Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 20

اللہ کا کرم ہوا کہ رات کو چار بجے ماہی کو ہوش اگیا اسٹاف نے اسی وقت ڈیوٹی ڈاکٹر کو بلایا اور انہوں نے تسلی دی کہ “صبح تک انشاءاللہ پیشنٹ ٹھیک ہو جائے گا …

دانش اور عمر ملک نے اللہ کا شکر ادا کیا ماہین کے ہوش میں انے پر … کچھ وقت کے بعد وہ غنودگی میں چلی گئی دوبارہ … جس پر ڈاکٹر نے تسلی دی اس کنڈیشن میں ایسا ہوتا ہے …

اتنے وقت میں ایک بار بھی دانش نے اپنے اولاد کے بارے میں نہیں پوچھا کیونکہ اس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ اگر وہ اس وقت اپنے بچے کی زیادہ ہی فکر دکھائے گا تو یقین عمر ملک اس چیز کو نوٹس کر لیں گے کہ اسے ماہین سے زیادہ بچے کی پرواہ ہے یہی سوچ کر دانش خود کے جذبات دبائے ہوئے تھا پر اب ماہین کو کوئی خطرہ نہ تھا تو اس نے جاکر ڈیوٹی ڈاکٹر سے پوچھا کہ “میری بیوی تو ٹھیک ہے اور میرا بچہ … اس کے لہجے میں بے پناہ فکر تھی …

“فلحال تو ایسا لگتا ہے اپ کا بچہ بھی ٹھیک ہے کیونکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس سے لگے کہ ان کا ابارشن ہوا یا کچھ ہو گیا ہے پر بہتر زیادہ اب صبح کو ہی پتہ چلے گا جب الٹراساؤنڈ کر سکیں گے تو پھر اپ کو بہتر بتا دیں گے کہ بے بی کی ہارٹ بیٹ ہے یا نہیں … اللہ سے اچھی امید رکھیں مسٹر دانش … سب ٹیک ہوگا …

اب وہ کافی حد تک مطئمن ہوا تھا …

@@@@@@@@@

اگلی صبح ناشتہ شائستہ بیگم لے آئیں شانی کے ساتھ … عمر نے اچھے مامون ہونے کا فرض نبھایا تھا … کچھ دیر میں سعدیہ بیگم , نادر آفندی ساتھ میں علی نے پہچنا تھا کراچی سے … ان کو لینے ذیشان ہی گیا تھا …

صبح گیارہ بجے وہ مکمل ہوش میں اگئی تھی کتنی دیر گم صم ہوکر ادھر ادھر دیکھتی رہی … جب حواس بحال ہوئے تو ذہن کے پردون پر سارے منظر آئے تو دل میں عجیب سا درد جاگا … سعدیہ بیگم نے اس کا ہاتھ تھام لیا …

“کیسی ہو میری جان …

“سہی ہوں … وہ بمشکل بولی ضبط سے … دل چاہا رہا تھا بےانتہا روئے پر اتنے لوگون کو دیکھ کر دل سہم گیا اسی وقت دانش بھی قریب آیا اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتا ہوا بولا …

“کیسی ہو ماہین … اب ٹھیک لگ رہا ہے …. دانش کے لہجے میں چاشنی گھلی تھی …

شائستہ بیگم بھی قریب ہوئیں فکر میں … یہ اگر ہاسپتال کا آئی پی روم نہ ہوتا تو یقینن اتنے لوگ ایک ساتھ اس کے روم میں نظر نہ اتے …

یکایک ذہن میں نور کے الفاظ گونجے …

” مرکیوں نہیں جاتی تم .. ہاں … یا تمہارا بچہ مرجائے , خدا کرے تم دونوں مرجاؤ …

دل میں ٹیس سی اٹھی ماہین کے …

“دانش میرا بےبی … اس کے آنسو بہے نکلے …

“ماہین بلکل ٹھیک ہے ہمارا بےبی … پریشان مت ہو … دانش نے نرمی سے کہا …

“سچ …. وہ حیران ہوئی …

“ہمممم بلکل سچ اب اسٹریس مت لو … دانش نے پیار سے کہا …

“چلو آرام کرو شاباش … دانش نے کہا …

سب اسے پیار کرتے اس کا حال احوال پوچھتے رہے …

کچھ دیر بعد نرس آئی اور بولی “اگر ہوسکے تو تھوڑا رش کم کریں پیشینٹ کو ریسٹ کرنے دیں …

نرس کے کہنے کی دیر تھی دانش نے سب کو روانہ کیا اب کمرے میں وہ خود ساتھ سعدیہ بیگم اور شائستہ بیگم تھیں …

“میں باہر جاتا ہوں اب … تم ریلیکس رہو ماہین , آرام کرو تم …
وہ فکرمندی سے بولا تھا … وہ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا تسلی امیز لہجے میں بولا اور جانے لگا وہ اس کا ہاتھ تھام گئی … وہ پلٹا تو ماہین نے کہا …

“مجھے آپ کے ساتھ اسلام آباد جانا ہے دانش , مجھے لے چلیں گے نا … اس کے معصومیت سے کہے انداز پر وہ دنگ رہ گیا , یہ تو اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ اس طرح کبھی ماہین کہے گی … شائستہ اور سعدیہ بیگم بھی حیران ہوئیں , کسی نے نہ سوچا تھا اس وقت تک ایسا کچھ ہوگا …

“تم آرام کرو پھر بات کریں گے اس بارے میں … دانش نے کہا اس کا چہرہ تھپ تھپاکر … پر دل ہی دل میں وہ پریشان ہوگیا … ذیشان جو ہمت کرکے ہوچھنے آرہا تھا ماہین کی طبیت کا وہیں سے پلٹ گیا اس کی بات سن کر … ماہین کی نظر اس پر نہ پڑی تھی …

وہ کس اذیت میں یہ کہے رہی تھی شانی کا ہی دل جانتا تھا یہ بات وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ ماہین کبھی اسلام آباد نہیں جانا چاہتی تھی جو نور نے کیا اس کے ساتھ اس کے بعد وہ خود کو سیف تصور نہیں کرتی اس گھر میں … کتنا بےاعتبار ہوگئی ہو تم … میں نہیں سوچنا چاہتا تمہارا نروس بریک ڈاؤن کیون ہوا , کس بات کا تم کو اتنا صدمہ لگا … اگر میں نے ایسا سوچا تو پھر یہ گناھ کے زمر میں آجائے گا …

وہ شکستہ قدمون سے چلتا جارہا تھا اور خود سے ہی بولے جارہا تھا … اس کا ایک ایک قدم بھاری ہورہا تھا … وہ تھک کر اعتراف کرہی گیا …

“ماہین جو درد تمہاری آنکھون میں ابھی دیکھا اس کا مطلب صاف ہے تمہارے حواس سلب نور کی بددعاؤں سے نہیں بلکہ اس اعتراف نے کیئے ہیں جس سے تم بےخبر تھی کہ میں اب تک تمہاری محبت میں گرفتار ہوں تو کیا تم بھی اسی راہ کی مسافر ہو , اس سے پہلے تمہارا بھرم ٹوٹے اور تمہاری محبت ظاہر ہوجائے … ایسا کچھ ہونے سے پہلے سب منظر سے ہٹ کر سب سے دور بھاگ جانا چاہتی ہو …

اس کا سارا وجود درد بن گیا تھا محبت کی نارسائی کا درد ایسا غم تھا جو نہ کسی سے وہ بیان کرسکتا تھا نہ کسی کو دکھا سکتا …

اس درد کی تحویل میں رہتے مجھ کو

نہ آہ کرنی ہے نہ کسی کو صدا دینی ہے

پتا ہی نہیں چلا وہ کب ایک مسجد کے سامنے آپہنچا اور پھر بغیر کچھ سوچے وہ پاؤن کو جوتے سے آزاد کرتا اندر چلا گیا وہ وضو میں تھا یا نہیں یہ سوچے بغیر وہ سیدھا جا کر سجدے میں گر گیا اور زاروطار رونے لگا ….

“میرے حصے کی سب خوشیاں اسے دے دے میرے رب … اس کے حصے کے غم مجھے دے دے یا اللہ اسے ہمیشہ دانش بھائی کے ساتھ بہت خوش رکھنا جیسا وہ چاہے سب ویسا ہو جائے …. جتنا وہ تجھ سے مانگے اس سے دگنا اسے دینا اسے ہمیشہ خوش رکھنا …. یہی میرے لیے بہت ہے … میں چاہ کر بھی اب تجھ سے اپنی محبت نہیں مانگ سکتا پر اس کے لیے محبت کے سائے میں تا عمر رہے ایسی خوشیاں مانگتا ہوں اور مانگتا رہوں گا … ساری دنیا جہاں کی خوشیاں ماہین کی جھولی میں ڈال دے میرے رب ….

وہ بے اواز روتا جانے کتنی دیر خدا کے حضور سجدہ زیر ہو کر صرف ماہین کی ہی خوشیاں مانگ رہا تھا کتنا وقت گزر گیا اسے احساس ہی نہیں تھا تبھی اسے اپنے بالوں میں کسی لمس کا احساس ہوا وہ جھٹ سے سجدے سے اٹھا اور اپنی انکھیں پونچھین ….

” اللہ تمہاری سب دعائیں پوری کرے امین … لو بیٹا پانی پی لو … مسجد کے امام سے رہا نہ گیا تو اس کے پاس پانی لے کر اگیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا …

“آمین … شانی نے کہا اور پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگا گیا ….

پھر امام صاحب اس سے ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگے وہ اپنے دل میں سکون سا اترتا محسوس کررہا تھا …
پھر ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو وہ بولے “جاؤ بیٹا وضو کرکے آؤ … آج میرے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور اپنے اندر کی سارا درد نکال دو اور اپنے رب کے سپرد کرو وہی تمہارے لیئے بھی آسانیان کرے گا اور اس کے لیے بھی جس کے لیے تم فکر مند ہو …

وہ اثبات میں سرہلا کر وضو کرنے چلا گیا … پھر اس نے امام صاحب کے ساتھ خشوع و خضوع سے نماز پڑھی … دل میں سکون سا اترا …

@@@@@@@@@@

ماہین دو دن ہسپتال رہی تیسرے دن ڈسچارج ہوکر گھر آگئی … نور کی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ ہسپتال ا کر اس کی طبیعت پوچھ سکے اس لیے جب وہ ڈسچارج ہو کر گھر ائی تو اس کے کمرے میں ائی پر جیسے ہی ماہین کی نظر اس پہ پڑی وہ اپنی انکھیں موند گئی نہ وہ اس کی شکل دیکھنا چاہتی تھی نہ ہی اس سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی ہاں پر انکھیں بند کرنے سے پہلے اس کی انکھوں میں شرمندگی دیکھ چکی تھی پر اب اس شرمندگی کا کیا کرتی وہ جس نے اس کا وجود ہی کرچی کرچی کر دیا …. وہ اپنا لہولہان وجود کسے دکھاتی … نور پلٹ کر خاموشی سے چلی گئی … سعدیہ بیگم اس کے بالون میں انگلیان چلا رہی تھی کیونکہ اس کی بے چینی اچھی طرح سمجھ رہی تھی …

“ماہین میری جان اپنی مان کو نہیں بتاؤگی کیا ہوا ہے جو تمہاری یہ حالت ہوئی ہے سب پریشان ہے پر کسی کی ہمت نہیں ہے تم سے پوچھنے کی مجھے تو بتا دو کیا ہوا ہے … ان کا لہجہ نرم دل کو چھوتا ہوا سا تھا وہ چاہ کر بھی نہیں بتاسکتی تھی اپنی نارسائی کا دکھ …

وہ ان کی گود میں منہ چھپاگئی اور سسکنے لگی …

“ماہین اس کنڈیشن میں روتے نہیں ہیں , بتاؤ کیا ہوا ہے …

“کچھ نہیں ہوا , میں شاید ڈرگئی تھی …. ماہین ان کے زیادہ انسسٹ کرنے پر بولی تھی تو بس اتنا ہی … کچھ دیر وہ اسے اس رشتے کی اونچ نیچ سمجھارہیں تھیں تو ماہین اس کی بات کاٹ کر بولی …

“امی اپ کہیں نہ دانش سے مجھے لے جائے یہاں سے … وہ پھر سے وہی بات کرگئی جو اس کے دل میں تھی … دانش جو ابھی آیا تھا روم میں جسے ماہین اور اس کی ماں دیکھ نہ سکیں تھیں … وہ اچھا خاصا زچ ہوا تھا اس کی بات سن کر کہیں نہ کہیں اس کا دماغ گھماکر رکھ دیا اس لڑکی نے … دل ہی دل میں اسے افسوس ہورہا تھا کاش میں اپنے رویئے میں نرمی نہ لاتا تو سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا … وہ واپس پلٹ گیا دل میں اک نیا عزم لیئے …

“ماہین کیا فضول سی ضد لگائی ہوئی ہے تم نے … اب کے سعدیہ بیگم نے چڑ کر کہا …

کل رات جب ہاسپٹل سے واپسی پر دانش سعدیہ بیگم اور نادر آفندی کو گھر چھوڑنے جا رہا تھا اس وقت گاڑی میں تھے تو دانش نے کچھ دیر خاموشی میں سفر کاٹا اور پھر ہمت کر کے بولا ….

“مامون میں چاہوں تو لے کر جا سکتا ہوں اسلام اباد ماہین کو پر ابھی جو اس کی حالت ہوئی ہے سوچتا ہوں اگر میں اپنی جاب پر مصروف رہا اور دوبارہ اس کی یہ حالت ہوئی اس بار تو میرے بچے کو کچھ نہیں ہوا اگلی مرتبہ کچھ ہوا تو … یہاں پر سب ہیں اب کوئی اسے تنہا اکیلا نہیں چھوڑ کر جائے گا وہاں پر تو میں اکیلا اس کے لیے کیا کر سکتا ہوں اب میں اپ کو کیا بتاؤں میری اپنی جاب کے اتنے مسئلے ہیں اب مجھے افریقہ بھیج رہے ہیں جلد ہی دس پندرہ دنوں میں , اپ خود بتائیں میں کیا کروں کس طرح اسے اسلام اباد لے جا سکتا ہوں … میں تھوڑی ہر وقت اسلام اباد میں بیٹھا رہتا ہوں کبھی کہاں ہوتا ہوں کبھی کہاں ہوتا ہوں , کبھی اچانک دبئی جانا پڑتا ہے اب اپ بتائیں میں کس طرح ماہین اور اپنے بچے کا خیال رکھ سکوں گا پلیز اپ سمجھانے کی کوشش کریں …. یہ چیزیں بچے کے بعد بھی سوچ سکتے ہیں فلحال تو کوئی رسک نہیں لینا چاہتا میں ….

دانش نرم لہجے میں اپنی کہے جارہا تھا … دانش کی نظریں تو راستے پر مرکوز تھی جبکہ نادر افندی اس کے چہرے کے تاثرات بغور دیکھ رہے تھے جس پر فکر تھی بے پناہ ماہین کو لے کر اپنے بچے کو لے کر … وہ اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہو گیا تاکہ ان کا جواب سن سکے … جو فکر نادر آفندی کو ماہین کے لیئے لگ رہی تھی دانش کے چہرے پر حقیقت اس سے کچھ الگ ہی تھی … جو وہ سمجھ ہی نہ سکے … دانش کے پاس لفظون کا خوبصورت جال تھا جس کا استعمال وہ بخوبی کرنا جانتا تھا ….

“تم ٹھیک کہے رہے ہو … ہم خود ہی ماہین کو سمجھا دیں گے تم فکر نہ کرو یہ وقت ٹھیک نہیں ہے کہ وہ اسلام اباد میں اکیلی رہے …. یہ لفظ نادر آفندی نے کہے تھے پر سعدیہ بیگم بخوبی سمجھ رہی تھیں یہ کام ان کو ہی کرنا پڑے گا …

“اور ایک بات مامی میں چاہتا ہوں کہ اپ خود ماہین سے پوچھیں کہ اخر اس دن کیا ہوا تھا جو یہ حالت ہوئی اس کی … اس کی چپ مجھے پریشان کر رہی ہے اگر اسے بتانا ہوتا تو ڈائریکٹ مجھے بتا دیتی جس طرح کا وہ رویہ رکھے ہوئے اس سے لگتا ہے وہ مجھے نہیں بتانا چاہتی اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ اپ ہی اس سے پوچھیں کہ ایسا کیا ہوا تھا اس دن گھر میں ….

دانش کی عقلمندی اور دانائی سے کافی متاثر ہوئے تھے نادر افندی اور سعدیہ افندی اسی لیے انہوں نے اس کے فیصلے کو سراہا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تسلی دی کہ وہ کوشش کریں گے کہ ماہین سے پوچھ سکیں کہ اخر ہوا کیا تھا …

اس لیئے اس وقت وہ اپنی بیٹی کے پاس ہوکر بیٹی کو سمجھنے کے بجائے دانش کا ہی ساتھ دے رہے تھے پھر سعدیہ نے مختصر لفظوں میں اسے سمجھایا کہ اس کنڈیشن میں اس کا وہان رہنا کیسے ٹھیک نہیں اور اس فیصلے کے کیا نقصان ہوسکتے ہیں …

ماہین کو آخر کار اس کی بات سے اس کی ماں ہی ہٹاسکیں تھیں … شائستہ بیگم اور طاہر آفندی نے شکر کا سانس بھرا یہ سوچ کر کہ ان کے بغیر کہے ماہین اپنی ضد سے ہٹ گئی , ان کا نام بھی خراب نہ ہوا …. یہ بات دانش نے ہی اپنے ماں باپ سے کہی تھی وہ اس معاملے میں نہ بولیں وہ خود ہی بات سنبھال لے گا … واقعی دانش نے جو کہا وہ کردیا …

ان دنوں شائستہ بیگم اور دعا نے اس کا بےانتہا خیال رکھا ہوا تھا …

@@@@@@@@

اگلے دن عمر آیا تھا بیوی بچون سمیت ماہین کی طبیت پوچھنے … پورے پانچ دن گزر چکے تھے اس بات کو پر عمر کو ایسا لگتا جیسے ابھی کی بات ہو وہ ماہین کا گھٹ گھٹ کے رونا علیزے اور عمر نہ بھولے تھے … شاید کوئی اور اتنا ریکشن اس لیئے نہیں دے رہا کیونکہ کسی نے بھی وہ نہ دیکھا تھا جو عمر اور علیزے نے دیکھا تھا … عمر کو ان کی سعدیہ نے اچھی طرح تسلی دی تھی کہ فلر نہ کرو بس اکیلے خالی گھر میں ڈرگئی تھی اوپر سے نور بھی میکے چلی گئی تھی تو ماہین کا ڈرجانا ممکن ہے …

نور نے میکے جانے والا جھوٹ شائستہ بیگم کے سوالوں کی وجہ سے بنایا تھا جس کی تردید نا ماہین نے کی نا شانی نے … چوکیدار سے تو کسی نے پوچھنے کی زحمت نہ کی تھی کیونکہ معاملہ حساس تھا …

پھر تنہائی میں عمر نے پوچھا تب بھی ماہین ٹال گئی تھی … پھر عمر نے بھی زیادہ انسسٹ نہ کیا …

جاتے ہوئے عمر نے اس کے ہاتھ پر ایک پیپر رکھا …

“یہ کیا ہے مامون … ماہین نے حیرت سے پوچھا …

“یہ تمہاری پندرہ دن کی میڈیکل لیوو جو تمہارے آفیس سے منظور کی جاچکی ہے اور ساتھ ورک فرام ہوم از آلسو الاؤڈ اور یہ رہا تمہارا موبائیل جو اس دن سے میرے پاس رہ گیا تھا ….

ماہین کے چہرے پر افسوس بھرے تاثرات تھے …

“مامون یہ آپ کی سورس پر ہوا ہے , مطلب آپ کو پتا چل گیا کہ میں عیان انکل کی آفیس میں …. ماہین نے افسوس سے کہا ….

“مطلب تم جانتی تھی عیان کو … کتنا گہرا تعلق ہے میرا اس سے , یہ بھی … عمر نے شاک لہجے میں کہا …

“جی , میں عیان انکل کو پہلے دن ہی پہچان گئی تھی … آپ کے گھر عیان انکل کی پکس لگی ہوئی ہیں, آپ کے اور علیزے مامی کے ساتھ … ماہین نے اعتراف کیا …

“عیان بلکل تمہارا مامون ہے , جیسے میں ہوں … ہم دونوں ایک ہیں الگ الگ نہیں سمجھی … عمر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا …

“جی مامون … وہ سر جھکا کر بولی … پھر کچھ دیر بیٹھ کر وہ لوگ چلے گئے …

@@@@@@@@

جاب میں ہر چیز میں ماہین کے لیئے آسانی ہوگئی تھی … پر ایک چیز جو اس کے لیئے باعث تکلیف تھی وہ تھا دانش کا رویہ جو بلکل پہلے دن جیسا ہوگیا تھا … اب نا وہ نرمی رہی تھی نا بار بار اس کا احوال پوچھتا … اب کال بھی نہیں کرتا تھا … ماہین کو اس کا رویہ دکھی کرنے لگا تھا تین ہفتوں میں ایک بار آتا اور تین دن رہ کر چلا جاتا … ماہین تتکتی رہتی نا بات کرتا اور نہ کچھ کہتا ….

اس کا ساتوان مہینہ شروع ہوچکا تھا … اس بار آیا تو ماہین نے کہا …

“دانش کیا ہوا ہے , آپ ایسے کیوں ہوگئے ہیں … وہ آنکھون میں نمی لیئے پوچھ رہی تھی ….

جاری ہے ….