Rate this Novel
Episode 4
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 4
ماہین گھبرا گئی اس لمحے پر , جب کمر پر کسی اجنبی لمس محسوس کرکے چونکی تھی …
“سنبھل کر … دانش نے کہا اور اسے سیدھا کھڑا کرگیا … وہ حیرت سے دیکھنے لگی اور وہ اگے بڑھ کر سب بڑوں سے ملنے لگا … طاہر صاحب جن کو شام سے فکرمند سب نے محسوس کیا تھا اور کئی دفعہ پوچھا بھی پر وہ ٹالتے رہے … اب ان کے چہرے کی رونق دیکھنے لائق تھی …
جب طاہر صاحب کے گلے لگا تو انہون نے کہا “شکر آئے تو سہی …
“ڈیڈ غلط کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ … وہ تنبہیہ انداز میں بولا تھا …
طاہر صاحب ہمیشہ کی طرح اس کی اس بات کو اگنور کرگئے تھے اور بولے … “چھوڑو آؤ مامون سے تو ملو …
“جی … ابھی ملتا ہوں …
وہ ہونٹ بھینچ گیا اور بمشکل خود کو نارمل کرتا نادر آفندی اور سعدیہ بیگم سے ملا تھا …
سب جانتے تھے وہ اپنے کام میں شدید مصروف رہتا ہے … پہلے اس کی جاب اسلام آباد میں تھی پھر اپنا بزنس وہ اسٹارٹ کرچکا تھا اسلام آباد میں …
کھانے کا پوچھا گیا تو سھولت سے انکار کرگیا کہ فلائیٹ میں کھاچکا ہے اب صرف گھر جاکر چائے کا ارادہ رکھتا ہے …
وہ بےنیاز بنا کچھ دیر بیٹھ کر اٹھ کھڑا ہوا جبکہ انوشے سلگتی نظرون سے گھورنے لگی تھی اسے … اسے رہ رہ کر غصہ ارہا تھا دانش کے سرد رویئے کو دیکھ کر …
@@@@@@@@
ذیشان جو چند لمحے وہان بیٹھ سکا اٹھ کھڑا ہوا بھائی سے مل کر کسی نے ایک دم اس کا بازو دبوچا …
“یہ کیا طریقہ ہے نور … نور کا یہ انداز سخت ناگوار گزرا ذیشان کو …
“کیا تمہیں سنائی نہیں دے رہا بلارہی تھی تم کو … نور نے غصے سے کہا … وہ کیا کہتا کہ اس کے اندر اتنا شور تھا کہ آس پاس کی آوازون پر توجہ دیتا تو کیسے دیتا …
“ہمممم نہیں سنائی دیا , بولو کیا کہنا ہے … ذیشان نے ضبط سے کہا جبکہ اس کی ناگواری چھپی نہ تھی نور سے ….
“تم مجھے اگنور نہیں کرسکتے سمجھے … نور نے کہا تھا نروٹھے پن سے …
“میں اگنور نہیں کررہا تھا … وہ نرمی سے بولا تھا غصہ ضبط کرتے ہوئے …
“میں تمہاری منگیتر ہوں , پرسون بیوی بن جاؤن گی … مجھے تمہارا سرد انداز اور مجھے ان سنا کرنا پسند نہیں سمجھے شانی … نور نے حکمیہ لہجے میں کہا …
“مائینڈ یور لیگیونج نور , آئندہ یہ انداز میں برداش نہیں کروں گا … ذیشان اب کے سختی سے وارن کرتا ہوا بولا تھا …
اور وہ لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا … وہ دیکھتی رہ گئی اسے جاتا ہوا…
@@@@@@@@
“مام , شانی کا رویہ ٹھیک نہیں میرے ساتھ … نور ایدھا اپنی مان کے پاس آئی تھی …
“تو … انہون نے پوچھا …
“مام کچھ کریں نا … نور نے ان کا اگنور کرنا شدت سے محسوس کیا ….
“کیا کروں اب اور … اتنا تو کیا ہے تمہارے لیئے اور کیا کروں … بولو …
“مام مجھے پورا شانی میرا چاہیئے پلیز کچھ کریں نا … وہ فکرمندی سے بولی …
“نور میری بیٹی , میں نے کس طرح اپنی بہن کو منایا ہے اس رشتے کے لیئے تم کو اندازہ ہے … ذیشان ماہین کو پسند کرتا تھا پھر کتنی مشکل سے شائینہ آپا نے ناممکن کو ممکن کیا ہے … جانتی ہو … اب یہ شکوے شکایت میں نہیں کرسکتی اپنی بہن اور بھانجے سے … ہر لمحے دھڑکا لگا رہتا ہے مجھے ذیشان کی طرف سے …
“تو ماما , کیا ضرورت تھی دانش بھائی کی شادی ماہین سے کرانے کی , ماہین کو ہمارے آس پاس نہیں ہونا چاہیئے , یہ ٹھیک نہیں ہوگا میرے اور شانی کے لیئے … نور نے تند لہجے میں کہا …
“نور تم ماہین کی فکر چھوڑو , شانی پر اپنی توجہ رکھو … اس کی ماں نے کہا …
“پر ماما , وہ وہاں ہوگی تو شانی میرا کیسے ہوگا … نور کے ہر انداز میں واضع نظر انے والی خودسری اور خودپرستی تھی …
“ابھی رخصتی نہیں ہورہی تم اور شانی تو لاہور میں ہو نا تو انڈرسٹینڈنگ بنا لینا … جہان تک ماہین کی بات ہے وہ جب آئے گی تب اپنے شوہر کے ساتھ اسلام آباد رہے گی تم اس کی فکر چھوڑ کر اپنے رشتے کی فکر رکھنا اب سمجھی … انہوں نے اسے سمجھایا …
“جی ماما … وہ چپ ہوگئی کیونکہ نور کی ماما نے اس کی کسی بات کو کوئی اہمیت نا دی اس وقت … جس کا مطلب واضع تھا ان کو نور کا یون ماہین کو لے کر انسیکیور ہونا کچھ خاص پسند نہ آیا تھا ….
@@@@@@@@
“ماہین مجھے غصہ ارہا ہے … انوشے نے کہا …
“یہ کون سی نئی بات ہے … وہ تو تمہارے ناک پر رہتا ہے … ماہیں نے چٹکیوں میں اس کی بات اڑائی …
“پلیز یار مجھے کچھ گڑبڑ لگتی ہے دانش بھائی سہی نہیں تمہارے لیئے … ان کا انداز تمہیں اگنور کرنے جیسا تھا … انوشے نے فکرمندی سے کہا …
“وہم ہے تمہیں … ماہیں نے بےنیازی سے کہا …
“,کوئی وہم نہیں ہے بلکہ تم ہی زیادہ خوش فہم ہو ماہین… پلیز آنکھین کھولو کان کھولو یار … انوشے نے کہا …
“,یار مجھے چڑ ہونے لگی ہے انوشے , تمہارے اس ڈٹیکٹو طریقے سے , جیسے کہیں کی جاسوس لگی ہو تم … چھوڑو سوچنا تم انجوائے کرو …. ماہین نے اسے ریلہکس کرنا چاہا اب وہ اس سے کیا بتاتی کہ اس نے تو یہ سب سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے … جب شخص ہی من پسندیدہ نہ ہو تو پھر اس کے رویئے اور احساسات کو کون دیکھتا ہے اور کون سمجھنا چاہتا ہے … ماہین کا بھی حال کچھ ایسا ہی تھا …
“مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا شانی بھائی کو ہی دیکھ لو , ان کا سرد انداز نور آپی کے لیئے … اب کے انوشے نے ایک اور مسئلہ اٹھالیا اور فلرمندی سے کہا … انوشے کیا بتاتی کہ ماہین اور شانی اس کے لیے کیا اہمیت رکھتے ہیں , اس بات کا اندازہ تو ماہیں خود کو بھی تھا کہ انوشے کتنا ان دونوں سے پیار کرتی ہے …
“چپ کرو انوشے , نور نے آپی لفظ سنا اس کے لیئے ڈانٹ لگائے گی ہم دونوں کو … جانتی ہو ان کو ایج کا کوئی احساس دلائے تو غصہ ہوجاتی ہیں … ماہین نے ایک اور طرف اس کی توجہ دلائی تھی …
“اوکے اوکے … انوشے نے کہا ….
کچھ دیر کے بعد انوشے تو اٹھ گئی پر ماہین کو پھر نیند نہ آسکی رات بھر …
کچھ دیر کروٹین بدلنے کے بعد وہ نیچے لان میں آگئی …. گھاس پر ننگے پاؤن چلتے ہوئے وہ عجیب کیفیت کا شکار تھی …
“کیسے کٹے گی ایسے زندگی … وہ خود سے بولی مایوس انداز میں … اسی لمحے کسی کے قدمون کی چاپ سن کر وہ پلٹی تھی …
“امی آپ اس وقت … ماہین نے حیرت سے کہا …
“آنکھ کھل گئی تو سوچا تہجد پڑھ لون کوئی پریشانی ہے کیا … سعدیہ بیگم نے پوچھا …
“نہیں امی … بس نیند نہیں آرہی تھی اس لیئے یہان اگئی … ماہین نے کہا اور دونوں ماں بیٹی ساتھ چلنے لگی …
“کوئی بات پریشان تو نہیں کررہی میری بیٹی کو … سعدیہ بیگم نے پوچھا چلتے ہوئے …
ایک لمحے کو قدم تھمے ماہین کے پھر سنبھل کر بولی … “نہیں امی … کوئی پریشانی نہیں ہے … وہ خود کو نارمل کمپوز کرتے ہوئے بولی تھی …
“پتا نہیں کیوں ماہین مجھے تمہاری فکر رہتی ہے تم میری اور اپنے بابا کی سب سے فرمانبردار اولاد ہو کبھی کسی بات کی شکایت نہیں کرتی تم , ہمیشہ ہمارا سر فخر سے بلند رکھا ہے تم نے , تم نے خواہش کی تو بس یونیورسٹی جانے کی وہ ہم نے پوری کی تم نے ہمارا مان ہمیشہ بنائے رکھا …. مجھے فخر ہے تم جیسی بیٹی پر … پر میری جان بسس اتنا بتادو تم خوش ہونا اس رشتے سے , عمر کے اس فرق سے پریشان تو نہیں , کیونکہ ہمارے اور تمہارے دور میں بہت فرق ہے , ہمارے وقت میں یہ فرق یا اس سے بڑا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا تھا , پر اب کی بات اور ہے … سعدیہ بیگم نے کھل کے اپنے اندیشے واضع کیئے …
“نہیں امی , مجھے کوئی پریشانی نہیں , مجھے یقین ہے میرے ماں باپ کا فیصلہ میرے حق میں بہتر ثابت ہوگا … ماہین نے مسکرا کر کہا …
سعدیہ بیگم نے اسے خود سے لگایا “میں خوش ہوں امی … ماہین نے جبرً کہا ورنہ دل کی حالت عجیب تھی اور بیان سے باہر بھی …
“اچھا کل یونی جانا ہے تم نے یا ارادہ بدل لیا ہے … سعدیہ بیگم نے پوچھا اس سے ..
“نہیں امی , یونی جانا ہے … ماہین نے جلدی سے کہا …
“ہمممم تو جاؤ آرام کرو شام میں پارلر کی بکنگ بھی ہے تمہاری فیشل وغیرہ کی …
“جی امی …
کچھ دیر بعد ماہین اپنے روم کی طرف بڑھ گئی … اب خود کو ہلکہ پھلکہ محسوس کررہی تھی کیونکہ مان سے گلے لگ کر وہ پرسکون ہوگئی تھی …
@@@@@@@@
اگلے دن وہ یونی سے واپس آئی تو لاؤنج میں نور کو بیٹھا دیکھ کر حیران ہوئی اسے سلام کرتی وہ اگے بڑھی تھی …
نور نے بےرخی سے جواب دیا اور کہا “رکو …
“جی … وہ رک کر بولی …
“بہت غرور ہے تمہیں اپنی ایجیوکیشن پر … جس کا رعب جھاڑنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتی تم … نور کے لہجے میں نفرت واضع تھی … ماہین کا ہمیشہ اپنی پڑھائی کو لے کر فکر مند ہونا اور پہلی اہمیت اپنی پڑھائی کو دینا جانے کیوں نور کو زہر لگتا تھا … نور کو ایسا لگ رہا تھا کہ اج بھی خود کو دکھانے کے لیے شو اف کے لیے یونیورسٹی گئی تھی تاکہ بتا سکے کل نکاح ہے اس کے باوجود وہ اپنی پڑھائی کو پہلی اہمیت دے رہی ہے اور ہمیشہ کی طرح اپنی پڑھائی کا رعب اپنی سسرالیون پر بھی ڈالنا چاہتی ہے …
“نور آپی میں تھکی ہوئی ہوں , مجھے آرام کرنا ہے …میرے پاس آپ کی ایسی باتون کا جواب نہیں … ماہین ضبط سے بولی تھی … کیونکہ یہ اس کی ماں کی تربیت تھی کہ اپنے گھر پر آئے کسی مہمان سے بدتمیزی کرنا گناھ مترادف ہے ورنہ نور کی ایسی باتون کا جواب وہ بخوبی دے سکتی تھی ….
“یہ ڈرامے جاکر کسی اور کے سامنے کرنا وہ امپریس بھی ہونگے , فی الحال پارلر چلو امی نے کہا ہے ہم نے ساتھ جانا ہے … نور نے منہ بناکر کہا …
“اور ہان مجھے آپی کہنے کی ضرورت نہیں , اب اتنی بھی بڑی نہیں ہوں تم سے اور دوسری بات کل کے بعد تم سہی معنون میں مجھ سے بڑی ہوجاؤگی رشتے میں … اب کے وہ جتاتے ہوئے لہجے میں بولی تھی …
نور کا خوبصورت چہرہ وہ دیکھنے لگی حیرت سے کیونکہ ماہین کی سمجھ سے باہر تھا اس کا یون غصہ ہونا , کچھ پل بعد وہ سنبھل کر نرمی سے بولی … “اوکے نہیں کہوں گی آپی , پر میں شام میں آجاؤن گی پارلر , فی الحال میرا کوئی ارادہ نہیں کہیں جانے کا …
“اپنے معمولی چہرے کو دیکھو ماہین , تمہیں ضرورت ہے فیشل کی , ابھی چلو سمجھی , آرام ہوتا رہے گا بعد میں , یاد رکھنا تمہارے گولڈ میڈلس کی چکا چوند کوئی حسن نہیں دیں گے تم کو سمجھی … اب کے نور اس کی دبتی رنگت کو کھلم کھلا چوٹ کرگئی تھی ….
“آپ کو کیا گیرینٹی ہے , آپ کا یہ خوبصورت چہرہ کسی کو چونکا سکتا ہے … ماہین اب کے شدتِ ضبط سے بولی تھی …
“میرا حسن کسی کو بھی چارون شانے چت کرنے کا کام کر سکتا ہے ماہین … نور نے مغرور انداز میں کہتے ہوئے بال جھٹکے تھے …
“تو پھر بے فکر ہوجائیں میرے میڈلس کی بھی چکا چوند میرے ماتھے کو چمکائے رکھے گی …. اوکے ٹیک کیئر … شام کو پارلر میں ملیں گے … ماہین کہے کر کمرے سے باہر نکلی سامنے دانش کو دیکھ کر چند پل کو سانس روک گئی …
سلام کرگئی ماہین جب کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ مناسب لہجے میں سلام کا جواب دیا دانش نے … اور اگلے پل وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گئی … وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا …
وہ اندر آیا تو نور جلدی سے بولی … “میں نے ماہین کو کہا آپ ہمیں پارلر لے کر چل رہے ہیں پر وہ صاف منع کرگئی ہے دانش بھائی ….
“ہمممم تو تم چلو مجھے دیر ہورہی ہے … دانش نے بغیر تبصرہ کیئے بولا تھا …
نور مسکرا کر اگے بڑھی … “اگر میں خوش نہ رہی تو ماہین تم کو بھی خوش رہنے کا کوئی حق نہیں … شانی میرا نہ ہوا تو تم بھی دانش بھائی کو ترسو گی …
وہ دل ہی دل میں بولی تھی….
@@@@@@@@
ماہین اپنے روم میں جاکر لیٹ گئی … تھکن سے برا حال تھا پر نیند آنکھون سے کوسون دور تھی … دل کو ٹٹولا تو خالی پن کا احساس شدت سے ہوا …
“کیسے گزرے گی یہ ان چاہی زندگی … کیون اور کیسے ہوگیا یہ سب … ماہین نے شدت سے سوچا …
اسی لمحے ایک آنسو ٹوٹ کر آنکھون سے بہے نکلا …
“بےوقوف میں تھی جو اس کی شرارتون کو سچ سمجھ بیٹھی , اس کی آنکھون میں چھپے جذبات کے سمندر کو اپنے لیئے سمجھ بیٹھی , غلطی میری تھی شانی جو تم سے اتنی امیدین باندھ بیٹھی … کتنا آسان لگتا تھا تمہیں پانا پر آج پتا چلا تم پاس ہوکر بھی مجھ سے بے انتہا دور ہو …
اسی لمحے دروازہ کھلا وہ آنکھون پر بازو دھر کر سوتی بن گئی کیونکہ اپنی ٹوٹی بکھری حالت کسی کو دکھانا نہیں چاہتی تھی …
“ماہی بیٹا … سوگئی اتنا جلدی … اتنا کہتی سعدیہ بیگم بڑبڑانے لگیں اور دوبارہ بولیں “اف یہ لڑکی بھی نہ , نا عقل ہے نا سمجھ , دانش آیا تھا اسے پارلر لے جانے , حد ہے لاپرواہی کی … سعدیہ بیگم چیزین سمیٹ رہیں تھیں ساتھ ساتھ … ماہیں کو افسوس ہوا اپنی بےوقوفی کا سوچ کر …
سعدیہ بیگم تو چلین گئیں روم کا دروازہ بند کرکے جبکہ ماہین کچھ دیر سوچتی رہی کہ نور نے کتنی چالاکی سے اسے بتایا بھی نہیں دانش کے چلنے کا , پر نور کو کیا ملا یہ سب کرکے ماہین نے سوچا … پھر دانش کے ریکشن کا خیال آیا اور افسوس ہوا اپنے نا جانے کا , جانے کیا سوچیں گے دانش میرے بارے میں … اسی شش و پنج میں , ماہین کب نیند کی وادی میں اتری پتا ہی نہ چلا …
@@@@@@@@@
شام کو وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ پارلر چلی گئی وہان جاکر دیکھا تو اس کی آپی اور بھابھی کا مہندی کا میک اپ ہورہا تھا …
آپی اسے دیکھتے ہی شروع ہوگئی “ماہین اتنا لیٹ آئی ہو شام پانچ بجے کی اپائیمنٹ تھی تمہاری اور اب دیکھو سات بج رہے ہیں …
“سوری آپی سوگئی تھی … ماہین نے شرمندہ ہوکر کہا …
“مجھے تو تمہاری سمجھ نہیں آتی یہ آج کے دن یونی جانا ضروری تھا کیا … طیبہ آپی نے کہا …
“اس کو کچھ کہنا فضول ہے اسے پڑھائی کے اگے کوئی نظر نہیں آتا حتیٰ کے میرا بھائی بھی نہیں … بھابھی نے نرم لہجے میں بھرپور طنز کیا تھا …
ماہین نے چپ رہنا بہتر سمجھا اسی لمحے پارلر والی اسے لے گئی فیشل کے لیئے …وہ چیئر پر ایزی ہوکر بیٹھ گئی … کچھ لمحون کے بعد نور نے اکر کہا …
“بہت لیٹ کردی تم نے انے میں … میں تو جارہی ہوں شانی کے ساتھ گھر …
اسی لمحے ماہین نے آنکھین کھول کر بولی تھی “ہمممم گڈ , اسی لیئے دن میں آپ نے دانش کا بتایا نہیں تاکہ واپسی میں ساتھ نہ چل سکون تم لوگوں کے …
“تم تو واقعی بہت سمجھدار ہو ماہین … ٹیک کیئر بائے … نور ہنستی مسکراتی نکل گئی … ماہین نے دوبارہ آنکھین موند لیں افسوس سے …. اسے نور کی چھوٹی سوچ پر افسوس تھا …
@@@@@@@@
نور مسکراتی ہوئی باہر نکلی ذیشان کو فرنٹ سیٹ پر دیکھ کر کھل کے مسکراتی اگے بیٹھنے لگی اسی لمحے ذیشان بولا … “اگے دانش بھائی کو سلون سے پک کرنا ہے پیچھے بیٹھو تم …
نور جو جانے کتنا کچھ سوچے بیٹھی تھی دانش کا سن کر پیچھے بیٹھ گئی … افسوس ہوا اسے …
ذیشان سے ایک دو بار بات کرنے کی کوشش کی نور نے جس کا جواب دے کر وہ چپ ہوجاتا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے زبردستی بھیجا ہو …
“شانی تمہیں کس طرح کی مہندی پسند ہے … نور نے پوچھا کچھ لمحون کے بعد …
“مجھے تو مہندی ہی پسند نہیں , باقی جو تم کو مناسب لگے … شانی نے بےنیازی سے کہا …
“مجھے تو مہندی بہت پسند ہے شانی … نور نے کہا …
“تو لگ والو , میں نے روکا تو نہیں ہے … شانی نے کہا اور بجتے موبائیل کو کان سے لگا گیا کال ریسوو کرکے بولا “ہیلو , جی بھائی , بسس پہچنے لگا ہوں آپ باہر آجائیں … ذیشان نے اتنا کہے کر کال کاٹ دی …
“شانی تم خوش نہیں ہو … نور کے اچانک سوال پر وہ چونکا … دونوں کی نظرین مرر سے ملیں اس لمحے …
جاری ہے ….
