Rate this Novel
Episode 32
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 32
“اور پینتیس منٹ …. ماہین نے زیرلب کہا اور اچانک اسے ہوش آیا وہ کیا کہے گی … وہ بے انتہا ڈرگئی اس لیئے بغیر علی کی آنکھوں میں دیکھے وہان سے نکل گئی … وہ دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس کی آنکھون میں جانے درد ہو یا پھر بہن کے لیئے بےاعتباری …
جب علی کی آنکھون کے سامنے سارے منظر اتے چلے گئے ماہین کا دانش سے رشتہ جڑنے کے بعد سے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لینا اس کا , ذیشان کا چپ ہوجانا پھر کبھی اسے مسکراتے کسی کا نہ دیکھا جانا … جبکہ ماہین کے لیئے سب کا کہنا تھا شاید دانش بھائی جیسے میچور بندے کی وجہ سے وہ بھی میچور ہوگئی ہے اور بہیوو کرنے لگی ہے اس طرح …
“کتنے نادان تھے ہم سب , کوئی سمجھ ہی نہیں سکا کیا ہوا اور دو ہنستے مسکراتے لوگ زندگی سے بیزار ہوگئے , سب نے محسوس کیا پر وجہ نہ سمجھ سکے … کتنا غلط ہوا ہے دونوں کے ساتھ , ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپائے …
“ماہین آپی سانسون کی طرح حساب رکھتی ہے شانی بھائی کا , یہ کیسا تعلق ہے , اسے کیا نام دوں , سوائے درد کے … علی نے دکھ سے سوچا …
“آپی آج سمجھ آیا کیوں آپ دانش بھائی سے علیحدگی کے بعد دوبارہ شادی کا نام بھی نہیں سننا چاہتیں اپنے لیئے … کیونکہ آپ یہی درد لے کر اپنے ساتھ باقی زندگی گزارنا چاہتی ہیں … کاش آپ کا یہ بھائی آپ کے لیئے کچھ کرسکتا …
علی نے دکھ سے سوچا … آج کے بعد شاید وہ کبھی خود بھی دل سے مسکرا نہ سکے گا یہ سوچ کر اس کی جان سے عزیز بہن کس اذیت میں ہے ….
ناعلی نے کچھ کہا نا ماہین نے دوبارہ اس پر بات کی …
@@@@@@@@@
“سو لیڈیز اینڈ جینٹل مین آج فرسٹ ٹائم فرسٹ شو ہے جو ہمارے نیو ابھرتے ستارے سنگر مسٹر شانی کا انٹرویو ہمارا چینل کاسٹ کررہا ہے آپ لوگون کی پرزور فرمائش پر … سو آپ کی تالیون کے ساتھ میں آپ کی ہوسٹ مہک بلاتی ہوں آج کے ہمارے وی آئی پی گیسٹ مسٹر شانی کو آپ کی تالیوں کی گونج کے ساتھ …
یوں بلیک شرٹ پر گرے پینٹ پہنے سادہ سے حلیئے میں کئی لڑکیوں کا دل دھڑکا رہا تھا …
وہ مسکرا کر ہوسٹ کے کچھ کیوئیل سوالات کے جواب دے رہا جس میں اصل نام رہائش تاریخ پیدائش شوق وغیرہ کے سوالات تھے جن کے جواب وہ مزے سے دے رہا تھا …
“کیا آپ سنگل ہیں … ہوسٹ نے پوچھا …
“ہاں , اللہ کا شکر ہے اور تاعمر رہنے کا ارادہ رکھتا ہوں … شانی نے سکون سے کہا …
“پھر تو ضرور پیار محبت کا معاملہ ہوگا … مہک نے آنکھوں میں شرارت لیئے پوچھا تھا ….
“پیار محبت تو نہیں بس سارا معاملہ عشق کا ہے , وہ مرشد ہے میری … شانی نے سکون سے جواب دیا تھا …
“کیا نام بتانا پسند کریں گے , آپ کو چاہنے والی اتنی ساری فین کی ڈیمانڈ ہے یہ کہ اتنے سیڈ سونگ اور اس پر آپ کا حسرت سونگ اندازہ تو سب کو ہوگیا تھا کیونکہ جب پتا چلا لکھا بھی آپ نے خود ہے … مہک تار سے تار جوڑتی ایک ساتھ کئی سوال کرگئی تھی …
“ادب ہے پہلا قرینہ محبت کے قرینوں میں سے … اتنا احترام کرتا ہوں کہ اس کا نام بھی نہیں بتا سکتا پر مرشد ہے میرا وہ , میرا مرشد میرا رہنما … اس کے لہجے کا فسعن تھا جو چاروں اور پھیل رہا تھا اپنے مرشد کا ذکر کرتے خمار بھرا لہجہ اس کے اندر کے درد کو بیان کررہا تھا …
“بہت خوب مسٹر شانی , کیا خوب کہا آپ نے … آپ کو نہیں پتا شاید پر مرشد کے ذکر پر آپ کی آنکھون میں الوہی سی چمک اتر آئی ہے … مہک نے مسکرا کر کہا واقعی وہ چھاجانے کی صلاحیت کا مالک تھا …
“اچھا وہ بے ساختہ مسکرایا اتنا کہے کر …
“ویسے ایک اور پرسنل سوال , پھر کیا کہنا چاہیں گے آپ لاہور کے بجائے کراچی شفٹ ہونے پر … مہک نے یہ بھی بتادیا وہ پاکستان شفٹ ہورہا ہے …
“سنا ہے ان ہواؤں میں کسی کی سانسوں کی مہک آج بھی مہکائے رکھتی ہےاس شہر کو , ویسے آپ تو یہی سننا چاہتی ہیں پر حقیقت یہ ہے کہ کراچی خوابون کا شہر ہے , ہر کیریئر اورینٹ بندہ اسی شہر میں رہنا پسند کرتا ہے …. شانی نے دو طرح سے ایک ہی سوال کا جواب دے کر ہوسٹ کو حیران کردیا تھا کیا سچ کیا فسانہ ہے …
“کوئی سونگ ہی سنا دیں آج جو دل کے قریب تر ہو … مہک نے کہا …
کچھ لمحون کی خاموشی کے بعد وہ بولا کہ “وہ بغیر میوزک کے ہی گانا چاہتا تھا یہ سونگ جسے ہوسٹ نے ایکسیپٹ کیا …
سن رہا ہے نا تو … رورہا ہوں میں
اپنے کرم کی کر ادائیں کرلے ادھر بھی تو نگاہیں
سن رہا ہے نا تو رورہا ہوں میں
وہ اس طرح آنکھین بند کرکے بغیر میوزک کے گارہا تھا , جو اس کا درد وہاں بیٹھی ہوسٹ بھی محسوس کرگئی جس کی آنکھ نم ہوئی تھی … اڈینس بھی تھوڑی سیڈ ہو گئی تھی جس انداز میں وہ گارہا تھا …
کچھ دیر تک خاموشی چھاگئی … اتنا سیڈ ماحول محسوس کرکے ہوسٹ نے کہا “پلیز چند لائینس اپ کے پہلے انگلش سونگ کی جو بلیو برڈس بینڈ کے ساتھ گیا ہے پلیز کچھ لائینس , یہ بات کم لوگ جانتے ہیں پہلا سونگ اپ نے انگلش گایا پھر حسرت آپ کا اپنا البم ہے ….
“ہاں یہ سچ کہا آپ نے … شانی نے کہا فیک سمائیل دیتے ہوئے …
“پلیز کچھ لائینس فرسٹ سونگ کی … مہک نے پھر فرمائیش کی …
“ہمممم….
ان می یو یو یو اونلی یو
ان می می می
یو یو اونلی یو ان می می می
یور آئیز یور سمائیل یو یو ایوری ویئر از یو
ان می می می
وہ تھوڑا سا گاکر چپ ہوگیا تو مہک نے پوچھا ….
“ویسے بلیو برڈس بینڈ سے کیسے ملے آپ …
“میں آسٹریلیا میں ایک پول پارٹی میں دوستوں کے کہنے پر اپنا لکھا انگلش سونگ گنگنا رہا تھا اور وہاں بیٹھے ان کے ایک میمبر کو میری آواز پسند اگئی اس لیئے پھر اس بینڈ نے مجھے آفر دی ان کے ایک ایلبم میں اپنا سونگ گاکر ان کا حصہ بنوں , یہ سب بغیر آڈیشن کے ہوا تھا … شانی مزے سے ہوسٹ بتاتہا کس طرح وہ اس کیریئر کا حصہ بنا …
“آپ جانتے ہیں ان کے اس البم کا بیسٹ سونگ آپ کا ہی گایا ہوا ایک سونگ ہے …
“جی بلکل … شانی نے بغیر کسی مغرورانہ انداز کے کہا ورنہ حقیقتا یہ بات قابل فخر تھی پر شانی کو ان چیزوں پر کوئی غرور نہ تھا …
“اور مرشد سائیں کے لیئے کچھ کہیں گے … مہک نے کہا …
جس پر اس نے ایک شاعری پڑھی …
یہ لازمی نہیں بانہوں کے درمیاں بھی رہے
مِری دُعا ہے کہ تُو خوش رہے جہاں بھی رہے
یہی بہت ہے کہ نظروں کے سامنے ہے وہ شخص
کہاں لکھا ہے کہ وہ مجھ پہ مہرباں بھی رہے
تُو جاتے جاتے مجھے ایسا زخم دیتا جا
کہ درد بھی رہے تاعُمر اور نشاں بھی رہے
نگاہِ یار نے کل یُوں سنبھل کے دیکھا مجھے
کہ تذکرہ بھی نہ ہو اور داستاں بھی رہے
نبھا رہا ہے تعلق وہ اس طرح صبا
کہ دوستی بھی لگے، عشق کا گماں بھی رہے
“بہت شکریہ آپ کا شانی سر , تھینک یو سو مچ اس انٹرویو کے لیئے …. مہک نے آخری جملے کہے …
“تھینک یو بہت وقت کے بعد بہت اچھا محسوس کررہا ہوں اپنے ملک میں بیٹھ کر اپنے مرشد کی باتیں کرتے ہوئے … وہ بھی مسلراتا ہوا بولا ….
کہیں دور کوئی بیٹھا اس کا انٹرویو سنتا اپنے دل میں سکون اترتا ہوا محسوس کررہا تھا … حقیقت میں اسے احساس تھا کہ گانوں نے اس کے درد کو ایک نئی اواز دے دی ہے اور شاید اس کا درد بھی بانٹ لیا ہے …
“یونہی خوش رہو تم … کسی نے دل سے دعا دی …
@@@@@@@@@@
دو دن کے بعد وہ لوگ کراچی پہنچ گئے تھے … اتے ساتھ انہون نے بتایا کہ علی اور عائشہ کا رشتہ طے کرچکے ہیں اور پھر سعدیہ نے پوچھا “سوری علی تم سے پوچھا نہیں …
“ارے میری پیاری امی جان یہ ساری اتھوریٹیز آپ کو دے دی ہیں میں نے … علی نے لاڈ سے کہا … جس پر سب کے اندر سکون سا اترا تھا …
پھر انوشے اور زبیر کی بات پکی کو لے کر باتیں کرتے رہے …
“ویسے کل ہی چلیں گے قادر بھائی اور بھابھی کو مبارک دینے … سعدیہ بیگم نے کہا نادر صاحب سے …
“ہاں بلکل چلنا ہے , یہ مدثر بھائی نے اچھا فیصلہ کیا … نادر صاحب نے سکون سے کہا جس پر ماہین نے شکر کیا کہ اس کے ماں باپ کو کوئی افسوس نہیں ورنہ اگر اس رشتے کو لے کر اس کے چہرے پر افسردگی اتی تو ماہین کو دکھ ہوتا …
ویسے بھی کل رات زبیر کا فون اسے آیا تھا جس پر اپنے باپ کی کہی بات پر معذرت کررہا تھا اور اپنی صفائی بھی کچھ یوں دی کہ “ماہین میرے لیئے میری چھوٹی بہن کی طرح ہو اور وہ ہی رہوگی تم … میری خواہش یہی رہے گی اللہ نے تم جیسی بہن نہ دی تو کیا میری دعا ہے تم جیسی بیٹی ضرور دے مجھے , ایک لڑکی کو کیسا ہونا چاہیئے اس کی مثال تم ہو , ہمیشہ ایسی ہی رہنا …
“تھینک یو زبیر بھائی , آپ کے الفاظ میرے لیئے بہت معنی رکھتے ہیں … میری دعا ہے آپ اور انوشے ہمیشہ خوش رہیں ایک ساتھ … آمین … ماہین نے کہا جس پر وہ بھی آمین بولا …
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد سعدیہ بیگم نے ماہین سے کہا …
“عمر اور علیزے تمہارا اور چاہت کا پوچھ رہے تھے …
“اچھا امی … پھر آپ نے ان کو کہا ہم بھی یاد کرتے ہیں مامون کو … ماہین نے کہا …
اسی وقت ریما کہنے آئی کہ “کھانا لگ گیا ہے … اتفاق سے اس وقت ڈائینگ پر سب بیٹھے تھے … سعدیہ بیگم کے کہے مطابق سنت کے حساب سے خاموشی سے سب ڈنر کررہے تھے … کھانا ختم کرکے سب سے پہلے ریما اٹھنے لگی اپنی پلیٹ اٹھا کر جانے لگی تو اچانک ماہین کی آواز نے اسے روکا ….
“ریما بھابھی میرا خیال ہے آپ کو گھر والوں کو کچھ بتانا تھا …. ماہین نے سکون سے نرم لہجے میں کہے کر ریما کو حیران کیا اور بےساختہ سب نے ریما کی طرف دیکھا … اس وقت ڈائینگ پر نادر صاحب سعدیہ بیگم , علی , ریحان سب تھے … ریما کے دونوں بچے پہلے کی کھانا کھا کر سوچکے تھے , جبکہ چاہت بھی فیڈ کرنے بعد ماہین اسے ایک کروٹ سلا آئی تھی…
“نہیں مجھے تو کچھ نہیں بتانا … وہ حیرت سے بولیں …
“تھوڑا ذہن پر زور ڈالیں شاید یاد آجائے … ماہین کا لہجہ اب تھوڑا سا سخت ہوا …
سب حیران تھے ماہین کے ان تیوروں سے …
“ماہین مجھے کیا بتانا ہے , تم کیا کہے رہی ہو مجھے سمجھ نہیں ارہا … ریما بے خیالی میں بولی تھی …
“چلو ٹھیک ہے , میں ہی بتادیتی ہوں , ویسے بھی مجھے عادت نہیں جو آج بتانا اسے کل پر رکھ دوں جو بڑی مصیبت بن کر سامنے آئے … ماہین نے سکون سے بولی تھی …
اب کے ریما کے آس پاس خطرے کی ان سنی گھنٹیان بجنے لگیں اس کے چہرے پہ شدید پریشانی کے تاثرات تھے …
“وہ …. وہ … ریما کی زبان لڑکھڑائی …
“ماہین تم بتاؤ , کیا بات ہے ریحان نے کہا اب کے وہ ریما کے اس انداز پر کڑی نظروں سے اسے گھورتا ہوا بولا تھا …
سب حیران پریشان تھے کیا ہورہا ہے …
“ریما بھابھی نے اپنے بھائی کو بتادیا آپ میں سے کسی کے نا ہونے کا گھر پر جب آپ لاہور تھے اس رات علی بھی باہر تھا … اسی رات دانش دیر رات آئے تھے ایک شوہر کی حیثیت سے , صبح بغیر کسی سے ملے چلے گئے تھے … اس لیئے ضروری ہے اس بات کا سب کو علم ہونا چاہیئے کیوں ریما بھابھی … ماہین خاموشی سے اتنا کہے کر اٹھ کھڑی ہوئی اور ریما بھابھی کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ کر لے گئی تھی وہ …
ریحان کے چہرے تاثرات سخت سے سخت ہوتے جارہے تھے اسے اس قدر شدید غصہ آیا اپنی بہن کی بےبسی کا سوچ کر اس نے ریما کا بازو پکڑا اور اپنی طرف اس کا رخ کرکے جیسے ہاتھ اٹھایا علی بروقت بھائی کا ہاتھ نہ تھامتا تو شاید اتنی تیز چماٹ ریما کو گراکر رکھ دیتی کیونکہ علی اندازہ ہوگیا تھا کتنی شدت تھی اس کی تھپڑ میں …
“مت روکو مجھے یہ لائق ہی نہیں عزت کے , کھیل پر کھیلتی رہتی ہے یہ عورت , نہیں ہے یہ عورت , عورت نہیں دھبا ہے عورت کے نام پر , شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوئے …
ریما اس کے قدمون میں اگری “مجھے معاف کردو ایسا نہیں کروں گی اب پلیز ریحان مجھے معاف کریں …
“تم ڈھیٹ اور ڈرامے باز عورت ہو … یاد رکھنا جلد ہی میں بھی دوسری شافی کروں گا تاکہ تمہیں احساس تو ہو میرے بہن پر کیا گزر رہی ہے …. تمہیں ہمدردی تو دور کی بات تم تو میری بہن کی راہوں میں کانٹے بچھا رہی ہو تو اب یاد رکھنا ریما تم سے مجھے محبت تو نہیں رہی پر اب کوئی لگاؤ بھی نہیں رہا میں جلدی دوسری شادی کروں گا اور تم دیکھو گی جو کرنا ہے کر لو بتا دینا اپنے ماں باپ اور بھائی کو … ریحان نے غصے سے بھرپور لہجے میں کہا …
“ریحان … نادر صاحب نے کہا …
” کوئی نہیں بولے گا اب ہمارے بیچ اور میں شادی ضرور کروں گا اور کسی کے کہنے پہ نہیں رکوں گا یاد رکھیے گا میری یہ بات … جب دانش کے ماں باپ خاموش تماشائی بن کر سب دیکھتے رہے نا تو اب اپ لوگ بھی اسی طرح دیکھتے رہیے گا …. وہ اپنے ماں باپ سے دو ٹوک لہجے میں بولا اور پھر اپنے قدمون میں بیٹھی ریما کے ہاتھ سے اپنی ٹانگین چھڑاتا بولا ….
“اور ہاں تم ابھی کے ابھی جانا چاہتی ہو تو نکلو میرے گھر سے باہر اور یہاں رہنا چاہتی ہو تو تمہاری اپنی مرضی ہے اور مجھ سے کوئی امید مت لگانا اب تم ….
اتنا کہے کر وہ گھر سے باہر نکل گیا کیونکہ اب سارے حالات اس کی برداشت سے باہر ہوتے جا رہے تھے … اس کی بیوی اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی اس بات کا تو کوئی دکھ نہیں تھا پر وہ اس کی بہن کے لیے مشکلیں بڑھا رہی تھی اس بات کا شدت سے ریحان کو احساس ہوا تھا … وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا ماہین نے کس کرب سے یہ سب برداش کیا ہوگا اور اب کیوں اس طرح بتایا یہ سوچ کر ہی اسے بے انتہا شرمندگی ہو رہی تھی کہ وہ کیوں اس طرح اسے چھوڑ کر گیا کاش وہ اسے اس طرح چھوڑ کر نہ جاتا علی جیسے بےوقوف کے اسرے پر , دانش کی ہمت پر اسے اپنے اندر شعلے سے اٹھتے محسوس ہورہے تھے …
@@@@@@@@@@
گھر پر عجیب سا ماحول ہوگیا تھا , ریحان نے بلکل بات چیت بند کردی تھی اپنی بیوی سے … ریما نے روکر سب اپنے باپ اور بھائی کو بتادیا تھا …
جس پر طاہر آفندی بہت غصہ ہوئے دانش پر … پر وہ ازلی ڈھٹائی سے ان کو لاجواب کرگیا یہ بول کر “اپنی بیوی کے پاس گیا تھا کسی پرائی عورت کے پاس نہیں , جو کیا میں نے اس پر مجھے کوئی شرمندگی نہیں , جب تک میرے نکاح میں ہے اسی کے پاس جاؤں گا … مجھے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ….
“دانش شرم کرو تم اور کچھ نہ سہی اپنی بہن کا خیال ہی کرلیتے … طاہر صاحب نے کہا ہمیشہ والا جملا …
“پاپا آپ پریشان نہ ہوں جلد ہی ماہین میرے ساتھ ہوگی … دانش نے یقین سے کہا …
“اف دانش تم سمجھتے کیوں نہیں … طاہر صاحب غصے سے بولے …
“کیا سمجھوں , مجھے نہیں اپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میں نے جو کیا وہ بالکل صحیح تھا اور وقت کا یہی تقاضہ ہے … دانش کی بات پر طاہر صاحب ہونٹ بھین گئے تھے شاید وہ خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھ رہے تھے …
کچھ لمحوں کے ضبط کے بعد وہ بولے …
“مدثر بھائی صاف لفظوں میں مجھے کہے چکے ہیں کہ دانش جلد ہی کوئی فیصلہ کر لے ورنہ ایسا نہ ہو کہ ریما کو کوئی بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے بہتر یہی ہے جو ماہیں چاہتی ہے وہی کیا جائے تبہی ریحان ٹھیک ہوگا ریما کے ساتھ …
طاہر صاحب نے مختصر لفظوں میں اپنی اور مدثر کی ہوئی باتوں کا حوالہ دیا دانش کو …
” اور پاپا اپ کی یہ سب سے بڑی بھول ہے کہ ماہین وہاں ہوگی اور ریما پرسکون رہے گی ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا … یہ اپ کی بہت بڑی بھول ہے … ماہین میرے پاس ہوگی تبھی ریما اپنے گھر پر پرسکون رہے گی اور اس بار میں کوئی زبردستی نہیں کروں گا ماہین کے ساتھ وہ خود ائے گی میرے پاس ٹرسٹ می … دانش کے اتنے یقین پر وہ غصے سے بولے ” مجھے لگتا ہے تمہارا یہی یقین , تمہیں اور ریما دونوں کو لے ڈوبے گا اور ریحان دوسری شادی کر لے گا سمجھ نہیں اتا تمہیں …
انہیں بس یہی فکر کھائے جا رہی تھی کہ کہیں ان کی بیٹی پر نہ یہ مصیبت ا جائے کیونکہ ایک باپ کبھی بھی اپنی بیٹی پر سوتن برداشت نہیں کر سکتا وہ بھی بغیر کسی وجہ کے …
” تو جا کر کر لے کس نے روکا ہے ریحان کو … میری بہن کوئی بوجھ نہیں ہے ہم پر اپ سمجھاتے کیوں نہیں یہ ریما کو ا جائے یہاں پھر خود ریحان کو بھی احساس ہو جائے گا کہ بغیر بیوی اور بچون کے رہنا اتنا اسان نہیں ہے… اپ ریما کو سمجھاتے کیوں نہیں ہیں … دانش نے کہا …
” تم کوشش کر کے دیکھ لو بالکل نہیں مانتی جب کہتے ہیں یہاں ا جاؤ کم از کم ریحان کو کچھ تو احساس ہو اپنی غلطیوں کا اور وہ سمجھتی نہیں ہے کوئی بات … طاہر آفندی کو احساس ہورہا تھا ان کا سب کچھ بکھرتا جارہا ہے وہ کچھ بھی روک نہیں پارہے تھے , ایک وٹے سٹے کی شادی ان کو بہت مہنگی پڑرہی تھی , انہیں ریما کی تکلیف اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی … وہ خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کر رہے تھے …
جاری ہے
