Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

ناول … میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 22

شائستہ بیگم شاک ہی رہ گئیں نور کے اس انداز پر … نور کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر کا کھول پن ابھی کم نہیں ہوا تھا …

“بیٹا ایسی باتیں یوں نہیں کرتے … شمائلہ بیگم نرمی سے بولیں وہ تماشہ دیکھنے والوں میں سے نہیں تھیں وہ تو اپنی سہیلی کی بہو کے لیے اچھا چاہ رہیں تھیں تبھی اس طرح بولی تھیں وہ شدید شرمندگی سے دو چار ہو رہی تھیں کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی ایسا کوئی تماشہ ہو اور اپنی بیسٹ فرینڈ کے گھر کا کوئی تماشہ کب چاہتا ہے کوئی …

“اچھا , پر آنٹی ایسا بھی ہوتا ہے … نور نے طنزیہ کہا اور وہاں سے ہٹ گئی …

شمائلہ بیگم تو چپ تھیں پر ان کی بہو نے بات ہی پھیلا دی پوری طرح سے …

@@@@@@@@

مہمانوں کے جانے کے بعد وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے کے روبرو بیٹھیں تھیں …. نادر آفندی اور سعدیہ بیگم اپنی فیملی کے ساتھ ملک ہاؤس چلے گئے کیونکہ ان کو کسی کے تماشے میں دلچسپی نہ تھی , ریما سے ریحان نے پوچھا کہ “وہ یہان ٹھرنا چاہیے تو رہ سکتی ہے پر ریما خود بوکھلا گئی تھی نور کی یہ حرکت دیکھ کر , وہ نور کی بہت اچھی سہیلی ہوا کرتی تھی کبھی پر بھابھی نند کے رشتے کے بعد کچھ دوریان آجانا معمولی بات تھی …. اس لیے اسے بہتر لگا کہ وہ اپنے سسرال کے ساتھ ہی ریحان کے مامون کے گھر چلی جائے … یوں نادر افندی اور سعدیہ یہیں ٹھیر جاتے پر جو کچھ ہوا اج وہ سوچ کر ان کو مناسب یہی لگا کہ وہ یہاں سے چلے جائیں …

دونوں بہنوں کے چہروں پر اپنی اپنی جگہ پر شرمندگی تھی …

اس خاموشی کو شائستہ بیگم کی اواز نے توڑا تھا …

“شاہدہ … میری بہن , تمہارے لیئے اپنے بیٹے کی خوشیان داؤ پر لگادیں , اس کا یہ صلہ دیا ہے تمہاری بیٹی نے … شائستہ بیگم نے اپنی چھوٹی بہن شاہدہ سے کہا دکھی لہجے میں , خود پر ضبط کے کڑے پہرے بٹھا کر بولیں تھیں اس لمحے …

“آپی … میری بیٹی معافی مانگے گی … آپ سب سے … میری بیٹی سے غلطی سے یہ سب ہو گیا آپ دل خراب نہ کریں خدارا پلیز … شاہدہ نے ان کے ہاتھ تھام کر دل سے کہا پر وہ اپنے ہاتھ نرمی سے چھڑا گئیں , حقیقت میں شاہدہ بیگم شرمندہ تھیں , ان کو امید نہ تھی ان کی بیٹی یہ سب کرے گی …

شائستہ بیگم دور کسی نقطے پر نظر جماکر بولیں …

“میں کیا کسی کو معاف کروں یا کسی سے دل خراب کروں میں تو خود ایک گنہگار ہوں …. ہاں میں گنہگار ہوں , میرے بیٹے کی میں گنہیگار ہوں , تم لوگ نہیں , اس کی خوشیوں کے قاتل بھی میں ہی ہوں … بھانجی کی محبت میں اپنے بیٹے کی محبت قربان کرنے والی بے وقوف ماں ہوں میں , میں نے غلط کیا ہے … نور سے کیا شکوہ کروں یا اپنی بہن سے … سوچ رہی ہوں اپنے بیٹے سے کس طرح انکھ ملاؤں گی جس سے اتنی غلط بیانی سے میں نے کام لیا تھا کبھی ….

ان کو رہ رہ کر اپنی کی گئی زیادتی یاد ا رہی تھی جو وہ خود اپنے بیٹے کے ساتھ کر چکی تھیں … مائیں تو اپنی اولاد کی خوشی کے لیے کسی کے بھی قدموں میں ڈھیر ہو جاتی ہیں یہ کیسی ماں تھی جو اپنے ہی بیٹے کی پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ کر لیں گئیں … اج ان کو اپنی کی گئی سب زیادتیاں یاد ا رہی تھیں … یوں بھی طاہر افندی کو ذیشان کی کوئی بات پسند ہی نہیں اتی تھی اسی لیے وہ دونوں باپ بیٹے ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے رہتے تھے اس کی بنسبت دانش اور تیمور اپنے باپ کے نزدیک تھے , جس میں دانش تو کا انتہا سے زیادہ لاڈلا تھا … ذیشان تو صرف اپنی ماں کے نزدیک تھا اور وہ ماں تھی ہر بات سے واقف تھی کس قدر وہ ماہین سے محبت کرتا تھا …

“اپ بھی پلیز ایسے نہ کہیں اپ نے جتنا کچھ کیا ہے میرے لیے اتنا کوئی بہن کسی کے لیے نہیں کرتی … اپ واقعی میری ماں کی طرح مجھے پیار کرتی رہیں …. میرے لیے سوچا میری خوشیوں کے لیے سوچا میری بیٹی کے لیے سوچا ایسے نہیں کہیں اپی خدارا ایسے نہیں کہے میں تو دل سے اپ کو دعائیں دیتی ہوں اپ نے میری اکلوتی بیٹی کی خوشیوں کو اتنی ویلیو دی کہ اپنے بیٹے کی خوشی کے بجائے بھانجی کا خیال کیا ….

“جو ماں اپنے بیٹے کی نہیں ہو سکی وہ کسی کی بھی نہیں ہو سکتی … اج یہ وقت نے ثابت کر دیا ہے … نور نے جو کہا وہ تھپڑ صرف میرے بیٹے کو ہی نہیں میرے منہ پر بھی یہ تماچہ مارا ہے اس نے … اج واقعی میں نور نے میری انکھیں کھول دی ورنہ میں ہمیشہ بھانجی کو ہی اوپر رکھتی اور بیٹے کو نیچے … میں نے بہن اور بھانجی کی محبت میں اپنے بیٹے کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی ہے … کاش اس وقت میں نے یہ سب کچھ نہ کیا ہوتا کتنا شانی نے مجھے کہا تھا ماہین کے لیے میں نے جھوٹ بولا اپنے بھائی سے اور اس سے شانی اور نور کی بات پکی ہوچکی ہے کا کہے کر ماہین کا ہاتھ دانش کے لیئے مانگا اپنے شوہر کے کہنے پر ….

عجیب سی درد کی لہر ان کے اندر جاگی تھی اور بہن کا غم بھی محسوس کیا شاہدہ نے …

“کاش نور ایک دفعہ تو مجھ سے تو بات کر لیتی یہ سب کرنے سے پہلے تو کم سے کم تمہیں یاد دلاتی کہ تمہاری خالا نے کیا کچھ کیا ہے ہمارے لیے … میں ماں تھی مجھے اپنی پریشانیاں بتاتی ہیں یوں ان کا تماشہ نہ لگاتی … وہ دل ہی دل میں اپنی بیٹی نور سے مخاطب ہوئیں …

“آپی , اپ ایسے نہ کہیں … مجھے یاد ہیں اپ کیئے گئے سارے احسانات کس کس وقت اپ نے میرا ساتھ دیا میں احسان فراموش نہیں ہوں اپنی بہن کا ایک بھی احسان نہیں بھولی … شاہدہ نے دل سے یہ لفظ کہے تھے … شاہدہ بیگم اپنی بیٹی کی ساری چالاکیوں سے واقف تھیں …

“شاہدہ تم سے شکوہ نہیں ہے شکایت تو مجھے اپنے اپ سے ہے … میرے شانی کے صبر کا یہ صلہ دیا ہے تمہاری بیٹی نے … شائستہ بیگم کی آنکھین نم تھیں , کتنا ضبط کرتیں آنسو بہے نکلے …

“آپی مجھے معاف کریں … پلیز میری بیٹی کے لیئے اتنا دل نہ خراب کریں … شاہدہ بیگم نے کہا …

“ایک دفعہ نور مجھے ساس نہ سہی خالا سمجھ کر تو بتاتی میں شانی سے بات کرتی … پر نہیں شاید تمہاری بیٹی ہمیشہ سے اپنی منمانیاں کرتی ائی ہے جب تمہارا دل چاہا تم اپنی بیٹی کو پانچ چھ مہینے اپنے پاس لے گئی ہم نے سوال نہیں کیا پھر چند دن ا کر پھر تمہاری بیٹی چلی گئی میں نے کبھی سوال نہیں کیا کہ تمہاری تنہائی کا سوچ کر میرے بیٹے نے صبر کیا … تمہارے سامنے ہے کیا کبھی ماہین کو تم نے اس طرح کراچی جاتے ہوئے دیکھا ہے اس نے کراچی صرف شادی کے بعد ایک دفعہ ہی پیر رکھا ہے وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ ہوکر اگئی … جو کہتے ہیں وہ مان جاتی ہے کسی بات پہ اعتراض نہیں کرتی … وہ بھی نور کی طرح ہماری اپنی ہے پر کتنا فرق ہے ان دونوں میں … ہمیشہ طاہر صاحب سعدیہ بھابھی پر انگلی اٹھاتے آئے ہیں پر یقین مانو نادر اور سعدیہ کی پرورش لاجواب ہے پھر چاہے ماہین کو دیکھو یا طیبہ کو دونوں اپنے گھروں میں خوش رہتی ہیں … شائستہ نے پہلی دفعہ اعتراف کیا کھل کے …. شاہدہ بیگم ندامت سے سر جھکا گئیں …

@@@@@@@@@

“تمہاری بیوی نے کمال کردیا ذیشان … اس طرح کمرے کی باتیں باہر کرنا کہاں کی عقلمندی ہے … دانش نے شانی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا , جیسے اسے سمجھانا چاہ رہا ہو کہ بیوی کو کیسے رکھا جاتا ہے , کچھ تمسخر سی ہنسی بھی آئی تھی ہونٹوں پر جسے کمال مہارت سے وہ چھپا گیا کیونکہ حقیقت میں اسے ہنسی ہی آئی تھی سوچ کر کہ اس کا بھائی اپنی بیوی پر قابو نہیں پاسکتا تھا…

“بھائی کچھ غلط تو نہیں کہتی ہوگی میری بیوی … بیوی سے بہتر یہ سب باتیں کون بتا سکتا ہے اپنے شوہر کے مطلق … جتنا سکون سے ذیشان نے کہا تھا دانش تصور بھی نہیں کرسکتا تھا اب بھی اس کا چھوٹا بھائی اتنا پرسکون کیسے ہے …

ذیشان کے ہر انداز میں بے نیازی سی تھی اور اپنے باپ اور بھائی کو ہکا بکا چھوڑ دیا اپنی کہی بات سے , جو اس وقت اسی کے متعلق بات کر رہے تھے… جو بکواس نور نے کی تھی محفل میں وہ پوری طرح پورے خاندان میں پھیل چکی تھی عزت دار لوگ تو نظریں چرا گئے وہ کچھ ڈھیٹ لوگ ضرور اس بات کو اچھالیں گے بھی اور اچھال رہے تھے …

“شرم نہیں آتی ایسی بات اپنے باپ بھائی کے سامنے کرتے ہوئے … طاہر آفندی نے کہا کیونکہ ان کو اپنے بیٹے کی کہی بات سے شدید تکلیف ہوئی تھی …

“جب میری بیوی کو شرم و لحاظ نہیں ایا تو اب مجھے کہاں سے ائے گا وہ عورت ہو کر شرم کے سارے پردے گرا گئی تو پھر مردوں سے شرم کی کسی کو امید نہیں لگانی چاہیئے … ذیشان کا لہجہ اب بھی نارمل تھا یہ سب کہتے ہوئے بھی اسے ذرا سا بھی تیش نہ ایا تھا … دانش اس کے سیلف کنٹرول سے کافی متاثر ہوا …

“تم انتہائی بدلحاظ ہو …. باپ نے بیٹے سے کہا …

“ہممممم اور کچھ یا اب جاؤں …. ذیشان نے پوچھا …

“جا سکتے ہو تم …. طاہر آفندی نے دانت پیس کر کہا اور وہ وہاں سے چلا گیا , دانش تو دیکھتا ہی رہ گیا اپنے بھائی کو جاتا ہوا …

“دیکھ رہے ہو اس کی حالت کہیں سے میرا بیٹا نہیں لگتا مجھے , میری اولاد اور ایسی یقین نہیں آتا , وہ لڑکی اسے نامرد بول رہی ہے یہ پھر بھی اسے سہی کہے رہا ہے … طاہر آفندی غصے سے کھول رہے تھے اور دانش کو سنا رہے تھے جو غصہ انہیں شانی پر ارہا تھا …

“یقین کرلیں پاپا , یہ بھی آپ کا ہی بیٹا ہے کیونکہ اس دن ہسپتال میں یہ ایک ہی پیدا ہوا تھا , امی تو یہی بتاتی آئیں ہیں جب بھی ایسا کچھ اپ ذیشان کے لیے بولتے ہیں … دانش نے ان کی ساری باتیں اگنور کر کے ایک ہی بات پکڑ کر اس کی صفائی دی اور دانش کا انداز مزاحیہ ہی تھا …

“دانش حد ہے اس وقت تم مذاق کررہے ہو , یہاں میری حالت تو دیکھو , اس صاحبزادے کا کیا ہے , کہیں ادھر ادھر بیٹھا ہوگا … ہمیں تو دنیا میں خاندان میں اٹھنا بیٹھنا ہے نا سوال تو لوگ مجھ سے ہی کریں گے نا … طاہر آفندی کے ہر انداز میں غصہ تھا ….

دانش پر سوچ انداز میں سامنے دیکھ رہا تھا تو اس کا باپ بولا فکرمندی سے … ” کیا واقعی تمہیں بھی ایسا لگتا ہے کہ جو اس کی بیوی بول رہی ہے وہی سچ ہے …

“نو ڈیڈ , مجھے ایسا کچھ نہیں لگتا … پر ذیشان کی خاموشی پر مجھے حیرت ہے , کسی بات پر اسے غصہ اور تیش نہیں اتا … آپ ریلیکس رہیں … اللہ بہتر کرے گا … آپ آرام کریں , میں بھی چلتا ہوں کل مجھے اسلام آباد نکلنا ہے رات کو … دانش نے کہا تو اس کا باپ جلدی سے بولا … ” دانش تم تو ہمیں اس طرح چھوڑ کر مت جاؤ ابھی حالات دیکھ تو رہے ہو تم … وہ فکر اور پریشانی سے بولے تھے …

” کچھ نہیں ہوتا ڈیڈ , میں اس ویک اینڈ آ جاؤں گا … منڈے کو میری ضروری میٹنگ ہے مجھے ٹائم پر پہنچنا ہے … دانش اتنا کہے کر اٹھ کھڑا ہوا اور طاہر افندی اسے کچھ بھی نہ کہہ سکے ….

@@@@@@@@@

نور کمرے میں آج بھی سج سنور کر بیٹھی تھی .. وہ شیشے میں اپنا خوبصورت وجود دیکھ کر مسکرائی تھی … کیونکہ اس نے کہیں پڑھا تھا مرد اپنی مردانگی پر ذرہ سا وار بھی برداش نہیں کرسکتا … نور کو جب کچھ نہ سمجھ آیا تو اس نے یہی آخری طریقہ سمجھا شانی کو اس کی غلطی کے احساس دلانے کا … بغیر اگے پیچھے کا سوچے کہ اس کے , اس طریقے کا , ان کے رشتے پر کیا اثر پڑے گا … ہمیشہ یک طرفہ ہی سوچتی ائی تھی اج بھی اس نے یک طرفہ ہی سوچ کر یہ سب کچھ کیا تھا … اپنے کیے پر وہ ذرا بھی پشیمان نہ تھی …

“شانی اب خود تم میرے پاس آؤگے اور اب تو ثابت کرنا لازم ہوگیا کہ تم میں کوئی کمی نہیں … وہ من ہی من مسکرائی اپنی چالاکی پر … شاہدہ بیگم اس سے خفا ہوتی رہیں پر ان کو کچھ کہے بغیر وہ خاموشی سے سب سن کر اٹھ آئی ان کے پاس سے اور اپنے کمرے میں اگئی تھی , کسی کی ہمت نہ ہوئی اس سے کچھ کہے سکے , ہر کوئی اپنی جگہ چور سا بن گیا … سب سے زیادہ افسوس تو دعا کے حصے میں ایا تھا جو یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کاش وہی سب کچھ نہ رکھتی اور نہ یہ سب کچھ ہوتا …

نور کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا اور کچھ ہی دیر میں شانی روم میں اگیا …

آج بھی اسی خاموشی سے اپنی واچ اتار کر کوٹ اتار گیا … پھر اپنا نائیٹ ڈریس لے کر واشروم میں چلا گیا … دیکھنے سے بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اسے کوئی پریشانی ہے اس کے ماتھے پر کوئی شکن نہ تھی …

“اتنا پرسکون کیسے رہ سکتا ہے یہ شخص اتنا سب ہونے کے بعد بھی … اتنا پرسکون اور مطمئن کیسے ہے یہ شخص …مرد ہر معاملے میں کمپرومائز کرتا ہے پر اپنی مردانگی کے معاملے میں کبھی نہیں کرتا یہ کیسا مرد ہے … نور نے دل ہی دل میں سوچا …

تب تک وہ کپڑے بدل کر اگیا جب تک وہ خیالون میں اس کو کوس رہی تھی …. وہ سکون سے جاکر صوفے پر لیٹ گیا … آنکھین موند گیا وہ …

اسی وقت نور کو شدید غصہ آیا اور وہ اس کے سر پر جا کھڑی ہوئی اور بولی …

“کیسے شخص ہو اب بھی مجھ سے بازپرس نہیں کروگے جو میں نے کہا , کیوں کہا … اپنی بے چینی چھپائی نہ سکی ہو خود ہی جا کر اس کے روبرو ہو کر پوچھ بیٹھی , وہ جذباتی تھی اور جلد بازی اس کی طبیعت کا حصہ تھی … نور سدا سے بے صبری تھی اس لیے اس معاملے میں بھی بے صبری , جلد بازی اور اپنا جذباتی پن بھرپور دکھا رہی تھی …

“نہیں , مجھے اس کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی … وہ سکون سے بولا تھا , اس کے چہرے کا اطمینان قابلِ تعریف تھا …

“کیون … وہ غصے سے بولی …

“کیونکہ تم نے مجھے سب مشکل سے بچالیا اب کوئی مجھ سے سوال نہیں کرے گا …. میرے حصے کے سب جواب تم دے چکی ہو اب سارے الزامون سے بری الزام ہوچکا ہوں … تمہارے لگائے سب الزام میں نے اپنے دامن پر لے لیئے ہیں نور اس سے زیادہ میں کیا کروں تمہارے لیئے … شانی پرسکون ہوکر بولا …

“کیوں لیئے خود پر … کہو سب کو کہ ہاں میں جھوٹی ہوں میں نے جھوٹ بولا ہے سب سے … بولتے کیوں نہیں , کہتے کیوں نہیں … وہ غصے سے بے بسی سے بولی … جتنا سوچتی اتنا وہ الگ تھا اس کی سوچون سے …

“میں نے تمہیں اپنے کسی گناھ کی سزا سمجھ کر قبول کرلیا ہے نور , اور میں اپنی اخری سانس تک یہ سزا برداشت کروں گا کیونکہ تمہیں میرے سر پر کسی اور نے نہیں میری ماں نے مسلط کیا ہے , وہی ماں جس سے میں دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرتا تھا اور سب سے زیادہ جن پر اعتبار کرتا تھا … شانی نے سکون سے کہا …

وہ اپنی مان کا دیا زخم بھی پی گیا , دنیا میں کوئی بھی ا کر اسے بتاتا کہ اس کی ماں نے ہی اس سے اس کا پیار چھینا ہے تو وہ کبھی بھی یقین نہیں کرتا اج ان کے منہ سے اعتراف سن کر ایا تھا اب تو شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی تھی … ماں جیسی ہستی پر اعتبار نہ رہا ,اس سے بڑا درد اس سے بڑا زخم بھی کوئی ہوگا بھلا …

“تم کیا چاہتے ہو میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں علیحدگی اختیار کروں …. صاف کہو تم کہنا کیا چاہتے ہو …. نور چیخ چیخ کر بولی …

“میں کسی سے بھی کچھ بھی کہنے کے قابل رہا ہی نہیں ہوں , جس کی اپنی ماں اس کی دشمن ہو نا اسے کسی اور سے کوئی امید لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہے نور مجھے تم سے کوئی امید نہیں ہے … جو تم چاہو کرو یا کرتی رہو … وہ شانی کے کہے لفظوں پر ساکت ہوئی تھی کیونکہ وہ اچھ طرح سمجھ رہی تھی اس کا اشارہ کس طرف ہے … اس حقیقت سے نور کو کوئی انکار نہ تھا کہ شانی کی ماں نے ہی اپنی بہن اور بھانجی کی خوشیوں پر فوقیت دی تھی اپنے بیٹے کے اوپر …

“شانی کیوں ہو تم اتنے بزدل کیوں ایسے سزا دے رہے ہو مجھے , میں اپنی اگ میں جلتی رہوں … ایسی سزا کیوں دیتے ہو مجھے … مار دو , چھوڑ دو , ایک ہی بار میں میرا فیصلہ کر دو …. نور شدت سے بولی تھی …

“صرف ایک سوال کا مجھے جواب دے دو نور تم لوگوں کو کیا ملا یہ سب کچھ کر کے مجھے زبردستی حاصل کر کے تم بتاؤ تمہیں کیا ملا … تمہیں مجھے حاصل کرنا تھا تم نے حاصل کر لیا , زبردستی سے ہم صرف کسی کا نام ہی حاصل کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں …. ذیشان کے لفظوں نے اس کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا …

“دیکھو کیا ملا ہے مجھے تمہیں حاصل کر کے … خالی ہاتھ , خالی دامن ہوں میں , مجھے کچھ نہیں ملا شانی میں تپتے صحرا میں ہی کھڑی ہوں , خالی دامن خالی ہاتھ لیئے … نور سسکی تھی اپنے خالی ہاتھ اس کے سامنے کرکے …

“پھر ذرہ ایک نظر مجھے دیکھو مجھے اور بتاؤ … میں کیسا لگتا ہوں تمہیں … وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ رہا تھا …

وہ بغیر کچھ کہے اسے تکتی رہی اور دل ہی دل میں اعتراف کیا اور خود سے بولی …

“جہاں سے بھی دیکھتی ہوں تمہیں تم صرف ماہین کے شانی لگتے ہو جو کبھی نور کا نہیں ہو سکتا میں نہیں جانتی کہ تمہاری کیا مجبوریاں ہیں تم مجھے چھوڑ نہیں سکتے پر شانی میں تھک گئی ہوں یہ تنہا سفر کر کر کے تم نہیں چھوڑ سکتے تو کیا ہوا میں تمہیں چھوڑ سکتی ہوں اور میں تمہیں چھوڑ دوں گی … نور اتنا سوچ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور خاموشی سے جاکر بیڈ پر لیٹ گئی … اس نے ذیشان کے سوال کا جواب من ہی من میں دیا تھا پر اس کا یوں اٹھ جانا خاموشی سے شانی کو حیران کر گیا … یہ رات دونوں پر بھاری گزری تھی …

@@@@@@@@@@

ماہین کے لیئے آج کا دن جتنی خوشی سے آغاز ہوا تھا اس کا اختام اتنا ہی بدترین ہوا … جو کچھ دعوت میں ہوا وہ سوچ کر ہی ماہین کو شدید تکلیف ہوئی , یہ سب اس کی برداش سے باہر تھا , شانی کی ذات پر اس طرح کا الزام اسے بھی تکلیف دے رہا تھا … اسے اج بھی شانی کی تکلیف سے تکلیف ہوتی ہے , اس بات کا اعتراف اس نے دل ہی دل میں کیا …

کپڑے بدل کر وہ اپنا سارا زیور اتار کر اپنی جگہ پر رکھ چکی تھی … کافی دیر ٹہلنے کے بعد جب دل کو بالکل سکون نہ ایا تو وہ وضو کر کے جائے نماز پر دو نفل حاجت کے پڑھ کر بیٹھ گئی اور جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کی آنکھون سے آنسو بہے نکلے …

“یا اللہ مجھے معاف کر دینا کسی نامحرم کے لیے دعا مانگنا صحیح ہے یا غلط میں نہیں جانتی … پر میں اتنا جانتی ہوں کہ شانی میرا نامحرم ہے اور پھر بھی میں تجھ سے اس کے لیے اس کی خوشیوں کے لیے دعا مانگتی ہوں کیونکہ میں اس ہستے مسکراتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں جو اس کی طبیت کا حصہ ہے … یا اللہ اسے اس کی خوشیاں لوٹا دو , وہ خوش رہے نور آپی کے ساتھ … اللہ , نور اپی کو بھی ہدایت دیں اور یہ احساس دلائیں کہ میرا ان لوگوں کی زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہے میں اپنی زندگی میں بہت اگے بڑھ چکی ہوں … وہ دونوں آپس میں خوش رہیں …. یا اللہ شانی کو اس مشکل سے نکال دے … کتنی ذہنی تکلیف دی ہے نور آپی نے ان کو … یا اللہ شانی کو کل جہان کی خوشیان عطا کر وہ پہلے کی طرح ہنستے مسکراتے خوشیان بانٹتے نظر آئیں … ان کا ٹوٹا بکھرا وجود مجھے صرف ذہنی اذیت سے دو چار کرتا ہے …. یا اللہ میں تجھ سے صرف اس کی خوشیان اور سکون مانگتی ہوں … یا اللہ مجھے معاف کردینا اگر یہ میری غلطی ہے تو , مجھے اس بات کی خبر نہیں کہ نامحرم کے لیئے دعا کرنا اپنے شوہر سے بےوفائی تو نہیں … پر میں اپنے شوہر سے کوئی بےوفائی کرنے کا تصور بھی نہیں رکھتی اللہ مجھے معاف کردینا … بسس جو کچھ ہوا ہے اس میں تجھ سے ہم سب کے لیئے آسانیان مانگتی ہوں … آمین …

اللہ سے روبرو ہوکر بات کرکے اسے سکون سا مل گیا … کچھ دیر بعد دانش کمرے میں اگیا وہ جاکر اپنی سائیڈ پر لیٹ گئی …

“سونے لگی ہو … دانش نے پوچھا … وہ اس کے نرم لہجے کا مفہوم اس کی ضرورت اچھی طرح سمجھ رہی تھی پر ہونٹ بھینچ کر بولی …

“جی تھک گئی ہوں … لہجے میں کوئی تلخی نہ آنے دی ماہین نے چاہنے کے باوجود بھی … اسے دانش سے بہت ساری شکایتین تھیں کئیں شکوے بھی تھے پر وہ محسوس کر چکی تھی وہ کچھ بھی سننے کا روادار نہ تھا اس لیے اس نے خاموشی کو ہی بہتر سمجھا …

“آج تم اچھی لگ رہی تھی ایونٹ میں … دانش کوٹ اتار کر صوفے پر رکھ گیا اور شرٹ کے اوپری بٹن کھول کر بیڈ پر آیا … اس کے بلکل نزدیک ہوا …

“ہان تقریبً سب نے یہی کہا تھا … ماہین ضبط سے بولی اس کی گرم سانسین اپنی گردن پر محسوس کرچکی تھی …

“پر شوہر کی تعریف اور اس کا انداز الگ ہی ہوتا ہے … اتنا کہے کر وہ اس کا رخ اپنی طرف کرگیا …

وہ کچھ بول ہی نہ سکی وہ اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ اس کے لفظون کو قید کرگیا … اس کے اندر بستے شکوہ اور شکایات جو دانش سے تھیں وہ اس کے اندر ہی رہ گئیں … وہ کم ہی اسے موقعہ دیتا تھا وہ اپنی ان کہی اس سے کہے سکے …

@@@@@@@@@

اگلے دن نور اپنے میکے چلی گئی شائستہ بیگم کو بتاکر جس پر کسی نے اسے کچھ نہ کہا … کچھ بھی تھا جب شانی خاموش تھا تو کسی کی ہمت نہ ہوئی نور سے سوال کرنے کو … رات میں دانش اسلام آباد روانہ ہوا …

گھر میں چپ اور خاموشی کا سمان بندھ گیا … ایک دو دفعہ کچھ رشیدارون نے فون کرکے شائستہ سے باتوں باتوں میں پوچھنے کی کوشش کی ذیشان کے متعلق پر وہ ساری باتیں ٹال گئیں …

پر اصل جھٹکا انہیں جمعہ کے روز لگا جب ذیشان نے کہا کہ اج رات کی فلائٹ سے وہ اسٹریلیا جا رہا ہے …

“شانی ایسے مت کرو , خدا کا واسطہ ہے … میری جان بستی ہے تم میں بیٹا … تم مجھے اسے چھوڑ کے مت جاؤ … شائستہ بیگم روپڑیں …

” شاید پہلے کبھی کسی لمحے اپ یہ کہتیں تو شاید میں بھی تڑپ اٹھتا پر ماں مجھے مجبور مت کریں کہ میں اپ سے کوئی حرفِ شکایت کروں میں اپنے زخموں پر صبر کا مرہم رکھ چکا ہوں … اپ میری ماں ہیں اپ کی عزت مجھ پر لازم ہے جو مجھے تا عمر کرنی ہے … شانی کے ہر اک لفظ کا مطلب وہ اچھی طرح سمجھ گئیں …

” مجھے معاف کر دو میری جان میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ … شائستہ بیگم نے تڑپ کر کہا …

“کوئی بات نہیں , محبت کھونے کے بعد ماں کو کھونے کی ہمت نہیں ہے کیونکہ اپ کے تو قدموں کے نیچے میری جنت ہے اپنی جنت کو چھوڑ کے میں کہاں جا سکتا ہوں بھلا … بس ایک وعدہ کریں کہ کبھی بھی نور پر کوئی بھی الزام اپ لوگ نہیں لگاؤ گے باقی جو اس نے مجھ پر الزام لگایا ہے وہ اپنے دامن میں لے کر ہمیشہ کے لیے جا رہا ہوں … شانی نے درد سے چور لہجے میں کہا …

“پھر نور کا کیا ہوگا شانی …. شائستہ بیگم نے کہا …

” ماں اس کا بھی فیصلہ کر کے جا رہا ہوں اسے ڈئیوارس پیپر مل جائیں گے حق مہر کے ساتھ … شانی کی بات پر وہ اسے دیکھتی رہ گئیں … کیا کہتیں شانی سی کچھ بچا ہی نہ تھا کہنے سننے کو …

جاری ہے …