Rate this Novel
Episode 31
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 31
“اس وقت آپ جائیں یہاں سے دانش … ماہین نے کھڑے کھڑے کہا دوٹوک انداز میں … وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا … اس کے ہر انداز میں احتجاج واضع تھا ….
کچھ لمحوں تک وہ اسے دیکھتی رہی دانش کی ڈھٹائی دیکھ کر وہی بولی “میں جارہی ہوں , آپ ہی یہاں آرام کریں جب جانیں لگیں مجھے کال کر لیجیئے گا …
وہ جو جانے کا پکا ارادہ کرکے دروازے تک بڑھی تھی دانش اسے کمر سے تھام گیا … اب کے اس کی گرفت سخت تھی …
“سوری ماہین , یہ ضروری ہوگیا ہے اب , مجھے میری بیوی اور بیٹی دونوں چاہیئے … وہ اس کے کان کے پاس سرگوشی کرتا ہوا بولا اور اگلے پل اس کی کان کی لو پر اپنے دانت گاڑھ گیا … ماہین جھنجھنا اٹھی اور ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوئی …
“پلیز دانش ایسا مت کرو … ماہین کا لہجہ التجائی سا ہوگیا , اتنے زور لگانے کے باوجود وہ اس کی گرفت سے خود کو آزاد نہ کرسکی … بےبسی سے آنسو بہے نکلے …
“ماہین میری مجبوری سمجھو , میں زبردستی نہیں کرنا چاہتا … دانش اسے بیڈ پر گراچکا تھا وہ اگلے پل اس پر مکمل چھا گیا … ماہین کی بھرپور مذاحمت کے باوجود وہ اس کی گرفت سے خود کو آزاد نہیں کرپارہی تھی …
“پلیز مجھے یوں رسوا نہ کریں … ماہین نے گڑگڑاتے ہوئے کہا اگلے پل اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کی زبان پر قفل لگاگیا , اس کی التجائیں التجائیں ہی رہ گئیں.. وہ جو اپنی کرنے پر آیا تو کرتا چلا گیا …. ماہین کی سب کوشیشوں وہ ناکام کرکے اس پر چھاتا چلاگیا … ماہین کے آنسو اس کی باہوں میں بہتے رہے وہ اسے اپنے ہونٹوں سے کئی دفعہ چن چکا تھا …
وہ اپنے بکھرے وجود کے ساتھ اٹھنے لگی تو دانش اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کے دوبارہ اپنے قریب کرگیا …
“اتنی جلدی کیا ہے , ابھی کافی رات پڑی ہے … دانش اسے خود کے قریب تر کر گیا … ماہین کے بکھرے وجود کو اور بکھیرتا چلا گیا …
@@@@@@@@@@
“مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا … ریما خود سے بولی وہ جلے پیر کی بلی کی مانند ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی , بار بار کھڑکی سے دیکھتی کہیں علی نہ اجائے اور ماہین نے کوئی تماشہ کیا تو …
“اف کیوں بتایا میں نے بھائی کو گھر پر کوئی نہیں , وہ صبح تو انے ہی تھے … ماہین نے اگر ریحان کو بتادیا تو مجھے پکا نکال دیں گے … ریما کا پریشانی کے مارے برا حال تھا … ہزار سوچیں اس کے ذہن میں ارہیں تھیں جارہیں تھیں …
“اگر بھائی نے ایسا ویسا کچھ کیا تو ماہین چپ نہیں بیٹھے گی وبال کھڑا کردے گی … یہی سوچ اتے ہی اس کی حالت خراب ہونے لگی تھی اس کی …
“بہت بڑی غلطی کردی میں نے … میں جاؤں ماہین کے کمرے تک … یہی سوچ کر باہر نکلی پھر واپس پلٹی …
“نہیں , نہیں … مناسب نہیں لگتا … بھائی کو گئے ایک گھنٹا ہوچکا ہے اگر کوئی پرابلم ہوتی تو اب تک ماہین باہر اجاتی … میں سوجاتی ہوں … ہاں یہی بہتر ہے … خود سے بولی اور جلدی سے لائیٹ آف کرتی سوتی بن گئی …
@@@@@@@@@@
ماہین فریش ہوکر آئی تو چاہت اٹھ چکی تھی … وہ اسے خود سے لگا گئی … اسے فیڈ کرواتے ہوئے بے آواز روتی رہی …
اسی وقت دانش اٹھ کر واشروم گیا تو وہ نفرت سے منہ پھیر گئی …
کچھ دیر بعد وہ آیا تو ماہین جائے نماز پر بیٹھی تھی وہ بالوں میں کنگھی کرکے , بیڈپر بیٹھا اپنے موزے پہننے لگا , ماہین سمجھ گئی وہ جانے والا ہے … جلدی سے دعا مانگ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی … وہ تب تک جوتے پہن کر , ہاتھ دھوکر ایا پھر اپنی بیٹی کو پیار کرنے لگا …
“بہت جلد پاپا کی پری اپنے پاپا کے ساتھ ہوگی … وہ اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ گیا اتنا کہے کر … دانش کی بات زچ کرگئی ماہین کو … وہ اس کی بات کا مطلب بخوبی سمجھ رہی تھی ….
دانش اپنی بیٹی سے کچھ باتیں سرگوشی میں کرتا اسے دوبارہ کاٹ میں لٹاگیا … وہ دیکھتی رہ گئی اس شخص کو جو کبھی خود کو اچھا شوہر ثابت نہ کرسکا پر جانے کیوں وہ اسے کبھی برا باپ نہ کہے سکتی تھی کیونکہ باپ ہونے کی وہ ذمیداریان نبھانا جانتا تھا …
“اس طرح نہیں جاسکتے آپ دانش … ماہین نے اس کے اگے آکھڑی ہوئی تھی یہ کہتے ہوئے …
“ماہین مجھے نکلنا ہے میری فلائیٹ مس ہوجائے گی … دانش نے لہا اس سے نظر چراتے ہوئے …
“دانش آپ علی سے مل کر پھر ہی جائیں گے … وہ ضدی لہجے میں بولی تھی …
“ماہین میں اس کے اٹھنے کا انتظار نہیں کرسکتا وہ ایا ہی دیر رات ہوگا دن کے دو تین سے پہلے اب اٹھنے والا نہیں … دانش اس کا غصہ ایا اور ضدی پن اگنور کرتے ہوئے بولا تھا …
“ہممم تو ریما بھابھی اور آپ نے مل کر یہ سب کیا ہے … میری ذات کو یوں سوالیہ نشان بناکر آپ نہیں جاسکتے …. ماہین مے تڑپ کر کہا …
“,کیا بکواس ہے یہ ماہین , اب نہیں آؤں گا تمہارے پاس تم خود بلاؤگی اب مجھے , مجھے پورا یقین ہے …
اتنا کہے کر وہ اس کے سائیڈ سے نکل گیا … ماہین کے آنسو جو بمشکل رکے ہوئے تھے وہ دوبارہ بہے نکلے تھے …
وہ جائے نماز پر دوبارہ بیٹھ گئی “یا اللہ جو یہ شخص چاہتا ہے ایسا کبھی نہ ہو …. وہ اللہ سے اپنے دل کی باتیں کرنے لگی تھی … وہی سب کے دکھ درد دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے ..
@@@@@@@@
“شکر اللہ کا عمر میرے بھائی تمہیں ہوش اگیا … سعدیہ بیگم نے کہا تشکر سے … کل سے آج تک وہ ہسپتال ہی تھیں , سب نے ان سے کہا وہ چلی جائیں گھر کچھ دیر آرام کرلیں پر وہ نہ مانین جب تک ان کا بھائی ہوش میں نہیں آئے گا وہ ہلیں گی نہیں یہاں سے … پھر واقعی وہ پوری رات وقفے وقفے سے نوافل پڑھتی رہیں اپنے بھائی کی سلامتی کے لیئے …
“آپی آپ کو دیکھ کر سکون اگیا ہے … عمر نے نقاہت سے کہا … سعدیہ بیگم اپنے بھائی پر آیات پڑھنے لگیں …
وقفے وقفے سے سب طبیت پوچھ گئے پر عمر کی بے چین نظریں دروازے کو بار بار اٹھتی دیکھ کر سعدیہ سے رہا نہ گیا اور بولیں مسکرا کر …
“علیزے شکرانے کے نفل پڑھنے گئی ہے تمہارے ہوش میں اتے ہی , اب جب تک پڑھ نہیں لے گی تب تک انتظار کرتے رہو …
تب جاکر اس کے بےچین دل کو سکون ایا …
جس پر نادر صاحب مسکرا کر بولے “بیویان ہوتی ہی اتنی ہی پیاری ہیں شوہر کو کہ نظریں ان کو ہی ڈھونڈتی رہتی ہیں جب تک سامنے نہ آجائے …
“ویسے آپ کی کتنی بیویان ہیں … سعدیہ بیگم نے آنکھیں بڑی کرکے شوہر کو دیکھا اور پوچھا … عمر کو بھی ہنسی آئی بہن کے انداز پر …
“ویسے میری تو ایک ہی ہے , آخری سانس تک ایک ہی رہے گی … نادر صاحب جلدی سے بولے تھے …
عمر مسکرایا دونوں کو دیکھ کر … کچھ دیر میں علیزے آئی تب جاکر دل میں سکون سے اترا تھا اس کے …
@@@@@@@@@@
کل کی بنسبت آج عمر کچھ بہتر تھا اور بات بھی کررہا تھا , عیان , انشاء اور جنید سب مل کر گئے تھے … ہاسپیٹل میں زیادہ رش الاؤ نہ تھا اس لیئے عیان ٹھرا نہیں کیونکہ اس وقت اس کی فیملی کے لوگ موجود تھے اس کے پاس …
نادر اور سعدیہ بیٹھے تھے عمر کے پاس , جب اچانک عمر بولا …
“آپی جب ایکسیڈنٹ کے وقت حواس کھونے لگا تو یقین مانیں ایسا لگا اب تو قبر میں آنکھیں کھلیں گی , سچ میں مجھے اپنی بیٹی عائشہ کی فکر اور علیزے کا شدت سے خیال آیا کہ میں نے عاطف سے کہا نہیں کتنا خیال رکھنا ہے علیزے اپنی ماں کا اور عائشہ کا …
“اللہ نے کرے تمہیں کچھ ہو , میری عمر تمہیں لگ جائے میرے بھائی … ایسی باتیں نہ کرو اب … سعدیہ بیگم جلدی سے بولیں تھیں …
“ویسے سعدیہ اور عمر یہ جگہ تو مناسب نہیں , پر عمر , عائشہ اب ہماری بیٹی ہے , میں نے علی کے لیئے سوچا ہے کیونکہ میری بہن کی ایک بیٹی میری بڑی بہو ہے تو ایک بہو میں سعدیہ کے بھائی گھر سے لانا چاہتا ہوں تاکہ ہمارے آپس کے تعلقات اور مضبوط ہوجائیں … ویسے یہ تو پوچھنا بھول گیا تم کو کوئی اعتراض تو نہیں … نادر آفندی نے محبت بھرے لہجے میں اپنی بات مکمل کی …
عائشہ جو اپنے باپ کے پاس ارہی تھی ان کی باتیں سن کر پلٹ گئی , دل زوروں سے دھڑکنے لگا بن مانگے محبت مل جائے اس سے بڑی کوئی خوشی ہوگی بھلا … عائشہ کو یقین نہیں ارہا تھا یہ سب اس طرح بھی ہوجائے گا , یا اس طرح بھی ہوسکتا ہے …
علیزے جو اس کے تھوڑا پیچھے ارہی تھی اسے یوں دیکھ بولی “کیا ہوا عائشہ …
“کچھ نہیں مام … اس کے چہرے کا گلنار ہونا وہ اچھی طرح محسوس کرگئی تھیں …
وہ جیسے ہی کمرے میں آئی تو عمر کے لفظوں نے اس کا استقبال کیا جو کہے رہا تھا …
” میرے لیے تو خوش نصیبی کی بات ہے کہ اپ نے عائشہ کا ہاتھ مانگا ہے علی کے لیے پر پھر بھی میں ایک دفعہ علیزے سے پوچھنا چاہوں گا کیونکہ وہ عائشہ کی ماں ہے اور وہ عائشہ سے پوچھ کر بہتر جواب دے سکتی ہے , یہ فیصلہ میرا اکیلے کا نہیں , ہم دونوں میان بیوی کا ہوگا نادر بھائی … عمر کے ہر لفظ نے علیزے کو معتبر کردیا , اس کی دی محبتیں رائیگان نہیں گئیں وہ ماں اور بیوی دونوں مقام پر جیت گئی یہ اس کی جیت ہی تھی جو عمر کے لہجے میں اس قدر مان تھا علیزے کے لیئے … اسے لگا آج اس کے اللہ سے کیئے سارے شکوے دور ہوگئے ہوں جیسے , اسے اپنے ادھورے پیدا ہونے کا دکھ تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی , اللہ نے اسے ادھورا ہی بنا کر بھیجا تھا اس زمین پر , پر آج لگا وہ مکمل ہوگئی وہ عمر کی اچھی دوست تو پہلے دن سے بن گئی تھی , آج اچھی بیوی اور ماں بھی ہے عمر کی نظر میں , اس سے بڑی کوئی بات نہ تھی علیزے کے لیئے …
اسی وقت سعدیہ اٹھی اور علیزے کا ہاتھ تھام کر روبرو لے آئی اور بولی …
“اب بتائیں علیزے بھابھی آپ کا کیا خیال ہے علی اور عائشہ کے رشتے کے بارے میں …
” میرے خیال ہے اس سے بہتر کوئی رشتہ نہیں ہوگا ہماری نظر میں کہ عائشہ اپنی پھپھو کے گھر ہو … علیزے نے کہا پیار سے دونوں ایک دوسرے کے گلے لگیں …
“عائشہ سے تو … عمر نے کہا تو علیزے اس کی بات کاٹ کر بولی “ابھی اپ لوگوں کی باتیں سن کر وہ پلٹ گئی اور اس کے چہرے کے رنگوں نے سارے جواب دے دیئے ہیں اس لیے ہماری طرف سے ہاں ہے …
سب کے چہروں پر رونق اگئی یوں ہسپتال میں ایک خوبصورت رشتہ جڑگیا …
جانے کیوں نادر صاحب کے دل میں بے انتہا دکھ جاگا یہ سوچ کر کہ “عمر کتنا سمجھدار باپ اور شوہر ہے جو اپنی بیٹی اور بیوی کی رائے کو اتنی اہمیت دے رہا ہے کاش اس وقت میں نے بھی یہ عقلمندی کی ہوتی ماہین سے پوچھا ہوتا اس کے دل کا حال معلوم کیا ہوتا تو اج میری بیٹی اتنی تکلیف میں نہیں ہوتی بلکہ اپنی بیوی کو بھی اہمیت دی ہوتی تو شاید اج حالات مختلف ہوتے کیونکہ نادر صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ سعدیہ بیگم کو بالکل اعتراض تھا اس رشتے سے وہ نہیں چاہتی تھی کہ دانش اور ماہین کا رشتہ ہو … یہ دکھ تو تاعمر رہنا تھا نادر آفندی کے دل میں کہ انہوں اپنے ہمسفر سے کبھی کسی بات میں نہ رائے لی نہ اتنی اہمیت دی …
عمر چاہتے ہوئے بھی نادر صاحب کو کہے نہ سکا وہ جو ہر وقت اپنے خاندان کی باتیں کیا کرتے تھے کہ خاندان سے باہر بچون کی نہیں کریں گے , اسی لیے کبھی عمر کی ہمت ہی نہ تھی یہ سوچنے کی کہ وہ کبھی عائشہ اور علی کا رشتہ سوچیں گے , کیونکہ عاطف اور ماہین کے وقت بھی وہ انکار کرچکے تھے … اسی لیے وہ ہمیشہ سے عائشہ کے لیے فکر مند رہتے تھے …
@@@@@@@@
ماہین کو دو دن سے بخار تھا , وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ماں باپ اور بھائی کو بتا نہ سکی فون پر جو اس کے ساتھ ہوا … جبکہ نادر آفندی نے بتایا وہ دو دن مزید رہ کر آئیں گے تاکہ عمر گھر شفٹ ہوجائے اس کے بعد آئیں گے کراچی …
علی نے کہا بھی ڈاکٹر کے پاس چلیں پر ماہین نہ مانی بس بخار کی گولیان لینے لگی دوسری طرف ریما الگ شرمندہ رہنے لگی تھی کیونکہ اسے اندازہ ہوگیا تھا اس کا بھائی کیا کرکے گیا ہے …
آج ماہین کی طبیت کچھ بہتر تھی کیونکہ اسے سنبھلنا ہی تھا اپنی بیٹی کے لیئے … کل سب نے آجانا تھا …
آج مدثر آفندی آئے تھے ملنے …. ماہین کے پاس بیٹھے تھے حال احوال کے بعد وہ بولے …
“بیٹا , اس دن کی باتوں پر تم نے غور کیا … جو تمہارے بابا کے سامنے میں نے تم سے کیں تھیں … مدثر آفندی کا اشارہ ایک ہفتہ پہلے ہوئی باتوں پر تھا جس پر وہ اسے سمجھاتے رہے زمانے کی اونچ نیچ لوگوں کے تلخ رویئے طلاق یافتہ عورتوں کو لے کر … وہ ان کی سب باتیں خندہ پیشانی سے سنتی رہی تھی … جس میں وہ اس قدر اگے بڑھ گئے تھے کہ اسے بولے “ایک دفعہ سوچو آج ماں باپ ہیں کل نہ رہے اللہ نہ کرے پر صرف ایک دفعہ سوچو اگر ایسا ہو تو بھائی اس طرح خیال کریں گے بھابھیاں برداش کریں گی طلاق یافتہ نند کو , ایسے کئی مسائل ہیں بیٹا سوچو تو سہی اس بارے میں , بیٹا کہنا اسان ہے کہ طلاق کے بعد دوبارہ شادی کا مجھ سے نہ کہا جائے پر یہ سب کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ کوئی بھی بھابیاں نندوں کو برداشت نہیں کر سکتیں زیادہ عرصہ یہ قدرت کا قانون ہے اور زندہ حقیقت بھی اسی لیے میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اگر تم طلاق لینا چاہتی ہو تو دوبارہ شادی بھی تمہیں کرنی پڑے گی ورنہ ہم تمہیں اجازت نہیں دیں گے دانش سے الگ ہونے کی …
انہوں نے اس کی ایک ہی ضد کو سننے کے بعد یہ بولے تھے اس دن آخر میں … ماہین کو سوچنے کا موقع دے کر چلے گئے تھے …
اب جب کل ان کی فلائیٹ تھی اور نادر اور سعدیہ کے نہ ہونے کے باوجود اس سے اکیلے میں بات کررہے تھے کیونکہ دانش کے ساتھ ماہین بھی ان کو عزیر تھی اس لیئے خاندان کے بڑے ہونے کی حیثیت سے سمجھا رہے تھے اور اس سے بات کرنے آئے تھے …
ایک بات ان کو ماہین کی یہ بہت اچھی لگی تھی کہ وہ عام لڑکیوں کی طرح وہ ان معاملوں میں روتے ہوئے , آنکھیں آنسوؤن سے بھر کر بات نہیں کرتی تھی بلکہ اس کے چہرے کے سنجیدہ سے تاثرات اس کی بردباری اور فیصلے کی مضبوطی ثابت کررہے تھے , وہ ہر بات ان سے آنکھون میں آنکھون ڈال کر کہتی یا پھر کوئی بات اسے ناگوار گزرے تو نظریں جھکالیتی پر ڈائریکٹ ناگوار لہجہ اختیار کرکے بدتمیزی بھی نہ کرتی تھی … جتنی تعریف وہ اس کی سنتے تھے واقعی وہ اس تعریف کے قابل بھی تھی … یہ خیال مدثر آفندی کا تھا ….
“تایاجان , میرا فیصلہ اب بھی وہی ہے , علیحدگی کے بعد دوسری شادی مجھے نہیں کرنی کیونکہ چاہت کی ذمیداری دنیا کا کوئی دوسرا شخص نہیں لے سکتا وہ عام بچون کی طرح نہیں ہے جو وقت کے ساتھ اسکول ٹیوشن اور دوسری چیزوں میں لگ کر ماں کو ریلیکس کردے بلکہ وہ ہمیشہ مجھ پر ڈیپینڈڈ رہے گی … کل کو کوئی اس سے مصیبت کی طرح محسوس کرے یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوگا اس لیے تایا جان اب تو میں بالکل بھی ایسا کچھ نہیں سوچ سکتی … ماہین نے سکون سے پوری سچائی کے ساتھ حقیقت واضع کی …
” ماہین جیسا تم سوچ رہی ہو ایسا بالکل نہیں ہے اپنے ہی ہوتے ہیں جو ہر مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں دیکھو بیٹا بہتر تو یہی ہے کہ تم اور دانش مل کر اپنے بچے کو سنبھالو کیونکہ دانش سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا اپنی بیٹی کے لیے پھر بھی ایک بات تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تمہارا دل واقعی نہیں مانتا دانش کو معاف کرنے کے لیے تو ہم تم پر زور نہیں ڈالیں گے تم آج کے دور کی لڑکی ہے اپنا اچھا برا اچھی طرح سمجھ سکتی ہو اور ہمیں تم پر بھروسہ بھی ہے کہ تم واقعی بہت سمجھدار ہو …
ماہین بغور ان کی باتیں سن رہی تھی کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولے “اگر پھر بھی علیحدگی تمہارا فیصلہ ہے تو میں تمہیں اپنی بیٹی بنا کر لندن لے جانا چاہتا ہوں ان سارے معاملوں سے دور رکھ کے اور چاہت کی ذمہ داری ہماری ہوگی , میرے گھر کو بہو کی ضرورت ہے … وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنا مقصد بیان کرگئے تھے جو کہیں دن پہلے نادر کو بتا چکے تھے پر نادر نے ان کو فری ہینڈ دیا تھا وہ خود بات کرلیں ماہین سے اس متعلق اس کی کیا رائے ہے کیونکہ اب وہ ماہین پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے تھے , اس کی کمی کو اس کی کمزوری نہیں بنانا چاہتے تھے … نادر کا یہی خیال تھا میری بیٹی میری بیٹی نہیں بیٹا ہے وہ ہر بات کا فیصلہ خود لے سکتی ہے , زبیر کے لیئے وہ کبھی اپنی بیٹی کو مجبور نہیں کریں گے …
“سوری تایا جان زبیر بھائی میرے لیئے ریحان بھائی جیسے ہیں … وہ دوٹوک اور پختہ لہجے میں بولی تھی …
” فلحال میری بیٹی میری ذمہ داری ہے اسی لیے میں کچھ بھی ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتی امید کرتی ہوں تایا جان میری کوئی بھی بات اپ کو بری نہیں لگی ہوگی بہرحال جو اپ چاہتے ہیں وہ میں کبھی بھی نہیں کروں گی کیونکہ اس کے بارے میں بھی میرا ویژن کلیئر ہے …
وہ بند لفظوں میں تایاجان پر سب واضع کرگئی تھی …
“جیسے تمہاری مرضی , ایک بات میری ہمیشہ یاد رکھنا باپ کے گھر سے بہتر بیٹی کہیں بھی محفوظ نہیں ہوتی یہ تمہارے لیئے بھی کہے رہا ہوں اور ہماری چاہت کے لیئے …
“جی تایاجان … ماہین نے کہا ضبط سے , دانش کا آخری رویہ وہ بھولی نہ تھی …
پھر تایاجان کے ساتھ وہ اور موضوع پر بات کرتی رہی …
@@@@@@@@@@
“امی کیا ہوا ,آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں , یوں موبائیل کو تھامے ہوئے … نور نے اپنی ماں سے پوچھا جو موبائیل کو گھورے جارہی تھیں …
“سچ میں نور تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا … شاہدہ بیگم دکھ سے بولیں تھیں … وہ صدمے کی کیفیت میں بولیں تھیں …
“امی کیا ہوا ہے آپ کو ایسا کیوں کہے رہی ہیں … نور نے حیرت سے پوچھا …
” کیا بتاؤں تمہیں اج میں نے بہت ہمت کر کے اپنے بڑے بھائی سے بات کی تمہارے لیے کیونکہ وہ زبیر کا رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں اور جانتی ہو میں نے خود تمہارے رشتے کے لیے کہا جس پر وہ شرمندہ ہو کر انکار کر گئے جانتی ہو کیوں … شاہدہ بیگم نے کہا …
نور نے کیون نہ پوچھا پھر بھی خود ہی شاہدہ بیگم لمحے بھر کو چپ ہونے بعد بولیں …
“کیونکہ زبیر نے ان سے کہا تھا نور جیسی لڑکی جو شانی جیسے نرم مذاج بندے کے ساتھ یہ سب کرگئی وہ کسی کے ساتھ نہیں چل سکتی … میرا بھائی مجھ سے شرمندہ ہورہا تھا یہ سب کہتے ہوئے کیونکہ وہ خود ماہین کو سوچے ہوئے ہیں اگر وہ دانش سے علیحدگی اختیار کرتی ہے تو , پر جانتی ہو ماہین نے صاف انکار کردیا ہے , اب انوشے سے کررہے ہیں زبیر کا رشتہ … آج جانے سے پہلے وہ شاید انگوٹھی بھی پہنا کر جائیں انوشے کو …. شاہدہ بیگم کا لہجہ رنجیدہ ہورہا تھا یہ سب بتاتے ہوئے …
“امی پلیز , آپ یہ سب سوچنا چھوڑدیں , پلیز مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں , خدا کے واسطے …. نور روتے ہوئے وہان سے چلی گئی اتنا کہتے ہوئے اور وہ سر تھام کر بیٹھی رہ گئیں تھیں وہیں کی وہیں ….
@@@@@@@@
اگلے دن وہ لنچ کے بعد برتن رکھ کے روم کی طرف جارہی تھی اچانک علی کی آواز نے اس کے قدم روکے …
“ارے ماہین آپی یہ دیکھیں شانی بھائی , ان کا سونگ ریلیز ہوا ہے … دیکھیں تو صحیح کتنے چھپے رستم نکلے, ہمیں پتا ہی نہیں تھا وہ آسٹریلیا سے یہاں کب پہنچ گئے اور سنگر بن گئے ہیں ,ان کا پہلا سونگ ہے , آئیں نا سنیں …
اور پتا نہیں پر مررنے کے بعد
تیرے سنگ جینے کی حسرت رہے گی
چاندنی رہے نہ رہے پر
تیرے چہرے کی روشنی یاد ہوگی
تیرے سنگ جینے کی حسرت رہے گی
اور پتا نہیں مرنے کے بعد
تیرے سنگ جینے کی حسرت ہی رہے گی
وہ وہیں فریز ہوگئی یہ آواز اور اس کا درد وہ آنکھ بند کرکے پہچان لیتی تھی …. آج بھی اس کا گایا ہر اک سونگ اس کے قدم جکڑ لیتا تھا اس کی آواز تھی ہی اتنی سریلی …
حسرت ہاں حسرت ہی تو تھی …
شانی سنگنگ میں اپنا کیریئر بنا لے گا سوچانہ تھا کسی نے …. سنگنگ کی دنیا میں اس کا نام شانی ہی تھا … اس نے خود کو شانی کہے کر متعارف کیا تھا ….
“ویسے کتنا وقت ہوا ان کو ہم سب سے دور گئے ہوئے ماہین آپی …. علی نے بےساختہ پوچھا ماہین سے …
“آٹھ مہینے بیس دن آٹھارہ گھنٹے … ماہین نے بے ساختہ جواب دیا اور علی کو لگا اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو کسی نے …
جاری ہے …میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 31
“اس وقت آپ جائیں یہاں سے دانش … ماہین نے کھڑے کھڑے کہا دوٹوک انداز میں … وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا … اس کے ہر انداز میں احتجاج واضع تھا ….
کچھ لمحوں تک وہ اسے دیکھتی رہی دانش کی ڈھٹائی دیکھ کر وہی بولی “میں جارہی ہوں , آپ ہی یہاں آرام کریں جب جانیں لگیں مجھے کال کر لیجیئے گا …
وہ جو جانے کا پکا ارادہ کرکے دروازے تک بڑھی تھی دانش اسے کمر سے تھام گیا … اب کے اس کی گرفت سخت تھی …
“سوری ماہین , یہ ضروری ہوگیا ہے اب , مجھے میری بیوی اور بیٹی دونوں چاہیئے … وہ اس کے کان کے پاس سرگوشی کرتا ہوا بولا اور اگلے پل اس کی کان کی لو پر اپنے دانت گاڑھ گیا … ماہین جھنجھنا اٹھی اور ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوئی …
“پلیز دانش ایسا مت کرو … ماہین کا لہجہ التجائی سا ہوگیا , اتنے زور لگانے کے باوجود وہ اس کی گرفت سے خود کو آزاد نہ کرسکی … بےبسی سے آنسو بہے نکلے …
“ماہین میری مجبوری سمجھو , میں زبردستی نہیں کرنا چاہتا … دانش اسے بیڈ پر گراچکا تھا وہ اگلے پل اس پر مکمل چھا گیا … ماہین کی بھرپور مذاحمت کے باوجود وہ اس کی گرفت سے خود کو آزاد نہیں کرپارہی تھی …
“پلیز مجھے یوں رسوا نہ کریں … ماہین نے گڑگڑاتے ہوئے کہا اگلے پل اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کی زبان پر قفل لگاگیا , اس کی التجائیں التجائیں ہی رہ گئیں.. وہ جو اپنی کرنے پر آیا تو کرتا چلا گیا …. ماہین کی سب کوشیشوں وہ ناکام کرکے اس پر چھاتا چلاگیا … ماہین کے آنسو اس کی باہوں میں بہتے رہے وہ اسے اپنے ہونٹوں سے کئی دفعہ چن چکا تھا …
وہ اپنے بکھرے وجود کے ساتھ اٹھنے لگی تو دانش اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کے دوبارہ اپنے قریب کرگیا …
“اتنی جلدی کیا ہے , ابھی کافی رات پڑی ہے … دانش اسے خود کے قریب تر کر گیا … ماہین کے بکھرے وجود کو اور بکھیرتا چلا گیا …
@@@@@@@@@@
“مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا … ریما خود سے بولی وہ جلے پیر کی بلی کی مانند ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی , بار بار کھڑکی سے دیکھتی کہیں علی نہ اجائے اور ماہین نے کوئی تماشہ کیا تو …
“اف کیوں بتایا میں نے بھائی کو گھر پر کوئی نہیں , وہ صبح تو انے ہی تھے … ماہین نے اگر ریحان کو بتادیا تو مجھے پکا نکال دیں گے … ریما کا پریشانی کے مارے برا حال تھا … ہزار سوچیں اس کے ذہن میں ارہیں تھیں جارہیں تھیں …
“اگر بھائی نے ایسا ویسا کچھ کیا تو ماہین چپ نہیں بیٹھے گی وبال کھڑا کردے گی … یہی سوچ اتے ہی اس کی حالت خراب ہونے لگی تھی اس کی …
“بہت بڑی غلطی کردی میں نے … میں جاؤں ماہین کے کمرے تک … یہی سوچ کر باہر نکلی پھر واپس پلٹی …
“نہیں , نہیں … مناسب نہیں لگتا … بھائی کو گئے ایک گھنٹا ہوچکا ہے اگر کوئی پرابلم ہوتی تو اب تک ماہین باہر اجاتی … میں سوجاتی ہوں … ہاں یہی بہتر ہے … خود سے بولی اور جلدی سے لائیٹ آف کرتی سوتی بن گئی …
@@@@@@@@@@
ماہین فریش ہوکر آئی تو چاہت اٹھ چکی تھی … وہ اسے خود سے لگا گئی … اسے فیڈ کرواتے ہوئے بے آواز روتی رہی …
اسی وقت دانش اٹھ کر واشروم گیا تو وہ نفرت سے منہ پھیر گئی …
کچھ دیر بعد وہ آیا تو ماہین جائے نماز پر بیٹھی تھی وہ بالوں میں کنگھی کرکے , بیڈپر بیٹھا اپنے موزے پہننے لگا , ماہین سمجھ گئی وہ جانے والا ہے … جلدی سے دعا مانگ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی … وہ تب تک جوتے پہن کر , ہاتھ دھوکر ایا پھر اپنی بیٹی کو پیار کرنے لگا …
“بہت جلد پاپا کی پری اپنے پاپا کے ساتھ ہوگی … وہ اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ گیا اتنا کہے کر … دانش کی بات زچ کرگئی ماہین کو … وہ اس کی بات کا مطلب بخوبی سمجھ رہی تھی ….
دانش اپنی بیٹی سے کچھ باتیں سرگوشی میں کرتا اسے دوبارہ کاٹ میں لٹاگیا … وہ دیکھتی رہ گئی اس شخص کو جو کبھی خود کو اچھا شوہر ثابت نہ کرسکا پر جانے کیوں وہ اسے کبھی برا باپ نہ کہے سکتی تھی کیونکہ باپ ہونے کی وہ ذمیداریان نبھانا جانتا تھا …
“اس طرح نہیں جاسکتے آپ دانش … ماہین نے اس کے اگے آکھڑی ہوئی تھی یہ کہتے ہوئے …
“ماہین مجھے نکلنا ہے میری فلائیٹ مس ہوجائے گی … دانش نے لہا اس سے نظر چراتے ہوئے …
“دانش آپ علی سے مل کر پھر ہی جائیں گے … وہ ضدی لہجے میں بولی تھی …
“ماہین میں اس کے اٹھنے کا انتظار نہیں کرسکتا وہ ایا ہی دیر رات ہوگا دن کے دو تین سے پہلے اب اٹھنے والا نہیں … دانش اس کا غصہ ایا اور ضدی پن اگنور کرتے ہوئے بولا تھا …
“ہممم تو ریما بھابھی اور آپ نے مل کر یہ سب کیا ہے … میری ذات کو یوں سوالیہ نشان بناکر آپ نہیں جاسکتے …. ماہین مے تڑپ کر کہا …
“,کیا بکواس ہے یہ ماہین , اب نہیں آؤں گا تمہارے پاس تم خود بلاؤگی اب مجھے , مجھے پورا یقین ہے …
اتنا کہے کر وہ اس کے سائیڈ سے نکل گیا … ماہین کے آنسو جو بمشکل رکے ہوئے تھے وہ دوبارہ بہے نکلے تھے …
وہ جائے نماز پر دوبارہ بیٹھ گئی “یا اللہ جو یہ شخص چاہتا ہے ایسا کبھی نہ ہو …. وہ اللہ سے اپنے دل کی باتیں کرنے لگی تھی … وہی سب کے دکھ درد دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے ..
@@@@@@@@
“شکر اللہ کا عمر میرے بھائی تمہیں ہوش اگیا … سعدیہ بیگم نے کہا تشکر سے … کل سے آج تک وہ ہسپتال ہی تھیں , سب نے ان سے کہا وہ چلی جائیں گھر کچھ دیر آرام کرلیں پر وہ نہ مانین جب تک ان کا بھائی ہوش میں نہیں آئے گا وہ ہلیں گی نہیں یہاں سے … پھر واقعی وہ پوری رات وقفے وقفے سے نوافل پڑھتی رہیں اپنے بھائی کی سلامتی کے لیئے …
“آپی آپ کو دیکھ کر سکون اگیا ہے … عمر نے نقاہت سے کہا … سعدیہ بیگم اپنے بھائی پر آیات پڑھنے لگیں …
وقفے وقفے سے سب طبیت پوچھ گئے پر عمر کی بے چین نظریں دروازے کو بار بار اٹھتی دیکھ کر سعدیہ سے رہا نہ گیا اور بولیں مسکرا کر …
“علیزے شکرانے کے نفل پڑھنے گئی ہے تمہارے ہوش میں اتے ہی , اب جب تک پڑھ نہیں لے گی تب تک انتظار کرتے رہو …
تب جاکر اس کے بےچین دل کو سکون ایا …
جس پر نادر صاحب مسکرا کر بولے “بیویان ہوتی ہی اتنی ہی پیاری ہیں شوہر کو کہ نظریں ان کو ہی ڈھونڈتی رہتی ہیں جب تک سامنے نہ آجائے …
“ویسے آپ کی کتنی بیویان ہیں … سعدیہ بیگم نے آنکھیں بڑی کرکے شوہر کو دیکھا اور پوچھا … عمر کو بھی ہنسی آئی بہن کے انداز پر …
“ویسے میری تو ایک ہی ہے , آخری سانس تک ایک ہی رہے گی … نادر صاحب جلدی سے بولے تھے …
عمر مسکرایا دونوں کو دیکھ کر … کچھ دیر میں علیزے آئی تب جاکر دل میں سکون سے اترا تھا اس کے …
@@@@@@@@@@
کل کی بنسبت آج عمر کچھ بہتر تھا اور بات بھی کررہا تھا , عیان , انشاء اور جنید سب مل کر گئے تھے … ہاسپیٹل میں زیادہ رش الاؤ نہ تھا اس لیئے عیان ٹھرا نہیں کیونکہ اس وقت اس کی فیملی کے لوگ موجود تھے اس کے پاس …
نادر اور سعدیہ بیٹھے تھے عمر کے پاس , جب اچانک عمر بولا …
“آپی جب ایکسیڈنٹ کے وقت حواس کھونے لگا تو یقین مانیں ایسا لگا اب تو قبر میں آنکھیں کھلیں گی , سچ میں مجھے اپنی بیٹی عائشہ کی فکر اور علیزے کا شدت سے خیال آیا کہ میں نے عاطف سے کہا نہیں کتنا خیال رکھنا ہے علیزے اپنی ماں کا اور عائشہ کا …
“اللہ نے کرے تمہیں کچھ ہو , میری عمر تمہیں لگ جائے میرے بھائی … ایسی باتیں نہ کرو اب … سعدیہ بیگم جلدی سے بولیں تھیں …
“ویسے سعدیہ اور عمر یہ جگہ تو مناسب نہیں , پر عمر , عائشہ اب ہماری بیٹی ہے , میں نے علی کے لیئے سوچا ہے کیونکہ میری بہن کی ایک بیٹی میری بڑی بہو ہے تو ایک بہو میں سعدیہ کے بھائی گھر سے لانا چاہتا ہوں تاکہ ہمارے آپس کے تعلقات اور مضبوط ہوجائیں … ویسے یہ تو پوچھنا بھول گیا تم کو کوئی اعتراض تو نہیں … نادر آفندی نے محبت بھرے لہجے میں اپنی بات مکمل کی …
عائشہ جو اپنے باپ کے پاس ارہی تھی ان کی باتیں سن کر پلٹ گئی , دل زوروں سے دھڑکنے لگا بن مانگے محبت مل جائے اس سے بڑی کوئی خوشی ہوگی بھلا … عائشہ کو یقین نہیں ارہا تھا یہ سب اس طرح بھی ہوجائے گا , یا اس طرح بھی ہوسکتا ہے …
علیزے جو اس کے تھوڑا پیچھے ارہی تھی اسے یوں دیکھ بولی “کیا ہوا عائشہ …
“کچھ نہیں مام … اس کے چہرے کا گلنار ہونا وہ اچھی طرح محسوس کرگئی تھیں …
وہ جیسے ہی کمرے میں آئی تو عمر کے لفظوں نے اس کا استقبال کیا جو کہے رہا تھا …
” میرے لیے تو خوش نصیبی کی بات ہے کہ اپ نے عائشہ کا ہاتھ مانگا ہے علی کے لیے پر پھر بھی میں ایک دفعہ علیزے سے پوچھنا چاہوں گا کیونکہ وہ عائشہ کی ماں ہے اور وہ عائشہ سے پوچھ کر بہتر جواب دے سکتی ہے , یہ فیصلہ میرا اکیلے کا نہیں , ہم دونوں میان بیوی کا ہوگا نادر بھائی … عمر کے ہر لفظ نے علیزے کو معتبر کردیا , اس کی دی محبتیں رائیگان نہیں گئیں وہ ماں اور بیوی دونوں مقام پر جیت گئی یہ اس کی جیت ہی تھی جو عمر کے لہجے میں اس قدر مان تھا علیزے کے لیئے … اسے لگا آج اس کے اللہ سے کیئے سارے شکوے دور ہوگئے ہوں جیسے , اسے اپنے ادھورے پیدا ہونے کا دکھ تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی , اللہ نے اسے ادھورا ہی بنا کر بھیجا تھا اس زمین پر , پر آج لگا وہ مکمل ہوگئی وہ عمر کی اچھی دوست تو پہلے دن سے بن گئی تھی , آج اچھی بیوی اور ماں بھی ہے عمر کی نظر میں , اس سے بڑی کوئی بات نہ تھی علیزے کے لیئے …
اسی وقت سعدیہ اٹھی اور علیزے کا ہاتھ تھام کر روبرو لے آئی اور بولی …
“اب بتائیں علیزے بھابھی آپ کا کیا خیال ہے علی اور عائشہ کے رشتے کے بارے میں …
” میرے خیال ہے اس سے بہتر کوئی رشتہ نہیں ہوگا ہماری نظر میں کہ عائشہ اپنی پھپھو کے گھر ہو … علیزے نے کہا پیار سے دونوں ایک دوسرے کے گلے لگیں …
“عائشہ سے تو … عمر نے کہا تو علیزے اس کی بات کاٹ کر بولی “ابھی اپ لوگوں کی باتیں سن کر وہ پلٹ گئی اور اس کے چہرے کے رنگوں نے سارے جواب دے دیئے ہیں اس لیے ہماری طرف سے ہاں ہے …
سب کے چہروں پر رونق اگئی یوں ہسپتال میں ایک خوبصورت رشتہ جڑگیا …
جانے کیوں نادر صاحب کے دل میں بے انتہا دکھ جاگا یہ سوچ کر کہ “عمر کتنا سمجھدار باپ اور شوہر ہے جو اپنی بیٹی اور بیوی کی رائے کو اتنی اہمیت دے رہا ہے کاش اس وقت میں نے بھی یہ عقلمندی کی ہوتی ماہین سے پوچھا ہوتا اس کے دل کا حال معلوم کیا ہوتا تو اج میری بیٹی اتنی تکلیف میں نہیں ہوتی بلکہ اپنی بیوی کو بھی اہمیت دی ہوتی تو شاید اج حالات مختلف ہوتے کیونکہ نادر صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ سعدیہ بیگم کو بالکل اعتراض تھا اس رشتے سے وہ نہیں چاہتی تھی کہ دانش اور ماہین کا رشتہ ہو … یہ دکھ تو تاعمر رہنا تھا نادر آفندی کے دل میں کہ انہوں اپنے ہمسفر سے کبھی کسی بات میں نہ رائے لی نہ اتنی اہمیت دی …
عمر چاہتے ہوئے بھی نادر صاحب کو کہے نہ سکا وہ جو ہر وقت اپنے خاندان کی باتیں کیا کرتے تھے کہ خاندان سے باہر بچون کی نہیں کریں گے , اسی لیے کبھی عمر کی ہمت ہی نہ تھی یہ سوچنے کی کہ وہ کبھی عائشہ اور علی کا رشتہ سوچیں گے , کیونکہ عاطف اور ماہین کے وقت بھی وہ انکار کرچکے تھے … اسی لیے وہ ہمیشہ سے عائشہ کے لیے فکر مند رہتے تھے …
@@@@@@@@
ماہین کو دو دن سے بخار تھا , وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ماں باپ اور بھائی کو بتا نہ سکی فون پر جو اس کے ساتھ ہوا … جبکہ نادر آفندی نے بتایا وہ دو دن مزید رہ کر آئیں گے تاکہ عمر گھر شفٹ ہوجائے اس کے بعد آئیں گے کراچی …
علی نے کہا بھی ڈاکٹر کے پاس چلیں پر ماہین نہ مانی بس بخار کی گولیان لینے لگی دوسری طرف ریما الگ شرمندہ رہنے لگی تھی کیونکہ اسے اندازہ ہوگیا تھا اس کا بھائی کیا کرکے گیا ہے …
آج ماہین کی طبیت کچھ بہتر تھی کیونکہ اسے سنبھلنا ہی تھا اپنی بیٹی کے لیئے … کل سب نے آجانا تھا …
آج مدثر آفندی آئے تھے ملنے …. ماہین کے پاس بیٹھے تھے حال احوال کے بعد وہ بولے …
“بیٹا , اس دن کی باتوں پر تم نے غور کیا … جو تمہارے بابا کے سامنے میں نے تم سے کیں تھیں … مدثر آفندی کا اشارہ ایک ہفتہ پہلے ہوئی باتوں پر تھا جس پر وہ اسے سمجھاتے رہے زمانے کی اونچ نیچ لوگوں کے تلخ رویئے طلاق یافتہ عورتوں کو لے کر … وہ ان کی سب باتیں خندہ پیشانی سے سنتی رہی تھی … جس میں وہ اس قدر اگے بڑھ گئے تھے کہ اسے بولے “ایک دفعہ سوچو آج ماں باپ ہیں کل نہ رہے اللہ نہ کرے پر صرف ایک دفعہ سوچو اگر ایسا ہو تو بھائی اس طرح خیال کریں گے بھابھیاں برداش کریں گی طلاق یافتہ نند کو , ایسے کئی مسائل ہیں بیٹا سوچو تو سہی اس بارے میں , بیٹا کہنا اسان ہے کہ طلاق کے بعد دوبارہ شادی کا مجھ سے نہ کہا جائے پر یہ سب کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ کوئی بھی بھابیاں نندوں کو برداشت نہیں کر سکتیں زیادہ عرصہ یہ قدرت کا قانون ہے اور زندہ حقیقت بھی اسی لیے میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اگر تم طلاق لینا چاہتی ہو تو دوبارہ شادی بھی تمہیں کرنی پڑے گی ورنہ ہم تمہیں اجازت نہیں دیں گے دانش سے الگ ہونے کی …
انہوں نے اس کی ایک ہی ضد کو سننے کے بعد یہ بولے تھے اس دن آخر میں … ماہین کو سوچنے کا موقع دے کر چلے گئے تھے …
اب جب کل ان کی فلائیٹ تھی اور نادر اور سعدیہ کے نہ ہونے کے باوجود اس سے اکیلے میں بات کررہے تھے کیونکہ دانش کے ساتھ ماہین بھی ان کو عزیر تھی اس لیئے خاندان کے بڑے ہونے کی حیثیت سے سمجھا رہے تھے اور اس سے بات کرنے آئے تھے …
ایک بات ان کو ماہین کی یہ بہت اچھی لگی تھی کہ وہ عام لڑکیوں کی طرح وہ ان معاملوں میں روتے ہوئے , آنکھیں آنسوؤن سے بھر کر بات نہیں کرتی تھی بلکہ اس کے چہرے کے سنجیدہ سے تاثرات اس کی بردباری اور فیصلے کی مضبوطی ثابت کررہے تھے , وہ ہر بات ان سے آنکھون میں آنکھون ڈال کر کہتی یا پھر کوئی بات اسے ناگوار گزرے تو نظریں جھکالیتی پر ڈائریکٹ ناگوار لہجہ اختیار کرکے بدتمیزی بھی نہ کرتی تھی … جتنی تعریف وہ اس کی سنتے تھے واقعی وہ اس تعریف کے قابل بھی تھی … یہ خیال مدثر آفندی کا تھا ….
“تایاجان , میرا فیصلہ اب بھی وہی ہے , علیحدگی کے بعد دوسری شادی مجھے نہیں کرنی کیونکہ چاہت کی ذمیداری دنیا کا کوئی دوسرا شخص نہیں لے سکتا وہ عام بچون کی طرح نہیں ہے جو وقت کے ساتھ اسکول ٹیوشن اور دوسری چیزوں میں لگ کر ماں کو ریلیکس کردے بلکہ وہ ہمیشہ مجھ پر ڈیپینڈڈ رہے گی … کل کو کوئی اس سے مصیبت کی طرح محسوس کرے یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوگا اس لیے تایا جان اب تو میں بالکل بھی ایسا کچھ نہیں سوچ سکتی … ماہین نے سکون سے پوری سچائی کے ساتھ حقیقت واضع کی …
” ماہین جیسا تم سوچ رہی ہو ایسا بالکل نہیں ہے اپنے ہی ہوتے ہیں جو ہر مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں دیکھو بیٹا بہتر تو یہی ہے کہ تم اور دانش مل کر اپنے بچے کو سنبھالو کیونکہ دانش سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا اپنی بیٹی کے لیے پھر بھی ایک بات تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تمہارا دل واقعی نہیں مانتا دانش کو معاف کرنے کے لیے تو ہم تم پر زور نہیں ڈالیں گے تم آج کے دور کی لڑکی ہے اپنا اچھا برا اچھی طرح سمجھ سکتی ہو اور ہمیں تم پر بھروسہ بھی ہے کہ تم واقعی بہت سمجھدار ہو …
ماہین بغور ان کی باتیں سن رہی تھی کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولے “اگر پھر بھی علیحدگی تمہارا فیصلہ ہے تو میں تمہیں اپنی بیٹی بنا کر لندن لے جانا چاہتا ہوں ان سارے معاملوں سے دور رکھ کے اور چاہت کی ذمہ داری ہماری ہوگی , میرے گھر کو بہو کی ضرورت ہے … وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنا مقصد بیان کرگئے تھے جو کہیں دن پہلے نادر کو بتا چکے تھے پر نادر نے ان کو فری ہینڈ دیا تھا وہ خود بات کرلیں ماہین سے اس متعلق اس کی کیا رائے ہے کیونکہ اب وہ ماہین پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے تھے , اس کی کمی کو اس کی کمزوری نہیں بنانا چاہتے تھے … نادر کا یہی خیال تھا میری بیٹی میری بیٹی نہیں بیٹا ہے وہ ہر بات کا فیصلہ خود لے سکتی ہے , زبیر کے لیئے وہ کبھی اپنی بیٹی کو مجبور نہیں کریں گے …
“سوری تایا جان زبیر بھائی میرے لیئے ریحان بھائی جیسے ہیں … وہ دوٹوک اور پختہ لہجے میں بولی تھی …
” فلحال میری بیٹی میری ذمہ داری ہے اسی لیے میں کچھ بھی ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتی امید کرتی ہوں تایا جان میری کوئی بھی بات اپ کو بری نہیں لگی ہوگی بہرحال جو اپ چاہتے ہیں وہ میں کبھی بھی نہیں کروں گی کیونکہ اس کے بارے میں بھی میرا ویژن کلیئر ہے …
وہ بند لفظوں میں تایاجان پر سب واضع کرگئی تھی …
“جیسے تمہاری مرضی , ایک بات میری ہمیشہ یاد رکھنا باپ کے گھر سے بہتر بیٹی کہیں بھی محفوظ نہیں ہوتی یہ تمہارے لیئے بھی کہے رہا ہوں اور ہماری چاہت کے لیئے …
“جی تایاجان … ماہین نے کہا ضبط سے , دانش کا آخری رویہ وہ بھولی نہ تھی …
پھر تایاجان کے ساتھ وہ اور موضوع پر بات کرتی رہی …
@@@@@@@@@@
“امی کیا ہوا ,آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں , یوں موبائیل کو تھامے ہوئے … نور نے اپنی ماں سے پوچھا جو موبائیل کو گھورے جارہی تھیں …
“سچ میں نور تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا … شاہدہ بیگم دکھ سے بولیں تھیں … وہ صدمے کی کیفیت میں بولیں تھیں …
“امی کیا ہوا ہے آپ کو ایسا کیوں کہے رہی ہیں … نور نے حیرت سے پوچھا …
” کیا بتاؤں تمہیں اج میں نے بہت ہمت کر کے اپنے بڑے بھائی سے بات کی تمہارے لیے کیونکہ وہ زبیر کا رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں اور جانتی ہو میں نے خود تمہارے رشتے کے لیے کہا جس پر وہ شرمندہ ہو کر انکار کر گئے جانتی ہو کیوں … شاہدہ بیگم نے کہا …
نور نے کیون نہ پوچھا پھر بھی خود ہی شاہدہ بیگم لمحے بھر کو چپ ہونے بعد بولیں …
“کیونکہ زبیر نے ان سے کہا تھا نور جیسی لڑکی جو شانی جیسے نرم مذاج بندے کے ساتھ یہ سب کرگئی وہ کسی کے ساتھ نہیں چل سکتی … میرا بھائی مجھ سے شرمندہ ہورہا تھا یہ سب کہتے ہوئے کیونکہ وہ خود ماہین کو سوچے ہوئے ہیں اگر وہ دانش سے علیحدگی اختیار کرتی ہے تو , پر جانتی ہو ماہین نے صاف انکار کردیا ہے , اب انوشے سے کررہے ہیں زبیر کا رشتہ … آج جانے سے پہلے وہ شاید انگوٹھی بھی پہنا کر جائیں انوشے کو …. شاہدہ بیگم کا لہجہ رنجیدہ ہورہا تھا یہ سب بتاتے ہوئے …
“امی پلیز , آپ یہ سب سوچنا چھوڑدیں , پلیز مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں , خدا کے واسطے …. نور روتے ہوئے وہان سے چلی گئی اتنا کہتے ہوئے اور وہ سر تھام کر بیٹھی رہ گئیں تھیں وہیں کی وہیں ….
@@@@@@@@
اگلے دن وہ لنچ کے بعد برتن رکھ کے روم کی طرف جارہی تھی اچانک علی کی آواز نے اس کے قدم روکے …
“ارے ماہین آپی یہ دیکھیں شانی بھائی , ان کا سونگ ریلیز ہوا ہے … دیکھیں تو صحیح کتنے چھپے رستم نکلے, ہمیں پتا ہی نہیں تھا وہ آسٹریلیا سے یہاں کب پہنچ گئے اور سنگر بن گئے ہیں ,ان کا پہلا سونگ ہے , آئیں نا سنیں …
اور پتا نہیں پر مررنے کے بعد
تیرے سنگ جینے کی حسرت رہے گی
چاندنی رہے نہ رہے پر
تیرے چہرے کی روشنی یاد ہوگی
تیرے سنگ جینے کی حسرت رہے گی
اور پتا نہیں مرنے کے بعد
تیرے سنگ جینے کی حسرت ہی رہے گی
وہ وہیں فریز ہوگئی یہ آواز اور اس کا درد وہ آنکھ بند کرکے پہچان لیتی تھی …. آج بھی اس کا گایا ہر اک سونگ اس کے قدم جکڑ لیتا تھا اس کی آواز تھی ہی اتنی سریلی …
حسرت ہاں حسرت ہی تو تھی …
شانی سنگنگ میں اپنا کیریئر بنا لے گا سوچانہ تھا کسی نے …. سنگنگ کی دنیا میں اس کا نام شانی ہی تھا … اس نے خود کو شانی کہے کر متعارف کیا تھا ….
“ویسے کتنا وقت ہوا ان کو ہم سب سے دور گئے ہوئے ماہین آپی …. علی نے بےساختہ پوچھا ماہین سے …
“آٹھ مہینے بیس دن آٹھارہ گھنٹے … ماہین نے بے ساختہ جواب دیا اور علی کو لگا اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو کسی نے …
جاری ہے …
