Rate this Novel
Episode 33
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 33
“بھائی ہماری کیا غلطی ہے پاکستان آبھی گئے ہیں اور ہم سے ملنے بھی نہیں آئے … دعا نے دکھ سے کہا … یوں بھی وہ ان دنوں اندر ہی اندر علی کے رشتے کو لے کر دکھی تھی جو واقعی اپنی بات کا پکا نکلا , دوبارہ کوئی تعلق یا رابطہ نہ کیا اس نے دعا سے …
“آؤں گا میری جان , اداس نہ ہو … بسس کچھ شوٹنگ سے فری ہوجاؤں … شانی نے کہا اپنی پیاری معصوم بہن سے … سنگنگ کے ساتھ ماڈلنگ کی آفر ہوئی تو اس نے ایکسیپٹ کرلی ….
“ہم سب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں … دعا نے کہا …
“میں بھی تم سب کو یاد کرتا ہوں , پکا آؤں گا اس ہفتے … شانی نے کہے کر پھر کچھ اور باتیں کرکے کال کٹ کردی …
پھر واقعی وہ ہفتے کے بعد اپنے گھروالوں کے روبرو تھا ….
باپ سے ہمیشہ کی طرح وہ سرسری سا ملا جبکہ ماں اسے کتنی دیر پیار کرتی رہیں … تیمور اور دعا اسے گھیرے ہوئے تھے …
“شانی اتنا ناراض ہو کہ ماں سے بھی ملنے نہ آئے اور اس طرح سب چھوڑ کر چلے گئے … شائستہ بیگم نے شکوہ کیا …
“امی اپنی جنت سے کون بھاگ سکتا ہے , میں نہیں چھوڑ سکتا آپ کو … شانی نے ان کے ہاتھوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور کہا تھا … وہ ہمیشہ اپنی ماں کے ہاتھوں کے بوسے یونہی لیتا تھا اس کا عقیدت بھرا انداز اس کی ماں کی آنکھین نم کرگیا …
طاہر آفندی تو اندر چلے گئے تھے جبکہ دعا کچن چلی گئی اس کے لیئے چائے بنانے اور تیمور ایک کال سننے کو باہر نکلا تھا …
“بہت بری ماں ہوں میں شانی , جس نے بہت غلط کیا ہے تمہارے ساتھ , معاف کردو مجھے بیٹا … شائستہ بیگم نے کہا دکھ سے …
“امی یہ باتیں اب نہ کریں , میں ان سب سے بہت اگے نکل گیا ہوں … جو ہونا تھا سو ہوگیا …
“پر بیٹا اس سب میں نقصان تمہارا اور ماہین کا ہوا ہے سراسر … وہ تکلیف سے بولیں جس پر وہ ان کو ٹوکتا ہوا بولا …
“خدا کے لیئے امی اس کا اور میرا نام کبھی ساتھ نہ لیا کریں , میرا اس سے احترام کا تعلق ہے … میں اس کا نام اپنی زبان سے نہیں لیتا کہیں اس کے لیئے عذاب نہ بن جائے یہ سب … شانی کے لہجے میں سوائے خود اذیتی کے کچھ نہ تھا ….
“بیٹا ساری غلطی میری ہے , مجھے لگتا ہے میں مرجاؤں گی , میرے سب بچوں کی زندگی داؤ پر لگی ہے ایک طرف اگر ماہین کا دکھ میرے اندر میرا دل چیرتا ہے تو دوسری طرف ریما کے لیے بھی دل تڑپتا ہے جب اسے اتنا کچھ برداشت کرتے ہوئے دیکھتی ہوں … شائستہ بیگم نے اپنی دلی کیفیت بیان کی … وہ خاموش ہوگئیں تھیں اس سارے معاملے کو لے کر …
“امی اللہ آپ کو لمبی عمر دے … اللہ بہتر کرے گا واقعی حالات مشکل ہیں پر اللہ ہی سب بہتر کرسکتا ہم صرف سوچ ہی سکتے ہیں ہمیں اصل مدد اللہ سے مانگنی چاہیے … شانی نے کہا …
“میں دانش سے کئی دفعہ کہے چکی ہوں , جتنی بدنامی ہوگی برداش کرلیں گے پر ماہین اگر یہ تعلق نہیں برقرار رکھنا چاہتی تو اس پر کسی قسم کی زبردستی کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے پر یقین کرو دانش تو ہر چیز سے اگے نکل گیا ہے کچھ سننے کو تیار نہیں ہے ,نہ کچھ سمجھنے کو , بس اسے تو ضد سی ہو گئی ہے کہ وہ ماہین کو اسلام اباد میں اپنے ساتھ رکھے گا …. یہی ایک ضمانت ہے ریما کی خوشیون کی , دانش کو ایسا لگتا ہے … شائستہ بیگم نے دکھ سے کہا … “بھلا کونسی لڑکی سوتن کے ساتھ ایک گھر میں رہے گی ….
اپنی ماں کی باتیں سن کر تو ذیشان کے دل میں بھی درد اٹھ رہا تھا یہ سوچ کر کہ ماہین کس طرح یہ برداش کرے گی پر وہ اپنی فکر ماہین کے لیے کبھی ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا …
“امی اپ کو پتہ تو ہے بھائی ہمیشہ اپنی کرتے ہیں وہ کب ہماری سنتے ہیں اگر وہ تھوڑا بہت کسی کی سن بھی لیتے ہیں تو صرف بابا کی …. اپ اپنا خون مت جلائیں اپ صرف دعا ہی کریں کہ حالات بہتر ہو جائیں … شانی نے ضبط سے کہا اس کے ہر اک لفظ میں سچائی تھی …
@@@@@@@@@
انہی دنوں چاہت کی طبیت خراب ہوگئی اسے موشن ہونے لگے … ایک بار ہوئے پھر دو دن بعد موشن ہوگئے … ماہین کے لیئے یہ سچوئیشن عجیب ہوگئی تھی … ایک دفعہ ایک دن ایڈمٹ بھی رہی تھی وہ ہسپتال میں , سعدیہ بیگم اس کے ساتھ رہیں تھیں ہسپتال میں کیونکہ اکیلے وہ نڈھال سی ہوگئی تھی چاہت کو سنبھالتے ہوئے … اتنی معصوم بچی کو ڈرپس لگی دیکھ کر دونوں کو تکلیف ہورہی تھی …
کسی نے بھی دانش کو بتانے کی زحمت نہ کی … اس بار ریما نے بھی ایسی کوئی کوشش نہ کی تھی … وہ جانتی تھی اگر وہ اپنے بھائی کو بتائے گی وہ پہنچ جائے گا اور سب کا سیدھا شک اس پر ہی جائے گا اسی لیے بہتر تھا کہ اب وہ ماہین اور دانش کے معاملے سے دور رہے … وہ خود سے وعدہ کرچکی تھی دانش اور ماہین کے معاملوں بلکل نہیں بولے گی نا کوئی عملی کاروائی کرنے کی کوشش کرے گی ….
ابھی ایک ہفتہ اور گزرا پھر چاہت کو موشن شروع ہوگئے …
نرس نے ماہین کو دیکھا تو کہے بنا رہ نہ سکی “پھر آپ کی بیٹی ایڈمٹ ہوئی ہے کیا … نرس کے لہجے میں فکر تھی …
یہ وہی نرس تھی جس کی نائیٹ ڈیوٹی میں چاہت ایڈمٹ تھی اسی ہسپتال میں …
“جی … پتا نہیں کیا ہوگیا ہے , جتنی میری فیڈ کرتی ہے اتنے موشن ہورہے ہیں پہلے ایسا نہیں تھا اب اچانک پتا نہیں کیا ہوگیا ہے ایک مہینے سے یہ ہورہا ہے بار بار … میں تو ایسا ویسا کچھ کھاتی بھی نہیں , میں ہر قسم کا احتیاط کرتی ہوں … ماہین نے فکرمندی سے کہا …
“ایک بات پوچھوں … نرس نے کہا …
“کہیں آپ پریگنیٹ تو نہیں … کیونکہ اس کنڈیشن میں اکثر بچون کو مدر فیڈ موشن کرواتی ہے … نرس نے کہا پرسوچ انداز میں …
ماہین کو ایسا لگا جیسے اس کے اندر گھٹن بڑھ گئی اور اس کے ذہن میں دانش کے کہے آخری لفظ ذہن میں گونجے “اس بار میں نہیں آؤں گا تم خود آؤ گی میرے پاس …
“آپ پریشان نہ ہوں میں نے یونہی ایک بات کہی ہے , صرف پوچھنے کے لحاظ سے , شاید ایسا نہ بھی ہو … آپ ایک بار ٹیسٹ کروالیں … نرس نے اس کی اڑی رنگت دیکھ کر جلدی سے اسے تسلی دینا چاہی …
ماہین کے اندر سناٹے سے اترنے لگے اس طرح کا کوئی خیال اس کے وہم اور گمان میں بھی نہ تھا , یوں تو ڈاکٹر بھی فکر مند تھے کہ اچانک بچی کو کیا ہے جو بار بار موشن ہورہے ہیں , کسی کا دھیان اس طرف نہ گیا تھا نہ اسے خود خیال آیا تھا ….
@@@@@@@@@
“واٹ پلیزینٹ سرپرائیز , میں سوچ بھی نہیں سکتا تم مجھے کال کروگی , چاہت کیسی ہے … دانش نے کال ریسوو کرتے ہی ماہین کا ہیلو سن کر وہ بول اٹھا اور اس کی کال کی آئی خوشی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کی خیریت پوچھنے لگا ….
وہ اس کی سب باتوں کو اگنور کرگئی … کیوں اسے بتاتی اپنی بیٹی کی خیریت کا جس کی اس کو پرواہ ہی نہیں کی اگر اسے ذرا سی بھی اپنی بیٹی کی پرواہ ہوتی تو شاید یہ سب کچھ نہ کرتا , جو وہ کرچکا ہے ….
“کیا روبرو بات ہوسکتی ہے … ماہین نے دوٹوک اور سرد لہجے میں کہا …
“خیریت …. دانش نے پوچھا … اب کے وہ بھی کچھ سیریس ہو گیا اس کے لہجے میں فکر مندی تھی کیونکہ ماہین کا سیریس انداز اسے بھی چوکنے پر مجبور کرگیا تھا …
“میں نے پرسون کی اپائیمینٹ لے لی ہے گائینک کی اور میرا خیال ہے وہی بہتر سمجھا سکتی یے تمہیں … ماہین کے سرد انداز اور گائینک ڈاکٹر کا سن کر وہ تقریبً شاک ہی ہوا تھا …. کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ سنبھل کر بولا …
“کیا جو میں سوچ رہا ہوں , کہیں تم …. وہ جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑ گیا …
“میں جتنا سوچوں پھر بھی اللہ کے دیئے احکامات میرے خون سے نکلیں گے نہیں … اس لیے چاہتی تو تم سے بھی چھپا کر یہ سب کچھ کر سکتی تھی جو میرے لیئے بلکل آسان ہے پر نہیں یہ ہم دونوں کی اولاد ہے جسے کے لیئے میڈیکل کہتی ہے ہم ابارشن کرواسکتے ہیں جو حالات ہیں اس میں یہ جائز بھی ہے … وہ ایک ساتھ اپنی ساری فکریں کہے گئی تھی …
“,ماہین تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ایسے کیسے تم اکیلے فیصلہ کر سکتی ہو ابارشن کا … اب کے دانش نے غصے سے کہا …. ماہین کی خاموشی پر اس نے کان سے موبائل ہٹا کر دیکھا جو کال اب تک چل رہی تھی ورنہ اسے لگا شاید وہ کال کٹ کرچکی ہے …
“میں کل ہی انے کی کوشش کرتا ہوں ورنہ پرسوں تو ضرور ا جاؤں گا تو میں تب تک تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گی … سن رہی ہو تم ….
“ہممممم … بس وہ صرف ہنکاری تھی کیونکہ وہ ضبط کررہی تھی اپنا غصہ …
وہ کال کاٹ گئی کیونکہ اور کوئی وجہ نہ رہی تھی بات کرنے کی …
@@@@@@@@@
“دانش اوپر کے پورشن کو کون دیکھنے آیا تھا آج دن میں … نایاب اس سے پوچھ رہی تھی سرسری لہجے میں کیونکہ شام میں اسے ملازمہ بتارہی تھی دن کو اس کی غیر موجودگی میں یہ سب ہوا تھا , وہ دن کو شاپنگ کرنے گئی تھی بچوں کی ضرورت کی چیزین اسے لینی تھیں … کچھ لوگ دن میں کافی دیر دیکھتے رہے تھے اوپر والے پورشن کو …
“ہاں یار … وہ بتانا تمہیں بھول گیا کہ ماہین اور چاہت کے لیئے اوپر کا پورشن سیٹ کررہے ہیں … دانش نے لیب ٹاپ پر نظریں جماتے ہوئے کہا تھا …
نایاب کو ایسا لگا جیسے اس سے سننے میں غلطی ہوئی ہو …
“کیا ہوا نایاب تم چپ ہوگئی , تم کو یہ سب اچھا نہیں لگ رہا کیا … دانش نے حیرت سے پوچھا لیب ٹاپ سائیڈ پر رکھا اس نے ….
“کیا ماہین سے بھی آپ کو محبت ہوگئی پے دانش … نایاب نے اٹکتے ہوئے پوچھا … وہ سرے سے اس کی بات اگنور کرگئی …
“یہ مجھے نہیں پتا نایاب پر مجھے اتنا پتا ہے مجھے عشق صرف تم سے ہے اگر آنکھ بند کرکے کسی پر بھروسہ ہے وہ تم پر ہے … دانش نے سکون سے کہا اس کی آنکھون میں دیکھتے ہوئے …
“تو ماہین کی کیا اہمیت ہے آپ کی نظر میں …نایاب نے پوچھا …
“ویسے یہ سوال ماہین کا ہونا چاہیئے نایاب تمہارا نہیں … دانش نے کہا جس پر نایاب اچھا خاصا تلملا اٹھی … کیسی عجیب عورت تھی اپنے شوہر سے اتنا خوبصورت اظہار اگنور کرکے کسی اور کی اہمیت پوچھ کر , خود کو اس پیمانے پر تول رہی تھی جبکہ نایاب کو چاہیئے وہ اپنے حصے کے پیار کا حساب پوچھے کسی اور کے پوچھنے کے بجائے … عورت صدا سے اپنی اسی بےوقوفی پر بڑی سے بڑی مات یا خسارا اپنے حصے میں لکھواتی آئی ہے ….
“دانش ہم ہر ٹاپک پر بات کرسکتے ہیں یہ سوال میرا ہے تو جواب مجھے دیں … نایاب نے کہا …
“دیکھو نایاب , حالات تمہارے سامنے ہے , میری بہن کی زندگی عذاب ہوگئی ہے جب تک ماہین وہان ہے … اس لیئے اب یہی مناسب ہے اسے اپنے ساتھ رکھوں … یہ میری بیٹی کے لیئے بھی ضروری ہے … جانے کیوں وہ اس سے ماہین کے دوبارہ پریگنینسی کی بات چھپاگیا …
“دانش آپ اپنی بہن کے لیئے میرے ساتھ زیادتی کررہے ہیں …. نایاب نے آج پہلی دفعہ کھل کے کہا ورنہ آج تک ایسی بات اس نے کبھی کہی بھی نہیں …
“نایاب تمہیں کیا ہوا , تم ایسا کیسے کہے سکتی ہو , میں نے کبھی تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ہے تم خود جانتی ہو میری ساری محبتین اور بےتابیان تمہارے لیئے ہیں … وہ اس کے ہاتھ تھام گیا یہ سب کہتے ہوئے …
“دانش پتا نہیں کیوں مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا یہ سب … مجھے ماہین اور چاہت دونوں پیارے ہیں پر یوں آمنے سامنے برداش کرنا مشکل ہے … نایاب نے فکر سے کہا , اب کے وہ خود پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی …
“یار دونوں پورشن الگ ہونگے فکر مت کرو , آمنا سامنا کم ہوگا … ماہین اپنے حد میں رہنے والی ہے …. بسس تم کسی قسم کی پریشانی نہ سمجھو ماہین اور چاہت کو لے کر …. دانش کی کہی بات میں اگر نایاب محسوس کرتی تو اسے ماہین کی ریزروو نیچر کو لے کر واضع بےفکری تھی …
“دانش آئے لوو یو , آئے کین ڈو ایوری تھنگ فاریوو … نایاب نے لاڈ سے کہا جس پر دانش مطئمن ہوا …
“تھینکس نایاب , تم ایسی ہی رہنا ہمیشہ , مجھے تمہارے یہ انداز تمہارا دیوانہ کرتے ہیں … دانش نے محبت سے اسے خود سے لگاتے ہوئے کہا … وہ اندر ہوتے تلاطم پر ضبط کرتی ہوئی مسکرائی تھی ….
@@@@@@@@
“ماہین یہ سب کرکے کیا ملے گے 25پرنسنٹ چانسز ہیں بے بی نارمل ہو … دانش نے اسے سمجھایا دونوں ڈاکٹر کو دکھا کر آئے تھے جس پر اس نے ان کو اچھی خاصی سنائی تھی یہ کہے کر کہ “کس قدر لاپرواہ ماں باپ ہو آپ دونوں , کتنا سمجھایا تھا پانچ سالوں تک سوچیئے گا بھی مت دوسرے بچے کا , اور آپ لوگوں سے چار مہینے صبر نہ ہوسکا …. ڈاکٹر انتہا سے زیادہ غصے میں اگئی تھی اس قدر لاپرواہی پر … ماہین اور دانش خاموشی سے سنتے رہے , ماہین ضبط کرتی رہی جبکہ دل چاہا چیخ کر بتائے کہ “یہ اس کے شوہر کا سب کیا دہرا ہے …
“اور اگر ایسا نہ ہوا تو سوچا ہے میرا کیا ہوگا …. چاہت کی ذمیداری بڑھ رہی ہے اور تم نے صرف اپنی انا کی تسکین کے لیئے میرے ساتھ یہ سب کیا … وہ گاڑی میں بیٹھی اس سے بولی تھی اس وقت دونوں اکیلے تھے , یہ گاڑی دانش نے رینٹ پر ہائیر کی تھی ایک دن کے لیئے …
“ماہین میں سب ذمیداریان لینے کو تیار ہوں … تم ایک بار سوچو تو سہی … دانش گاڑی ایک سائیڈ پر روک کر بولا تھا …
“چاہت کو میری ضرورت ہے اور اب تمہیں بھی … ماہین حیرت سے دیکھنے لگی اس شخص کو جو صرف اپنے مطلب کی ہی بات کرتا ہے …
“ٹھیک ہے میں اسلام آباد میں تمہارے ساتھ رہنے کو تیار ہوں پر میری کچھ شرطین ہیں …. وہ نظریں سامنے منظر پر جماتی ہوئی بولی تھی انداز دو ٹوک تھا ….
“ہممممم کہو …
“تم جتنے دن اسلام اباد ہو گے اتنے ہی دن میں رہوں گی جب بھی جس شہر بھی تم رہنے جاؤ گے میں تمہارے ساتھ چلوں گی , لاہور بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی تمہارے ساتھ اؤں گی اور میری طرف سے یہ بالکل امید مت رکھنا کہ گھر کا کوئی کام یا تمہارا کوئی کام کروں گی ہر کام کے لیے مجھے ملازمہ چاہیے اور اس قدر مجھے پرائیویسی چاہیے کہ تمہاری بیوی تو مجھے نہ نظر ائے پر تمہارے بچے بھی میرے گھر میں پاؤں نہیں رکھیں گے اور میرے بچوں کا تمہارے ان بچوں سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور نایاب بالکل نہیں ائے گی میرے پورشن میں اگر یہ سب کچھ تم کر سکتے ہو تو میں تمہارے ساتھ چل سکتی ہوں … ماہین بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بولی تھی …
“ماہین اس قدر تنگ نظر ہو تم … دانش نے حیرت سے کہا …
“نہیں میں اسٹریٹ فارورڈ ہوں … مجھے دو گلا پن کرنا نہیں اتا جو میرے دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر ہوتا ہے اب اگر میں سمجھوتے کے لیے تیار ہوئی ہوں تو ساری کنڈیشنز میری ہوں گی اپ کی ایک بھی کنڈیشن میں نہیں مانوں گی …. ماہین کا لہجہ مضبوط تھا ساتھ ہی ساتھ اپنے ارادے پر مضبوطی سے ڈٹے ہوئے لہجے میں بولی تھی …
“ٹھیک ہے تمہاری سب شرطیں مان لوں گا اور میری صرف ایک ہی شرط ہوگی کہ میری بہن ریما پر سوتن تمہارا بھائی نہیں لائے گا …. دانش نے ہامی بھرتے ہوئے آخر میں اپنی ایک کنڈیشن رکھی تھی …
“اچھی طرح مجھے اندازہ تھا تم دونوں بھائی بہن کا یہی المیہ ہے کہ صرف اپنے بارے میں ہی تم لوگ سوچتے ہو اور ایک بات میں کہنا چاہتی ہوں خدا سے ڈرو اور اس وقت سے ڈرو جب تمہیں وہ تمہاری خواہشوں سے تھکا دے گا تم نے میرے اوپر ظلم کیا ہے اور میرے لیے میرے راستے تنگ کیے ہیں میری دعا ہے کہ خدا تمہیں انہیں راستوں کا مسافر بنائے جن راستوں کا مسافر تم نے مجھے بنایا ہے … کل آجانا مجھے لینے … اتنا کہے کر وہ خاموش ہوگئی ….
دانش اسے دیکھتا رہ گیا ….
جاری ہے
