Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 24

“مامون میری فلائیٹ کنفرم کردیں میں کراچی جارہی ہوں … میں ان کو منع کرچکی ہوں یہان آنے سے … ماہین نے سکون سے کہا , اس کا اشارہ اپنے بھائیوں کی طرف تھا جو اسے لینے انا چاہ رہے تھے …

جبکہ علیزے اور عائشہ نے ایک دوسرے کو دیکھا وہ جو سوچ رہیں تھیں کس طرح ماہین کو اس فیز سے نکالیں گی … دونوں پریشانی سے اس کا انتظار کررہی تھیں جب سے عمر نے بتایا سارے حالات کا اور یہ کہا وہ ماہین کو لینے جارہے ہیں …. اب اس کا رویہ دونوں کو ہی چکرا کر رکھ گیا تھا کیونکہ وہ اس قدر خاموش اور پرسکون تھی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو …

“ماہین تم ٹھیک ہو … عمر نے پوچھا …

“جی مامون , میں ٹھیک ہوں , مجھے کیا ہونا ہے … ماہین نے نارمل لہجے میں کہا …

“ہممممم تو ٹھیک ہے , میں خود چلون گا تمہیں چھوڑنے ماہین , اس حالت میں پرابلمس ہوسکتیں ہیں … عمر نے سھولت سے کہا … وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے پر بظاہر خود کو کمپوزڈ دکھا رہی ہے اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اسے کمزور کرے اس لیے جس طرح وہ کہہ رہی تھی وہی کر رہا تھا …

“فی الحال میٹرنٹی مجھے لے لینی چاہیئے یا پھر آنلائین کام چل سکتا مین ورک فرام ہوم … ماہین نے ہوچھا …

“جیسا تمہیں ٹھیک لگے عیان سے میں خود بات کرلوں گا … عمر نے کہا وہ مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ تذبذ کا شکار ہورہی تھی ان کے یوں دیکھنے سے …

“میں کھانے کا دیکھتی ہوں … علیزے عائشہ کو لے کر اٹھ گئی اتنا کہے کر …

“ہان یہ ٹھیک ہے , ماہین نے کچھ نہیں کھایا صبح سے , جاؤ تم کھانے کا دیکھو … عمر نے کہا …

وہ صرف اپنا ضروری سامان پیک کرچکی تھی جس میں دھیج کا گولڈ کچھ کپڑے ڈاکیومینٹس اور اپنا لیب ٹاپ تھا … اپنی ساس کو بری کا سارا گولڈ اور دانش کا دیا رونمائی کا بریسلیٹ سب واپس کرکے آئی تھی اور ان کی طرف سے ملا ہوا کیش ہر چیز , وہ ہکا بکا ہوگئیں تھیں ان کو امید نہ تھی ماہین اس قدر اپنے فیصلے پر کاربند ہے جو یہ کرے گی سب کچھ واپس کرکے , وہ سہی معنی میں سب کشتیان جلا کر نکلی تھی … شائستہ بیگم چکرا کر رہ گئیں تھیں اس کے اس عمل سے ….

کچھ لمحون کی خاموشی کے بعد وہ دھیمے لہجے میں بولی …

“مامون میں نے غلط کیا …. ماہین کا انداز سوالیہ تھا …

“بیٹا , سہی یا غلط کا تو وقت انے پر فیصلہ ہوگا ابھی سب دھندلا ہے ماہین اور تمہیں سب سہی لگ رہا ہوگا اس وقت … عمر نے مختصر لفظوں میں اپنا نظریہ بتایا …

“آپ کو لگتا ہے جو میں نے کیا وہ میری اکڑ تھی … ماہین نے پوچھا … وہ اپنے مامون کے بہت قریب تھی ان کی باتیں سنتی بھی تھی اور مانتی بھی تھی اور یقین بھی تھا کہ وہ انہیں اچھی رائے دیتے ہیں … وہ ایک نقطے پر نظر جما کر بول رہی تھی ….

“ماہین مجھے تمہاری وہ اکڑ نہیں لگی … عمر نے صاف گوئی سے کہا …

“بلکہ میں سمجھتا ہوں لہجون کی کڑواہٹ اکڑ نہیں ہوتی بلکہ برداش کی وہ حد ہے جو ٹوٹ جانے پر انسان کو تلخ بنا دیتی ہے …. عمر کے اتنا کہنے کی دیر تھی ماہین کے آنسو بے ساختہ اُمڈ آئے …

“میں نے بہت برداش کیا مامون , اس شخص کی ہر زیادتی سہتی رہی , یہی سوچ کر شاید ہماری مینٹلٹی مل جائے کیونکہ مجھے لگا ہمارے عمروں کے فرق نے حالات ایسے کردیئے ہیں … سب سمجھ کر انجان رہنا , وہ جو کہتا بنا چون چران کے مان جانا , میں دبتی رہی وہ مجھے دباتا رہا , اسے لگا میں سمجھتی نہیں , میں کم ہمت , بزدل ہوں , لوگون سے ڈرتی ہوں , اسے تو پتا ہی نہیں میں اپنی یونی کی بیسٹ ڈپیٹر تھی پر اس کے سامنے ایک بےوقوف تھی وہ سمجھتا رہا , میں نے اسے کلیئر کیا ہی نہیں , پر میں سب کچھ سمجھ رہی تھی جو وہ مجھے بنانا چاہ رہا تھا , بس ایک امید تھی کہ شاید سب ٹھیک ہوجائے … ہمارا رشتہ نارمل ہوجائے … وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں پر گراگئی اتنا کہتے کہتے وہ نڈھال سی ہوگئی تھی … یہ تھی اس کی شادی شدہ زندگی کا کُل خلاصہ جو وہ بند لفظوں میں بیان کر گئی …

“ماہین بیٹا , تم ہمت مت ہارنا , میں تمہارے ساتھ ہوں ہمیشہ یاد رکھنا … حالات اور مشکل ہونے والے ہیں پر تم ثابت قدم رہنا اور دوسری بات اپنی اولاد کو اپنی طاقت بنانا کمزوری نہیں …. وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے پیار سے بولے … وہ اثبات میں سرہلا گئی تھی …

“چلو شاباش اٹھو ہم دونوں مل کے کھانا کھائیں … عمر نے کہا اور اس کے آنسو پونچھ کر اسے اٹھایا اور دونوں ڈائینگ پر آئے پھر سب نے نارمل ماحول میں کھانا کھایا …

@@@@@@@@@@

“مجھے ماہین کی فکر ہورہی ہے عمر … علیزے نے رات کو عمر سے کہا … ابھی وہ دونوں اسے دیکھ آئے تھے جو پرسکوں سورہی تھی …

“اللہ بہتر کرے گا علیزے … واقعے حالات کیا رُخ اختیار کریں , کچھ پتا نہیں … بحرحال دانش نے بہت غلط کیا ہے … عمر نے ماتھے کو مسلتے ہوئے کہا کیونکہ وہ خود سمجھ نہیں پارہا تھا اب کیا ہوگا اتنی زندگیان جڑ گئیں ہیں اس سب میں …

“میرا خیال ہے یہیں ٹھر جائے ماہین تو , اسے کراچی نہ بھیجین تو , وہان آفندیز اس کا جینا نہ حرام کردیں گے , مجھے پتا ہے عورتون سے زیادہ مردوں کی سنی جاتی ہے وہان , پریگنینسی میں اتنا اسٹریس ٹھیک نہیں ہے ماہین کے لیئے … علیزے نے پرسوچ انداز میں ٹھر ٹھر کر کہا کیونکہ وہ اپنے کہے ہر ایک لفظ پر غور و فکر کر رہی تھی …

” ماہین بولڈ ہے وہ سب فیس کر لے گی دیکھو تو صحیح کتنا کمپوزڈ اور کالم ہو کر بیٹھی ہے … عمر نے کہا ابھی حالیہ اس کی کنڈیشن دیکھ کر …

“نہیں عمر اپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے یہ یہاں کی بات ہے اصل مسئلے کراچی میں ہوں گے کیونکہ ریما بھی وہیں ہیں مجھے اسی بات کا خوف ہے … علیزے نے اپنی فکر بتائی …

” تم فکر نہ کرو اللہ بہتر کرے گا باقی میں خود تو جا رہا ہوں کل اسے چھوڑنے اگر ایسا کچھ مجھے لگا تو انشاءاللہ پھر واپس لے کر ا جائیں گے … عمر نے اسے تسلی دی …

وہ ہر دن اپنے رب کا شکر ادا کرتا جس نے اسے اتنی اچھی ہمسفر دی واقعی علیزے اس کے لیے بہت اچھی ہم سفر ثابت ہوئی کبھی اس کے بچوں کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی , ہر جگہ ہر معاملے میں اس کے ساتھ ڈٹ کے کھڑی رہی نہ صرف بچوں کو اپنایا بلکہ اس سے جڑے ہر رشتے کو علیزے نے محبت سے اپنا لیا جس طرح علیزے سعدیہ آپی کے لیے فکر مند ہوتی ہے اور اس کے بچوں کے لیے عمر کے لیے یہ حیرت کا مقام تھا … اج وہ دل سے کہہ سکتا تھا کہ نازیہ نے اپنی محبت کا حق ادا کیا اگر وہ شاید یہ سب کچھ نہ کرتی تو عمر کبھی بھی نازیہ کی جگہ کسی کو نہ دے پاتا ….

وہ علیزے کو اپنے سینے سے لگا گیا وہ اس کی بانہون میں اکر ہمیشہ کی پرسکون ہوگئی تھی ….

@@@@@@@@@

“شکر ہے اللہ کا تم ٹھیک ہو … دانش نے نایاب کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے کہا جہان پر پٹی بندھی تھی , شکر تھا سر کا زخم اتنا گہرا نہ تھا کہ ٹانکے لگتے پر ایک پاؤں میں فریکچر تھا , جس کی وجہ سے تین ہفتے بیڈ ریسٹ کا کہا تھا ڈاکٹر نے …

“دانش یہ کوئی دسوین بار کہے چکے ہو آپ … نایاب نے چڑ کڑ کہا , دیکھنے سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ اس کا موڈ بہت خراب ہے …

“میں اپنے رب کا شکر ادا کررہا ہوں تمہیں کیا ہے … دانش نے اس کی کمر کے پیچھے تکیئے رکھتے ہوئے کہا ابھی وہ لوگ ہسپتال سے گھر آئے تھے …

” ویسے تمہارا موڈ اتنا خراب کیوں ہو رہا ہے نایاب … شکر کرو کسی بڑی مصیبت سے بچ گئی تم … اب سے روز میں خود تمہارے سر کا صدقہ دیا کروں گا … وہ اس کے ہاتھ تھام کر بولا …

” میں نے کتنا آفتاب بھائی کو منع کیا تھا کہ اپ کو فون نہ کریں اور دیکھ لیں اس کا نتیجہ ماہین نے سب سن لیا … تو کیا مجھے فکر نہیں ہوگی اس کنڈیشن میں ماہین کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی اپ کو اندازہ ہے اپ کو کہاں سے اندازہ ہوگا اپ تھوڑی پریگننٹ ہوئے ہیں کبھی …

“اللہ کو مانو کیا کہے رہی ہو نایاب … دانش سخت بد مزہ ہوا اس کی پریگننسی والی بات پر …

“سچ ہی کہے رہی ہوں … میں نے یہ تکلیف دو بار اٹھائی ہے اور مجھے پتہ ہے کہ کیسی طبیعت ہوتی ہے ان دونوں اور اس پر یہ پتا لگنا اس کا شوہر ایک اور شادی کرکے بیٹھا ہے … نایاب کے لہجے میں ماہین کے لیئے اتنی فکر سن کر دانش اچھا خاصا چڑ گیا …

“تم ماہین کی فکر چھوڑ ہی دو , دیکھ کر ارہا ہوں اس کے رنگ ڈھنگ اور اس کا ریکشن … دانش ضبط سے بولا کتنا کچھ اسے یاد ارہا تھا کتنا بدتمیز اور گستاخ لہجہ اور اس پر اس کا موبائل اس کے سینے پر پھینکنے کا انداز … شدید غصہ اور اشتعال اٹھ رہا تھا دانش کے اندر , اس کی مردانہ آنا پر کاری ضرب وہ لگا چکی تھی اپنے اس انداز اور رویئے سے …

“بہت روئی ہوگی وہ , پلیز آپ لاہور واپس جائیں اس کے پاس , اسے سمجھائیں , اس وقت اسے آپ کی زیادہ ضرورت ہوگی … نایاب کے لفظ لفظ میں ماہین کے لیے فکر تھی جبکہ دانش دانت پیس کر رہ گیا …

“بلکل نہیں روئی وہ , سکون سے طلاق مانگ رہی تھی مجھ سے … میں بمشکل ضبط کا دامن تھام کر وہاں سے نکل ایا … دانش جانتا تھا اگر اسے سچ نہیں بتائے گا تو وہ یو نہی فکر مند رہے گی اسی لیے دانش نے نایاب کو ماہین کا ری ایکشن بتا دیا …

نایاب کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا …

” تو کیا واقعی اپ اسے چھوڑ دیں گے … نایاب نے کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد پوچھا تھا …

“بلکل بھی نہیں , تاعمر اسے میری بیوی بن کر ہی رہنا پڑے گا , یہی ٹھیک رہے گا سب کے لیئے … دانش نے سکون سے کہا اور اسی وقت ملازمہ دروازہ ناک کرکے اندر اگئی کیونکہ دانش اسے پہلے کہے کر آیا تھا سوپ کا … ملازمہ کی وجہ سے دونوں خاموش ہو گئے اور پھر دانش اسے سکون سے سوپ پلانے لگا …

@@@@@@@@

اگلے دن وہ عمر ماموں کے ساتھ کراچی پہنچ گئی , اسے لینے ریحان اور علی دونوں آئے تھے … پہلے وہ ریحان سے ملی تھی جس کی نظر اٹھ ہی نہیں پارہی تھی یہ سوچ کر اس کی بہن اس طرح اجڑ کر واپس اگئی ہے … کتنی دیر علی اپنی بہن کو خود سے لگا کر اپنا دل ہلکہ کرنے لگا …

“چلو بچون اب گھر چلو … عمر کے کہنے پر دونوں بھائی سنبھلے تھے … سارا راستہ خاموشی سے گزر گیا …

گھر اکر وہ نادر آفندی سے پہلے ملی پھر سعدیہ کے ساتھ .. کتنا نادر افندی نے سعدیہ بیگم کو سمجھایا تھا پھر بھی بیٹی کے گلے لگتے ہی ان کے انسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے … نادر افندی پہلے ہی کہے چکے تھے کہ کسی کو بھی رونے دھونے کی ضرورت نہیں ہے اب بھی ماہین کو کوئی پریشانی نہیں دینی جب تک کہ اس کی اولاد خیریت سے نہیں ہو جاتی تب تک اس معاملے پر سب نے خاموشی رکھنی ہے …

اسی وقت ریحان اپنے روم کی طرف گیا جہان ریما صوفے پر پریشان سی بیٹھی تھی … “ریما تم نے اپنا سامان پیک کیا اب جانے کی کرو یہاں سے رات ہی میں نے تمہیں کہہ دیا تھا کہ تمہاری اس گھر میں جگہ نہیں ہے کب ا رہے ہیں تمہارے بھائی لینے , اب نکلو اس گھر سے تمہاری جگہ نہیں ہے نا اس گھر میں نا میری زندگی میں ….

“ریحان پلیز میں نے کچھ نہیں کیا , میرے ساتھ ایسا نہ کریں … وہ اس کے قدمون میں اکر بیٹھ گئی … رونے لگی شدت سے پر ریحان بے نیاز بنا رہا …

جب ریحان نے محسوس کیا کہ وہ انتہا کی ڈیٹ ثابت ہو رہی ہے تو اسی وقت اس نے دانش کو کال لگائی اور تیسری بیل پر ہی دانش نے کال اٹھالی …

“اگر مردانگی کی زعم میں دوسری شادی کر ہی چکے ہو تو غیرت مند بھائی بن کر ا کر اپنی بہن کو لے جاؤ دانش ورنہ رات تک دھکے دے کر نکال باہر کروں گا تمہاری بہن کو … ریحان نے دو ٹوک انداز میں کہا …

“ریحان میری بات سنو … دانش نے نرمی سے کہنا چاہا …

” کہنے سننے کو کچھ بھی نہیں بچا عزت سے کہہ رہا ہوں لے جاؤ اپنی بہن کو کوئی بھی بات کرنے جیسی نہیں ہے … اگر میری بہن کا گھر نہیں بسے گا تو تمہاری بہن بھی میرے گھر میں نہیں رہ سکتی … ریحان نے دو ٹوک لہجے میں کہا … دانش اپنی بہن کی آواز سن رہا تھا جو بس روئے جارہی تھی اور ریحان اپنی بات مکمل کرکے کال کاٹ چکا تھا ….

“پلیز ریحان نہیں … وہ بلند آواز سے رونا شروع ہوئی اس کی دیکھا دیکھی بڑا بیٹا رونے لگا … ریحان ضبط سے ہونٹ بھینچ گیا ….

سب اٹھ کر اس کے روم تک آئے تھے اگے کا منظر ان کے لیئے ناقابلِ یقین تھا …

“پلیز مامون مجھے گھر سے نہ نکالیں ,مجھے زہر دے دیں , میں کھالوں گی پر اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی , ریحان میں سچ کہے رہی ہوں مجھے گھر سے نکالا تو میری لاش ہی لاہور جائے گی وہان … ریما تڑپ کر بولی اسی وقت نادر آفندی نے کہا …

“بند کرو یہ تماشہ تم دونوں , ابھی میری ایک بیٹی کے معاملات میں سلجھاؤں یا تم دونوں کے معاملات … ریما کوئی نہیں نکال رہا تمہیں … خآموش ہوکر بیٹھو … نادر آفندی مضبوط لہجے میں کہے کر ان کے کمرے سے چلے گئے جبکہ ریحان غصے سے پیر پٹخ کر چلاگیا وہان سے …

@@@@@@@@

دانش کو سہی معنی میں پریشانی ہوئی اپنی بہن کا رونا سن کر ساتھ ہی ساتھ ریحان کا اتنا سخت لہجہ , اسے فکر کی گہرائیوں میں لے گیا … واقعی سوچ تک تو ہر معاملات اسان ہوتے ہیں پر جب وقت اتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ کتنی مشکلات ہیں ان سب چیزوں میں … جس طرح ماہین کو دبا کر دانش نے رکھا تھا اسے اندازہ تھا کہ وہ سوائے رونے دھونے کے کچھ نہیں کرے گی وہ قطعی کسی قیمت پر سوچ ہی نہیں سکا کہ ماہین کا اتنا شدید ری ایکشن ہوگا اتنا نڈر انداز وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا …

کافی دیر سوچنے کے بعد آخر اس نے بڑے مامون کو کال لگائی جو لندن میں رہتے ہیں … اس پر غصہ ہوتے رہے اور وہ ان کی سنتا بھی رہا …

“پلیز مامون اب اپ ہی بات سنبھال سکتے ہیں , میں نایاب کو نہیں چھوڑ سکتا وہ بلکل اکیلی ہے کوئی نہیں ہے سوائے ایک بہن کے وہ دبئی میں ہے , آپ خود بتائیں کیا کروں میں … ریحان نے بہت برے طریقے سے بات کی مجھ سے اور ریما کو بھی پریشان کیا ہوا , میری غلطی کی سزا میری بہن کو کیوں مل رہی ہے … جو کرنا ہے میرے ساتھ کریں میں ہوں ان کا مجرم … دانش سوچ سمجھ کر ایک ایک لفظ ادا کررہا تھا …

“دانش … ریحان بھی بھائی ہے جو وہ کررہا ہے اس کی بہن سے محبت میں کررہا ہے … تم لوگ فی الحال ریما کو لے آؤ … پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے … انہون نے کافی سوچ بچار کے بعد کہا تھا ان کو شدید غصہ دانش پہ ا رہا تھا اور پھر بھی اس سب میں ریما کو تکلیف پہنچے تو یہ غلط ہے کیونکہ وہ اس غلطی میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہے …

“مامون وہ رات ہی منع کرچکی ہے وہ اپنا گھر نہیں چھوڑے گی چاہے ریحان اسے مار دے … دانش نے صاف بات بتائی کیونکہ رات ہی اس کی ماں نے سب حالات اسے فون کرکے بتائے تھے …

“اللہ نہ کرے جو ریما کو کچھ ہو … اگر ریما ان کے بدترین رویے برداشت کرنے کو تیار ہے تو ٹھیک ہے میں نادر سے بات کرتا ہوں … میں تو ریما کا خیال کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ فلحال وہ منظر سے ہٹ جائے تو اسانی رہے گی ورنہ فضول میں وہ تمہارے کیئے کی سزا بگھتے گی … انہون نے کہا , ان کے لہجے کا اتار چڑھاؤ ان کی پریشانی کو واضح کر رہا تھا …

“پلیز ماموں اپ کی بات نادر ماموں سنتے ہیں اپ ان کو سمجھانے کی کریں باقی جو سزا دیں گے نادر ماموں میں قبول کر لوں گا باقی نایاب کو چھوڑنے کا نہ کہیں , یہ ممکن نہیں ہے میرے لیئے … دانش پہلی بار میں واضع کردیا کہ نایاب کو چھوڑنے کی بات وہ کسی طرح نہیں مانے گا ….

“دانش ایسا کوئی بھی نہیں کہے گا کیونکہ بیٹیاں سب کی ایک جیسی ہوتیں ہیں , نایاب تمہارے بچون کی ماں ہے پر خاندان کا حصہ کبھی نہیں بنے گی وہ اور نہ کبھی ایسا سوچنا تم … پر تم نے بہت غلط کیا ہے ماہین کے ساتھ , اس کا سوچا ہے تم نے , اس سب میں ماہین کا کیا قصور ہے اور پھر تمہاری اولاد اس کا سوچا ہے تم نے … انہون نے بری طرح لتاڑا دانش کو …

“ماموں مجھے ایک موقع دے میں ماہین کو سمجھا لوں گا … اسے سبنبھال لوں گا , میری انے والی اولاد کا مجھے احساس ہے , پر شاید ماہین کو نہیں ہے شاید … پلیز ماموں … دانش نے منت سماجت کی زندگی میں پہلی دفعہ , بہت ہی مشکل سے وہ ضبط کررہا تھا یہ سب کہتے ہوئے , ماہین نے اچھا خاصا ذلیل کرکے رکھ دیا تھا …

“میں فلحال کچھ نہیں کہہ سکتا نادر سے بات کروں پہلے کہ وہ کیا سوچ کر بیٹھے ہیں … انہون نے اتنا کہے کر کال کٹ کردی اور گہری سوچ میں کھوگئے کہ کس طرح چھوٹے بھائی کو سمجھائیں …

@@@@@@@@

دن کے تماشے کے بعد , پھر خاموشی ہی رہی گھر میں … ماہین چپ ہی رہی کیونکہ اس کی ہمت نہ ہوئی بڑے بھائی سے کیا بات کرے کن لفظوں میں تسلی دے ان کو … سعدیہ نے اسے آرام کا کہا تو وہ اپنے کمرے میں اگئی دن کے بعد … وہ نیند کرکے اٹھی تو سعدیہ بیگم اس کے پاس ہی بیٹھی تھیں …

“امی کیا ہوا سوئی نہیں آپ … وہ انگڑائی لے کر اٹھی … اس کے بھرے بھرے وجود کو دیکھ کر دل میں ہوک سی اٹھی ان کے … ماں تھیں کیسے نہ فکر ہوتی اپنی بیٹی اور اس کے انے والے اولاد کی جس کو باپ کا پہلا لمس نہ نصیب ہو شاید … ابھی تو خوش ہوئے تھے کہ ماہین اہنے گھر خوش ہے اور ابھی یہ سب ہوگیا , اتنا کم عرصہ ہونگی بیٹی کی خوشیان تو کبھی اپنوں میں نہ دیتیں اپنی بیٹی … کتنا دل سے عمر اور علیزے نے مانگا تھا رشتہ ماہین کا عاطف کے لیئے پر وہ شوہر کی خوشی کے لیے انکار کر گئیں اج شدت سے افسوس ہوا تب زور دے کر دیتے بیٹی اپنے بھائی کے گھر تو کم از کم یہ نہ ہوتا … حقیقت میں ان کا دل کبھی مطمئن ہی نہیں ہوا تھا دانش کے لیے اتنا عمر کا فرق ان کو شدت سے کھٹکتا تھا , بس نادر آفندی کو راضی کرلیا بھائی بہنوں نے اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہ کر پائیں ..

“بیٹا نیند ہی نہیں ارہی تھی , ابھی نماز پڑھ کے بیٹھی ہوں … سعدیہ آفندی نے کہا …

“تو ٹھیک ہے امی میں نماز پڑھ کے اتی ہوں تب تک اپ ملازمہ سے کہیں چائے لے کر ا جائے پھر ہم بیٹھ کر چائے پیتے ہیں … ماہین نے جلدی سے کہا اور واشروم کی طرف چلی گئی …

کچھ دیر بعد وہ نماز پڑھ کر ان کے پاس آگئیں تو وہ چائے لے کر بیٹھی تھیں ….

سعدیہ بیگم چند گھونٹ پی کر بولیں …

“تم پریشان نہ ہو ماہین , تمہارے مان باپ تمہارے ساتھ ہیں , اس وقت تمہاری صحت ضروری ہے اس لیئے کسی قسم کی ٹیشن تم نہ لو …

“مجھے کوئی ٹینشن نہیں , ایک بات صاف ہے وہان سے نکلتے وقت میں فیصلہ لے چکی ہوں مجھے نہیں رہنا دانش کے ساتھ , مجھے ڈائیورس چاہیئے دانش سے … آپ فکر نہ کریں , میری صحت کو کچھ نہیں ہوگا , بس آپ مجھے سمجھنے کی کوشش کریں امی اور بابا کو بھی بتادیں میرا فیصلہ … وہ سکون سے چائے کے سپ لیتی ہوئی ساتھ ساتھ بول رہی تھی …

” ماہین اتنا بڑا فیصلہ تم نے خود ہی لے لیا بغیر ہم سے کوئی رائے مشورہ لیئے … وہ حیرت میں اگئیں کہ یہ ان کی وہی بیٹی ہے جو کبھی کوئی بات اپنی مرضی سے نہیں کہتی ہمیشہ سوچ سمجھ کر مشورہ کر کے بولتی ہے اج اتنا بڑا فیصلہ اکیلے ہی کر گئی …

“امی , میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے … آپ بابا کو بتادیں …. ماہین نے سکون سے خالی کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے کہا …

“ماہین اپنی حالت دیکھو اور یہ فیصلے , مجھے کچھ نہیں سمجھ میں ا رہا اپنے بابا کو خود بتاؤ جب فیصلے بھی خود کر سکتی ہو تو بتا بھی خود سکتی ہو … سعدیہ بیگم دکھ اور تاسف سے بولیں پر آخری لفظون میں سختی سے بولیں تھیں…

ماہین حیرت سے اپنی ماں کو جاتا دیکھتی رہ گئی …

@@@@@@@@@

کل عمر نے روانہ ہوجانا تھا لاہور , رات کے کھانے کی ٹیبل پر سب تھے سوائے ریما کے , جسے ریحان نے صاف لفظوں میں منع کر دیا تھا کہ اسے کسی کے بھی سامنے انے کی ضرورت نہیں ہے …

کچھ دیر بعد اچانک نادر افندی بولے “ریما کہاں ہے ..

جس پر ریحان نے سکون سے نوالہ منہ میں لے لیا اور بولا “میں نے اسے منع کر دیا ہے یہاں پر ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانے سے … کیونکہ اسے دیکھ کر ہم سب کو اپنے خسارے کا احساس ہوگا , ماہین کو بھی تکلیف ہوگی اسے دیکھ کر … جو کچھ اس کے خاندان نے کیا ہے وہ بھولنے کے قابل نہیں ہے بابا …

سب حیرت سے اس کو سن رہے تھے جس کا اواز ہر احساس سے عاری تھا ریما کے لیے …

” ریحان کیا بکواس کر رہے ہو تم … ریما پہلے تمہاری بیوی ہے اور بعد میں دانش کی بہن … تمہارے بچوں کی ماں ہے تھوڑا تو لحاظ کر لو بچوں پر کیا اثر پڑے گا اس سب کا … نادر آفندی غصے سے بولے … عمر نے شدت سے محسوس کیا کہ گھر کے حالات واقعی خراب ہوتے جا رہے ہیں اگر ریحان کا یہی رویہ رہا تو پھر بہت مشکل ہو جانی ہے , کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ ریما کو دانش کے کیئے کی سزا ملے پر ریحان کا رویہ دیکھ کر صاف اندازہ ہو رہا تھا حالات سنبھلنے کی بجائے بگڑنے کے اثار نظر ارہے تھے …

” جاؤ جا کر اسے لے اؤ دن کو بھی اس نے شاید کھانا نہیں کھایا … نادر آفندی نے کہا ریحان سے …

ماہین خاموشی سے اپنی پلیٹ کو گھورتی رہی … ریحان سرے سے اپنے باپ کو اگنور کرتا ہوا ماہین سے بولا “تم کیوں نہیں کھانا کھا رہی اور اسے نوالہ بنا کر اپنے ہاتھ سے کھلانے لگا …

وہ نوالے کے لیے منہ کھولنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھام ہی گئی اور ریحان اسے حیرت سے دیکھنے لگا “پلیز بھائی میرے لیے اپنا گھر مت خراب کریں … وہ ملتجی نظرون سے دیکھتے ہوئے بولی تھی …

“پلیز بھائی جائیں ان کو لے آئیں ٹیبل پر … ماہین نے کہا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اسے لے آیا … ریما بہتی آنکھون سے چند نوالے ہی کھاسکی اور خود ہی اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد کسی نے اسے نہ بلایا اور نہ روکا …

عمر شدت سے محسوس کررہا کہ واقعی جتنا آسان لگ رہا تھا اتنا آسان نہیں ہے … جانے حالات کیا رخ اختیار کرجائیں ….

@@@@@@@@@

رات کے بارہ بجے عمر اور نادر آفندی ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے تھے دونوں کے ہاتھ میں قہوہ تھا … یہ ان کی روٹین تھی رات کے کھانے کے گھنٹے دو گھنٹے بعد قہوہ ضرور پیتے تھے …

ریحان کو علی کے کمرے میں جاتا دیکھ کر نادر آفندی نے کہا “تم اس وقت علی کے کمرے میں کیا کرنے جارہے ہو …

“بابا تکیہ لے کر کیا کرنے جاتے ہیں … ریحان نے تکیہ ان کو دکھایا جو بغل میں تھا …

“سونے جارہا ہوں گڈ نائیٹ … ریحان نے کہا اور بغیر ان کی سنے علی کے کمرے میں گھس کر دروازہ لوک کرگیا …

دوسری طرف ریما روتے ہوئے ایک ایک لفظ اپنی مان کو سنا رہی تھی …

“پلیز امی , دانش بھائی کو کہیں لے جائے اس ماہین کو ورنہ جتنا ریحان دیکھے گا اسے , اتنی تکلیف دے گا مجھے … اگر مامون نہ روکتے ریحان کو تو اب تک مجھے گھر سے دھکے دے کر نکال دیتا … پلیز دانش بھائی کو کہیں … شائستہ بیگم کی آنکھین نم ہوئیں اپنی بیٹی کی یہ حالت سن کر …

“ریما تم آجاؤ یہان , رونے کی ضرورت نہیں , میری بیٹی اور اس کی اولاد بوجھ نہیں مجھ پر … طاہر آفندی نے شائستہ سے موبائیل کھینچ کر ریما سے بولے تھے …

“نہیں بابا یہ ممکن نہیں میرے لیئے , میں نہیں آؤن گی … وہ دو ٹوک بولی …

“جو حالات ہیں ریما کچھ بھی ہوسکتا ہے بیٹا … طاہر آفندی نے فکر سے کہا …

“نہیں بابا صرف ریحان کا رویہ خراب ہے , باقی مامون اور مامی نے کچھ نہیں کہا مجھ سے … آپ فکر نہ کریں … ریما نے تسلی دی باپ کو ورنہ کوئی بھروسہ نہ تھا وہ ضد میں اجاتے تو پھر ایک نہ سنتے کسی کی بھی …

اتنے میں ریما کا چھوٹا بیٹا رویا تو اسے فون رکھنا ہی پڑا …

بچے کے ساتھ وہ بےآواز رونے لگی تھی … محبت کرنے والے شوہر کی بےاعنتائی کہاں برداش ہوتی ہے کسی عورت سے …

@@@@@@@@@@

نادر آفندی اپنا سر تھامے بیٹھے تھے ریحان کی حرکت کے بعد تو عمر نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا …

“سب ٹھیک ہوجائے گا نادر بھائی … تھوڑا وقت ضرور لگے گا , فکر نہ کریں …پلیز ریلیکس ہوجائیں , اس طرح سر پر ہاتھ رکھنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے …

عمر کے لہجے میں اس قدر نرمی شائستگی تھی کہ ان کو اپنے کھینچے ہوئے اعصاب کچھ نرم پڑتے ہوئے محسوس ہوئے تھے ….

کچھ لمحوں بعد وہ سنبھل کر بولے …

“عمر میں شدید پریشان ہوں بیٹی کا سوچوں یا بیٹے کا گھر خراب کروں , ہر صورت میں خسارا تو میرے حصے میں آئے گا , بیٹے اور بیٹی دونوں کا گھر کیسے خراب کردوں … دانش نے یہ سب کیا تھا تو کم ازکم ہمیں بتادیتا تب اتنی بات نہ بگڑتی , اب ماہین کی یہ حالت مجھے پریشان کررہی ہے … نادر آفندی اپنا ماتھا مسلنے لگے یہ کہتے ہوئے … عمر بھی ایک باپ تھا اس لیئے فکر سے بولا …

“نادر بھائی , کوئی جلد بازی نہ کریں ,کچھ دن گزرنے دیں , اپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی … بس ایک بات کا خیال کریں کہ اپنی بیٹی کی رضا ضرور معلوم کریں کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے … کیونکہ زندگی تو ماہین نے گزارنی ہے اس لیے فیصلہ بھی اس کا ہونا چاہیے کہ کیا کرنا چاہیے … عمر نے سھولت سے سمجھایا …

“ہاں بلکل , آخری فیصلہ میری ماہین کا ہوگا …

جاری ہے …