Rate this Novel
Episode 13
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 13
نہ سجاؤ اک خیال کو احساس کے نازک رنگوں سے
کہ پانیوں ہے نقش تو کبھی ٹھہرا نہیں کرتے
ماہین کی نظر چاچی پر پڑی تو دوپٹہ لے کر دونوں شانوں پر پھیلا کر سہی ہوکر اٹھ کھڑی ہوئی اور ان سے جاکر گلے لگ کر ملی … انوشے نے بھی اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کرلیئے …
“کیسی ہو ماہین , دانش کہاں ہے … انہوں نے اسے گلے لگنے کے بعد ماتھے پر شفقت بھرا لمس چھوڑا , وہ ان کی سر پھری بیٹی کی بیسٹ فرینڈ تھی بلکل بیٹی کی طرح ہی تھی ان کے لیئے …
“چاچی وہ زبیر بھائی کے ساتھ کہیں گئے ہیں … ماہین نے کہا …
“اچھا بیٹھو تم , انوشے تم سے اتنی بھی امید نہیں تم نے میری بیٹی کو چائے پانی پوچھا ہو … وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولیں اور اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا …
“بلکل سہی پہچانا آپ نے مام … انوشے نے مزے سے کہا …
“سدھر جاؤ , ماہین سے سیکھو , کتنی سمجھدار ہے … اس کی ماں نے اسے لتاڑا پر وہ انوشے ہی کیا جو ان کی باتوں پر کان دھر لے وہ ہمیشہ سے اپنی من مانی کرتی ائی تھی … سو ابھی بھی ڈھیٹ بن کر مسکرا رہی تھی …. ماں نے انکھیں دکھائیں تو اپنی مسکراہٹ سمیٹ کر بولی …
“ماہین جیسے سب ہوہی نہیں سکتے , یہ ون اینڈ اونلی پیس ہے …
ماہین نے پہلو بدلا انوشے کی بات پر جانتی تھی وہ طنزیہ کہے رہی ہے …
“انوشے سدھر جاؤ , جلد ہی تم کو اپنے گھر کی کرنا ہے مجھے … چاچی نے کہا…
“اوکے مام … یاد ہے …. انوشے نے بیزاریت سے کہا …
پھر وہ اٹھ گئیں ماہین کے لیئے چائے ناشتے کا انتظام کرنے … انوشے نے دوبارہ اس ٹاپک پر کچھ نہ کہا کیونکہ اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ ماہین یہ سب برداشت کرے گی … جب ماہین نے برداشت کرنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو وہ چاہ کر بھی اسے روک نہیں سکتی یہ اس کا اپنا معاملہ اور اس کا اپنا فیصلہ تھا … انوشے صرف اس کے درد کا سوچ کر کُڑھ ہی سکتی تھی ….
@@@@@@@@
اگلی صبح دانش اٹھا نیند سے تو ماہین کو اپنے پہلو میں نا پاکر حیران تھا … وہ اس سے پہلے اٹھ کر کمرے سے نکل گئی , تھوڑی حیرت ہوئی اسے … دن کے بارہ بج رہے تھے … دانش کو کوفت ہوئی سوچ کر اب اپنے کپڑے نکالے کیونکہ اب وہ اپنے سب کام ماہین کے ذمے لگا چکا تھا , خود کرنے کی عادت ویسے ہی نہیں تھی …
سامنے اس کا شلوار قمیص ہینگ ہوا دیکھ کر خوشگوار اثر ہوا اس کی طبیت پر … ہر چیز جگہ پر تھی ٹاول واشروم میں , اور اس کی کٹ بھی باہر ڈریسنگ پر رکھ کر گئی تھی …اسے اندازہ ہورہا تھا کہ ماہین ذمیدار ہے , لاپرواہ قسم کی لڑکی نہیں …
کچھ دیر بعد وہ فریش ہوکر باہر نکلا روم سے تو سامنے ریما نظر آئی ….
“بھائی ناشتہ کریں گے … ریما نے پوچھا …
“نہیں صرف چائے کیونکہ لنچ کا ٹائیم ہونے والا ہے … دانش نے کچھ سوچ کر کہا …
“اوکے بھائی … ابھی لائی … ریما نے مسکرا کر کہا …
“سنو … دانش نے کہا اور ریما جو کچن کی طرف جا رہی تھی , اس کے پکارنے پر پلٹ کر بولی …
“جی بھائی …
“ماہین کہاں ہے … دانش نے پوچھا ….
“وہ ڈرائینگ روم میں ہے … ریما نے بتایا …
“کوئی آیا ہے کیا … دانش نے پوچھا …
“ہاں علی اور اس کا دوست احد آیا ہے ساتھ میں زبیر بھائی بھی ہیں , وہیں بیٹھی ہے ان کے ساتھ … ریما نے تفصیل سے بتایا …
“کیا مطلب ماہین وہاں کیا کررہی ہے … دانش نے حیرت سے پوچھا کیونکہ وہ احد کو نہیں جانتا تھا اور یوں کسی اجنبی کے پاس ماہین کا بیٹھنا کچھ عجیب لگا …
“مجھے کیا پتا , ماہین اپنی مرضی کی مالک ہے , میں ابھی ان کو چائے دے کر آئی ہوں … ریما نے بیزاریت سے کہا کیونکہ ہمیشہ سے ریما اور نور کو ماہین بالکل پسند نہ تھی …
“آپ یہاں پیئیں گے چائے یا وہاں ان کے ساتھ … جاتے جاتے پلٹ کر ریما نے پوچھا اپنے بھائی سے …
“تم جاؤ چائے بناکر آؤ , میں وہین ہوں … دانش نے کہا خود اگے بڑھا ڈرائنگ روم کی طرف …
“ٹھیک ہے بھائی … ریما کچن کی طرف مڑ گئی چائے بنانے کے لیے …
@@@@@@@@
“احد تم بڑے ہو , اب تم کو ذمیداری لینی پڑے گی … سوفٹویئر ہاؤس ریجیسٹرڈ ہوچکا ہے , یہ وقت محنت کا ہے … پہلا پروجیکٹ جو ملا ہے اس کا ویب ڈیزائنگ کا بیک گراؤنڈ کردیا ہے میں نے … فرنٹ تم کروگے … علی فی الحال تم اسیس کرلو احد کو … ویب ڈیزائنگ کا ایک کورس کرلو تم اب ساتھ ساتھ … ماہین کرسی پر بیٹھی تھی احد اور علی کو سمجھارہی تھی … احد ان کا پڑوسی تھا جو علی سے ایک سال سینئیر تھا دونوں کے شوق ایک جیسے تھے اور اتفاق سے ایک ہی فیلڈ میں گئے تھے سافٹ وئر انجینئرنگ دونوں نے پڑھی تھی ایک ہی یونی سے …
“جی آپی … دونوں ایک ساتھ بولے سمجھتے ہوئے …
“ایک دفعہ یہ پروجیکٹ ہوجائے تو ووٹ آف تھینکس کے طور پر سر عباس کو کیک دینے ضرور جانا تم علی … ماہین نے کہا …
“جی آپی … علی نے کہا …
“احد میل چیک کرو ساری کوڈنگ بھیج دی ہے … اس یو ایس بی میں ویب کی بیک گراؤنڈ ڈیزائین کردی ہے فرنٹ تم کرلو … ماہین نے یو ایس بی اس کو دی جسے وہ تھام گیا … اب وہ متوجہ ہوئی زبیر کی طرف اور بولی …
“زبیر بھائی یہ دیکھیں …. زبیر صوفے پر بیٹھا تھا وہ پاس میں پڑے وڈ کے اسٹول پر جاکر بیٹھی تھی سامنے لیب ٹاب ٹیبل پر رکھ کر وہ ڈیٹل بتانا شروع ہوگئی …
“ماہین اٹس ٹو گڈ … میں لندن پہنچ کر آفیس جوائن کروں تو میرا اسیسٹنٹ رابطہ کرے گا خود ہی , ڈیل کوں کرے گا کلائینٹ سے تم یا احد …
“یہ کلائینٹ میں ڈیل کروں گی … ایک دفعہ احد اور علی سیٹ ہوجائیں تو پھر میں نے ہٹ جانا ہے ویسے بھی … کلائنٹ سے ون ٹو ون ٹاک میں خود کروں گی … ماہین نے زبیر بھائی سے پرجوش لہجے میں کہا …
“پر ماہین مجھے لگتا ہے تم جاب نہ کرو , یو کین ڈو دس … تمہیں دیکھ کر کوں کہے گا یہ کام بزنس پڑھی ہوئی لڑکی کررہی ہے … سچ میں شرم ارہی ہے بزنس پڑھی لڑکی سوفٹویئر انجنیئرنگ والے کام کررہی ہے … زبیر کھسیانی سی ہنسی ہونٹوں پر لاتے ہوئے بولا جبکہ آنکھون میں ستائیش تھی ماہین کے لیئے … وہ اکثر سنتا تھا اس کی تعریف پر روبرو ابھی پالا پڑا تھا …. جب زبیر پاکستان ایا تھا شادی اٹینڈ کرنے کے لحاظ سے تب وہ ان کے گھر ملنے ایا تب ماہین نے اس سے بات کی تھی تنہائی میں , اپنے اس کام کو لے کر , اس وقت وہ حیران ہوا تھا اور کہا تھا کہ ٹھیک ہے بہت جلد اس بارے میں بات کریں گے ڈیٹیل میں , اسی لیے اج موقع ملا تو کل رات اس نے صبح کا ٹائم اسے دے دیا تھا اس لیے اس وقت زبیر کے سامنے وہ تینوں موجود تھے ….
“زبیر بھائی , یہ میری ہابی ہے , ناٹ مائے پیس آف کیک … میں بزنس ہی سمجھتی ہوں وہی میرا کام ہے … یہ تو میرے چھوٹے بھائی کے لیئے میرا سیٹیلمینٹ پلان ہے … ان کی ٹیم بن جائے اور کمپنی ایسٹیبلش ہوجائے تو میرا یہان کوئی کام نہیں … ماہین نے تفصیل سے بتایا کیونکہ وہ بھی ایک سافٹ وئیر انجینئر تھا لندن میں اپنا کام کررہا تھا …
“مائے گاڈ لڑکی کیا چیز ہو تم , علی بہن ہو تو ایسی , لکی ہو یار , کاش اللہ نے مجھے بھی ایسی بہن دی ہوتی … زبیر نے خوشی سے کہا …
علی مسکرایا ان کی بات پر دل سے بولا … “یسس آئی ایم آ لکی مین ….
“تم بےفکر ہوجاؤ ماہین , علی اور احد میرے ذمے ہیں , بسس ایک دفعہ لندن پہنچ جاؤں , پھر وہاں سے کانٹیکٹ کروں گا … زبیر نے ان کو یقین دہائی کروائی …
“بھائی آپ کی ای میل بتائیں ,آئے سینڈ یوں ایوری ڈیٹیل … ماہین نے پروفیشنل انداز میں کہا اور لیب ٹاپ تھائے پر رکھ کر کام میں لگ گئی … زبیر اس کی پروفیشنلزم کا قائل ہو گیا واقعی وہ کوئی ارڈنری لڑکی نہیں تھی …. خاص لڑکی ہوگئی تھی وہ زبیر آفندی کی نظر میں …
“کمپنی کی ای میل دے دیں اس پر ہی آفیشل پروپوزل بنا کر بھیجیں گے …. آپ کا ریفرینس نہیں دیں گے … ماہین نے آخری لفظ شرارتً بولے تھے …
“پر میں پریفر کروں گا … زبیر کے چہرے پر بھی شرارت تھی …
“تم لوگ اپنا کمپنی کا میل مجھے بھیجو … زبیر نے کہا …
وہ بات کرنے کے ساتھ کام بھی کرتی جارہی تھی … اس کے ہاتھ جس طرح لیب ٹاپ پر چل رہے تھے اس سے صاف ظاہر ہورہا تھا وہ کتنی مہارت رکھتی ہے اس میں …
“ڈن زبیر بھائی … ماہین نے ریلیکس انداز میں کہا … اس وقت بھی وہ اپنے سر پر دوپٹا لیئے ڈیسینٹ انداز میں بیٹھی تھی ….
“اور کچھ … زبیر نے کہا …
“اوہ سوری بھائی چائے ٹھنڈی ہوگئی میں دوبارہ بنا آتی ہوں … ماہین چائے کو دیکھ کر بولی اور اٹھنے لگی تو زبیر جلدی سے بولا …
“ارے نہیں بیٹھو تم , تمہارے ہاتھ کی میں نہیں پی سکتا … اس کے انداز میں جھجھک تھی …
“اتنی بری نہیں بناتی بھائی … ماہین نے ان کی تسلی کروانا چاہی جس پر وہ مسکراتا ہوا بولا …
“بات بری کی نہیں , بس شرم اگئی تم جیسی لڑکی کو کچن میں بھیجنا , سراسر بےوقوفی ہے … یہ بات اس نے دل سے کہی تھی کیونکہ وہ اس کی خوبیون کا گرویدہ ہوگیا تھا ….
“زبیر بھائی پلیز ایسی باتیں کرکے مجھے شرمندہ نہ کریں … ماہین کو عجیب لگی اس کی بات اس لیئے بولے بنا رہ نہ سکی …
“بہت جلد دعا کو بھی ان کے ساتھ میں کنیکٹ کروں گی … ہم آفیندیز اپنا نام بنائیں گے اس فیلڈ میں بھائی … بتائیں میرا آئیڈیا کیسا ہے … ماہین نے اپنا فیوچر پلان بتایا اور اخر میں اس کی رائے مانگی جس پر وہ مسکرا کر بولا …
“گڈ آئیڈیا ماہین … ان کی ٹیم مکمل تم کرو … ویسے بزنس کے کس فیلڈ میں تمہاری ایکسپرٹیز ہیں … زبیر نے پوچھا ….
” کریٹو ائیڈیاز , میری فیلڈ ہے …. ماہین نے دھیمی مسکان کے ساتھ بتایا …
” گڈ میرا خیال ہے تم مارکیٹنگ بھی اچھی کر سکتی ہو , یو ہیو ال دیز گٹس … زبیر نے پرسوچ انداز میں کہا کیونکہ وہ اپنی ہر بات میں پُر یقین اور مکمل اعتماد سے کررہی تھی اتنی دیر میں وہ کہیں بھی ہچکچاہی نہ تھی , ڈٹ کر اپنے آئیڈیاز اور ڈسیشن بتارہی تھی اور اس کا وین )نظریہ( بھی کلیئر تھا … زبیر کھل کر کہے ہی نہیں پا رہا تھا کہ وہ کتنا متاثر ہوا ہے اس لڑکی سے شاید لفظ کم پڑ جائیں اس کی تعریف میں …. سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنی تعریف کی بھوکی نہ تھی کیونکہ زبیر کا یہی ماننا تھا کہ لڑکیاں تعریف کی بڑی بھوکی ہوتی ہیں اور یہ چیز اس نے کھل کے محسوس کی کہ ماہین میں یہ بات ہے ہی نہیں سرے سے , اسے اپنی تعریف سننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ اپنے کام سے کام رکھنا پسند کرتی ہے …. یہی تو اصل کانفیڈینس ہے جو کسی بھی لڑکی میں ہونا چاہیے ….
“نہیں بھائی , میری نظر میں سب سے بکواس یہی فیلڈ ہے … کریٹو مائنڈز کے لیے یہ فیلڈ نہیں ہے … ماہین نے سکون سے اپنی بات مکمل کی … زبیر دیکھتا رہا اس لڑکی کو , اب وہ اسے کیا بتاتا ماریکٹنگ میں پیسا ہی پیسا ہے کمیشنز بنتی ہیں , پر وہ یہ کہے ہی نہ سکا کیونکہ ماہین اپنی ہر بات میں کلیئر تھی …
دانش دروازے پر کھڑا تھا پر اس طرح کے وہ لوگ اسے دیکھ نہ سکے … پر وہ ان کی گفتگو سن چکا تھا … اسے تو یہ وہ ماہین لگی ہی نہیں جو اس کے ساتھ اس کے کمرے میں رہتی ہے یہ تو ماہین کا کوئی اور ہی روپ لگا اسے … اور وہ خاموشی سے پلٹ گیا وہاں سے ….
@@@@@@@@@
دانش اکر لاؤنج میں بیٹھ گیا اسی وقت ریما ائی اور بولی …
“سوری بھائی لیٹ ہو گئی چائے بنانے میں کیونکہ صمد رو رہا تھا اسے چپ کرانے کے بعد ہی بنائی …
“کوئی بات نہیں ریما … دانش کا انداز گم صم سا تھا ….
“بھائی آپ ڈرائینگ روم میں جاکر بیٹھیں … ریما کچھ سوچ کر بولی کیونکہ وہان زبیر اور ماہین دونوں تھے …
“نہیں بس یہیں دے دو … دانش نے نارمل لہجے میں کہا …
دانش نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا پر چہرے پر گہرے تاثرات تھے …
اس کے آخری لفظ ذہن میں گونجے …
“بہت جلد دعا بھی ان کے ساتھ کنیکٹ کروں گی … ہم آفندیز اپنا نام بنائیں گے اس فیلڈ میں …
“ارے یار تم یہاں بیٹھے ہو … اچانک زبیر نے اکر کہا …
“ہاں کچھ دیر پہلے ہی اٹھا ہوں … دانش سنبھل کر بولا …
“ڈرائینگ روم میں آتے یار , تو دیکھتے , کیا بیوی پائی ہے تم نے …
“اب تم بھی شروع ہوجاؤ … دانش چائے کا سپ لیتے ہوئے بولا …
“ایسی لڑکی کو گھر بٹھانا کفرانِ نعمت ہے یار … زبیر خود کو روک نہیں پایا یہ سب کہنے سے …
“تو یار بٹھا کون رہا ہے فکر مت کرو , ماہین جو کرنا چاہتی ہے کرے گی …. دانش نے سکون سے کہا … اس کے کسی انداز سے ظاہر نہیں ہو رہا تھا کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے ….
“اوہ تھینکس گاڈ , مجھے تمہیں سمجھانے پر انرجی ویسٹ نہیں کرنی پڑے گی دوست … بسس طاہر انکل کو سنبھال لینا وہ بہت ریکٹ کریں گے …. زبیر افندی اسے جتانا نہ بھولا کہ وہ اس کے باپ کی نیچر سے اچھی طرح واقف ہے جو بہو یا بیٹی کے جاب کے خلاف ہے …
“ڈونٹ وری … لاسٹ ڈسیشن میرا ہی ہوگا … اینڈ آئے ڈونٹ ہیوو اشو وتھ ہر جاب )آخری فیصلہ میرا ہوگا , مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس کی جاب سے( …. دانش نے سکون سے کہا اور چائے کا کپ میز پر رکھا … زبیر اسے دل سے سرا رہا تھا …. پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے تھے ….
@@@@@@
پھر واقعی وہ اپنے آفیس گئی دانش کے ساتھ جہاں پر ڈاکیومینٹ پروسیڈ کروائے ٹرانسفر کے اور شادی اس کا ویلڈ ریزن تھا ٹرانسفر کی ڈیمانڈ کے لیئے … ای میل کے ذریعے وہ اپنے سارے کام کرچکی تھی …. سر عباس گردیزی نے ہمیشہ کی طرح اسے سپورٹ کیا … آفیس والے سب اداس ہوئے اس کے جانے کا سوچ کر … اداس تو وہ خود بھی ہو رہی تھی اپنے کلیگز کو چھوڑ کر کیونکہ وہ واقعی اس سے بہت پیار کرتے تھے اور ہمیشہ ان کو یاد رکھنے والی تھی ….
دانش کے سامنے وہ کافی کمپوزڈ رہی کیونکہ اسے کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی اس پر بات بنے … دانش کچھ بھی کہے سکتا تھا اسے کوئی امید نہیں تھی اس سے … افس والی فیئر ول کرنا چاہتے تھے ماہین نے سہولت سے منع کر دیا اس کے علاوہ باس نے کہا “کچھ دن وہ کراچی میں رہ کر جاب کر لے پھر چلی جائے لاہور جب تک ٹرانسفر نہیں ہوتی … اس معاملے میں بھی اس نے دانش کی طرف ہی دیکھا جس پر دانش نے سہولت سے انکار کر دیا کہ “وہ یہاں کراچی نہیں رہ سکتی اب … سر عباس مسکرا کر بات کو ٹال گئے … وہ خود بہنوں والے تھے اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ ماہین کا شوہر اسے اچھی طرح ڈومینینٹ کیا ہوا ہے …. اس بات پر ماہین اداس ہوئی … ہمیشہ کی طرح ریحان نے بولنا ضروری سمجھا اس نے دانش سے بات کی کہ “ماہین یہاں رہے کر کچھ دن جوائن کرلے تاکہ اس کی جاب کنٹینیو رہے جس پر مضبوط لہجے میں دانش نے کہا کہ “اگر اس نے ایک دفعہ یہاں پر جوائن کر لی تو وہ کبھی اسے ٹرانسفر نہیں دیں گے اس لیے بہتر ہے کہ یہ سارا معاملہ پینڈنگ میں رہے کیونکہ سیلری ہمارا سر درد نہیں ہے … اس سیلری سے زیادہ ہی میں ماہین کو دے سکتا ہوں اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم یہی کوشش کریں کہ اس کا کام ہو جائے اس لیے مجھے مناسب نہیں لگتا اس کا کراچی میں جوائن کرنا اب …. دانش کے مضبوط انداز پر اسے چپ ہونا پڑا … ریما نے ان ڈائریکٹ اپنی ماں کو بتا چکی تھی کہ یہاں کیا چل رہا ہے ماہین کی جاب کو لے کر اور شائستہ بیگم نے چپ سادہ لی , سن کر بھی ان سنا کر گئی اور اپنے شوہر کو کچھ بھی خبر لگنے نہیں دی …
اس کے کام میں پندرہ دن یا مہینہ لگ جانا تھا یا اس سے بھی زیادہ کچھ کہا نہیں جاسکتا …. جس کے لیئے اسے ویٹ کرنے کو کہا گیا …. یوں ہفتے کے روز وہ واپس اگئے لاہور … تقریبً سب رشیدار ان دونوں کی دعوت کرچکے تھے … پھر اتوار کو بائے کار دانش کی واپسی ہوئی اسلام آباد …
فی الحال دانش نے اسے منع کیا ہوا تھا جاب کے حوالے سے کوئی بات نہ کرے وہ نیکسٹ ویکینڈ کو آئے گا تو خود ہی بات کرلے گا شاید تب تک اسے ای میل بھی آجائے لاہور جوائن کرنے کی … ایک دفعہ کنفرمیشن اگئی تو اگلے دن اسے جوائن کرنا ہوگا …. تب تک وہ سر عباس کے کہنے پر آنلائن ایکٹوو تھی … ساتھ ساتھ احد اور علی کے ساتھ کنیکٹ تھی … شائستہ بیگم نے اسے کہا ایک مہینہ وہ گھر کا کوئی کام نہ کرے کیونکہ یہی روایت ہے یہاں کی , نئی دلہن اہک مہینہ کچھ نہیں کرتی …. تو ماہین نے بھی وہ سارا وقت سکون سے گزارا … اسے کراچی سے انے کے پندرہ دن بعد پتہ چلا دانش سنگاپور گیا ہے , یہ بھی اسے اس کی ساس نے بتایا , جس پر اس نے ظاہر کیا اسے معلوم ہے جبکہ اس کا دانش سے کوئی کانٹیکٹ نہیں تھا , نا اس کا موبائیل نمبر اس کے پاس تھا , رخصتی سے پہلے ایک دفعہ علی سے لیا تھا اس نے دانش کا نمبر پھر دانش کا رویہ دیکھ کر وہ ڈیلیٹ کرچکی تھی …. جب اکیسویں دن اسے میل آئی کہ وہ جوائن کرسکتی ہے اس ویک تو وہ پریشان ہوگئی اور اس دن پہلی دفعہ اسے شدت سے احساس ہوا کہ کاش دانش کا نمبر ہوتا تو کم از کم میسج ہی کر کے اسے بتا سکتی اب کس طرح بتائے اب کچھ بھی کرے گی تو اپنا ہی امیج خراب کرے گی سسرال میں …
پھر شاید اللہ کو ہی اس پر رحم اگیا کہ اگلے دن دانش خود لاہور اگیا پورے 22 دن بعد …. وہ رات کو کمرے میں آئے تو ماہین نے اسے ای میل کا بتایا جس پر اس نے کہا کہ “انشاءاللہ وہ کل بات کر لے گا ڈیڈ سے ….
جس پر وہ خوش ہوئی بے انتہا … اس رات پہلی دفعہ دانش کے انداز پر اس کی آنکھ نم نہ ہوئی تھی شاید اسے خوشی ہی اتنی تھی کہ وہ اپنے خواب پورے کرسکتی ہے ….
دوسری طرف دانش مطئمن تھا اس نے اس سے کوئی سوال نہ کیا تھا کہ وہ اتنے دن بعد کیوں آیا … اپنی مان کی باتوں سے وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ اس کے سنگاپور جانے کا ماہین کو پتا ہے , اس بات کو لے کر بھی ماہین نے کوئی سوال نہ کیا , یہ بات اس کے سکون کے لیئے کافی تھی , وہ اپنی حدوں تک محدود ہے اور بےوجہ شوہر پر اپنی اجارداری قائم نہیں کرتی …. وہ اچھی طرح لاہور میں ایڈ جسٹ ہوچکی تھی اتنا تو اندازہ تھا اسے … اس کی ماں اور بہن مسلسل تعریف ہی کررہی تھیں ماہین کی اور وہ خاموشی سے سنتا رہا …. وہ ایک دن میں اچھی طرح اندازہ کر گیا کہ دعا بے انتہا امپریسڈ ہے ماہین سے …. جیسا وہ چاہ رہا تھا سب ویسا ہورہا تھا تو وہ اچھا خاصا مطئمن ہوا …
@@@@@@@@@
اگلے دن رات کو ڈنر کے بعد دانش اپنے باپ کے ساتھ بیٹھا تھا ان کے روم میں وہیں اس کی ماں بھی موجود تھی ….
کچھ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد دانش بولا …
“کل ماہین کا پہلا دن ہے جاب کا … طاہر آفندی کو شاک لگا ان کو امید نہ تھی دانش ان سے یہ بات کہے گا , وہ تو ان کا فرمانبردار بیٹا تھا یہ تو اچھی طرح جانتا تھا کہ ان کو جاب پسند نہیں ہے لڑکیوں کی پھر کیسے وہ اپنی بیوی کے لیے ایسا سوچ سکتا تھا … شائستہ بیگم پہلو بدل کر رہ گئیں اپنے بیٹے کی بات پر …
“کیا مطلب … وہ بولے حیرت سے …
“ماہین جاب کرے گی … دانش نے پھر سے کہا …
“دانش … تم جانتے ہو میرا فیصلا کیا ہے , مجھے نہیں پسند لڑکیوں کا جاب کرنا … طاہر صاحب قطعیت سے بولے …
‘”جانتا ہوں پر ماہین جاب کرے گی … دانش کا بھی انداز نڈر تھا …
“کیوں تم اتنے ضدی ہوتے جا رہے ہو دانش , ہر معاملے میں اپنی من مانی کرنے لگے ہو میرے کسی فیصلے کا اب تم احترام نہیں کرتے … طاہر افندی نے دکھ اور افسوس سے کہا …
“پاپا ہر بات کا ایک پہلو نہیں دوسرا پہلو بھی دیکھا کریں …
جو بھی کر رہا ہوں اپ لوگوں کے فائدے کے لیے کر رہا ہوں … دانش نے نرمی سے کہا … اس کے ہر انداز سے واضح تھا کہ وہ بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کر چکا ہے …
“اچھا … ماہیں کے جاب کرنے سے ہمیں کیا فائدہ, ہم کوئی بہو بیٹیوں کی تنخواہیں لیں گے کیا , تو ان کے کام کرنے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا , الٹا نقصان ہوگا … تمہیں پتہ نہیں ہے ایسی لڑکیاں کتنی منمانیاں کرتی ہیں اور اسے تم منمانیاں کرنے کے موقعے دے رہے ہو اور یاد رکھنا اسے منمانیان کرنے کے موقع تم ہی فراہم کر رہے ہو … طاہر صاحب کا لہجہ سخت اور ٹھوس تھا …
“پاپا , آپ بالکل غلط سمجھ رہے ہیں , بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے میں نے , اپ کو پتہ ہے ماہین کو مصروف رکھنے سے ہمارا ہی فائدہ ہے کہ اس کا دھیان اِدھر اُدھر کسی بات کی طرف نہیں جائے گا , وہ اتنے پر خوش ہوجائے گی کہ آپ کے اصولوں خلاف جاکر اسے سپورٹ کررہا ہوں , میرے سامنے اسلام اباد جانے کا ذکر بھی نہیں کرے گی کیونکہ یہاں پر جاب میں اتنا مصروف رہے گی …. ایک بات تو کلیئر ہے میں اسے اسلام اباد نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہاں میری اپنی فیملی بچے ہیں تو سیدھی سی بات ہے یہاں پر مصروف رہے گی تو مجھے بھی بلکل تنگ نہیں کرے گی , ویسے مجھے تنگ بھی نہیں کرتی پر میرا خیال ہے اپ لوگوں کو تنگ نہیں کرے گی نہ ہی کوئی اصرار کرے گا اس کے گھروالوں میں سے اور اس طرح اپ سب سکون میں رہیں گے اور وہاں پر میری بہن بھی سکون سے رہے گی تو اب بتائیں اس میں فائدہ ہے یا نہیں …. دانش نے اپنے خیالات واضع کیئے ان کے سامنے …
طاہر آفندی تو سوچ میں پڑ گئے پر شائستہ بیگم بولیں …
“مجھے بھی ایسا لگتا ہے دانش ٹھیک کہہ رہا ہے اپ مان جائیں … اگر ہم اسے سپورٹ کریں گے تو سیدھی سی بات ہے وہاں پر ہماری بیٹی بھی سکون میں رہے گی …
شائستہ آفندی نے کہا وہ دانش کے فیصلے پر رضامند تھیں …
“اگر ماہی یونہی فارغ رہی تو بار بار کراچی جانے کی بھی ضد کرے گی اور اگر جاب کرتی رہے گی تو کراچی جانے کا بھی نہیں سوچے گی نہ ہی اسلام اباد جانے کا … سمجھیں اس کی جاب کرنے سے ہر طرف سے ہمیں ہی فائدہ ہے اور اوپر سے اتنی لبرٹی دیں گے تو اپ کی تعریف اور واہ واہ الگ ہوگی پورے خاندان میں کہ ماہین کے ٹیلنٹ کو اپ نے سراہا ہے اور مانا ہے … دانش نے ایک بارچپھر سمجھایا کھل کے …
“اور سوچیں اپ کی واہ واہ کے ساتھ , میری بھی واہ واہ ہوجائے گی … دانش نے کہا …
“دانش ہماری خواہش تو بچوں کو دیکھنے کی ہے , تمہیں پتہ ہے اصل سے سود پیارا ہوتا ہے … ابھی تک نا ذیشان کی طرف سے کوئی خوشخبری ہے اور اب تم اسے جاب پر لگاؤ گے تو پھر تمہاری اولاد دیکھنے کی خواہش کیسے پوری ہوگی … طاہر صاحب نے فکر سے کہا اور اپنی خواہشکا کھل کے اظہار کیا ….
“یہ خواہش تو میں ابھی کہ ابھی اپ کی پوری کر سکتا ہوں ڈیڈ …. جس خوشی سے دانش نے کہا اس کی ساری خوشی ملیا میٹ کر دی طاہر افندی کے جواب نے …
“دانش ایک بات میں , تم پہ پہلے ہی واضح کر چکا ہوں مجھے وہی اولاد تمہاری پیاری ہوگی جو تمہاری اور ماہین کی ہوگی … طاہر آفندی نے قطعیت سے کہا …
“تو پھر اپ انتظار کرتے رہیں … دانش نے چڑ کر کہا …
“کیا مطلب , کہیں تم … وہ کہتے کہتے چپ ہو گئے …
“بے فکر ہو جائیں ڈیڈ , اتنا بھی گیا گزرا نہیں ہوں کہ ایسا کچھ سوچوں اللہ کا شُکر ہے میں دو گھر چلا سکتا ہوں …. اللہ نے چاہا تو جلدی اپ کو خوشخبری مل جائے گی … دانش نے سکون سے کہا …
اتنا کہے کر وہ اٹھ کھڑا ہوا لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلا گیا …
“کیا ہو جاتا ہے طاہر صاحب اگر ہم اپنے بیٹے کی اولاد دیکھ لیں تو اور کسی طرح ملیں … جب سے میں نے سنا ہے ہمارے دو پوتے ہیں میرا دل تو دن رات تڑپتا ہے ان کے لیئے …
“شائستہ بیگم یہ اج اپ نے بات کی ہے ائندہ کبھی میرے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں ہے … وہ سختی سے بولے ….
“پلیز ایک دفعہ دیکھنے کی اور ملنے کی اجازت دے دیں … شائستہ بیگم نے کہا …
“نہیں تمہیں قطعی اس چیز کی اجازت نہیں دوں گا کہ تم دانش کے بچوں کی تصویر بھی دیکھو کیونکہ اگر تم نے تصویر دیکھی تو تمہارا دل اس طرف ہمکنار ہوگا اور یہ ہمارے لیے بہت بڑی مصیبت کا سبب بن سکتا ہے …. تمہیں پتہ نہیں ہے ایک دفعہ تم نے صرف تصویر دیکھ لی تو پھر ایک قیامت ا جائے گی اس گھر میں اور تم جانتی ہو یہ ہم نہیں افورڈ کر سکتے کہ اس وقت ماہین کو ایسا کچھ پتہ چلے کم سے کم پانچ چھ سال تک ایسا کچھ بھی نہیں ہو جب تک اس کے اور دانش کے بچے نہیں ہو جاتے … طاہر آفندی سے کہا ….
“مطلب تب تک ترستے رہیں … میری ممتا ترس رہی ہے صرف آپ کے ڈر نے میرے ہونٹ سی دیئے ہیں … شائستہ بیگم کے لہجے میں نمی تھی ….
“یہی اچھا ہے ہم سب کے لیے ائندہ اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی …
وہ ان کی سختی سے کہی بات پر دل مسوس کر رہ گئیں …
@@@@@@@@@
ذیشان نے کمرے میں قدم رکھا رات کے کھانے کے بعد تو لمحے بھر کو ٹھٹھکا … نور فریش سی خوشبو میں رچی بسی نائیٹی کے اوپر سلک کا گاؤن پہنے ہوئے تھی … اس کے ہر انداز میں واضع اشارے تھے , وہ دل مسوس کر رہ گیا …
اپنے اندر جھانکا صرف گہرے سناٹوں کے سوا کچھ نہ تھا ….
وہ ہر احساس سے نظر چراتا واشروم کی طرف چلا گیا اپنا نائیٹ ڈریس لے کر وہ اپنا ہر کام خود کرتا تھا کبھی نور سے نہیں کہتا تھا … ابھی کچھ دن پہلے ہی نور نے اسے آفر کی وہ اس کے کام کردے … شانی نے سھولت سے انکار کیا یہ کہے کر “وہ اپنے کام خود کرنے کا عادی ہے … تو نور نے بھی ٹھینگا دکھائے بغیر ہی ہر چیز سے ہاتھ اٹھالیا جو تھوڑی بہت ذمہ داری وہ نبھا رہی تھی اس نے وہ بھی چھوڑ دی , شاید اس بہانے ذیشان اس سے کچھ کہے یا کسی قسم کی باز پرس ہی کر لے , شاید کچھ بات ہی کر لے , ایسا کچھ بھی نہ ہوا جیسا وہ چاہتی تھی بلکہ اس سب کا ذرہ اثر بھی نہ ہوا شانی پر بلکہ وہ خاموشی سے اپنے کام کرنے لگا … اس کے لب پر کبھی کوئی حرفِ شکایت نہ ایا تھا نور کے لیے …
وقت کے ساتھ شدت سے وہ محسوس کرنے لگی تھی اس کی بےاعنتائی … پہلے تو جیسے تیسے اس نے برداشت کر لیا تھا اب جب سے ماہین اور دانش کو دیکھتی تو اس کے دل میں بہت سی خواہشیں حسرتیں بن کر رہنے لگی تھیں … نور صحیح معنٰی میں بے وقوف تھی جو کسی کے اندر کا حال جانے بغیر باہر سے جو دکھ رہا تھا اسی کو ہی سچ سمجھتے ہوئے اپنے اپ کو ہی مشکل میں ڈال رہی تھی … دانش کا ماہین کے لیئے جاب کے لیئے بولنا پھر اب نئی گاڑی اور ڈرائیور رکھنا اسے تکلیف دے رہا تھا اور وہ دعا کرتی اس کا شوہر ایسا کیوں نہیں …
“شانی کہاں جارہے ہو … نور نے اسے روکا جو بلیو شرٹ پر بلیک ٹراؤزر پہنے باہر جارہا تھا …
“ایک ضروری کال کرنی تھی پھر آتا ہوں … شانی نے مصروف سا تاثر دیتے ہوئے کہا …
وہ اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر بولی
“آخر کب تک گُریز کے بہانے تلاش کروگے ڈیم اٹ … بیوی ہوں تمہاری , مجھے کیوں میرا جائز مقام دینے میں دقت ہے تمہیں بولو جواب دو مجھے …. نور غصے سے لال پیلی ہورہی تھی , لہجہ تند سا تھا ….
ذیشان حیران ہوا اس کے اس انداز پر ….
جاری ہے …..
