Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 14

“نور زبان سنبھال کر بات کرو … ڈیم اٹ لفظ تو تم نے کہے دیا اس کی معنی جانتی بھی ہو … اس کے معنی لانعت ہے … آئندہ یہ لفظ نہ سنو تمہارے منہ سے … شانی نے سختی سے کہا پر سامنے بھی نور تھی, جو بپھر کر بولی …

“میری زندگی ایسی ہوگئی ہے اور تم کو ایک لفظ کی پڑی ہے … باقی ساری باتوں کا کیا … نور کا ہر انداز واضع کررہا تھا وہ کس قدر غصے میں آچکی ہے …

اس کا ریکشن شدید دیکھ کر پھر شانی لو ہی نرم ہونا پڑا وہ بولا …

“نور تم آرام کرو میرا خیال ہے تمہیں آرام کی ضرورت ہے …

شانی کی جھکی نظریں پھر نرم لہجہ نور کا دل پسیج کرگیا … نور کی سمجھ ہی نہیں آتا تھا کیسا مرد ہے یہ جس کا غصہ بھی تھوڑی دیر ہوتا ہے , کوئی تقاضا نہیں کرتا , اس کی بدتمیزی کو نرمی سے سہے کر کوئی حرف شکایت بھی نہیں کرتا …

“مجھے آرام کی نہیں تمہاری ضرورت ہے شانی … نور سنبھل کر بولی تھی …

“میں تمہارا ہی ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا …. شانی کا لہجہ ابھی بھی نرمی لیئے ہوئے تھا …

“نہیں ہو تم میرے … نہیں ہو تم … بسس بھاگتے رہتے ہو مجھ سے … وہ اس کے گلے لگ گئی روتے ہوئے … وہ چاہ کر بھی نور سے کو خود سے جدا نہیں کرپارہا …

“میں نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر کبھی بھی … وہ سسکتی ہوئی بولی تھی … کچھ لمحوں کے بعد وہ اسے خود سے جدا کرتا ہوا نرمی سے بولا …

“جانتا ہوں … مجھے تھوڑا وقت دو نور , یہ تعلق اللہ نے خوبصورت تخلیق کیا ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کا سکون رکھا ہے … میری نظر میں یہ عورت کی نسوانیت کی توہین ہوگی جو اسے سراہے بغیر اس کی قربت میں سرور کے بجائے صرف ضرورت ہو … تمہیں میں اپنی ضرورت کا سامان بناکر نہیں رکھنا چاہتا بلکہ صرف بیوی بناکر رکھنا چاہتا ہوں … مجھے تھوڑا وقت دو …

شانی نرم لہجے میں ہر بات واضع کہے گیا … نور اس کے لفظوں کا مطلب و معنی سوچتی رہ گئی … پر جانتی تھی اب کہنے کو لفظ ہی نہیں رہا بات تو نسوانیت پر اگئی , اس سے زیادہ کیا توہین کرتی اپنی …

@@@@@@@@

لوگ اپنا مطلب دیکھتے ہیں , پھر دوسروں کو استعمال کرتے ہیں اور وہ خود کو سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتے ہیں , اور وہ نہیں جانتے وہ خسارے میں ہیں … اور جو بےغرض ہوکر رہتے ہیں , خود کو کچھ بھی نہیں سمجھتے , ان کا حامی و ناصر اللہ ہوتا ہے … ان کے سارے کام اللہ ہی بناتا ہے …. جن کا سہارا اللہ ہو تو انہیں کون نقصان پہنچا سکتا ہے …

دانش اسے خود لے گیا آفیس پہلے دن , ماہین حیران تھی … اس کے لیئے یہی بہت تھا کہ وہ اپنے کیریئر میں اگے بڑھ رہی ہے …دانش نے اس کے لیئے گاڑی اور ڈرائیور دونوں کا بندوبست کردیا تھا …

وہ سیدھا اپنے باس کے کیبن میں آئی … سلام کے بعد ان کے سامنے کھڑی رہی … باس نے کہا … “ہیوو سیٹ مس ماہین …

“تھینک یو سر … اجازت ملنے پر بیٹھی تھی وہ … ہمیشہ کی طرح میچنگ اسکارف پہنے اس نے ڈھنگ سے دوپٹا شانوں پر پھیلا کر پن اپ کیا تھا جو اسے پروقار بنارہا تھا… چہرے پر میک اپ بلکل نہ تھا صرف لپ گلوس لگایا تھا اس نے …

“کرئیٹو ہیڈ کے لیئے آپ مجھے کم عمر لگ رہی ہیں … باس نے کہا وہ اپنی بات سیدھے کرنے کے قائل تھے …

“گردیزی کے ریکمیڈیشن پر آئی ہیں آپ …. انہوں نے جتایا …

“جی سر , پر انشاء اللہ نیکسٹ ٹائم سر کے نام کے بغیر میری اپنی پوزیشن کے لیئے آپ کو قابل لگون گی … ماہین نے سکون سے کہا … باس کی آنکھون میں ستائیش ابھری اس لڑکی کو دیکھ کر کیونکہ اکثر وہ لڑکیوں کو زچ ہوتے دیکھ چکے تھے جن کو اس طرح کے جملے کہے جائیں کہ وہ ریکمنڈیشن پر ائی ہیں یا اس پوسٹ کے لیے کم عمر لگ رہی ہیں تو لڑکیاں اکثر زچ ہو کر تلملا اٹھتی ہیں اور پھر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کہتی ہیں جس سے ان کی ذہنی کشمکش کا پتہ چل رہا ہوتا ہے … پر ماہین کا پرسکون انداز اور بےتاثر چہرہ کچھ بھی واضع نہ کررہا تھا اسے بری لگی ہو اپنے باس کی بات …

“وش یو گڈ لک … باس نے کہا …

“تھینک یو … وہ بولی اور خاموشی سے بیٹھی رہی …

“مس سیما آپ کو آفیس وزٹ کروائیں گی سب کچھ بریف کرکے آپ کو آپ کے کیبن تک پہنچائیں گی … باس نے کہا ..

“جی سر … اسی وقت باس نے انٹرکام پر سیما کو بلایا , جو دو منٹ بعد ناک کرکے اندر اگئی …

یوں پہلا دن انٹرو وغیرہ میں گذرا … ماہین ماحول سے مطئمن ہوگئی تھی …

@@@@@@@@@

وہ گھر اتے ہی پہلے سلام کرنے اپنے ساس سسر کے کمرے کی طرف گئی پر ان کے کمرے کی آف لائیٹ ظاہر کررہی تھی کہ وہ آرام کررہے ہیں … اسے پتا تھا اب مغرب کے وقت اٹھین گے دونوں … اس کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی… دانش صوفے پر بیٹھا تھا اور ٹانگین سامنے ٹیبل پر پھیلا رکھی تھیں موبائیل چلا رہا تھا … اتے ہی ماہین نے سلام کیا جس کا جواب دے کر … اس نے پوچھا “کیسا گزرا دن اور ماحول کیسا لگا …

“اچھا گزرا دن اور ماحول بھی اچھا ہے … ماہین نے مختصر لفظوں میں کہا اور اپنا پرس ڈریسنگ پر رکھا اور سینڈل سے پاؤں آزاد کرے , اس کا جسم تھکن سے چور تھا …

“مجھے اسلام آباد روانہ ہونا ہے رات کے دس بجے کی فلائیٹ ہے , میری پیکنگ کردو … دانش نے کہا … وہ دل ہی دل میں خوش ہوئی کیونکہ اب وہ کم سے کم سکوں سے اپنا کام تو کرسکے گی … اس کے اندر سکون سا اترا … جانے کیوں ماہین کو ایسا لگتا جب تک دانش یہاں ہوتا ہے تو اپنی سانسون پر بھی بوجھ سا محسوس کرتی ہے , ایسا لگتا ہے جیسے ہر وقت بوجھل پن سوار ہو اس پر … دانش کے جاتے ہی وہ خود کو ہلکہ پھلکہ محسوس کرتی تھی , ایسے لگتا جیسے سارے بوجھ ہی اترگئے ہوں سر سے …

“جی کردیتی ہوں … بسس ایک دفعہ بتادیں کیا رکھنا ہے … وہ سنبھل کر بولی اور اپنا چہرہ بے تاثر کرلیا کیونکہ وہ اپنے کسی انداز سے اس پر اپنی اندرونی کیفیت واضح نہیں کرنا چاہتی تھی ….پھر بھی اعصابی تھکن کو سائیڈ کرکے کام میں لگ گئی … جو چیزیں اس نے کہیں وہ سب نکال کر بیڈ پر رکھ گئی … ہینڈ کاری نکال کر بیڈ پر رکھی تاکہ سامان رکھ سکے …

ابھی وہ سامان ہی رکھ رہی تھی کہ اچانک دانش نے کہا “جاؤ میرے لیئے پہلے ایک کپ چائے بنا کر آو …

“جی ٹھیک ہے … ابھی لاتی ہوں … ماہین اٹھ کر چلی گئی … وہ دل میں شکر ادا کرتا ہوا کال ریسوو کرگیا کیونکہ نایاب کی کال ارہی تھی اس کے موبائیل پر …

سلام کے جواب کے بعد بولا …

“خیریت اس وقت کال کی … دانش نے پوچھا …

“ہاں , وہ پوچھنا تھا کھانا یہیں کھائیں گے نا … نایاب نے پوچھا …

“نہیں یار , تمہارے ساتھ چائے پیوں گا , ڈنر یہیں سے کروں گا … دانش نے اس سے کہا …

“اوکے اپنا خیال رکھیئے گا اللہ حافظ … نایاب نے کہا … دانش نے بھی وہی لفظ استعمال کیئے …

وہ سکون سا محسوس کررہا تھا کیونکہ جس طرح وہ چاہ رہا تھا سب ویسا ہی ہورہا تھا , ماہین عام بیویوں کی طرح بلکل نہ تھی جو کام کہو کردیتی بغیر چوں چراں کے , نا اتنے سوال جواب کرنا , بسس خاموشی سے اپنے کام کرتی جاتی , ابھی بھی وہ اسے حیران ہی کرگئی تھی جس قدر وہ تھکی ہوئی لگ رہی تھی دانش کو لگا وہ منع کردے گی پیکنگ سے , شاید وہ یہی سننا چاہتا تھا کہ وہ منع کر دے تو اسے ایک موقع مل جائے گا اسے کہنے کا کہ پہلے دن ہی نوکری کرتے اس کے پَر پزے نکل ائے ہیں … یہی سوچ کر ہی دانش نے تو جان بوجھ کر اسے رات کو پیکنگ کا نہ کہا تھا …

اتنی دیر میں وہ چائے بناکر لے آئی تھی … یوں تو پراپر اس نے گھر کا کام شروع نہیں کیا تھا پر چائے وغیرہ بنا لیتی دانش کے لیئے … ابھی تک دو تین دفعہ ہی نوبت آئی تھی اس کے کچن میں جانے کی وہ بھی دانش کے لیئے ہی گئی تھی …

وہ چائے بی رہا تھا ساتھ موبائیل چلا رہا تھا … وہ سکون سے پیکنگ کر رہی تھی … پیکنگ مکمل کر کے وہ باہر جانے لگی تو دانش خود کو روک نہ پایا پوچھنے سے “کہاں جا رہی ہو …

“وہ میٹھا بنانے کا کل کہا تھا پھپھو نے وہی بنانے جا رہی ہوں … ماہین نے بتایا کیونکہ شادی کو مہینہ ہوچکا تھا اب کھیر بنانے کی رسم کے بعد اسے بھی نور کا ہاتھ بٹانا تھا کام میں … یوں تو سب کام کے ملازم تھے صفائی , کپڑے دھونا استری وغیرہ ہر کام کے ملازم تھے پر گھر کا کھانا گھر کی عورتین بنائیں یہ اس گھر کا قانون تھا جبکہ اس کے بنسبت ماہین کے میکے میں کھانا بھی ملازم بناتا تھا , بس تب کام کرنا پڑتا تھا گھر کی عورتوں کو جب ملازم چھٹی پر ہو …

“کوئی ضرورت نہیں میٹھا بنانے کی , ارام کرو , تھک کر آئی ہو … دانش نے حکمیہ لہجے میں کہا , ماہین جو حیران ہوئی سو ہوئی اس کے انداز پر , خود دانش بھی حیران رہ گیا کہ وہ اس طرح کیسے کہے گیا یعنی وہ اس کی پرواہ کرنے لگا تھا …

“پر وہ پھپھو … ماہین نے ہچکچاہٹ سے کہنا چاہا پر دانش اس کی بات کاٹ کر بولا …

“میں خود ہی دیکھ لوں گا تم تھوڑی دیر ارام کر لو … اب بھی اس کے لہجے میں حکم تھا وہ ایسا ہی تھا دھونس بھرے انداز میں اپنی بات کہتا اور منواتا بھی تھا …

پھر واقعی وہ اپنے موبائل پر الارم رکھ کر اسکارف اتار کر اور دوپٹہ اتار کر , چادر اوڑھ کر لیٹ گئی … اس نے تشکر سے دانش کو دیکھا جانے کیوں وہ شرمندگی محسوس کرنے لگا ان لمحوں میں اس کی آنکھیں بند ہوگئیں … وہ اچھی طرح محسوس کر گیا کہ وہ کتنی شدید تھکن میں تھی جو اس کے اعصاب پر سوار تھی جو لمحوں میں وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی اور دانش کو شرمندگی کی گہرائیوں میں اتار کر …

کتنی دیر وہ اسے سوتا ہوا دیکھتا رہا …

@@@@@@@@@

وہ نیند سے اٹھی ہی الارم کی وجہ سے جو اس نے ایک گھنٹے بعد کا رکھا تھا جلدی سے فریش ہوکر باہر آئی … شائستہ بیگم چائے پی رہی تھی , ساتھ میں سب بیٹھے تھے , سب کو سلام کیا اس نے … جس کا جواب بھی سب نے دیا سوائے طاہر آفندی کے جن کو اس کا آفیس جانا پسند نہ تھا … ماہین نے اپنے فیس ایکسپریشن سے کوئی تاثر نہیں دیا , ان کی ناگواری کا …

“سوری پھپھو , وہ کھیر نہیں بناسکی … ماہین کے چہرے پر شرمندگی واضع تھی … ویسے بھی اب بناتی تو بہت لیٹ ہو جاتی اور پھر دانش نے روانہ بھی ہونا تھا …

“کوئی بات نہیں … دانش مجھے بتا چکا ہے اس نے ہی منع کیا تھا … شائستہ بیگم نے نرمی سے کہا …

نور کو جانے کیوں اپنے اندر جلن کا احساس ہوا … “ماہین کو سب حاصل ہے , پرواہ کرنے والا شوہر , جاب کی اجازت , ہر چیز , سب کچھ … جبکہ میرے پاس کیا ہے میرا شوہر اس کا روگ لیئے بیٹھا ہے , کیا ہے اس لڑکی میں جو ہر کوئی اس کا ہی دیوانہ بن جاتا ہے …. نور نے کلس کر سوچا …

کبھی کبھی اسے ایسا لگتا کہ کاش وہ بے خبر ہی رہتی تو اچھا ہوتا , کیوں اسے اتنی خبر ہے, کیوں اسے پتہ چلا کہ ذیشان ماہین سے شدید محبت کرتا ہے … کاش میں بےخبر رہتی تو اتنی ہی پرسکون رہتی جس طرح باقی سب رہتے ہیں … یہ سوچ کر ہی اس کے اندر ہوک سی اٹھتی …

“کیسا گزرا دن آج کا … شائستہ بیگم نے پوچھا …

“اچھا گزرا پھپھو … ماہین نے سکون سے کہا …

وہ بھی اپنا کپ اٹھا گئی اور چائے پینے لگی … وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا اور دانش کے جانے کا وقت اگیا وہ کمرے کی طرف گئی تاکہ اس کی چیزین کمرے سے نکالے جو تیمور نے گاڑی میں رکھنی تھی …

وہ کمرے میں اکر اس کی ہینڈ کیری اور لیب ٹاپ بیگ کی طرف ہاتھ بڑھایا اسی وقت دانش اس کے پیچھے اکھڑا ہو …

“میں لا رہی تھی باہر سامان … ماہین نے جلدی سے کہا …

“جانتا ہوں تم مجھے بتا کر ائی تھی, پر میں تم سے کچھ کہنے ایا ہوں … دانش نے کہا …

“جی … بس اتنا سا ہی کہے سکی کہ وہ بولا …

“تم تو پوچھتی نہیں ہو چلو میں ہی بتا دیتا ہوں شاید 15 دن کے بعد اب اؤں … دانش نے خود ہی بتایا … ماہین کو شرمندگی سی محسوس ہوئی کیونکہ دانش نے جتایا ہی اس انداز میں تھا , شاید یہ بھی غلطی اس کے خاتے میں ڈال گیا تھا وہ کہ اسے پوچھنا چاہیئے شوہر سے کہ کب اس کی واپسی ہے …

“ہممممم … وہ اپنی انگلیان مڑوڑنے لگی اس وقت …

وہ اس کی خاموشی کو دیکھتا رہ گیا اور خود ہی بولا “اپنا موبائل دو اور ماہین نے اس کی طرف اپنا موبائل بڑاھایا …

“کھول کر تو دو …

“سوری ابھی کھول کر دیتی ہوں اور اس نے فنگر پرنٹ سے کھول دیا … دانش کی طرف موبائل بڑھایا …

“اس میں اپنا نمبر سیو کر رہا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ تیمور اور ذیشان کا بھی کر دیتا ہوں اور ہاں ڈرائیور کا بھی کر دیتے ہیں …. کوئی بھی پرابلم ہو کال می … دانش جلدی جلدی بول رہا تھا پھر اسے سب کے نمبر سیوو کرکے دے رہا تھا …

ماہین صرف ٹھیک ہے بولی زبان سے … پر دل میں اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اس کے شوہر کے دل میں ڈالا کہ وہ اسے اپنا نمبر دے یا اسے اپنے ہونے کا یقین دے …. ابھی اتنا ہی وہ سوچ سکی کہ دانش کی اگلی بات نے اسے شدید حیران کیا …

” کوئی بھی کام ہو ذیشان یا تیمور سے کہو گی تو وہ کر دیا کریں گے , میں نے ان کو کہے دیا ہے … کسی شاپنگ مال جانا ہو وغیرہ … ایک بات میری یاد رکھنا ماہین تم اپنے کولیگس کو آفیس تک محدود رکھنا گھر تک کسی کو لانے کی ضرورت نہیں … پاپا کو یہ چیزین پسند نہیں … ان دنوں پاپا کا موڈ خراب ہوگا تو تھوڑا برداشت کر لینا کچھ دن لگیں گے انہیں تمہیں سمجھنے میں …. وہ اسے اچھی طرح سمجھا رہا تھا گھر کے ماحول کے بارے میں کیونکہ اج چائے کے وقت بھی طاہر افندی نے ماہین کے سلام کا جواب نہیں دیا یہ چیز شدت سے محسوس کی دانش نے پر ماہین نے تو اس وقت کوئی تاثر نہیں دیا , پر دانش کو اندازہ تھا کہ ماہین کو تکلیف ہوئی ہوگی , اس لیے اس وقت اسے سمجھا رہا تھا …

وہ دھیان سے اس کی بات سن رہی تھی اور جواب بھی دے رہی ہے تھی … “ہممم سمجھ گئی , جی خیال کروں گی … ماہین نے مختصر الفاظ میں اپنی بات ختم کی …

پھر وہ اس کا ہاتھ تھام کر اس کی ہتھیلی پر پیسے رکھتے ہوئے بولا …

“یہ تمہاری منتھلی پچاس ہزار ٹھیک ہیں …

“آخر اسے یاد ایا کہ وہ اس کی ذمیداری ہے … ماہین نے سوچا پر کہا نہیں …

“ڈرائیور کی تنخواہ منتھلی میں دے دیا کروں گا باقی 50 ہزار گاڑی کے پیٹرول اور تمہارے خرچے کے لیے ٹھیک رہیں گے نا … دانش نے اس سے پوچھا …

“ہاں سہی ہیں … ماہین نے کہا …

وہ پھر سے بولا …”اور ضرورت ہو تو مانگ لیا کرنا …

“ہممم ٹھیک ہے … اسی وقت ماہین کو وہ خود سے لگا گیا اس کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑا … پھر اپنی چیزین اٹھاتا باہر نکلا تو ماہین اس کا لیب ٹاپ بیگ اٹھا کر اس کے پیچھے چلنے لگی …

یوں دانش روانہ ہوگیا ایئرپوٹ کے لیئے … ماہین اکر روم میں سوگئی …

@@@@@@@@

پندررہ دن گزرچکے تھے اسے اس آفیس میں کام کرتے ہوئے , ایک نیا پروجیکٹ ان کو مل چکا تھا جس پر وہ کام کررہی تھی … یہاں پر ٹیمس پراپر نہیں بنی ہوئی تھیں … اسے جو ٹیم ملی اس کے ساتھ وہ کام میں جُت گئی … واقعی بہت محنت کرنی پڑرہی تھی اسے یہ بھی اچھا ہوا دانش پندرہ دن بعد آیا بھی نہیں , اس نے بھی پلٹ کر پوچھا بھی نہیں کہ آخر آئے کیوں نہیں , دعا کبھی اس کے پاس سوتی کبھی اپنے روم میں سوتی , ماہین اسے کبھی انسسٹ نا کرتی تھی …

دانش کے جانے کے اگلے دن اس نے کھیر بنا کر کام کرنا اسٹارٹ کرنا چاہا پر اس کی ساس نے کہا صرف رات کی سبزی اور رات کو جو قہوہ بنتا ہے کھانے کے بعد وہ سب کو دینا ہے , یہ کام اس کے ذمے لگادیا , یوں گھر کے کاموں میں بھی وہ تھوڑا بہت ہاتھ بٹانا شروع ہوچکی تھی … یہ بھی اچھا ہوا نور کے طعنوں سے وہ بچ گئی تھی کیونکہ وہ چلتے پھرتے کہتی تھی کہ “ہاں ہم تو ملازم ہیں یہ تو کمائے گی کھائے گی کیونکہ اس کا شوہر بھی جو زیادہ کماتا ہے … اوپر سے وٹا سٹا ہے کچھ بھی ہے یہاں مسئلہ ہوگا تو وہاں پر بھی کھڑے کرے گی اب اس سے تو کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا ….

اس طرح کے کئی طعننے نور کے پاس تھے ماہین کو مارنے کے لیے پر ماہین نے ان طعنوں پر کان دھرنے کو کوئی فوقیت نہ دی … وہ چپ ہی رہتی تھی … ماہین یہی سوچتی کہ چلو میری ساس کی کمی پوری کررہی ہے نور آپی …. پھپھو اسے کچھ نہ کہتی تھی , دعا سے اس کی دوستی ہوگئی تھی پر ایک نور ہی تھی جسے جانے کونسی پرخاش تھی , یہ ماہین کی سمجھ سے باہر تھی … بحرحال وقت کا کام تھا گزرنا سو گزر ہی رہا تھا …

آج اس کا پہلا پروجیکٹ تھا وہ اپنی پریزیٹیشن شو کررہی تھی آفیس میں ہی اپنے کولیگس اور سینئیرز کو … وہ اپنے نرم آواز میں سب کو اپنا آئیڈیا بتارہی تھی …

“تو مس ماہین اپ کا آئیڈیا تو اچھا ہے اور اس کی مارکیٹنگ اسٹرجیٹس آپ کی پریزنٹیشن میں ایڈ کرلیں … باس نے کہا …

“نو سر مسٹر جنید شاہ پہلے اپنے مارکیٹنگ پلان ریپریزینٹ کریں تو میں بہتر جواب دے سکتی ہوں کہ وہ اس قابل ہیں ان کو ایڈ کیا جاسکے میری پریزینٹیشن کے ساتھ … ماہین نے سادہ لفظوں میں کہا … پر اپنے انداز سے وہ جنید شاہ کو اگ لگا گئی …

“ایکسکیوزمی مس … میں اپ کو ریپریزینٹ کروں آر یو اوٹ آف مائینڈ … جنید شاہ جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا تند آواز میں بولا …

“ائی ایم ان مائی سینسس مسٹر … ماہین نے دو ٹوک کہا …

“لسن مس ماہین میں اپ کو دے دوں گا پریزنٹیشن بنا کر اپ اس میں ایڈ کر لیجئے گا پہلے آپ کے آئیڈیاز کی ڈیٹیلس ہوں گی اور پھر اس کے بعد اس کی مارکیٹنگ اسٹیجٹیز ہوں گی دیٹس اٹ … یا پھر اپ اپنی مجھے پریزنٹیشن دے دیں میں اس میں ایڈ کر دوں گا … جنید شاہ ضبط سے بولا , غصہ تو اسے بہت ارہا تھا , کل کی لڑکی اسے جانچے گی پھر ایڈ کرے گی …

“نو مسٹر جنید شاہ پہلے اپ اپنی سٹریجٹیز مجھے رپریزنٹ کریں گے اور اس قابل ہوں گی تو میں اپنی پریزنٹیشن کا حصہ بناؤں گی … ماہین نے صاف الفاظ میں کہا …

“سر کسی بھی چیز کو بہتر بنانے کے لیئے اسے اچھی طرح ڈسکس کرلیں گے تو کلائینٹ کو کوئی غلطی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گی … جب سب کچھ یہاں ڈسکس ہوگا تبھی ممکن ہوگا کہ کلائینٹ کے سامنے شرمندگی نہ ہو , مسٹر جنید شاہ یہ اوور کانفیڈنس اپ اپنے پاس رکھیں یہاں پر ہم سب مل کر ہی کام کریں گے تب بھی بہتر طریقے سے خود کو ریپریزینٹ کر سکیں گے … ماہین صاف گوئی سے بولی اس کے لہجہ میں نہ لڑکھڑاہٹ , نہ لہجہ سخت اور تند تھا … نرمی سے کیسے کسی کی بولتی بند کی جاتی ہے وہ آج ماہین نے ثابت کیا تھا ….

“آئے تھنک مس ماہین از رائیٹ … جنید شاہ اب آپ اپنی پریزینٹیشن دکھائیں …باس نے کہا …

“کل صبح پریزینٹیشن لے کر آؤن گا پھر ڈسکس کرلوں گا … جنید شاہ اپنے لہجے کو کنٹرول کرتا ہوا بولا , وہ چاہ کر بھی باس کے سامنے کچھ نہ کہے سکا …

“سر ائی وانٹ ٹو سے سم تھنگ … ماہین کے ایک دم بولنے سے سب چونکے تھے …

“جی بولیں … باس نے کہا …

“سر مجھے لگتا ہے کچھ اشوز ہیں ہمارے سسٹم میں جن کو ریزولو ہونا چاہیئے … وہ مضبوط لہجے میں بولی ….

جنید شاہ حیران ہوا پندرہ دن میں یہ اس قابل ہوگئی ہے جو یہاں بیٹھ کر اپنے باس کو کہے رہی ہے سسٹم میں اشو ہے …

“مس ماہین آئے نو آپ کا اشارہ کس طرف ہے , ائیے اپریشییٹ یور ائیڈیاز اف یو کم ٹو مائے افس اینڈ ڈسکس ودھ می پرسنلی , ناٹ ان فرنٹ اف ایوری ون … باس نے نرم لہجے میں کہے کر اس کا حوصلہ بڑھایا کہ وہ اس کی بات سن سکتے ہیں اگر وہ پرسنلی بتائیں , یہاں سب کے سامنے بتانے پر اعتراض کیا … یہ بھی انہوں نے ماہین کے لیئے کیا تھا ….

“اوکے سر … وہ سر خم کرتی ہوئی بولی … یوں میٹنگ برخاست ہوئی تو وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر جنید شاہ کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی تھی …

جنید شاہ جو ضبط کیے ہوئے تلملا رہا تھا اس کے ہر انداز پر , اس کے سامنے وہ کھڑی ہوئی اور بولی تو آواز میں وہی ازلی کانفیڈینس تھا ….

“مسٹر جنید شاہ کل صبح ملتے ہیں اپ کی پریزنٹیشن کے ساتھ اوکے وش یو گڈ لک …

وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور وہ غصے کھولتا ہوا دیکھتا رہ گیا …

جاری ہے