Rate this Novel
Episode 41
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 41
دانش کی آنکھیں نم ہوئیں یہ سوچ کر کہ “اس کی نایاب اتنی ظالم کیسے ہوسکتی ہے … کیوں کیا یہ سب تم نے … میرا اعتبار کیوں توڑا … وہ خود سے سوال کررہا تھا …
کافی دیر کے بعد وہ بچون کو ملازمہ کے حوالے کرکے خود چلا گیا … وہ بے وجہ رستے پر گاڑی چلاتا رہا ہے کئی دفعہ ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا پر ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کا سانس گھٹ رہا ہو پر یہ درد برداش سے باہر تھا …
آخرکار دو گھنٹے کے بعد گھر آیا دل میں ایک عہد کرکے نایاب سے پوچھے گا “آخر اس نے ایسا کیوں کیا …
دانش کے جیسے ہی لاؤنج میں قدم رکھا تو نایاب کی آواز اس نے سنی جو کہے رہی تھی …
“آپی میں تنگ اگئی ہوں تنویر کے سوالوں سے ہر وقت ماہین اور چاہت کا پوچھتا رہتا ہے , دانش کے دماغ سے ماہین کو نکالا اور اس کے گھر سے نکالا تو میرے بیٹے کے دماغ سے یہ دونوں ماں بیٹی چمٹ کر رہ گئی ہیں … سچ میں تنگ اگئی ہو ہر وقت اسے اس طرح کی دوائی پلانا کہ وہ سویا رہے اور اپنے باپ سے کوئی بات نہ کرے اخر بھول کیوں نہیں جاتا وہ ان دونوں کو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ ایسا کچھ نہ بتا دے ہر وقت یہ خوف لگا رہتا … نایاب اپنی کہے جارہی تھی … دانش کو اچھی طرح سمجھ میں اگیا وہ اپنی بہن سے بات کر رہی ہے …
” نایاب یہ سب کر رہی تھی تو اتنا تو دھیان رکھتی کہ آس پاس کا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا جو تم چاہت کے ساتھ کر رہی تھی … اس کی بہن نے کہا …
“آپی مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ کب وہ میرے پیچھے اگیا ویسے بھی ہر وقت تو وہ ٹوہ میں رہتا تھا ان دونوں ماں بیٹی کے … ماہین کو بھی تو پتا چل گیا تھا اس دن اس کے گھر اکر میں نے ہی چاہت کو مار دیا بہت چالا کے میری قدموں کی اٹھ بھی پہچان گئی اور میرے پرفیوم کی سمیل بھی … نایاب نے غصے سے کہا …
“بڑی بات ہے اس نے دانش ایک دفعہ بھی نہیں کہا کہ تم نے کیا کیا … اسکی بہن حیرت سے بولی , تب بھی جب اس نے سنا تھا کہ ماہین کو سب پتہ ہے اس کی چپ پر حیران تھی اج بھی اپنی حیرت کا اظہار اپنی بہن کے سامنے کر رہی تھی کہ ماہین کیسے چپ بیٹھ گئی اس وقت ….
اس کی حیرت پر ہنستے ہوئے نایاب فخر سے بولی …
“نہیں اس میں اتنی ہمت کہاں کہ وہ دانش کو میرے خلاف کچھ کہے … کیا وہ اندھی ہے یہ دیکھ نہیں سکتی تھی کہ کس قدر دانش مجھ سے محبت کرتے ہیں اس کی بات پہ تھوڑی یقین کرتے ہیں جو وہ اسے بتاتی … بہت سمجھدار تھی اسی لیئے تو چھوٹی چھوٹی بیوقوفیاں نہیں کرتی تھی … اچھا ہوا وہ نہیں بولی اگر بولتی تو دانش تھوڑا بہت شک میں ضرور ا جاتے وہ بے وقوف تو اتنا بھی نہیں سمجھتی تھی کہ دانش اس کی زبان پر بھروسہ کرتے تھے اسے نہ بتائے پھر بھی اس کی باتوں پر غور و فکر ضرور کر لیتے تھے … اور سمارٹ لڑکیاں اتنی بے وقوف ہوتی ہیں … نایاب ہنس رہی تھی ماہین کو سوچ کر ساتھ ساتھ اس کی بہن بھی …
جبکہ دانش دنگ ہوکر سن رہا تھا واقعی وہ اس کے پیار اعتبار کو اس کی بےوقوفی سمجھ کر اسے استعمال کرتی رہی …
“چھوڑیں ماہین کو , پلیز اپ بھی اپ کچھ بتائیں مجھے لگتا ہے ایسی دوائیں پلانے سے میرے بچے کے ذہن پر نہ اثر پڑ جائے کچھ ایسا کروں کہ اس کے دماغ سے یہ ساری باتیں نکل جائیں … نایاب نے اپنی ایک اور فکر اسے بتائی …
“میرا خیال ہے کہ تم اس کو کہہ دو کہ ماہین اور چاہت مر گئی ویسے بھی چاہت تو مر گئی ہے نا … تنویر کے لیے ماہین کو مار دو سیدھا سیدھا جان چھوٹ جائے گی ویسے بھی اب تو دانش کی زندگی میں دوبارہ انے سے رہی ماہین …
اپی کی بات پر دانش حیران ہوا کس قدر گری ہوئی تھیً دونوں بہنیں کہ ایک زندہ کو مرا ہوا کہتے ہوئے بھی ان کو تکلیف نہیں ہوتی ویسے بھی حیرت کی بات نہ تھی جو ایک بچے کو مار سکتی ہے وہ کتنی ظالم عورت ہو سکتی ہے اور جو جان کر بھی چپ تھی اور اسے ٹوکنے کے بجائے اس کا ساتھ دے رہی تھی وہ کس وہ بھی اتنی ہی ظالم تھی جتنی اس کی بہن …
“سچ اپی ایک مصیبت سے نکلتی نہیں ہوں کہ دوسری میں پھنس جاتی ہوں اتنی مشکل سے دانش کی زندگی سے نکالا ہے کتنے پاپڑ بیلیں ہیں … مجھے شدید نفرت ہے ماہین سے اور اس کی بیٹی سے … کس قدر فکر کے ڈرامے کرنے پڑے دانش کا اعتماد حاصل کرنے کے لیئے … میرے اختیار میں ہوتا تو اس معصوم کے بجائے ماہین کو ہی مار دیتی تو جان چھوٹ جاتی جو ہر وقت میرے شوہر کے دل و دماغ میں رہتی تھی … نایاب کے لہجے میں بے انتہا نفرت تھی ان دونوں کے لیے جسے شدت سے دانش نے محسوس کیا کاش وہ پہلے محسوس کر لیتا تو اج حالات ایسے نہ ہوتے …
“بس کرو نایاب ایسا نہ ہو کہ دانش ا جائے … اب کے اس کی بہن تھوڑا فکر سے بولی تھی اسے …
“آپی وہ اتنا جلدی نہیں اتے بے فکر ہو جائیں لیٹ نائٹ ہی اتے ہیں … نایاب نے ان کو تسلی دی …
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولی …
“آپی مجھے اتنی ذہنی اذیت محسوس ہوتی تھی جب دانش اتنا یقین سے ماہین کے لیے کہتے تھے یہ کام وہ نہیں کر سکتی وہ کام نہیں کر سکتی میری کزن ہے میں جانتا ہوں اتنی تکلیف مجھے ہوتی تھی کہ وہ کس دعوے سے اس طرح کہہ رہے ہیں جبکہ محبت کے دعوے تو میرے لیے کرتے تھے اور سمجھنے کے دعوے ماہین کے لیے … ہمارے اپ کو وہ وقت بھولا نہیں تھا اس لیے اج بھی چھ مہینوں کے بعد ان باتوں کا ذکر کر رہی تھی …
“بس نایاب چھوڑو اس بات کو ویسے بھی شکر کرو کہ ان سب سے تمہاری جان چھوٹ گئی ہے اب تو ان کا ذکر بھی مت کیا کرو … بہن نے سمجھایا …
“سچ میں اپی سکون اگیا ہے میری زندگی میں بس دعا کریں اب یہ تھوڑے جو فائننشل کرائسز ہیں وہ بھی کم ہو جائیں تو بس سکون ہی سکون ہو میں تو سوچ رہی ہوں کسی ٹرپ پہ لے جاؤں تاکہ تنویر کے دماغ سے یہ ساری باتیں نکل جائیں … نایاب نے کہا …
اسی وقت اچانک دانش اس کے سامنے آیا … وہ شاک ہوکر دیکھنے لگی … بغیر ایک لمحہ دیر لگائے دانش نے اسے کئی تھپڑ مارے “تم ان تھپڑوں کے لائق تھی جو میں نے ماہین کو مارے کاش تمہیں مارتا تو اج میری زندگی میں سکون بھی ہوتا اور کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوتا …
“دانش میری بات سنیں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں سب کچھ ویسا نہیں …. نایاب جلدی سے بولی وہ اتنی تھپڑ کھانے کے باوجود بھی اپنی طرف سے اخری کوشش کرنا چاہتی تھی دانش کا دل صاف کرنے کے لیے … نایاب کے بولنے پر وہ شدت سے بولا …
“چپ ایک لفظ مت بولنا اپنی گھٹیا زبان سے جھوٹی مکار , منافقت عورت , نفرت کرتا ہوں میں تم سے … نایاب مجھے نفرت خود سے ہے کہ میں نے تم سے اتنی شدید محبت کی اور اس قدر اعتبار کیا تم نے میرے اعتبار کی دھجیاں بکھیر دی مجھے برباد کر دیا مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا تم نے …. دانش کے لہجے میں دکھ درد اذیت والی کیفیت تھی …
“دانش میں اپ سے محبت کرتی ہوں جو بھی کیا آپ کی محبت میں کیا ہے …. نایاب نے اپنے حصے کی صفائی دینے کی کوشش کی … جس پر دانش چیختا ہوا بولا …
“بکواس بند کرو اپنی گھٹیا اور گندی زبان سے محبت جیسے انمول جذبے کا نام لینے کی بھی کوشش مت کرنا محبت کو سمجھا کیا ہے تم نے تم جیسی مکار اور ڈرامے باز عورت کو محبت کے میم کا بھی نہیں پتا …. دانش کے لہجے میں غصے اور نفرت کی امیزش تھی …
“نایاب اتنی ظالم کیسے ہوسکتی ہو بتاؤ کیسے ہوگئی جو اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے ایک معصوم بچی کو مار دیا … ظالم عورت ایک دفعہ مجھے کہہ کر تو دیکھتی اتنی شدید تم سے محبت کرتا تھا کہ ماہین کو چھوڑ دیتا گھر کے کسی کونے میں پڑی رہتی لاہور میں یا پھر اسے طلاق ہی دے دیتا ویسے بھی وہ مانگ ہی تو رہی تھی مجھ سے میں بے وقوف تم پر اعتبار کر کے اسے زندگی میں لے کر ایا اور اس کی زندگی ساری برباد کر دی ہمارے دونوں بچے چلے گئے تمہیں شرم نہیں اتی … بولو تمہیں خدا کا خوف نہیں ہوتا , ہم خود دو بچوں کے ماں باپ ہیں اس کے دونوں بچے چھین لیئے ہم دونوں نے … نایاب تم تو ڈائن سے بھی بدتر عورت ہو , ڈائن بھی سات گھر چھوڑ کر وار کرتی ہے تم تو اس سے بھی گئی گزری نکلی تم نے میرے ہی گھر میں میری بیٹی کو مار ڈالا ایک اب نارمل بچی سے تم اتنا ان سیکور ہو گئی … ماہین کیا کرتی تھی کبھی تمہارے اور میرے معاملے میں نہیں پڑی یہاں تک کہ اس کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ تمہارے خلاف ایک لفظ بھی کہتی … ہاں اس کی انکھوں میں میں نے تمہارے لیے ایک بے اعتباری ضرور دیکھی تھی پر میں حیران تھا کہ اس کی ہمت نہیں تھی کہ وہ کہہ نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کتنی شدید محبت میں تم سے کرتا ہوں وہ میری انکھوں میں تمہارے لیے محبت دیکھ سکتی ہے تم اندھی ہو , تمہیں دکھائی نہیں دیتا تم کہہ دیتی تمہیں ماہین سے نفرت ہے میں چھوڑ دیتا تم پر ہزاروں ماہین قربان کر دیتا تم لائق تو نہیں ہو اتنی محبت کے پھر بھی میری محبت میں اتنا میں ضرور کرتا اپنی محبت کے لیے … کیوں کیا تم نے ایسا خود بھی گنہگار ہو گئی اور مجھے بھی اس کا گنہگار بنا دیا وہ کبھی ہم دونوں کو معاف نہیں کرے گی سب کچھ ختم کر دیا تم نے نایاب سب کچھ … ہماری زندگی کا سکون راحت ارام سب چلا گیا کچھ نہیں بچا … سب ختم کر دیا تم نے مکار عورت … میں تم سے شدید نفرت کرتا ہوں … چیک چیک کر بولتا اور کہتا ہوا سائیکو ہی لگ رہا تھا …
وہ رو رہی تھی گڑگڑا رہی تھی “پلیز دانش مجھے معاف کر دو خدا کا واسطہ ہے مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے معاف کر دو … وہ اس کے ہاتھ پکڑ کر بولی تھی …
“کس کس بات کی معافی مانگو گی تم … تم میرے ساتھ ساتھ ماہین کی بھی گنہگار ہو تم نے ایک معصوم کی جان لیتے ہوئے بھی نہیں سوچا ایک دفعہ بھی نہیں سوچا کہ ہماری بھی اپنی اولادیں تم واقعی ظالم بہت ظالم بہت ظالم ہو اور گھٹیا بھی ہو … دانش کے لہجے میں شدید نفرت بول رہی تھی … وہ وہاں سے جانے لگا تو وہ اس کا بازو تھام گئی اور بولی …
“پلیز دانش کہاں جارہے ہیں مجھ سے بات کریں … میں مر جاؤں گی … اس کے لہجے میں تڑپ تھی تو وہ بھی اسی تڑپ میں شدت سے بولا “کیا تم نہیں جانتی تھی کہ جس دن تم نے میرا اعتبار توڑا میں مر جاؤں گا … وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی اور پھر دوبارہ وہ نفرت بھرے لہجے میں بولا …
“تو مرجاؤ تم … تم خود کیوں نہیں مر گئی یہ سب کرنے سے پہلے , کاش نایاب تم مر جاتی … کاش تم سے شادی نہ کرتا تو ماہین جیسی اچھی لڑکی میری ہمسفر بنتی , وہ خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جن کے نصیب میں ماہین جیسی لڑکیاں ہوتی ہیں اور کچھ مجھ جیسے بدنصیب ترین لوگ ہوتے ہیں جن کو ماہین جیسی لڑکی بھی مل جاتی ہے پر وہ اس کی قدر نہیں کر پاتے اور اسے چھوڑ کر اپنے لیے بد نصیبی کے دروازے کھول لیتے ہیں اور سیاہی اپنے تقدیر میں لکھ لیتے ہیں … کاش تم سے کبھی نہ ملتا پیار کر لیا تھا تو شادی نہ کرتا بہت غلط کیا میں نے اپنے ساتھ بھی اور ماہین کے ساتھ بھی … دانش دکھ سے بولا آخری الفاظ …
نایاب جو اس کا بازو پکڑے ہوئے تھی روکنے کے لیے اس کا بازو چھوڑ گئ … وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی اور دانش اس وقت گھر سے نکل گیا …
محبت کھڑی اس پر مسکراتی رہی جہاں منافقت ہو وہاں محبت کہاں رہتی ہے …
@@@@@@@@@@
ماہین لندن آئی تھی فنڈنگ کے لیئے تین دن کا چیریٹی پروگرام جو زبیر اور انوشے نے منقعد کیا تھا … ماہین کی عدت کے دوران ہی زبیر آیا تھا اور دونوں کا نکاح ہو گیا تھا تاکہ وہ کاغذی کاروائی کر سکے تین مہینوں کے اندر ہی انوشے رخصت ہو کر زبیر کے پاس چلی ائی تھی …
ماہین دونوں کو ساتھ دیکھ کر بے انتہا خوش تھی … دونوں کے بیچ پیار صاف نظر ارہا تھا انوشے نے بہت اچھے طریقے سے اپنے تایا جان کا گھر سنبھال لیا تھا اور اس معصوم بچے سے وہ کیا دشمن کرتی جو معصوم انجان تھاماں کے لمس سے وہ تو پہلے دن ہی اس کی ماں بن گئی تھی … معصوم سے معیز نے اس کا دل جیت لیا تھا …
ماہین کو بے انتہا خوشی تھی اس معصوم بچے کو اتنی پیاری ماں مل گئی تھی … چھوٹا سا معیز نکھر گیا تھا ماں کو پاکر , اس کا وزن بھی بڑھنے لگا تھا پہلے جو ایک کمزور سا لاگر بچہ تھا صحت مند دکھنے لگا تھا انوشے نے دو مہینے میں ہی اس قدر اس کا خیال رکھا واقعی ماں ماں ہوتی ہے اور ملازمہ ملازمہ ہوتی ہے یا نرس وہ صرف نرس ہوتی ہے کبھی ماں نہیں بن سکتی … ماہین کو فخر تھا اپنی سہیلی پر … سب کو جو لگتا تھا کہ زبیر شاید کبھی اپنی پہلی بیوی کو بھول نہیں پائے گا پر انوشے نے اپنے پیار اور محبت سے اپنی جگہ بنا لی تھی دو مہینوں میں اس کی زندگی میں …
یوں تو ماہین کی عدت ختم ہونے کے بعد ہی سب نے کہا کہ انوشے کے ساتھ وہ بھی لندن چلی جائے تاکہ اس فرسٹریٹڈ ماحول سے نکل کر کچھ فریش ہو جائے پر ماہین نے اب خود پر ساری چیزیں حرام کر لی تھیں سب کے اتنے سمجھانے کے بعد بھی وہ نہیں مانی جبکہ تایا جان بھی چاہتے تھے کہ وہ انوشے کے ساتھ ائے تاکہ وہ بہو کے ساتھ ساتھ بیٹی کا بھی سکھ دیکھیں … مدثر آفندی کے لیے ماہین بالکل اپنی بیٹیوں جیسی تھی اب … جو کام زبیر اور انوشے نہ کر سکے وہ کام اشیانہ فاؤنڈیشن نے کیا اسے اس غم اور درد سے باہر نکال دیا جس کی کسی کو امید بھی نہ تھی اس لیے اب اسے لندن بلانے کے لیے انہوں نے یہ چیریٹی فنکشن اورگنائز کیا تھا جسے تین دن چلنا تھا …
بہت زبردست طریقے سے فنکشن کے ارگنائزیشن تھی اور لاسٹ ڈے پر میوزیکل نائٹ تھی جو بھی اس کے ٹکٹس کے پیسے ملنے تھے وہ سب چیریٹی میں جانے تھے آشیانہ فاؤنڈیشن کی …
اس وقت اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب شانی ایز آ سنگر لائیوو پرفام کرتا لندن کی ہوا پرسوز کررہا تھا اس کے سرون سے محفل جمی تھی …
ہر طرف اس کے فین ہی فین تھے … ماہین ضبط سے بیٹھی رہی کیونکہ آشیانہ کی وہ ہیڈ تھی , آج کے دن عیان انکل , انشاء آنٹی اور جنید بھی موجود تھا ….
پھر جب شانی نے جنید کو بلایا اسٹیج پر تو الگ کی ماحول بنا اور اس دن پہلی دفعہ ماہین کو پتہ چلا جنید شاہ اور شانی بیسٹ فرینڈ ہیں … ان کی دوستی اور ان کے بیچ پیار صاف نظر ارہا تھا …
@@@@@@@@
دانش کا حال برا تھا نہ وہ گھر پر کھاتا نہ پیتا نا نایاب سے بات کرتا … چار دن میں نایاب نڈھال سی ہوگئی اسے مناتے مناتے , کبھی اس کے پاؤں پکڑ کر کبھی ہاتھ تھام کر صفائیاں دیتی رہتی کہ “یہ سب اس نے اس کی محبت میں کیا اور دانش محبت لفظ کہہ کر دوسری طرف منہ پھیر کر تھوک دیتا اور وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی وہ اس کی ذات پر تھوک رہا ہے نہ تھوک کر بھی …
گھر کا ماحول عجیب ہوگیا تھا دس دنوں میں … نایاب ماہین کو ہر وقت بددعا دیتی رہتی غصے میں … دانش کو نوکری سے نکال دیا گیا کیونکہ پچھلے چھے مہینوں میں ایک بھی ٹارگیٹ وہ پورا نہ کرسکا تھا … اب تو نایاب کی اصلیت کھلنے کے بعد پچھلے دس دنوں میں نہ وہ صحیح سے افس جا رہا تھا نہ کوئی کام کر پا رہا تھا اسی لیے افس والوں نے اسے ٹرمینیٹ کر دیا …
نایاب جب بھی ماہین کو گالیاں یا بد دعائیں دیتی تو دانش ہستا رہتا اور تمسخر لہجے میں کہتا “تمہاری کوئی بددعا اسے لگ ہی نہیں سکتی کیونکہ ہم اس کے گنہگار ہیں ایسا نہ ہو کہ تم جو بد دعائیں اسے دے رہی ہو وہ ساری گھوم پھر کر ہمیں ہی نہ لگ جائیں … دیتی رہو ہمممم دیتی رہو دیکھنا اپنا انجام تم …
” دانش کیوں ہماری زندگی کا سکون تباہ کر رہے ہو جو ہونا تھا ہو گیا پلیز اپنے اپ کو مت تباہ کرو ہمارے بچوں کا ہی سوچ لو … وہ اس کے قدموں میں بیٹھی بولی تھی …
” انہی کا سوچ کر تو تمہیں طلاق نہیں دی نہ چاہتے ہوئے بھی گھر واپس اتا ہوں ورنہ تمہیں طلاق دے کر کب کا خود در بدر ہو جاتا اتنا در بدر ہو جاتا کہ یہ دنیا میں کبھی کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ دانش جیسے ادمی کا بھی کوئی وجود تھا اتنی نفرت میں خود سے کرتا ہوں سوچ سکتی ہو تم … کیا واقعی تم سمجھ سکتی ہو تمہیں زندہ نظر انے والا شخص اندر سے مر چکا ہے تم ایک زندہ کے ساتھ نہیں مرے ہوئے شخص کے ساتھ رہ رہی ہو تم جتنی ماہین کو بد دعائیں دو گی اتنی اذیت میں اپنے اندر محسوس کرتا ہوں …
اتنا کہے کر وہ اسے ٹھوکر مارتا چلا گیا ….
@@@@@@@@
آہستہ آہستہ نایاب نے کچھ کہنا چھوڑ دیا … وہ خاموش بولائی پھرتی رہتی گھر میں , بچے الگ ڈسٹرب رہنے لگے …
کیسے ایک مہینہ ان اذیتون میں گزرا پتہ ہی نہیں چلا دانش بے روزگار کا بے روزگار ہی تھا پیسے ختم ہونے لگے تھے تنویر کی پڑھائی ڈسٹرب ہو رہی تھی سنی بھی چڑچڑا رہنے لگا تھا نایاب گم سم اداس رہنے لگی تھی پر ماہین کو بددعائیں دینا اس نے نہیں چھوڑیں تھیں کیونکہ اب بھی اسے لگتا تھا کہ ماہین ان کی زندگی میں نہ اتی تو یہ سب کچھ نہ ہوتا اور اگر وہ دانش کی زندگی میں تھی بھی صحیح تو اسے کبھی بھی اسلام اباد نہیں انا چاہیے تھا … نایاب کی بہن اسے بہت سمجھاتی تھی کہ دانش جو کر رہا ہے اسے کچھ دن اس کے حال پہ چھوڑ کر وہ اپنے بچوں پر توجہ دے پر نایاب تو دانش کی بے اعنتائی نے پاگل کر کے رکھ دیا تھا وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہ تھی بس ماہین کو بد دعائیں دینا گالیاں دینا ہی اس کا کام رہ گیا تھا بچوں پر توجہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی …
@@@@@@@@@@
نایاب کو ذرا احساس نہ تھا اس کی بد دعائیں کیا رنگ لانے والی تھیں … یہ جمعے کے روز کی بات ہے جب دانش شام میں گھر آیا چوکیدار کے بلانے پر … انہوں نے بتایا امرجنسی ہے پر صحیح بات نہیں بتائی تھی … جب وہ گھر ایا تو نایاب کی باہوں میں ساکت پڑے اپنے بیٹے کا وجود دیکھ کر اس کے پیروں سے زمین نکل گئی …. نیلا جسم ہونٹ کالے پڑ چکے تھے اس کے معصوم سنی کے …
“یہ کیا ہے کیسے ہوا یہ سب … وہ دکھ سے بولا آنکھیں بہنے لگیں تھیں …
“صاحب ہمیں نہیں پتا کب سنی بابا اسٹڈی میں چلے گئے اور وہان جو تار لگی تھی اپنے منہ میں لے لی … ہم لوگوں نے جب دیکھا تب تک تو …. ملازمہ مبہم لفظوں میں بتاتی دانش کا دل دہلا رہی تھی …
نایاب جو سن اور ساکت ہوکر بیٹھی تھی اس کے پاس دانش اکر بولا …
“نایاب کیا ہوگیا ہمارے بیٹے نایاب بولو … نایاب .. وہ جو ساتھ اپنے بیٹے کو اٹھائے ہوئے تھی وہ خلا میں گھورتی بولی “میرے قریب مت آنا میرے قریب مت اؤ مر جاؤ گے سب مر جاؤ گے میں نے مار دیا اپنے بیٹے کو میں نے مار دیا چاہت کو میں نے سب کو مار دیا میں سب کو مار دوں گی … وہ پاغلون کی طرح اپنا سر پیٹتے ہوئے بولی … دانش نے اسے تھپڑ مارا پھر بھی وہ اسی طرح پاغلوں کی طرح بولے جارہی تھی جبکہ دانش پھوٹ پھوٹ کر رورہا تھا …
“دوسروں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیاں اور گناہ گونگے نہیں ہوتے جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ مکافات عمل کی لاٹھی ہاتھ میں پکڑے ایک دم ہی سر پر آن برستے ہیں۔۔۔
“میں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہے … وہی تمہارا انصاف کرے گا …. میری بےگناہی کا گواہ صرف میرا اللہ ہے , اس دن میں نے تمہاری قدمون کی آہٹ سنی تھی کاش تم کو پکڑا بھی ہوتا …
“قیامت سنی تھی کیا ہوتی ہے , جس پر بیتتی وہی جانتا ہے اس کا درد … ایک قیامت تم نے برپا کی تھی میرے وجود پر اور ایک قیامت میرا رب تم پر برپا کرے گا …
یہی جملے نایاب کے دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح برستے رہے جب تک وہ سنی کا بےجان وجود تھامے رہی اور کب اپنا ذہنی توازن کھو بیٹی پتہ ہی نہیں چلا کسی کو … سنی کو گزرے کئی گھنٹے گزر چکے تھے …
روتا ہوا تنویر باہر آیا جسے پڑوسن اندر بٹھائے ہوئے تھی ملازمہ نے اسے روکنا چاہا پر وہ بھاگتا اپنی ماں کے پاس آیا “ماما سنی کو کیا ہوا … ماما میرا بھائی …
“دور ہٹو تم … میں تمہیں بھی ماردوں گی … میں ڈائن ہوں … میں سب کو مار ڈالوں گی میں سب کو مار دوں گی … وہ چیخ چلا کر بولی وہ تنویر کو دھکے دے کر خود سے دور کررہی تھی …
دانش برستی آنکھوں سے یہ قیامت خیز منظر دیکھ رہا تھا کوئی اپنا نہیں سب انجان لوگ پڑوسی آئے تھے جنہیں ملازمہ نے بلایا تھا کیونکہ چوکیدار اور ملازمہ ڈر گئے تھے یہ سب دیکھ کر …
دانش جلدی سے اٹھا اور کال لگائی شانی کو اور اپنے رب سے دعا کرنے لگا کہ “یا اللہ پلیز میرا بھائی فون اٹھا لے کوئی تو میرا اپنا ہو اس لمحے میں میں اکیلا اتنا درد برداشت نہیں کر سکتا …
شاید خدا کو بھی اس پر رحم اگیا کہ پانچویں کال اخر کار شانی نے اٹھا ہی لی …
“ہیلو … شانی نے کہا …
“ذیشان میرے بھائی یہاں آجاؤ … میں تنہا اکیلا ہوں کوئی اپنا نہیں میرے پاس … میں مررہا ہوں سب تباھ ہوگیا میرا بیٹا مرگیا … میرا گھر تباھ ہوگیا … دانش کا گڑگڑاتا ہوا لہجہ شانی کا دل دہلا گیا …
“,بھائی میں ارہا ہوں … بس ابھی نکلتا ہوں … آپ اپنا خیال کریں … بھائی سن رہے ہیں آپ میں ارہا ہوں آپ کے پاس … شانی تڑپ کر بولا … جتنا بھی دانش ظالم صحیح تھا تو سگا بھائی اس کا درد سن کر ذیشان سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ تڑپ کر اپنے بھائی سے بول رہا تھا کہ وہ ا رہا ہے اس کے پاس …
اسی وقت دانش دھڑام سے گرا اور ساتھ ہی ساتھ ہاتھ سے فون گرا تو پڑوسی نے جلدی سے اٹھا کر بولا …
“دانش صاحب بےہوش ہوگئے ہیں پلیز آپ جائیں مجھے لگتا ہے ان کی حالت ٹھیک نہیں ہم ہسپتال لے جاتے ہیں …
پڑوسی مل کر اسے گاڑی میں لے کر نکلے شانی نے ان سے ان کا نمبر بھی لیا تاکہ رابطہ کرسکے ان سے کہا کہ کسی بڑے ہسپتال میں لے جائے وہ جلد سے جلد پہنچ رہا ہے …
راستے میں دانش نے آنکھ کھولی پر دانش کے سینے میں شدید درد اٹھ رہا تھا وہ لوگ کچھ بول رہے تھے شاید تسلی دے رہے تھے یا حوصلہ دے رہے تھے اور اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا… درد تھا کہ بڑھتا جارہا اس کے ہونٹ تھے کہ پھڑپڑاتے جا رہے تھے کچھ کہنے کی چاہ میں وہ کچھ بھی نہیں کہے پا رہا تھا … آخری لفظ جو اس کے ذہن میں گونجے وہ تھے …
“ڈرو اس وقت سے دانش , جب میرا رب تم سے مجھ پر کیئے ظلم کا حساب لے گا ڈرو تم اس وقت سے…. یہ لفظ ماہین نے کہے تھے اس سے جب وہ اسے اسلام آباد لے جانے کی بات کی تھی دانش نے مغرور لہجے میں اور وہ دوبارہ پریگنینٹ ہوچکی تھی …
بہتے آنسوں اور بےانتہا درد کے ساتھ وہ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا ایک وجود کا ہی خیال اسے مارے جارہا تھا وہ تھی ماہین اور دوسرا تنویر کی فکر …
“پلیز دانش صاحب کوشش کریں لمبے سانس لیں , بس پانچ منٹ ہم اسپتال پہنچنے والے ہیں … ایک ادمی ان کو چہرہ تھپتھپا کر دوبارہ بولا تھا … پر دانش کی آنکھوں کے اگے اندھیرا چھاتا چلاگیا ذہن تارکیوں میں ڈوب چکا تھا ….
جاری ہے ….
