان میری جان , تمہیں یہ حق حاصل ہے , تم جب چاہو یہ حق حاصل کرسکتی ہو , تم خلا لے سکتی ہو … سعدیہ بیگم نے کہا اسے تسلی دیتے ہو , اپنی بیٹی کو رواج اور رسمون کی وجہ سے ایک اذیت بھری زندگی دینا سوائے بے وقوفی کے کچھ بھی نہیں , اور وہ اتنی بےوقوف نہ تھیں …
“ہاں وہ بھی لوں گی پر پہلے اس بات کا یقین کر کے کہ پھر کبھی مجھے کوئی بھی اس پل صراط سے دوبارہ نہیں گزارے گا … ہاں تب اس شرط پر لوں گی … ماہین نے ایک اور کنڈیشن واضع کی …
“پر ماہین … سعدیہ بیگم نے کہا کچھ کہنا چاہا پر کچھ سوچ کر ہونٹ بھینچ گئیں قبل ازوقت کچھ بھی کہنا سوائے بے وقوفی کے کچھ بھی نہیں …
“مجھے لگتا ہے میرے وجود میں ایک عجیب سی جنگ ہے، جو مجھے چین نہیں لینے دیتی۔.. میں سوچوں کو، تلخ رویوں کو دل دکھانے والی باتوں کو پیچھے چھوڑدینا چاہتی ہوں پر ناکام ہوجاتی ہوں , ۔لگتا ہے مجھ میں اب کسی کے لیے کوئی خیر باقی نہیں رہی ،بس تلخیاں ہیں اور کچھ نہیں …. اس لیئے میں پھر کبھی شادی نہیں کروں گی اپنی اولاد کو خود پالون گی … ماہین نے شروع کے لفظ درد سے چور لہجے میں کہے تھے پر آخری الفاظ مضبوط لہجے میں مکمل کیئے تھے …
اس کی باتوں پر سعدیہ بیگم کچھ لمحے کے لیے خاموش ہو گئی تھیں کیونکہ تکلیف تو واقعی ماہین نے بہت سہی تھی جس کا احساس ان کو بھی تھا …
“اللہ تمہیں بیٹے کی خوشی نصیب کرے میری جان … سعدیہ بیگم نے کہا …
“اولاد جو بھی ہو میرا فیصلہ اٹل ہے امی … ماہین نے کہا …
“پر دعا تو بیٹے کی ہی دیتے ہیں ماہین , اللہ بہتر کرے گا … سعدیہ بیگم اسے پیار کرتے ہوئے بولیں تھیں …
@@@@@@@@@@
“دیکھا اپنی جلدبازی , جلن اور حسد کا نتیجہ … کتنا کہتی تھی , ماہین کو چھوڑو شانی پر توجہ دو , پر تم مانتی کب تھی , یہ ہے ماہین کی خوشنصیبی , جس پر تم کو رشک اتا تھا , ایسی ہوتی ہے خوش نصیب لڑکیاں جن کے شوہر پہلے سے ہی شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہو … شاہدہ بیگم نے کلس کر نور سے کہا , جو سر جھکائے بیٹھی اپنی ہتھیلی کو گھور رہی تھی …
“رشک کرنا تھا خود پر کرتیں جس کو اس کی محبت مل گئی بغیر کسی محنت کے , تم جیسی لڑکیان اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر اجاڑتیں ہیں , سب حالات اگاھ ہوکر تم نے شانی کو پایا تھا تو تھوڑا صبر بھی تم نے ہی کرنا تھا نور اور پھر دیکھتی اپنے صبر کا اجر , پر تمہاری جلد بازی تمہیں لے ڈوبی نور …. شاہدہ بیگم کے لہجے میں رنج ہی رنج تھا , وہ افسوس سے یہ سب بولی تھیں … جاتے ہوئے بھی شانی کا جھکا سر , نظریں جھکیں , اس کی شرمندگی دکھا رہی تھیں , اس کا ہر انداز دل موہ لیتا تھا شاہدہ بیگم کا …
“امی بسسس کریں پلیز … نور نے کہا تکلیف سے وہ شدید شرمندہ تھی جو وہ کچھ کرچکی تھی …
“نور شانی بہت اچھا لڑکا تھا تم قدر نہ کرسکی اتنی بدزبانی کرتی تھی اس سے , سب جانتی تھی تم اس کا پاغل پن ماہین کے پیچھے , پھر بھی تمہارے کہنے پر تمہاری خوشی کے لیے ہم دونوں بہنوں نے شانی کی خوشی کو اگنور کر کے تمہیں اوپر رکھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ تم اس کے سر کے اوپر ہی ناچنا شروع ہو گئی … تھوڑا صبر کرتی تو شانی کو تمہارا ہی ہونا تھا … پر تم تو بس زبردستی اسے ماہین کے ساتھ جوڑتی رہی … مجھے پتہ تھا تمہاری بےوقوفیاں یہی دن دکھائیں گی ہمیں … شاہدہ بیگم کلس کر بولیں تھیں …
“امی میں نے بہت غلط کیا ماہین کے ساتھ وہ تو اچھی لڑکی تھی ہر وقت چپ رہتی اپنے اپ میں مگن گم صم رہتی تھی تو مجھے لگتا وہ شانی کو متوجہ کرنے کو کرتی ہے , میں بہت غلط تھی اسے دانش بھائی نے ایسا کردیا تھا …. امی میں نے بہت برا کیا ہے ماہین کے ساتھ … اور وہ اعتراف کرگئی اپنے دل کا بوجھ کہیں تو نکالتی اور پھر واقعی سب وہ بتاتی چلی گئی …
شاہدہ بیگم شاک ہوکر سنتی رہیں …
” تم نے اتنا کچھ ماہین کے ساتھ کیا پھر بھی تم نے دانش کو سب بتا دیا … شانی کے منع کرنے کے باوجود , تمہیں شرم نہیں ائی نور یہ حرکت کرتے ہوئے … ایک دفعہ بھی نہیں سوچا تم کیا کر رہی ہو کس کے ساتھ کررہی ہو … پورے خاندان کا تم نے بیڑا غرق کر دیا کل کو اگر دانش نے ایسا کچھ بھی شوشہ چھوڑا خاندان میں تو کیا عزت رہ جائے گی میرے بھائی کی , ذرہ سوچا ہے تم نے , سچ میں تم نے ڈوب مرنے کا مقام میرے لیے صرف چھوڑا ہے اور تو کچھ بھی نہیں چھوڑا نور … کاش تمہارے باپ کے ساتھ میں بھی مر جاتی تو یہ دن نہ دیکھتی میں … شاہدہ بیگم نے سہی معنی میں بہت دور کا سوچ کر اپنی بیٹی سے خفا ہوئیں تھیں … وہ صحیح معنوں میں شرمندہ تھی اپنے بھائی بھابھی سے اور ماہین سے جس کو اتنا کچھ برداشت کرنا پڑا ان کی بیٹی کی وجہ سے …
“امی مجھے معاف کردیں , سچ میں مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا یقین مانے میں تو بس اتنا چاہتی تھی کہ وہ دانش بھائی کے ساتھ اسلام اباد چلی جائے , تاکہ میں اور شانی ایک نئی زندگی شروع کر سکیں … نور نے روتے ہوئے کہا تھا جبکہ اس کی ماں بھی آنسو بھارہیں تھیں … کیسا کھیل کھیلا تھا زندگی نے ان لوگوں کے ساتھ اج سمجھ ایا بہت سی غلطیاں ان کی اپنی کردہ تھیں نہ وہ لوگ شانی کی محبت کو اگنور کرتے اور نہ اج اتنا کچھ ماہین کے ساتھ ہوتا یا نور کے ساتھ ہوتا , شائستہ بیگم تو ہمیشہ سے اپنی چھوٹی بہن کو بتاتی رہتیں تھیں شانی کا رجحان ماہین کے لیئے ہے … وہ اپنی بیٹی کے اجڑنے کا دکھ کیا مناتیں جب ان کی خود کی بیٹی کسی اور کا گھر اجاڑتی رہی وہ بھی کسی بے گناہ اور بے قصور کا …
“امی میں ماہین سے معافی مانگنا چاہتی ہوں پلیز ہم کراچی چلیں … نور نے کہا تڑپ کر …
“بسس کردو نور , اب اس سب کا کوئی فائدہ نہیں , تمہاری معافی سے تمہیں سکون ملے گا پر مجھے یقین ہے ماہین کے لیے اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے … وہ بیچاری پھر بھی معاف کردے گی پر نور کچھ بھی واپس نہیں آئے گا معافی کے بعد بھی … شاہدہ بیگم نے کہا افسوس سے …
“امی میں بہت اذیت میں ہوں ایک خواہش نے مجھے برباد کردیا , میں صرف گرتی ہی رہی اور گرتی چلی گئی پاتال میں … مجھے کہیں سکون نہیں آتا امی اب … نور نے روتے ہوئے کہا …
“نور یہ خواہشین یونہی انسان کو تباھ و برباد کرتی ہیں … شاہدہ بیگم کے وہ گلے لگ گئی تو وہ اس کا سرتھپاتے ہوئے بولیں … سب چھوڑ دیں ان کی بیٹی کو پر وہ تو اپنی بیٹی کو نہیں چھوڑ سکتیں تھیں کیونکہ وہ ماں تھیں ….
@@@@@@@@@
اوڑھ لی ہے خاموشی گفتگو نہیں کرنی
دل کو مار دینا ہے آرزو نہیں کرنی
اب تمہاری راہوں میں دھول بھی نہیں ہونا
اور تم کو پانے کی جستجو نہیں کرنی
اب یقین بھی کوئی میں نہیں دلاؤں گا
اب کوئی شکایت بھی رو برو نہیں کرنی
“میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا تھا ماہین , یہ سب ہوگیا , سوچا نہ تھا … اللہ تمہیں سکون دے خوشیان دے , تمہارے غم مجھے مل جائیں ,اور میرے حصے کی سب خوشیان تمہیں … ذیشان نے صوفے پر سر رکھے سوچا تھا … کتنی دیر سے وہ یونہی لیٹا تھا , جب اسے تیمور نے بتایا دانش بھائی کی شادی کا اور ماہین کے گھر چھوڑ کر جانے کا پھر ریما اپی کے حالات کا … کتنی دیر سے وہ اندر ہی اندر تڑپ رہا تھا , ماہین کا سوچ کر کتنا کچھ اس نے برداش کیا , ان کے گھر میں , وہ نہیں بھولا تھا … ماہین کو کس طرح دانش ٹریٹ کرتا تھا کسی سے چھپا نہ تھا , وہ ہمیشہ سے ایسا تھا اپنی مرضی کرنے والا , اپنے اگے کسی کو کچھ نہ سمجھتا تھا ….
“کاش بےخبر ہی رہتا تو اچھا ہوتا , اتنا تو سکون ہوتا کہ تم اور دانش بھائی ساتھ میں خوش ہو , اب وہ بھی سکون نہیں … شانی نے سوچا …
“اللہ تمہاری سب جائز خواہشات پوری کرے ماہین … میں بسس دعا ہی کرسکتا ہوں اور آخری سانس تک کرتا رہوں گا … کچھ آنسو ٹوٹ کر آنکھون سے بہے کر چہرے پر آٹھرے تھے …
“میں بہت کوشش کی تمہاری زندگی سے جتنا ہوسکے کانٹے چنوں پر دیکھو میرا وجود لہولہان ہوگیا پر وہ کانٹے وہیں کے وہین ہیں … ایسا ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوا ماہین , صرف زندگی میں تمہیں مانگا تھا وہ بھی دانش بھائی کو مل گئی , وہ ہمیشہ سے میری سب خوشیان لے لیتے تھے … ایک واحد خوشی تھی تم وہ بھی خودبخود ان کی جھولی میں اگری تم اور ان کی نظر میں تمہاری قدر بھی نہیں … کاش ایک بار کوئی آکر میرے دل سے پوچھے تمہاری اہمیت , قدر و قیمت , تو بتاتا کیا ہو تم میرے لیئے … انہیں دکھی سوچون پر آنکھیں جھلکتیں رہیں اور روح تڑپتی رہی , جانے کب تک سلسلہ چلتا اور آخر اللہ کو اس پر رحم آیا اور نیند کی دیوی مہربان ہوئی سارے دکھ درد بھی اس کے ساتھ سو گئے ….
@@@@@@@@
ایک بار اور دانش نے کوشش کی , طاہر صاحب اور شائستہ بیگم آئے تھے پر ماہین نے ان سے بات تک نہ کی اور نہ ملی تھی اس بار , وہ ان کو کوئی امید نہیں دینا چاہتی تھی …
طاہر صاحب نے ماہین کے تایا جان مدثر آفندی سے کہا “کہ وہ کسی طرح نادر کو سمجھائیں , یہ جو کررہے ہیں یہ لوگ وہ بلکل غلط ہے , علیحدگی کا سوچ رہے ہیں ڈیلیوری کے بعد , یہ سہی نہیں ہورہا سب … انہوں نے ان کو باریک بینی سے سمجھایا …
جس پر انہوں نے کہا “کچھ وقت ٹھر جائیں وہ لوگ , جب تک ماہین کی اولاد نہیں ہوجاتی , اس سے شاید ماہین کے سوچنے کا انداز بدلے , شاید وہ مان جائے سمجھوتے کے لیئے … انہیں صبر سے کام لینا چاہیئے یہ مدثر آفندی کا خیال تھا کیونکہ صبر کرنے سے ہی کچھ ہوسکتا ہے ورنہ جلد بازی صرف معاملات بگاڑتی ہے ….
“بحرحال آخری فیصلہ ماہین کا ہوگا … مدثر آفندی نے کہا …
جس پر طاہر صاحب کا خون کھول کر رہ گیا … پر ضبط کرگئے کیونکہ وقت کا یہی تقاضا تھا …
@@@@@@@@@
ٹھیک پندرہ دن بعد ماہین کو اللہ نے اپنی رحمت بیٹی سے نوازا تھا جو صحت مند لگ رہی تھی دکھنے میں … سعدیہ بیگم اور طیبہ کے اندر سے ہوک اٹھی تھی کیونکہ وہ دونوں نہیں چاہتیں تھیں بیٹی ہو … پر اللہ کی مرضی کے اگے انسان کی کب چلتی ہے …
بحرحال پورے خاندان کو پتا چل گیا تھا سب کے مبارکباد کے فون ارے تھے …
ماہین کی نارمل ڈلیوی تھی اس لیئے پچیس منٹ بعد اسے بیٹی دکھائی جارہی تھی اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہے نکلے ….
“آپ کو ریکوری روم میں لے جاکر بے بی اپ کے حوالے کریں گے … نرس نے پیار سے کہا کیونکہ ماہین اس معصوم کو گلے لگانا چاہتی تھی پر نرس روک گئی … وہ اسے چھوکر اپنی ممتا کی تسکین کرنا چاہتی تھی یہ احساس کرلینا چاہتی تھی کہ خدا نے اسے ماں جیسے عزیم مرتبے پر فائز کردیا ہے …
وہ لیبر روم میں تھی اس وقت اور لیڈی ڈاکٹر دوسرے پیشنٹ کے آرڈر دے رہی تھی جو دوسرے کاؤچ پر لیٹا تھا ….
اسی وقت ماہین کی چیخ نے ڈاکٹر کو شاک کردیا تھا ….
جاری ہے ….
