Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 29

دستک ہوئی، سنی بھی گئی، اس کے باوجود
دروازہ بند ہی رہا ، کھولا نہیں گیا

شاید اسی سبب سے ہیں ، بے تابیاں میری
پرکھا بہت گیا مجھے ، سمجھا نہیں گیا

وہ دانش کو کچھ نہ کہے سکی سوائے سخت نظروں کی گھوری کے سوا … اسی وقت اس نے کال کی ریحان کو …

“ہیلو جی بھائی , آپ کہاں پر ہو … ماہین نے پوچھا …

“علی اجائے تو ڈیوز کلیئر کرکے ارہا ہوں … ریحان نے بتایا …

” بھائی میں ڈیوز کلیئر کرچکی ہوں , آپ اجائیں پھر چلنا ہے … وہ نرمی سے بولتی سرے سے دانش کو اگنور کرگئی تھی وہ اچھا خاصا اسے تپاتی ارہی تھی …

“تم نے … وہ حیرت میں بولے تھے …

“ہمممم .. میں نے … بس آپ جائیں … ماہین نے کہا اور کال کاٹ دی …

اسٹاف اکر اسے دوائی سمجھانے لگی تو وہ سننے لگی اور اسے ضروری ہدایات کے ساتھ نیسٹ فالوو اپ کی تاریخ بتارہی تھی … ساری باتیں وہ بغور دونوں سن رہے تھے وہ جزبز کا شکار تھی کیونکہ دانش نرمی سے اس کے ہاتھ سے اپنی بیٹی کو لے گیا وہ نرس کے سامنے تماشہ نہیں کرنا چاہ رہی اس لیئے اسے دے گئی وہ نرمی سے اس کا چہرہ صاف کرنے لگا جس کے منہ سے ایک سائیڈ سے تھوک بہے رہی تھی … یہ دیکھ کر ماہین کے دل سے ہوک اٹھی تھی جبکہ دانش کی آنکھ بھی نم ہوئی … اس طرح کی اولاد ہوگی دونوں نے کبھی نہ چاہا تھا …

“پلیز اس چیز کا خاص خیال رکھیئے گا , اپ دونوں نے بےبی کو سیدھا مت سلائیئے گا اس کا گلہ چوک بھی ہوسکتا ہے اس لیئے تھوڑا کروٹ کے بل سلائیئے گا تاکہ بچے کو سانس لینے میں دقت نہ ہو …. تھوڑا زیادہ احتیاط سے کام لیجیئے گا … نرس نے سمجھایا آخر میں ایک بار پھر …

“جی میں سمجھ گئی … ماہین نے کہا اس کا لہجہ اس وقت بھاری ہورہا تھا کیونکہ اندر ہی اندر وہ دکھی ہورہی تھی …

اسی وقت ریحان آیا اور بولا “چلین ماہین …

“جی بھائی … ماہین نے کہا … وہ دونوں اسے اگنور کررہے تھے …

ماہین نے ہاتھ بڑھایا “اسے مجھے دے دین دانش … وہ نرمی سے بولی تھی ضبط سے …

“ہمممم دے دوں گا تم چل کر گاڑی میں بیٹھو تو سہی … دانش نے کہا سھولت سے …

“دانش یہاں تماشہ نہ لگاؤ … ریحان ضبط سے بولا وارن کرتے ہوئے …

“میں کوئی تماشہ نہیں لگا رہا , میں نے یہ کب کہا ماہین میری گاڑی میں اکر بیٹھے … دانش خلاف اپنی طبیت کے نرمی سے بولا تھا ….

اس کی بات کا مطلب سمجھ کر وہ تینوں ریحان کی گاڑی کی طرف بڑھے اور ماہین جب گاڑی میں بیٹھ گئی تو اس کی گود میں دیتے ہوئے بولا …

“شام کو گھر اکر میں اس کے کان میں اذان دونگا اور نام رکھون گا … دانش نے کہا جس پر ریحان کو غصہ تو شدید آیا پر وہ ضبط کرگیا کیونکہ حالات ایسے تھے وہ ان دونوں کے بیچ فی الحال بولنا نہیں چاہتا تھا …

وہ اثبات میں سرہلاگئی … جس کا مطلب صاف تھا وہ اسے اجازت دے چکی تھی … جو ان دونوں کے بیچ تھی وہ میاں بیوی کی لڑائی تھی پر اس وقت جو روبرو تھے وہ ماں باپ تھے … وہ ایک ماں ہوکر ایک باپ سے اس کی بیٹی کا حق نہیں چھین سکتی تھی ….

@@@@@@@@@@

“ماہین اتنے زیادہ پیسے تمہارے پاس کہاں سے آئے … وہ جو اپنی بیٹی کی طرف متوجہ تھی ریحان کی بات پر چونکی تھی جس کی نظریں راستے پر تھیں کیونکہ وہ ڈرائیوو کررہا تھا …

“بھائی یہ سب میں ویب ڈیزائیننگ سے کمائے تھے اور کچھ سیلیزیز کے پڑے تھے … ماہین نے بتایا ازلی کانفیڈینس بھرے انداز سے …

“ویری گڈ ماہین یہ اچھی بات ہے تم پیسے کما بھی سکتی ہو اور اسے بچا کر سنبھال کر رکھ سکتی ہو , جو تمہیں کام آسکیں , مجھے فخر ہے تم پر ماہین … ریحان نے دل سے کہا …

“تھینک یو بھائی … ماہین نے کہا …

“پر یہ ہماری ذمیداری تھی ماہین , یہ پیسے ہم لوگ تمہیں واپس کریں گے کیونکہ یہ ذمیداریان ہم نے اٹھانی ہیں , تم کسی قسم کی فکر نہ کرو , ہم سب ہیں … تم اپنی ساری توجہ اپنی بیٹی کو دو ماہین یہ وقت اس کے لیے ضروری ہے … ریحان نے اسے اس کی اصل ذمیداری کی طرف متوجہ کیا …

“جی بھائی مجھے یاد ہے … وہ اس کا منہ نیپکن سے صاف کرتے ہوئے بولی تھی … پھر سارا سفر خاموشی سے گزرا تھا …

@@@@@@@@

پھر واقعی وہ شام کو آیا سب سے ملا جس پر سب کا رویہ سرد ہی تھا پر شاید وہ واقعی ڈھیٹ تھا اور ماہین اس کی ڈھٹائی سے بخوبی واقف تھی اس لیئے اسے دن میں روکنے کے بجائے انے کی اجازت دے چکی تھی … سب سے پہلے اس کے کان میں اذان دے کر اس کا نام انمول چاہت رکھا دانش نے … اسی وقت دانش نے ایک سلپ ماہین کی طرف بڑھائی اور ساتھ میں ایک کریڈٹ کارڈ …

“یہ کیا ہے …

“یہ سلپ ہے تمہارے اکاؤنٹ میں پچیس لاکھ ٹرانسفر کرچکا ہوں اور یہ کارڈ میری بیٹی کے لیئے ہے اس کی ضرورتیں اور علاج میرے ذمے ہے … شرعی طور پر یہ میری ذمیداری ہے چاہے تو مامی سے پوچھ لینا ان کو مذہب کی نالیج ہے , اولاد کی کفالت باپ کے ذمے ہے … دانش نے سکون سے کہا …

“دانش یہ میں نہیں لے سکتی پلیز … ماہین نے سھولت سے کہا تھا …

“پلیز اپنی بےجا فضول ضد چھوڑ دو ماہین , مجھے میری ذمیداریان اٹھانے دو …

اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی اس کی بیٹی رونا شروع ہوگئی تو مجبورً اسے چپ ہونا پڑا اور اسے فیڈ کروانے کے لیئے دوپٹا اچھی طرح پھیلایا تو دانش کہے بغیر نہ رہ سکا …

“پلیز اس طرح فیڈ نہ کراؤ , جس طرح نرس نے کہا تھا ویسے کرواؤ بغیر دوپٹہ لیئے … ویسے بھی میں جارہا ہوں فی الحال اسلام آباد پھر آؤں گا جس دن اس کے چیک اپ کی تاریخ ہے …

وہ سن رہی تھی پر بولی کچھ نہیں … دانش روم کا لاک پریس کرکے پھر باہر نکل گیا یوں روم لاک ہوگیا تو وہ دوپٹا ہٹا گئی اور واقعی اس کی بیٹی جو ہلکی نیلی پڑ رہی تھی چند پل میں دوبارہ گلابی ہوگئی …

@@@@@@@@

“آخر کب تک برداش کریں ہم , اتنا کچھ ہوگیا ہے پر نادر بھائی نے پھر بھی ماہین اور ہماری بچی کو واپس نہیں بھیجا … طاہر آفندی نے مدثر آفندی سے کہا جو کال پر بات کرتے ہوئے …

“طاہر بھائی یہ وقت ان باتوں کا مناسب نہیں … سب بہتر ہوجائے گا … مدثر آفندی نے سمجھایا …

“اب کیا نادر چاہتا ہے ہم ناک رگڑیں ماہین کے اگے تب جاکر مانے گی یہ لڑکی , ایسے بیٹیوں کو سپورٹ کیا جاتا ہے جیسے نادر کررہا ہے … ہم نے تو ریما کے معاملے میں چپ رہے تھے ریحان اور گھروالوں کے سب رویئے ہماری بیٹی اکیلی برداش کررہی تھی … طاہر آفندی نے کلس کر کہا …

“اللہ نہ کرے … میں چند دن میں پاکستان کا چکر لگانے کا سوچ رہا ہوں … پھر روبرو بات کروں گا اپنے بھائی سے … انہون نے اپنا پروگرام بتایا …

“بحرحال میرا خیال ہے اگر اب بھی نہ مانے یہ لوگ تو نہیں چاہیئے مجھے ایسا خاندان , میں اپنی بہو اور پوتوں کو لے کر اجاؤں گا …. اتنا سب ہونے کے بعد ہمیں ماہین کے احساسات کی فکر ہے پر اسے تو واقعی کسی بات کی پرواہ نہیں , جتنے دن ہم وہاں تھے ایک دفعہ اس لڑکی نے سیدھے منہ بات تک نہ کی … پتا نہیں کس بات کی اکڑ ہے ایک سہی سلامت اولاد تو دے نہیں سکتی یہ …. طاہر آفندی جس طنزیہ انداز میں کہا اس نے سلگا کے رکھ دیا مدثر آفندی کو …

“بسسس کردیں طاہر بھائی … ماہین بیٹی ہے میری بھی … اس سے زیادہ برداش نہیں کروں گا , یہ تکلیفیں اس کے نصیب کی ہیں جس کی وہ اکیلی ذمیدار نہیں دانش بھی ہے , کیونکہ یہ بیماری دونوں کو ہے … مدثر آفندی نے اچھی طرح جتادیا ان کو …

جس پر وہ گڑ بڑا کر رہ گئے …

“میری بھی بیٹی ہے ماہین , مجھے فکر ہے دونوں کی , آپ بسس اسے سمجھائیں اس طرح گھر نہیں اجاڑتے , قربانیوں سے گھر بستے ہیں … طاہر آفندی نے لہجے کو کنٹرول کرتے ہوئے فکرمندی سے کہا …

“جانتا ہوں پر نادر اپنی بیٹی پر زبردستی کا قائل نہیں … میں اسے سمجھا سکتا ہوں پر زبردستی منا نہیں سکتا …. مدثر آفندی نے کچھ سوچ کر کہا پر ان کا ذہن کسی اور طرف ہی راغب تھا ایک اور خیال ان کے ذہن میں آیا جس پر وہ غور فکر کرنے لگے اور طاہر آفندی کو اللہ حافظ کہے کر کال کاٹ گئے تھے …

@@@@@@@@@

“تھینک یو سو مچ سر جنید اور انکل عیان , اتنا سب کرنے کی کیا ضرورت تھی … ماہین نے عیان اور جنید شاہ سے کہا جو اس کے روبرو سامنے صوفے پر بیٹھے تھے …

“بسس بیٹا اس میں تھینک یو کی کوئی بات نہیں کراچی میٹنگ کے سلسلے میں آئے تھے تو سوچا تم سے مل کر آجائیں اور مبارک دیں اولاد کی … عیان نے پیار سے کہا کیونکہ اب تو وہ اسے عزیز ہوگئی تھی کیونکہ عمر کی لاڈلی بھانجی جو تھی …

سامنے ٹیبل پر بکے کیک اور ساتھ میں بچے کے حوالے سے گفٹ بوکس بنا تھا جو عیان نے یہ کہے کر دیا تھا یہ ان کی مسز انشاء کی طرف سے لیا گیا ہے وہ اس وقت آ نہ سکیں کیونکہ ان کو نازلی کی وجہ سے ٹھرنا پڑا لاہور …

“انکل , آپ اپنی مسز اور نازلی کو لاتے تو مجھے بے حد خوشی ہوتی … ماہین نے دل سے کہا … عباس گردیزی اور دوسرا اسٹاف اس سے مل کر گئے تھے ہاسپیٹل میں ہے …

“بیٹا انشاء اللہ نیکسٹ ٹائم ضرور وہ لوگ آئیں گے … عیان نے کہا …

“ماہین اپنی بیٹی کو تو دکھاؤ , پکا ہم نظر نہیں لگائیں گے … جنید شاہ نے ہنستے ہوئے کہا مذاحیہ لہجے میں …

اسی وقت بے ساختہ عیان نے جنید کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا شاید وہ اسے روکنا چاہ رہے تھے … جس سے ماہین کو اندازہ ہوگیا شاید جنید واقف نہیں پر عیان انکل جانتے ہوں… سعدیہ آفندی خاموشی سے بیٹھی تھیں اتفاق سے اس وقت مرد گھر پر نہ تھے کیونکہ دن کا وقت تھا …

“ابھی لاتی ہوں … ماہین نے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی …

ریما ٹرالی گھسیٹ کر لائی اور ریفریشمینٹ سروو کرنے لگی … دل ہی دل میں سلگنے لگی … “اب بس ہم تو ملازم ہی بن کر رہ گئے ہیں اس ماں بیٹی کے , ایک تو جس کو دیکھو اس ماہین کا گرویدہ ہی نظر اتا رہتا ہے , اب اس ایب نارمل بچی کو بھی میڈل کی طرح سب کو دکھاتی ہے , حد ہے ویسے …. ریما نے کلس کر سوچا …

اس کے چہرے کی بیزاریت دیکھ کر عیان نے کہا “بیٹا اپ زحمت نہ کریں ہم خود لے لیں گے تھینک یو …

جس پر ریما ان کو پلیٹ تھما کر پلٹ گئی سعدیہ بیگم گھورتی رہ گئی , وہ چلی گئی اپنے کمرے کی طرف … سعدیہ بیگم کو روکتے رہ گئے دونوں پر وہ اصرار کرکے کھلاتی رہیں …

کچھ دیر بعد ماہین اسے تیار کرکے لے آئی … جنید شاہ نے اسے گود میں اٹھایا … اس کے ماتھے کا بوسا لیا …

اس اپنے کسی انداز سے ظاہر نہ کیا کہ اسے اندازہ ہوچکا تھا وہ ایک اسپیشل بچی ہے … سب سے زیادہ تعریف اس نے اس کے نام کی تھی اسے انمول چاہت نام بہت پسند آیا تھا …

@@@@@@@@@

“دانش آپ نے ایسے کیسے اس کا نام انمول چاہت رکھ دیا … نایاب نے حیرت سے کہا …

“کیا مطلب اس بات کا … دانش نے تند لہجے میں پوچھا شاید بہت عرصے بعد کبھی وہ اس لہجے میں نایاب سے مخاطب ہوا تھا …

وہ اپنے لہجے کے تلخ انداز پر کنٹرول کرگئی اس لمحے کیونکہ دانش کے چہرے تاثرات سخت جو ہوئے تھے اس وقت …

“وہ میرا مطلب ہے یہ نام ہم نے ہماری بیٹی کے لیئے سوچا تھا نہ اس لیئے کہا دانش … اب کے وہ سنبھل کر بول رہی تھی اور دانش اس کے لہجے کے اتار چڑا ہو کو بغور سن رہا تھا … نایاب جلدی خود کو کمپوزڈ کر گئی …

“تو کیا ماہین اور میری بیٹی تمہاری کچھ نہیں … دانش کا لہجہ تھوڑا سخت تھا … نہ چاہتے ہوئے بھی جانے کیوں وہ اپنے لہجے کو نرم نہ کر سکا نایاب کے لیے …

“وہ بھی ہمارے بیٹی ہے , سوری مجھ سے غلطی ہوگئی ,بس یونہی کہے دیا دانش …. وہ سنبھل کر بولی ….

“ڈیٹس لائیک مائے نایاب … چند لمحے کے لیئے تم نے مجھے سچ میں پریشان کردیا نایاب مجھے لگا یہ میری نایاب تو نہیں ہوسکتی جو ہر وقت ماہین کی فکر میں گھلتی رہتی ہے وہ میری بیٹی کو خود سے الگ سمجھ رہی ہے … دانش کی پیشانی کے بل اب کم ہوگئے اور وہ اپنی فکر بتانے لگا …

“اف دانش آپ بھی نہ … میں نے یونہی کہے دیا … مجھے لگا یہ نام ہم دونوں کا پسندیدہ ہے …. نایاب نے مسکرا کر کہا وہ اپنے چہرے پر بھرپور معصومیت لاتے ہوئے بولی تھی …

“ہاں اس لیئے تو رکھا ہے ہماری بیٹی پر … دانش نے سکون سے بتایا …

“یہ اچھا کیا آپ نے … سچ میں مجھے بہت خوشی ہوئی جان کر … وہ اس کے ہاتھ تھام کر بولی تھی … ساتھ ہی ساتھ وہ اس کی گود میں آبیٹھی , یہ اس کا مخصوص انداز تھا … یونہی وہ دونوں باتیں کیا کرتے تھے … اس کے سینے پر سر رکھ کے نایاب اپنی دل کی باتیں دھیمے لہجے میں کرتی اس کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہی تھی ایک طرف اور دوسری طرف یہ نایاب کا ایک بہترین طریقہ تھا اپنے تاثرات اور ناگواری دانش سے چھپانے کا …

@@@@@@@@@@

“آپی جیسا آپ نے کہا بلکل ویسا کرتی رہی … پر دانش پندرہ دن رہا اس کے لیئے کراچی میں , یہ تو کچھ زیادہ ہی ہوگیا ہے , اب اوپر سے کل پھر جارہا ہے کیونکہ بچی کا بلڈ ٹرانسفیوز ہونا ہے اس ویک … نایاب نے بیزاریت سے کہا تھا ویڈیو کال پر اپنی بہن سے …

“نایاب بے وقوفی مت کرو جہاں اتنا صبر کیا ہے وہاں تھوڑا اور کرلو … اس نے سرزش کی نایاب کو …

“آپی آخر کب تک برداش کروں , دانش ماہین کو چھوڑنے کو تیار نہیں , آپ نے کہا تھا میں جتنا ماہین کی طرف ان کو دھکیلوں گی اتنا دانش اس سے بدظن ہوگا اور میرے قریب تر … پر دیکھیں ایک ایب نارمل بچی پیدا کرکے بھی اس کے دل کے قریب ہونے لگی ہے ماہین … دانش نے اس معذور بچی کا نام انمول چاہت رکھ دیا , ہم دونوں کا فیورٹ نام جو ہم نے اپنی بیٹی کے لیے سوچ رکھا تھا اس نے وہ نام اس ماہین کی بیٹی کو دے دیا , کیا لڑکیوں کے نام کی اتنی قلت پڑ گئی تھی جو یہی نام رکھنا تھا … اف مجھے سوچ کر تکلیف ہورہی ہے , اب یہ نام مجھے زہر لگتا ہے … آپی اب تو دانش کو اس کو چھوڑ دینا چاہیئے وہ صرف ایب نارمل بچے پیدا کرسکتی ہے اور کچھ نہیں … نایاب نے نفرت سے بھرپور لہجے میں کہا …

“نایاب میری بات سنو کچھ مت کہنا دانش سے , یہ وقت اس سے ناراض ہونے کا نہیں , بلکہ احساس کرنے کا ٹائیم ہے … اتنی ہمدردی رکھو کہ وہ ان کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے تمہارے اگے گلٹی رہے کہ تم کو اپنا وقت نہیں دے پا رہا سمجھی تم … بس بار بار کہو ماہین اور اپنی بیٹی کا خیال کرے … بڑی بہن نے سمجھایا چھوٹی کو …

“نہیں آپی اب ایسا نہیں کہوں گی دانش کو … نایاب نے چڑ کر کہا …

“پاغل مت بنو نایاب … دانش تمہارا ہی ہے عنقریب وہ مکمل تمہارا ہی ہوگا … ماہین کو چھوڑ دے گا … بسس تھوڑا صبر اور … وہ اسے پیار سے سمجھانے لگیں تھیں …

“اب نہیں کہوں گی کیونکہ مجھے لگتا ہے , اسلام آباد لے آئیں ماہین اور اس کی بیٹی کو … کیونکہ وہ سچ میں ان دونوں کو لاکر میرے سر پر بٹھانا چاہتا ہے … ایسا بلکل میں نہیں ہونے دوں گی … نایاب نے کہا …

“نایاب میری بہن عورت کی یہی جلدبازی اور جلن اس کا بیڑا غرق کرتی ہے اور عورت کا ایثار مرد کو عورت کے سامنے جھکا دیتا ہے … وہ اسے ہمیشہ کی طرح سمجھارہی تھیں …

“آپی , سچ میں برداش نہیں ہوتا مجھ سے … دانش بھی میرے ہیں اور ان کا سب کچھ بھی … اب میرے بچون کا حق اس پر لٹا آئے ہیں جب اس کی بیوی بھر سکتی تھی پچیس لاکھ فضول میں اسے دے آئے ہیں اور ایک کریڈٹ کارڈ بھی دے آئے ہیں … نایاب اپنے غرض سے بول رہی تھی …

“نایاب دیکھو وہ دونوں بھی اس کی ذمہ داری ہیں … اچھی بات دیکھو تم یار یہ پیسوں کو کیوں دیکھ رہی ہو تم , کتنا پیسہ تمہارا شوہر کما لیتا ہے اگر اتنے لاکھ دے دیے تو کوئی بڑی بات نہیں , ایک مہینے میں وہ لاکھوں کمالیتا ہے , یہ اتنے پیسے اس نے دے بھی دی ہے کون سی بڑی بات ہے ایسی چھوٹی سوچ مت رکھا کرو …. یہ نہیں دیکھ رہی تم دانش ہر بات تمہیں بتا کر کرتا ہے اور کرتا ارہا ہے یہی تمہاری جیت ہے ایک دفعہ تصور تو کرو کس طرح کا ہوا کرتا تھا دانش , اتنا ایٹیٹیوڈ والا اپنے اگے کسی کو کچھ نہ سمجھنے والا , جو تمہیں چھوڑ چکا تھا اپنے خاندان کے لیئے , یاد کرو وہ وقت , اور آج کا وقت دیکھو تمہاری عقل مندی نے اسے کیا بنادیا ہے بلکل ہی زن مرید بنا کر رکھ دیا ہے تم نے , جسے آج تمہارے اگے کچھ نہیں نظر آتا , اس کا بس چلے سانس بھی تم سے پوچھ کر لے … یہ سب تمہاری سمجھداری کا کمال ہے …. تم جتنا ان لوگوں کو اہمیت دے رہی ہو اتنا وہ ان سے دور ہونے لگے گا بے فکر ہو جاؤ … بڑی بہن نے سمجھایا نایاب کو …

“,جی آپی , پر یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے … نایاب نے کہا …

“چلو کہیں اپنی ڈگری کا استعمال کیا تو سہی … اس نے ہنستے ہوئے کہا …

“ہمممم واقعی آپ اچھی سائکیٹرسٹ ہیں … نایاب نے دل سے کہا …

“تو بسسس اپنی بہن پر یقین رکھو … دانش تمہارا ہی ہوگا … میری بات غور سے سنو … اسے بس یہ یقین دلاؤ کہ تمہیں بھی خوشی ہے اس کی بیٹی کی اب ماہین کے ساتھ ساتھ انمول چاہت کو بھی اپنی فکر کا حصہ بنالو …. جتنا ان کی طرف کروگی اتنا پلٹ کر تمہارا ہوگا … انہون نے کہا …

“آپی ایسا نہ ہو … میری باتیں میرے ہی گلے پڑ جائیں اور وہ سچ میں ان دونوں کو یہیں لے ائے ابھی میں اپ کو بتا رہی ہوں میں بالکل نہیں رہ سکتی یہ مجھ سے نہیں ہوگا … اب کے نایاب نے فکرمندی سے کہا …

“یہ سب کچھ بھی نہیں ہوگا دیکھ تو رہی ہو تم خود تمہیں دانش بتا رہا ہے کہ کتنا ڈیسپریٹلی ماہین طلاق چاہتی ہے ماہین نہیں رہ سکتی اسی لیے یہ بھی داغ اس کے سر پر اسے لینے دو … وہ الگ ہونا چاہتی ہے اس طرح تمہارے اور دانش کے خاندان میں داخل ہونے کے راستے کھل جائیں گے اس لیے کہہ رہی ہوں بے وقوفی مت کرو ماہین خود اپنے لیے گھڑا کھود رہی ہے اسے خود سے گرنے دو اس میں … تم بس خود ہی دیکھو اس خاندان کا تماشہ … آپی نے کہا …

“آپی اپ کو یقین ہے نا کہ ماہین چلی جائے گی دانش کی زندگی سے … ملتجی لہجے میں بولی تھی …

“ہمممم … ٹرسٹ می … وہ بولی …

“آئے ٹرسٹ یو آپی … نایاب نے کہا …

“تو بس خدا کا واسطہ ہے وہی کرو جو میں کہہ رہی ہوں ابھی کوئی بے وقوفی مت کرو کہ تمہیں فضول میں نقصان اٹھانا پڑے تمہارا اتنا کلیئر امیج ہے دانش کی نظر میں وہی رہنے دو …. اور دیکھنا تم وہی ہوگا جو تم چاہتی ہو نا دانش جو چاہتا ہے وہ ہوگا …انہوں نے سمجھایا نایاب کو …

“بسسس آپ دعا بھی کرنا میرے لیے … نایاب نے کہا …

“میری پیاری بہن میری ساری دعائیں تمہارے لیئے ہیں ساری دنیا کی خوشیاں تمہیں مل جائیں میری یہی دعا ہے … وہ پیار سے بولیں تھیں ….

جاری ہے ….