Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 28

ماہین چیخ کے ساتھ بولی …

“ڈاکٹر میری بیٹی کے ہونٹ نیلے پڑرہے ہیں … اس کے لہجے میں بے چینی اور گھبراہٹ تھی …

“ریلیکس مسز ماہین … میں دیکھتی ہوں … ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں بولی اور دوسرے پیشینٹ کے اگے اسکرین کردیا تاکہ ماہین کی وجہ سے دوسرا پیشینٹ ڈسٹرب نہ ہو …

“نہیں وہ تو پوری نیلی ہورہی ہے ڈاکٹر … ماہین بے چینی سے بولی تھی … وہ تڑپ رہی تھی آہستہ آہستہ جھاگ کی طرح تھوک بہے رہی تھی نرس حیران پریشان تھی یہ سب دیکھ کر ….

“یہ کیا ہورہا ہے ڈاکٹر , میری بیٹی تو ٹھیک تھی نہ , آپ نے خود کہا تھا … ماہین بولی تھی … وہ زیرلب آیات پڑھنے لگی اپنی بیٹی کی سلامتی کے لیئے …

“,پلیز مسز ماہین ریلیکس ہوں ہمیں ٹریٹ کرنے دیں , اسی وقت ڈاکٹر نے کال فار ہیلپ کی … جلدی سے دونوں پیشینٹ کو کورر کرکے نرس نے , اسٹاف کو بلایا … دوسری طرف بے بی کو ڈاکٹر نے نیلے پڑتے بے بی کو اکسیجن لگایا اور فرسٹ ایڈ ایمرجنیسی سے نکال کر لگانا شروع ہوگئی … ماہین اپنی ڈرپ نکال کر اٹھنا چاہا نرس نے سختی سے روک دیا اسے … اتنی ایمرجنسی کے باوجود ڈاکٹر جلدی جلدی اپنا کام کررہی تھی …

“اسٹاف , آپ یہاں لیبروم روم میں کھڑی رہیں , میں بے بی کو آئی سی یو لے کر جارہی ہوں شفٹ کروانے تاکہ جلدی سے اس کی ٹریٹمینٹ شروع ہو … ڈاکٹر فکر سے بولی تھی دوسری نرس سے …

ڈاکٹر نے بےبی گود میں اٹھایا اور پہلی والی نرس آکسیجن سلینڈر لے کر اس کے ساتھ لیبر روم سے نکل گئی …

ماہین جو اب تک خود کو سنبھالے ہوئے تھی آئی سی یو کا نام زیر لب دہراتے دہراتے بے ہوش ہوگئی … اپنی بیٹی کے لیئے یہ لفظ برداش نہ کرسکی تھی وہ ….

@@@@@@@@

“ڈاکٹر سبرین ویلڈن جو اس طرح آپ بچی کو لائین ورنہ کچھ بھی ہوسکتا تھا … آئی سی یو انچارج نے کہا , اسے اچھا لگا کہ اتنی بڑی گائناکلوجسٹ ہونے کے باوجود اس نے پروٹوکول کے بجائے خود بچے کو لا کر اس کی جان بچائی …

“پر ڈاکٹر بچی تو بلکل ٹھیک تھی اتنا اچانک یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے … ڈاکٹر سبرین ایک گائینک تھی اس لیئے اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا اتنا اچانک یہ سب کیسے ہوا …

“شاید کنجنائیٹل )پیدائشی ( دل کا مرض ہے بے بی کو … انچارج نے کہا …

“واٹ , یہ کیسے ہوگیا ڈاکٹر … وہ حیرت سے بولین … اتنی ویل آف فیملی تھی اس لیئے کسی نے شاید کنجنائیٹل اینوملیز اسکین کروانا ضروری سمجھا ہی نہیں … اوپر سے لاہور سے سارے چیک اپ لیئے تھے اس لیئے ان کے پاس ہسٹری بھی پراپر نہ تھی اور نہ ان کے پاس پراپر چیک اپ ہوئے تھے …

“فی الحال آپ جاکر لیبر روم کو دیکھیں پھر پیڈیاٹریشن کنسلٹینٹ اکر پیرینٹس کو ڈیٹیل دے گا , آپ کچھ بھی نہ کہیں پیرینٹس سے , بس تسلی دیں … انچارج نے کہا جس ڈاکٹر سبرین نے سرہلایا …

“اوکے … پھر ایک نظر بےبی کو دیکھا انہون نے تو دکھ کی لہر اٹھی سینے میں کیونکہ اتنا اچانک جو ہوا یہ سب … کہاں بلکل ٹھیک ٹھاک بچی اب اس حال کو پہنچ گئی …

“اللہ اس کے ماں باپ کو صبر دے … اتنا وہ سوچ کر باہر نکل گئیں ..

@@@@@@@@@

“ڈاکٹر سبرین ہماری بچی کو کیا ہوا ہے… سعدیہ بیگم نے پوچھا … سعدیہ بیگم اور طیبہ فکرمندی سے اسے دیکھنے لگیں …

“اماں میں کچھ نہیں کہے سکتی , بچون کے ماہر ڈاکٹر اکر بتائیں گے … ڈاکٹر سبرین نے پروفیشنل انداز میں کہا …

“اللہ بہتر کرے گا حوصلہ کریں آپ لوگ … ناؤ ایسکیوز می … ڈاکٹر سبرین اتنا کہے کر اگے بڑھ گئیں …

دوسری طرف نادر آفندی اور ریحان میل ڈاکٹر سے پوچھ رہے تھے جو سوائے تسلی کے کچھ نہیں کہے رہے تھے …

نادر آفندی اور سعدیہ آفندی شدید پریشانی سے نڈھال ہوکر بیٹھ گئے تھے … علی اور ریحان الگ پریشان تھے … خوشی کا ماحول لمحوں میں غمی کا بن گیا تھا ….

@@@@@@@

کتنی دیر دانش خالی نظروں سے موبائیل کو دیکھ رہا تھا … کچھ دیر پہلے ریما نے کتنی گرمجوشی سے بیٹی کی مبارکباد دی تھی … حقیقت میں وہ بیٹی کا خواہشمند تھا , وہ دونوں بار نایاب سے پریگنینسی کے دوران کہتا “مجھے بیٹی چاہیئے نایاب … اور اللہ نے اسے رحمت کے بجائے دونوں بار اپنی نعمت سے نوازا تھا …

اس بار ریما کے منہ سے بیٹی کا سن کر کس قدر خوش ہوا تھا بسس چلتا اڑکر پہنچ جائے کراچی اور اپنی بیٹی کو دیکھے جاکر …

ابھی تو وہ فلائیٹ بکنگ کرکے ہی فارغ ہوا تھا کہ ریما کی دوسری بار کال دیکھ کر حیران ہوا اور حیرت میں فون اٹھائی اور کان سے لگائی …

ریما کی پریشانی والی آواز سن کر اسے لگا اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو جیسے …

“بھائی , بے بی کو آئی سی یو شفٹ کیا گیا ہے , پتا نہیں کیا ہوگیا ہے , ماہین بھی بے ہوش ہے بھائی … پلیز آپ جلدی سے اجائین …. ریما کے لہجے سے صاف ظاہر تھا وہ رورہی تھی اس کی آواز بھی کپکپا رہی تھی …

دانش کو لگا جیسے اس کے کان سائیں سائیں کر رہے ہو , یہ سب ہوگا دانش نے سوچا نہ تھا …

@@@@@@@@@@

ہوش میں اتے ہی ماہین نے پہلا سوال کیا “میری بیٹی کہاں ہے ….

“تھوڑا مسئلا ہے ٹھیک ہوجائے گی , فکر نہ کرو ماہین … اللہ سب ٹھیک کرے گا … سعدیہ بیگم نے کہا …

“امی , پلیز دعا کریں … پلیز امی , مجھے میری بیٹی چاہیئے … ماہین تڑپ کر بول رہی تھی …

“ماہین میری سب دعائیں تمہارے ساتھ ہیں … اللہ سب بہتر کرے گا فکر نہ کرو … سعدیہ بیگم سوائے تسلی کے دے بھی کیا سکتیں تھیں …

“پلیز جگہ دیں , تو ہم پیشینٹ کی میڈیسن کا ڈوز لگانا ہے … نرس نے کہا نظریں چراتے ہوئے …

سعدیہ بیگم فکرمندی سے دیکھ رہیں تھیں ماہین کو …

“مجھے اپنی بیٹی کو دیکھنا ہے سسٹر … ماہین نے کہا …

“ہاں پہلے یہ ڈرپ ختم ہوجائے تو چلتے ہیں بےبی کو دیکھنے … نرس نے سمجھانے والے انداز میں کہا …

ماہین نے سر اثبات میں ہلایا تھا …

کچھ دیر میں ماہین غنودگی میں چلی گئی … یہ سب اس کے بھلے کے لیئے کیا جارہا تھا کہیں ایک ماں یہ صدمہ نہ برداش کرسکے اس کی بیٹی مشینوں کے ذریعے سانس لے رہی ہے ورنہ اب تک تو کچھ بھی ہوسکتا تھا …

@@@@@@@@@@

کچھ گھنٹوں میں دانش پہنچ گیا تھا کراچی … شائستہ بیگم اور طاہر صاحب اگئے تھے لاہور سے … نادر آفندی نڈھال سے لگے طاہر کو تو انہوں نے گلے لگ کر حوصلہ دیا … شائستہ بیگم بھائی سے ملیں تھیں …

دانش خاموشی سے کھڑا تھا اسی وقت نرس نے کہا “بےبی کے فادر اگئے …

“جی میں ہوں … دانش جلدی سے اگے بڑھا …

“آپ اندر اجائیں ڈاکٹر کو آپ سے بات کرنی ہے , ساتھ میں ایک اور کوئی آسکتا ہے … نرس نے کہا …

جس پر نادر آفندی اگے بڑھے یوں وہ دونوں ڈاکٹر کے روم میں اگئے … ڈاکٹر نے ان کو بیٹھنے کو کہا اور ان کے بیٹھنے کے کچھ لمحوں کے بعد وہ بولے …

“تو آپ فادر ہیں … ان کا اشارہ دانش کی طرف تھا …

“جی میں ہوں … دانش نے کہا … ڈاکٹر کی آواز میں ایک مخصوص محسوس کیئے جانے والی پریشانی واضع تھی جانے کیوں دانش کا بھی دل زوروں سے دھڑک رہا تھا …

“کیا آپ کی وائیف آپ کی کزن بھی ہے … انہون نے پوچھا …

“جی ہم دونوں فرسٹ کزن ہیں … دانش نے کہا …

“بحرحال آپ دونوں کی کچھ ٹیسٹ کروانی پڑیں گی … پھر شاید بہتر سمجھا سکوں … ڈاکٹر نے کہا …

“مجھے کیا ہوا , میرے ٹیسٹ کیوں ہونگے … میری بچی کو کیا ہوا ہے وہ آپ مجھے بتائیں … دانش نے حیرت سے کہا …

“پلیز آپ ریلیکس ہوں یہ ضروری ہے … ڈاکٹر نے سمجھانا چاہا …

“کیا ضروری ہے آئی ایم پرفیکٹلی فائین , میرے الریڈی دو بیٹے ہیں , وہ بلکل ٹھیک ہیں … دانش نے تھوڑا تیز لہجے میں کہا …

“واٹ پر یہاں تو لکھا یہ آپ لوگون کا فرسٹ بےبی ہے …ڈاکٹر نے حیرت سے کہا …

“آئے مین میری ایک اور وائیف سے دو بےبی ہیں … دانش کی بات پر نادر آفندی نے پہلو بدلا …

“تو کیا وہ بھی آپ کی کزن ہے … ڈاکٹر نے پوچھا ..

“نہیں , وہ تو میری دور کی بھی رشتیدار نہیں … دانش نے بتایا …

“ہممممم مجھے اندازہ تھا … ڈاکٹر نے پرسوچ انداز میں کہا …

“بحرحال آپ کی بیٹی کو دل کا مرض لاحق ہے ساتھ ہی وہ مینٹلی اسٹیبل نہیں کیونکہ یہ بیماری اسے آپ دونوں سے ہی ملی ہے … یہ بلڈ ایشوو ہے تھیلیسمیا کا نام سنا ہوگا آپ نے , کہتے ہیں اگر کزن میرج ہو تو یہ ٹیسٹ ضروری ہے کیونکہ اکثر دونوں میان بیوی جو کزن ہوتے ہیں ان کے فیملی میں رن کر رہی ہوتی ہے , ان کو پتا نہیں ہوتا دونوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا عام طور پر جب مائینر ہو … جب یہ بیماری مائینر ہوتی ہے دونوں میان بیوی کو تبھی بچے کو میجر ہوتی ہے , ورنہ مائینر تو بہت سے لوگوں کو ہوتی ہے اور وہ پرفیکٹلی نارمل ہوتے ہیں اور نارملی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں …

ڈاکٹر تفصیل سے اسے بتانے لگا … نادر افندی حیرت سے سب سن رہے تھے …

“واٹ پر ہمارے خاندان میں تو کسی کے ایب نارمل بچے نہیں , یہ کیسے ہوسکتا ہے … دانش شاک تھا یہ سب سننے کے بعد …

“جانتا ہوں مگر سب کی اسکرینگ ضروری ہے … ڈاکٹر نے کہا سمجھاتے ہوئے … دانش کو شدید ناگوار گزری ان کی بات کیونکہ صدمہ اتنا بڑا تھا کہ وہ بولا …

“ڈاکٹر آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے … ایسا کچھ نہیں …

دانش اٹھ کر چلا گیا … ڈاکٹر اسے جاتا دیکھتا رہ گیا …. جبکہ نادر آفندی کو شدید دھچکا لگا یہ سن کر کزنز میرج کا یہ فالٹ ہے اور اس کی اویئیرنیس کسی کو نا تھی …

@@@@@@@@@

ماہین شیشے کے باہر کھڑی اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی جو اتنی مشینوں کی وجہ سے مصنوعی سانس لے رہی تھی … آنسو خودبخود بہے نکلے … “آئی ایم سوری میری جان , تمہاری ماں صرف تمہیں بیماری اور معذوری ہی دے سکی ہے … مجھے معاف کردو …

اسی پل کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے خود سے لگا گیا …

وہ محسوس کرچکی تھی مخصوص کلون کی خوشبو اور اس کا انداز بھی پر اس لمحے درد اتنا بڑھا تھا کہ اسی ہرجائے کے کندھے کو جھٹکنے کے بجائے اسی پر سر رکھ گئی اور دونوں کے آنسو بےآواز بہنے لگے … کچھ لمحون بعد احساس ہوا یہ کوریڈور ہے ہاسپیٹل کا وہ اس سے دور ہوگئی …

“ماہین کچھ نہیں ہوگا ہماری بیٹی کو … دانش کا لہجہ نرم تھا وہ حیرت سے سر اٹھاکر اسے دیکھنے لگی جس کی آنکھون میں آنسو دیکھ کر وہ ضبط کرگئی …

دانش کی بھی آنکھین بھی نم ہونگی کسی کے لیئے ماہین نے سوچا نہ تھا ….

وہ بغیر کچھ کہے واپس پلٹ گئی … دانش اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ماہین کے کسی انداز میں اسے شناسائی نہ لگی تھی ….

@@@@@@@@

ماہین کو تو اگلے دن ڈسچارج کردیا گیا پر ماہین نے ہسپتال میں رہنا پریفر کیا … وہ کیا کرتی گھر جاکر جب اس کی بیٹی اب تک ہسپتال میں تھی …

دو دن بعد وہ دونوں ڈاکٹر کے روبرو بیٹھے تھے …

“جیسا میں نے آپ کو کہا بلکل ویسا ہی ہے , آپ دونوں کو تھلیسمیا مائنر ہے , اس لیئے آپ کی بیٹی کو میجر ہے … ماہین کے اندر کرب جاگا یہ سب سن کر …

“ڈاکٹر ہماری بیٹی کے ٹھیک ہونے چانسز تو ہے نا … دانش نے پوچھا ضبط سے , تکلیف تو اسے بھی ہو رہی تھی یہ سب جاننے کے بعد …

“بحرحال ان پرابلمس کے ساتھ جب تک وہ سروایو کرسکے کچھ کہے نہیں سکتے … بس اتنا سمجھ لیں اللہ کی آزمائش ہے اور اس پر آپ دونوں کو اترنا ہے … باقی فالوو اپ ٹائیملی کرنا ہے … جلد ہی آپ کی بیٹی کھلی فضا میں سانس لے پائے گی پر آپ دونوں کو بہت احتیاط سے کام لینا … ڈاکٹر کا انداز نرمی لیئے ہوئے تھا وہ ان دونوں ہر طرح کی مشکل کے لیئے اگاھ کرنے لگے …

ماہین بسس سن رہی تھی , کچھ بھی کہنے کا اس میں حوصلہ نہ تھا اس میں …

@@@@@@@@@

ماہین اپنی رپورٹس دیکھ رہی تھی اور ایک ہی بات اس کے ذہن میں ڈاکٹر کی کہی بات گونج رہی تھی …

“صرف پچیس پرسنٹ چانس ہے آپ دونوں کی کوئی اولاد نارمل ہو ورنہ زیادہ تر اسی طرح کے ڈس ایبل بچے ہونگے آپ کے … بسس اللہ سے دعا کریں وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے , معجزے بھی وہی کرتا ہے …

کس قدر درد جاگا تھا اس کے اندر جب دانش نے یہ پوچھا تھا کہ “ہمیں نارمل بچے ہوسکتے ہیں … اور ڈاکٹر کے اس جواب کے بعد چھناک سے اس کے اندر کچھ ٹوٹا تھا …

“یک بٹا ہوا شوہر اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اب یہ درد بھی اس کے حصے میں آیا کہ وہ ادھوری عورت ہے , کسی مکمل بچے کو پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی …

اسے اپنے وجود میں سناٹے سے اترتے ہوئے محسوس ہوئے تھے …

@@@@@@@@@

پھر واقعی سب نے اپنی ٹیسٹ کروائی بلڈ کی جس کے بعد ماہین کو پتا چلا اس کے ساتھ ساتھ علی کو یہی مرض ہے جبکہ طیبہ اور ریحان نارمل تھے … اور دوسری طرف دانش کے بھائی بہنوں میں دعا , ریما اور تیمور تینوں کو ہے … یہ مرض انہیں اپنے باپ سے ملا تھا … صرف ایک ذیشان کا ان کو معلوم نہ تھا کیونکہ وہ آؤٹ آف کنٹری تھا … جس کے بعد ڈاکٹر نے صاف لفظوں میں بتادیا کہ جن کو بھی یہ مرض وہ سب جس کو بھی اپنا لائیف پارٹنر بنائیں تو اس چیز کا خیال کریں کہ دوسرے کو یہ مرض نہ ہو … ریما کو بھی یہ پرابلم تھی تو اس وجہ سے اس کے دونوں بیٹوں کے بھی ٹیسٹ کروائے جس پر پتا چلا ان کے چھوٹے بیٹے کو بھی یہی تکلیف ہے …

آفندیز میں یہ بات اس قدر پھیلی سب نے بروقت اپنے ٹیسٹ کروالیئے تاکہ جو دانش اور ماہین کے ساتھ ہوا پھر کسی کے ساتھ نہ ہو …

آہستہ آہستہ وقت گزر رہا تھا یہ مشکل وقت کٹھن گزرا تو ماہین پر , اپنی بیٹی کو یوں دیکھنا … پندرہ دن بعد جاکر ڈاکٹر نے اجازت دی کہ اب وہ بیٹی کو لے کر جاسکتے ہیں اور پوری احتیاط بتائی گئی تھی …

ان پندرہ دنوں میں وہ شدید کمزور ہوگئی تھی … بیٹی کی پریشانی نے اسے اندر ہی اندر کمزور کردیا تھا …

کاؤنٹر پر ریحان جب ڈیوز کلیئر کروانے گیا تب اسے پہلی بار پتا چلا کس قدر مہنگا ہسپتال ہے یہ کراچی کا , پندرہ دنوں میں پچیس لاکھ کا بل واقعی حیرت کا مقام تھا …

“اوکے , میں کچھ دیر میں ڈیوز کلیئر کرتا ہوں … ریحان نے کہا اور اسی وقت باہر نکل کر علی کو کال کی تاکہ وہ مزید رقم لاسکے تاکہ ڈیوز کلیئر ہوں …

اسی وقت اس سے پہلے دانش بات کرتا کررہا تھا کاؤنٹر پر کھڑے ادمی سے , ماہین نے اکر کریڈٹ کارڈ اگے کیا اور کہا “بے بی اف ماہین کے ڈیوز کلیئر کردیں …

کاؤنٹر پر بیٹھے ادمی نے کارڈ لے کر ڈیوز کلیئر کرنے لگا … “تھینک یو میم … اور کارڈ اور اس کے ساتھ بل دیا اسے … دانش کے گھورنے کو اگنور کرتی اگے بڑھ گئی …

اسی وقت دانش نے اس کا بازو تھاما اور باہر گارڈن کی طرف لے گیا …

“یہ کیا طریقہ تھا ماہین … دانش کے لہجے میں غصہ تھا …

“وہی جو آپ کو نظر ارہا ہے …. میں اپنی بچی خود پال سکتی ہوں … مجھے کسی کے بھی سہارے کی ضرورت نہیں …. ماہین نے صاف گوئی سے کہا …

“ابھی اس کا باپ زندہ ہے ماہین … میں کررہا تھا سب … دانش نے غصے سے کہا …

“جب کل بھی مجھے کرنا تو پھر آج کیوں نہیں … ماہین نے سادگی سے کہا …

“واقعی اتنا کچھ ہوگیا ہمارے ساتھ پھر بھی اکڑ نہیں جارہی تمہاری … دانش کے لہجے میں طنز تھا …

“یہ اکڑ نہیں ہے دانش , یہ میری خود اعتمادی ہے … باقی جو آپ سمجھیں … بحرحال میرا فیصلہ آج بھی اٹل ہے میں خلا لوں گی تم سے ورنہ تم خود طلاق دے دو مجھے … ماہین اتنا کہے ہسپتال کے اندر بڑھ گئی …

ایک ایک قدم اگے بڑھاتے ہوئے اسے یاد ارہا تھا کل رات کس طرح اس کے بابا نے کہا تھا وہ لفظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے تھے … انہوں نے کہا تھا “ماہین جو کچھ ہوا ان دنوں اس اس کے بعد یہ بالکل مت سمجھنا میری بیٹی کہ میں تمہیں زبردستی تمہارے سسرال بھیج دوں گا کیونکہ اب اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے … یہ سوچ کبھی مت لانا ماہین میری بیٹی میں تمہیں یہ کہوں گا ایسا کبھی مت سوچنا تم یا تمہاری بیٹی کبھی میرے لیے بوجھ ہو جتنا ہو سکے گا اتنا میں کروں گا اج بھی جو فیصلہ تمہارا ہوگا وہی مجھے منظور ہوگا اور تمہیں دنیا میں کسی کی بھی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ….

اور وہ کتنی دیر اپنے باپ کو دیکھتی رہی اور دل ہی دل میں سوچتی رہی “جن بیٹیوں کے باپ اتنے مضبوط ہو ان کی بیٹیاں کیسے کمزور ہو سکتی ہیں باقی باپ کا اعتماد یا بھائی کا اعتماد ہی ایک عورت کو مضبوط کرتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہوئی نا انصافی پر اواز اٹھا سکے …

مگر وہ جانتی تھی یہ وقت مناسب نہیں دانش کو عدالت میں گھسیٹ کر خلا لینے کا کیونکہ یہ وقت اس کی بیٹی اور اپنے بزنس کو کرنے کا ہے کیونکہ اب اسے پیسون کی ضرورت پڑنے والی تھی …

“اللہ کی دی ہوئی ازمائش پر صبر کرنا میری جان پر تھکنا بلکل نہیں اور پھر دیکھنا کس طرح اللہ تمہاری مدد کرتا ہے اور سارے راستے آسان ہوجائیں گے خودبخود … سعدیہ بیگم کے لفظ اس کے کانوں میں گونجے تھے اور مضبوطی سے قدم جماتی وہ اپنی بیٹی کو گود میں اٹھا گئی تھی … ڈیوز کے پیپر اسٹاف کے حوالے کیئے تاکہ اس کے بعد ڈاکٹر کی پریسکرائب میڈیسن لاسکے اسٹاف …

اسی وقت دانش نے اکر کہا …

“ماہین تم میرے ساتھ چل رہی ہو … میں خود علاج کرواؤن گا اپنی بیٹی کا … دانش کی بات پر وہ دانت پیس کر رہ گئی کیونکہ وارڈ کی دو اسٹاف دونوں کی طرف متوجہ ہوگئی تھی …

جاری ہے