Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 26

کتنے لمحے گزر گئے دانش کو سمجھنے میں ماہین کیا کہے کر کمرے سے باہر چلی گئی تھی … جب اس کی بات کا مطلب سمجھ آیا تو ایسا لگا جیسے وہ اسے جلتے توے پر بٹھاکر چلی گئی ہو اس کا پورا وجود خاک ہوچکا تھا … ماہین سے اس بات کی وہ امید لگا ہی نہیں سکتا تھا وہ ایسا کچھ کہے کر جائے گی … وہ اسے اچھا خاصا شٹ اپ کال دے کر گئی تھی کہ اگر اس نے اس کے کردار پر انگلی اٹھائی شانی کا نام لے کر تو وہ بھی اس سے یہ غرور چھین لے گی اس کی ذات کو سوالیہ نشان بنا کر کہ اس کا بچہ اس کا ہے بھی یا نہیں , اس سے بڑی بھی کوئی بے عزتی ہو سکتی ہے کسی مرد کی کہ اس کی بیوی ہی اسے اس کے بچے کا باپ ہونے پر سوال اٹھائے , اتنا بڑا سوالیہ نشان وہ اپنی ذات پہ کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا… ماہین کی کوکھ میں پل رہی اس کی ہی اولاد ہے یہ اسے یقین ہے جس پر اسے رتی برابر بھی شک نہیں …

اسے تو تب بھی شک نہیں ہوا تھا شانی اور ماہین پر جب نور نے اسے ماہین کے نروس بریک ڈاؤن کے بعد بتایا تھا کہ اس رات کیا ہوا تھا جس وجہ سے اسے گہرا صدمہ لگا تھا … نور نے یہ سب یہی سوچ کر بتایا تھا تاکہ وہ ماہین کو لے جائے لاہور سے اسلام آباد … اسے ماہین اور شانی پر کوئی نہ غصہ آیا , نہ شک ہوا , بلکہ اسے اچھا خاصا غصہ نور پر ایا تھا جو اتنی گھٹیا بات کر رہی ہے اور وہ اس کے لیے اسے ڈانٹ بھی چکا تھا اور سختی سے کہہ چکا تھا کہ ائندہ وہ یہ بات نہ کہے کسی ورنہ بہت بری طرح پیش آئے گا اس کے ساتھ کیونکہ نہ اسے اپنے بھائی پر شک ہے اور نہ ہی اپنی بیوی پر … ماہین کو جس طرح وہ ٹریٹ کر رہا تھا اس کے باوجود اس کی تابعدار اور فرمانبرداد تھی تو اسے ضرورت ہی نہیں تھی فضول میں اپنے گھر کا ماحول بھی خراب کرے اور اپنے لیئے مشکل بھی پیدا کرے , وہ بھی نور جیسی بےوقوف عورت کے کہنے پر … اس سب میں اتنا ضرور اسے سمجھ اگیا تھا بیچارا اس کا بھائی بڑا بدنصیب ہے جو ایسی بیوی ملی ہے اور اسے سہی معنوں میں شانی کی قسمت پر افسوس ہوا تھا اور خود پر ناز کہ اسے اچھی بیوی ملی ہے خاندان کی لڑکی …

اس دن بھی اسے اپنے بھائی کے نصیب پر شدت سے افسوس کے ساتھ ہمدردی ہوئی جب نور اسے ذلیل کرگئی بھری محفل میں پورے خاندان میں اس کی مردانگی پر سوال اٹھا کر , جانے کیوں یہ سوچ کر اس کی ہنسی ضبط نہ ہوئی کہ شانی سے ایک بیوی نہیں سنبھالی جارہی جس کی بدزبانی کو لگام نہیں لگا پارہا اس کا بیچارہ بھائی جبکہ وہ ایک ساتھ دو بیویوں کو بھی چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے … ہمیشہ ہر چیز میں سب سے اگے رہنا اس کا کریز رہا ہے خود کو بیویوں معاملے وہ خوشنصیب سمجھتا تھا …

نور کی باتون کو وہ ڈسٹ بن میں کب کا پھینک چکا تھا بغیر کوئی ویلیو دیئے پر اب جب ماہین کے اس منہ زور اکڑ کو توڑنے کے لیئے اسے اپنے سامنے نیچا دکھانے کے لیئے آج کہے گیا ورنہ شانی اور ماہین کو لے کر وہ کبھی کسی ڈاؤٹ میں تھا ہی نہیں پر ہاں وہ موقع پرست ضرور تھا اس لیئے آج موقع دیکھ کر گھٹیا بات کر گیا اپنے مطلب کے لیے پر اسے اندازہ نہیں تھا قطعی کہ ماہین ایسی بات کر کے اسے لاجواب کر دے گی …

اسے یاد آئی زبیر کی کہی بات “یار دانش لگتا ہے تم ماہین کو ہلکہ لے رہے ہو اس کی ذہانت کسی تعریف کی محتاج نہیں , اتنی شارپ ہے تم سوچ نہیں سکتے میرے لندن کے کلائینٹ سے اس کی میٹنگ کا میں گواہ ہوں … اف کیا بولتی ہے سامنے کو لاجواب کردے … ویسے اس کا انگلش ایکسینٹ بھی مائینڈ بلوئینگ ہے … بہت ٹیلینٹیڈ ہے اسے کہو اپنا بزنس کرے , شی از سو ٹیلینٹڈ ,آئے مسٹ سے شی از آ جینئیس …

دانش نے کوئی خاص اہمیت نہ دی اس بات کو ہمیشہ کی طرح … پر آج اس کی حاضر دماغی اور سامنے والے کو لاجواب کرنے کی صلاحیت سے امپریس ضرور ہوا تھا …

بحرحال وہ ضبط کرتا روم سے باہر اگیا … ماہین اس وقت اپنے باپ کے پہلو میں جاکر بیٹھ گئی تھی … ماہین کے سرد تاثرات اس کی ناگواری کا بیان کررہے تھے … دانش اس کے سامنے آیا اور ایک لفافہ رکھا …

“یہ کیا ہے … نادر آفندی نے پوچھا بغیر لفافے کو ہاتھ لگائے …

“میری ذمیداری ہے جو مجھے ہر حال میں پوری کرنی ہے … وہ سمجھ گئے تھے وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا …

“مجھے تمہاری دی ہوئی رقم کی ضرورت نہیں ہے … ماہین نے ضبط سے کہا … وہ جو اسے آپ کے سوا بات نہیں کرتی تھی اب تم اور تمہارے پر اچکی تھی …

” واقعی تمہیں ضرورت نہیں ہے کیونکہ تم اپنا کماتی ہو , یہ بھی میرا ہی دیا اعتماد ہے )وہ اس پر جتانا نہ بھولا ( پر میرے بچے کو میری ضرورت ہے کیونکہ یہ بچہ میری ذمہ داری ہے … مجھے اپنی اولاد سے بہت محبت ہے ماہین … اس کی ذمیداری میں اٹھاؤنگا چاہے تم میرے ساتھ رہو یا نہ رہو … دانش بلکل ہی معصومیت سے کہے کر ماہین کو دانت پیسنے پر مجبور کرگیا … وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ اب دوسرا پینترا وہ چلا رہا ہے اپنا مطلب نکالنے کے لیے …

” پلیز ماہین مجھے میرے بچے سے دور مت کرو , ہوسکے مجھے معاف کردینا … اتنا کہے کر وہ چلا گیا اس کے چہرے شرمندگی اور ندامت تھی , جبکہ نادر آفندی اس کو جاتا دیکھتے رہ گئے …

وہ ماہین کو اچھا خاصا مشکوک کرگیا اس کے گھر والوں کے سامنے اتنا زیادہ معصومیت کا ڈھونگ کرکے … اب وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی کہ کمرے میں کس طرح وہ اسے بلیک میل کر رہا تھا کاش وہ کمرے میں اکیلے اس کے ساتھ جاتی ہی نہیں اور سب کے سامنے بات کرتا تو یہ سب نہ ہوتا …

وہ جو اٹھنے لگی تھی صوفے پر سے تاکہ اندر جا کر ارام کر سکے اچانک ریحان کی اواز نے اس کے قدموں کو جکڑ لیا …

“ماہین یہ تمہارا حق ہے لے لو … ریحان نے لفافہ اٹھا کر اس کے ہاتھ پر رکھا … ماہین نے واپس اس کے ہاتھ پر رکھ کر کہا …

” سوری بھائی میں نہیں لے سکتی کیونکہ جب مجھے کمپرومائیز کرنا ہی نہیں ہے اس کے ساتھ , واپسی کا کوئی راستہ ہی نہیں رکھنا تو اس کی عنایتیں لینے کی مجھے ضرورت نہیں , میں اپنے بچے کو پیدا کرسکتی ہوں تو پال بھی لوں گی اور آئندہ مجھے ان باتوں پر مجبور نہ کیا جائے … اتنا کہے کر وہ واپس چلی گئی اپنے روم میں بغیر وہ لفافہ لیئے جبکہ ریحان اسے جاتا دیکھتا رہ گیا …

@@@@@@@@

“پلیز علی میری کال اٹھادو , اللہ کا واسطہ ہے تمہیں … وہ دل ہی دل میں دعا مانگتی گیاروین بار کال ملاتی خود سے بولی تھی …

اس کے چہرے پر تڑپ واضع تھی … آخر کار خدا کو اس پر ترس اگیا چودہوین بار پر وہ کال اٹھاگیا …

“کیا مسئلا ہے تمہارے ساتھ دعا , مجھے کال مت کرو , اس راستے پر نہ چلو جس کی منزل نہ ہو … وہ ضبط کرتا ہوا کرخت لہجے میں بولا تھا , وہ نہیں چاہتا تھا کہ دعا کے پاس کوئی امید نہ رہے , وہ کوئی اسے امید کی ڈور تھمانہ نہیں چاہتا تھا …

“دانش بھائی کی سزا مجھے کیوں دے رہے ہو … وہ سسک کر بولی , کتنا آسان لگتا تھا سب پانا … پر قسمت کیا کھیل کھیلتی ہے کوئی نہیں جانتا …

“دیکھو اب اس راستے پر قدم رکھتے ہوئے پتا چل گیا ہے کانٹوں بھری راہ ہے تو بےوقوفی کرنے سے اچھا ہے کہ ہم راستے ہی بدل لیں… اب کے علی نرمی سے بولا کیونکہ اس سے اس کا سسکنا برداشت نہیں ہوا …

“تم مردوں کے لیے تو ہر بات انا کا مسئلہ بن جاتی ہے اور جلدی ختم کر لیتے ہو … کبھی تم نے ہم لڑکیوں کے بارے میں سوچا ہے جو ایک بار اس راستے پر چلنا شروع کر دیں تو دوبارہ پلٹ نہیں سکتیں … وہ تڑپ کر بولی تھی …

“یہ تمہارا مسئلہ ہے دعا میرا نہیں ہے اور تم جانتی ہو میں نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جو ہمارے پیرینٹس کہیں گے وہ ہوگا … میں نے کبھی تمہیں کوئی امید نہیں دلائی تم نے اظہار کیا تھا پہلے … ہم صرف اچھے دوست تھے اور وہی رہیں تو اچھا ہے اور اب میرا خیال ہے کہ وہ بھی نہیں رہ سکتے کیونکہ میں اپنی بہن ماہین آپی کو ذرا سی بھی تکلیف نہیں دے سکتا … تمہارے گھر سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا ہم افورڈ نہیں کر سکتے اب … علی نے صاف گوئی سے کہے کر اس کا دل چکنا چور کر دیا تھا …

“علی ایسا نہ کرو پلیز … دعا نے کہا درد بھرے لہجے میں …

“کیوں اپنے لیے اور میرے لیے مصیبت کھڑی کر رہی ہو دعا بہتر ہے کہ جو معاملہ ہے وہ یہیں پہ رفع دفع کرو … علی کا انداز بے لچک تھا …

“یقین کرو دانش بھائی اور ماہین بھابھی کے سارے معاملات سولوو ہوجائیں گے انشاء اللہ … دعا نے کہا …

“یہ ناممکن ہے دعا اور تمہیں کیا لگتا ہے کیا سلیوشن ہے اس کا … علی کے لہجے میں یقین تھا …

علی نے تند لہجے میں پوچھا …

“جو میں کہوں گی وہ تم سے برداشت ہی نہیں ہوگا علی … دعا نے کہا … وہ کہنا تو اسے یہی چاہتی تھی کہ “ماہین بھابھی کیسے چھوڑسکتی ہیں بھائی کو جب وہ ماں بننے والی ہیں , یہ غصہ ان کا وقتی ہے … پر اس کی ہمت نہ پڑی یہ سب کہنے کی …

“تو بہتر ہے تم نہ ہی کہو اور ائندہ مجھے کال کر کے تنگ مت کرنا اللہ حافظ … اس کا دو ٹوک انداز دعا کو احساس دلا گیا محبت کی کونپل جو ابھی بمشکل پھونٹی ہی تھی دونوں کے بیچ وہ مر جھا کر رہ گئی تھی …بہتر یہی تھا کہ دعا اپنے قدم پیچھے ہی لے لیتی….

وہ بے آواز روتے ہوئے تکیئے میں منہ چھپا گئی ….

@@@@@@@@@

دوسری طرف تنہا بیٹھا علی موبائیل ہاتھ میں پکڑے کال کٹنے کے بعد خود سے بولا ….

“یہ ضروری تھا دعا … ابھی ذرہ سی تکلیف ہوگی ذرا سا زخم ہوگا اور تو بھر جائے گا اگر بڑا زخم بنا تو ناسور بن جائے گا اور میں نہیں چاہتا کہ تمہارے اندر کوئی ناسور بنے …

بچپن سے ہی دونوں کی اچھی خاصی بنتی تھی پھر سبجیکٹ بھی ایک تھا تو علی سے بھی مدد لیتی رہتی تھی …

جیسے ہی دانش کی دوسری شادی کا علم ہوا علی کو تو اس نے دعا کو کال کرکے کہا “یہ آخری دفعہ بات کررہا ہے اب کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تم سے یا تمہارے گھروالوں سے …

ایسا نہیں تھا کہ اتنا جلدی علی نے یہ رائے قائم کر دی تھی کہ ماہین دانش بھائی سے الگ ہو جائے گی پر ایک بات تھی کہ علی کو یہ بات تکلیف دے رہی تھی کہ شاید اس کی بہن سے اب کبھی یہ برداش نہ ہو کہ اس گھر کی کوئی لڑکی آئے اس کے مان باپ کے گھر آجائے , پہلے اس کی بہن ریما بھابھی کو لے کر گلٹی ہے جس پر ریحان بھائی کچھ سمجھنے کو تیار نہیں … بہتر یہی تھا سب کے لیے کہ دعا اور علی ایک دوسرے سے دور ہو جائیں …

@@@@@@@@@@@

“یہ اپنے بھائی کو دے دینا … ریحان نے اکر لفافہ ریما کو دیا جو اس وقت اپنے چھوٹے بیٹے کو کاٹ میں سلارہی تھی فیڈ کے بعد …

“میں نہیں لے سکتی کیونکہ میں اپنے بچوں کے باپ پر اپنا میکہ قربان کرچکی ہوں , میرا ان سے واسطہ نہیں ہے … ریما نے ایک نظر ریحان پر ڈال کر کہا …

ریحان پلٹ گیا لفافہ لے کر تب ریما نے پیچھے سے کہا… “مجھے لگتا ہے بھائی نے یہ دے کر احسان نہیں کیا جو ماہین نے اتنا سنایا آپ کو جبکہ یہ بھائی کی ذمیداری ہے , ماہین کو چاہیئے اس طرح نہ کرے … ماہین کچھ بھی کرلے وہ صرف اس بچے کی ماں بنے گی باپ نہیں بن سکتی … ریما کا لہجہ دھیما اور نرم تھا جبکہ بات سخت تھی اس لیئے دھیمے لہجے کے باوجود ریحان کو ناگوار گزری تھی …

“میرا خیال ہے بہت بول لیا تم نے اب اگر اپنی بکواس نہ بند کی تو پھر اچھا نہ ہوگا … ریحان نے کہا …

“میرے ساتھ اچھا کب ہورہا ہے ریحان … یاد رکھنا جو تمہارے قدمون میں آگری تھی وہ ایک ماں تھی جو اپنے بچون کے سر سے باپ کا سایہ نہیں ہٹانا چاہتی تھی … ریما نے آنکھون میں آئی نمی کو پونچھتے ہوئے کہا اور چلی گئی کمرے سے باہر , اگر اور تھوڑی دیر ٹھہرتی تو پھر بحث ہو جانی تھی …

اتنا کہے کر وہ منظر سے ہٹ گئی … ریحان کو ایک عجیب احساس سے دوچار کرگئی اسے لگا اس دن اس کے قدمون میں اس کی بیوی ہے جو اپنے شوہر سے دستبردار نہیں ہونا چاہتی پر آج پتا چلا وہ ایک ماں تھی … کیا واقعی ماں اتنا سب کرلیتی ہے … کیا ماں کی عزت نفس نہیں ہوتی … ایسے کئی سوال جو اس کے اندر اٹھ رہے تھے ..

@@@@@@@@@

سعدیہ بیگم کافی دیر سے کھڑی اس کے کپڑے سیٹ کر کے رکھ رہی تھی … ماہین لیب ٹاپ ٹیبل پر لیب ٹاپ رکھے اپنا کام کیئے جارہی تھی … جب سعدیہ بیگم نے دیکھا کہ وہ تو کوئی بات ہی نہیں کر رہی تو تنگ ا کر وہ خود ہی کہہ اٹھیں …”کیا ہوگیا ہے ماہین تمہیں …

وہ حیرت سے لیب ٹاپ سے نظر ہٹا کر چشمہ اتار کر اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھ گئی … یہ چشمہ اس کی نظر کا نہ تھا بلکہ اپنی آنکھون کی حفاظت کے لیئے زیرو نمبر کا پہنتی تھی لیب ٹاپ یا کمپیوٹر چلاتے ہوئے …

“مجھے کیا ہونا ہے امی … ماہین نے کہا جو اب مکمل توجہ سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جو کل سے اس سے خفا تھیں دانش کے جانے کے بعد سے … ماہین نے محسوس کرنے کے باوجود اپنی ماں کو اگنور کر رہی تھی … شاید ایسا تب ہوتا ہے جب دو لوگ ایک رائے پر متفق نہ ہوں …

“تم سے یہ امید نہ تھی اس طرح شوہر سے بات کررہی تھی تم … کیا تم جانتی ہو اسلام کیا کہتا ہے شوہر کے متعلق اور اولاد کے حقوق پورے کرنا کس کے ذمے ہے … سعدیہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا اور بازپرس کی …

“امی پلیز … میں علیحدہ ہونے کا ذہن بناچکی ہوں … یہ میرا حق ہے امی … ماہین نے صاف لہجے میں کہا جس سے ان کو شدید تکلیف محسوس ہوئی اپنے اندر …

“ماہین کیا تم جانتی ہو , اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ عمل طلاق ہے … تم اس عمل سے گزرو میرے لیئے تکلیف کا باعث ہے … سعدیہ بیگم نے کہا دکھ سے …

“تو اس کا مطلب اپ مجھے روکنا چاہتی ہیں … آپ نہیں چاہتی میں طلاق لوں … ماہین نے پوچھا اپنی ماں سے …

“ماہین بات چاہت کی نہیں وجہ کی ہے , یہ وجہ غلط ہے تمہاری کہ تم شوہر کو شیئر نہیں کرسکتی اس لیئے علیحدگی چاہتی ہو تو یہ سب تمہارا ضدی پن اور خودسری پن ظاہر کرتا ہے … اتنی خوغرض ہو اپنے بچے کے انے سے پہلے اس کا باپ چھین رہی ہو … مجھے تمہاری وجہ پر اعتراض ہے , کوئی ایسی ٹھوس وجہ دو جو میرا دل مطئمن ہوجائے میری بیٹی سہی فیصلہ کررہی ہے … سعدیہ بیگم نے اپنی بات واضع کی اور ماہین نے شدید تکلیف اپنے اندر محسوس کی …

“امی اپ پوچھ رہی ہیں وجہ اپ کو مطئمن نہیں کررہی چلو ٹھیک ہے میں کھل کے آپ کو بتاتی ہوں اس شخص کے ساتھ رہ کر اپ کی بیٹی نے اپنا وقار کھویا اپنی سیلف ریسپیکٹ کو اس کے قدموں میں رکھ دی اور اس نے کیا کیا پہلی رات ہی میرے وجود کو روند ڈالا پھر بھی میں چپ رہی … جانتی ہیں کیوں … صرف اپ کی وجہ سے کیونکہ اپ نے میرے دماغ میں یہ بات ڈالی تھی کہ شوہر کو سارے حقوق حاصل ہیں اور میں نے اپ کی بات پر یقین رکھا کیونکہ اپ کبھی مجھے غلط نہیں کہہ سکتیں , وہ واقعی میں میرے جسم کا مالک بن کر بیٹھ گیا میری سوچون پر قابض ہوگیا , میں گھٹ رہی تھی امی اور وہان سب میرا تماشہ دیکھ رہے تھے وہ ہر طرح سے مجھے دبا کر رکھتا تھا , مجھے بولنے تک کی اجازت نہ تھی اس کے سامنے … سب برداش کیا کس کے لیئے , صرف شوہر اور گھر کے لیئے …میرے ساتھ ہی یہ کیوں ہوا میں سوچتی رہتی پر کسی سے گلا یا شکوہ نہیں کرتی اور کرتی بھی تو کس سے کوئی میرا جواب دینے کے لیے تیار ہی نہیں تھا … میں نے سب برداشت کیا اپنے لیے نہیں اپ کے لیے کیونکہ اگر میں اس گھر سے ناراض ہو کر اٹھ کر ا کر اپ کے پاس بیٹھتی تو اپ کے گھر کا سکون خراب ہوتا یہی سوچ کر اس گھر میں اپنا سکون تلاش کررہی تھی اور صبر کرتی رہی مجھے کیا ملا صرف ہر بار میں ددھتکاری گئی تھی …

کچھ لمحوں کی بعد وہ دوبارہ بولی …

“کیوں , کیوں میں برداشت کروں نہیں مانتا میرا دل اور مجھ سے نہیں برداشت ہوتا میرے شوہر کا بٹوارا تو یہ میرا حق ہے کہ میں اسے علیحدگی اختیار کروں یہ اولاد کبھی بھی میرے پاؤں کی زنجیر نہیں بن سکتی اب میں سمجھوتا کوئی نہیں کروں گی اور مجھ سے کوئی امید بھی نہ رکھے …

جاری ہے