Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 38

وہ کھڑکی کھولے کھڑی تھی … سامنے کا منظر اسے پرانی یادوں میں دکھیل گیا … وہ ابھی ان یادون کے زیر اثر ہی تھی دانش نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے چونکا دیا …

“کتنا خوبصورت موسم ہے کیوں نا اسے انجوائے کریں … ماہین کا دل کانپا اس کا گمبھیر لہجہ سن کر … شاید ماضی کی خوبصورت یادون سے نکل کر حال میں لوٹنا ایسا ہی ہوتا ہے … وہ اس کے کندھے پر سر رکھ چکا تھا …

“بہت خوبصورت ہوگئی ہو تم اس پریگنینسی میں … دانش نے ایک سرگوشی کی … وہ اپنے ہونٹ بھینچ گئی کچھ سخت کہنے سے …

وہ اسے دیوار سے لگا گیا اور کھڑکی بند کردی … اس پر جھک گیا وہ تڑپ اٹھی اس کے یوں خود پر چھاجانے سے … اس کے جابجا لمس سوائے اذیت کے اور کچھ نہ تھے اپنی بےقدری کا شدت سے احساس جاگا ماہین کے اندر …

اچانک اسے کچھ یاد انے پر وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کے خود سے دور کرگئی دانش کو …

“کیا آپ کو معلوم ہے , میں آپ سے ناراض ہوں … ماہین کے سوالیہ انداز پر دانش حیران ہوا اور اپنی حیرت پہ قابو پاتا ہوا بولا …”ہاں تو کیا کروں , مجھے یہی طریقہ آتا ہے منانے کا …

دانش کے انداز پر اسے شدید غصہ آنے لگا اس وقت , وہ اپنی ضرورت کو بھی منانے کا انداز کہے رہا ہے …

“بسسس کردیں , خدا کا واسطہ ہے , انسان ہو انسان سمجھ کر ہی مجھے منا تو سکتے ہیں کیا اتنا بھی میرا حق نہیں ہے … وہ چیخ کر بولی …

” کیا بکواس تماشہ لگا کر رکھا ہے تم نے … ہاں کس بات پر اتنا غصہ ہورہی ہو … کیا مجھے نہیں پتا کہ تمہیں کس بات پہ غصہ ا رہا ہے کہ ہماری بیٹی پر کیوں میں نے چاہت نام رکھا ہے نا یہی وجہ ہے نا بتاؤ …

وہ بھی تیز لہجہ کرگیا اور اس سے تصدیق کر رہا تھا اپنے درست اندازے کی … وہ بھی اسی شدت سے بولی …

“ہاں یہی بات ہے , اپ کو شرم نہیں آئی جب فخریہ لہجے میں یہ بتاتے ہوئے کہ ہماری بیٹی پر اپ نے اپنی محبوب بیوی کے ساتھ سوچا ہوا نام رکھا ہے … کیوں مجھے اتنا بے عزت اور بے مول ہونے کا احساس دلاتے ہیں آپ … اخر میں ماہین کا لہجہ درد سے لبریز تھا اور انکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگیں تھیں ….

“واقعی تم عزت کے لائق نہیں ہو چند دن کیا تمہیں بہت زیادہ پیار اور عزت دی تو تم تو سر پہ ہی چڑھنا شروع ہو گئی اتنی بڑی کون سی بات ہے تمہیں یہ دیکھنا چاہیے بہت پیارا نام ہم نے رکھا ہے اور یہی بہت ہے کس نے , کہاں سے , کیسے رکھا ہے , یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں … دانش نے واقعی اس بات کو معمولی کہے کر چٹکیوں میں اڑا دیا اور ماہین کو لگا کے شاید اس کا وجود بھی یہی اہمیت رکھتا ہے دانش کی نظر میں بس خاک سی اہمیت ہے جس سے یوں چٹکیوں میں وہ اڑا دے … ماہین کو اپنی اہمیت کا اندازہ اچھی طرح ہورہا ہے …

جو لڑکی اتنی بڑی بڑی باتیں سہے گئی وہ لڑکی اتنی چھوٹی بات پہ اتنا زیادہ ری ایکٹ کرے گی دانش نے سوچا نہ تھا …

کاش دانش سمجھ پاتا اکثر بڑی بڑی باتوں کے بجائے چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیں توڑ کے رکھ دیتی ہیں جس طرح اس وقت اس لمحے میں ماہین کے ساتھ ہوا تھا …

“آپ خود کس لائق ہیں کبھی اپ نے سوچا ہے یہ بھی سوچ لیا کریں … وہ غصے سے بولی جو منہ میں آیا …

اس سے پہلے دانش کچھ کہتا وہ کمرے سے باہر جانے لگے تو وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا …

“کہاں جارہی ہو … اب کے دانش کے چہرے پر فکر تھی پر ماہین نے اسے اگنور کرتے ہوئے کہا …

“بارش میں نہانے …

“تم کو تو پسند نہیں … دانش نے کہا … وہ اپنی کلائی اس گرفت سے چھڑاتے ہوئے بولی …

“پسند تو اپ بھی نہیں رہ رہی ہوں نا پھر بھی آپ کے ساتھ , ایسی ہی ہوں نا پسندیدہ کام بھی کرتی ہوں … اس کے لہجے میں اذیت ہی اذیت تھی .. دانش کو اپنی بےعزتی سی محسوس ہوئی …

اور وہ کمرا چھوڑ کر باہر چلی گئی …

@@@@@@@@@

شانی جو خود پر ضبط کرتا ہوا جارہا تھا اپنے کمرے کی طرف , ماہین کو یوں آنکھون میں نمی لیئے باہر جاتا دیکھتا رہ گیا .. ماہین کے آنسو آج بھی اسے بےچین کردیتے تھے …

وہ سیدھا تیز برستی بارش کے نیچے کھڑی ہوگئی اور بے آواز رونے لگی …

“کیوں اللہ , میرا اتنا بھی حق نہیں اس شخص پر کہ وہ مجھے منائے , مجھ سے معذرت کرے یا کچھ افسوس بھرا کوئی لفظ ہی کہے دیتا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا … میں انسان ہوں مجھے درد تکلیف سب ہوتا ہے , کیوں نہیں سمجھتا یہ شخص …

عید کی رات جب دانش کمرے میں آیا تب بھی وہ اس کے انے سے پہلے سوگئی تھی , عید کی صبح خاموشی سے اسے صبح کی چائے دے کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا پر وہ بےپرواہ رہا اور اپنے ہر اک کام کے لیئے آواز دے کر اس سے اپنا ہر کام لیتا رہا … ماہین نے عید وش نہ کی تو اس نے بھی بس چاہت کو وش کی اور ماہین اسے اگنور کررہی تھی تو وہ بھی اگنور کرگیا … ماہین کلس کر رہ گئی … وہ جس قدر سب نارمل کرنے کی کوشش کرتی پھر کچھ ایسا ہوجاتا کہ اس کا دل ہی ٹوٹ جاتا … دانش نایاب سے جس قدر کانٹیک میں تھا وہ بھی اس کی آنکھ سے اوجھل نہ تھا وہ دونوں اب کھل کے اس کے سامنے بات کرکے اپنا رشتہ منوا چکے تھے … ماہین سوائے ضبط کے کر بھی کیا سکتی تھی … ہاں اسے یہ غم نہ تھا کہ وہ نایاب سے کیوں کانٹیکٹ میں ہے , اسے بس اپنے احساسات کی پامالی کا دکھ مارتا تھا … کاش ایک لفظ معذرت ہی کہے دیتا …. ماہین اس سے زیادہ کی امید کبھی دانش سے لگائی نہیں تھی …

وہ دل ہی دل میں اپنے رب سے شکوے کررہی تھی دانش کے رویئے کو لے کر …

کتنی دیر سے شانی اسے بھیگتا دیکھتا رہا بارش اور تیز ہونے لگی پر وہ سب سے بےپرواہ ہوکر کھڑی تھی …

دعا جو جلدی سے اندر کی طرف بھاگ رہی تھی , سامنے شانی کو دیکھ کر حیرت سے بولی …

“ارے شانی بھائی آپ اب تک ایسے کھڑے ہیں , فریش نہیں ہوئے …

“ہمممم دعا پلیز تم جاؤ اسے لے کر اندر آؤ , اس کنڈیشن میں بیمار ہوجائے گی ایسی سرد بارش میں …

“اوہ ماہین بھابھی , مجھے نظر ہی نہیں آئیں , وہ کب آئیں … دعا حیران تھی کہ درختون کی اوٹ میں ہونے کی وجہ سے وہ اسے دیکھ ہی نہیں پائی …

“یہ تو سخت ناپسند کرتی ہیں بارش میں نہانا … دعا نے حیرت سے زیر لب کہا جسے شانی نے بھی سن لیا تھا …

” دعا اب چپ کر جاؤ اور جا کر انہیں اندر لے اؤ … فریش ہونے کے لیے بھیج کر ہی پھر انا اپنے کمرے میں … وہ چاہ کر بھی خود کو روک نہیں پاتا تھا اس کی پرواہ کرنے سے …

“جی بھائی … دعا جلدی سے بھاگی دوبارہ باہر کی طرف ….

شانی اب پرسکون تھا کہ دعا کو جو کہا ہے وہ ضرور کردے گی … اس سے پہلے پلٹ کر اپنے کمرے میں چلا جاتا ریما دونوں بازو لپیٹے اسے دیکھ رہی تھی …

“بھائی آپ کو شادی کرلینی چاہیئے , ساری زندگی ایسے نہیں گزرے گی … ریما نے خود سے بڑے بھائی سے کہا اس کا درد وہ سمجھ رہی تھی , شانی نے ہمیشہ سے بہنوں کو پیار محبت اور عزت دی تھی … پہلے اس کے پاس اتنے پیسے نہ ہوتے تھے جتنے دانش ان پر لٹاتا تھا پر شانی کے پاس دینے کے لیئے صرف محبت ہوتی تھی پر آج وہ بہت کماچکا تھا وہ بھی دانش کی طرح بےدریغ ان پر لٹاسکتا تھا …

“میرے پاس اس رشتے میں دینے کے لیئے کچھ بھی نہیں , پھر کسی اور لڑکی کی زندگی برباد کرنا , سوائے بےوقوفی کے کچھ نہیں … شانی باہر کو دیکھتا ہوا بولا …

“بھائی کیا تاعمر ایسے ہی رہیں گے اس درد کے ساتھ … ماہی… ریما کی بات وہ کاٹ گیا اور ماہین کا نام مکمل بھی اسے لینے نہ دیا پوری بات تو سننا دور کی بات … وہ بولا …

“بسسس ایک لفظ مت کہنا اور کبھی اس کا نام بھی مت لینا , یہ گناہ ہے … وہ ہمارے بھائی کی عزت ہے … بسس اس کے لیئے دعا کرنا وہ ہمیشہ خوش رہے دانش بھائی کے ساتھ … آمین …

“آمین … ریما نے بھی آمین کہا اور وہ لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلا گیا اپنے کمرے کی طرف … ریما اسے دیکھتی رہی …

“یا اللہ میرے پیارے بھائی کی مسکراہٹ لوٹادے وہ مسکرانا بھول گیا ہے اسے بھی چاہنے والی کوئی مل جائے اسے اس سب سے نکال دے … یا اللہ دانش بھائی اور ماہین کو ایک ساتھ خوش رہیں …
ریما نے ان کے لیئے دل سے دعا کی …

پھر دعا بڑی مشکل سے ماہین کو اپنے کمرے میں لائی اور ٹاول دے کر اپنے واشروم میں بھیجا یہ کہے کر ان کے لیئے ڈریس ہینگ کردے گی دروازے کے ناب پر … وہ جلدی سے ماہین کے لیئے اپنا ڈھیلا سا ڈریس نکال کر ہینگ کرگئی … وہ ماہین کے کمرے میں جاکر دانش بھائی کے سوالون سے بچنے کے لیئے ماہین کو اپنے واشروم بھیج کر اپنے کپڑے پیش کرگئی …

دعا اچھی طرح سمجھ رہی تھی ماہین اور دانش بھائی کے بیچ کچھ بھی سہی نہ تھا … سب کی طرح وہ بھی خاموشی اختیار کیئے ہوئے تھی …

@@@@@@@@@

دعا کی مگنی پر سب رشتیدار آئے تھے … ماہین کی پوری فیملی آئی تھی , یہان سے عمر ملک کی فیملی کو دعوت دی گئی تھی … عائشہ کا سعدیہ بیگم کے ساتھ ہونا صاف ظاہر کررہا تھا وہ بے انتہا خوش تھیں بھائی کی بیٹی کو بہو بنا کر … دعا کے دل میں ٹیس اٹھی پر ضبط کرگئی …

آج ماہین کچھ بہتر تھی کیونکہ کل رات دانش اسے سوری کہا کچھ اس انداز سے کہ سوئی ہوئی چاہت کو گود میں اٹھائے بولا “چاہت تم اپنی ماں سے میری سفارش کردو میں سوری کہوں اور مجھے معاف کردے اور اپنا موڈ ٹھیک کرلے دو دن سے اپنے ماں باپ اور بہن ریما کی باتین سن چکا ہوں … غلطی ہوگئی معاف کردے اب … دانش نے جھوٹ موٹ میں ہونٹ لٹکا کر بولا تھا …

ماہین چاہت کو اس کی گود سے اٹھا کر اسے کاٹ میں لٹاتے بولی … “اپنے باپ سے کہو پہلے معافی مانگے تو سہی … پھر فیصلہ ہوگا کہ معاف کرنا ہے یا نہیں …

ماہین کا لہجہ نارمل تھا ویسے بھی پہلے جتاکر پھر روکر اپنی بھڑاس وہ نکال چکی تھی … اب دانش کی معافی کی کوئی اہمیت نہ تھی اس کی نظر میں …. جو جتا کر احساس دلایا جا سکے اس احساس کا کیا فائدہ …

“کاش یہ شخص کبھی تو مجھے سمجھ سکتا …. ماہین نے سوچا پر کہا نہیں …

“اچھا یار سوری معاف کردو کہو تو کان پکڑوں … وہ اس کے ہاتھ تھام کر بولا تھا …

“اٹس اوکے … وہ نرمی سے اپنے ہاتھ اس کے گرفت سے چھڑاتے ہوئے بولی تھی …

وہ اسے خود سے لگا گیا وہ … ہمیشہ کی طرح وہ اس کی قربت میں خاموش ہی رہی ….

اگلا دن بےحد مصروف رہا سب نے کہا وہ پارلر سے تیار ہو پر چاہت کی وجہ سے وہ سھولت سے انکار کرگئی تھی …

ہیوی ڈریس اور لائیٹ جیولری میں وہ اچھی لگ رہی تھی دانش بھی اس کی تعریف کرچکا تھا … وہ اپنی بیٹی کو اٹھائے اس فنکشن میں شریک ہوئی تھی …

لائیٹ سا میوزک ماحول کو خوبصورت بنارہا تھا … شانی کے اتے ہی سب نے اس کو گھیرلیا تھا … سب اس کی تعریفین کرکے نہ تھک رہے تھے ….

پھر دعا کی مگنی کا فنکشن خیریت و عافیت سے انجام پاگیا …

@@@@@@@@@@

مگنی کے دو دن بعد وہ تینوں اسلام آباد اگئے تھے … دانش ایک ہفتہ ماہین کو کوہ مری لے گیا گھمانے کے لیئے پر تین دن بعد ان کو واپس انا پڑا کیونکہ چاہت کے لیئے وہ موسم سوٹ ایبل نہ تھا … وہ دونوں لوٹ آئے تین دن کے اندر … ایک دن چاہت کو ہاسپیٹل ایڈمٹ ہونا بھی پڑا بحرحال یہ وقت بھی گزر گیا …

کچھ دن بعد نایاب اور بچے بھی واپس اگئے تھے … آج دانش کو وہین ٹھرنا تھا کیونکہ کئیں دن بعد نایاب آئی تھی …

“ماہین میرا خیال ہے , ہم بزنس پارٹنر بن سکتے ہیں … جنید شاہ کی بات پر وہ ایک لمبی سانس خارج کرتی بولی “پلیز سر یہ ممکن نہیں فی الحال میرے لیئے …

“جانتا ہوں … میرے پاس بزنس پلان ہے , میں اپنے باپ کی طرح خود کچھ کرنا چاہتا ہوں … پر جب بھی سوچتا ہوں ٹیم کا تو تمہارا ہی خیال اتا ہے اور سوچتا ہوں تمہیں ہی اپنا پارٹنر بناؤں , میں اج تک کبھی کسی لڑکی سے اتنا امپریس نہیں ہوا جتنا تم نے مجھے امپریس کیا ہے … جنید شاہ نے کھل کے تعریف کی …

“تھینک یو سو مچ … آپ نے اور عیان انکل کا ہی سپورٹ ہے جو آج بھی کچھ کرنے کے قابل ہوں … آپ لوگون کے سوفٹویئر کا سارا کام ہمیں دے کر بہت اچھا سپورٹ کیا ہے آپ نے … ماہین نے دل سے تعریف کی جو کچھ حد تک سچ بھی تھی …

“ماہین یو ڈیزروو دس …. عنقریب ایک اور اچھا کلائینٹ تم کو دے رہا ہوں باہر ملک کا ہے … جنید شاہ نے اسے بتایا …

“تھینک یو سر … کچھ اور چیزین ڈسکس کرکے کال کاٹی اس نے … اچانک اسے چاہت کے رونے کی آواز آئی …

“دھیان کہاں تھا تمہارا … چاہت رورہی تھی … دانش نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا …

“سوری , میں بزی تھی میٹنگ میں …. ماہین نے جلدی سے اٹھایا اور اسے غصہ ارہا تھا ملازمہ بتائے بغیر گئی …

“آئندہ خیال رکھنا … دانش نے کہا …. جس پر وہ کچھ نہ بولی تھی … چاہت کو چپ کرانے لگی … اگلے دن ملازمہ کو ڈانٹا بھی اس نے , اس لاپرواہی کو لے کر … اسے سمجھایا کہ بغیر بتائے نہ جائے , چاہے وہ کتنی مصروف لگے اسے …

ملازمہ نظر جھکائے اسے سنتی رہی اس وقت …

@@@@@@@@

چند دن اس کے شدید مصروف گزرنے لگے جس وجہ سے دو دن وہ لیٹ گئے بچے کی بلڈ ٹیسٹ کروانے میں … تین دن بعد رپوٹ آنی تھی …

یہ دن ماہین کے اللہ سے دعا مانگنے میں شدت اختیار کرگئے تھے …

“یا اللہ صحت مند اولاد تیرے ہاتھ میں ہے توں چاہے تو مجھے دے سکتا ہے , مجھے صحت مند اولاد دے کر مکمل کر دے یا اللہ یہ اولاد بھی تم نے ہی دی ہے اگر تو نہیں چاہتا تو دوبارہ ماں میں کہاں بن سکتی تھی اگر وہ تیری رضا تھی تو مجھے مکمل صحت مند اولاد دے کر مجھے مکمل کر دے … وہ اللہ سے رو رو کر مانگ رہی تھی … ماہین کی ساری امیدیں اللہ سے تھیں …

جانے کیوں صبح سے اس کا دل گھبرا رہا تھا کیونکہ آج ہی رپوٹ آنی تھی …

دانش آفیس جاچکا تھا … ناشتہ ماہین سے کیا نہ گیا اور دن کا کھانا بھی برائے نام اس نے کھایا تھا …

جنید شاہ نے کال نے اسے یاد دلایا کہ اس کی کلائنٹ کے ساتھ ضروری میٹنگ ہے اور وہ کیوں ابھی تک ان لائن نہیں ائی … جس پر اسے شدید افسوس ہوا کہ وہ بھول گئی اپنی پریشانیوں میں … پرسوں ہی وہ احد علی سب کچھ ڈسکس کر چکے تھے پر کل کا دن عجیب بے چینی میں گزر گیا … آج بھی ویسی ہی طبیت تھی …

جنید نے اس سے کہا کہ “اگر وہ چاہے تو میٹنگ کینسل کر سکتے ہیں پھر کبھی رکھ لیتے ہیں پر ماہین نے انکار کر دیا اور کہا کہ “دس منٹ میں وہ ان لائن ارہی ہے …

وہ جلدی سے چاہت کو دیکھنے آئی جو سکون سے سورہی تھی …

“مجھے آج جانا ہے آپی … ملازمہ نے اسے یاد کروایا …

“ہاں تم چلی جانا تھوڑی دیر بعد مجھے بتاکر , میں جلدی فارغ ہوجاؤں گی … ماہین نے کہا …

“ٹھیک ہے آپی … ملازمہ نے کہا …

پھر وہ میٹنگ میں مصروف ہوگئی … جاتے ہوئے ملازمہ اس کے سامنے آئی اور ہاتھ کا اشارہ کیا جس پر ماہین نے اسے اشارے سے کہا بھلے چلی جائے … وہ اشارے سے بتاگئی کہ چاہت سورہی ہے وہ بھی ڈن بولی انگوٹھے سے … وہ مطئمن ہوکر فائینل ڈسکشن کررہی تھی پھر بھی ادھا گھنٹا لگ گیا … دانش سلام کرکے گھر اگیا تو وہ بھی میٹنگ وائیڈ اپ کرنے لگی کیونکہ ملازمہ نہ تھی اب اسے ہی دانش کے لیئے کچھ بنانا تھا چائے یا سنیکس وغیرہ …

ابھی وہ لیب ٹاپ لے کر ارہی تھی کہ دانش کا ساکت چہرہ لیئے چاہت کے کاٹ کے پاس کھڑا ہونا اس کا دل دھڑکا گیا …

اگلے پل وہ اس کے روبرو آیا اور بولا …

“ماہین تمہاری لاپرواہی , میری بیٹی میری چاہت کو کھا گئی … ماہین کے ہاتھ سے لیب ٹاپ گرگیا اس لمحے اور دانش نے بغیر سوچے سمجھے اس پر تھپڑوں کی بارش کررہا تھا پر ماہین کی نظریں اس معصوم کے ساکت وجود پر جمی تھیں …

جاری ہے ….