Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 6

کتنے لمحے وہ حیرت سے اپنے سامنے پڑے سامان کو دیکھتی رہی , آج ہی طاہر آفندی اور شائستہ بیگم اکر شادی کی تاریخ بھی طے کرگئے ساتھ ہی پانچ لاکھ نقد دے کر مٹھائی کے ساتھ اب وہ خود کی پسند کا شادی جوڑا لے اور بری کا سامان بھی … اس کے علاوہ گولڈ کا سیٹ اور چوڑیان بھی دیں … اس وقت شگن کے طور پر چار جوڑے اور ساتھ میں مہندی اور کانچ کی چوڑیاں یہ سب بھی تھا … وہ صبح کی فلائیٹ سے پہنچے تھے اور رات آٹھ کی فلائیٹ سے واپسی تھی ان کی … شادی کراچی میں ہونا طے پائی جبکہ ولیمہ لاہور میں ہونا طے قرار پایا ….

ماہین کو گم صم بیٹھے دیکھ کر سامان کو تکتے دیکھ رہی تھی ریما , ماہین کو احساس تک نہ تھا کب آئی اس کی بڑی بھابھی روم میں , کیا چل رہا تھا اس کے ذہن میں ریما سمجھنے سے قاصر تھی …

“کیا ہوا ماہیں , لگتا ہے رخصتی کا ابھی سے سوچ کر پریشان ہوگئی ہو ….

“نہیں بھابھی ایسا کچھ نہیں … وہ جلدی سے اٹھ کر سامان اٹھا کر الماری میں ٹھوسنے کے انداز میں رکھنے لگی … مٹھائی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی …

بھابھی کو اس کا یہ انداز اچھا نہ لگا , اتنا کچھ دیا تھا اس کے مان باپ نے پر ماہین کے چہرے پر نا خوشی تھی نا ستائش , ریما تو یہی دیکھنا چاہتی تھی کہ اس کے مان باپ کی تعریف ہو ان کے اس انداز کو سراہا جائے پر یہاں ایسا کچھ نہ دیکھ کر مایوس ہوگئی کچھ لمحوں کے بعد غصہ بھی آنے لگا اسے…

“کیا ہوا تم کو پسند نہیں آیا کچھ بھی جو اتنی بیزار ہو , لگتا ہے تم ابھی تیار ہی نہیں رخصتی کے لیئے …. ریما نے بات کو ہی گھما دیا اور الگ رنگ دے دیا , اب جانچتی نظروں سے ماہین کے چہرے کو تک بھی رہی تھی …

“نہیں بھابھی ایسا کچھ نہیں … آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے , میں خوش ہوں … وہ جلدی سے بولی …

“لگ تو نہیں رہا , باقی تم کہتی ہو تو مان لیتی ہوں … ریما نے کاندھے اکا کر کہا …

“سچ میں , میں خوش ہوں …. ماہین نے سمائیل پاس کرتے ہوئے کہا ..

“اب تمہاری مرضی تم مانو نہ مانو پر میرے مان باپ نے بری میں گولڈ بھی زیادہ چڑھایا ہے اور کپڑوں کے لیئے بہت کیش دے کر تمہاری مرضی پر سب چھوڑا ہے اس سے زیادہ اور کیا چاہیئے کسی بھی لڑکی کو … ریما کے انداز میں فخر صاف نظر ارہا تھا …

“جی بھابھی …. ماہیں نے ٹالنے کے انداز میں ان کی ہاں میں ہاں ملائی …

سعدیہ جو دروازے پر کھڑی تھیں دونوں کی ساری گفتگو سنی تھی ان کو ریما کا یہ انداز کچھ خاص پسند نہ آیا پر انہوں نے کہا کچھ نہیں … ریما کی نظر ساس پر پڑی تو چلی گئی کمرے سے یہ کہتے ہوئے کہ “لگتا ہے صمد رورہا ہے میں ذرہ اسے دیکھ لوں …

سعدیہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئیں جو صاف بہانہ کرکے رفوچکر ہوئی تھی … اللہ نے ان تین سالوں میں ریما کو دو بیٹوں کی ماں بنا کر اس گھر میں اس کے پاؤں مضبوطی سے جما دیئے تھے جبکہ ماہین کی زندگی ہی تو اب شروع ہورہی تھی … ماہین کو لے کر جانے کیوں سعدیہ بیگم کو سو وسوسے رہتے تھے کیونکہ وہ جب بھی پوچھتیں دانش سے بات ہوتی رہتی ہے تو ماہین ان کو مطئمن کرتی جھوٹ بول کر یا بہانے کرتی تو سعدیہ سمجھ کر بھی خاموش ہوجاتیں کیونکہ بیٹی کو تکلیف نہ ہو اس کے اندر کوئی اور احساس نہ جاگے کہ وہ شاید ان چاہی ہے یا کچھ اور , اس لیئے وہ اس کے جھوٹ کی نفی نہیں کرتی تھیں , وہ ماں تھیں ابھی بیٹی کو بے وجہ کسی پریشانی میں نہیں ڈالنا چاہتیں تھیں ….

پر ان تین سالوں میں چار یا پانچ دفعہ کے علاوہ کبھی دانش نہیں آیا اور آیا بھی تو ایک دن کے لیئے آتا صبح میں آتا اور رات کی فلائیٹ سے واپس چلا جاتا … جتنا وقت ہوتا یہاں فون پر لگا رہتا ایسا نہیں تھا کہ وہ باہر نکل جاتا اور چھپ کر فون سنتا ہو , بلکہ وہ سب کے سامنے ہی فون سنتا اور ڈیلینگ کرتا رہتا کبھی کبھی تو فون پر بات کرنے کے ساتھ اپنے ٹیبلیٹ پر ان کو ڈیٹیلس بھیج رہا ہوتا , جس سے صاف ظاہر ہوتا وہ کتنا پروفیشنل ہے , سب کے چہروں پر ستائش ابھرتی یہ دیکھ کر وہ کتنا سیریس ہے اپنے کام کو لے کر …

پر ایک ماں کو ان سب باتوں کی کیا سمجھ وہ تو بس جتنا اسے مصروف دیکھتیں اور ماہین سے صرف سلام کے بعد کوئی بات نہیں ہورہی تو وہ اداس ہوجاتیں … ریما تو زبردستی اس سے فون رکھوا کر اپنی باتیں کرلیتی پر ماہین تو یہ نہیں کرسکتی تھی , اس لیئے ایک ماں کا فکر مند تو لازمی تھا ….

ایک بات کا شدت سے احساس ان کو ہوگیا تھا کہ اس دور میں اتنا زیادہ عمروں کا فرق ہو تو شاید دو فریقوں میں مشکل ہی انڈرسٹینڈنگ پیدا ہوتی ہے … شاید یہ عمروں کا فرق ہی کبھی دانش اور ماہین میں انڈرسٹینڈنگ نہ بننے دے رہا ہے کیونکہ دانش کا ماہین کی طرف کوئی خاص رجحان نہیں دکھتا تھا ان کو وہ اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا بات کرنا تو دور کی بات , تو دوسری طرف ان کی بیٹی ان کے کہنے پر کچھ دیر بیٹھ تو جاتی تھی پھر کام کے بہانے اٹھتی تو دوبارہ بیٹھنے کی زحمت نہ کرتی … سیدھی سی بات تھی جب دانش کا اس کی طرف رجان ہی نہیں اسے محسوس ہوتا تھا تو وہ کس طرح اس سے بات کریں جب وہ اسے بات کے قابل ہی نہیں سمجھ رہا تھا اب وہ کھل کے اپنی ماں کو کہہ تو نہیں سکتی تھی اسی لیے ان کی خوشی کے لیے بیٹھ بھی جاتی تھی پھر جب دیکھتی تھی کہ مسلسل اگنور ہو رہی ہے تو پھر کام کا بہانہ کرے کر کے اٹھنا ہی اس کی مجبوری تھی … دونوں ایک دوسرے کو بھرپور اگنور کرتے نظر اتے رہتے تھے …

وہ ماں تھیں ان کو ہر بات محسوس ہوتی تھی پر چاہ کر بھی کسی کو سمجھا نہیں پاتیں تھیں … اگر کسی سے بھی وہ دانش کے ایب نارمل رویئے کا ذکر کرتیں تو وہ اس کے کام کو لے کر اس کا پیشونیٹ ہونا اور اس کا مصروف رہنا اس کے کام کی نوعیت کو واضع کرنے بیٹھ جاتے جس کی وجہ سے وہ چپ ہوجاتیں … آج کل ان کی تہجد میں دعائیں مانگنی کی عادت میں ساری دعائیں ماہین کے لیئے مخصوص ہوگئیں تھیں …

اس لیئے اب وہ اکثر اپنی سہلیوں سے باتوں باتوں میں کہتی کہ شادی کے لیئے کم سے کم ایج ڈیفرینس ہونا چاہیئے اس سے زیادہ سے زیادہ میاں بیوی میں انڈرسٹینڈنگ ڈولپ ہوتی ہے …

@@@@@@@@@

اگلے دن ناشتہ کرکے ماہین آفیس جارہی تھی تو بےساختہ ریما نے کہا …

“آج تو ریزائین کردوگی نا … ریما نے بے ساختہ کہہ تو دیا تھا پر اسے افسوس ہو رہا تھا یہ بات اس کے کہنے کی نہیں تھی وہ بھی سب کے بیچ میں … اب تو کہی بات بھی واپس لینے سے وہ رہی اسی لیے اب خاموشی سے اس کی طرف دیکھنے لگی ….

“کیا مطلب بھابھی … ماہین نے حیرت سے کہا …

“کل بابا نے کہا تو تھا وہ بیٹی اور بہو کی جاب کے خلاف ہیں , وہ کہے کر تو گئے تھے … ریما کا کل کا حوالہ دے کر کہا تو ماہین سوچ میں پڑ گئی یہ بات تو اس کے ذہن سے ہی نکل گئی تھی … اس سے پہلے کہ ماہین کچھ کہتی ریحان نے کہا …

“تم اپنے کام سے کام رکھو , یہ باتیں ماہین اور دانش کے کرنے کیں ہیں , تم جاؤ جاکر میری چائے گرم کرکے کے لاؤ … ریحان نے ٹوکا تو ریما چپ ہوکر پلٹ گئی چائے کا کپ لے کر …

ماہین جانے لگی تو اسی وقت ریحان نے کہا …

“ماہیں …

“جی بھائی …

“ریزائین دینے کی ضرورت نہیں فی الحال چھٹی لینا شادی کی , ویسے بھی تمہاری کمپنی کی برانچز لاہور اور اسلام آباد میں ہیں , جلد بازی مت کرنا … موقع ملا تو دانش سے میں خود بات کروں گا… ریحان نے بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے اسے سمجھایا اور ساتھ میں اپنے ہونے کا دلاسہ بھی دیا …

“اوکے بھائی … تھینکس … ماہیں کو خوشی ہوئی اپنے بھائی کی بات سن کر …

خیال سے جانا …. اللہ حافظ … ریحان نے مسکرا کر کہا …

“اللہ حافظ …. وہ بھی مسکرا کر بولی … ماں نے بیٹی کو آیت الکرسی پڑھ کر اللہ کے امان میں دیا …

نادر صاحب کو خوشی ہوئی کہ ریحان نے خود ٹوک دیا ریما کو ورنہ وہ ٹوکتے ریما کو تو خامخہ بدمزگی ہوجاتی اور ان کو یہ پسند بھی نہیں تھا کہ بہو بیٹیوں کو گھر کے بیچ میں ڈانٹیں یا ٹوکیں …. ریما اس گھر کے لیے نہ زیادہ اچھی بہو تھی نہ بری بہو تھی وہ ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتی اور اپنے مطلب سے مطلب نہ کسی سے زیادہ بات کرتی اور نہ کسی کی پرواہ کرتی تھی وہ بس اپنے شوہر کے لیے ہی ایک اچھی بیوی بننے کا کردار بخوبی نبھا رہی تھی … نادر اور سعدیہ یوں بھی بہو اور بیٹی پر روک ٹوک پسند نہیں کرتے تھے …

@@@@@@@@@

“ویسے ریما بھابھی تمہارے معاملوں میں بہت بولنے لگیں ہیں آج کل …. ٹوکا کرو ورنہ سر پر سوار ہوجائیں گی …

انوشے کپ چینو کا سپ لیتے ہوئے بولی …. اس وقت ماہین اور انوشے ریسٹورینٹ میں بیٹھیں تھیں , ویسے بھی آج ٹریٹ ماہین کی طرف سے تھے …

“چھوڑو یار ان کی عادت ہے … بھائی نے ٹوک تو دیا ان کو … ماھین نے کندھے اچکا کر بے فکری سے کہا …

“پھر بھی یار کب تک دوسرے تم کو سیکیور کریں گے بہتر نہیں کہ تم خود بول دیا کرو تاکہ ان کی ہمت نہ ہو تمہیں کچھ کہنے کی … انوشے واحد تھی جسے اتنی ہمت حاصل تھی کہ وہ اس کے گھریلو معاملات میں بولا بھی کرتی تھی ٹوکا بھی کرتی تھی اور مشورے دینے سے باز بھی نہیں اتی تھی کتنا بھی ماہی اس کو روک لے پھر بھی وہ کبھی رکتی نہیں تھی …

“تم جانتی ہو مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا … میں ان جیسی نہیں ہوسکتی … ماہین ازلی نرم انداز میں کہا …

“تم ان جیسی نہیں ہوسکتی تو جناب تم کو ریما بھابھی اور نور آپی نے کچا چبا جانا ہے سمجھی … انوشے نے ہنستے ہوئے کہا … انوشے کی عادت تھی ہنستے ہنستے بھی وہ کڑوی سچائیاں سچائی سے کہہ دیتی تھی …

“ایسا کچھ نہیں ہوگا , میں کم ہی کسی کے معاملوں میں بوتی ہوں تو پھر لوگ کیوں میرے معاملوں میں ٹانگ اڑائیں گے یا کچھ کہیں … ماہین نے سمجھانے والے انداز میں انوشے کو سمجھایا …

“ماہین بی بی سب آپ کی طرح اصول پسند نہیں ہوتے سمجھی … اپ کے انوشے نے ڈرامہ ہی انداز میں اسے کہا اور جب بھی وہ ڈرامہ یہ انداز میں کچھ بھی کہتی تو اسے بی بی ضرور کہتی …

“چھوڑو یار مجھے نہیں سوچنا یہ سب … اب کے ماہین کے چہرے کے تاثرات میں بیزاریت واضح تھی اس لیے انوشے کو بات بدلنی ہی پڑی اور کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد بولی کہ …

“ہاں سہی ہے تم بس دانش بھائی کو سوچو , ویسے ان کو کہنا تم کو اسلام آباد لے جائیں ورنہ لاہور میں تو تم کو نور آپی نے سکون کا سانس نہیں لینے دینا سمجھی …

“ایسا کیوں کہتی ہو تم انوشے …

“لگتا ہے بھول گئی ہو نور آپی نے اپنی مہندی کی رات تم کو کیسے بھگایا اسٹیج سے … انوشے نے اسے یاد کروایا … انوشے کو سخت چڑ رہتی ہے ماہین کے اس انداز سے وہ ہر بات جلدی بھول جاتی ہے اور نہ زیادہ باتوں کو سر پہ سوار کرتی ہے , پر اسے نہیں پتہ کہ لوگ اس طرح نہیں ہیں , اس کی طرح نہیں سوچتے , وہ تو چھوٹی چھوٹی بات کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اسی لیے وہ اسے چھوٹی چھوٹی بات کے ذریعے لوگوں کے رویے اور انداز کا احساس دلانے میں پیچھے نہیں رہتی تھی … انوشے ہمیشہ بیسٹ فرینڈ ہونے کا حق ادا کرتی ائی تھی …

“یار چھوڑو تم بھی کیا بات لے کر بیٹھ گئی وہ وقت بھول گئی انکل کی حالت کیا تھی کس طرح آنن فانن رسمیں کرکے رخصتی ہوئی تھی ان کی … شاید اس وجہ سے وہ سب ہوا اس رات … ماہیں نے خود ہی نور کے حق میں دلیل دے کر انوشے کے اس بات سے ہٹانا چاہا ….

“اف کتنی بھولی ہو تم ماہی , واقعی تم سمجھتی نہیں یا ہمیں الو بنا کر تم کو مزا اتا ہے … سمجھ کر بھی انجان بنوگی تو نقصان اٹھاؤ گی بےوقوف … انوشے نے مذاحیہ انداز میں کہے کر آخر میں نچلہ لب لٹکایا …

“رہنے دو یار , مجھے گھریلو سیاست زہر لگتی ہے , میں نہیں سوچنا چاہتی نور آپی کے رویوں کو , مجھے جن لوگوں کی فکر کرنی چاہیئے , میں ان کی ہمیشہ کروں گی سمجھی , اس طرح زندگی نہیں گزرتی جس طرح تم کہے رہی ہو اگر سب کی باتیں اور سب کے ریوں کو سر پر سوار کروں گی تو صرف زندگی میں مشکلین بڑھیں گی , میں خود کے لیئے آسانایاں کروں یا مشکلین بڑھاؤں …. اب تم ہی بتاؤ …. اب کے ماہین نے کھل کے اسے ہر بات واضح کر کے سمجھایا وہ ہمیشہ اپنے نظریے میں کلیئر تھی …

“واہ واہ کیا بات کہی تم نے … سچ میں دل خوش کردیا تم نے … کیا کہوں تم کو ماہین , سچ میں دانش بھائی کی قسمت چمک جائے گی تم جیسی بیوی پاکر کتنی اچھی سوچ ہے تمہاری … کہاں سے آتی ہے تمہاری پاس اتنی عقل سچ میں جینئیس ہو تم …. ہائے کاش میں لڑکا ہوتی تو تم سے ہی شادی کرتی سچ میں چاہے جانے کے قابل ہو … انوشے دل سے یہ سب کہا پر آخری باتوں میں اس کی آنکھ میں شرارت واضع تھی …

“سارا کمال میری امی کا ہے … ہمیشہ کی طرح ماہین نے ایک ہی جواب دیا … انوشے مسکرائی … اسے اپنی یہ بےضرر سی سہیلی بہت عزیز تھی وہ بتا نہیں سکتی تھی کہ وہ کتنا اس سے پیار کرتی ہے کتنی فکر رہتی ہے کیونکہ دانش بھائی کے سرد رویئے سرد انداز وہ بھی محسوس کررہی تھی اس پر ماہین کا اور اس کا آپس میں بلکل بات نہ کرنا جبکہ دونوں نکاح جیسے پاک بندھن میں بندھے تھے پھر اتنی دوری کیوں , کال پر تو بات کرہی سکتے ہیں , یہ خیال انوشے کا تھا …. انوشے نے ایک دو بار کوشش کی اسے سمجھانے کی پر ماہین چکنا گھڑا ثابت ہوئی اس پر سرد سے تاثرات انوشے کو چپ ہونا ہی پڑتا تھا …

ماہین نے جب بی بی اے میں ٹاپ کیا تو ایم بی اے میں ایڈمیشن لینے کا سوچا تو سعدیہ , طیبہ , بڑی بھابھی سب نے مختلف طریقوں سے جب اسے احساس دلایا کہ اسے شوہر سے ضرور پوچھنا چاہیئے تو مجبورً اس نے علی سے ڈسکس کیا کہ سب اس طرح کہے رہے ہیں … جب اسے علی نے بھی کہا “اسے ضرور پوچھنا چاہیئے دانش بھائی سے … تب جا کر وہ مانی … واحد عیان تھا جس سے وہ اپنے دل کی ہر بات کرتی تھی دونوں میں بےانتہا انڈرسٹینڈنگ تھی اگر کوئی بات ماہین نے اس سے چھپائی تھی تو شانی کو لے اپنے احساسات ورنہ تقریبً ہر مشورہ اس سے کرتی تھی …

علی کے کہنے کی وجہ سے ہی وہ راضی ہوئی اجازت لینے پر ورنہ اس کا کوئی ارادہ نہ تھا …

پھر علی سے نمبر لے کر دانش کو اس نے کال کی … رات کو آٹھ بجے اسے مناسب وقت لگا کال کا … تیسری بیل پر اس نے کال اٹھائی تو ماہین نے جلدی سے سلام کرکے اپنا نام بتایا کہ کہیں رکھ ہی نہ دے … سلام کا جواب دے کر اس نے کہا “خیریت تم نے کال کی … اس کے لہجے میں واضع حیرت تھی …

وہ جلدی سے بولی “مجھے ایک کام تھا آپ سے …

“ہمممم کہو … ماہین کو لگا شاید بہت مصروف تھا دانش اس لیئے اتنے مختصر لفظوں میں بات کررہا ہے…

“مجھے ایم بی اے میں ایڈمیشن لینا ہے … تو لے لوں … ماہین نے بتا کر سوالیہ انداز میں پوچھا …

“ہاں لے لو …. دانش اتنا کہہ کر کچھ لمحوں کے لیے چپ ہوا اور کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد بولا کہ “ان فیصلوں کا حق ابھی تک ماموں کے پاس ہے مجھ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے …

ماہین حیران ہوئی اس کے اس جواب پر کیونکہ شاید تھوڑی سی امید تھی کہ شاید اس کا رزلٹ ہی پوچھ لے بی بی اے کا … پر اس نے سیدھا اتنا روکھا جواب دیا کہ ماہین کو افسوس ہوا کیوں وہ لوگوں کی باتوں میں اکر یہ بےوقوفی کرگئی … ایک اور افسوس جاگا جب اس نے اسے ٹاپ کرنے پر مبارک باد بھی نہیں دی تھی تو پھر اپنائیت کا کیا سوال , اس کے گھر والوں کو تو بتایا تھا نا ماہین نے تو پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ دانش کو گھر والوں نے نہ بتایا ہو اس کی خود کی بہن اس گھر میں رہتی ہے تو سیدھی سی بات ہی وہ تو اس گھر کی ہر بات کی رپورٹ وہاں کرتی تو ہوگی تو پھر کیسے نہیں پتہ ہوگا دانش کو کہ اس کی بیوی نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا ہے وہ گولڈ میڈلسٹ ہے … پھر جب نادر آفندی نے سیلیبریشن کی تو سب آئے تھے اس کی ساس سسر اور دعا , شانی اور نور بھی تھے , تو دانش کی طرف سے الگ گفٹ بھی لائے تھے جبکہ وہ خود نہیں آیا کیونکہ ان دنوں وہ تھائے لینڈ گیا ہوا تھا دوستوں کے ساتھ ٹرپ پر … اگر نادر آفندی کو پتا ہوتا تو وہ شاید سیلیبریشن ہی کچھ وقت بعد رکھتے ان کو لگا ان کے داماد کو اسلام آباد سے انے میں وقت نہیں لگے گا کیونکہ دانش کے لیئے ایسے سفر معنی نہیں رکھتے تھے … ماہین کی اس خوشی میں اس کے شرکت نہ کرنے پر دبے دبے لفظوں میں سب نے پوچھا پر سسرال کے باقی لوگون کی وجہ سے بچت ہوگئی … ماہین نے جب گفٹ پر رات میں نظر کی تو اس پر لگے چھوٹے کارڈ پر وہ دعا کی رائیٹنگ پہچان گئی کہ یہ دانش نے نہیں بلکہ اس کے سسرال والوں نے بس دانش کا نام لے کر فارمیلیٹی پوری کی ہے … سونے کا بریسلیٹ تھا جبکہ پھپھو نے سونے کی چین دی تھی … انہون گفٹ تو مہنگے دیئے پر ماہین کو یہ مادی چیزین خوش نہ کرسکیں … وہ چیزوں سے زیادہ جذبون اور احساسات کے قدر کرنے والی لڑکی تھی … اس لیئے اس نے گفٹ کا شکریہ تک نہ کیا دانش کو …

“اور کچھ … دانش کی آواز پر اس لمحے وہ سوچون سے باہر آئی اور دنگ رہ گئی اتنے سرد انداز میں کہی بات پر …

“نہیں … ماہین نے کہا …

“تو ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ … دانش نے خشک لہجے میں کہا …

‘اللہ حافظ … ماہین نے کہا اور دوسری طرف سے کال کٹ ہو گئی , اس کا خشک انداز محسوس کیئے بنا رہ نہ سکی ماہین , موبائیل اسکرین پر دیکھا تو حیران ہوئی دو منٹ بھی پورے نا ہوئے تھے اتنی مختصر بات جس میں بھی زیادہ خاموشی تھی دونوں کے بیچ …

اگلے دن سب پوچھتے رہ گئے اجازت کے علاوہ اور کونسی باتیں کیں دانش سے پر وہ کیا کہتی بس فیک سمائیل دیتی رہی اور پھر بات بدل گئی کیونکہ اتنا زیادہ جھوٹ بولنے کی سکت نہ تھی اور سچ بتاکر اپنا تماشہ بنانا نہیں چاہتی تھی ….

پھر نہ کسی موقعے پر دانش کو کال کرنے کی اس کی ہمت نہ ہوسکی تو دانش نے بھی اس سے بات کرنے کی فون پر کوئی کوشش نہ کی یہاں تک کہ ایک دوسرے کو عید تک وش نہ کی دونوں نے … دونوں کے بیچ ایک عجیب خاموش سا تعلق تھا …

پھر جب جاب کا وقت آیا سب نے ماہین سے کہا اسے دانش سے پوچھنا چاہیئے تو ماہین نے کہا ابھی وہ اپنے مان باپ گھر ہے اس کی ضرورت نہیں رخصتی کے بعد وہ دانش کی پابند ہے … سعدیہ کے سمجھانے کے بعد بھی وہ اپنی بات سے ایک انچ نہ ہلی تو انہون نے اپنی فکر نادر کو بتائی یہ کہے کر کہ “طاہر بھائی جاب کے خلاف ہیں پلیز ان سے پوچھے بغیر ماہین جاب کرے گی تو کل کو مسئلے ہونگے سمجھنے کی کوشش کریں نادر صاحب …

نادر آفندی کو اپنی بیوی کی بات ٹھیک لگی کیونکہ وہ واقف تھے ان کی طبیت سے اس لیئے کچھ سوچ کر وہ بولے …

“چلو ٹھیک ہے , میں دانش سے پوچھ لیتا ہوں …

“آپ , طاہر بھائی سے پوچھیں نہ … سعدیہ نے کہا …

“انہوں نے انکار ہی کرنا ہے , بہتر ہے ہم دانش سے پوچھ لیں میرا بھانجا ہے اس سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں… نادر نے کہا …

“چلو یہ بھی ٹھیک ہے … سعدیہ بیگم کچھ حد تک مطئمن ہوئیں کیونکہ ایک بیٹا ہی اپنے ماں باپ کو بہتر سمجھا سکتا ہے …

بیٹیوں کے بہتر مستقبل کے لیئے اکثر مان باپ ایسے کرتے ہیں … سعدیہ جانتی تھیں ان کی بیٹی کو معاملون کے نزاکت کی سمجھ نہیں اس لیئے وہ اسے سمجھانے کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ خود بھی اس کے لیئے آسانیان کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں … یہ بات الگ تھی ماہین رشتے کی نزاکتوں کو کم ہی سمجھتی تھی اکثر وہ خود میں ہی مصروف رہتی تھی , اپنے کیرئیر میں بہت فوکسڈ تھی بلکل دانش کی طرح … پر سعدیہ بیگم کو یہ بات بھی اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ یہ خاندان اور اس کے مرد کبھی عورتون کا کیرئیر اورئینڈ ہونا خاص پسند نہیں کرتے تھے … اس لیئے وہ ڈرتی تھیں کہیں اسے فیوچر میں کوئی تکلیف نہ ہو , بہت سمجھاتیں کہ دانش سے ماہین اپنی انڈرسٹینڈنگ بنالے تو وہ اپنے خواب اور شوق پورے کرسکتی ہے ورنہ طاہر آفندی کی طبیت سے وہ اچھی طرف واقف تھیں کتنی سخت طبیت کے تھے کتنے اصول پسند بھی … اب تو دور بھی بدل گیا ہے اس لیئے ان کو دانش سے اچھی امیدین تھیں کہ وہ ضرور اپنی بیوی کو سپورٹ کرے گا …

پر ماہین اور دانش کے بیچ گیپ نے ان کو ہزاروں فکروں اور اندیشون سے گھیرے رکھا تھا …

@@@@@@@@@@

پھر جاب کے ساتھ ساتھ تھوڑی بہت شاپنگ اس نے کی جبکہ زیادہ تر کپڑے طیبہ اور ریما ہی لائیں … اس کے علاوہ فرنیچر لاہور جاکر لیا اور کراکری وغیرہ بھی اور یہ سب ریحان ریما اور طیبہ نے مل کر کیا جس کے لیئے ان کو پانچ دن رہنا پڑا لاہور … وہان رہ کر کچھ ریڈی میڈ کپڑے لیئے لاہور کے مال سے طیبہ نے ماہین کے لیئے … ذیشان اور تیمور نے بھی ان کو ٹائیم دیا اس وقت بظاہر نور بھی ان کے ساتھ شاپنگ پر گئی یہ دکھانے کے لیئے کہ وہ اپنی کزن کے لیئے خوش ہے … یوں سب نے اپنی تیاریان کیں ان دنوں میں …

لاہور اتے ہوئے ریحان نے پانچ لاکھ کا چیک دیا تھا طاہر آفندی کو کہ دانش اپنی مرضی سے کپڑے لے کیونکہ وہ اپنی چوائس کے کپڑے , گھڑی , پرفیومز اور جوتے لے سکے … ساتھ میں مٹھائی اور ڈرائے فروٹس لایا تھا ریحان …

جس ہفتے وہ لوگ لاہور میں تھے دانش آیا ہی نہیں جس کا ریحان اور ریما کو افسوس ہوا کیونکہ ایٹلیسٹ فرنیچر دانش کی پسند سے تو لے لیتے , ماہین تو تھی نہیں یہاں اور مناسب نہیں تھا کہ رخصتی سے پہلے یہان آتی …

وہان سے واپسی میں ریحان کو شدت سے احساس ہوا کہ “کیون اتنا دور اپنی بہن کو دیا ہے ہم لوگون وہ بھی ہماری نازون پلی … جب دوسری بار یہ بات اس نے ریما کے سامنے کہی تو بولے بنا رہ نہ سکی کہ “میرے مان باپ نے بھی تو اتنا دور اپنی بیٹی دی ہے یہ بھی ذرہ سوچ کے میرا بھی کچھ خیال کرلو , ان کا درد بھی سمجھو … اس کا انداز جلا کٹا تھا جبکہ بظاہر خود کو نارمل ظاہر کرہی تھی ریما …

“اتنی پیاری ہے تو بیٹیوں کی شادیان ہی نہ کریں بٹھائے رکھیں اپنے گھر … ریما نے جل کر سوچا پر کہا نہیں …

پتا نہیں کیوں اسے زہر لگتا جب کوئی اس طرح ماہین کے لیئے بولتا جیسے وہ کوئی معصوم بچی ہو باقی سب تو لڑکیاں خاندان کی کھرانٹ ہوں جیسے …

“میری بہن بہت معصوم ہے تم نہیں سمجھو گی …. ریحان کلیجے میں چھوٹی بہن کے لیے محبت بول رہی تھی …

“تو کیا میں معصوم نہیں , ہاں … اب کی ریما نے کڑے تیوروں سے اس سے پوچھا …

“اف ریما , دیکھو تمہارا اور ماہین کا کوئی مقابلہ نہیں ہے سمجھی جو ایسے کہے رہی ہو … یار تم سے چھوٹی ہے وہ , میری چھوٹی بہن ہے یہ تو دیکھو … ریحان نے پیار سے سمجھانے والے انداز میں ریما سے کہا …

“کیا دیکھون , اب رشتے میں تو وہ بڑی ہے نہ میری بڑی بھابھی ہے , اتنی جینئیس بھی تو ہے آپ کی بہن … پھر کیسی معصوم , معصوم تو ہم جیسی لڑکیان ہیں جنہون نے یونی تک دیکھی نہیں تمہاری بہن نے یونیورسٹی میں پڑھائی کی اور اب تو جاب تک کررہی ہے … پھر معصوم کیسی … ریما نے صاف لفظوں میں کہا …

ویسے بھی ہمارے یہاں اج کل سب کی سوچ ہی ایسی ہے کہ جو لڑکیاں یونیورسٹی میں پڑھیں اور جاب کریں تو وہ تو تیز طرار ہوتی ہیں سب کے لیئے , معصوم تو صرف وہ عورتیں ہیں جنہوں نے یونیورسٹی کا منہ نہ دیکھا ہو اور جاب نہ کرتی ہوں … جبکہ میرا نظریہ کچھ اور ہے میں تو کہتی ہوں سب سے زیادہ مظلوم تو بیچاری جاب والے ہی عورتیں ہوتی ہیں کیونکہ ایک تو وہ جاب کرتی ہیں دوسرا اپنے گھر والوں کے طعنے بھی سنتی ہیں اپنی لاپرواہیوں کو لے کر پھر چاہے وہ شوہر کے حوالے سے ہو جائے بچوں کے حوالے سے ہو یا گھر کے حوالے سے ہو پر کیا کریں ہمارا سماج ہی ایسا ہے ….

“اچھا بابا , معاف کرو جو غلطی ہوگئی جو ایسا کہا … اخر کا ریحان نے ہی سمجھدار شوہروں والی طرز اپناتے ہوئے اپنی جان چھڑائی …

جاری ہے