Rate this Novel
Episode 3
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 3
ذیشان کے کندھے پر کسی کے ہاتھ رکھنے سے وہ چونکا …
وہ پلٹا اور سامنے خالہ شاہدہ کو دیکھ کر حیران ہوا …
“شان میرے بیٹے میں نے ہمیشہ ارمان سے بڑھ ت تمہیں شفقت اور پیار دیا ہے , شکریہ اس وقت جو تم لوگوں نے ساتھ دیا ورنہ اور کون ہے ہمارا … تم نے ہماری نور کے لیئے ہاں کرکے میری عزت رکھی … شکریہ بیٹے …
وہ چپ ہی رہا اور وہ اسے پیار کرتی اندر کمرے کی طرف بڑھ گئیں … وہ بسس دیکھتا ہی رہ گیا … اس لمحے ہمت نہ کرسکا اپنے خالہ کا یا اندر بیٹھے بیمار شخص کو کوئی صدمہ دے اپنی ذات سے … شائستہ نے محبت سے اس کا ماتھا چوما …
انہیں فخر ہوا اپنے بیٹے پر جس نے ان کا مان رکھ لیا …. وہ بسس اپنی ماں کو دیکھتا رہا جانے وہ کیسی ماں تھیں جسے ایک دفعہ بھی اپنے بیٹے کی آنکھوں کی ویرانی نظر نہیں آرہی تھی …
“شکریہ میری جان جو میری بہن کے اگے میرا مان رکھا …. وہ اسے سراہنے لگیں تھیں … بہن کے اگے سرخرو ہوگئیں تھیں شائستہ بیگم , کیا بیٹے کا مان رکھ بھی پائیں یا نہیں , یہ وقت نے ثابت کرنا تھا ….
@@@@@@
عمر نے کمرے میں قدم رکھا تو علیزے روایتی انداز میں بیٹھی تھی , اتنی دیر سے انے کے باوجود علیزے کا یوں بیٹھے رہنا اس کے انتظار میں , عمر کو شرمندہ کرگیا دل ہی دل میں … کچھ لمحے اس کو گھورتا رہا وہیں جب کچھ سمجھ نہ آیا تو چلا گیا واشروم میں … جہان سعدیہ آپا اس کا نائیٹ ڈریس ہینگ کرگئیں تھیں … دل میں شکریہ کہا آپا سے کیونکہ جلدی میں وہ کپڑے لینا بھول گیا تھا … کچھ دیر بعد وہ واشروم سے نکلا تو ہنوز اسی پوزیشن میں دیکھ کر علیزے کو وہ بول اٹھا …
“کپڑے چینج کرلو تم بھی , ایزی ہوجاؤ … عمر کے گھمبیر لہجے پر وہ گھوگھٹ گراکر اٹھ کھڑی ہوئی … وہ بھی جلدی سے فلیٹ سینڈل پاؤن میں پہنتی جلدی اس کی نظروں سے دور جاما چاہ رہی تھی …. وہ اسے دیکھ رہا تھا جو ہونٹ بھینچے ہوئے تھی اس لمحے … شاید ضبط کررہی تھی … وہ جو واشروم کا دروازہ لھولتا اندر گھس جاتی اس سے پہلے عمر کی آواز نے اسے رکنے پر مجبور کیا …
“سنو ہوسکے تو مجھے معاف کردینا , کچھ وقت لگے گا مجھے یہ سب ایکسیپٹ کرنے میں , بہت سوچا تھا آج تمہیں بیوی کا مقام دے کر سب نارمل کرلوں پر یقین مانو کسی کو ایسے مشورے دینا آسان ہے پر جب خود پر گزرتی ہے اور وہی مشورے خود پر اپلائے کرنا مشکل ہے علیزے … پلیز ہوسکے تو مجھے معاف کردینا … اس کے لہجے میں واضع شرمندگی تھی , علیزے اسے دیکھتی رہ گئی …
آج عمر کو یاد ارہا تھا کبھی اس نے اپنے دوست عیان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کو اگے بڑھ کر نارمل کرلے پر آج جب بات خود پر بات آئی تو چار سوں نازیہ کا گھیراؤ خود پر محسوس کررہا تھا وہ چاہ کر بھی دور نہیں ہوئی تھی … ایک طرف جو پاس ہے اسے دیکھ کر بسس تکلیف درد کا احساس جاگ اٹھتا ہے ایسا لگتا ہے اس کی طرف ایک قدم بڑھایا تو اپنی محبت کا گنہیگار کہلائے گا … عمر کا دل چاہ رہا تھا اپنے بال نوچلے کیونکہ اپنا آپ علیزے کا مجرم سا بھی محسوس ہورہا تھا دوسری طرف کیونکہ اپنی بیوی کو جائز مقام نہ دینا بھی غلط بات ہے , اس بات کا احساس تھا عمر کو … اور اس ضمیر کا کیا کرتا جو اس بات کا احساس دلارہا تھا …
“علیزے تم بھی کیا سوچتی ہوگی اتنا میچور ہوکر عمر اس طرح بچکانہ سی گفتگو کررہا ہے , دو بچوں کا باپ اور ایسی گفتگو … عمر نے جھکی نظروں سے کہا …
“کیا تمہیں کوئی فرق پڑے گا میرے کچھ بھی سوچنے سے عمر … علیزے کے لفظوں سے جھٹکے سے سر اٹھایا عمر نے ….
“علیزے یہ کیا کہے رہی ہو , ایسے کیسے تم نے سوچا مجھے تمہارے کچھ بھی سوچنے سے فرق نہیں پڑے گا … تم غلط سوچ رہی ہو , تمہارے کوئی بات بےمعنی نہیں جو مجھ پر اثر نہ کرے مجھے فرق نہ پڑے اس سے , ایسا کبھی نہیں ہوگا علیزے … تم کہو جو کہنا چاہتی ہو میں سننا چاہتا ہوں … عمر حیرت اور شدت سے ملی جلی کیفیت میں بولا تھا ….
“تو عمر مجھے میرا دوست چاہیئے وہی لڑتا جگھڑتا عمر , یہ سیریس رہنے والا نہیں , میں یہی چاہتی ہوں عمر تم سے .. جہان تک اس شادی کی بات ہے تو تم نے نازیہ کے کہنے پر کی اور میں نے اپنے بیمار باپ کے لیئے … عمر مجھے مردوں کی کمی نہ تھی ڈائیورس کے بعد بہت لوگوں نے ہاتھ بڑھایا پر میں جانتی تھی کسی کو بھی مجھ میں نہیں میرے باپ کی دولت جائیداد میں دلچسپی ہے , اس لیئے کسی کے لیئے میرا دل نہ مانا , تم میرے دوست ہو عمر اور میں وہی رشتہ رکھنا اور نبھانا چاہتی ہوں اگر شوہر بن کر مجھے بیوی کا مقام حاصل کرکے مجھ سے میرا دوست دور ہوجائے تو مجھے نہیں چاہیئے ایسا تعلق … یقین کرو میرا مجھے نہیں چاہیئے صرف شوہر , مجھے صرف میرا دوست چاہیئے جو مجھ سے اپنی پیاری بیوی نازیہ کا غم بانٹے اپنی فکریں بتائے پھر میری فکریں سنا کرے اور ہم ایک دوسرے کے درد غم فکریں بانٹ کر دور کریں اور دکھی ساتھ ہوں تو خوش بھی ساتھ میں ہوں … کیا یہ ممکن ہے عمر …
علیزے کی باتوں نے عمر کے سینے پر رکھا سارا بوجھ دور کردیا اور پھر جو عمر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا تو بس نازیہ کی باتیں کرتا رہا اور وہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ سن رہی تھی اور جب وہ نازیہ کی جدائی پر آنکھون کی نمی عمر کی آنکھون میں آئی تو علیزے بھی آنسو بھارہی تھی اور بے ساختہ اسے گلے لگا گیا تھا عمر اور دونوں اپنا غم ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے لگے اس لمحے … پھر کب دونوں کی آنکھ لگی پتا ہی نہ چلا اور وہ دلہن کے لباس میں اس کے بازو پر سر رکھے ہوئے بے خبر سی سورہی تھی … جبکہ عمر بےخبر سا گہری نیند میں سورہا تھا … آج کئی دن بعد دونوں پرسکون ہوکر سوئے تھا …
@@@@@@@
رجب آفندی ٹھیک ہوکر گھر اچکے تھے اس کے اگلے دن طاہر آفندی کے گھر پر شام کو نادر اور طاہر ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے تھے وہیں ان کی اہلیہ بھی بیٹھیں تھیں … چائے کے ساتھ کیک اور پکوڑوں سے لطف اندوز ہورہے تھے …. اسی وقت چائے کی سپ لے کر نادر صاحب بولے ….
“اب رجب بھائی ٹھیک ہیں کل انشاء اللہ ہم بھی روانہ ہوجائیں گے … بہت کروالی تم لوگوں سے خدمت …
“کیسی باتیں کرتے ہو نادر اب تو اور کئی رشتے جڑنے لگے ہیں ہمارے اور میں تو سوچ رہا ہوں ایک دو دن رک جاتے تو ہم نور کا رشتہ لے جائیں رجب کے یہاں اور بات پکی کردیں تم ہمارے ساتھ چلو آخر ذیشان اور نور کے مامون ہو … پھر یہ بھی سوچین ہمارے بچوں کی بات پکی کرکے مٹھائی بانٹی جائے خاندان میں تم کیا کہتے ہو نادر …
“مجھے تو اعتراض نہیں رجب کے یہاں چلنے پر … میرا ارادہ ہے بیٹے کی شادی جلدی کرنے کا … نادر آفندی نے کہا …
“مجھے اعتراض نہیں میرا بھی ارادہ ہے جلد بیٹے اور بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہوجاؤں … بسسس تم ہان کردو … طاہر صاحب نے کہا …
“میری طرف سے ہاں ہے پر ماہیں کی شادی دو سال کے بعد کرواؤں گا اس کی ڈگری مکمل ہوجائے فی الحال مگنی رکھ لیتے ہیں ان کی … پر بیٹے کی ابھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں … نادر صاحب نے واضع لفظوں میں وضاحت دی …
“تو پھر مگنی رہنے دو نکاح رکھ لیتے ہیں باقی میری بیٹی کی شادی کروانے کے لیئے میں تیار ہوں … طاہر صاحب نے کچھ سوچ کر کہا , وہ دانش کو اس رشتے میں باندھے رکھنا چاہتے تھے , بغیر سوچے اگے جاکر اس کا کیا انجام ہوگا …
یوں دو دن اور ٹھر کر ذیشان اور نور کا رشتہ طے ہوگیا اس کی رسم کر آئے تھے رجب کے گھر جاکر مسٹر اینڈ مسز طاہر آفندی اور ان کے ساتھ مسٹر ایند مسز نادر آفندی بھی تھے … اس کے اگلے دن ریما کو کنگن پہنا کر سعدیہ بیگم )نادر کی بیوی( نے اسے اپنی بہو بنالیا …
ذیشان کا اداس چہرہ کسی کو نظر نہ آیا سب کو ریما کی خوشی دیکھنے لائق تھی وہی نظر ارہی تھی … نور بھی خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھی … سب کی خوشیوں میں کتنے دل بکھرے اس کا نہ کسی کو اندازہ تھا نہ کسی نے محسوس کرنے کی زحمت کی … دانش ان دنوں اسلام آباد میں تھا اسے باپ نے کہا آجائے کیونکہ اس کے ماما مامی آئے ہوئے ہیں جو اس کے ہونے والے ساس سسر تھے ان سے ملے آکر , آخر اس کے بھائی بہن کی بات پکی جو ہورہی ہے اسے نہ آنا تھا نا آیا … اس نے بزنس کا بہانا کیا تو طاہر صاحب نے زیادہ فورس نہ کیا , بس وہ راضی ہوا تھا یہی بہت تھا ان کے لیئے …
کہیں نہ کہیں دانش نے اپنی ناراضگی دکھائی پر طاہر صاحب اگنور کرگئے تھے اسے , شائینہ نے بھی کہا پر اسے ٹال گیا دانش یوں بھی وہ ماں سے زیادہ باپ سے اٹیج تھا …
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جو بظاہر آسان لگتا ہے حقیقت میں حالات اسے ناممکن بنادیتے ہیں … ایسا ہی کچھ قسمت نے ذیشان اور ماہین کے ساتھ کیا تھا …. ورنہ کہاں سوچا تھا کسی نے حالات یوں بھی ہوجائیں گے … یہ رخ اختیار کرجائیں گے سوچا نہ تھا …. کتنا آسان لگتا تھا ذیشان کو ماہین کو پانا اور جب وقت آیا تو حالات کیا رخ کرگئے تھے کہ کچھ بھی سمجھ نہ ارہا تھا ….
@@@@@@@@@
“یہ کیا کیا تم نے ذیشان … تمہیں ماں اور بھائی کو بتانا چاہیئے تھا سب سچ … صرف رشتہ جڑنا نہیں اسے نبھانا بھی ہوتا ہے بتاؤ اگر دل راضی نہیں ہوگا تو نبھاؤ گے کہاں سے … یہ آج کل کی بات نہیں ساری عمر کا معاملہ سمجھ رہے ہو , بولو کیا بےوقوفی کررہے ہو تم ذیشان … جنید شاہ نے غصے سے کہا دانت پیس کر …. دونوں آج جنید شاہ کے فارم ہاؤس میں بیٹھے تھے … آج خود جنید اسے یہان لایا تھا اسے سمجھانے کے لیئے ….
“کیا بتاؤں کس کے لیئے بتاؤں … بولو … اس لڑکی کے لیئے جو خاموش بیٹھی ہے دوسری طرف جس کو مجھ سے بہتر مل رہا … اس کے ماں باپ وہ سب خوش ہیں …. میں اکیلا ایک طرف بیٹھ کر کس بات کا ڈھول بجاتا رہا ہوں , جب مجھے اس بات کی کوئی امید کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ وہ مجھے پسند کرتی ہے یا نہیں , یا کبھی مجھ میں دلچسپی تھی اسے جو کبھی ظاہر نہ کی اس نے … تو کس بات کا ڈھنڈھورا پیٹوں اور کیوں اپنی یکطرفہ محبت کا تماشہ لگاؤں, کس کس کو سناؤں بولو کیوں سناؤں …. جب ماہین دانش بھائی کے لیئے ہاں کرچکی ہے … کیا بتاؤں کیا سناؤں کسی کو , کچھ بچا ہی نہیں جنید یار … ذیشان یہ سب کہتے نڈھال سا ہوگیا تھا … اس کے لہجے میں بے بسی ہی بے بسی تھی … جنید شاہ اسے دیکھتا رہ گیا …. اپنے دوست کے لیئے اسے شدید دکھ محسوس ہورہا تھا …
@@@@@@@
“آپی آپ خوش تو ہیں … علی نے کہا … وہ دونوں بیسٹ فرینڈ تھے کہنے کو اس کا چھوٹا بھائی تھا پر کمال کی انڈرسٹینڈنگ تھی دونوں میں …
“پتا نہیں … فی الحال میرے اگزامز ہیں علی مجھے تیاری کرنے دو … ماہین نے مصروف انداز میں کہا …
“ویسے طیبہ آپی جب تک شادی کے معاملات نہ طے ہوئے تھے تب تک سب کزنز میں کتنا پیار رہتا ہے … ہے نا … علی نے بغور ماہین اور طیبہ کو دیکھتے ہوئے کہا … گھر کا ماحول اتنا خوشگوار نہیں لگ رہا تھا علی کو جتنا ہونا چاہیئے تھے علی خیال سے … شاید اپنی ماہین آپی کی مسکان کے بغیر سب ادھورا تھا …
“کیا مطلب … مہین تو اگنور کرگئی پر طیبہ آپی ناسمجھین سے بولین تھیں …
“دیکھیں نا ماہین آپی کی بات جب سے پکی ہوئی ہے تب سے اب تک مجھ سے کوئی بات نہیں کی دانش بھائی کو لے کے … پتا ہے کل جب ذیشان بھائی سے نور آپی کو لے کر بات کی تو انہوں نے بھی کوئی خاص دلچسپی نہ دکھائی … سچ میں , میں دعا , ارمان اور تیمور کچھ کرنے کا سوچ رہے تھے پر یہاں تو کچھ سمجھ ہی نہیں ارہا … علی نے اپنی فکر بتائی …
“چھوڑو تم لوگ , ویسے بھی کچھ نہ کرو , اتنے کپلز ہیں کیا کیا کروگے تم لوگ چھوڑو … ویسے تم جانتے تو ہو اپنی ماہین آپی کو وہ اگزامز کے دنوں کیسی ہوجاتی ہے اس لیئے مجھے دیکھو اپنی شادی اور اس کے نکاح کا سب سامان میں خود بنارہی ہوں … کیونکہ سب پھپھو نے مجھ پر چھوڑا ہے … انہوں نے تو کیش دیا ہے اب سب مجھے خود کرنا ہے … طیبہ آپی نے بتایا علی کو …
“تھینک یو آپی …. آپ نے سب سنبھال لیا … ماہین نے بمشکل سمائیل پاس کرکے انہیں شکریہ کہا … ماہین کو خود کو کمپوز کرنا خوب اتا تھا اس لیئے ایسا ریکشن دیا , علی دیکھتا رہ گیا اپنی بہن کو جس کے چہرے پر صرف سنجیدگی تھی اس دن سے جب پھپھو اسے کنگن پہنا کر اسے دانش کے نام کرگئی تھی …
علی اور ماہین کی اٹیج مینٹ بہت تھی اس لیئے اسے زیادہ محسوس ہو رہا تھا جبکہ اس کی بنسبت طیبہ خوش تھی ان دنوں واٹس اپ پر ریما آپی اور نور آپی سے بات ہوئی تھی تو علی نے خاص محسوس کیا ان سب جیسی خوشی تو اس کی بہن کے چہرے پر دور دور تک نظر نہیں ارہی تھی … جانے کیا تھا جو دانش کا نام تک اس کی زبان سے کسی نے نہ سنا تھا تب سے اب تک …
سب کی باہمی رضامندی سے یہ ڈیسائیڈ ہوا کہ شادی کراچی میں رکھتے ہیں کیونکہ سارے رشتیدار کراچی میں تھے لاہور میں اکا دکا ہی جان پہچان کے لوگ تھے جن سے طاہر کی پروفیشنل جیسی علیک سلیک تھی …. یہی سوچ رجب صاحب کی تھی … طاہر آفندی کے چھوٹے بھائی کا گھر کراچی میں تھا اس لیئے انہوں نے سوچ لیا کہ وہیں رہ لیں گے شادی سے دس دن پہلے اکر … رجب صاحب نے نادر آفندی کے گھر میں قیام کرلیا کیونکہ شاہدہ کا میکہ تھا … یوں رشتیدار بھی خوش ہوگئے کہ ایک شادی کے لیئے دوسرے صوبے تک جانے کی مشقت سے بچ گئے ….
ٹھیک دو مہینے بعد طیبہ اور شھباز , ریحان اور ریما کی شادی ہونا طے پائی جبکہ دانش اور ماہین , ذیشان اور نور کا صرف نکاح ہونا طے پاپا رخصتی بعد میں ہونی تھی ….
@@@@@@@@@
دو مہینے بعد آخر وہ وقت بھی آیا جب رسمون کے دن آنا شروع ہوگئے تھے … طاہر آفندی کی ساری فیملی اگئی تھی ایک ہفتہ پہلے کراچی جبکہ ذیشان نے بہن کے مایوں کے دن انا طے پاپا کیونکہ اس کی جاب کا معاملہ تھا جسے اسے وقت دینا تھا …
مایون کی رسم ریما اور طیبہ کی ساتھ تھی …. لڑکیون نے ڈھولک پیٹ کر گھر سر پر اٹھا لیا تھا …. رات بارہ بجے کے بعد لڑکے بھی اگئے تھے … سب نے مل کر کہا …
“ڈھول بند کرو لڑکیون , آج تو ذیشان گانا سنائے گا آخر ہمارا سنگر جو ہے … ریحان نے کہا …
وہ ایک دم چونکا اور جلدی بولا “میں گٹار نہیں لایا ریحان بھائی ….
“بھائی ہم تو آپ سے بغیر پوچھے اٹھالائے ہیں … دعا نے ہنستے ہوئے کہا اور تیمور سے بولی “بھائی جائیں اٹھا لائیں شانی بھائی کی گٹار ….
پھر واقعی وہ کچھ سوچ کر گٹار اٹھا گیا …. سب اس کے گرد بیٹھ گئے …
بس یہی سوچ کر خاموش میں رہ جاتا ہوں
کہ کسی روز تو اس بارے میں تم سوچوگی
میں تمہیں دیکھ کر کیوں ایسے مچل جاتا ہوں
جگمگا اٹھتی ہیں کیوں میری نگاہیں ایک دم
میں ہمیشہ اسی جانب کیوں چلا آتا ہوں
کچھ تو کہنا ہے مجھے , بات کوئی تو ہوگی
مجھ سے خود ہی اشارے سے کبھی پوچھوگی
بس یہی سوچ کر خاموش میں رہ جاتا ہوں
وہ ہمیشہ کی طرح ماہیں کو نظروں میں لے کے گنگنا رہا تھا کوئی محسوس کرتا یا نہ کرتا ماہیں کے قدمون کو اس کی نظروں نے گھیرے ہوئے اس کی ہتھیلیان بھیگنے لگیں … دونوں کی آنلھون میں نمی تھی … کسی نے نور کو پکڑ کر اس کے پاس کاؤچ پر بٹھا دیا اس لمحے …. وہ شرمائی سی بیٹھی تھی …
ماحول کو فسون خیز بنانے کے لیئے لائیٹنگ مدہم کردی کسی نے اٹھ کر …
بس یہی سوچ کر خاموش میں رہ جاتا ہوں
کہ اگر حوصلہ کر کے میں تمہیں کچھ کہے بھی دوں
تو کہیں ٹوٹ نہ جائے یہ بھرم ڈرتا ہوں
جس نے معصوم بنایا ہے تمہارے دل کو
جس کے سائے میں تمہیں اپنا کہا کرتا ہوں
یہ بھرم غم کے دھوئیں میں نہ کہیں کھوجائے
یہ بھرم غم کے دھوئیں میں نہ کہیں کھوجائے
دل کے جذبوں کی کہیں توہین نہ ہو جائے
بس یہی سوچ کر خاموش میں رہ جاتا ہوں
ماہین کو لگ رہا تھا کوئی اس کا دل ہی چیر رہا ہو جیسے کتنا درد تھا اس کے لہجے میں آج …
یوں اگر مان بھی لیا تم نے میری باتوں کو
تھام بھی لو گی چلو مانا میرے ہاتھوں کو
اپنی آنکھوں کے ستاروں سے جگاؤگی مجھے
اپنی آغوش کی خوشبو میں بساؤ گی مجھے
اور جب تم میری پہچان سی بن جاؤں گی
جان کہے کر کے میری جان سی بن جاؤں گی
لوگ آجائیں گے پھر بیچ میں لے کر رسمیں
مجھ سے گمراہ کریں گے تمہیں کر کے بس میں
یہ بھی ہوسکتا ہے دنیا سے تم ٹکرا جاؤ
اور یہ بھی ہوسکتا ہے رسوائی سے گھبرا جاؤ
اور ممکن ہے کہ نظروں سے گرا دو مجھ کو
تم ہمیشہ کے لئے درد بنا دو مجھ کو
تم ہمیشہ کے لئے درد بنا دو مجھ کو
ماہین کا دل اس لفظ پر ساکت سا ہوا اور وہ جو چلتی ہوئی جارہی تھی , گرجاتی اگر بروقت کسی نے اسے تھاما نہ ہوتا اور گرنے سے بچایا نہ ہوتا …
“میں نے تمہیں درد ہی تو بنالیا وہ زیر لب بولی تھی اس لمحے ….
بس یہی سوچ کے خاموش میں رہ جاتا ہوں …. ذیشان نے گٹار سے ہاتھ ہٹالیئے اور سب کی نظر سامنے کی طرف اٹھی تھی اس لمحے …
جاری ہے
