Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 37

نایاب دانش کے گلے لگ کے رونے لگی … وہ شدت سے روتی رہی اور دانش اس کے بالون میں انگلیان چلاتا رہا … دانش بےچین ہوا اس لمحے …

“کیا ہوا نایاب , مجھے بتاؤ …

“پتا نہیں کیا ہوگیا ہے مجھے دانش … ایسا لگتا ہے میرا گھر بکھر جائے گا …

“نایاب ایسی کیوں ہوتی جارہی ہو تم , میرے پیار میں کیا کمی رہ گئی ہے … دانش نے محبت سے لبریز لہجے میں پوچھا تھا …

“سوری دانش آئندہ ایسا نہیں ہوگا … نایاب نے شرمندگی سے کہا …

“نایاب تم میری طاقت ہو اگر تم ہی یون گھبراؤ گی , تم کو تکلیف ہوئی اور اگر تم کو کچھ ہوا اس وجہ سے , میں مرجاؤنگا … میں کیسے سمجھاؤں کس قدر تم سے محبت کرتا ہوں … وہ اس کے یوں والہانہ اظہار پر اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی تھی …

“اللہ نہ کرے جو آپ کو کچھ ہو , سچ میں , میں بھی نہیں زندہ رہ پاؤں گی … میں مرجاؤں گی … نایاب کے کہا …

یوں دونوں کی محبت پر دور کھڑی محبت دونوں پر مسکرارہی تھی , بھلا خودغرضون کے ساتھ کب محبت ساتھ رہ پائی ہے , ان کے دامن تو خالی رہتے ہیں صدا سے … یہ وقت نے بتانا تھا …

@@@@@@@@

“سوری آئندہ ایسا نہیں ہوگا ماہین … وہ اگلے دن , اس سے کہے رہا تھا … سمجھ رہی تھی کہ وہ نایاب کی بات کو لے کر ہی معافی مانگ رہا ہے وہ ضبط سے بولی تو صرف اتنا کہ …

“دیکھتی ہوں کب تک …

وہ دوبارہ لیپ ٹاپ پر مصروف ہوگئی وہ پھرتی سے لیب ٹاپ یوز کرتی اسے مصروف سی لگی …

“ماہین میں تم سے بات کررہا ہوں … دانش نے تیز لہجے میں کہا اسے گھورتے ہوئے …

“مجھے لگتا ہے ہماری بات ختم ہوچکی ہے دانش … وہ اس کی گھورنے کو اگنور کرتے ہوئے بولی تھی …

“تم ریلیکس ہوجاؤ , اب نایاب نہیں آئے گی اوپر میں نے اسے سمجھا دیا ہے … اور اسے یقین دہائی کرانے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ اس کے چہرے پہ تمسخر سی ہنسی ائی , جسے پل میں وہ سمیٹ گئی تاکہ دانش نہ دیکھ سکے پر اس کی نظریں اس کا تمسخر والا انداز دیکھ چکی تھیں … وہ چاہتی تو بہت کچھ کہے سکتی تھی اگر کہنے پر آتی … بلکہ وہ جانتی تھی اپنے لفظ ضائع کرے گی اسے کہہ کر کیا کہتی اسے کہ “تمہاری بیوی سارے ڈرامے کرتی ہے تمہارے سامنے , حقیقت کیا ہے وہ اپنی انکھوں سے دیکھ چکی تھی , نہ اس کی بیوی کے دل میں ماہین کے لیے کوئی ہمدردی ہے اور نہ چاہت کے لیے کوئی محبت …. سوچ تو سکتی تھی پر کہہ نہیں سکتی تھی یہ باتیں کیونکہ اسے یقین تھا کہ دانش کبھی اس کی بات پر یقین نہیں کرے گا کیونکہ دانش کی انکھوں پر نایاب کی محبت کی پٹی بندھی صاف نظر ارہی ہے وہ جب نایاب کا نام لیتا ہے تو اس کی انکھوں کی انوکھی چمک کو شدت سے ماہین نے محسوس کیا ہے … اس لیے بہتر تھا کہ وہ خاموش ہی رہتی بس جتنا ضروری ہوتا اتنا اسے کہہ دیتی اس سے زیادہ نہیں بولتی … نایاب جو تماشہ اس کے گھر پر لگا کر گئی تھی وہ ماہین نے نہیں بلکہ ملازمہ نے خود بتایا تھا کیونکہ جب ماہین کو دوسرے کمرے میں دانش نے لاک دیکھا تو ملازمہ سے پوچھے بغیر رہ نہ سکا کہ بیڈروم چھوڑ کر اس طرح کیوں ماہین ایک دوسرا کمرہ بند کر کے بیٹھی ہے جس پر ملازمہ نے اسے پوری بات بتا دی کہ کس طرح بڑی بیگم صاحبہ نے یہان اکر تماشہ لگایا …

“اور کچھ … وہ بولی تو بس یہ دو لفظ جب کہ دل میں جانے کتنا وہ سوچ کر خاموش ہو چکی تھی …

“ماہین ایسی کیوں ہوتی جارہی ہو تم … دانش نے شدت سے ہوچھا …

“میرا خیال ہے میں اس قابل نہیں کہ مجھ پر غور و فکر کیا جائے … یہ اپنے احساسات اور فکر نایاب کے لیئے رکھیں , آپ دونوں کے کام آئے گی … ماہین نے بےپرواہی سے کہا … دانش دیکھتا رہ گیا …

“اب میں اپنا کام کرسکتی ہوں … اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا …

“ہممم کرلو … پھر واقعی وہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی دانش چاہت کے پاس ہی لیٹ گیا … کچھ دیر بعد دانش نے دیکھا وہ دوسرے روم میں بیٹھی آنلائین میٹنگ کرتی اسے مصروف سی لگی … جانے کیوں وہ اسے دیکھتا رہ گیا … وہ پروفیشنل انداز میں بات کرتی اور اپنے سامنے والے پر مکمل حاوی لگی دانش کو … وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا وہ اس انداز میں ڈیل کرتی ہے اپنے کلائینٹ کو … وہ اتنی شائستگی سے انگریزی زبان میں گفتگو کررہی تھی کہ وہ حیران رہ گیا … اسے زبیر کی بات یاد آئی جو اکثر دانش سے کہتا “کبھی ماہین کا انگلش ایکسینٹ سننا واقعی وہ کمال کی مہارت رکھتی ہے اس زبان پر …

یہ بات وہ دل سے مان گیا … اسی وقت چاہت کے رونے کی آواز آئی جس پر ماہین کے چہرے پر پریشانی دیکھنے لائق تھی … وہ معذرت کرتی اٹھی اور دانش کو دروازے کے پاس کھڑا دیکھ کر حیران ہوئی … اس کے پاس سے گزر کر اگے بڑھنے لگی تھی کہ دانش نے اسے روک لیا اور بولا … “تم جاکر میٹنگ نپٹاؤ , میں دیکھتا ہوں … پھر واقعی ماہین اس طرف گئی تو دانش چاہت کو سنبھالنے لگا …

چاہت شدت سے رورہی تھی پانچ منٹ بعد وہ بھی اگئی اور بولی “میٹنگ وائینڈ اپ ہوگئی ہے … چاہت کو اٹھاکر چپ کرانے لگی … وہ بسسس دیکھتا رہ گیا ایک عورت کس قدر ملٹی ٹیلینٹڈ ہوسکتی ہے … ماہین ہمیشہ اپنے ہر انداز سے اسے حیران کرتی آئی ہے …

وہ اس کا فیڈر تیار کررہی تھی پھر اسے پلانے لگی… چاہت مدر فیڈ چھوڑ چکی تھی کیونکہ اس سے الٹیان ہونے لگتیں تھیں اس کو … دانش کو اب افسوس ہونے لگتا کہ اس کی بیٹی کس قدر کمزور ہورہی ہے مدر فیڈ نہ لینے کی وجہ سے کہیں نہ کہیں وہ خود کو الزام دینے لگتا تھا اس سب کا …

@@@@@@@@

پھر دو دن بعد سعدیہ بیگم اور ریما آئے تھے ماہین کے گھر اسلام آباد صرف اپنی تسلی کے لیئے … پھر دانش نے واقعی بہت آؤ بھگت کی دونوں کی … ماہین اور دانش دونوں نے خوشی کا اظہار کیا … ریما کے ساتھ دونوں بچے تھے … یہ دن بہت مصروف رہے دانش نے ان کو گھمایا بھی … ماہین نے اپنی طرف سے مطئمن کرنے کی بھرپور کوشش کی اپنی ماں کو , کچھ حد تک کامیاب بھی رہی تھی وہ … بحرحال کچھ حد تک دانش کی کوشش تھی کہ مطئمن کرسکے اپنی ساس کو …

نہ نایاب اوپر آئی نہ بچے آئے تھے … رات کے کھانے کے بعد دانش اور ریما ٹیرس پر بیٹھے تھے جبکہ سعدیہ بیگم ماہین کے پاس تھی … آج چار دن ان کو پورے ہوچکے تھے یہان رہتے ہوئے … کل ان کی واپسی تھی …

کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں دونوں بھائی بہنوں نے کی جس میں دونوں کے بیچ دعا کے آئے رشتے کو لے کر بھی بات ہوئی جسے عنقریب طاہر آفندی ایکسیپٹ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے …

“ریما مجھے حیرت ہے میری بہن ہوکر تم نے ایک بار بھی میری بیوی تو دور بچون سے بھی ملنے کا اظہار نہیں کیا … دانش نے اپنی طرف سے معیار رکھی اپنی بہن پر …

“سوری بھائی میرے لیئے صرف ماہین ہی ہماری بھابھی ہے اور آپ دونوں کے بچے ہی ہمارے ہیں … ریما نے صاف گوئی سے کہا جس پر وہ اسے دیکھتا رہ گیا …

” جو کچھ ماہین کے ساتھ اپ نے کیا ہے اس کا کبھی کوئی ازالہ نہیں کر سکتا ریحان چاہتے تو وہ سب میرے ساتھ بھی کر سکتے تھے جو آپ نے کیا ماہین کے ساتھ … یہ ماہین کی ہی مہربانی ہے جس نے میرا رشتہ بچائے رکھا اور کبھی جتایا بھی نہیں … وہ اتنی خاموشی سے کسی کی مدد کرتی ہے کہ ایک ہاتھ سے مدد کرے تو دوسرے کو خبر نہیں ہونے دیتی یہ اس کا ظرف ہے اگر میں اتفاق سے سن نہ لیتی تو مجھے کبھی پتہ بھی نہیں چلتا … سچ میں ماہین جتنا صبر اور حوصلہ میرے میں نہیں ہے … میں واقعی میں مر جاتی اگر میرا شوہر دوسری شادی کر لیتا … ماہین کھرا سونا ہے جس کی پہچان ہر کسی کو نہیں ہو سکتی , مجھے بھی بہت وقت کے بعد سمجھ میں ایا اور ایک دن اپ کو بھی سمجھ میں اجائے گا …

ریما اتنا کہے کر رکی نہیں اور اپنے روم کی طرف بڑھ گئی جس میں وہ اور بچے ٹھرے تھے … دانش اسے جاتا دیکھتا رہ گیا …

@@@@@@

اگلے دن شام میں سعدیہ بیگم اور ریما کی روانگی تھی .. دانش صبح میں آفیس گیا تھا اور اسے دن میں لنچ پر آنا تھا … وہ لوگ لنچ کرچکے تھے کیونکہ دانش کو آنے میں ابھی وقت تھا کیونکہ اچانک ایک میٹنگ جو ہوگئی تھی … ماہین نے کہا کہ “اگر وہ واقعی اتنا بزی ہے تو ڈرائیور اور گاڑی بھیج دے پر دانش نے تسلی دی کہ “چھے بجے ایئرپوٹ پہچنا ہے وہ پانچ تک اجائے گا , وہ خود چھوڑنے جائے گا ان کو ایئرپوٹ … جس پر ماہین نے اوکے کہے کر کال کاٹ دی …

ابھی وہ سعدیہ بیگم اور ریما کو بتا ہی رہی تھی کہ دانش نے کیا کہا ہے فون پر اسی وقت گھر کے دوسرے دروازے سے تنویر اندر چلا ایا اور اتے ساتھ بولا … “ہیلو چھوٹی ماما …

“السلام علیکم کہتے ہیں تنویر … ماہین نے نرمی سے مسکرا کر کہا …

“واعلیکم سلام چھوٹی ماما … اوکے پہلے سلام کروں گا … تنویر نے کہا ماہین سے …

“میں چاہت کو دیکھ لوں … تنویر نے پوچھا معصومیت سے …

“ہممم دیکھ کر آؤ , پر وہ سوئی ہے … ماہین نے کہا … سعدیہ بیگم اور ریما ہکا بکا دیکھ رہی تھیں دونوں کو , ماہین کا محبت بھرا انداز امپریس کرگیا ریما کو … آج ماہین کی عزت اس کی نظر میں بہت بڑھ گئی تھی کہ وہ ایک بچے کے لیئے اپنے دل میں نفرت نہیں رکھتی …

وہ چاہت کو پیار کرکے جلدی اگیا اور بولا “چھوٹی ماما یہ کون ہیں …

“یہ میری ماما ہیں اور یہ آپ کی پھپھو ہیں ریما پھپھو … ماہین نے بتایا …

“تو یہ میری نانو ہوئیں … ہیلو نانو اوہ نو اسلام علیکم نانو … تنویر اکر ان سے لپٹ گیا جانے کیوں وہ نفرت سے ان کو خود سے دور کرنے کے بجائے اس کے ماتھے پر بوسا دے کر “واعلیکم سلام بولیں تھیں … پھر وہ اپنی پھپھو سے گلے لگ گیا اور سلام کیا پھر ریما اسے پیار کرنے لگیں اور کچھ دیر بعد وہ بولا “ماما اٹھ جائیں گی , میں جاتا ہوں …

“تنویر ماما سے پوچھے بغیر نہ آیا کریں ورنہ اللہ ناراض ہوگا … ماہین نے سمجھایا پیار سے نرمی بھرے لہجے میں …

“ماما منع کرتیں ہیں … وہ ہونٹ لٹکا کر بولا … “ہمممم اب جاؤ ورنہ ماما غصہ ہونگی … اور جلدی بھاگ گیا تھا وہ …

” ویسے پھپھو یہ شانی بھائی سے کتنا ملتا ہے نا … ریما نے بےساختہ سعدیہ بیگم سے کہا …

“ہمممم مجھے بھی ایسا لگا آنکھون کا رنگ اس کے جیسا ہے … سعدیہ بیگم نے تصدیق کی تھی …

یوں کچھ دیر بعد دانش آیا اور وہ دونوں ایئرپوٹ روانہ ہوئیں …

@@@@@@@

ماہین اور دانش اسلام آباد کی مشہور گائیناکلوجسٹ کی کلینک میں بیٹھے تھے ڈاکٹر نے ماہین کا چیک اپ کیا اور کہا …

” فلحال ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اس پریگننسی کا اؤٹ کم کیا ہوگا پر ہاں ایک بات ہے ہم کیا کریں گے کہ جب 18 ویکس کی پریگننسی مکمل ہوگی تب ایک ٹیسٹ ہوگی جو بچے کا خون لے کر کی جاتی ہے جس میں پتہ چلے گا کہ بچہ نارمل ہے یا اس میں کسی قسم کی ایب نارملٹی ہے … ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں بولی تھی …

ماہین کی آنکھین نمکین پانیوں سے بھر آئین اور دل ہی دل میں اللہ سے دعا مانگی کہ “اللہ کرے بچہ نارمل ہو …

دانش نے بڑی مشکلوں سے ہمت کرتے ہوئے کہا “اگر بچہ ایب نارمل ہوا تو اس ٹیسٹ میں ایسا کچھ پتہ چلا تو ….

اس کے سوالیہ انداز پر ڈاکٹر نے لمبی سانس خارج کی اور کہا “اگر اپ لوگ چاہیں گے تو بچا ایباٹ بھی کر سکتے ہیں مطلب لیٹ مسکریج بھی پاسیبل ہے میڈیکل میں یہ الاؤ ہے …. یہ ٹوٹل پیرنٹس کی مرضی ہے کہ وہ ایب نارمل بچہ رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں جیسا کہ اپ لوگوں کے پاس الریڈی ایک ہے دوسرا رکھنا کم از کم اپ لوگ افورڈ نہیں کر سکتے تو میرا خیال ہے کہ ہم یہی سوچ کر اگے چلیں کہ 18 ویک کے بعد فیصلہ کریں گے اس پریگنسی کو ختم کرنا ہے یا نہیں اپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں مسٹر دانش میں جانتی ہوں کہ مسز دانش کچھ بھی کہنے کے پوزیشن میں نہیں ….

ڈاکٹر کے پروفیشنل انداز میں کہی ہوئی بات پر کچھ لمحوں کے لیے دونوں خاموش ہو گئے اور اس خاموشی کو تھوڑے وقت کے بعد دانش نے توڑا اور کہا “میرا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ہم ٹیسٹ کی رپورٹ کے بعد ہی لیں گے … اگر ٹیسٹ کی رپورٹ صحیح نہیں ائی تو پھر ہم اس پریگننسی کو ختم کرنے کے بارے میں ہی سوچیں گے کیونکہ ہم دو ایب نارمل بچے نہیں پالسکتے… دانش نے بڑی مشکلوں سے اپنی بات مکمل کی کیونکہ یہ سب کہتے ہوئے اس کا دل بھی خون کے انسو رو رہا تھا …

” انشاءاللہ پورے دو مہینے کے بعد یہ ٹیسٹ ہوگی اور پھر فائنل اپ کو بتائیں گے کہ کیا کرنا ہے … تب تک مسز دانش یہ میڈیسن لیتی رہیئے گا …

ماہین کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہ تھی اس لیے صرف اثبات میں سر ہلایا اور وہ دونوں ڈاکٹر سے مل کر باہر نکل ائے کلنک سے دونوں کے چہرے پر بے انتہا اداسی تھی … چاہت کو بھی وہ اپنے ساتھ لائے تھے کیونکہ ماہین اپنی بیٹی کسی کے پاس بھی چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی کلینک …

@@@@@@@@

عید کے چھوتھے دن دعا کی مگنی کا فنکشن بینکیوٹ میں رکھا گیا تھا … طاہر آفندی نے دونوں بھائیوں سے کہا تھا لازمی شرکت کریں کیونکہ دعا کے سسرال والے آفندیز نہیں تھے … پہلی دفعہ خاندان سے باہر بیٹی دے رہے تھے آفندیز , طاہر آفندی جو سب سے زیادہ خاندان میں ہی شادیوں کے حمایتی تھے اج وہی سب سے پہلے اپنی بیٹی باہر دے رہے تھے کیونکہ ان کی بیٹی کو بھی تھیلسمیامائنر تھا اب وہ کتنے خاندان والے لڑکوں کے ٹیسٹ کروا کر تسلی کرتے اپنی , اسی لیئے مجبورًا انہوں نے خاندان سے باہر اچھا رشتہ ملا تو اپنی بیٹی دینے کا فیصلہ کر لیا تھا … ایک نئی روایت کی اینٹ بھی پہلی انہوں نے ہی رکھی تھی خاندان سے باہر لڑکی دے کر … ملک خاندان کے ساتھ ان کے فیملی ٹرمز اچھے تھے اس لیئے جیسے انہوں نے دعا کا رشتہ مانگا تو انہوں نے ہاں کر دی تھوڑی سوچ بچار کے بعد …

دانش نے سارے حالات بتائے نایاب کو اور اس بار سوچ لیا تھا اپنی دوسری بیوی کو خاندان میں عزت کا مقام دلائے گا … پر پہلی دفعہ ایسا ہوا نایاب نے سہولت سے منع کر دیا کیونکہ وہ خود دبئی جانا چاہتی تھی اپنی بہن کے پاس , یہ عید منانے … نایاب کو ہمیشہ کی طرح لگا کہ شاید دانش اسے نہیں لے کر جائے گا خاندان میں اور عید اپنے گھر والوں کے ساتھ کرے گا اس لیے اس نے اپنا پلان بہن کے پاس بنا لیا تھا جانے کے لیے اور اسے نہیں پتہ تھا کہ عین وقت پر دانش یہ سب کہے گا پر وہ اس کی بہن تو اس کا ٹکٹ بھی کروا چکی تھی پھر اخر کار دانش نے نایاب کی بات مان لی اور اسے دبئی جانے کی اجازت دے دی اور یہی فیصلہ کیا کہ وہ خود ماہین کو لاہور لے کر جائے گا کیونکہ عید تو اسے وہی کرنی تھی اپنے ماں باپ کے ساتھ اور پھر بہن کی منگنی بھی تھی ….

رمضان سکون سے گزرنے لگا تھا اور ماہین کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اس نے روزے بھی نہ رکھے تھے … چھبیس رمضان کے بعد نایاب روانہ ہو گئی دبئی کے لیے اور 27 رمضان کو وہ دونوں لاہور اگئے … سب نے بے انتہا خوشی سے دونوں اور چاہت کا ویلکم کیا …

عید کی رات شانی بھی اگیا تھا لاہور , ہمیشہ کی طرح ماہم کے سامنے اس کی نظریں جھکی تھیں کبھی نظر اٹھا کر دیکھنے کی بھی وہ اس کی طرف ہمت نہ رکھتا تھا … دانش نے واضع فرق دیکھا شانی میں , اب وہ پہلے سے کافی ہینڈسم ہو گیا تھا … اب طاہر آفندی بھی اس سے عزت سے بات کرنے لگے تھے پر اس کے تاثرات سخت ہی رہے جانے کیوں باپ کی دی گئی ذہنی اذیتیں وہ بھول نہیں پاتا تھا … وہ اپنی بہنوں اور دونوں بھائیوں کے لیئے مہنگے تحائف لایا تھا …

چاہت کو گود میں اٹھائے وہ اسے پیار کرتا رہا سارے نقوش اس کے اسے اپنے بھائی جیسے لگے پر سب سے زیادہ پیارا اس کا نام لگا تھا “چاہت , جس کا برملا اظہار بھی کیا اس نے دانش کے سامنے یہ کہے کر ” کتنا خوبصورت نام رکھا ہے بھائی اپ لوگون نے ,مجھے بہت پسند آیا …

“ہمممم پسند آیا تمہیں … دانش نے کہا … جس پر وہ بولا “جی بلکل بہت پسند آیا … شانی نے اس معصوم پری کے گال چومتے ہوئے کہا …

“ویسے یہ نام میرا اور نایاب کا پسندیدہ ہے … دانش نے بےساختہ کہا جس پر شانی گڑبڑاگیا کیونکہ سامنے سے اتی ماہین کو وہ دیکھ چکا تھا وہ شاید سن بھی چکی تھی … شانی کو شرمندگی سی محسوس ہوئی اس لمحے …

ماہین جو اسی طرف ارہی تھی واپس پلٹ گئی یہ سن کر اور شانی کو دانش کے پاس بیٹھا دیکھ کر … دانش کے تاثرات نارمل تھے پر شانی اندر ہی اندر شرمندہ ہوتا رہا …

@@@@@@@@@@

اگلے دن عید ہوگئی , مردوں کا تو کھانے پینے اور انے جانے میں گزرا جبکہ گھر کی عورتون کا زیادہ کام کاج میں گزرا تھا … ریما تو عید کے اگلے دن ہی لاہور اگئی تھی بائے ایئر جب کہ باقی رشتہ داروں کو عید کے تیسرے دن انا تھا یا چوتھے دن اسی دن انا تھا جس دن منگنی تھی … سب کی اپنی اپنی سیٹنگ بنی ہوئی تھی …

عید کے اگلے روز زور دار بارش ہوئی شام میں …

ماہین کھڑکی کے پاس کھڑی اسے مگن انداز میں بارش میں بھیگتا ہوا دیکھتی رہی …

اسے بارش پسند تھی اور

مجھے بارش میں اس کا بھیگنا

خود پر مرکوز اس کی نگاھ محسوس کرگیا …. بسس پھر اک تلاتم برپا کرگیا یہ لمحہ دونوں کے بیچ …

ذہن کئی سال پیچھے چلا گیا شانی کو یاد آیا وہ وقت جب اسے بارش شدید پسند تھی اور ماہین کو چڑ ہوتی تھی بارش دیکھ کر …

“سنو آجاؤ یار بارش میں , مجھے بہت پسند ہے بارش … شانی نے کہا تھا ماہین سے …

“تم جانتے ہو مجھے بلکل پسند نہیں کیونکہ بارش کے بعد جو پاکستاں میں کیچڑ پھیلتا ہے مجھے اس سے چڑ ہے … وہ بولی تھی مزے سے …

“کیا چیز ہو تم ماہین , لڑکیاں تو دیوانی ہوتی ہیں بارش کی … تم کیسی لڑکی ہو … شانی نے کہا اسے جو پلر کے نیچے کھڑی کراچی کی بارش دیکھ رہی تھی جبکہ شانی مکمل بھیگا اسے لینے آیا تھا وہ صاف انکار کرگئی تھی بارش میں انے سے …

“دیکھ لو ایسی ہی ہوں … ماہین نے کہا شانے اچکاتے ہوئے وہ تو اس سانولی لڑکی کا دیوانہ تھا …

“مجھے تو ایسی ہی پسند ہو … وہ زیرلب بولا تھا اس لمحے …

“کیا کہا … ماہین سمجھ کر بھی انجان بن کر پوچھ رہی تھی جس پر وہ بولا “کچھ نہیں … جس پر وہ دونوں کھلکھلائے تھے …

جانے کتنا کچھ یاد اگیا اس لمحے اس کے اندر میں درد کی ٹیس اٹھی تھی … کتنی دور کھڑی تھی وہ اس سے … ہاں ہاں …کتنی دوری تھی بسس ایک کمرے کا فاصلہ تھا بظاہر دونوں میں پر حقیقت میں صدیوں جتنا فاصلہ تھا دونوں کے بیچ …

ابھی اور درد اس کے اندر جاگتے اس سے پہلے دو بازو ماہین کے پیچھے سے ہوکر کمر کی اگے پیٹ کی طرف آئے دونوں چونکے اس لمحے … وہ استحاق بھرے لمحے کے حصار میں قید سی ہونے لگی … وہ شخص تڑپ اٹھا جتنا وہ تڑپی تھی اس لمحے …

اس کے آنسو بہنے لگے پر شکر ہے بارش نے بھرم رکھ لیا تھا اس شخص کا , عجیب کرب جاگا اس کےاندر یہ منظر دیکھ کر ….

ہم بارشوں میں چل رہے ہیں آنکھوں میں نمی لیئے

تلاش ہے اس کی جو بارش میں بھی میرے آنسو دیکھ سکے

دانش اسے خود سے لگائے اب اس کی گردن پر اپنی تھوڑی ٹکا گیا … جانے وہ کیا بولا کہ اس کا کانپنا نیچے کھڑا شخص شدت سے محسوس کرگیا … دانش اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے خود سے جوڑ گیا اور کھڑکی کا پٹ بند کرگیا …

بارشوں کے موسم میں
دل کی سر زمینوں پر
گرد کیوں بکھرتی ہے؟
اس طرح کے موسم میں
پھول کیوں نہیں کھلتے؟
لوگ کیوں نہیں ملتے؟
کیوں فقط یہ تنہائی ساتھ رہتی ہے؟
کیوں بچھڑنے والوں کی
یاد ساتھ رہتی ہے؟
اتنی تیز بارش سے
دل کے آئینے پر سے
عکس کیوں نہیں دھلتے؟
زخم کیوں نہیں سلتے؟
نیند کیوں نہی آتی؟
بارشوں کے موسم میں
آنکھ کیوں برستی ہے؟
اشک کیوں نہیں تھمتے؟
بارشوں کے موسم میں
لوگ کیوں نہیں ملتے؟

وہ نظریں چرا گیا , بند کھڑکی اس کا منہ چڑا رہی تھی … اس لمحے سر جھکائے وہ اپنے آنکھون کی نمی کو روکنے کی کوشش میں ہلکان ہوا … وہ کھڑکی بند ہوچکی تھی اب اسے لگا اسے سانس لینے میں دقت محسوس ہورہی تھی جانتا تھا وہاں وہ بھی تڑپ رہی ہوگی گھٹں محسوس کررہی ہو گی … پھر جانے کیا ہوا اس کا موڈ خراب ہوا اور اندر کی طرف جانے لگا جب دعا بولی ..

“بھائی ابھی اور بارش چلے گی , اتنا جلدی کیوں جارہے ہیں …

وہ اسے ان سنا کرکے اندر چلا گیا تھا خود پر ضبط کرتا ہوا …

جاری ہے