Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 10

طاہر آفندی اور شائستہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے ماہین کی طرف دیکھا کیونکہ حیران تھے وہ اس وقت اس کا یہاں انا پر ماہین نے سنبھل کر کہا .. “پھپھو میں تو اللہ حافظ کہنے ائی تھی کہ پارلر جا رہی ہوں ان کے ساتھ …

“ٹھیک ہے بیٹا اللہ کی امان میں اور ساتھ ہی ساتھ اس نے سر جھکایا ان کے اور انکل کے سامنے دونوں نے اسے دعائیں دی اور وہ کمرے سے باہر نکل ائی اور کمرے سے باہر نکلنے کے بعد اس کا ایک ایک قدم بھاری ہو رہا تھا کیونکہ وہ ان دونوں کی ساری گفتگو سن چکی تھی …
ماہین کو انتہائی افسوس تھا کاش وہ نہ سنتی کچھ بھی , نہ سنتی تو کم سے کم یہ تو اس پر واضع نہ ہوتا کہ انکل اس کے ماں باپ کی عزت نہیں کرتے .. ان کے لہجے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کس طرح پھپھو کو ان کے رشتیداروں کے حوالے سے طعنے مارتے ہیں اور پھپھو کس طرح برداشت کرتی ہے یہ سب … “شاید مجھے بھی اسی طرح سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا … ماہیں نے کلس کر سوچا وہ باہر ائی تو دانش نے اسے دیکھ کر کہا “کیا ہوا , یہ تمہارے چہرے پر بارہ کیوں بج رہے ہیں , کیا سوچ رہی ہو … “کچھ نہیں … ماہین نے ضبط سے کہا … اس کے چہرے پر اداسی صاف دکھائی دے رہی تھی … شانی اپنے بھائی کے برابر ہی کھڑا تھا جس کی نظریں جھکی تھی ماہین کے سامنے شاید یہ نظریں کبھی اٹھنی ہی نہیں تھیں , وہ ایک نظر بھی نہ ڈالتا تھا اس پر کہ کہیں دل بغاوت پر نہ اترآئے … شانی نور سے بولا کہ “تم بھی پارلر سے میک اپ کروا لینا … نور کے چہرے پر خوشی کے تاثرات ائے ایسا شانی کے اس طرح کہنے پر اور اس کی طرف کچھ کیش بڑھایا پر … دانش نے اسی وقت اس کا ہاتھ تھام لیا “تمہیں دینے کی ضرورت نہیں ہے میں ان تینوں کی پیمنٹ کر دوں گا … دعا تم بھی پارلر سے تیار ہو جانا …. دانش نے نرم لہجے میں کہا اور دعا تو ویسے ہی خوش ہو گئی کہ وہ محنت سے بچ گئی کیونکہ اسے ویسے بھی میک اپ کرنے کا اتنا ہنر نہیں تھا اور دانش کے سامنے یوں بھی شانی کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا اس لیے وہ خاموشی سے اندر کی طرف بڑھ گیا اسی وقت …

ماہین اگلی سیٹ پر دانش کے ساتھ بیٹھی تھی اور وہ دونوں پیچھے بیٹھیں تھیں … سارا راستہ خاموشی سے کٹنے لگا کچھ دیر بعد دانش فون پر مصروف ہوگیا …

@@@@@@@@

ولیما رات کے وقت تھا , دلہے اور دلہن نے ساتھ انٹری کی جو شاندار انداز میں ہوئی دانش بلیک کمپلیٹ میں اور ماہین سلور گرے میکسی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی … آج ڈھونڈنے سے بھی کہیں دانش کے چہرے پر کوفت کا نام و نشان نہ تھا جو شادی والے دن واضع دکھائی دے رہا تھا , اس کے چہرے کا اطمنیان دیکھنے لائق تھا … ماہین اپنے اندر سارے طوفان دبائے بس خاموشی سے اسٹیج پر براجمان رہی … دانش نے بہت بڑے بینکیوٹ کی بکنگ کرائی تھی آج وہ سکون سے فوٹو شوٹ بھی کروارہا تھا جبکہ شادی والے دن والی بیزاریت اب تک ماہین کو بھولی نہ تھی , اس کا وہ انداز ماہین چاہ کر بھی بھول نہیں پارہی تھی ….

“ایسا کیا ہوا ہے جو دانش اتنے بدل گئے ہیں … ماہین نے سوچا … ایسا ہی کچھ خیال شائستہ بیگم کے دل میں آیا اس کے آج کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر …

“خدا خیر کرے پتا نہیں کیا سوچ کے بیٹھا ہے … میری اولاد ہے پر میری سمجھ سے باہر ہے … شائستہ بیگم نے سوچا تاسف سے , وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپارہی تھیں …

ماہین کو شدت سے انوشے کی کمی کھٹک رہی تھی جس کا کل سیمسٹر کا فرسٹ پیپر تھا اس لیئے اس نے سب اوکیشن میں سہیلی کے ساتھ رہی پر یہان نہ آسکی اپنی سہیلی پلس کزن کا ولیمہ نہ اٹینڈ کرسکی … باقی سب موجود تھے کچھ دیر پہلے سب فیملی میمبرس نے بھی فوٹو کھنچوائی دلہے دلہن کے ساتھ …

@@@@@@@@

“ماشاء اللہ دونوں ایک ساتھ پیارے لگ ہیں آپی … علیزے نے کہا سعدیہ کو , وہ دونوں ساتھ ہی بیٹھی تھیں …

“ہاں علیزے اب میں کچھ مطئمن ہوئی ہوں , دانش سنبھال لے گا ماہین کو , جانتی ہو علیزے , ماہین میرے سب بچون میں سب سے زیادہ حساس ہے , اتنی احساس ہے کہ اپنے احساسات بھی کسی کے لیے کہہ نہیں پاتی کیونکہ اسے ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی بے قدری نہ کر دے اس کے احساسات کی , اسی لیے مجھے ہر وقت اس کے لیے دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اس کی دل ازاری ہوگی وہ کسی سے کہہ بھی نہیں پائے گی وہ سب کچھ اپنے اندر ہی رکھ لے گی , سب سے زیادہ فرمانبردار بھی ہے میری بیٹی … سعدیہ بیگم نے کہا ان کی نظرین اپنی بیٹی پر جمی ہوئی تھیں …

“ہاں یہ تو ہے … باقی ہم بھی ہے یہان ہیں , ماموں کا گھر اس کا میکہ ہی ہے , ماہین آتی جاتی رہے گی , ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دیں گے اسے ہم اتنا پیار دیں گے … علیزے نے یہ لفظ دل سے کہے تھے , علیزے اور عمر کی خواہش تھی کہ اس ہیرے )ماہین( کو اپنے گھر اور آنگن میں لائین پر جو خدا کو منظور … سعدیہ نے یہ بات واضع لفظوں میں اپنے بھائی عمر کو بتادی تھی کہ وہ کبھی بھی اپنے شوہر کے خلاف نہیں جائیں گی , اور ان کے شوہر کی خواہش ہے کہ اپنے بچون کے رشتے اپنے خاندان میں کریں اور وہ ان سے متفق تھیں … علیزے اور عمر دل مسسوس کر رہ گئے پر اتنا دباؤ نہ ڈالا …

“سچی علیزے یہ کہے کر تم نے میرا دل خوش کردیا … واقعی میں کراچی اور لاہور کا فاصلہ بہت ہے , پر اب تم نے یہ کہے کر مجھے اور میرے دل کو راحت پہنچائی ہے … سعدیہ بیگم نے یہ لفظ ان کے ہاتھ تھام کر کہے … علیزے ان کی سادگی پر مسکرائیں …

@@@@@@@@

ولیمے کے بعد وہ گھر کی طرف روانہ ہوئے … وہ دانش کے ساتھ گھر آئی , سب لاؤنج میں بیٹھے تھے تو مجبورً اسے بھی بیٹھنا پڑا , ورنہ تھکن سے اتنا برا حال تھا کہ دل چاہا رہا تھا بسس سوجائے …

دانش نے اسے ہیلپ کی اور اپنے پاس بٹھایا … جس پر وہ شش وپنج میں اگئی , اس کا ہر انداز نیا تھا ہر دن , کونسا رنگ اصلی ہے ماہین کو سمجھنے میں دقت ہورہی تھی …

چائے کے ساتھ خوش گپیون کا دور تھا … ہلکی پھلکی باتیں بھی سب کررہے تھے اس دوران زبیر آفندی جو دانش کا ہم عمر ہی تھا اس کے بڑے مامون کا بیٹا لندن سے آیا تھا خاص اس کی شادی اٹینڈ کرنےآیا تھا , اس نے کہا …

“دانش ہنی مون پر کہاں جانے کا پروگرام ہے , لندن ہی آجاؤ یار مزا آئے گا ….

“ہنی مون , ابھی وقت کہاں یار , کچھ وقت کے بعد جائیں گے جہان ماہین کہے … دانش نے سھولت سے کہا … سب نے دونوں کی انڈرسٹینڈنگ کو تعریفی انداز میں تھے …

“چلو پھر کراچی ہی چلو ہم لوگون کے ساتھ تم اور ماہین کچھ دن کے لیئے , تم لوگون کی شادی کی دعوت کرنی ہے , سب نے … اس بہانے ہم بھی کرلیں … زبیر نے ایک اور آفر کی , ویسے بھی نئے شادی شدہ جوڑے کی سب نے دعوت کرنی تھی ….

“ہان دانش چلو یار … ریحان نے بھی کہا …

وہ تینوں ہم عمر تھے اس لیئے ان کی دوستی بھی گہری تھی اس لیئے ایک دوسرے کو مشورے بھی دیتے تھے …. دانش سوچ میں پڑگیا تو زبیر پھر سے بولا …

“یار میری نیکسٹ ویک واپسی ہے , اس سے پہلے کراچی آجا …

“یار ویکینڈ کو آئیں گے انشاء اللہ , میں اور ماہین … پھر کنفرم بتاؤں گا … دانش نے کہا … ماہین خاموش بیٹھی چائے کے سپ لے رہی تھی …

“جلدی آنے کی کرنا … زبیر نے کہا …

اگلے دن سب نے واپس جانا تھا کراچی , ماہین کا دل ابھی سے اداس ہورہا تھا سوچ کے پر کہیں نا کہیں مطئمن ہورہی تھی سوچ کر ویکینڈ کو کراچی جائیں گے …

اسی وقت شائستہ بیگم نے کہا “دانش اور ماہین تم دونوں آرام کرو جاکر , ان کی محفل جمی رہنی ہے رات بھر , تم دونوں تھک گئے ہوگئے …

“جی امی … دانش نے کہا اور اٹھنے کھڑا ہوا ماہین کو دیکھا جس کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا اپنی ساس کی بات سن کر , اس سے بولا …

“چلیں … دانش نے گھمبہیر لہجے میں کہا تھا …

“جی … ماہین اٹھنی لگی تو اسے دقت ہورہی تھی میکسی کی وجہ سے دانش نے اس کی مدد کی اور دونوں ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے …

سعدیہ بیگم اور نادر آفندی کے سارے خدشات دور ہونے لگے تھے , ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر یوں …

وہ دونوں ساتھ ہی کمرے میں آئے اور اتے ساتھ دانش نے کہا …

“صبح جلدی اٹھادینا سب کے ساتھ ناشتہ کریں گے , پھر ان کو ایئرپوٹ چھوڑنے بھی جانا ہے …

“جی , ٹھیک ہے … وہ صوفے پر بیٹھی تھی , زیور اتارتے ہوئے بولی …

“ہممممم … دانش نے کہا … دانش جلدی جاکر چینج کرکے ٹراؤزر شرٹ پہن کر آیا … موبائیل پر کسی کو کال کرنے لگا , کال کرتے وقت اس کے چہرے پر بےچینی دیکھنے لائق تھی … ماہین اب مرر کے سامنے کھڑی تھی میک اپ ریموو کررہی رہی تھی … دانش کے تاثرات واضع تھے جن میں انتہا کی بے چینی تھی …

جیسے ہی سامنے سے کال ریسوو ہوئی تو ایک دم وہ بولا …

“تھینکس گاڈ , یو آرر اسٹل ایویکنگ ….

اتنا کہتا جلدی سے بالکونی میں چلا گیا …

ماہین فریش ہوکر لیٹ گئی … دل میں شکر ادا کرتی کہ وہ مصروف ہے اور جلدی سونے لگی …

کچھ دیر بعد وہ واپس آیا … ماہین جو نیند کی وادیون میں اب اترنے لگی تھی سوتی بن گئی …

وہ اس کا نزدیک تر ہونا محسوس کرکے سانس روک گئی شاید وہ اس کی نیند کا ہی خیال کرلے …

“ماہی اتنا جلدی سوگئی وہ گھمبہیر لہجے میں کہتا اس کے کان کے پاس بولا …
اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اپنے قریب کرگیا , اس سے زیادہ وہ برداش نہیں کرپائی تو مجبورً وہ آنکھین کھول گئی …

“کل شام میری واپسی ہے اسلام آباد … ماہین نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا …

وہ کچھ نہ بولی وہ اس کے ہونٹوں پر جھک گیا , ماہین کو اپنے اندر اذیت سی محسوس ہوئی …

@@@@@@@@@@

“امی میری زندگی میں سکون کیوں نہیں … شانی کو دیکھیں میری طرف دیکھتا بھی نہیں … نور نے اپنی ماں سے کہا … جو اس وقت اس کے پاس بیٹھی تھیں …

“نور صبر کرو … شاہدہ بیگم نے کہا …

وہ دونوں اٹھ کر اگئیں تھیں محفل سے … اس وقت نور اور اس کی ماں , نور کے کمرے میں بیٹھی تھیں … نور کی بے چینی محسوس کرکے وہ اسے یہاں لے آئیں …

“کتنا کروں ایک سال سے کر ہی رہی ہوں … نور نے کلس کر کہا ….

“کچھ وقت دو اسے , شانی بہت اچھا ہے … یاد کرو تمہارے پاپا کے انتقال کے وقت وہ کس طرح ہر موقعے پر اگے رہا , ارمان تو چھوٹا تھا اسے کہاں سمجھ تھی کسی بات کی , سب کچھ طاہر بھائی اور شانی نے سنبھالا تھا , میری جان ایسے شوہر اور سسرال کی قدر کرو … سچ میں یہ لوگ نا ہوتے تو میرا اور ارمان کا کیا ہوتا …. شاہدہ بیگم کے ایک ایک لفظ میں ان کے لیے محبت تھی , بہن تو اپنی تھی پر بہنوئی اور داماد کا ساتھ دینا وہ کبھی نہیں بھول سکتیں تھیں …

یہی باتیں تھیں جو نور کو چپ کروا دیتی تھیں ورنہ کہاں نور میں اتنی برداشت تھی جو اتنا وقت شانی کی بے اعنتائی والا سلوک برداشت کرتی …

یہ بات نور جانتی بھی تھی اور مانتی بھی تھی کہ شانی سب کے لیے اچھا ہے ہر کوئی اس کی تعریفیں کرتا ہے پر وہ اس کے لیے ایک اچھا شوہر نہیں ثابت ہوا تھا نا نور کو لگتا تھا وہ کبھی اچھا شوہر بن پائے گا , اس کی خاموشی زہر لگتی تھی نور کو … وہ کچھ بھی نور کو نہ کہتا تھا جس طرح چاہتی نور کرتی رہتی تھی , رخصتی کے بعد بھی وہ میکے ہی زیادہ رہی تھی , دانش بھائی کی شادی سے بیس دن پہلے اس نے رخ کیا تھا سسرال کا ورنہ تو وہ زیادہ وقت ماں کے ساتھ رہی تھی …

نور کو اج تک افسوس تھا کہ اس کی شادی کی رات ہی اس کے بابا کا انتقال ہو گیا اور وہ رات ہمیشہ کے لیے نور اور شانی کے بیچ میں ادھوری ہی رہ گئی پھر اپنی مرضی سے نور نے اپنی ماں کی عدت تک میکے میں رہنا پریفر کیا تو شانی نے بھی اس پہ کوئی دباؤ نہیں ڈالا کہ وہ ا کر سسرال میں رہے … پھر شانی کو اپنی کمپنی کی طرف چھ مہینے کے لیئے جرمنی جانا پڑا تو نور اور زیادہ اداس ہوگئی … یوں شانی اور نور کے بیچ ایک خلا رہ گیا تھا جسے نہ نور پار کرپارہی تھی نا شانی نے کوئی کوشش کی ….

“وہ تمہارا ہے نور اور تمہارا ہی رہے گا … اس کی ماں نے اسے سمجھایا …

“کیا کہوں امی , وہ مجھے پاکر بھی نہیں ملا … وہ میرا نہیں ہے … نور نے سوچا پر ماں سے کہے نہ سکی ….

کچھ دیر بعد ناک ہوا تو شانی اندر آیا تو نور کی امی اٹھنے لگیں تو شانی نے کہا …

“خالہ امی , آپ ٹھر جائیں آج رات کیونکہ ارمان تیمور کے روم میں سوگیا ہے باتیں کرتے … اور مجھے مناسب نہیں لگتا کہ رات کے اس پہر اس کی نیند خراب کریں اور اسے جگا کر اپ لوگ گاڑی میں اس طرح جائیں گے یہ سیف نہیں کسی کے لیئے بھی … آپ یہیں سوجائیں , میں تیمور کے کمرے میں جارہا ہوں …. شانی نے مناسب الفاظ میں انہیں سمجھایا …

“ارے نہیں بیٹا … میں کہیں اور جگہ دیکھ لیتی ہوں , دعا کے کمرے میں … یہ ارمان بھی نہ کتنی دفعہ کہا ہے نیند ارہی ہو تو بتا دے تاکہ جلدی سے اپنے گھر چلے جائیں اور جہاں دیکھو وہاں پڑا سو جاتا ہے …وہ چڑ کر بولیں انہیں ارمان کی اسی لاپرواہی کا انداز زہر لگتا تھا …

“ارے خالہ امی , اپ کیوں خفا ہو رہی ہیں ارمان ابھی چھوٹا ہے اتنی سمجھ نہیں ہے اسے , کوئی بات نہیں , یہ بھی اپ کا اپنا گھر ہے میں بھی اپ کا بیٹا ہوں اس لیے اپ نور کے پاس سو جائیں میں ان لوگوں کے پاس جا کر سو جاتا ہوں … شانی پیار سے بولا …

شانی نے اپنی خالہ کے اگے سر جھکایا اور انہوں نے اسے پیار کر کے دعائیں دی یوں شانی کمرے سے نکل گیا اپنا نائیٹ ڈریس لے کر …

“دیکھ لو کتنا پیار , عزت مان دیتا ہے , مجھے , شانی اور پھر بھی تم اس کی شکایتیں کرتی رہتی ہو …. شاہدہ بیگم نے کہا …

نور چپ ہوگئی … پلٹ کر کچھ بھی اپنی ماں کو نہ کہہ سکی کیونکہ یہ ایک حقیقت تھی کہ وہ دل ہی دل میں اس بات کو مانتی تھی کہ شانی بہت اچھا انسان ہے اس نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی نور کو جس سے اس کی دل ازاری ہو اور ہاں کوئی ایسی بات بھی کبھی نہیں کہی تھی جس سے اس کا دل بھی بے انتہا خوش ہوا ہو وہ اس کی توجہ کے لیے ترس رہی تھی پر شانی اکثر خود میں الجھا رہتا تھا کچھ وقت ان کا اچھا نہیں تھا , کچھ حالات ایسے بن گئے کہ دوریاں ان کے بیچ رہنی تھی سو رہ گئیں …

@@@@@@@@@@

اگلا دن مصروف گزرا کیونکہ ناشتے کے بعد سب کی دن میں فلائیٹ تھی , اس لیئے وقت کیسے گزرا پتا ہی نہیں چلا … ماہین ایئرپوٹ پر سب کو روانہ ہوتے دیکھ کر آنسو ضبط کیئے کھڑی رہی …

واپسی میں وہ اداس تھی … اتے ساتھ ہی دانش نے اسے پیکنگ کا کہا تو وہ اس میں مصروف ہوگئی …

شام کے وقت جب دانش اہنے باپ کے کمرے میں آیا اللہ حافظ کہنے تو طاہر آفندی بولے

“اگلی بار ماہین کو اپنے ساتھ اسلام اباد لے جانا ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے وہ تمہارے ساتھ وہاں رہے … ان پر دانش تلملا کر رہ گیا اور بولا …

“سوری ڈیڈ مجھے اعتراض ہے , میں نہیں رکھ سکتا اسے وہاں …

کچھ سیکنڈ کی خاموشی کے بعد وہ بولا …

“میرے بیوی بچے ڈسٹرب ہوں گے وہاں …

“دانش پھر ماہین کا کیا سوچا ہے تم نے …. انہون نے ضبط سے پوچھا , وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا اس کا باپ کیا جاننا چاہتا ہے …

“خاندانی بہو ہے خاندان والوں کے ساتھ رہتی ہی اچھی لگے گی ڈیڈ …. آپ کو یہ اعزاز حاصل ہوگیا ہے آپ اپنے بڑے بیٹے کے لیئے خاندانی بیوی لائے ہیں …

“دانش تم بدتمیز ہوتے جارہے ہو … انہوں نے غصے سے کہا اس کی بات کاٹ کر , پر دانش بھی بغیر برا منائے اپنے بات مکمل کرتا ہوا بولا…

“محبتی بیوی کو تو ساتھ رکھا جاتا ہے کسی اعزاز کی طرح اور میرے لیئے یہ اعزاز کی بات ہے نایاب میرے ساتھ ہے اور رہے گی ڈیڈ …

“دانش مجھے کچھ نہیں سننا اگر تم نے زیادہ وقت رہنا ہی اسلام اباد میں تو پھر ماہین کو تمہارے ساتھ ہونا چاہیے اس لیے وہ تمہارے ساتھ ہی رہے گی , یہ اس کا حق ہے … وہ ٹھوس لہجے میں بولے …

“ٹھیک ہے اپ کی بات ویسے بھی میں ٹال نہیں سکتا نایاب تو جانتی ہی ہے ماہین کے بارے میں کوئی بات نہیں اپ کہتے ہیں تو ماہین کو بھی بتا دیتا ہوں نایاب کے بارے میں تاکہ میری تو ساری ٹینشن ہی دور ہو جائے … پھر آپ جانین اور ماہین کے مان باپ … وہ سکون سے کہتا اپنے مان باپ کو سلگا گیا ….

“پلیز طاہر صاحب , بیٹے سے ضد لگانا بند کر دیں آپ , ویسے بھی اپ کی ضد کی وجہ سے ماہین کی زندگی خراب ہو رہی ہے … شائستہ بیگم نے نرمی سے کہا …

“شاباش ہے آپ کو امی , اپ کو پھر بھی میری تکلیف سمجھ میں نہیں ارہی کہ میں کتنی اذیت میں ہوں …. پھر بھی سب کو ماہین کی پڑی ہے … دانش نے طنزیہ لہجے میں کہا …

“واقعی اولاد آزمائش ہے , جس نے کہا ہے , ٹھیک کہا ہے … تم نے کیا کیا ہے تمہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہے … تم نے ایسی تکلیف دی ہے ہمیں جو بیان سے باہر ہے … شائستہ بیگم نے دکھ اور افسوس سے کہا …

“دانش تم جاؤ , اس پر ہم بعد میں بات کریں گے … طاہر آفندی نے غصہ سے کہا اور بات کو فی الحال کے لیئے ٹال گئے تھے …

“اللہ حافظ … وہ دونوں کو کہتا کمرے سے نکل گیا ….

@@@@@@@@@@

دانش کو ذیشان نے کہا کہ وہ خود ایرپورٹ پہ چھوڑے گا پھر بھی دانش نے کبھی کسی کو تکلیف دینا مناسب سمجھا ہی نہیں اسی لیے وہ کیب بک کروا کر ایئرپورٹ چلا گیا اکیلا ہی سب سے ملنے کے بعد …

ماہین کو ایسا لگا اس کے سینے سے کوئی ان دیکھا بوجھ اتر گیا ہو جیسے …. کچھ دیر تو وہ خوش ہوتی رہی پر بعد میں اسے اپنی خوشی پر بھی افسوس ہونے لگا “کیسی بیوی ہوں میں , جسے شوہر کے نہ ہونے پر سکون اور طمانیت کا احساس ہورہا ہے , میں غلط ہوں , میں اچھی بیوی نہیں ہوں … پر میں ایسی کیوں ہوں , مجھے اس کی قربت سے اتنی نفرت کیوں ہوتی ہے … وہ خود سے سوال جواب کرکے دکھی ہورہی تھی ….

وہ خود کا تجزیہ کررہی تھی … “شاید یہ خاموشی ہی میری گھٹن بڑھارہی ہے … شاید جو کچھ ان کہی ہے اسے کہے دیں تو سارا مسئلا ہی حل ہوجائے … مجھے جو بات تکلیف دیتی ہے میں اب دانش سے کہے دوں گی …. تو پھر شاید میری کیفیت بدل جائے … وہ اپنے دل میں پکا ارادہ کرچکی تھی کہ اس بار وہ دانش سے ضرور کہے گی اپنے دل کی بات ….

@@@@@@

“کیسی ہو میری جان وہ اسے خود سے لگاتے ہوئے بولا … رات کو گیارہ بجے گھر میں داخل ہوا کیونکہ فلائیٹ ڈیلے ہوگئی ورنہ وہ جلدی پہنچ جاتا , نایاب خوبصورتی سے سج سنور کر اس کا انتظار کررہی تھی …

“میں ٹھیک ہوں … نایاب نے کہا وہ اسے خود سے قریب کرگیا اس کے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی , یہ اس کی روٹین تھی ہر روز واپسی میں اس کا یہی انداز ہوتا اور نایاب کے لیئے اس کا یہ محبت کا انداز پسندیدہ تھا ….

“اور بچے کیسے ہیں … اپنے دونوں بیٹوں کا پوچھا دانش نے …

“وہ بھی ٹھیک ہیں … وہ اسے خود سے لگاتا صوفے پر بیٹھا ….

“سوگئے دونوں … اس نے پوچھا …

“ہمممم , آپ جانتے ہیں میری عادت ہے ان کو جلدی سلانے کی …. نایاب نے کہا …

“جانتا ہوں … آئے مسڈ یو جان … دانش نے محبت کی ایک اور مہر ثبت کی اس کے ماتھے پر …

“گھر پر سب کیسے ہیں …

“ٹھیک ہیں … وہ ہمیشہ سب کی خیریت پوچھتی اور اس کی اس عادت سے دانش چڑ جاتا پر وہ عادت سے مجبور تھی اور دانش اس کے پیار کے اگے مجبور تھا …. ان تین دنوں میں ایک دفعہ بھی اس کے ماں باپ نے اس کے بچون تک کا پوچھا نہ تھا چلو نایاب خاندان کی نہ تھی اس کا نہ پوچھیں , نہ سہی , پر بچے تو ان کے اپنے بیٹے کے تھے نا , ایک دفعہ بھی ان کا نہ پوچھنا اسے دکھی کرگیا , اس بات کی تکلیف اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی …

“ماہین کیسی ہے … اب کے اسنے آہستہ سے پوچھا دانش نے دانت پیسے اور کہا …

“نایاب بسسس …

“پلیز دانش بتائیں نا …

“آپ کو یاد ہے نا , آپ کو اس کا بھی خیال کرنا ہے … نایاب نے کہا …

“پلیز نایاب … ایسی باتین نہ کرو … مجھے بےسکون نہ کرو اس کا نام لے کر … میرا موڈ خراب ہوجاتا ہے …

“وہ آپ کی پہلی بیوی ہے اور پہلی ذمیداری بھی …

“بسسس کرو یار , تم ہماری بات کرو , بتاؤ کتنا یاد کیا مجھے ان دنوں , اپنی اور ہماری بات کرو , میں کسی تیسرے وجود کا ذکر برداش نہیں کروں گا ہمارے بیچ …

وہ اسے خود میں بھینچ چکا تھا نایاب کی آنکھ سے آنسو بہے نکلے … نایاب کی یہی معصومیت اسے دیوانہ بنائے رکھتی تھی ….

جاری ہے …