Rate this Novel
Episode 12
ناول … میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم … صبا مغل
قسط نمبر 12
کوئی میرے ماتھے کا لکھا پڑھ سکے گا
میری قسمت کے پودے زرد کیوں ہیں
یا سینہ چاک کر کے دل سے پوچھوں
تیرے حصے میں آخر درد کیوں ہیں
ماہین خاموشی سے بیڈ کے دوسرے جانب بیٹھ گئی … دانش جو کچھ دیر پہلے بےانتہا خوش تھا , اسے اس کے لفظوں کے جال میں الجھا کر اسے اس کی حدون میں لاکر , اس کے ہونٹون پر قفل لگا کر … اس کی سوجی آنکھین دیکھ کر جانے کیوں ملال سا جاگا اس کے اندر , پر ہمیشہ کی طرح چند لمحون کی بات تھی پھر سارے احساسات زائل ہوتے گئے , جب یہ احساس جاگا کہ یہ نہ ہوتی تو نایاب ہوتی صرف ….
“آر یو اوکے ماہی …. جانے کس احساس میں دانش نے پوچھا پر ماہین نے توجہ ہی نہیں دی کیونکہ اب اس نے سوچ لیا تھا اسے کچھ سوچنا بھی نہیں اور دانش سے کبھی کچھ کہنا بھی نہیں , کوئی تقاضا بھی نہیں کرنا , بسس خاموش رہنا ہے … آج وہ اپنے نصیب کا لکھا سیاھ باب سمجھ کر اسے قبول کرچکی تھی ….
“میں ٹھیک ہوں … ماہین نے مبہم لہجے میں کہا جسے بمشکل دانش سن سکا …. دانش کے دل کو کچھ ہوا …
“تم آرام کرو … کل کراچی چلنا ہے ہمیں … دانش نے نرم لہجے میں کہا پر ماہین نے سنا تو صرف اتنا کہ وہ اسے اجازت دے چکا ہے کہ وہ سو سکتی ہے , ہاں وہ سونا چاہتی تھی ہمیشہ کے لیئے , ایسی نیند ہو جس کے بعد اس رات کی کوئی بات نہ ہو , جب اٹھے تو اس شخص کا نام و نشان نہ ہو اس کے آس پاس , دل میں اک عجیب درد جاگا تھا , اس پر توجہ دینے کے بجائے اس نے سونا ضروری سمجھا …
وہ بغیر کچھ اوڑھے لیٹ گئی دوسری طرف کروٹ لے کر … ایسا گم صم انداز دیکھ کر , دانش کو عجیب احساس نے گہرا , اس کا نیم برہنہ لباس دیکھ کر اسے احساس ہوا ایسے تو ساری رات اے سی کے سامنے سوتی رہی تو بیمار ہوجائے گی یہی سوچ کر اس پر کمفرٹ ڈال کر دانش اسے اپنے قریب کرگیا … نرمی سے اسے اپنی طرف کروٹ کروانا چاہی تو ماہین نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا , دانش نے ارام سے اسے اپنی طرف رخ کروایا اور اس کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا اور بند آنکھون سے آنسو بہتے رہے اس کی شرٹ بگھوتے رہے …. چاہ کر بھی وہ کچھ کہے ہی نہیں پایا اسے اپنے لفظ گم ہوتے محسوس ہوئے … وہ روتے روتے سوگئی پھر کچھ دیر میں وہ خود بھی سوگیا …
کچھ نیند لینے کے بعد اسے محسوس ہوا وہ گھٹ گھٹ کے رورہی ہے پھر سے ….
“ماہین اب اگر تم چپ نہ ہوئی , تو پھر اب میں اپنے طریقے سے چپ کرواؤں گا … دانش کی کرخت آواز پر سہم گئی , زیرو بلب کی روشنی میں اس کو گھورتا ہوا وہ بولا تھا … اس سے دور ہونے لگی پر دانش نے اس کی یہ کوشش ناکام کردی اگلے پل اس کے کانپتے لبوں پر وہ جھک گیا … ماہین کا وجود , پھر طلب اور ملکیت کا احساس , پھر گہری رات کا عالم اس کا رونا اسے ایک اور مشکل میں ڈال ہی چکا تھا … اس کے وجود کو سمیٹنے کے بجائے وہ بکھیر چکا تھا ….
@@@@@@@@@@
“اسے بخار ہے , کراچی جانے کی ضرورت نہیں … شائستہ بیگم نے کہا … وہ ماہین کے بالوں میں تیل لگا چکی تھیں کیونکہ وہ یہی مانتی تھیں اس سے بخار دماغ تک نہیں جاتا … اب پٹیان بھی رکھ رہیں تھیں ….
“پلیز امی ہمارا جانا ضروری ہے دو پینا ڈال لو تم چل سکتی ہو کچھ نہیں ہوتا … دانش نے چڑ کر کہا پہلے لفظ شائستہ سے اور آخری لفظ ماہیں سے …
“دانش تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے , دیکھ نہیں رہے منہ کیسا ہوگیا ہے بچی کا … شائستہ نے پیار سے سمجھایا …. ماہین ہنوز خاموش رہی , ماں بیٹے کی بحث صبح سے چل رہی تھی …
دانش کمرے سے نکل گیا پیر پٹخ کر … کچھ دیر بعد وہ ڈاکٹر کے ساتھ آیا جس نے دو انجکشن لگائے اور کہا “انشاء اللہ کل تک بخار اتر جائے گا ….
پھر دانش خود ہی انہیں چھوڑنے گیا … شائستہ بیگم اور دعا مسلسل اس کے پاس بیٹھی رہیں … نور بھی اس کے لیئے سوپ بناکر آئی … وہان کراچی سے کال کا سلسلہ بھی چل رہا تھا , سب کو فکر ہورہی تھی …
سارا پروگرام خراب ہوچکا تھا … فلائیٹ کینسل کروانی پڑی اسے , جس پر اس کا موڈ خراب دیکھنے کے لائق تھا … پھر منڈے کی صبح کو ان کی فلائیٹ کنفرم ہوئی تو دانش نے پہلے اس سے پوچھ لیا تھا “کہ اب وہ ٹھیک ہے , کراچی چل سکتی ہے یا نہیں , ورنہ وہ واپس لاہور چلا جائے …جس پر ماہین نے اسے کہا “وہ جانا چاہتی ہے کراچی اور اب وہ ٹھیک ہے …
منڈے کی صبح وہ دونوں کراچی کے لیئے روانہ ہوئے … ایئرپوٹ پر ریحان , علی اور انوشے آئے تھے …
سلام دعا کے بعد دانش بولا “کیا ضرورت تھی , اتنا تکلف کرنے کی ہم کیب سے آ جاتے گھر…
“یار فارمل ہونے کی ضروت نہیں … آؤ چلتے ہیں گھر … ریحان نے کہا …
انوشے اور علی کے بیچ بیٹھی ماہین ,دونوں نے اس کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے … جبکہ ریحان ڈرائیوو کررہا تھا اس کے ساتھ اگے دانش بیٹھا تھا ….
“سچی ماہین تمہارے بغیر بلکل مزا نہیں …
“اب انوشے آپی روز شام کو آتی بھی نہیں … علی نے بتایا …
ماہین مسکرا رہی بسسس اور وہ دونوں اس کا ایک ایک ہاتھ تھامے دونوں بولے جارہے تھے … دانش نے بیک مرر سے دیکھا اب ماہین کے چہرے پر مایوسی نہیں تھی کچھ حد تک رونق اگئی تھی ورنہ دو دن سے اس کی اجڑی حالت دیکھ کر طاہر آفندی اور شائستہ بیگم اچھا خاصا سنا چکے تھے , جبکہ اسے بھی شرمندگی تھی پر ظاہر نہ کی …
“یار اتنی کمزور ہوگئی ہو , کیا ہوا لاہور سے چپ کا روزہ رکھ کے نکلی ہو کیا … انوشے نے کہا …
“نہیں انوشے … میں خوش ہورہی ہوں تم سب کو دیکھ کے … ماہین نے مسکرا کر کہا ….
“یار ہم تم کو سننے کو ترس گئے ہیں … انوشے بولی …
“اچھا بابا بول رہی ہوں … ماہین نے کہا …
پھر یونہی باتوں باتوں میں سفر گزرگیا اور گھر پہنچ گئے … سب نے ان دونوں کا ویلکم کیا … آج سارا خاندان یہاں اکھٹا ہوا تھا … ان دونوں کے اعزاز میں یہ دعوت کی گئی تھی …
سعدیہ بیگم کے پاس بیٹھی وہ اسے خود سے لگائے کافی دیر پیار کرتی رہیں … سارے اپنون کے بیچ تھی وہ اور بے انتہا خوش تھی …
سب کی سینٹر آف اٹیریکشن وہ دونوں ہی تھے … بہتریں ماحول میں لنچ کھایا گیا … دانش زبیر اور ریحان ساتھ بیٹھے اپنی باتوں میں مصروف تھے … ماہین طیبہ انوشے کے ساتھ بیٹھی تھی … یوں وقت گزرنے پتا ہی نہیں چلا … رات میں ان کا ڈنر باہر تھا جو دانش کے کسی دوست نے رکھا تھا …
“بہت چالاک ہو دانش … ہم نے سوچا ہمارے لیئے آئے ہو … زبیر نے کہا …
“پر یہاں آفیشل ڈنر بھی تھا تو سوچا وہ بھی اٹینڈ کرلوں … دانش نے سھولت سے کہا …
“ماہین میرے کپڑے نکال دو … دانش کے کہنے پر وہ اٹھی اسی وقت …
“صبر کرو , چائے تو ختم کرو … طیبہ نے کہا …
“بس کپڑے نکال کے آؤں , پھر فریش بھی کرنے پڑیں گے … ماسی چلی گئی تو مسئلہ ہوگا … ماہین نے جلدی سے کہا …
“ماہین ملازمہ کو دینے کی ضرورت نہیں , تم خود جاکر دیکھو استری ضرورت ہو تو ریما سے کہو وہ کردے گی … دانش کے اس طرح کہنے پر وہ شدید شرمندگی سے دوچار ہوئی …
“جی بھائی میں کردیتی ہوں … ریما نے جلدی سے کہا …
“نہیں بھابھی , میں کرلوں گی … وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جہان ان دونوں کا سامان رکھا تھا … انوشے اس کے پیچھے ہی اگئی …
وہ کپڑے نکال کر خود استری کرکے دانش کو بلایا …
تبھی دانش نے کہا … “تم بھی ریڈی ہوجاؤ , ساتھ چلو … اس کے لہجے میں بیزاریت تھے … ایسا لگ رہا تھا سب نے اسے اچھا خاصا زچ کیا ہوگا کہ ماہین کو لے جارہے ہو یا نہیں , پھر اس نے بھی تنگ اکر سوچا لے ہی جاتا ہوں ورنہ عدالت لگ جائے گی فضول میں …
انوشے پاس ہی بیٹھی تھی اس لیئے اس نے منع کرنا مناسب نہ سمجھا … “ٹھیک ہے … وہ ریڈی ہونے لگی … انوشے نے اس کی مدد کی تیار ہونے میں ….
@@@@@@@@@@
وہ اور دانش نو بجے ڈنر پر پہنچ گئے , ماہین نے سمپل بلیک ڈریس پہنا تھا , ویسے بھی اتنا تیار ہونا اسے پسند نہ تھا …
وہ مسکرا کر سب سے مل رہا تھا … یہ ڈنر ضروری تھا کیونکہ انہیں میں پی آر بنتی ہے …
“ہیلو ماہین واٹ آ پلیزینٹ سرپرائیز … اپنے باس عباس گردیزی کو سامنے دیکھ کر وہ بھی حیران ہوئی اور سلام میں پہل کی تو انہوں نے اسے جواب دیا …
“سر ہی از مائے ہزبینڈ دانش آفندی… ماہین نے انٹرو کروایا … باس نے اس سے ہاتھ ملایا , دانش بھی اچھے طریقے ملا …
“اوہ , ڈیٹس اے لکی مین , آئے مسٹ سے یو ہیوو اے جینئس وائیف , شی از آ جیم … باس نے کھلے دل سے تعریف کی تو مسکرا کر اسی وقت ان کے ساتھ کھڑے دوست رضوان صاحب نے کہا …
“دانش بھی کم نہیں گردیزی صاحب , ہمارے کمپنی کے کنٹری مینیجر ہے , مارکیٹنگ ہیڈ بھی یہی ہیں … رضوان صاحب کے لہجے میں فخر بول رہا تھا …
“ماشاءاللہ , اللہ جوڑی سلامت رکھے , ویسے ہمارے یہاں کہاوت ہے پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے , یہ ان دونوں کو دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے … باس نے کہا مسکرا کر … گردیزی صاحب مسلسل تعریف کررہے تھے ماہین کی وہ اس کے تعلیمی ریکارڈ کا بتارہے تھے کس طرح مسلسل ٹاپر رہ چکی ہے وہ , رضوان صاحب کے فیس ایکسپریشن واضع تھے کہ وہ امپریسٹڈ ہورہے تھے … جانے کیوں ماہین کے چہرے پر خوشی کے بجائے فکر والے تاثرات تھے … اسے ڈر لگ رہا تھا دانش کو برا ہی نہ لگ جائے …
“پھر کب جوائن کررہی ہو آفیس ینگ لیڈی … گردیزی نے پوچھا …
ماہین لمحے بھر کو گڑبڑاگئ … اس طرح یہاں یہ بات ہوگی سوچا نہ تھا , وہ دانش کی طرف دیکھنے لگی , جس کے چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ ابھری تھی , اس کی مردانہ آنا کو تسکین پہنچارہی تھی ماہین کی گھبراہٹ … دانش نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے کہا ….
“گردیزی صاحب جلد ہی کرے گی جوائن , فی الحال ہم انجوائے کررہے ہیں یہ دن ….
ماہین کچھ ریلیکس ہوئی اس لمحے , دانش کے نرم لہجے کو سن کر …
“افکورس …. یہی دن ہیں انجوائے کے …. گردیزی نے کہا … پھر دانش کا بازو اس کے کندھے پر ہی تھا اور مسلسل وہ الگ الگ لوگون سے ملتی رہی کیونکہ وہ خود سب سے ملوارہا تھا …. پھر ڈنر اسٹارٹ ہوا تب جاکر دانش نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹایا …
@@@@@@@@@
وہ مسلسل ٹیشن میں تھی دانش اسے کچھ کہے نہ دے پر جب پورا راستہ وہ مسلسل مصروف رہا کال پر پھر گھر انے کے بعد وہ مزے سے اپنے مامون کے ساتھ گفتگو کرتا رہا … کمرے میں آنے کے بعد بھی کچھ نہ بولا تو وہ کچھ ریلیکس ہوئی … اس دوران وہ جتنی دیر وہ سعدیہ بیگم کے ساتھ بیٹھی تھی تب بھی غائب دماغ رہی …. اس کی غائب دماغی محسوس کرتے ہوئے سعدیہ بیگم نے کہا “کیا ہوا ماہین کچھ پریشان لگ رہی ہو بیٹا کوئی بات ہے تو بتاؤ …
“نہیں امی ایسا کچھ نہیں ہے …. وہ پھیکی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر بولی تھی ….
“بہت کمزور ہوگئی ہو … لگتا ہے میری بیٹی کو نظر لگ گئی ہے … ماں تھیں ان کے لہجے میں فکر کا تاثر تھا ….
“امی ایسا کچھ نہیں ہے … وہ مسکرا کر بولی …
“ٹھرو … میں ورد کرتی ہوں … چلو چپ ہوکے بیٹھو … پھر سعدیہ بیگم نے قل کا ورد کیا اور کچھ آیت پڑھ کر اس پر پھونکیں تو ماہین کو سکون سا محسوس ہوا …
کمرے میں انے کے بعد جب وہ سونے کے لیئے لیٹنے لگی تو دانش نے کہا …
“تم جاب کرنا چاہتی ہو …
“جی …. ایک لفظ میں ماہین نے بات ختم کی دل میں مسلسل ورد کررہی تھی کچھ آیات کا کہ کہیں منع نہ کردے …
“اگر مجھے اعتراض ہو تو … دانش نے پوچھا …
“جیسے آپ کی مرضی … ماہین کے لہجے میں دکھ تھا یہ کہتے ہوئے …
“تم کرسکتی ہو جاب پر لاہور میں , یہاں نہیں … دانش نے اتنا کہا اس کی موبائیل پر کال آنا شروع ہوئی تو وہ اس کا جواب سنے بغیر باہر چلا گیا … جبکہ ماہین کے چہرے پر خوشی کے تاثرات ابھرے اور وہ خوشی خوشی لیٹ گئی … شادی کے بعد پہلی دفعہ کسی بات پر وہ خوش ہوئی تھی ….
@@@@@@@@
“سوری جان , میری آنکھ لگ گئی تھی بچون کو سلاتے ہوئے … نایاب نے سلام دعا کے بعد پہلا جملا یہی کہا …
“اٹس اوکے … کیسی ہو تم , بچے ٹھیک ہیں … وہ گھر کے بیک کی طرف اگیا تھا کیونکہ یہان روم کے ساتھ بالکنی نہ تھی …
“ہم ٹھیک ہیں سب … اپ نے فون کیا کراچی سے ویسے تو نہیں کرتے , سب خیریت … نایاب نے حیرت سے پوچھا …
“ہاں یار ایکچولی ایک پرابلم تھی … دانش نے فکر سے کہا …
“ہاں دانش کہیں میں سن رہی ہوں … نایاب کو فکر ہوئی جانے کیا ہوا ہے ….
“یار ویکسین سنی کی ایک دو دن ڈیلے ہو جائے تو کوئی ایشو تو نہیں ہے کیونکہ میرا یہاں رہنا ابھی ضروری ہے کیونکہ ہم ائے ہی منڈے کو ہیں … دانش کے لہجے میں بچون کے لیئے فکر محسوس کرکے نایاب کو اچھا لگا کہ اتنی مصروفیات میں دانش کو نہیں بھولا تھا …
“اٹس اوکے … میں چلی جاؤں گی ملازمہ اور ڈرائیور کے ساتھ کیونکہ دونوں بچے چھوٹے تھے کسی ایک کو بھی گھر چھوڑ کر جانا وہ افورڈ نہیں کرسکتی تھی ..
“اٹس ناٹ اوکے … میں جمعے کے روز آجاؤں گا … دانش نے کہا …
“پلیز دانش میں کرلوں گی , اب آپ یہاں ہیں یہ ویک رہ لیں ماہین کے پاس … نایاب نے مشورہ دیا …
” ایک تو تمہاری یہ عادت مجھے بالکل زہر لگتی ہے کہ تمہیں سب کی فکر رہتی ہے سوائے اپنے … چھٹی ختم ہوجائے گی میری , تمہیں ایک دن بھی نہ دوں …. دانش کے لہجے میں پیار اور احساس دونوں تھے نایاب کے لیئے …
“میرے پاس ہی ہوتے ہیں آپ , فی الحال وہان سب کو وقت دیں … نایاب نے کہا تو وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا …
” جائے ارام کریں بہت لیٹ ہو گئی ہے فضول میں کوئی اپ کو دیکھے گا تو مسئلہ ہوگا … نایاب جلدی سے بولی …
“اوکے , اللہ حافظ , ٹیک کیئر … وہ جلدی سے کہے کر کال کٹ کرگیا …
@@@@@@@@@@
اگلے دن لنچ تایاجان نے ہوٹل میں رکھا تھا … وہان پر بھی اچھا وقت گزرگیا … دعوتوں کاسلسلہ شروع ہوچکا تھا ان کا اگلے دن دعوت رات میں انوشے کے گھر تھی یعنی کے دانش کے چھوٹے مامون اور ماہیں کے چاچو …
دانش زبیر کے ساتھ کہیں باہر چلاگیا تو ماہین کو انوشے کے گھر ڈراپ کرگیا …. انوشے چہک رہی تھی ماہین کو دیکھ کر , دونوں سہلیوں کو اب جاکر سکون سے تنہائی میسر ہوئی تھی … شام کا وقت تھا چاچی ابھی آرام کررہی تھیں تو وہ دونوں سیدھا انوشے کے روم میں اگئیں …
“یار ماہیں تھوڑا ریلیکس ہو جاؤ … اس کا اشارہ زیور کی طرف تھا جو اسے خاندان کی دعوتوں پر پہننا پڑ رہا تھا … بھاری جوڑا دیکھ کر انوشے کو الجھن ہورہی تھی ….
” یار میں ٹھیک ہوں ایسے ہی بس لیٹ رہی ہوں نا یہی بہت ہے … وہ اس کے بیڈ پر لیٹ گئی سینڈل اتار کر … ماہین کا جسم تھکن سے چور تھا اس لیئے بھرپور انگڑائی لے کر لیٹ گئی … انوشے مسکرائی …
“یار میرا کوئی لائٹ ڈریس نکال دوں تم ریلیکس ہو جاؤ … تمہارا بھاری جوڑا مجھے الجھن کر رہا ہے … انوشے اس کی ایسے ہی فکر کرتی تھی اور یونہی ہلکان ہوتی تھی اس کے لیئے …
“چلو … میں ہیلپ کرتی ہوں … انوشے نے کہا اور اس کا دوپٹا جو پن کیا ہوا اس کی پنس کھولنے لگی …
“نہیں انوشے چھوڑو , میں ٹھیک ہوں … ماہین نے روکا …
“کیا ہے ماہین , میں کررہی ہوں نا … وہ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی …
“میں خود ہی کررہی ہوں , چھوڑو , پاغل ہو تم … ماہین نے چڑ کر کہا تو انوشے کھسک کر اس سے فاصلہ بنا کر بیٹھ گئی …
وہ دوپٹا اتار کر ایرینگس اتارنے لگی , ہیوی سیٹ بھی اتارکر پرس میں رکھ دیا …
“اب خوش … ماہین نے کہا …
“ہاں سہی ہے … سچ میں شادی کے یہ سائیڈ ایفیکٹس مجھے بڑے زہر لگتے ہیں ہیوی جولری یہ ہیوی چیزیں پہننا , خاص کر کپڑے … انوشے کے انداز پر ماہین مسکرائے بنا رہ نہ سکی …
“ماہین یہ کیسے نشان ہیں … اچانک انوشے نے پوچھا اس کی نظر نیک بون کے تھوڑا نیچے گہرے نشان پر پڑی تو پوچھے بنا نہ رہ سکی …
“کچھ نہیں , شاید ایلرجی ہوئی ہے … ماہین نے نظریں چرا کر کہا … انوشے کو غور کرنے پر احساس ہوا اور ابھی نشان تھے پر وہ ہلکے ہوگئے بھاری جوڑے کا تھوڑا گلہ بھی گہرا تھا تو ساتھ ہی ڈھیلا بھی تھا اوپر سے ہیوی سیٹ اتارنے کے بعد کافی کچھ واضع ہوا غور کرنے پر …
“ماہین ادھر دیکھو , یہ سب کرتے ہیں دانش بھائی …
انوشے نے غصے سے پوچھا …
“چپ کرو , کنسیلر دو مجھے ابھی … ماہین نے اس کی بات اگنور کی اور اپنی کہی …
“فرسٹریٹڈ مائینڈ کی یہ سب حرکتیں ہوتیں ہیں کسی اچھے شوہر کی نہیں , یہ بھی وائیلینس ہے سمجھی … انوشے نے چڑ کر کہا …
“تمہیں یہ سب کیسے پتا ہوگا , تمہارا کونسا شوہر ہے … ہر شوہر کا اپنا انداز ہوتا ہے … ماہین نے جلدی سے کہا , جیسی اسے سمجھا رہی ہو ایسا ہوتا ہے ….
“ماہین کیا بکواس کررہی ہو , ہر بات کی خبر کے لیے اس کا سورس شوہر نہیں ہوتا , یہ سک مائینڈ کے لوگ ہوتے ہیں , تم تو سمجھدار ہو , ایسے کیسے برداش کررہی ہو … انوشے نے سمجھایا …
” انوشے … مائنڈ یور بزنس ڈونٹ انٹرفیئر ان دس , پلیز … فضول میں میرے ساتھ ساتھ تم بھی ذلیل ہوجاؤگی , میرا اور اپنا تماشہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے …. ماہین کے لہجے میں فکر دیکھ کر , انوشے اس کے ہاتھ تھام کر بولی …
“ماہین , دانش بھائی اس سب کے لیئے تمہیں اس طرح کنوینس کرتے ہیں … انوشے کے لہجے میں دکھ کی آمیزش تھی …
اس سے پہلے ماہین کچھ کہتی دروازہ کھلا اور دونوں ایک ساتھ چونکیں تھیں …
جاری ہے …
