Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 21

“ماہین ایسا کچھ نہیں … تمہیں غلط فہمی ہورہی ہے … وہ نرمی سے بولا …

“دانش مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہی بتادیں … کیونکہ پچھلے تین چار مہینوں سے آپ کا ایسا رویہ برداش کررہی ہوں … ماہین ضبط سے بولی پھر بھی چند آنسو جھلک آئے …

“ماہین دیکھو ایسے رونے کی ضرورت نہیں , اس کنڈیشن میں ایسا ہوتا ہے انسان حساس ہوجاتا ہے … تم بہت حساس ہوتی جا رہی ہو باقی کچھ بھی نہیں ہے … دانش سختی چاہ کر بھی دکھا نہیں پارہا تھا کیونکہ ماہین کا انداز ہی ایسا تھا , جیسا کہ اسے پہلے ہی ڈاکٹر بتا چکی تھی وہ ذہنی طور پر کمزور ہے ایسا نہ ہو دوبارہ نروس بریک ڈاؤن ہوجائے اور پریگنینسی میں ایسا ہونا عام ہے …

دانش بہت چاہتا تھا وہ ایسا کوئی رویہ اختیار نہ کرے جس سے اسے تکلیف ہو پر جب بھی وہ نرمی اختیار کرتا تو اس کی ایک ہی ڈیمانڈ ہوتی وہ بچے کے بعد اس کے ساتھ رہے گی اسلام آباد میں … دانش کو انتہا کا غصہ آجاتا یہی سوچ کر کیسے رکھیے گا اسے اسلام اباد , صحیح معنی میں وہ خود پریشان ہو گیا تھا کہنا اسان ہے پر واقعی میں دو شادیاں چلانا بہت مشکل ہے اسے ایسے ہی خیالات آتے رہتے تھے… وہ اپنی طرف سے کئی دفعہ پوچھ چکا تھا کہ “ایسا کیا ہے اس گھر میں جسے تمہیں اتنی تکلیف ہے کہ تم ہر بار یہی ڈیمانڈ کرتی ہو … تو ماہین کا ایک ہی جواب ہوتا “میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں تو اس میں کون سی غلط بات ہے , یہ میرا حق ہے جو میں جب چاؤں اپنے شوہر سے مانگ سکتی ہوں … وہ اپنی بات پر ڈٹ کر بولتی تھی …

اور وہ سچ میں اس کا دماغ گھما کے رکھ دیتی جس کا نتیجہ یہی نکلتا کہ وہ کبھی خاموشی اختیار کرلیتا اور اسے اگنور کرنے لگتا یا پھر اپنے طریقے سے اسے تکلیف دیتا اور اگر ماہین مذاحمت کرتی تو دانش بھی یہی کہے دیتا “بیوی ہو میری , مجھے بھی حق ہے جس طرح چاہوں تم سے سکون حاصل کروں … ماہین ہونٹ بھینچ لیتی اور ضبط سے برداش کرلیتی تھی … کبھی اگنور کرنا اور کبھی اس پر نچھاور ہونا ماہین جیسی ذہین لڑکی کو کنفیوز کرنے لگا تھا دانش … اس لیئے اس بار وہ بضد تھی جاننے کے لیئے اس کی دھوپ چھاؤن سی طبیت کی وجہ …

“دانش مجھے سمجھ ہی نہیں ارہا , کونسا روپ سچا ہے آپ کا بتائیں … ماہین دقت سے اتنا ہی بول سکی کیونکہ ڈائریکٹ اسے منافق کہنا نہیں چاہتی تھی … دانش چاہتا اس بات پہ شدت سے بھڑک اٹھتا کہ وہ اس کو بھروپیہ کہے رہی ہے پر وہ ضبط کر گیا کیونکہ وہ اس کے ساتھ کوئی بھی جھگڑا کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ یہ وقت مناسب بھی نہیں تھا اسے اپنے بچے کی شدت سے فکر تھی … اس لیے نرمی اختیار کرتے ہوئے بولا …

“ماہین تم اتنا سوچو مت , یہ سب ہمارے بچے کے لیئے ٹھیک نہیں …. تم آرام کرو , مجھے ایک کام ہے …

اس سے بہتر کوئی بہانہ تھا اسے اس کی بات سے ہٹانے کے لیئے …

وہ اپنا موبائیل اور والٹ اٹھا گیا اسی وقت ماہین نے کہا ..

“دانش کتنے دن بعد آپ نے اس بچے کو ہمارا کہا ہے ورنہ آپ کے لیئے تو یہ صرف آپ کا ہے … وہ اور کچھ کہتی دانش اسے “اللہ حافظ کہتا روم سے نکل گیا … اس کی بات پر بغیر کوئی ریکٹ کیئے … وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی …

جب دانش کا دل چاہتا چھوٹی سی بات پر بہت بڑا ریکشن دیتا اور جب دل چاہتا بڑی بات کو بھی ذرہ وزن نہ دیتا تھا … ماہین بس حیران ہوتی رہتی اس کی ان باتوں پر …

یہ جو بھیک سمجھ کر دیتے ہو وقت اپنا

یاد رکھنا , کوئی تاعمر بادشاہ نہیں رہتا ….

@@@@@@@@@

رات میں ڈنر کے بعد سب بیٹھے تھے تو اچانک دعا نے شوشا چھوڑا کہ وہ بےبی شاور کرنا چاہتی ہے اپنی بھابھی کا ….

“یہ کیا ہے … طاہر آفندی نے پوچھا …

“پاپا , آج کل کا ٹرینڈ ہے , بھابھی کیک کاٹیں گی سب سے پہلے پھر بھابھی کو گفٹس دیں گے سب بے بی کے لیئے … سب رشتیداروں کو بلائیں گے مزا آئے گا … وہ اچھی خاصی ایکسائیٹڈ تھی …

“یہ فضول رسمین ہم نہیں کرتے … طاہر نے کہا …

“کرنے دیں دعا کی خوشی ہے , میں بھی اپنی سہیلیوں کو بلاؤنگی , اچھ رونق لگ جائے گی … شائستہ بیگم نے کہا …

“چلو ٹھیک ہے جیسے تم لوگوں کی مرضی … طاہر آفندی نے اجازت دے دی … جس ہر دعا بے انتہا خوش ہوئی …

“دانش بھائی پر جیب ساری میں اپ کی ڈھیلی کرنے والی ہوں سوچ لیں ….

دعا نے لاڈ سا کہا جس پر ماہین کے ساتھ دانش بھی مسکرایا …

“سوچ لیا جو کرنا چاہو کرسکتی ہو … دانش اس کے انداز پر ہنستے ہوئے بولا اس کے سارے انداز سے اس کی ایکسائیٹمینٹ کا اندازہ ہورہا تھا ….

“سارے ارینجمنٹس ڈیکوریشن سب کا اپ کو ہی کرنا ہے … کیک تو میں بہت بڑا بنواؤں گی سات اٹھ پاؤنڈ کا سوچ لیں … دعا پھر سے بولی مزے سے …

“ارے تم کو یقین نہیں تو ٹھیک ہے یہ لو ایک کریڈٹ کارڈ اور یہ ایٹی ایم دونوں پاسورڈ میسج کردیتا ہوں … جن کو کیش پے مینٹ کرنی پڑے تو تم کو پرابلم نہ ہو اس لیئے یہ ایٹی ایم دے رہا ہوں … اب تو یقین کرلو دعا … دانش نے دونوں کارڈ دیئے تو وہ اور خوش ہوئی اور بولی …

“تھینک یو سو مچ …. دعا نے کہا …

“ایونٹ کے حوالے سے شاپنگ بھی کرلینا تمہاری ماہین اور نور کی … دانش نے کھلے دل سے آفر دی دعا اور ماہین مسکرائیں پر نور مسکرا بھی نہ سکی کیونکہ ان دنوں اس کی خود کی زندگی عجیب دوراہے پر اگئی …

طاہر صاحب اٹھ کر جاچکے تھے اب زنانہ گفتگو شروع جو ہوچکی تھی …

“دانش بھائی اور میری شاپنگ … تیمور نے کہا اچانک …

” ویسے ہے تو زنانہ فنکشن پھر بھی تمہارے اکاؤنٹ میں بھیج دوں گا کر لینا شاپنگ …. دانش نے کہا …

“یہ ہوئی نا بات … مجھے مت بھولا کریں کسی بھی چیز میں … تیمور نے اترا کر کہا …

“تیمور تم بھولنے والی چیز بھی نہیں ہو … دانش نے کہا …

دعا نے دانش سے اس ویک اینڈ کو انے کو کہا جس پر دانش نے سہولت سے منع کر دیا اور یہ کہا کہ نیکسٹ ویک اینڈ کو رکھ لو تم انشاءاللہ موجود ہوں گا…

اگلے دن ہی دعا نے سب رشتیداروں کو دعوت دے دی تھی اس ایونٹ کی , ایون کراچی بھی اس نے فون کیا تھا … سب نے خوشی کا اظہار کیا سوائے ریما کے … اس نے کہا کہ “میرے وقت پہ تو یہ سب کچھ ان لوگوں نے نہیں کیا تھا تمہیں کیا ضرورت ہے دعا یہ سب کچھ کرنے کی …

جس پر کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد دعا نے کہا “اپی اپ کے وقت پر یہ سب کچھ تھا ہی نہیں اگر ٹرینڈ میں ہوتا تو کیوں نہیں سب کرتے چلیں اپ کے سسرال والے نہ کرتے ہم لوگ ہی کر لیتے … یہ تو اب ٹرینڈ نکلا ہے برائیڈل شاور , بے بی شاور … میں اپ کو ایک مشورہ دیتی ہوں اپ دوبارہ بے بی کر لیں تو اپ کا ہم کر دیں گے بے بی شاور تو اپ کو دکھ بھی نہیں ہوگا … دعا نے مزے لے کر کہا … جس پر ریما کو اگ ہی لگ گئی …

” پتہ نہیں کیا تمہارے دماغ میں خناس بھرا رہتا ہے بھائی کے لاکھوں روپے تم برباد کرو گی تم … اور ہم سے بھی لاکھوں روپے خرچ کرواؤ گی ایک تو یہاں ائیں گے اوپر سے اتنی ساری شاپنگ کر کے ماہین کو گفٹس دینے پڑیں گے ایک تو ابھی گفٹس دو پھر ڈیلیوری کے وقت دو تم بھی کیا بکواس ہو اور تمہارے ائیڈیاز بھی اتنے ہی بکواس ہیں … ریما نے کڑھ کر کہا …

“ارے اپی یہ کراچی سے لاہور تک فون کے ذریعے جلنے کی بدبو کیسے آ رہی ہے … دعا نے انجان لہجے میں کہا جیسے بائے دہ وے کہے رہی ہو …

ریما کو اچھی خاصی اپنی بےعزتی محسوس ہوئی اور چیخ کر بولی “دعا کی بچی !!! حد ہوتی ہے کوئی اپنی بہن کو بھی ایسے بولتا ہے کوئی …

“ارے نہیں اپی … اپ غلط سمجھ رہی ہو اپ کے پیچھے سے اواز ارہی ہے اپ کی سبزی جل گئی ہے میں تو وہ کہہ رہی تھی … دعا نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا تھا …

” تم فلحال فون رکھو میں لاہور ا کر خود تمہیں سدھارتی ہوں … یہ سچ بھی تھا کہ اس کی سبزی جل گئی تھی پر ریما اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ دعا اسے ہی کہہ رہی تھی یہ سب کچھ سنانے کو …

“اللہ حافظ … دعا نے کہا کھٹاک سے فون بند کرگئی … ریما تصور میں اسے گھورتی رہ گئی …

@@@@@@@@

ذیشان نے کمرے میں قدم رکھا بغیر ادھر ادھر دیکھے سیدھا کبرڈ تک گیا اور اپنا نائیٹ ڈریس نکال کر واشروم میں بند ہو گیا …

نور کا سارا وجود شرم سے پانی پانی ہوگیا پچھلے کئی مہینوں سے رات کو اس کا انتظار کرتی ایک اچھی بیوی کی طرح کبھی نائیٹی اور اس پر گاؤن پہنے کبھی سلک کا ٹراؤزر شرٹ پہن کر , خوشبوؤں میں رچا بسا وجود لیئے پر شانی ایک نظر نہ ڈالتا اور خاموشی سے اکر صوفے پر جاکر آنکھین موند لیتا …

نور کلس کر رہ جاتی پہلے وہ پھر بھی ایک بیڈ پر سوجاتے تھے اب وہ بھی نہ رہا تھا کیونکہ اس لڑائی کے بعد ان کے رشتے کو خاموشی کھانے لگی تھی …

آج ہمت کرکے اس کے سامنے دوزانو بیٹھی اور بولی …

“پلیز شانی , ایک موقعہ دے دو , پچھلے کئی مہینوں سے تم سے معافی مانگ چکی ہوں مجھے معاف کردو … دیکھو میں ماہین سے بات تک نہیں کرتی اور نا دانش بھائی کے سامنے ایسی کوئی بات کی ہے اور نا کبھی کروں گی … پلیز معاف کردو … میں سمجھ گئی ہوں ماہین سے تمہاری محبت بےاختیار عمل ہے … مجھے احساس ہوگیا اپنی سب غلطیوں کا … پلیز معاف کردو …

نور کی بات پر وہ آنکھین کھول گیا اور بولا تو لہجہ سخت اور کھردرا تھا….

“نور مجھے تمہاری کسی بات پہ اعتبار نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگا ہماری زندگی اب شاید ایسے ہی گزر جائے گی … اور ایک بات تمہیں صاف لفظوں میں کہنا چاہتا ہوں اپنی نسوانیت کی توہین مت کرو عورت کی عزت کرنا میں جانتا ہوں اور دینا بھی جانتا ہوں اسی لیے چپ ہوں ورنہ کب کی تمہاری کی ہوئی حرکت سب کو بتا کر تم سے جان چھڑا لیتا … ذیشان نے مختصر لفظوں میں دو ٹوک بات کی … حقیقت یہی تھی شانی کو تکلیف ہوتی تھی اس کے اس طرح سج سنور کر بیٹھنے سے پر وہ اپنے دل کا کیا کرتا جس میں نور نے اتنا میل بھر دیا تھا جو وہ چاہ کر بھی نکال نہیں پا رہا تھا … کتنا مجبور تھا وہ یہ بات , نور کی سمجھ سے باہر تھا ….

” شانی تم نے میرے لیے یہ بات نہیں چھپائی تم نے ماہین کی عزت کے لیے چھپائی ہے .. اس لیئے اس بات کا احسان مجھ پہ جتانے کی ضرورت نہیں ہے … نور نے پرسکون لہجے میں شان پر واضع طنز کیا …

” چلو جیسے تم ٹھیک سمجھو , جاکر سو جاؤ مجھے بھی نیند آ رہی ہے … شان مسکرایا پر اس کے چہرے پر طنزیہ تبسم بکھر گیا تھا کیونکہ نور اچھی طرح ثابت کر چکی تھی کہ وہ کبھی سدھر ہی نہیں سکتی … اس لیے ذیشان اپنے رویے پر مطمئن ہو گیا جبکہ نور اس کی طنزیہ مسکراہٹ کا مفہوم اچھی طرح سمجھ گئی تھی….

پتہ نہیں یہ ضد یہ حسد یہ چلن کس موڑ پر اس رشتے کو لائے گی کوئی نہیں جانتا تھا ….

نور کلس کر رہ گئی … وہ سارے پینترے ازما چکی تھی پر کوئی بھی پینترہ شان پر اثر انداز نہیں ہو رہا تھا … وہ واقعی کوئی ڈھیٹ بندہ ثابت ہو رہا تھا اور نور کو یقین تھا وہ اپنی زندگی میں اتنا ڈھیٹ بندہ کبھی نہیں دیکھ سکتی …

“کیوں تم میری زندگی کو اس طرح سوالیہ نشان بنا رہے ہو شانی … نور نے دکھی لہجے میں پوچھا …

وہ ہنوز انکھیں موندا ہوا تھا پر بولا تو بس اتنا “اپنی زندگی کے سوالوں کے جواب ہر کسی کو خود ہی ڈھونڈنے پڑتے ہیں … جاؤ نور اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈو کوئی کسی کے سوالوں کا جواب نہیں دیتا … یاد رکھنا … سوجاؤ تم …

اس کا دوٹوک انداز اسے اچھا خاصا تپا گیا …

ہمیشہ کی طرح وہ چکنا گھڑا ثابت ہوا اور نور اٹھ کر جا کر بیڈ پر اپنا بکھرا وجود لیئے سو گئی …

@@@@@@@@@

اگلے دن وہ آفیس میں بیٹھی تھی عیان کے روبرو اور کہے رہی تھی کہ “سوری سر آئے ڈونٹ نو کیسے مجھ سے غلطی ہوگئی اپنے آئیڈیاز کو شیئر کرتے ہوئے , پریزینٹیشن کی یہ کمیان … ماہین کے لہجے میں انتہائی افسوس اور شرمندگی بھی بہت تھی جس کو محسوس کرکے عیان نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے کاٹ کر بولا …

“اٹس اوکے مس ماہین , ڈونٹ وری ڈس کین ہیپن آلسو … عیان نے کہا سکون سے , وہ اس کی پہلی غلطی پر اتنا شرمندہ نہیں کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ پہلے سے ہی وہ شدید شرمندگی سے دوچار تھی تو ایسے بندے کو شرمندہ کر کے کیا فائدہ جو اپنی غلطی اچھی طرح سمجھ رہا ہو اور اس کو ایکسیپٹ بھی کر رہا ہو … اس دوران عیان کو سب سے اچھی بات ماہین کی یہ لگی کہ اس نے اس غلطی کا الزام کسی پر بھی نہیں لگایا اور اپنے سر پر لے لیا اور جو حقیقت بھی تھا کیونکہ اس کی ایک عادت تھی کہ وہ ہر کسی پہ کام ڈیوائڈ کر کے سب کے پورشنز کے کام ان سے کروا کر پھر مرج کرنا اس کا کام ہوتا تھا اور فائنل پریزنٹیشن وہی خود بیٹھ کر اپنی نظر کے سامنے بنواتی تھی یا خود ہی بنالیتی تھی …

“سر اگر میری غلطی سے یہ کلائینٹ گیا تو نقصان ہوجائے گا اچھا خاصا …ماہین واقعی خود کو بہت کمزور محسوس کررہی تھی … اب وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ پریگننسی میں ذہن پر بھی بہت ایفیکٹ ہوتا ہے … کاش یہ چیز وہ شوہر جیسے مخلوق مرد کو سمجھا سکے کہ پریگننسی میں کس طرح عورت تھک جاتی ہے جسمانی طور پر , اعصابی طور اور ذہنی طور پر خاص کرکے …

وہ ماہین تھی اپنی غلطی کا کھل کے اعتراف کرنے والی ایسی نہیں تھی کہ اپنی غلطیوں کا دوسروں پر الزام لگا کر خود بری الزام ہو جائے … اج ایک بات وہ اپنے ذہن میں اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہتی تھی کہ اب کبھی وہ دانش کے رویوں اور ان چیزوں پر اتنا فوکس نہیں کرے گی کہ جس کا نقصان اسے اپنے کام پر ہوتا ہوا نظر ائے … کل سنڈے تھا اور دانش سے جو اس کی بحث ہوئی پھر اس کا چلے جانا تو کچھ دیر ارام کے بعد وہ دوبارہ اپنے کام پر لگ گئی پر ذہن تو کہیں نہ کہیں اسی شخص پہ اٹکا تھا کہ اسی وجہ سے ڈسکس کرنے کے باوجود بھی وہ اپنا کام صحیح طریقے سے نہ کرسکی … یہ پہلی دفعہ تھا جو وہ پریزنٹیشن کا کام مکمل اپنے ذمے پر گھر لے گئی اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صحیح طرح سے کر ہی نہیں پائی … اسے اس بات کا افسوس تھا کاش وہ یہ کام افس میں کر لیتی تو اچھا ہوتا کم از کم افس میں وہ مکمل توجہ سے کام کر لیتی تھی ….

“اٹس اوکے جو ہوا دیکھ لیں گے , اٹس ناٹ لاسٹ پروجیکٹ اس کے بعد بھی اور کام اتا رہے گا اور ہمیں ملتا رہے گا … اس لیے ماہین تمہیں اتنا شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے … عیان کے ان لفظوں پر وہ اس کی شکر گزار تھی …

اس کے پاس ہی جنید شاہ بیٹھا تھا جو یہ سب سن رہا تھا … اب افیس میں سب کو پتہ تھا کہ جنید شاہ عیان کا ہی بیٹا ہے یہ بات تقریبا ایک مہینہ پہلے ہی سب پر کھل چکی تھی … وہ پھر بھی ایک امپلائی کی طرح کام کر رہا تھا تب تک جب تک اس کا باپ پورا کا پورا بزنس اس کے حوالے نہیں کرتا اور وہ تب تک اچھی طرح سیکھ لینا چاہتا تھا ہر چیز … عیان کا ارادہ تھا کچھ وقت میں یہ سب جنید کے حوالے کرکے وہ دوبارہ اسی کمپنی کو سنبھالے گا جو اس کی اور عمر کی مشترکہ ہے کیونکہ وہ اس کی اسٹیبلش کی ہوئی پہلی کمپنی تھی عمر بھی اج تک چاہ کر بھی وہ کمپنی چھوڑ نہیں پاتا تھا وہ ہمیشہ یہی کہتا کہ اپنی زندگی کا زیادہ وقت وہ اسی کمپنی کو دے گا … عیان کا امپورٹ اور ایکسپورٹ کا بزنس تھا ساتھ ہی ساتھ کنسٹرکشن کمپنی میں بھی وہ انوالو تھا …

کچھ لمحون کی خاموشی کے بعد جنید شاہ نے کہا …

“مس ماہین میرا خیال ہے ہم کیا کرتے ہیں کہ ابھی مارکیٹنگ اسٹریٹیجٹیز کا جو پورشن ہے اس کی پریزنٹیشن بہت زبردست بنا لیتے ہیں می بی کلائنٹ سیٹسفائیڈ ہو جائے تو کیا خیال ہے ہم مل کے بنا لیں … جنید اسے ریلیکس کرنے کو بولا وہ چاہ کر بھی اسے ذرہ سی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا کیونکہ وہ اس کے پیارے چاچو عمر کی بھانجی ہے , وہ اس کا خیال کرتا تھا پر خیال کا یہ مقصد نہیں تھا کہ اسے فیور دیے جاتے تھے ماہین کو کسی بھی قسم کا فیور دے کر اسے دوسرے ایمپلائے سے الگ نہیں رکھا جاتا تھا اور نہ ہی ماہین کو یہ سب پسند تھا …

” سر جنید اپ پھر بھی مجھے کہہ رہے ہیں یہ سب , ابھی اپنے کام میں میں اتنی غلطی کر چکی ہوں … ماہین نے حیرت سے کہا کیونکہ اسے امید نہ تھی وہ پھر بھی اسے انولو کررہا ہے کام میں , اس کی لاپرواہی دیکھنے کے باوجود …

” ایک تو اپ مجھے سر نہیں کہا کریں کیونکہ ہم ایک ہی عہدے پر فلحال کام کر رہے ہیں دونوں اپنے اپنے پورشن کے ہیڈ ہیں اپ مجھے صرف جنید بھی کہہ سکتی ہیں … جنید نے سھولت سے کہا …

” مجھے لگتا ہے کہ فیوچر میں اپ کو سر کہنا پڑے گا اسی لیے میں ابھی سے عادت ڈال رہی ہوں … ماہین نے سکون سے کہا ہلکی سمائیل دی …

” اس کا مطلب ہے کہ پاپا آپ کو بتا چکے ہیں ان کا نیکسٹ پلان … جنید شاہ حیران ہوا واقعی یہ لڑکی اسے حیران کرنے کے سارے گن جانتی تھی …

” افس کے باہر یہ میرے مامون بھی ہیں اسی لیے میں ان سے ہر بات کر سکتی ہوں اور یہ بھی اپنی کر سکتے ہیں … ماہین نے کہا مزے سے … جنید شاہ اور عیان دونوں مسکرائے اس کے اس انداز پر اور عیان اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا ہوا بولا “فی الحال دونوں پروفیشنل ہو جاؤ کیونکہ ہم گھر میں نہیں افس میں ہیں … عیان کی بات پر دونوں سیدھے ہوگئے اب کے جنید شاہ بولا …

” مس ماہین , اپ کلیئر نہیں ہو پر میں اپنی جگہ کلیئر ہوں کہ مارکیٹنگ تم بہتر سمجھتی ہو اور تمہاری نالج بھی اچھی ہے اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم مل کر یہ کام کریں اور مجھے یقین ہے مل کر کریں گے تو بہتر ہی کریں گے … کلائینٹ خوش ہوگا مجھے یقین ہے … جنید کے لفظ اسے حیران کر رہے تھے کیونکہ مارکیٹنگ تو اس کا سبجیکٹ نہیں تھا پر ہر بار کی طرح جنید اس کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ پایا کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے ائیڈیاز سے اسے حیران کرتی ائی تھی ویسے تو حیران وہ خود بھی ہوتی تھی کہ اتنے اچھے ائیڈیاز اس کے ذہن میں اتے کہاں سے ہیں … پر ایک بات صاف تھی کہ وہ جس کام میں ہاتھ ڈالتی تھی وہ بہت خوش اسلوبی سے کیا کرتی تھی …

” ائیے ایگری ود جنید شاہ , تمہاری مارکیٹنگ سٹریجٹیز بالکل اس پروجیکٹ اور اس ایریا کی لوگوں کی سوچ ذہن میں رکھ کر جو بناتی ہو تم وہی بہترین ہے… عیان نے سادہ لفظوں میں اس کی تعریف کرکے اپنی بات مکمل کی کہ اس کا موٹوو کیا تھا اور کیسے بناتی تھی …

” تو میرا خیال ہے پہلے ہم سائٹ وزٹ کر لیں تو ہی ہم زیادہ بہتر مارکیٹنگ پر بات کر سکتے ہیں ورنہ شاید ہم نہ کر سکیں …. ماہین نے کہا کچھ سوچ کر … ماہین کے کام کرنے کا انداز بھی الگ تھا وہ کبھی بھی سائیڈ وزٹ کیے بغیر یا اس پر صحیح نالج نہ ہو تو کبھی مارکیٹنگ اسٹریجٹیز ڈسکس نہیں کر پاتی تھی …

“ٹھیک ہے جنید اور ماہین تم دونوں جاؤ … عیان نے کہا ماہین کی بات سے متفق ہوکر …

“ٹھیک ہے سر … آفیس میں اس کے لیئے سر ہی تھے عیان اور وہ پروفیشنل ہوکر کام کرتی تھی …

بے ساختہ عیان کی نظر ماہین کے اٹھتے وجود پر پڑی تو اسے افسوس کے ساتھ شرمندگی بھی محسوس ہوئی کہ یہ بات اس کے ذہن سے کیسے نکل گئی کہ وہ پریگننٹ ہے اور ابھی شاید چھٹا ساتواں مہینہ ہو اس کا اور اسے اس طرح بھیجنا سائیڈ وزٹ پر تو سیو نہیں تھا ….

“ایک منٹ میرا خیال ہے ماہین اپ کو نہیں جانا چاہیے سائیٹ وزٹ پر ایک تو اپ کا ٹریول اتنا زیادہ ہو جائے گا اور کوئی ایشو نہ ہو جائے , ایک ہی دن میں انا جانا اپ کے لیے مشکل ہوجائے گا … عیان کے لہجے میں واضع شرمندگی تھی کیونکہ مارکیٹنگ اس کا کام ہی نہیں پھر اسے اس طرح بھیجنا کہیں اس کو نقصان نہ پہنچا دے , وہ اس کی فکر کررہے تھے …

“سر ائی کین مینج … ڈونٹ وری اس پروجیکٹ کے لیئے اتنا کرسکتے ہیں اور سر جنید ہیں ہی میرے ساتھ … اس کے کانفیڈینس کو دیکھ کر عیان نے اجازت دے دی …

“پاپا آپ پریشان نہ ہوں , اگر کوئی اپنے کام کو لے اتنا پروفیشنل ہے تو ہمیں اسے ویک ہونے کا احساس دلانے کے لیئے اس کے ہیلتھ ایشوز پر نظر ثانی کروا کر اسے کمزور نہیں کرنا چاہیے … جنید شاہ نے اپنے باپ کو سمجھایا …

“ہممممم ٹھیک کہے رہے ہو بہت اسٹرونگ ہے یہ لڑکی … عیان نے کہا تو جنید بھی ان کی بات سے متفق ہوا …

@@@@@@@@@@

پھر واقعی اگلے دو دن ماہین اور جنید شاہ نے شدید محنت کی اور ان کی محنت رنگ لائی اور وہ پروجیکٹ ان کی کمپنی کو ملا … جب مارکیٹنگ پلان دونوں نے مل کر ڈسکس کیا کلائینٹ کے ساتھ تو وہ کافی امپریس ہوئے … کچھ ڈسکشنز کے بعد جنید نے ان کی توجہ ایکزیکیوٹوو پلان جو ماہین کا تھا اس کو بھی ڈسکس میں لے آیا پھر ماہین کی پچھلی پوائینٹس جن پر کلائینٹ نے جو انگلی اٹھائی اس کا ریزولوو پلان کی سلائڈس چلائین جنید نے جسے ایکسپلین تو ماہین کر رہی تھی پر جب کہ وہ سلائیڈز پریزنٹیشن کے روپ میں جنید نے خود بنائی تھیں اور یہ ساری چیزیں جنید اس کے ساتھ ڈسکس کر کے اس کے ائیڈیاز لے کر بنا چکا تھا اور وہ حیران تھی جنید کی اس عمل سے کہ وہ اور کسی اور کے حصے کا کام کرے … کلائنٹس نے بہت تعریف کی ان کی کہ انہوں نے پچھلے اشوز بھی سالو کر دیے اور ساتھ ہی ساتھ مارکیٹنگ پلان بھی ڈسکس ہو گیا اور فائنلی بروجیکٹ ان کے حوالے کر دیا گیا …

میٹنگ سے واپسی پر وہ الگ گاڑی میں آنے کے بجائے جنید کی گاڑی میں آئی تھی , شروع میں وہ بہت زیادہ فارمل رہنے لگی تھی کیونکہ وہ صرف اپنے کام تک کی محدود رہتی تھی پر اب جب عیان اسے ہر کام انولو کرتا اور جنید کو بھی اعتراض نہ تھا تو وہ بھی کھل کے اپنی رائے دیتی جس میں شیور ہوتی , افس کی طرف سے اسے گاڑی پرووائڈ کر دی گئی تھی جب بھی اسے کہیں وزٹ کرنا ہو یا پھر کسی کے ساتھ میٹنگ کرنی ہو اور اس پر کوئی ایسی پابندی نہ تھی کہ وہ جنید اور عیان کے ساتھ جائے وہ چاہے تو الگ سے اپنی گاڑی میں جا سکتی ہے اسی جگہ جہاں وہ دونوں جا رہے ہوں , اب اس کی اچھی خاصی انڈرسٹینڈنگ جنید کے ساتھ بن گئی تھی تو وہ فضول میں کیوں اتنا فیول ضائع کرے افس کا اسی لیے اب وہ خود ہی اسی کی گاڑی میں اس کے ساتھ میٹنگ کے لیے چلی جایا کرتی تھی اگر جانا پڑتا تو .. اب اس کا تعلق جنید کے ساتھ فارمل نہیں رہا تھا کیونکہ اب مل کر دونوں کام کرنے لگے تھے …

“تھینک یو سر جنید … ماہین نے کہا …

“کیا کہا , مس ماہین , مجھے سنائی نہیں دیا پھر سے کہیں گی … اب کے وہ اپنی ہنسی ضبط کرتا ہوا بولا …

“تھینک یو سو مچ , جس طرح آپ نے میری پریزینٹیشن بنائی اور کلائنٹس کو سیٹسفائی کیا … ماہین نے یہ لفظ دل سے کہے …

“ویسے اتنا فارمل ہونے کی ضرورت نہیں ہے تم ہمیشہ میری اتنی ہیلپ کرتی ہو تب میں تو اتنا تھینکس نہیں کہتا اور ائندہ مجھے کہ تھینکس کہنے کی ضرورت نہیں ہے … جنید نے مسکرا کر کہا اور اپنی نظر راستے پر مرکوز کرلی …

“ویسے ماہین میں یہ کہے بغیر رہ نہیں سکتا کہ تم ہمیشہ اپنا کام پرفیکٹ کرتی ہو پر کیسے اس دن تم سے غلطی ہوئی یہ میں تم سے نہیں کہہ سکتا کہ مجھے جسٹیفائی کرو پر مجھے لگتا ہے کہ ضرور کوئی ایسی بات ہوگی کہ تم اس قدر پریشان ہوگی کہ یہ غلطی ہو گئی تم سے … جنید نے بغیر اس کی طرف دیکھے اپنی بات مکمل کی … وہ بسس حیران ہوئی کہ سر جنید اتنا ضرور سمجھ گئے ہیں کہ ضرور کسی پریشانی کی وجہ سے سب ہوا تھا … پر جس طرح جنید نے سب ٹھیک کیا وہ ماہین کے لیئے قابلِ تعریف تھا … اس کی نظر میں جنید کے لیئے احترام اور عزت بڑھ گئی تھی …

“جی سر … ائندہ میری کوشش ہوگی کہ کوئی بھی بات اس طرح میرے کام پر ایفیکٹ نا ہو … ماہین بولی تو بس اتنا تو جنید مسکرا کر بولا …

“گڈ … اور ہان جب بھی ہیلپ کی ضرورت ہو تو یاد کرلینا … جنید نے کہا اسے کام کے حوالے سے …

“بلکل اب آپ نے آفر کی ہے تو ضرور کہوں گی … امید کرتی ہوں اپ کو افسوس نہ ہوگا اپنی اس آفر پر … وہ نارمل لہجے میں بولتے بولتے اخر میں شرارتی انداز میں بات مکمل کی ماہین نے …

” ائی ایم شور اباؤٹ ڈیٹ … جنید نے کہا …

یون کییول باتوں میں ان کا سفر مکمل ہونے لگا …

@@@@@@@@@@@

کیسے دو ہفتے گزرے پتا ہی نہیں چلا اور آخرکار بےبی شاور کا دن اگیا …. خوبصورتی سے لان سجایا گیا تھا اور بہتریں ڈنر کا انتظام کیا ہوا تھا … کراچی سے ماہین کی فیملی اور ساتھ انوشے اور اس کی ماما آئین تھیں …

ماہین نے لانگ بلیک میکسی پہنی تھی اس کے بھرے بھرے وجود پر بہت جچ رہی تھی وہ میکسی … دانش نے بلیک تھری پیس پہنا تھا …

ریما اور نور نے گولڈن میکسی والا ڈریس پہنا تھا اور دعا نے بلیو کلر کا ڈریس یہ دانش کی طرف سے کپڑے تھے ان کے لیئے …

طیبہ پھر سے امید سے تھی تو وہ لاہور نہ آسکی معذرت کرگئی …

یون رات نو بجے ماہین اور دانش نے کیک کاٹا جس پر ایک بےبی بوائے بنا تھا تو دوسری طرف بیبی گرل … بہت خوبصورت کیک تھا سب نے تعریف کی … یہ دعا نے اپنی پسند سے بنوایا تھا … تیمور اور دعا نے مل کے سب کچھ کیا تھا … اپنی طرف سے دعا نے بہت کوشش کی تاکہ نور ساتھ ان کے لگی رہے پر نور کا لیا دیا انداز دیکھ کر اسے چپ ہونا پڑا … پھر بھی دعا نے کسی سے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں کی کیونکہ اس کی اپنی بہن ہی خوش نہیں تھی اسے ایونٹ کو لے کر …

سب خوش تھے پھر تحفون کا سلسلہ شروع ہوا گود بھرائی کی طرح اسے گفٹ دیئے گئی جس میں اس کی مان باپ نے پچاس ہزار کیش کا لفافہ اور ساتھ میں سونے کا سیٹ دیا … ڈرائی فروٹس اور مٹھائیاں اور شربت کے شیشے الگ تھے … ریحان اور ریما نے بچے کے حوالے سے کچھ کپڑے جوتے اور کھلونے دیے تھے … ذیشان نے نور کے ہاتھوں میں پیسے دے دیے تھے تیس ہزار روپے جو وہ لینا چاہے بچے کے لیئے وہ لے سکتی ہے … پر شانی کے رویوں نے اسے اتنا دکھی کر دیا تھا اس نے کچھ بھی نہ لیا وہی کیش لفافے میں ڈال کر ماہین کو دے دیا , عمر اور علیزے نے بھی خوبصورت گفٹ دیئے بچے کے حوالے سے … یون گفٹس کے بعد میوزک چلایا گیا اور جب سونگ پلے کیا تیمور نے محفل تان سجدی تو پھر سب کو اٹھا اٹھا کر ڈانس پر مجبور کردیا اور محفل میں سمان بندھ گیا … سب نے بہت انجوائے کیا پھر ڈنر شروع ہوا …

ڈنر کے بعد , نور کو شائستہ کی بیسٹ فرینڈ شمائلہ بیگم نے کہا “بیٹا نور میرے لیئے میٹھا لادو گی اب مجھ سے اٹھا نہیں جارہا … وہ اکثر اتی جاتی رہتی تھیں ان کے گھر … شمائلہ بیگم ایک بھاری بھرکم وجود کی مالک تھیں اور دوسرا جوڑوں کے درد کی وجہ سے بار بار اٹھ کر بوفے سے کھانے کی چیزیں نہیں اٹھا سکتی تھیں ….

“جی آنٹی ابھی لادیتی ہوں … نور نے مسکرا کر کہا …

کچھ دیر بعد وہ آئی اور ان کے سامنے رکھا … اور جانے لگی اسی وقت انہون نے کہا …

“ویسے نور تم کب دے رہی ہو خوشخبری … تم پہلے آئی تھی رخصت ہو کر پھر بھی ماہین تم سے نمبر لے گئی … اب تم بھی تیاری کر لو … وہ پیار سے بولیں …

“جی آنٹی بسس دعا کریں … نور نے اپنا کرب چھپا کر مختصر لفظوں میں بات ختم کرنا چاہیے پر اسی وقت شمائلہ بیگم کی بہو بولی …

“ویسے محنت آپ لوگون کو کرنی پڑے گی صرف دعا سے کام نہیں چلتا … وہ مذاقاً بولی …

“جی بھابھی … نور نے کلس کر کہا ایسا بےہودہ مذاق اس کا خون ہی جلا گیا …

ابھی ان کی بہو چپ ہوئی تو دوبارہ اس کی ساس شمائلہ بیگم شروع ہو گئیں اور بولیں “ویسے کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھا دیتی اج کل بڑے مسئلے ہوتے ہیں پتہ ہے جس کو دیکھو علاج کے بغیر اولاد ہوتی ہی نہیں ہے , شانو!! نور تو بچی ہے تم تو بڑی ہو … اتنی دنیا ہم نے دیکھی اج کل کہاں اتنا جلدی بچے ہوتے ہیں , علاج کروانا پڑتا ہے , اپنی بہو کو جا کر دکھاؤ تم ڈاکٹر کو … اور نور کے ساتھ ساتھ شائستہ بیگم کو بھی گھسیٹ لیا باتوں میں … پیار سے شائستہ کو شانو کہتی تھیں اخر بیسٹ فرینڈ جو تھیں …

“شمائلہ چھوڑو تم کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی انشاء اللہ ضرور دکھاؤں گی نور کو بھی ڈاکٹر کو … شائستہ بیگم نے کہا اور نور کو جانے کا اشارہ کیا انکھوں ہی انکھوں میں … وہ کسی صورت نہیں چاہتی تھی کہ نور کی دل ازاری ہو کچھ بھی تھا نور عمر میں تو ماہین سے بڑی تھی نا اسی لیے ان کو احساس تھا نور کا …

پر نور نے ان کا اشارہ اگنور کرتے ہوئے کہا ” میرا خیال ہے کبھی کبھی کچھ کیسز میں مردوں کو بھی ڈاکٹر کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے , مردانہ کمزوریون کے بارے میں سنا تو ہوگا آپ نے , اس کے بارے میں کیا خیال ہے اپ کا انٹی …

اس کا لہجہ سلگ رہا تھا پر اس کی بات پر وہ اگ ہی لگا گئی شائستہ بیگم کو اور وہ سیدھا سیدھا ان کے بیٹے پر ہی نامردی کا الزام لگا رہی تھی … وہ ہکا بکا ہوکر اسے دیکھنے لگیں ….

جاری ہے