Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 17

اگلے دن دانش اسے اپنے ساتھ لے گیا دن میں پہلے ان لوگون نے ڈھیر ساری شاپنگ کی , وہ ماہین سے ہر چیز میں پسند پوچھ رہا تھا اس کی پسند کا تو سب لے کر دے رہا تھا , ساتھ ساتھ اپنی پسند کی چیزین بھی دلارہا تھا … کپڑوں کی شاپنگ کے بعد وہ اسے جیلوری شاپ لے گیا وہان سے ایک چین لے کر دی … جس میں دونوں الفابیٹ تھے ڈی اور ایم … اسے وہین گلے میں پہنا گیا …

ماہین کو لگا شاید وہ اپنے کل رات کے رویئے کو جسٹی فائے کررہا ہو شاید … وہ اس شخص پر زیادہ سوچ کر خود کو تھکاتی نہیں تھی …

پھر اسے کچھ فلیٹ جوتے لے کر دیئے دانش نے تاکہ اسے جاب پر جانے میں پرابلم نہ ہو …

وہ اسے ایک بچون کی شاپ پر لے گیا اور کچھ ٹیڈی بیئرز اور کچھ بچون کی اچھی فوٹو فریم لیئے … وہ حیران ہوکر دیکھ رہی تھی …

“اس سے اچھا اثر پڑے گا تمہارے ذہن پر , بےبی بہت پیارا پیدا ہوگا …

دانش کے کہنے پر وہ مسکرائی اور بے ساختہ بولی …

“آپ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے آپ کو کافی ایکسپرینس ہو ان سب چیزوں کا …

ماہین کے تبصرے وہ دنگ رہ گیا اس کے چہرے پر ہوائیان اڑنے لگیں … شاید اسے امید نہ تھی ماہین ایسا کچھ کہے سکتی ہے … ایک بات وہ دل ہی دل میں تسلیم کر گیا کہ واقعی وہ بہت شارپ ہے اور ذہین بھی …

دانش کے چہرے کے ایسے تاثرات دیکھ کر وہ سنبھل کر بولی …

” اپ کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں ہے کہ اپ ان باتوں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں میرا کہنے کا یہ مطلب تھا …

دانش نے خود کو کنٹرول کیا اور بولا ….

“اپنے بچے کے لیے تو ہر کوئی ایکسائٹڈ ہو جاتا ہے … مجھے بھی اج پتہ چلا ہے کہ میں اتنا ایکسائٹڈ ہو سکتا ہوں …

دانش خود کو اچھی طرح سنبھال گیا اس جھٹکے سے …. خود کو سنبھالنے کے ساتھ بات بھی سنبھال گیا … اب دونوں نارمل باتیں کرنے لگے …

“اب کہاں جا رہے ہیں ہم … وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے تھے جب گاڑی دوسرے راستوں پر محسوس کی تو پوچھ بیٹھی ….

“بس تھوڑی دیر ریسٹورنٹ چلتے ہیں پھر گھر … دانش نے راستے پر نظریں مرکوز کرتا ہوا بولا …

ماہین کو کچھ عجیب لگ رہا تھا کیونکہ وہ تو کمرشل ایریا میں تھے وہاں پر کافی ریسٹورنٹس تھے اب ایسے کون سے ریسٹورنٹ لے کر جا رہا ہے دانش اسے سمجھ نہ آیا , اب تو ریزیڈینشل ایریاز شروع ہو گئے تھے لاہور کے , “یہاں کون سا ریسٹورنٹ ہو سکتا ہے شاید کوئی ہو اسی لیے لے کر جارہے ہیں… وہ دل میں سوچنے لگی پر زبان سے بولی نہیں …

“دانش یہ ہم کہاں جارہے ہیں … ماہین پوچھے بنا نہ رہ سکی …

لاہور کا ڈیفینس ایریا وہ پہچان چکی تھی … گاڑی جب اچانک سے رکی تو حیران رہ گئی سامنے ملک ہاؤس گولڈن لفظوں میں جگمگا رہا تھا … وہ مسکرائی , اس کے چہرے کی مسکراہٹ بلکل معصوم سی لگی دانش کو …

“عمر مامون کا گھر …. وہ زیر لب بولی …

“ہمممم کیسا لگا سرپرائیز … دانش نے مسکرا کر کہا … تو وہ بےساختہ اس کے ہاتھ تھام کر بولی “تھینک یو سسو مچ دانش آپ مجھے یہاں لائے …

اس کے چہرے کی سچی خوشی دیکھ کر دانش کو سکون ملا … وہ کم ہی مسکراتی تھی دل سے … جانے کیوں , رات اسے انکار کرنے کے بعد اس کے چہرے پر جو دکھ نظر ارہا تھا وہ سوچ کر ہی اس نے طے کر لیا تھا کل لازمی اسے لے کر جائے گا … اب اسے خوش دیکھ کر اس کے اندر بھی سکون اترا …

دانش نے پیچھے سے کیک اٹھایا تو وہ حیران رہ گئی … “یہ کب لیا آپ نے … ماہین نے پوچھا , اج واقعی وہ اسے شدید حیران کرنے کی ٹوہ میں تھا کیونکہ اتنا فارمل دانش ہو سکتا ہے ماہین نے سوچا بھی نہ تھا …

“آخر خوشی کی خبر بغیر میٹھے کے کیسے سنائیں …

“نہیں پلیز مجھے شرم آئے گی … ماہین جلدی سے بولی …

“کچھ نہیں ہوتا , چلو میں یہ نہیں کہوں گا کہ تم ماں بننے والی ہو میں کہوں گا میں باپ بننے والا ہوں ٹھیک ہے پھر تو شرم نہیں ائے گی نا … دانش کے اس مذاق پر وہ جھینپ کررہ گئی …

“چلو شاباش جلدی سے اب یہ چیزیں اٹھاؤ کچھ گفٹس بھی لایا ہوں میں ان کے لیے اخر تمہارا ننھیال جو ہے , آؤ اندر چلیں .. ماہین نے اس کے بتائے شاپرز اٹھائے اور دانش نے بیل بجائی …

پھر واقعی سب بے انتہا خوش ہوئے ان دونوں کے انے پر … عمر اور علیزے خوش ہوئے سو ہوئے عاطف اور عائشہ نے بھی بہت خوشی کا اظہار کیا … پھر جب دانش نے بتایا وہ باپ بننے والا تو ماہین نے شرم سے نظریں جھکالیں پھر سب نے دونوں کو مبارک باد دی … ڈنر سارا باہر سے آرڈر کیا ان لوگون نے اور واپسی میں ان دونوں کو ڈھیر سارے گفٹ دیئے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ بھی جلدی ائیں گے ان لوگوں کے گھر … واپسی میں ماہین کے ہونٹوں پر سجی مسکان دیکھ کر وہ مطئمن ہوا …

“تھینک یو دانش … اپ مجھے وہاں لے گئے اور اتنی دیر بیٹھے … میرا ننھیال بس اتنا سا ہے وہاں اپ نے میرا مان رکھا یہ کبھی نہیں بھول سکتی میں … ماہین کے انداز پر وہ مسکرا کر رہ گیا …

“ویلکم ڈیئر … تم چاہو رات میں اچھی طرح میرا شکریہ ادا کر سکتی ہو … ائے ڈونٹ مائنڈ … دانش کی بات پر وہ نظرین جھکا گئی جھینپ کر …

وہ ایسے لمحوں میں اکثر بول ہی نہیں پاتی تھی دانش نے محسوس کیا وہ اس کے جذبوں کی پذیرائی کم ہی کرتی تھی … کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولا “کل رات کو میں چلا جاؤں گا واپس اسلام اباد …

“اتنا جلدی … ماہین کی زبان سے بے ساختہ پھسلا …

” ہاں کام ہے … تم خود پروفیشنل ہو یہ باتیں تو اچھی طرح سمجھ سکتی ہو … دانش نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی … پھر سارا راستہ خاموشی سے ہی گزرگیا …

@@@@@@@@@

اگلی صبح دانش اس سے پہلے اٹھ کر فریش ہوگیا …

“ماہین اٹھو نو بج رہے ہیں … وہ ہڑ بڑا کر اٹھی …

“شٹ اتنا کیسے میں سوگئی … وہ بڑ بڑائی خود سے بولی تھی ذہن ابھی بھی غنودگی میں تھا ویسے بھی دانش نے روانہ ہونا تھا تو رات کو اس نے ماہین کو جگائے رکھا تھا اور حیران بھی تھی اتنی نیند تو اسے کبھی نہ اتی تھی جو الارم بھی نیند میں بند کرکے پھر سوگئی اگر ابھی بھی دانش اسے نہ جگاتے تو شاید اگلے دو تین گھنٹے بھی وہ جاگنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی…

“ماہین پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے پریگننسی میں ایسا ہوتا ہے … تم آفیس فون کر کے بتا دو … دانش نے سمجھایا …
آ
اسی وقت اس نے اپنے باس کو میل کر کے اور ساتھ ہی ساتھ ایچ آر بھی میل کر کے ان فارم کیا آج وہ دو گھنٹے لیٹ آئے گی …

“اس کنڈیشن میں جلد بازی مت کرنا سمجھی … دانش اس کا ہاتھ تھام کر بولا اور ساتھ سمجھایا …

وہ اثبات میں سر ہلا گئی اور اپنے کپڑے اٹھا کر جلدی واش روم میں گئی … وہ نہا کر ائی اور جلدی سے شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہونے لگی …

“کتنے بجے تک آؤ گی … دانش کی نظریں موبائیل پر جمی تھیں پر پوچھ اس سے رہا تھا …

” چار بجے تک ا جاؤں گی اپ نے تو رات میں جانا ہے نا … ماہین نے بتانے کے ساتھ اس سے آخر میں پوچھا …

“ہمممم… دانش نے کہا …

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد بولا … “چلو ناشتہ کرتے ہیں مل کر …

“اپ کو کچھ بنا کر دے دوں پھر مجھے جانا ہے , مجھ سے فی الحال کچھ نہیں کھایا جائے گا … ماہین نے پوچھا اور ساتھ اپنا بتایا … جس پر دانش نے کہا کہ

“میں نے نور سے کہہ دیا ہے اس نے ہمارے لیے بنا دیا ہوگا مجھے اندازہ تھا کہ تم یہی کرو گی بغیر ناشتے کے جاؤ گی … دیکھو ماہین جب میں نے تمہاری جاب پہ کسی چیز پہ اعتراض نہیں کر رہا تو بدلے میں تم سے یہی چاہوں گا کہ صرف تم اپنی صحت کا خیال رکھو اور تم سے میں کسی چیز کی توقع نہیں کر رہا کچھ بھی ہو تم اپنی صحت کے معاملے میں کمپرومائز نہیں کرو گی … دیکھو اس بچے کے لیے یہ سب ضروری ہے …. دانش نے نرم لہجے میں سمجھایا …

“ٹھیک ہے آئندہ خیال کروں گی اور اپ کو شکایت کا موقع بھی نہیں دوں گی … ماہین نے نرمی سے کہا …

“ہممممم گڈ … وہ اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ گیا … وہ شرم سے لال ہونے لگی … دانش دلچسپی سے اس کے چہرے کے بدلتے رنگون کو دیکھنے لگا … بےساختہ اس کے دل میں خیال آیا کہ اس کے ہونٹوں کا اگر بوسا لیتا تو شاید بلکل ہی سرخ گلاب ہوجائے ماہین کا چہرہ جانے کیوں اندر میں خواہش جاگی کہ اس کا گلنار ہوتا ہوا چہرہ دیکھے … جانے کیوں اس کے پریگینٹ ہونے کے بعد بہت اپنی سی لگنے لگی تھی اسے , اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے وہ اس کے ہونٹوں پر جھک گیا اور ماہین کو ساکت کرگیا دن کے اجالے میں وہ کبھی اس طرح اس پر حاوی نہ ہوا تھا … اس کا لمس جان لیوا تھا کم ازکم ماہین کے لیئے , کتنی دیر اپنی پیاس بجھاتا رہا …. کافی دیر بعد وہ اس کی جان خلاصی کی … ماہین کو اپنی کیفیت عجیب سی لگنے لگی تھی …

پھر واقعی میں اس کا چہرہ مکمل سرخ ہوگیا … دانش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جبکہ ماہین سے سر اٹھانا مشکل ہوگیا …

کچھ لمحے خاموشی کے نظر ہوئے تو ماہین سنبھل کر اپنا پرس اور لیب ٹاپ بیگ اٹھانے لگی اور اچانک دانش نے کہا …

“ایک اور بات میں سوچ رہا ہوں کہ تمہیں دقت ہوگی کچن کا کام کرنے میں ان دنوں …

“نہیں دانش میں کر لوں گی اپ پلیز ایسا کچھ بھی نہیں کہیں گے پھپھو سے … ماہین جلدی سے بولی … دانش واقعی میں بہت حیران ہوا کیسی لڑکی تھی یہ جسے تو خوش ہونا چاہیے کہ اس کا شوہر اس کی پرواہ کر رہا ہے پھر بھی وہ انکاری ہے …

“ماہین تم پریشان مت ہو یہ میرا کام ہے میں خود ہی اپنی ماں سے کہوں گا وہ تمہارا خیال کریں گی … ماہین کے چہرے پر اتنی فکر والے تاثرات دیکھ کر دانش کو یہ کہنا پڑا تھا …

“پلیز دانش خدا کا واسطہ ایسا نہ کریں اپ کو نہیں پتہ پھر مجھے فیس کرنا پڑتا ہے یہ سب کچھ … ماہین نے جلدی میں جو منہ میں ایا وہ بول دیا …

“ایک منٹ کیا کہا تم نے کس کو فیس کرنا پڑتا ہے تمہیں …. دانش صحیح معنی میں حیران ہوا تھا اس کی کہی ہوئی بات پر …

“نہیں نہیں کچھ بھی نہیں … وہ واقعی میں بھوکھلا گئی تھی دانش کے اس طرح سے سوالوں پر … اسے لگا وہ انکار کرے گی تو وہ جلدی مان جائے گا پر اس کا اصرار تو بڑھتا ہی جا رہا تھا اور ماہین کو سمجھ ہی نہیں ا رہا تھا وہ کیسے اسے اس بات سے روکے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ طاہر انکل کو بالکل نہیں پسند کہ نوکر کے ہاتھ کا کھانا تو پھر وہ کیسے اس طرح سے سوچ سکتی ہے ملازم تو رکھنا نہیں تھا ان لوگوں نے پھر یہ کہ وہ ہڈا حرام ہو کر بیٹھی رہے اور لوگ اسے پکا کر کھانا پیش کرتے رہیں , سسرال میں تو اس طرح نہیں چلتا ناہی ایسا ہوتا ہے , شوہر خود تو چلا جائے گا اور پیچھے اس کے لیے مصیبت ہو جائے گی یہی سوچ کر ماہین روک رہی تھی اسے …

“ماہین سچ بتاؤ کیا چھپا رہی ہو تم , کون ہے گھر میں ,جس کو فیس کرنے میں تمہیں پرابلم ہوتی ہے … دانش نے سخت لہجے میں پوچھا … صحیح معنی میں ماہین گھبرانے لگی تھی …

“پلیز دانش ایسی باتیں کرنا مناسب نہیں ہے میں کام کر لوں گی جیسے تیسے اور اپ کو ایسا کچھ بھی نہ کہیں کسی سے پلیز …

“ماہین شاباش سچ بتاؤ بات کیا ہے تمہیں پتہ ہے مجھ سے جھوٹ برداشت نہیں ہوتا جو بات ہے سیدھی اور صاف کہو … دانش خود چاہے جتنا جھوٹ بولے پر اسے دوسروں کا جھوٹ بولنا برداشت نہیں تھا وہ بھی خاص کر بیوی کا …

بات تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی اس لیے ماہین نے مختصر لفظوں میں اسے سمجھانا چاہا …

“پلیز دانش اس گھر میں رہ کر پھپو اور نور اپی کام کریں اور میں بیٹھ کر ارام کروں تو سیدھی سی بات ہے میں تو سب کو کھٹکوں گی نا … آئے مین سہی نہیں …

“ماہین تمہارا اشارہ نور کی طرف تو نہیں ہے … کچھ سوچ کر دانش نے ڈائریکٹ نور کا ہی نام لیا …

“دیکھیں دانش اپ اس طرح نہ کریں میرے لیے مشکلیں گھر میں نہ پیدا کریں جیسے باقی سب کرتی ہیں ویسے ہی مجھے کرنے دیں ایسا نہ ہو کہ مجھے کسی کی باتیں سننی پڑے اس وجہ سے … وہ نور کا نام اگنور کر کے اپنی کہنے لگی واقعی اس کی نیچر نہ تھی ایسی کہ کسی کا نام لے اسے اچھا بھی نہیں لگتا تھا اس طرح بھڑکانا کسی کے خلاف اپنے شوہر کو …. ریما بھابھی جب اس طرح کی حرکتیں گھر میں کیا کرتی تھیں تب بھی وہ دل ہی دل میں سوچا کرتی تھی وہ کبھی ایسا کچھ نہیں کرے گی اپنے شوہر کا دل اس کے بھائی , بھابھی یا بہنوں کی طرف سے کبھی خراب نہیں کرے گی …

دانش اس کا گریز اچھی طرح سمجھ گیا اس لیے اب کی نرم لہجے میں بولا …

“میں اچھی طرح سب سمجھ گیا ہوں , اب یہ تمہارا مسئلہ نہیں , یہ میرا مسئلہ ہے , میں خود ہی سورٹ اؤٹ کر لوں گا … بہرحال تم کام نہیں کرو گی گھر کا یہ فائنل ہے … میں اپنے بچے کے معاملے میں کوئی رسک نہیں لوں گا … دانش نے صاف گوئی سے جتایا کہ اسے اپنے بچے کی کتنی پرواہ ہے وہیں اسے دیکھتی رہ گئی بےبسی سے … دانش نے جس انداز میں کہا ماہین کو اندازہ ہو گیا اب وہ اپنی ہی کرے گا جو وہ سوچ چکا ہے … بہتر یہی تھا کہ وہ خاموش رہے اور پھر واقعی اس نے ایک لفظ بھی نہ کہا …

@@@@@@@@

لنچ کے بعد وہ اپنے باپ کے پاس آبیٹھا ان کے روم میں … ماہین تو ابھی تک آفیس میں تھی … اس کے انے میں ابھی ٹائیم تھا … دانش کو اج ہی روانہ ہونا تھا اسی لیے یہی مناسب وقت تھا کہ اپنے باپ سے بات کر لے … کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ اصل بات کی طرف ایا اور بولا …

“پاپا میں نے سوچ لیا ہے کہ کک رکھ لیتے ہیں ویسے بھی انیکسی خالی پڑی ہے ڈرائیور تو اب رہتا نہیں ہے تو کک ہی رکھ لیتے ہیں تاکہ وہ تینوں وقت کا کھانا بنا دیا کرے … اس طرح گھر میں سب کو اسانی رہے گی … اس نے بغیر اپنی بیوی کا نام لیے سب کی اسانی کا کہہ کر اپنی بات رکھی … وہ بھی باپ تھے اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ بیٹا بہت کمانے لگا ہے اس لیے اب اپنے بچے کی فکر میں یہ سوچ رہا ہے …

“دانش اس معاملے میں تم مت پڑو تمہیں پتہ ہے کہ ہمیں نوکروں کے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں ہے اس لیے خود ہی فیصلے مت کرو جو خاندان کی روایات ہیں وہی چلتی رہیں گی … طاہر آفندی ہمیشہ کی طرح تیز لہجے میں بولے ان کو شدید ناگوار گزری تھی دانش کی یہ بات …

“پلیز پاپا یہ سب کے لیے میں کرنا چاہتا ہوں سب کو اسانی رہے گی … دانش نے ملتجی لہجے میں کہا …

“دیکھو دانش تم نہیں چاہتے تمہاری بیوی کام کرے تو ٹھیک ہے نہیں کرے گی ہم تمہاری بات رکھ لیتے ہیں … پر یہ جو تم سب کے لیے کہہ رہے ہو کہ ملازم کے ہاتھ کا کھانا کھائیں تو ہمارے لیے مشکل ہے خود ہی تمہاری ماں اور بہن مل کر کام کر لیں گے اور نور تو ہے نہ ان کے ساتھ … اب کی طاہر افندی ضبط کرتے ہوئے بولے تھے پہلے جیسا تیز لہجہ نا تھا پر سمجھانے والا انداز تھا اس طرح ….

“پاپا اس طرح اچھا نہیں لگتا نہ مجھے اور نہ ماہین کو وہ اس طرح بیٹھی رہے اور سب کام کریں … اس کے حلق سے ایک بھی نوالہ نہیں اترے گا میں جانتا ہوں اس طرح وہ بیمار پڑ جائے گی … وہ چاہ کر بھی نور کے بارے میں کچھ نہ کہہ سکا کچھ بھی تھا کہ وہ اس کی خالہ کی بیٹی تھی اور ساتھ ہی ساتھ بھابھی تھی … نور کی تیز طبیعت سے وہ اچھی طرح واقف تھا اور ماہین اسے کتنا کھٹکتی ہے یہ بھی وہ جانتا تھا … اتنا تو دانش اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ اس کی ماں اور بہن کو ماہین کے ارام سے کوئی اعتراض نہ تھا اگر اس گھر میں کوئی اعتراض کر سکتا تھا تو وہ صرف نور اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ نور کو ایسا کوئی موقع دے وہ جس سے وہ ماہین کو ہرٹ کر سکے …

“دانش تم اب گھر کے معاملوں میں بہت بولنے لگے ہو مجھ سے نہیں کھایا جائے گا نوکروں کے ہاتھ کا … طاہر آفندی ضبط سے کام لے رہے تھے کیونکہ اب اولاد بڑی ہو گئی تھی …

“پاپا کوشش تو کریں کچھ نہیں ہوتا میں رکھ رہا ہوں ملازم اور اپ کچھ نہیں کہیں گے … بسسس … دانش کا لہجہ دو ٹوک تھا جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ فیصلہ کر چکا ہے اور اس سے ایک انچ بھی نہیں ہلے گا …

دانش اٹھ گیا تو شائستہ بیگم نے کہا ” دیکھیں وقت اور حالات بدل رہے ہیں اب وہ دور نہیں رہا کہ ایک ہی بہو پورے گھر کا کھانا بنایا کرے اپ کو پتا تو ہے مجھے ان لوگوں کا ساتھ دینا ہی پڑتا ہے ورنہ یہ اکیلی نور اور ماہین تو گھر نہیں سنبھال سکتی تو بہتر ہے ملازم رکھ لیں گے اور ساتھ کچھ نہ کچھ ہم بھی کرتے رہیں گے پلیز اپ مان جائیں , آپ کے لیئے گرم روٹی میں یا دعا بنادیا کریں گے … شائستہ بیگم نے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کی …

“پتہ نہیں اج کل کے لڑکوں کو کیا ہو گیا ہے بس ان کی بیویاں ماں کیا بن جاتی ہیں تو جیسے کوئی انوکھا کام کر رہی ہے , کوئی انوکھا بچہ پیدا کریں گی … پتہ نہیں دانش کو کیا ہوتا جا رہا ہے عزت سے اس کی جاب چھڑوا دے … گھر بیٹھے گی خود ہی کام بھی کرتی رہے گی گھر کے اور وقت بھی اچھا گزر جائے گا … فضول میں نوکری کر کے خود کو تھکا رہی ہے یہ لڑکی اور سب دانش کا ساتھ دے کر غلط کر رہے ہو … طاہر آفندی اپنے اندر کا دبا ہوا غصہ اپنی بیوی پر نکالا جو سراسر انہیں ماہین پر تھا اس کی جاب کرنے سے ….

“طاہر صاحب پلیز بات کو ختم کریں … شائستہ بیگم کا لہجہ ملتجی تھا …

“تمہارے بیٹے نے جو دوسری شادی کر کے ہمارے لیے مصیبت کی ہے نا … بتا نہیں سکتا سارے اصول میرے توڑ دیے ہیں اس نے … اس لڑکی کو سر پہ بٹھا رہا ہے ہمارے خود تو مزے سے جا کر اسلام اباد بیٹھ جاتا ہے یہاں ہمارے لیے مصیبت کھڑی کر دیتا ہے تمہارا بیٹا …. طاہر افندی اپنا غصہ اچھی طرح نکال رہے تھے جو انہیں دانش پر بھی تھا …

“جو ہونا تھا ہو گیا اب ویسے بھی کتنا افسوس کریں گے چلو یہ تو اچھا ہے کہ خدا نے ماہین کی گود بھردی … کم ازکم اب جلدی ہمارا انگن کلکاریوں سے گونجے گا … شائستہ بیگم نے ان کا دھیان کسی اور طرف لگایا اور ان کا دھیان بٹ بھی گیا تھا …

“انشاءاللہ …. طاہر آفندی نے کہا اور سوچ کر ہی مسکرائے تصور کرکے ننھے وجود کو …

شام کو ماہین واپس ائی تو دانش نے اسے بتا دیا کہ کل تک ملازم کا بندوبست ہو جائے گا …

کہیں نہ کہیں ماہین کو یقین تھا کہ دانش یہ سب نہیں کر پائے گا اور کس طرح وہ طاہر انکل کو منا گیا یہ سوچ یہ بات قابلِ تعریف تھی … ماہین کے دل میں سکون سا اتر اتا ہے کہ کم از کم سب کے لیے اسانی ہو گئی … ماہین اسی قسم کی لڑکی تھی وہ اپنے لیے نہیں سب کے لیے ایک جیسا سوچتی تھی …

رات کو دانش اسلام اباد کے لیے روانہ ہو گیا بائے ایئر اور ماہین کو ڈھیر ساری تلقین کر کے گیا تھا کہ کس طرح اسے اپنا اور ہمارے بچے کا خیال رکھنا ہے اس بار وہ اسے کہہ کر گیا تھا کہ اس سے موبائل پر بھی بات چیت کرتا رہے گا حال احوال لیتا رہے گا , جب اس کو یاد آئے تو وہ بھی اسے کال کرسکتی ہے …

جاری ہے