Rate this Novel
Episode 25
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 25
زندگی اپنی رفتار سے شروع ہو چکی تھی ماہین نے افس کا کام ان لائن کرنا شروع کر دیا تھا … ابھی اسے یہان رہتے پانچوان دن تھا جب طاہر آفندی اور شائستہ بیگم آئے تھے … بحرحال نادر آفندی اور سعدیہ بیگم کو بیٹھنا پڑا ان کے روبرو جبکہ ریحان نے ملنا گوارہ نہ کیا اور ساتھ ہی ریما سے کہا “اگر تم یا بچے ان سے ملے تو پھر اس گھر میں تم لوگون کی جگہ نہیں , ساتھ چلے بھی جانا … اس کا انداز دو ٹوک تھا …
ریما خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی بچوں کو لے کر بغیر اپنے مان باپ سے ملے …
طاہر آفندی کلس کر رہ گئے ان کو امید نہ تھی ریحان اس قدر بدتمیزی پر اتر آئے گا …
بحرحال کسی طرح ضبط کرتے ہوئے طاہر افندی نے کہا “ہم بے انتہا شرمندہ ہیں جو کچھ دانش نے کیا ہے … ہمیں سچ میں علم ہوتا تو پہلے ہی اپ لوگوں کو بتا دیتے ہمیں خود کچھ دن پہلے ہی پتہ چلا ہے اور جو ماہین کی حالت تھی اس میں ہم اسے کس طرح بتاتے یہ سب , اپ خود سوچیں جس مرحلے سے وہ گزر رہی تھی اس مرحلے میں یہ سب بتانا اسے اور بچے دونوں کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا تھا یہی سوچ کر ہم نے خاموشی اختیار کی … ہمیں خود احساس ہے جو ہوا غلط ہوا … اس مسئلے کا کوئی حل ہو بتادیں … ان کے لہجے میں بسی شدید بےبسی محسوس کرکے نادر آفندی کے تنے ہوئے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے اور وہ کچھ سوچ کر بولے …
“اس کا حل وہی ہوگا جو ماہین نے سوچا ہے کیونکہ ہم نے نہیں ماہین کو زندگی گزارنی ہے دانش کے ساتھ اگر وہ مطئمن نہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں … نادر آفندی نے مناسب لفظون میں کہا وہ اپنی بیٹی کو کمزور نہیں دکھانا چاہتے تھے …
“نادر اس طرح بیٹی کو آزادی دوگے فیصلے کی اتنی سمجھ ہے اسے … طاہر آفندی نے حیرت سے کہا …
“بہت سمجھدار ہی تھی اس لیئے دانش کا ہر قسم کا رویہ برداش کررہی تھی , مجھے نہیں لگتا وہ اس قسم کا سمجھوتہ کرلے گی , ماہین بہت حساس ہے … نادر آفندی نے کہا …
“نادر مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی … طاہر آفندی حیران تھے , جو کتنی آسانی سے بیٹی کا گھر خراب کرنے کا سوچے ہوئے ہیں …
“مجھے بھی اپنوں سے یہ امید نہ تھی جو میرے اپنوں نے اپنے بن کر میری بیٹی کے ساتھ کیا ہے … نادر آفندی نے کہا …
“نادر تم خود سوچو ہم کیا کریں ہم سب بیٹی والے ہیں , کسی اور کی بھی بیٹی ہے وہ لڑکی , ایسے کیسے دانش سے کہیں اسے طلاق دے دے وہ بھی اس کے دو بیٹوں کی ماں ہے … طاہر آفندی نے جذباتی طور پر خود کو کمزور ظاہر کرکے نادر کو بھی کمزور کرنا چاہا …
“ہم نے ابھی تک ایسی کوئی بات کہی بھی نہیں طاہر بھائی , نا یہ بات ہم دونوں کے دل میں آئی اور نا کبھی ماہین ایسا چاہے گی … میں اپنی بیٹی کو جانتا ہوں وہ خود تکلیف برداش کرلے گی کسی کو ناحق تکلیف دینے کا سوچے گی بھی نہیں … ہماری ایسی کوئی ڈیمانڈ کبھی ہوگی بھی نہیں … نادر آفندی نے سھولت سے کہے کر اپنی بات واضع کی … حقیقتً ان کے دل میں ایسی کوئی بات کسی لمحے آئی بھی نہیں تھی …
“اگر کبھی ڈائیورس کی ڈیمانڈ ہوئی تو وہ میری طرف سے ہوگی طاہر انکل … ماہین نے سکون سے کہا اچانک آکر … جس پر شائستہ بیگم اور طاہر آفندی ہکا بکا ہوئے اس کے اس نڈر انداز پر …
“بیٹا تم چپ کر جاؤ , یہ ہم بڑوں کی بات ہے … ہم آپس میں فیصلہ کرلیں گے … طاہر آفندی نے ٹوکا جو ان کی طبیت کا حصہ تھا …
“معاف کیجیئے انکل بات میری ہورہی ہے تو فیصلہ میرا ہوگا … ماہین نے دو ٹوک کہا …
“ماہین … سعدیہ آفندی نے اس کے ہاتھ پر دباؤ دے کر آنکھ سے تنبہی کی صرف اس کا نام ہی لیا اور کچھ نہ کہا …
“ماہین تم اندر جاؤ بیٹا … آرام کرو تھک کر آئی ہو … نادر آفندی نے پیار سے کہا تو وہ اندر چلی گئی …
“بحرحال شاید یہ موقعہ سہی نہیں ہے نادر … کچھ وقت بعد بات کریں گے … چلتے ہیں ہم … طاہر آفندی اٹھ کھڑے ہوئے …
“چلو شائستہ سوچا تھا تمہارا بھائی کچھ تمہارا ہی لحاظ کرے گا پر دیکھ لیا تمہارے بھائی کو اب یاد ہی نہیں ماں جیسی بہن … طاہر آفندی نے طنزیہ کہا اور شائستہ کو چلنے کو کہا ….
اتنی دیر میں واقعی دونوں بھائی بہن ملے بھی نہ تھے … پر طاہر آفندی کی بات پر نادر آفندی کو تکلیف ضرور ہوئی تھی اور اپنی بہن کی سر پر ہاتھ رکھا اور بولے ” واقعی اولاد بڑی انمول چیز ہوتی ہے اس کے اگے باقی سارے رشتے پھیکے پڑ جاتے ہیں … بہرحال ریما سے مل کر جانا چاہیں تو ضرور مل کر جائیں …
“نہیں ہم ریما سے نہیں ملیں گے کیونکہ ہماری بیٹی اپنے شوہر اور سسرال کی فرمانبردار ہوکر رہنا چاہتی ہے تو ہمیں فخر ہے اپنی بیٹی پر … طاہر آفندی اتنا کہے کر شائستہ بیگم کا ہاتھ تھام کر باہر کی طرف روانہ ہوئے … نادر آفندی اور سعدیہ بیگم ان کو جاتا دیکھتے رہ گئے … طاہر آفندی اپنے طریقے ان پر کئی وار کر چکے تھے …
@@@@@@@@
حالات عجیب رخ اختیار کرچکے تھے … نادر آفندی کو ان کے بڑے بھائی مدثر آفندی نے اچھا خاصا لتاڑا کہ ماہین نے کیوں اس طرح بدتمیزی سے بات کی طاہر آفندی سے … جس پر نادر آفندی نے ان کو سمجھایا اس وقت ماہین پریشان ہے اس لیئے اس طرح بات کرگئی … مدثر آفندی نے افسوس کا اظہار کیا کس طرح سے ریحان نے بدتمیزی کی پھر ریما کو ملنے نہ دیا … نادر آفندی بڑے بھائی کی سنتے رہے کیونکہ وہ ہمیشہ سے بڑے بن کر اکثر فیصلے لیا کرتے تھے …
“دیکھو نادر , اس طرح نہ کرو , طلاق مسئلے کا حل نہیں ہے , ماہین کو سمجھانے کی کوشش کرو , اکیلی ہوتی پھر بھی سوچتے , اب یہاں اولاد کا بھی معاملا ہے … خاندان بکھر جائے گا … ریحان کی حالت دیکھو فضول میں ریما کو ٹارچر کررہا ہے … ریحان کو اس جہالت سے روکو … مدثر افندی نے کہا …
” بھائی اپ کی ساری باتیں میں نے سن تو لیں پر ہر بات مان بھی نہیں سکتا, میں اپنی ذات پر اپ کے سارے حق برداشت کر لوں گا پر میری بیٹی کی خوشی جس بات میں ہوگی میں وہی کروں گا اور جہاں تک بات ریحان کے رویئے کی بات ہے تو حقیقتً میں خود عاجز اگیا ہوں اسے سمجھا سمجھا کر … نادر صاحب کے لہجے میں واضح کڑواہٹ محسوس کی جا سکتی تھی ریحان کی بات کرتے ہوئے … ریحان کی جذباتی طبیعت سے وہ ہمیشہ ہی پریشان رہتے تھے …
“نادر سمجھنے کی کوشش کرو , پورا خاندان بکھر جائے گا … سمجھنے کی کوشش کرو … مدثر نے کہا اب کے نرمی سے کیونکہ وہ سمجھ چکے تھے کہ ان کے چھوٹا بھائی اب اتنا بھی چھوٹا نہیں ہے کہ وہ اس پر اس طرح اپنے فیصلے لاگو کر سکیں … مدثر آفندی سخت پریشانی کے عالم میں بولے تھے کیونکہ وہ اپنے بھائی بہن دونوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے تھے پہلے ہی دونوں بہنوں میں دراڑ پڑ چکی تھی شانی اور نور کا رشتہ جس طرح ٹوٹا تھا … پر ایک بات واضح تھی کہ شاہدہ کی خاموشی اور پھر نور کا کسی بات پر کچھ نہ کہنا یہ واضح کرنے کے لیے کافی تھا کہ بہنیں پھر بھی جڑ سکتی ہیں مگر جس طرح دانش اور ماہین کا رشتہ اور ریحان اور ریما کا رشتہ چل رہا ہے اس سے صاف ظاہر تھا ان دونوں گھروں میں بڑے مسئلے ہو سکتے ہیں …
“بھائی , میں ماہین کے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا … میرے اوپر میری بیٹی بوجھ نہیں ہے جو اتنا جلد بازی میں اس کے لیے میں کوئی فیصلہ لے سکوں فلحال میں چاہتا ہوں سکون سے اس کی ڈلیوری ہو جائے اور اس کے بعد جو بھی میری بیٹی فیصلہ کرے گی وہ میں قبول کروں گا اور اس کا ساتھ بھی دوں گا … نادر آفندی کافی سوچ سمجھ کر لفظ بول رہے تھے کیونکہ بڑی بہن کے بعد اب بڑے بھائی کو ناراض کرنے کی ان کے اندر ہمت نہ تھی …
” ٹھیک ہے یہ معاملہ ماہین کی ڈیلیوری تک رہنے دیتے ہیں پر ایک بات کہوں دانش ملنا چاہتا ہے ایک بار ماہین سے اگر ہو سکے تو اجازت دے دو , دیکھو کچھ بھی صحیح ابھی تک وہ میاں بیوی تو ہیں بات کرنے میں کیا مسئلہ ہے اگر ایک شوہر اپنی بیوی سے بات کرنا چاہتا ہے تھوڑا ماہین کو کہو کہ سن لے اس کی بات … اب کی مدثرافندی مفاہمت سے بات کر رہے تھے اور ان کا انداز عاجزی والا تھا کہ کسی طرح نادر افندی اپنی بیٹی کو سمجھا لے کہ وہ اپنے شوہر سے ایک دفعہ بات تو کر لے …
“ٹھیک ہے میں کہتا ہوں ماہین سے … پر آپ دانش سے کہیں کسی طرح کا رعب ڈالنے کی کوشش نہ کرے ماہین پر ورنہ ریحان کی ذمیداری بھی مجھ پر نہیں … نادر آفندی نے واضع لفظوں میں کہا …
“ٹھیک ہے … نادر نے کہا … سوگوار سی طبیت رہنے لگی تھی ان دنوں ان کی , حالات ہی ایسے ہوگئے تھے جتنا سوچتے اتنا لگتا کہ کہیں ماہین کے ساتھ زیادتی نہ ہوجائے …
@@@@@@@@@
“ماہین ایک بار دانش بھائی کی سن تو لیتی ہے وہ کہنا کیا چاہتے ہیں … ماہین سے ملنے انوشے آئی تھی جس نے اسے سمجھانے کی کوشش کی …
“مجھے یہ تم کہہ رہی ہو یقین نہیں اتا انوشے … ماہین حیران تھی اس کی سہیلی اس طرح کہے رہی ہے … ماہین جو ہر بات دو ٹوک کہہ سکتی تھی پھر بھی جانے کیوں انوشے کو کہے نہ سکی کہ اپنے کام سے کام رکھو میرے معاملوں میں نہ پڑو شاید وہ اس کی اتنی اچھی سہیلی تھی ہمیشہ اتنی پرواہ کرتی تھی اج اس طرح کہے کر اسے تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی اسی لیے اس کی بات ضبط سے برداشت کر گئی …
“تم بہت سمجھدار ہو پھر اس طرح تم ا گئی اس کنڈیشن میں , بغیر کسی کی سنے سمجھ میں نہیں ا رہا تم تو وہ ماہین ہو ہی نہیں جو ہر بات پہ غور و فکر کرتی تھی … انوشے کی بات بغور سن رہی تھی اور اچھی طرح سمجھ رہی تھی یہ سب وہ اس طرح کیوں کہے رہی تھی کیونکہ طاہر اور شائستہ انہی کے گھر ٹھرے ہوئے تھے یقینن اسے ہی وہان ڈسکس کیا جاتا تھا تب ہی انوشے کا یہ انداز تھا آج …
“یاد ہے جب میرے شوہر نے میرے ساتھ اتنی زیادتی کی تب بھی تم نے یہی کہا تھا میں وہ ماہین ہو ہی نہیں سکتی , جو تم لوگوں کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی تھی … کون ہے ماہین , کیا ہے اس کا وجود وہ جو کبھی ذرا سا کمپرومائز نہیں کرتی تھی اپنی پوری شادی شدہ ازدواجی زندگی میں صرف کمپرومائز ہی کیا سب سمجھ کر بھی بے سمجھی کا مظاہرہ کیا سب نے مجھے بے وقوف سمجھ کر بہت فائدہ اٹھایا پھر میں پھر بھی مطمئن تھی کیونکہ میں نے خود کے لیے وہی راستہ چنا تھا اس لیے نہیں چنا تھا مجھے کہ بٹا ہوا شوہر میرا نصیب بنے نہیں ہے یہ منظور مجھے یہ ستم ظرفی قسمت کی نہیں ہے منظور … یہ میرا حق ہے … میں روز روز اس طرح کی صفائی دینا کسی کو پسند نہیں کرتی یاد رکھنا یہ تم میری بیسٹ فرینڈ تھی جو مجھ سے کبھی محبت اس قدر کرتی تھی کہ سب سے لڑ پڑتی تھی اسی لیے تمہیں صفائی دے رہی ہوں ورنہ میں نے سوچ لیا اج کے بعد کبھی کسی کو صفائی نہیں دوں گی اور وہ بھی خاص کر میرے خاندان کے لوگوں کو کیونکہ مجھے لگا اج میری سہیلی مجھ سے ملنے آئی ہے پر نہیں میں غلط تھی میری سہیلی نہیں ملنے ائی بلکہ میرے خاندان کی میری کزن وہ کزن جو میری اور میرے شوہر ہم دونوں کی کزن ہے وہ آئی ہے اور تھینک یو انوشے اپنا یہ رنگ بھی دکھانے کے لیے … ماہین کے آخری لفظوں نے اسے شرمندگی کی گہرائیوں میں گرا دیا تھا ….
“ماہ ی ن… انوشے کو سہی معنی میں لاجواب کردیا تھا ماہین نے , وہ اس قدر شرمندہ ہوئی کہ اس کی زبان ہی لڑکھڑا گئی اس کا نام لیتے ہوئے پھر کچھ سنبھل کر وہ بولی “مجھے معاف کر دو ماہین واقعی میں نے جذبات میں ا کر بہت کچھ کہہ دیا پر تمہاری تکلیفیں تم بہتر سمجھ سکتی ہو مجھے اس طرح تمہیں کچھ بھی کہنے کا کوئی حق نہیں ہے … ہو سکے تو مجھے معاف کر دو میری پہلی اور اخری غلطی سمجھ کر میں تمہاری کزن بعد میں ہوں سہیلی پہلے ہوں پلیز ماہین آئی ایم سوری … آخری لفظوں پر وہ اس کے گلے لگ گئی جس پر ماہین نے اسے کھلے دل سے معاف کردیا ….
انوشے نے دل ہی دل میں توبہ کرلی کسی کے بھی معاملے میں بولنے سے کیونکہ اسے اچھی طرح سمجھ اگیا کہ یہ معاملہ جتنا اسان لگتا ہے سلجھانا اتنا ہے بھی نہیں ماہین کس قدر میچور ہو گئی ہے اس چیز کا اندازہ انوشے کو اچھے طریقے ہو گیا تھا … ماہین کی سب سے اچھی بات جو انوشے کو لگی وہ تھی اس کا اپنے معاملے میں وثن کا کلیئر ہونا …
@@@@@@@@
آج دانش اس سے ملنے آیا تھا ایک نظر ماہین نے اس پر ڈالنا گوارہ نہ کی … وہ اگر ملنے پر راضی ہوئی تو صرف اپنے بابا کے کہنے پر … وہ اس وقت دونوں ماہین کے روم میں تھے موجود …
“ماہین کیا اب تم سلام کی روادار نہیں … دانش نے اس پر پہلا طنز ہی کیا آتے ہوئے …
“جو لوگ زیادتی کرتے ہیں ان پر سلامتی بھیجنا بھی تکلیف دہ ہوتا ہے … ماہین نے بغیر برا منائے اس کے طنز کا نرمی سے جواب دیا …
“ماہین میرا خیال ہے تم اور ری ایکٹ کر رہی ہو … دیکھو مجھ سے جو گلے شکوے ہیں ہم مل بیٹھ کر سورٹ اؤٹ کر سکتے ہیں …دانش نے نرمی سے کہا اب کے …
“اور اگر میں کہوں کہ میں کوئی بھی معاملہ اب اپ سے سورٹ اؤٹ نہیں کرنا چاہتی تو کیونکہ ایسا کچھ بھی مجھے ہمارے بیچ میں فیل نہیں ہوتا جس کے لیے ہمیں مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے … ماہین ازلی پرسکون انداز میں بولی تھی …
” دیکھو ماہین یہاں پر ہم دو لوگوں کی زندگی کا نہیں بہت سے لوگوں کی زندگی کا سوال ہے جس میں تمہارا بھائی میری بہن ہمارے ماں باپ اور سب سے بڑھ کر ہماری اولاد کا معاملہ ہے تو بہتر نہیں ہے کہ کچھ مفاہمت سے تم کام لو تم … دانش نے سمجھایا اسے …
“دانش … میری اولاد کوئی بوجھ نہیں میرے اوپر جو میں اس کا سوچ کر اپ کے سارے رویے بھول جاؤں بہتر یہ ہے کہ اپ اس بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کریں اور ہو سکے تو چلے جائیں یہاں سے … اب کے ماہین نے اس پر واضع کردیا جن رشتوں کو وہ اس لی کمزوری سمجھ رہا ہے وہ اس کی کمزوری بلکل نہیں …
“ماہین دنیا میں کتنی عورتین برداش کرتیں ہیں یہ سب اپنے گھر خاندان رشتوں کو بچانے کے لیے تو کیا تم اتنی سی قربانی نہیں دے سکتی جبکہ عورتیں ہوتی ہیں اتنی مضبوط ہیں ہر قسم کی قربانی دے سکتی ہیں… یقین کرو تمہاری اہمیت پہلی ہوگی ہمیشہ اور کوئی بھی معاملہ ہو تو اس کے باز پرس کرنے کا پورا حق رکھتی ہو … میں تمہارے سارے حقوق پورے کروں گا تم صرف میرا ساتھ دو … دانش نے اپنے طریقے بہت نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر سمجھانے کی کوشش کی پر ماہین اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال کر بولی …
“تم بتاؤ تم کو کیسا لگتا اگر میں دل میں کسی کو رکھ کے تمہاری بیوی بن کے رہوں , نہیں ہوتا نہ برداش تو پھر سوچو میں کیوں برداش کروں بٹا ہوا شخص … ماہین نے تیز لہجے میں کہا …
وہ تمسخر ہنسی ہنسا ….
“میں نے بھی برداش کیا ہے تم اور شانی ایک دوسرے کو چاہتے رہے , بیوی بن کر میری رہی تم اور دل میں میرا بھائی … اب کے دانش بھی تیز لہجے میں بولا تھا …
“دانش …. وہ چیخی تھی …
“ہمممم کیا دانش میں بھی برداش کرگیا اپنے بچے کی وجہ سے جب نور نےمجھے بتایا حقیقت کا , وہ تو چاہتی تھی تم کو اسلام آباد لے جاؤن پر میں نے اسے تو یہ کہے کر چپ کروادیا کہ مجھے اپنے بھائی پر پورا بھروسہ ہے کبھی بدنیتی نہیں کرے گا اپنے رشتون میں …
وہ حیرت سے اسے سن رہی تھی جو اس پر اس طرح الزام لگا رہا تھا …. اور لمحے بھر کو چپ ہوکر پھر بولا
“سوال تو میرے دل میں ہے کہ شانی کی محبت کا سن کر جس لڑکی کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا , اسے شوہر کی دوسری شادی پر کچھ بھی نہیں ہوا , کیوں … سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے … مجھے تو دو کوڑی کا کردیا تم نے ماہین افسوس … اس نے جس شدت سے کہا اتنی ہی شدت سے وہ چیخی تھی …
“دانش بسسس … پھر بھی تند لہجے میں بولی …. “تم واقعی گھٹیا انسان ہو … ایک لمحہ بھی نہیں رہنا مجھے تم جیسے موقع پرست انسان کے ساتھ … اس کے لہجے میں شدید افسوس تھا اور دکھ تھا … جاتے جاتے بھی نور اپنا کام کرکے گئی تھی … شانی کی محبت اور اتنی ذلت ایک ساتھ , نور اس کی بربادی کا بھی سامان تیار کرکے گئی تھی , اتنی نفرت ایک عورت کی دوسری عورت کے ساتھ ماہین نے کرب سے آنکھین میچ لیں لمحے بھر کو سوچ کر … وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی وہ اپنے لفظوں سے کاری وار کرگیا تھا …
“بہت شوق تھا تمہیں پیکینگ کرلو ہم اسلام آباد میں ساتھ رہیں گے … دانش نے طنزیہ لہجے میں کہا …
“میں قطعی نہیں جاؤں گی اسلام آباد … وہ قطعیت لہجے میں بولی تھی ….
“تم چلو گی ضرور … مجھے مجبور مت کرو کہ میں ایسا کچھ کروں جو تم اور تمہارے مان باپ خاندان میں سر نہ اٹھاسکیں …
وہ حیرت سے اس کو دیکھتی رہی … اس کے لفظوں نے اسے ہلا کے رکھ دیا وہ پلٹ جانا چاہتی تھی , مگر جیسے پلٹی وہ لڑکھڑاگئی اس سے پہلے واقعے اپنے بھاری وجود کے ساتھ زمین بوس ہوتی دانش نے اسے تھام لیا اور اپنا ذہن اسے ماؤف ہوتا محسوس ہورہا تھا , پر دانش کے ہاتھون کے لمس کو محسوس کرکے اس نے اپنے سلب ہوتے حواس کو قابو کیا اور اس کے ہاتھ جھٹک کر اپنے پیرون پر جم کر کھڑی ہوگئی اور سنبھل کر بولی …
“شرم تو نہیں آتی تمہیں اپنی بیوی کو بلیک میل کرتے ہوئے … ماہین نے نفرت سے کہا تھا وہ حیران ہوا اس کے انداز پر …
“تمہیں شانی سے محنت کرتے نہ آئی تو مجھے کیسے آئے گی … اب کے وہ ڈھٹائی سے بولا ….
“بسسس کچھ تو شرم کریں , بیوی ہوں تمہاری … ماہین نے کہا …
“جانتا ہوں بیوی بن کر رہوگی تو ہی شرم کروں گا … تم چل رہی ہو اسلام آباد سامان پیک کرو … اب کہ اس کا لہجہ حکمیہ تھا …
” مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ نہیں ہوتا مجھ سے برداشت یہ سب … ماہین شدت سے بولی تھی …
“بٹا ہوا شوہر تمہارے نصیب میں ہے کیا کرسکتے ہیں ماہین … برداش تو کروگی تم … دانش نے کہا ….
وہ حیران تھی دانش کے اس مغرور انداز پر …
“سچ سے منہ موڑوگی تو صرف خسارے میں ہی جاؤگی …
“میں تمہارے اگے جوابدہ نہیں , یہ میری مرضی ہے اور میرا حق بھی کہ مجھے شوہر میں کسی کی شراکت گوارہ نہیں … ماہین نے کہا …
“تم جوابدہ ہو ماہین … دانش نے کہا …
“جاسکتے ہو تم مجھے کوئی بات نہیں کرنی اب … ماہین دو ٹوک بولی …
” مجھے مجبور مت کرو کہ میں وہ کروں جو میں کرنا نہیں چاہتا کیونکہ مجھے اپنے بھائی کی بڑی پرواہ ہے اس کا نام میں نہیں خراب کرنا چاہتا … دانش نے سہی معنی میں ماہین کو اس کی اوقات بتادی تھی …. مطلب اسے شانی کی پرواہ تھی پر ماہین کی بالکل بھی نہیں … عجیب ضد اور انا سی اگئی تھی دونوں کے بیچ ….
” ٹھیک ہے دانش اگر تم نے ایسا کچھ بھی کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا اگلا سوال تم سے یہی پوچھا جائے گا کہ جس اولاد کے اتنے دعویدار تم ہو رہے ہو کیا واقعی صحیح معنی میں وہ تمہاری اولاد ہے بھی یا نہیں اور یہ سوال تم سے میں کروں گی اس کا جواب تیار رکھنا تم …. ماہین کی بات نے دانش کو ہکا بکا کردیا وہ اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر چیلنجنگ انداز میں بولی تھی ….
جاری ہے ….
