Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 19

ماہین منظر سے ہٹ چکی تھی … پر ابھی تک نور اور شانی ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے …

“شانی کیوں تمہیں میرا پیار نہیں نظر آتا … نور کے گلے میں خراش پڑگئیں تھیں , جس پر غصہ تھا وہ ہی نہیں تھی تو اب لہجے میں دکھ تھا پر آواز میں وہ شدت نہ رہی تھی ….

“ہاں نہیں آتا کیونکہ تم بدنیت ہو تم گھٹیا اور مکار عورت ہو … شانی کے لہجے میں نفرت تھی …

“گھٹیا میں نہیں گھٹیا ماہی ہے , جو تم دونوں بھائیوں کو اپنی انگلیوں پہ نچا رہی ہے … نفرت کے قابل ہے وہ اور مجھے شدید نفرت ہے اس سے … نور کے لہجے میں بےانتہا نفرت تھی …

“کیا کہا تم نے کہ تمہیں ماہین سے نفرت ہے … تو سنو اس سے نفرت کرنے والا میرا کچھ نہیں ہوسکتا … جو مجھ سے محبت کا دعوا کرے ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ ماہین سے نفرت کرے وہ اس سے نفرت کر ہی نہیں سکتا کیونکہ میرے سارے وجود میں ماہین بستی ہے , میرے خون کی گردش اس کے نام سے ہی ہے , میری ایک ایک دھڑکن اس کے نام کی ہے … محبت کیا ہے تمہیں پتا ہی نہیں اس کے میم سے بھی تم واقف نہیں سمجھی … میں نے کی ہے محبت , ہاں کی ہے محبت بے انتہا کی ہے اور اس کو مقدس جان کر اپنے دل کے تہے خانوں میں چھپا کے رکھ دی , اس دن سے جس دن سے وہ ایک محترم رشتے میں میرے سامنے ائی … میں نے اپنی نظر سے کبھی بد نیتی نہیں کی اسے دیکھ کر , آہیں بھی کبھی نہیں بھری اور اج تم نے مجھے ننگا کردیا اس کے سامنے … تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا نور مجھے ختم کر دیا اج تم نے … سب ختم ہوگیا … وہ دکھ اور درد کی کیفیت میں بول رہا تھا جبکہ نور شاک ہوکر اس کا اعتراف سن رہی تھی کس طرح چپ رہنے والا شخص کتنا کھل کے اعتراف کررہا تھا …

ماہین جو باہر نکلی تھی یہ سوچ کر کہ نور کی زبان کو لگام دے اور اس کو یہ بتائے اس کا شانی سے اب کوئی واسطہ نہیں , اس لیئے اپنے ازدواجی رشتے میں اسے گھسیٹ کر اس کو کیوں بدنام کررہے ہو … پر شانی کے اتنا کھل کے اعتراف پر اس کے کان سائین سائین کرنے لگے آنسو بہنے لگے دل کی رفتار عجیب ہونے لگی … وہ پلٹ گئی ہاں وہ پلٹ گئی واپس شکستہ قدم , شکستہ حال , اتنی کامیابیوں کے باوجود آج ماہین کو لگا وہ اپنا سب کچھ ہار گئی اسے اپنا وجود خالی خالی لگنے لگا … محبت کے غم سے بھی بڑا کوئی غم ہوا بھلا اس سے بڑا بھی کوئی درد ہوا …. محبت کے درد کو وہ چاہ کر بھی کبھی زبان نہیں دے سکے گی … اب کبھی نہیں کہے سکے گی کہ وہ خوشنصیب عورت ہے وہ جب بھی بولے گی تو دنیا کے سب سے بدنصیب لوگون میں اپنا شمار کرے گی …

“تم اسے بددعا دوگی اس کے معصوم بچے کو بددعا دوگی جو آیا ہی نہیں اس دنیا میں , کیا بگاڑا ہے ان لوگون نے تمہارا , تم نے ہی اپنے دل میں ان کے لیے کدورت رکھی ہے ان کا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہے … اس سب کے لیئے جو تم نے کیا ہے … میں تمہیں معاف کردوں گا کبھی نہیں , کبھی نہیں … آج تم میری نظر سے گرچکی ہو اب کوئی لحاظ نہیں کروں گا میں … شانی چیخ کر کہتا ہوا بولا …. نور کے کان سائین سائین کرنے لگے اس کے کہے اتنے شدید لفظوں سے … وہ اس کی کلائی پکڑتا اسے کمرے میں لے گیا … کمرے کے بیچوں بیچ اسے چھوڑ کر الماری سے کچھ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ کے بولا …

“یہ دیکھو میں تمہیں ہنی مون پر لے جانا چاہ رہا تھا ترکی وہین سے اپنی زندگی شروع کرنا چاہتا تھا پر شکر ہے اللہ نے میری آنکھیں کھول دیں , مجھے بچالیا … بیمار ذہن کی عورت سے اپنی نسل چلانے سے بہتر ہے میں تنہا ہی اچھا ہوں , میں تاعمر تنہا رہ لوں گا پر تمہیں کبھی اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناؤں گی , نور میں تمہیں کبھی نہیں بساؤں گا … یاد رکھنا تمہاری کوئی معافی نہیں ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا تم میرے ساتھ ساتھ میری محبت کی بھی مجرم ہو … وہ شدت سے کہتا اسے اپنی نظروں میں گراگیا … زیادہ افسوس تو اسے شانی کی نظروں میں گرنے کا تھا … وہ اپنی بےصبری , حسد اور جلن میں ماری گئی … اپنے لیئے سب سے بڑا خسارا کرگئی …

وہ ٹکٹ دیکھتی شدت سے رودی اسی لمحے وہ اس کے ہاتھ سے ٹکٹس جھپٹ گیا …. اس کی آنکھون میں خون اتر آیا اس کے تاثرات سے وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ وہ کیا کرنے والا ہے …

“پلیز نہیں شانی … وہ بےبسی سے بولی … اس کی آنکھون میں التجا تھی … “نہیں پلیز …. نور بولی اور اسی لمحے وہ کئی ٹکڑوں میں توڑنے کے لیئے ٹکٹ کو سیدھا تھام کر نور کی آنکھون میں اپنی آنکھیں ملا گیا اور وہ دوبارہ بولی …

“نہیں شانی مجھے معاف کردو میں ماہین کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگ لوں گی مجھے معاف کردو خدارا یہ مت کرو , ہم اپنی زندگی شروع کریں …

وہ گڑ گڑا کر بولی پھر بھی وہ ٹکٹس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہوا میں اچھال گیا اور بولا …

“کبھی نہیں … ہر زخم کا مرہم نہیں ہوتا … تم نے مجھے گھر میں سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا جس لڑکی کے سامنے تم نے مجھے یوں رسوا کیا ہے اس سے میرا رشتہ کیا ہے ذرہ یہ تو دیکھتی وہ میرے بھائی کی بیوی ہے اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے … تم نے زندہ رہنے کے قابل نہیں چھوڑا مجھے … مجھے تو ماردیا تم نے نور … مجھے جیتے جی ماردیا تم نے … اس گھر میں رہنے کے قابل نہیں چھوڑا تم نے مجھے … تم نے اس گھر سے میرا ٹھکانہ بھی اٹھا لیا میں نہیں رہ پاؤں گا اب کبھی اس گھر میں … شانی اپنی انکھوں کی نمی پوچھتا ہوا ہونٹ بھینچ کر پلٹ کر چلا گیا وہاں سے .. وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی … صحیح معنوں میں وہ نور کو اج بے زبان کر گیا تھا وہ کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی اپنی جلن اور حسد میں سب تباہ کر دیا اس نے اور کس قدر تباھ کیا ہے یہ وقت اسے بتا ائے گا …

@@@@@@@@@@

“ماموں پلیز مجھے اکر لے جائیں یہاں سے … جب دل کا درد برداش سے باہر ہوا اور اتنا سب سننے کے بعد وہ شاید اب نور اور شانی کا سامنا کرنے کی ہمت خود میں جھٹا نہیں پارہی تھی … شانی کے کسی شدید ریکشن کے بعد نور اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے غصے اور نفرت میں اس ڈر سے … جب ماہین کو کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ عمر ملک اپنے مامون کو کال کرگئی … وہ حیران پریشان ہوئے کیونکہ ماہین نے ڈائریکٹ یہی کہا تھا ….

“کیا ہوا ماہین مجھے بتاؤ تو سہی … عمر نے پوچھا …

“نہیں مامون کچھ نہ پوچھیں بس یہاں آئیں اور لے جائیں مجھے … وہ تڑپ کر بولی … اس لمحے اسے دانش کا بھی خیال نہ آیا …

اس کے لہجے میں رونے کا عنصر واضع تھا , عمر کی سمجھ سے باہر تھا ایسا کیا ہوا … بہتر یہی لگا اسے لے آتا اپنے پاس پھر سکون سے پوچھے …

علیزے بھی بولی “پہلے لے کر آئیں اسے پھر پوچھتے رہیں گے … عمر اور علیزے جو شام کی چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے اب تو ممکن ہی نہ تھا حلق سے ایک گھونٹ بھی چائے اترتی , ماہین کی کال نے دونوں کو ہکا بکا کردیا تھا کیونکہ گھر میں اکثر کالس وہ اسپیکر پر ہی ڈال کر بات کیا کرتا تھا اس لیئے علیزے نے بھی سب سن لیا …

“تم رونہیں میں ارہا ہوں … عمر نے کہا جلدی سے …

“مامون آپ دروازے تک آئیں , اندر انے کی ضرورت نہیں مجھے بس آپ کے ساتھ جانا ہے , پہنچ کر مجھے کال کریں …ماہین سنبھل کر کانپتی آواز میں بولی تھی ….

وہ کال کاٹ گئی … وہ ادھے گھنٹے میں پہنچا اس کی ایک کال پر وہ چادر اوڑھے باہر اگئی … چوکیدار جانتا تھا یہ ماہین بی بی کے مامون ہیں اسلیئے گیٹ کھول گیا اور ماہین نکل آئی اس گھٹن سے جو اس گھر میں اسے محسوس ہورہی تھی …

وہ گاڑی آبیٹھی چپ چاپ راستے پر نظریں گاڑے ہوئے ذہن کہیں دور خلاؤں میں تھا شاید …

“ماہین اس طرح … کیا ہوا ہے … عمر نے فکرمندی سے پوچھا وہ ضبط سے ہونٹ بھینچ گئی …

وہ پوچھتا رہا وہ کچھ نہ بولی بسس آنسو زاروطار بہے رہے تھے … کانوں میں آواز گونجی لگی “جان بستی ہے اس کی تمہارے میں , تمہاری وجہ سے تو یہ مجھے اپنانے میں ہچکچا رہا ہے … تو جاؤ تم دونوں اپس میں جو کرنا ہے کرو … وہ شدت سے روئی اس کی تڑپ پر عمر بھی تڑپ اٹھا …

عمر پوچھ پوچھ کر تھک گیا اس کی زبان سے ایک لفظ نہ نکلا …

گھر پہنچ کر علیزے اسے خود سے لگا گئی …

“ماہین مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے … دانش نے کچھ کہا …

“نہیں وہ نفی میں گردن ہلانے لگی … وہ کیا کہتی کیسے ہمت جمع کرکے کچھ بولتی جو نور نے کہا وہ کہنے یا بتانے کے قابل تھا کیا , نور تو ایسا خنجر گاڑھ گئی اس کے اندر جو نہ دکھاسکتی تھی نہ بتاسکتی تھی , ابھی تو چند دن ہوئے تھے اسے اپنی زندگی میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا اور یہ سب ہوگیا …

“ساس سسر میں سے کسی نے کچھ کہا … پھر پوچھا عمر نے …

وہ نفی میں گردن ہلانے لگی …

“ماہین مجھے بتاؤ … عمر نے کہا پر وہ گھٹ گھٹ کر روتی رہی مسلسل , ان کی فکر حد سے بڑھ گئی اس کے رونے کا انداز معمولی نہ تھا کچھ الگ ہی تھا , کچھ ایسا جو نہ ہضم کرسکے نہ جو بول سکے … عمر کے دماغ نے کام کرنا بند کردیا ماہین کے اس انداز نے …

عمر اس کے پاس بیٹھا اور نرمی سے پوچھا ایک بار پھر “کیا ہوا ماہین … وہ اپنے مامون کے کندھے پر سر رکھ گئی اور گھٹگھٹ رورہی تھی صاف ظاہر تھا اپنے غم کو کہے نہیں پارہی تھی … وہ بولی ہلکی آواز میں …

“سب ختم ہوگیا , کچھ نہیں رہا میرا …. عمر سمجھنے کی کوشش کرنے لگا کہ کیا ہوا ہے اور وہ کہنا کیا چاہتی ہے …

کوئی بیماری نہیں انسان کو مارسکتی … جو فنا کرسکے یہ درد ہی ہے جو انسان کو فنا بھی کرسکتا ہے اسے ڈھاسکتا ہے … پھر اسے تو محبت کا درد لے ڈوبا تھا وہ تب تک پرسکون تھی جب تک اسے یقین تھا اس کا درد یک طرفہ ہے , ہاں , اس کی محبت کا درد یک طرفہ ہی اس نے سمجھا تھا , یہی اسے زندہ رکھنے کو کافی تھا یہ کیسا انکشاف ہوا تھا جو اس کے اندر کی دنیا کو ہی اجاڑ کر رکھ دیا … ہاں اس کا ضبط ٹوٹا تھا آج …

“ماہین میری بات سنو بیٹا …

درد ہی ایسا تھا اسے لے ڈوبا وہ وہین گرگئی کیونکہ ذہن ماؤف ہوگیا اور جو آخری لفظ اس کے ذہن میں گونجا وہ نور کے لفظ تھے ” مرکیوں نہیں جاتی تم .. ہاں … یا تمہارا بچہ مرجائے , خدا کرے تم دونوں مرجاؤ … اور عمر اسے پکارتا رہ گیا … اس کا بےہوش وجود اس کی بازوؤں میں تھا … وہ بلکل ہی ساکت ہوگئے تھے … وہ اس کا چہرہ تھپتھپانے لگے , پانی کے چھینٹے مارے کچھ اثر نہ ہوا … عاطف اس کی کلائی تھام کر چیک کیا جو مدہم چل رہی تھی …

تمہارا غم بھی کسی طفل شیرخار سا ہے
کہ اونگھ جاتا ہوں میں خود اسے سلاتے ہوئے
اگر ملے بھی تو ملتا ہے راہ میں صبا
کہیں سے آتے ہوئے یا کہیں کو جاتے ہوئے

“بابا اٹھین ماہین کو ہسپتال لے چلیں … پھر واقعی عاطف اور عمر مل کر اسے ہسپتال لے گئے … اسے ایڈمٹ کرلیا گیا …

@@@@@@@@

کچھ دیر بعد جب عمر کے حواس بحال ہوئے تو اس نے پہلی فرصت میں دانش کو کال ملائی … عمر نے مختصر لفظوں میں بتایا کہ ماہین ہسپتال میں ایڈمٹ ہے …

دانش کو لگا اس کے پاؤن کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچی ہو …

“مامون پلیز آپ خیال کیجیئے گا … میں بائے کار نکل رہا ہوں اگر فلائیٹ نہ ملی تو … دانش کے لہجے میں بے پناھ فکر تھی …

“دھیان سے آنا , میں ہوں اپنی بیٹی کے پاس تم پریشان نہ ہو … عمر نے اسے تسلی دی …

کچھ دیر بعد دانش نے ذیشان کو کال لگائی … وہ مسلسل کال کررہا تھا اسے کیونکہ وہی تو اسے گھر لے کر گیا تھا … چند گھنٹوں میں یہ کیا اور کیسے ہوا صرف شانی ہی بتاسکتا تھا …

آخرکار پانچوین کال پر وہ فون اٹھاگیا … ناسلام نا دعا اس نے ڈائریکٹ کہا …

“جی بھائی … اس کا لہجہ نڈھال سا تھا وہ خود ہی ٹوٹا تھا خود ہی بکھرا تھا , اب ہمت کرکے کال اٹھائی تھی شانی نے , ڈر بھی تھا جانے کس بات کا حوالہ دے دے , کون سا سوال کردے …

“ذیشان … ماہین کے ساتھ کیا ہوا ہے … دانش کے لہجے میں فکر تھی …

“کیا مطلب بھائی … وہ حیرت سے بولا …

“ماہین کہاں ہے پتا ہے تمہیں … دانش نے پوچھا … ذیشان کی حالت عجیب سی ہوئی جابے کیا کہے … ہمت کرکے شانی بولا …

“گھر پر ہوگی میں ڈراپ کرکے آیا تھا , میں ابھی باہر ہوں … وہ بات بنانے کی فکر کررہا بغیر سوچے کہ دانش کا انداز کس قدر دو ٹوک ہے اور سرد سا بھی …

“ذیشان تم سے یہ امید نہیں تھی میرے بھائی … دانش کے لہجے میں افسوس تھا …

“بھائی وہ تڑ پ کر بولا … “کیا ہوا …

“ماہین ہسپتال میں ہے ایمرجنس میں , یہ گھر کا خیال رکھا ہے تم نے … دانش کے لہجے میں اب کے کرب تھا …

“ماہین ہسپتال میں ہے پر لے کر کون گیا ہے … شانی کو یقین نہ آیا کہ ایسا کچھ بھی ہوسکتا ہے …

“اسی بات کا افسوس ہے ذیشان , کے اسے اپنی تکلیف میں اپنے مامون کو بلانا پڑا , تم کہاں تھے … جاؤ تم ہسپتال پہنچو , میں یہاں سے نکل رہا ہوں ابھی فلائیٹ نہیں مل رہی مجھے , کل رات کی مل رہی ہے , اتنی دیر مناسب نہیں , میں بائے روڈ ہی پہنچتا ہوں پر تم جاکر پہنچو … لوکیشن بھیجتا ہوں ہسپتال کی … دانش نے کہا پر شانی کو لگا وہ گرجائے گا شکر تھا بروقت بینچ پر بیٹھ گیا , شانی کو گہرہ شاک لگا تھا …

“ذیشان …. دانش دوبارہ بولا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا اس سے پہلے شانی نے سنبھل کر کہا …

“جی بھائی , میں ابھی جارہا ہوں … آپ لوکیشن بھیجین بسسس …

دانش نے کال کاٹ کر اسے لوکیشن بھیجی اور اپنی روانگی کا نایاب کو بتانے کے لیئے اندر کی طرف بڑھا …

“اللہ رحم کرے گا سب ٹھیک ہوجائے گا … نایاب نے تسلی دیتے ہوئے کہا …

“بسس دعا کرنا ماہین اور میرے بچے کو کچھ نہ کہو … دانش ضبط سے بولا …

“انشاء اللہ … آمین , کچھ نہیں ہوگا , میں بھی اللہ سے دعا کروں گی , ویسے راستے میں جاتے ہوئے ماہین اور اپنے بچے کی نیت کرکے صدقہ دے دیجیئے گا اپنے ہاتھوں سے , میں یہاں ملازمون کو دے دیتی ہوں صدقہ اپنے ہاتھ سے …. صدقہ سب مصیبتیں دور کرتا ہے دانش … نایاب نے نرمی سے کہے کر اسے تسلی دی …

یوں بائے کار وہ روانہ ہوا اسلام آباد سے لاہور , ڈرائیور لے کر نکلا تھا کیونکہ اتنی زیادہ اس سے ڈرائیوو نہیں ہوتی تھی … راستے میں طاہر صاحب اور نادر آفندی کو بتایا اس نے مختصر الفاظ میں ماہین کی کنڈیشن کا …

@@@@@@@@@

ذیشان ادھے گھنٹے میں پہنچ گیا عمر کے پاس , سلام کے بعد وہ بولا …

“انکل ڈاکٹرس نے کچھ کہا کیا ہوا ہے …. شانی نے پوچھا …

“ابھی تک اندر ہیں … کچھ پتا نہیں اور بتاتے بھی نہیں … عمر نے کہا اور ہاتھ کی مٹھی بناکر ہونٹوں پر رکھ کے کھڑا رہا اپنا غم ضبط کرنے لگا …

شانی کے لیئے جب انتظار جان لیوا لگ رہا تھا اور جب برداش سے باہر ہوا تو جلدی سے باہر نکلا ماہین اور اس کے بچے کا صدقہ دیا کیونکہ اس کے ذہن میں اپنی مامی سعدیہ بیگم کی بات گونجی جو ہمیشہ صدقے کی اہمیت سکھاتی تھیں , سب بچے ان کی سنتے بھی تھے اور وہ پیار سے مذہبی باتیں سمجھایا بھی کرتیں تھیں وہ کئی سالون سے عالما کا کورس کررہی تھیں … صدقہ دے کر دل کچھ مطئمن ہوا تو وضو کرکے ماہین اور اس کے بچے کی سلامتی کے لیئے نفل کی نیت باندھ لی … کتنی دیر وہ بے آواز روتا رہا … مرد تھا ضبط کے باوجود اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے …

“یا اللہ ماہین اور اس کے بچے کو کچھ نہ ہو , میں نہیں جی پاؤں گا اگر ایسا کچھ ہوا … اللہ اسے جلدی سے ہوش اجائے وہ بلکل ٹھیک ہوجائے … اللہ اسے دنیا جہان کی سب خوشیان دیں دانش بھائی کے ساتھ … بسسس وہ اپنی لو میں مانگتا جارہا تھا اس کے لیئے خوشیان بغیر آس پاس کا خیال کیئے …

جب روکر دل ہلکہ ہوا تو اٹھ کھڑا ہوا اپنے پاس ہی عمر ملک کو دیکھ کر وہ حیران ہوا کیونکہ وہ بھی یہاں ماہین کے لیئے دعا کرنے آئے تھے …

وہ جاکر ایمرجنسی کے باہر دوبارہ کھڑا ہوگیا عاطف نے بغور دیکھا اس شخص کا چہرہ … جانے کیوں اسے گمان گزرا یہ بندہ نہ صرف شدید پریشان ہے بلکہ روکر بھی آیا ہے , یہ خیال اتے ہی اسے عجیب لگا کہ مرد بھی کبھی کسی کے لیے روتا ہے بھلا …

کچھ دیر میں عمر ملک بھی اگیا … اسی وقت ڈاکٹر باہر نکلا اور کہا …

“اللہ سے دعا کریں , پیشینٹ کو ہوش اجائے … بے ہوشی کا سلسلہ طویل ہوا تو پریشانی ہوسکتی ہے …

ڈاکٹر کا انداز پروفیشنل سا تھا …

“بٹ ڈاکٹر ہوا کیا ہے ماہین کو … عمر ملک نے جلدی سے پوچھا …

“نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے … ڈاکٹر نے کہا …

ڈاکٹر کے لفظوں نے ذیشان کو نڈھال سا کر دیا , شدید دکھ کے تاثرات تھے سب کے چہرے پر … عمر نے فون کرکے سادہ لفظون میں بتایا نادر آفندی کو … وہ صبح کی فلائیٹ سے ارہے تھے …

طاہر آفندی اور شائستہ بیگم بھی آگئے … پر ہسپتال میں اتنے رش سے منع کیا گیا تو بس عمر اور ذیشان ٹھر گئے صرف …

@@@@@@@@@@

شائستہ بیگم گھر میں رورہی تھیں اور کئی بار نور سے پوچھا “تمہیں پتا ہے کیا ہوا ہے … کیسے ہو گئی اتنی بری حالت ماہین کی …

“مجھے نہیں پتا خالہ , میں خود آرام کررہی تھی … نور جھوٹ بول گئی خود کو بچانے کے لیئے … وہ کیسے بتاتی اتنا بڑا جگھڑا ہوا ہے گھر میں …

اب تو نور کو بھی فکر ہونے لگی تھی ماہین کی …

“اللہ ماہین اور اس کے بچے کو کچھ نہ ہو , ورنہ شانی مجھے ماردے گا …. پلیز اللہ آج بچالے مجھے اور میرے گھر کو پھر کبھی ایسی بےوقوفی نہیں کروں گی …. وہ دل ہی دل میں بولی …

دانش دیر ہی سہی پہنچ گیا وہ ڈاریکٹ ہسپتال گیا … اس نے عمر ملک سے کہا “وہ گھر جائیں اب وہ اگیا ہے , وہ دونوں بھائی ہیں یہاں , پر عمر ملک نہ مانا تو مجبورً شانی کو ہی گھر بھیجنا پڑا دانش کو … یہ فیصلہ دانش کا تھا اس لیئے شانی چلا گیا کیونکہ وہ بڑے بھائی سے زیادہ بحث نہیں کرسکتا تھا پر شانی کو پتا تھا اب اسے تب تک سانس لینے میں دقت ہوگی جب تک ماہین ٹھیک نہیں ہوجاتی …

وہ نڈھال سا گھر کے لیئے نکلا بھائی کو تسلی دیتے ہوئے … ذیشان شکستہ قدم شکستہ حال بے حال اپنا وجود گھسیٹتے ہوئے گھر پہنچا تھا ….

@@@@@@@@@

وہ کمرے میں کپڑے بدلنے کی نیت سے گیا , رات کے تین بج رہے تھے گھر پہنچتے اسے … وہ اپنا ٹراؤزر شرٹ نکال کر چینج کرنے گیا … جیسے واپس آیا سونے کے لیئے صوفے کی طرف جانے لگا , تھکن سے چور وجود تھا اس کا …

اچانک نور کی آواز آئی …

“ماہین کیسی ہے اب …

“اپنی گندی زبان سے اس کا نام بھی مت لو تم … ذیشان غصے سے بولا ….

وہ اس کی طرف بڑھی اور قدمون میں بیٹھ گئی وہ سرے سے اٹھ کھڑا ہوا … تو وہ بھی اس کے روبرو کھڑے ہو کر بولی …

“معاف کر دو شانی مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے , مجھے احساس ہوگیا ہے … ایک موقع مجھے دو پلیز , ائندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا … نور کے لہجے میں اس وقت شیرنی گھلی تھی جبکہ شانی گراتے ہوئے بولا …

“ایک موقع تو دور کی بات میں تمہیں ادھا موقع بھی نہیں دوں گا … اس کا لے جا قطیت لیے ہوئے تھا …

وہ ہمت نہیں ہاری دوبارہ بولی …

“میرا یقین کرو مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے پھر کبھی ایسا نہیں کروں گی … پلیز میرا یقین کرو ایسا پھر کبھی نہیں ہوگا …

اب کے وہ زہر آلود لہجے میں بولا …

“نور تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے کہ تم یہ سب دوبارہ نہیں کروگی … جامتی ہو تم پھر یہی کرو گی , جانتی ہو کیوں , کیونکہ تم چند دن ہی میری صحبت میں خوش رہو گی پھر ذرا سی میرے اندر کمی پائی تو دوبارہ تمہاری نفرت کا شکار صرف ماہین ہی بنے گی بہتر یہی ہے کہ تم یہ حقیقت تسلیم کر لو کہ تم ناگن ہو انسان نہیں ہو کوئی انسانیت نہیں ہے تم میں …

وہ دنگ رہ گئی اس کے کہے لفظوں پر … وہ لفظ ناگن زیر لب بولی … جو وہ اسے خطاب دے چکا تھا … انتہائی درد جاگا اس کے اندر پر وہ برداش کرگئی … وہ دوبارہ بولا …

“تم جیسی ناگن کا سر کچلنا ہی چاہتا ہوں , تم میں ناگن والی خصلتیں تم ڈس کر رہو گی تم بغیر ڈسے رہے ہی نہیں سکتی … وہ یقین سے کہے رہا تھا … وہ آج تک اس کی ہر نادانی اگنور کرتا آیا تھا آج اس کا ضبط جواب دے گیا تھا …

“,مجھے معاف کر دو پلیز مجھے معاف کر دو دوبارہ ایسا نہیں ہوگا … وہ اس کے پاؤن پکڑ گئی پر وہ اپنے پاؤن اس کی گرفت سے چھڑاکر بولا …

“پہچان چکا ہوں یہ بار بار ہوگا اور ہمیشہ ہوتا رہے گا تم کبھی بھی ماہین اور دانش بھائی کو ایک ساتھ سکون میں دیکھ ہی نہیں سکتی تمہارے اندر حسد جلن اتنی ہے یہ اس پل صرف اس لیے تم یہ سب کر رہی ہو کیونکہ تمہیں یہ میں نے بتا دیا کہ میں تمہارے ساتھ اگے بڑھنا چاہتا تھا ترکی جانا چاہتا تھا … اگر تمہیں یہ نہیں بتاتا تو یقینا تم اب تک نفرت کی اگ میں کیا کیا کر دیتی اور ایک بات بتاؤں تمہیں جو کرنا ہے کر لو جتنا مجھے ذلیل کرنا ہے کر لینا ایک بات یاد رکھنا اگر تم نے ماہین اور دانش بھائی کی زندگی میں ذرا سی بھی حرکت کی جس کا نقصان ماہین یا اس کے بچے کو ہوا تو یاد رکھنا تمہارا قتل کرنے میں دیر نہیں کروں گا … اس کا لہجہ نفرت سے بھر پور تھا وہ نور کی اس کی اوقات اچھی طرح دکھا کر بولا تھا …

“پلیز شانی ایک موقع … وہ التجہ بھرے لہجے میں بولی پر وہ اس کی بات کاٹ کر بولا …

“مجھے شانی کہنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تمہارے لیے تمہاری نالج کے لیے اتنا ہی کافی ہونا چاہیے کہ یہ نام بھی مجھے ماہین نے دیا ہے اور تم تو شدید نفرت کرتی ہو نہ اس سے تو اس نام سے مجھے کبھی مت پکارنا ….

وہ اتنا کہے کر کمرے سے نکل گیا اور وہ دونوں ہاتھوں میں سر گراگئی …

جاری ہے …