Rate this Novel
Episode 1
ناول میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
میرے درد سے بےخبر )سیزن 2)
قسط نمبر 1
“کم آن انشاء دیر ہورہی ہے جلدی کرو یار … آج علیزے کی رخصتی ہے تمہیں اس کی طرف سے شرکت کرنی ہے تمہیں وہان چھوڑ کر مجھے دوسری طرف جانا ہے پھر … عیان نے کہا کلائی پر گھڑی باندھتے ہوئے … سامنے سے جواب نہ پاکر اس نے سر اٹھایا تو سامنے انشاء سر تھامے بیٹھی تھی …
“کیا ہوا انشاء , اب تک تیار نہیں ہوئی , دیر ہورہی ہے ہمیں … عیان نے پوچھا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے …
“کیا کروں میں خود تیار ہونے لگتی ہو آپ کی لاڈلی نازلی رونے لگتی دو دفعہ اس کے کپڑے بدل چکی اچھا خاصا دونوں نے زچ کیا ہوا ہے … اب اس کی حالت دیکھیں آپ … اب اس کا اشارہ جنید شاہ کی طرف تھا جو تین سال کا تھا اور سارا پاؤڈر خود پر گراچکا تھا ساتھ ہاتھوں سے منہ پر لگارہا تھا …
“میرے شہزادے نے بھی کپڑے خراب کردیئے ہیں …. وہ جنید شاہ کو پکڑے ہوئے بولا تھا … جو شرارتی نظروں سے دونوں کو گھورتا رہا … انشاء عیان کو گھوررہی تھی جبکہ وہ نظریں چراگیا مسکرا کر …
“اف میں تو تنگ اگئی ہوں ان دونوں کی شرارتوں سے … انشاء چڑکڑ بولی تھی ..
“اچھا ٹھیک ہے دونوں کو ریڈی کروادو میں دونوں پر نظر رکھتا ہوں … تب تک تم ریڈی ہوجانا … عیان نے مشورہ دیا … اسی وقت عمر کی کال ارہی تھی جس پر انشاء نے گھورا گھبرا کر وہ کال کاٹ گیا …
“اوکے ٹھیک ہے … وہ جنید کو تیار کروارہی تھی جلدی جلدی … ساتھ ہی ساتھ بڑبڑارہی تھی “آج ہی زینب بی بی کو جانا تھا گاؤں ,ورنہ وہ سنبھال لیتیں دونوں کو …
“عیان آپ نے دیکھا نہیں اف نازلی کو دیکھتے تو سہی ,دیکھیں کریم کھانے بیٹھ جاتی ہے جب موقع ملے , دیکھتے کیوں نہیں آپ ان شیطانوں کو … وہ جنید لگ بھگ تیار کرچکی تھی جب اس کی نظر ایک سال کی نازلی پر جو کریم کھانے میں مصروف تھی ساتھ کپڑے خراب کرچکی تھی …
جنید شاہ اسے تھما کر اب نازلی کو تھام گئی انشاء اور تنبہی انداز میں بولی “عیان اب اس کے کپڑے خراب ہوئے تو آپ گھر پر بیٹھ جانا دونوں بچوں کے پاس, میں چلی جاؤں گی علیزے کے پاس , میرا آج اس کے پاس ہونا ضروری ہے , سمجھے آپ …
“اچھا یار , ریلیکس ہوجاؤ , اب ایسا کچھ نہیں ہوگا …
کچھ لمحوں بعد وہ دوبارہ بولا …
“ویسے انشاء میں تو ایک اور بےبی کا سوچ رہا ہوں … عیان کے انداز میں صاف شرارت تھی پر انشاء اتنی تپی ہوئی تھی کہ بغیر سمجھے بولی …
“چپ کرجائیں , ایسا سوچیئے گا بھی مت , مجھے معاف کریں … سمجھ نہیں آتا کس پر گئے ہیں یہ دونوں … وہ چڑ کر بولی تھی …
“مجھ پر تو نہیں گئے میں اچھا خاصا پیدائشی شریف قسم کا رہ چکا ہوں … عیان ہنوز شرارت کے موڈ میں تھا وہ اب پہلے سے کافی بدل چکا تھا وہ اب ہنسی مذاق کرلیتا تھا …
“پتا نہیں کس پر چلے گئے ہیں یہ دونوں … انشاء بھی اتفاق رکھتی تھی اس کی بات سے اس لیئے ایسے بولی تھی , اب وہ نازلی کے کپڑے اتار کر دوسرے پہنا رہی تھی وہ اس کے ہاتھ اور منہ کو وائیپس سے صاف کرچکی تھی …
“تم پر اور ایمان پر گئے ہیں اور کس پر جانے ہیں … عیان نے شانے اچکا کر کہا ساتھ ہی وہ جنید کے گال کو چوما تھا …
ایک لمحے کو شدت سے دھڑکا انشاء کا دل … کتنا کچھ یاد آیا انشاء کو اس لمحے …
“عیان …. وہ بسس اتنا ہی کہے سکی … انشاء نے نظریں چرائیں اس لمحے … وہ آج بھی اتنی شدت سے یاد آیا اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ بھولنے جیسا نہ تھا … عیان نے ایک نظر اسے دیکھا اور نازلی کو اٹھالیا …
“اب جلدی سے خود تیار ہوجاؤ , عمر کی کالس ارہی ہیں … دیر ہورہی ہے مجھے … عیان نے کہا …
“ہمممم اوکے … انشاء کا بھاری لہجہ یہ ثابت کرنے کو کافی تھا آج بھی ایمان کا درد اس کے اندر تازہ تھا مرنے والے چلے جاتے ہیں پر زندہ لوگوں کو درد دے جاتے ہیں … ایسا روگ دیتے ہیں جو تاعمر ساتھ رہتا ہے … عیان کو بھی شدت سے اپنا بھائی یاد آیا تھا اس لمحے , یاد تو ہمیشہ رہنی تھی وہ تھا ہی ایسا …
وہ نازلی کو اسے تھماتی بولی … “پندرہ منٹ میں آتی ہوں …خیال کیجیئے گا بچے خود کو گندہ نہ کرلیں …
“ڈونٹ وری … جلدی آؤ … ریڈی ہوکے … عیان نے کہا …
@@@@@@@@@
وہ علیزے کے سامنے بیٹھی تھی پارلر والی کو ایسے انکسٹریشن دے رہی جیسے ماہر ہو وہ …
“یہ بندیا اس طرح فکس کریں … انشاء نے بتایا , علیزے اسے گھور رہی تھی جبکہ انشاء مسلسل اگنور کررہی تھی …
“اور یہ جھومر … پارلر والی نے پوچھا گھبرا کر کیونکہ اسے علیزے منع کرچکی تھی پر وہ پھر بھی انشاء سے پوچھ بیٹھی کیونکہ اس کی انوالومینٹ دیکھ کر …
“کہا تھا رہنے دو … پھر پوچھ رہی ہو … انشاء کچھ کہتی اس سے پہلے علیزے بولی تھی پارلر والی سے …
“کیوں رہنے دیں , یہ لیفٹ سائیڈ فکس کریں … پھر دوپٹہ سیٹ کردیں … انشاء نے حکمیہ لہجے میں کہا جبکہ اب علیزے نے دیکھا گھوری سے کام نہیں چل رہا تو چڑ کر بولی …
“انشاء مت بھولو , یہ میری دوسری شادی ہے پہلی نہیں سمجھی … علیزے نے زچ ہوکر کہا …
“علیزے , شادی شادی ہوتی ہے سمجھیں , پہلی دوسری کا فرق لوگون نے بنایا ہے … انشاء نے بھی جتاکر کہا …
پارلر والی نے حیرت سے دیکھا اس خوبصورت لڑکی کو جو بےانتہا حسن کی مالک تھی پر چہرے پر بے انتہا سنجیدگی لیئے ہوئے تھی اور بے ساختہ پوچھ بیٹھی …
“اور آپ کے ان کی بھی دوسری ہے کیا … اب کے انشاء نے گھورا پارلر والی کو , پر پارلر والی کا دھیان تو علیزے پر تھا …
“ہاں ان کی بھی دوسری ہے …
“تو پھر ٹھیک ہے … پارلر والی بولی تھی بےساختہ …
“تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھی , ہمیں دیر ہورہی ہے … انشاء پارلر والی سے بولی تھی …
علیزے کے چہرے پر تکلیف دہ اثار تھے جانے کیوں انشاء کو اپنا وقت یاد آیا ساتھ ہی ساتھ علیزے کی پہلی شادی کا وقت بھی , کتنی خوشی تھی اس وقت علیزے کے چہرے پر وہ شادی لندن میں ہوئی تھی اس وقت جنید صرف دو مہینے کا تھا تب بھی وہ اور عیان گئے تھے اسے لے کر خاص علیزے کے لیئے شادی سے پندرہ دن پہلے جبکہ عمر اور نازیہ شادی سے چار دن پہلے آئے پہلے آئے تھے اٹینڈ کرنے , وہ شادی ایک آئیڈیل شادی رہی تھی ڈھیر ساری رسمین ہر اک رسم انجوائے کرتی علیزے اور اس کا منفرد انداز سب نمایان تھا … کیا شادی تھی کتنے دن انشاء اور عیان ذکر کرتے رہے انہوں نے بےانتہا انجوائے کیا یہ ٹرپ …
کتنی عجیب بات تھی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ویڈنگ صرف ایک سال ہی چل سکی کیونکہ جب ایک سال اولاد نہ ہونے کی صورت میں دونوں نے ٹیسٹ کروائے … حمزہ کی رپوٹس نارمل تھیں جبکہ علیزے کو ڈاکٹر نے صاف بتایا کہ وہ ماں بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور ایسا کوئی علاج نہیں بنا جو اس کے مرض کو ٹھیک کرسکے … یہ جھٹکا دونوں کے لیئے بڑا تھا ہمیشہ حمزہ جو بہت بڑے دعوے کرتا تھا محبت کے سب دھرے کے دھرے رہ گئے , پندرہ دن بعد اس نے علیزے کو ڈائیورس پیپر دے کر اس رشتے کو ختم کیا اور علیزے خاموشی سے الگ ہوگئی بغیر کسی ترودو کے … ورنہ لندن میں اتنا آسان نہ تھا طلاق ہونا پر علیزے کے سرینڈر کرنے پر اتنا جلدی ممکن ہوا … حمزہ بغیر کچھ کہے یہ سب کرگیا اور علیزے کو شدید ذہنی اذیت دے گیا … وہ اندر ہی اندر اس کا احساس رکھتی تھی وہ تو سوچ چکی تھی اگر وہ دوسری شادی کرنا چاہے گا اولاد کے لیئے تو وہ کوئی رکاوٹ نہ بنے گی بلکہ اس کا ساتھ دے گی پر حمزہ نے تو اسے اس قابل بھی نہ سمجھا اور اس بات نے اسے اندر سے توڑ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کے طلاق کے دو دن بعد اسے شدید نروس بریک ڈاؤن ہوا …
گِل صاحب ٹوٹ کر رہ گئے اکلوتی بیٹی اور یہ اجڑی حالت نے ان کی کمر ہی توڑدی تھی … کسی اپنے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے عیان اور انشاء کو کال ملائی اور وہ دونوں واقعی اگئے , اس وقت دونوں نے بہت ساتھ دیا ان لوگون کا … ایک مہینہ لندن ٹھر کر انشاء اور عیان نے دوستی کا پورا حق ادا کیا تھا …
اب بھی یہ دوسری شادی پاکستان میں ہورہی تھی عیان اور انشاء کی کوشش کا نتیجہ تھی یہ شادی ورنہ علیزے راضی نہ تھی اس شادی سے پر وہ دونوں پیچھے پڑگئے آخر عیان خود اسے مباکر لندن سے پاکستان لایا تھا گِل صاحب مطئمن تھے اس سب سے کیونکہ اب وہ خود دل کے مریض تھے اس لیئے اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے تھے جلد سے جلد ….
” ماشاء اللہ … علیزے آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں … چلیں اب … دیر ہورہی ہے عیان کے میسیجز ارہے ہیں وہ بھی پہنچ جائیں گے جلد ہی عمر بھائی کے ساتھ …
علیزے نے ہونٹ بھینچے آنے والے وقت کا سوچ کر …
انشاء کی آنکھون میں کرب جاگا کیونکہ بہت کچھ یاد آرہا تھا اس لمحے … دونوں نے ایک دوسرے سے نظریں چرائیں اس لمحے …
@@@@@@@@@
“تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے عمر ,دیر ہورہی ہے یار چلنا ہے … عیان نے کہا اتے ساتھ ہی جلدی سے …
“اندھے ہو دکھائی نہیں دے رہا کہ میں ریڈی ہوں , یا پھر ایسا تو نہیں آنکھیں نہیں بٹن ہیں جو دکھائی نہیں دیتا … عمر ایسا جواب دیتا اگر وہ پہلے والا عمر ہوتا اگر تو … پر وہ تو پہلے والا عمر نہ رہا تھا اس لیئے بولا تھا کہ …
“میں ریڈی ہوں … عمر نے کہا سنجیدگی سے … وہ عمر جو صرف ہنستہ رہتا تھا اس کے ہونٹوں پر اب بھولے سے بھی مسکراہٹ نہ اتی تھی … کیسے اتی وہ ہنسی وہ مسکراہٹ جو نازیہ کے دم سے تھی جسے وہ کھوچکا تھا , ہاں وہ اپنی متاعِ جان , اپنی شریک حیات نازیہ کو کھوچکا تھا … جو منوں مٹی تلے سوئی پڑی تھی عمر کو زندہ لاش بناگئی تھی …
آج سے ایک سال پہلے جب نازیہ کی کیموتھراپی اسٹارٹ ہوئی تھی تب ہی اسے سمجھ اگیا وہ کینسر جیسے مرض سے لڑ نہیں پائے گی اور … تب ہی اس نے عیان کو بلا کر اپنی دل کی خواہش ظاہر کرگئی کہ “وہ علیزے سے عمر کی شادی کرواکر پرسکون ہوکر مرنا چاہتی ہے …
جب عیان نے کہا “ڈاکٹر پر امید ہیں آپ بچ سکتی ہیں بھابھی ایسے نہ کہیں …
“نہیں عیان بھائی , میں موت کی دستک سن سکتی ہوں , مجھے محسوس ہورہا ہے میں نہیں جی پاؤن گی اور اب , پلیز میرا یہ کام کر دیں , میں پرسکون ہو کر مرنا چاہتی ہوں … نازیہ نے تکلیف سے کہا …
“میری زندگی میں یہ کام ہوتے دیکھنا چاہتی ہوں کیونکہ میرے جانے کے بعد عمر نہیں کریں گے دوسری شادی پلیز … مرنے والے کی آخری خواہش تو دشمن بھی مان جاتا ہے یہاں تو محبوب شوہر کا معاملہ ہے وہ ضرور مانین گے … نازیہ کے ہر انداز میں نقاہت واضع تھی وہ نڈھال سی ہوگئی تھی اتنا بولنے میں …
“بھابھی عمر نہیں مانے گا … عیان نے نم آنکھون سے کہا …
“پلیز عیان بھائی , علیزے کو بلائیں اور منائیں پلیز … نازیہ نے دقت سے کہا …
“اور اگر آپ ٹھیک ہوگئیں تو … عیان نے کہا پر امید ہوکر پوچھا تھا کیونکہ ڈاکٹرس مسلسل تسلی دے رہے تھے جبکہ نازیہ کی باتوں میں واضع درد تھا …
“تو بھی علیزے کو اپنے حصے کی خوشیان ملیں گی … پلیز سوچ سمجھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے … نازیہ نے کہا وہ فیصلہ کرچکی تھی اور پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھی …
پھر ایک ہفتے کے اندر اس نے سب کو منالیا گِل صاحب مطئمن تھے اپنی بیٹی کے لیئے , جبکہ عمر ہونٹ بھینچے نکاح نامے پر سائن کررہا تھا … دوسری طرف علیزے بھی گھٹن محسوس کررہی تھی پر باپ کی التجاؤن نے ہونٹوں پر قفل لگادیئے تھے …
یوں ہسپتال میں ہی نازیہ کے سامنے نکاح ہوا تھا اتنے دنوں میں پہلی دفعہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی … ایک آسودہ سی مسکراہٹ اس کے شوہر اور دونوں بچون کی طرف سے مطئمن ہوگئی تھی وہ …
@@@@@@@@@@
دامن خالی ہاتھ بھی خالی دستِ طلب میں گردِ طلب
عمرِ گریزاں عمرِ گریزاں! مجھ سے لپٹ اور مجھ پر رو
وہ گہری نیند میں سوئی تھی ۔۔۔ اچانک اسے اپنے قریب کسی کا وجود محسوس ہوا ۔۔۔ جہاں تک اسے یاد تھا وہ تنہا کمرے میں سوئی تھی پھر کسی کا پاس آنا اسے چونکا گیا ۔۔۔ اس کی کمر سے تھامتا اسے اپنے قریب کرنا, وہ تڑپ اٹھی ۔۔۔
“کون ۔۔۔ وہ تڑپ کر بولی تھی لہجہ گھبرایا ہوا تھا …
“میرے سوا رات کے اس پہر اور کون یوں تمہارے پاس کمرے میں آسکتا ہے ۔۔۔ بھاری لہجے میں کہتا وہ اسے اپنے قریب تر کرنے لگا ۔۔۔
“آپ یہاں اس وقت میرے کمرے میں ۔۔۔ وہ حیران تھی اور بےیقین بھی ۔۔۔ ایک تو اس کا آنا اور دوسرا یوں حق جتانا ۔۔۔ وہ بسس اتنا ہی کہے سکی ۔۔۔ ذہن کچی نیند سے بیدار ہونے کی وجہ الجھا ہوا بھی تھا ۔۔۔
“ہاں تمہارا شوہر تمہارا مجازی خدا ۔۔۔۔ اس کے لہجے میں بولتا حق اور ملکیت کا احساس اور حق جتانے والے انداز ۔۔۔ وہ تڑپ ہی اٹھی تھی ۔۔۔ کتنے زخم جو ناسور بنے ہوۓ تھے ان کو ادھیڑ چکا تھا یہ شخص اس لمحے ۔۔۔
اسی لمحے وہ تڑپ کر اٹھی اور کمرے سے جانے کا فیصلہ کرگئی وہ اس ڈھیٹ شخص کے نا منہ لگنا چاہتی تھی اور نا کوئی بات بڑھانا چاہتی تھی ۔۔۔
“کہاں جارہی ہو ۔۔۔ اس نے تیز لہجے میں پوچھا …
وہ اس کو اگنور کرتی سلیپر پاؤں میں پہنتی اپنا ارادہ اس پر ظاہر کرگئی ۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ واقعی نکل جاتی اس کی پہنچ سے دور وہ اس کا بازو تھام گیا ۔۔۔
“کہاں جارہی ہو ۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے اتنا سفر کرکے آیا ہے شوہر نا چاۓ نا پانی کا پوچھا , اکڑ سے کمرا چھوڑ کر جارہی ہو ۔۔۔ وہ اب کے غصے سے بولا …
“میں کسی اور کمرے میں چلی جاتی ہوں مجھے نیند ارہی ہے , آرام کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ وہ نروٹھے پن سے کہے کر اپنی بیزارہت اس پر ظاہر کرگئی ۔۔۔۔ اس کا انداز ناگواری لیۓ ہوۓ تھا ۔۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے , لگتا ہے تمہاری ماں نے سہی تربیت نہیں کی تمہاری , کوئی بات نہیں , تم جیسیوں کو تو میں ۔۔۔۔ وہ طنزیہ لہجے میں بول رہا تھا وہ اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی ….
“تو جان چھوڑیں میری اگر اتنی بری لگتی ہوں ۔۔۔ وہ اس کی بات کاٹ کر بولی تھی غصے سے ۔۔۔۔ بمشکل ضبط کیۓ ہوۓ تھی ورنہ دل تو چاہ رہا تھا اپنی ساری بھڑاس نکال دے اس پر ۔۔۔
“چھوڑ ہی تو نہیں سکتا ڈیئر وائف , پر سدھار تو ضرور سکتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔ اب کے وہ اس کا بازو تھام چکا تھا روکنے کے لیئے جس کی وجہ سے وہ آخری لفظ نرمی سے بولا تھا ….
“بازو چھوڑیں میرا ۔۔۔ اس کا انداز روکھا تھا وہ تند لہجے میں بولی ….
“فی الحال تو بلکل بھی نہیں ۔۔۔ اس کی مذاحمت کو وہ انجوائے کررہا تھا وہ چاہ کر بھی خود کو اس کی مضبوط گرفت سے نکالنے میں ناکام ہورہی تھی اس لیئے غصہ بہت ارہا تھا اپنی بےبسی پر ….
“رات بھی ہے دیکھا جاۓ تو موقع بھی ہے دستور بھی ہے تنہائی میاں بیوی کے خاص لمحوں کو امر کرتی ہے ۔۔۔ کیا خیال ہے پھر ۔۔۔ اتنا کہتا وہ اسے نظریں جھکانے پر مجبور کرگیا , لمحوں میں فیصلہ کرتے ہوۓ اس کے گلے سے دوپٹہ نکالتا اسے بیڈ پر گراکر لیمپ آف کرگیا ۔۔۔۔
وہ تڑپ اٹھی اس کے لمس پر , پر وہ جابجا اس پر اپنا حق جتارہا تھا ۔۔۔ اپنے اندر ہمت جمع کرتی وہ اس کے سینے پر دباؤ ڈال کر اسے خود سے دور کرکے بیڈ پر سے اٹھی اور غصے کی شدت سے بولی ۔۔۔۔
“پلیز یہ سب نہیں , جاکر یہ سب اپنی پہلی بیوی کے ساتھ کریں مجھے بخش دیں ۔۔۔۔ یہاں آنا میری مجبوری تھی صرف ورنہ آپ سے جڑا کوئی تعلق اب میرے لیۓ معنی نہیں رکھتا ۔۔۔ میں نکل آئی ہوں اس فیز سے ۔۔۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش رہیں مجھے بخش دیں خدارا مجھے بخش دیں اس آذیت سے ۔۔۔
وہ ہاتھ جوڑتی بولی وہ اس کے نڈر انداز دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔ وہ جو کبھی اس کے سامنے یوں نہ بولی تھی ہمیشہ چپ رہتی تھی دوسروں کے لیۓ چاہے جیسی بھی تھی وہ پر اس کے لیۓ ہمیشہ خاموش بیوی کا رول پلے کرتی آئی تھی شاید اس میں زیادہ ہاتھ دونوں کے ایج ڈیفرینس کا بھی تھا وہ اس سے عمر میں اچھا خاصا بڑا جو تھا ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“چلو لڈو کھیلتے ہیں … سب کزنز نے کہا …
یہ گیم چار پلیئر کھیلتے دو دو پارٹنر بن کر جبکہ باقی ایڈینس کا کردار نبھاتے , ہر کوئی اپنے فیورٹ کو سپورٹ کرتا یوں گڑگڑا کر دعائیں مانگیں جاتیں جیسے ورلڈ کپ چل رہا ہو …
ایسا تھا ان کزنز کا ٹولا … بچپن سے جوانی تک ساتھ کھیلتے مستی کرتے گھومتے پھرتے آئے تھے … بس چھٹیوں میں ملتے تھے …. سب کزنز کراچی میں ملتے تھے کیونکہ یہی ان سب کا سینٹرل پوائینٹ جہاں ان کے بزرگ رہائش پذیر تھے ….
“سنو میری پارٹنر ماہین ہی ہے ورنہ مجھے نہیں کھیلنا … ذیشان عرف شانی نے کہا ہمیشہ کی طرح ….
“ہاں ہاں جانتے ہیں جو پارٹنر والے گیمس ہیں اس میں شانی صاحب کی پارٹنر ماہین نا ہو تو شانی جناب کھیلتے نہیں … یہ انوشہ نے کہا منہ بناتے ہوئے …
“ہاں یہ تو ہے … ریما اور طیبہ نے بھی تائید کی اس بات کی …
کسی گھر کے فنکشن میں ڈانس پارٹنر بننا ہو بچپن میں یا کوئی کھیل ہو بچپن سے آج تک شانی کی پارٹنر ماہین ہی ہوتی تھی کیونکہ شانی کے لیئے وہ کھیل معنی نہیں رکھتا تھا جو بغیر ماہیں کے ہو … سب سے زیادہ ناگوار کسی کو گزرتا تھا ماہیں اور شانی کا پیئر تو وہ نور کو تھا کیونکہ نور اور شانی کی عمر میں ایک سال کا فرق تھا جبکہ ماہیں اس سے تیں سال چھوٹی تھی … تو نور کا خیال تھا شانی کو لڑکوں کے علاوہ کسی فیمل کزن سے اٹیج ہونا چاہیئے تو وہ نور ہونی چاہیئے تھی جبکہ نور اور شان کی فیملیز لاہور پذیر تھی ان کا ملنا بھی زیادہ ہوتا تھا جبکہ ماہین تو کراچی میں رہتی تھی کم ملتی تھی …
یہ بڑا سا گھر جس کے بڑے شبیر احمد آفندی اور ان کی اہلیہ نزیران آفندی تھیں جن کے پانچ بچے تھے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ….
بڑے بیٹے مدثر آفندی جن کا ایک ہی بیٹا تھا زبیر آفندی تھا جو لندن میں رہائش پذیر تھے پچھلے بارہ سالوں سے … اس سے چھوٹا بیٹا نادر آفندی جن کے چار بچے تھے ریحان , طیبہ , ماہین اور سب سے چھوٹا علی تھا …
سب سے چھوٹا بیٹا قادر آفندی جس کی ایک ہی بیٹی تھی انوشیہ …
تینوں بھائیوں کی سب سے بڑی بہن شائستہ آفندی تھیں جو تھوڑا دور کے رشتیداروں میں بیاہی گئیں تھیں جن کے پانچ بچے تھے دانش , ذیشان پھر ریما اس کے بعد تیمور اور دعا تھے … جو لاہور میں رہائیش پذیر تھیں …
سب سے چھوٹی بیٹی شاہدہ تھی جس کے دو ہی بچے تھے نور اور ارمان …. یہ بھی لاہور میں رہائیش پذیر تھیں … اس طرح دونوں بہنوں کی آپس میں خوب بنتی تھی ایک دوسرے سے زیادہ ملنا جلنا رہتا تھا …
یہ تھا ان کزنز کا ٹولا جس میں سب سے بڑا دانش تھا جو ریزروو نیچر کا مالک تھے … اسی کا ہم عمر ریان آفندی اور ریحان آفندی تھے … مدثر آفندی نے ایک ہی وقت میں تیں بچوں کی شادیاں کروائیں تھیں اس لیئے بچے بھی تھوڑے مہینوں کے فرق سے سب کے یہاں اولادیں ہوئیں تھیں …
زبیر اور ریحان پھر بھی باقی کزنز کے ساتھ گھل مل جاتے پر دانش آفندی نے اپنی طبیت پائی تھی ریزرور رہنا کم ہی کسی سے بات کرنا بچپن سے اپنے باپ طاہر آفندی سے اٹیج رہا اس لیئے کم عمری میں میچیورٹی اگئی تھی ….
باقی بچے مل جل کے کھیلتے تھے … سب سے چھوٹی دعا تھی خاندان کی …
اب کزنز بڑے ہوگئے تھے … آج بھی اگر وہ ملتے تھے نادر آفندی کے گھر کیونکہ اپنا ابائی گھر آج بھی نہ چھوڑا تھا انہوں نے … دونوں بہنیں بچوں سمیت ان کے گھر اکر ٹھرتیں تھیں ماں اور باپ کے گزرنے کے بعد جبکہ باقی دونوں بھائی باہر ملک میں رہائیش پذیر تھے …
نادر آفندی کا فخر تھیں ان کی اہلیہ سعدیہ آفندی جنہوں نے سارے خاندان کو جوڑے رکھا کبھی کسی کی آمد پر ناخود ناراض ہوتیں نا اپنے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ وہ غصہ ہوں ہمیشہ ان کے یہاں رش لگتا تھا سب کا … وہ اور ان کے بچے دل سے ویلکم کرتے تھے گھر آئے رشتیداروں کا …
@@@@@@@@@@
اس بار بھی بہنیں رہنے آئیں تھیں … رات کے کھانے کے بعد سب بچے مل بیٹھ کے یا موویز دیکھتے یا لڈو کھیلتے یا باتیں کرتے یا کوئی انٹرٹیمنٹ لگائے رکھتے تھے … جبکہ بڑے مل بیٹھ کے آپس میں باتیں کرتے تھے …
ہمیشہ کی طرح قہوہ پیتے تھے آج رات قہوہ پیتے ہوئے اچانک شائستہ نے کہا …
“نادر جانتے ہو میں نے اپنے ذیشان کے لیئے نور کا ہاتھ مانگنے کا سوچا ہے , تم کیا کہتے ہو اس بارے میں … ان کے لہجے میں واضع خوشی جھلک رہی تھی اس رشتے کو لے کر …
شائستہ نے اپنے چھوٹے بھائی سے پوچھا …
“آپا ماشاء اللہ اپنے گھر کی بیٹی ہے اپنوں میں جائے اس سے اچھی بات کیا ہوگی … ویسے آپ سے فون پر میں نے کہا تھا طاہر بھائی سے پوچھ لیں تو میں اپنے ریحان کا ہاتھ مانگنے آؤں ریما کے لیئے … آپ نے بتایا نہیں پھر …
“نادر سچ میں تم نے میرا دل خوش کیا میری بیٹی کے لیئے کہے کر اس سے زیادہ کیا سکوں ہوگا میرے لیئے میری بیٹی میرے بھائی کے گھر ہو … پر طاہر نے کہا ہے کہ کیا یہ اچھا نہیں ہم تم سے دوہرا رشتہ قائم کرلیں دانش کے لیئے ماہیں کا ہاتھ مانگنا چاہتے ہیں ویسے اگر تم نے طیبہ کا رشتہ نہ کیا ہوتا تو یقینن ہم طیبہ مانگتے پر بحرحال ماہیں بھی ہماری بچی ہے تو اس لیئے دانش کے لیئے ماہیں کا ہاتھ مانگتے ہیں …
“پر آپا عمروں کا فرق بہت ہے … انہوں ںے فکر سے کہا … کیونکہ یہی ایک مسئلہ تھا ورنہ تو ہر لحاظ سے دانش آفندی خاندان کا لائق لڑکا تھا …
“نادر اتنا زیادہ بھی نہیں ہے … اگر تم سوچو دس سال اتنا بڑا فرق بھی نہیں … دیکھا جائے تم اور بھابھی میں اتنا ہی فرق تھا اور دیکھ لو خاندان میں سب کا فیورٹ کپل رہا ہے آج تک تم دونوں کا … یوں تو دونوں میں آٹھ سال کا فرق تھا جسے شاہدہ نے ابھی بڑھا چڑھا کے دس کہے دیا …
“پر آپا میں سوچ کے پھر بتاؤں گا …
پھر تین دن مسلسل وہ اپنے بھائی کو قائل کرتی رہیں ساتھ ہی اپنے بڑے بھائی کو اعتماد میں لیا ہوا تھا جنہوں نے بھرپور حمایت کی کہ گھر میں ہی رشتہ ہوجائے اس سے اچھی کیا بات ہے کیوں خاندان سے باہر اپنی بچی دیں … دونوں بھائی اور بہن نے آخر ان کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے …
“سچ میں نادر , دانش جیسا کامیاب بزنس مین , لڑکے کا رشتہ میری بیٹی کے لیئے آتا ایک منٹ دیر نہ کرتا ایکسیپٹ کرنے میں …. خاندان کا سب سے لائق بچہ ہے … خوشنصیبی ہوگی یہ ماہین کی جسے ایسا جوڑ ملا ہے … یہ نادر آفندی کے بڑے بھائی نے کہے تھے الفاظ ….
یوں بڑوں میں آپس میں رشتے طے ہوگئے تھے بچوں کے جن سے بچے بےخبر تھے …
@@@@@@
“ڈیڈ آئے تھنگ یہ مناسب نہیں , مجھے ماہین پسند نہیں کیونکہ اس میں ابھی بچپنا ہے … میرے ساتھ سوٹ نہیں کرے گی … دانش نے کہا پر انداز میں ناگوار پن تھا …
“دانش , یہی بات ریما کے لیئے میں سوچتا ہوں وہ جذباتی بہت ہے تھوڑی برداش کی بھی کمی ہے , میں ایسے ہی اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں کرنا چاہتا وٹا سٹا کرنے سے بہت سے فائدہ ہیں اور مجھے یہی مناسب لگ رہا ہے یہ ریما کے حق میں بہتر ہوگا اور تمہارے بھی … طاہر آفندی نے کہا …
“اف بابا پر ….
“بھائی بہنوں کے لیئے بہت کچھ کرتے ہیں تم ایک رشتے کی حامی نہیں بھر رہے … مجھے ریما کی تیز طبیت کی وجہ سے دھڑکا لگا رہے گا کہ کبھی بھی وہ اپنے لیئے مشکلات کھڑی کرسکتی ہے جبکہ تمہارے اور ماہین کی وجہ سے مجھے تسلی رہے گی کہ کم ازکم جو بھی حالات ہونگے ریحان اور اس کے گھر والے میری بیٹی کے لیئے مشکلیں کھڑی نہیں کریں گے … طاہر نے اپنے بیٹے کو سمجھایا …
“پر بابا … دانش نے چڑکر کچھ کہنا چاہا پر وہ اس کی بات کاٹ کر بولے …
“پلیز دانش آج تک تمہاری مانتے آئے ہیں کبھی ایک بات ہماری بھی مان لو … وہ بسس دیکھتا رہ گیا اپنے باپ کو جبکہ دوسری طرف وہ اس کی چپ کو اس کی حامی سمجھ رہے تھے …
@@@@@@@@@
“موم ایسے کیسے ہوسکتا ہے … ذیشان نے کہا …
“بیٹا تمہارے ماموں مان گئے ہیں ماہیں اور دانش کے لیئے اس لیئے ہم نے تمہارا رشتہ نور کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے … شائستہ آفندی نے کہا نرمی سے …
“ماموں مان گئے ہیں , ایسے کیسے … ماہیں سے پوچھا ہوگا انہوں نے … ذیشان نے پر سوچ انداز میں کہا …
“شان تم بتاؤ میں کیا کروں … ایک ماں نے اپنے بیٹے سے کہا … ذیشان باپ سے زیادہ ماں سے اٹیج تھا جبکہ اس کا بڑا بھائی دانش باپ کا لاڈلا تھا …
“مجھے نہیں پتا آپ جائیں یہاں سے اس وقت بسس … شان نے دکھ اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں کہا …
ان کے جاتے ہی وہ نڈھال ہوکر بیڈ پر گرا ایسا لگا دل اتھا گہرایوں میں ڈوبا ہو جیسے … سانس گھٹنے لگی ہو جیسے … دل پے آری چلائی ہو کسی نے …
“یا اللہ کیا کروں کیسے برداش کروں گا اسے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ , مجھے سوچ کر ہی سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے کیا کروں کیا کروں … یا اللہ کیا کروں میں مرجاؤں … جس کے بغیر میرا ہر کھیل ادھورا رہتا تھا وہ کھیل نہیں کھیل پاتا تھا بچپن میں اگر وہ میری پارٹنر نہ ہو , تو اس کے بغیر زندگی کیا ہوگی , کیا ہوگی وہ زندگی جس میں وہ نہیں , اسے کسی اور کا لائیف پارٹنر دیکھا اس سے بڑی بھی کوئی اذیت ہوگی , اس سے بڑا بھی کوئی خسارہ ہوگا …
مجھے کوشش کرنی ہوگی ماہیں سے بات کرنے کی … اس نے سوچا … خود کو مطئمن کرنے کی کوشش کی تھی اس نے پر دل تھا کہ درد سے بھرگیا تھا ….
@@@@@@@@@
محبت ٹھیک ہے , مگر باپ کی تم
فقط بیٹی ہی نہیں , دستار ہو تم
“یاد رکھنا ماہیں میں نے سارے خاندان کی مخالفت مول کر تم کو یونیورسٹی بھیجا لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کو بھیج رہا ہوں , کبھی کچھ ایسا نہ کرنا کہ کوئی مجھے کہے کہ بیٹی کو لڑکوں کے ساتھ پڑھایا دیکھو یہ دن دکھا رہی ہے تم کو … اپنا اور میرا مان بنائے رکھنا میری بیٹی … نادر آفندی نے کہا تھا اپنی لاڈلی بیٹی ماہین سے …
ماہیں کے کانوں میں آواز گونجی اپنے باپ کے کہے لفظون کی … دل میں ٹیس سی اٹھی …
اسی لمحے اسے ایک اور بات یاد آئی جو اس کے بابا نے بتائی تھی …
“ماہین , آپا نے کہا وہ ذیشان اور نور کا رشتہ طے کرچکی ہیں … ریحان اور ریما کے رشتے کے ساتھ ساتھ تمہارا اور دانش کا رشتہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو بیٹا میں نے ہاں کردی تمہارے تایا اور چچا سے ڈسکس کرنے کے بعد …
“ذیشان اور نور کا رشتہ طے ہوچکا ہے پھر میں انکار کیوں کروں جبکہ باباجان بھی خوش ہیں اس رشتے سے اور کیا ریزن دوں گی … یہ کہ مجھے لگا پھپھو کے گھر سے اگر میرا رشتہ آیا تو وہ شانی کا ہوگا … ہاں یہ کہوں کہ اس کی مبہم انداز میں کہی باتوں سے آج تک یہی سمجھتی رہی کہ اس کی رئیل لائف پارٹنر میں ہی بنوں گی …. کتنی بےوقوف ہوتیں ہیں ہم لڑکیاں … ہاں میں بےوقوف ہی تھی جو یہ سمجھتی رہی …. وہ روتی رہی تڑپ کر ….
“مجھے ہاں کردینی چاہیئے بابا کو , مجھے بابا کے فیصلوں کا مان رکھنا چاہیئے اور خاندان میں سرخرو کرنا ہے ان کو …
اس نے فیصلہ تو کرلیا پر دل جو خون کے آنسو رویا اس کا کیا کرتی …
“بسس آج کی رات تمہارا ماتم ضرور کروں گی کیونکہ محبت کی سمجھ آئی تب اس کا پہلا احساس تم نے ہی کروایا مجھے , میرے لیئے ہر جگہ اسٹینڈ لینا , تمہارا بےخود ہوکر دیکھنا اور میرا نظریں چرانا , میں اتنی خوبصورت نہیں ہوں جانتی ہوں پھر بھی مجھے حسین ترین محسوس کروانا …. یہ سب تمہارا مرہون منت ہے شانی , وہ لفظ جو محرم ہونے کے بعد تم کو بتانے تھے مجھے , آج ان کو دفن کررہی ہوں تو ان پر ماتم کرنا تو بنتا ہیں نا … وہ تکیئے میں منہ چھپاکر سسک اٹھی … اپنا بھرم رکھ کر جینے والے تاعمر تنہا رہ جاتے ہیں ان بدنصیبوں کو کندھا کہاں میسر آتا جس پر روکر اپنا غم ہی ہلکہ کرسکیں .. یہ درد بھی تنہا جھیلنا پڑتا ہے ….
کتنی مختصر تھی میری محبت کی داستان
وہ ملا بھی نہیں , اور بچھڑ بھی گیا
@@@@@@@@@
“پاغل ہو انکل کو کیوں ہاں کہا , بولو …. انوشہ نے کہا چڑ کڑ وہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی اس لیئے اس کے لیئے فکرمند تھی … اس کی آنکھیں اور کان تو گواہ تھے , جب جب شانی اسے اپنی پارٹنر بنانے کی ضد کرتا تھا تو وہ اس کے چہرے کے انوکھے رنگ پھر اپنے خوشی کے تاثرات چھپانے میں ہلکاں ہوتی ماہین … ہاں سب یاد تھا اسے … جانے کیوں انوشہ کو شدت سے دکھ نے گہرا تھا …. اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ شانی اور ماہی کو کوئی الگ کر سکے نہیں اس کے لیے تو شانی اور ماہی ایک ہی تھے یہ سب کیسے ہو گیا یقین نہیں آرہا تھا …
کبھی کسی نے نہیں کہا کہ ذیشان ماہی کو پسند کرتا ہے نا ماہی نے کسی کے سامنے اظہار کیا تھا , پر سب کو اندازہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں … اوپر سے ایک ہی خاندان کے ہیں تو ان کے بیچ کیا رکاوٹ آئے گی … ماہین کی بیسٹ فرینڈ تھی انوشہ پھر بھی اس کی ہمت نہ ہوئی کہ کبھی اسے کہہ سکے کہ وہ مجھے اندازہ ہے تم دونوں پسند کرتے ہو ایک دوسرے کو … نہ ذیشان نے کسی کو بتایا وہ ماہین کو کتنا پسند کرتا ہے … پر وہ اپنے ہر انداز سے ظاہر کرتا تھا کہ اس کے لیئے ماہین کتنی اہمیت رکھتی ہے اسی لیئے سب یہی سمجھتے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ویسے بھی خاندان کی تو کوئی رکاوٹ ہو گی بھی نہیں تو ان کا ایک ہونا تو ممکن ہی لگا سب کزنز کو … بسس انتظار تھا کب ان کے رشتے کے لڈو بٹتے ہیں …
جیسے انوشہ کو پتا چلا دانش بھائی اور ماہین کا رشتہ ہونے لگا ہے وہ دنگ رہ گئی … رات کیسے کٹی انوشہ کی وہی جانتی تھی اگلے دن شام میں پہنچ گئی اس ظالم , اناپرست اور خودار لڑکی کے پاس کہ وہ انکار کردے … نا کرے یہ رشتہ …
“پھپھو نے اتنے مان سے مانگا ہے اس لیئے ہاں کردی کیونکہ شانی کا رشتہ نور کے ساتھ الریڈی طے ہے … ماہی نے یاسیت سے کہا …
انوشہ اسے دیکھتی رہ گئی ہاں ویران لگ رہیں تھیں ماہی کی آنکھیں آنوشہ کو …
“ماہی ایسا پاغل پن نہ کرو یار … انوشہ اسے اکثر ماہی کہتی تھی …
“پاگل ہو تم انوشی کی بچی ایسا کچھ نہیں سمجھی … ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو … ماہی سنبل کر بولی تھی …
“مجھے یقین ہے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جلد ہی تمہیں پتا چل جائے گا کہ تمہیں پسند کرتا ہے شانی اس کا ہر انداز چیخ چیخ کر بولتا تھا … انوشہ نے کہا یقین سے …
“پاگل ہو تم بالکل پاگل ہو تم …ایسا کچھ بھی نہیں دیکھ لینا جلد ہی ذیشان اور نور کی مگنی ہوجائے گی تب یقین کرلینا … خدا کا واسطہ ہے اب یہ بکواس بند کرو , کسی کے سامنے نا دہرانا یہ بکواس سمجھی …. ماہی نے اسی کے انداز میں تند لہجے میں کہا اس سے کیونکہ وہ اس کے بند زخمون کو ادھیڑ رہی تھی … کتنی مشکل سے خود کو منایا تھا ماہی نے ..
انوشے جو اس کے روبرو بیٹھی تھی ایک دم اس کے قدموں میں آکر بیٹھی دوزانو ہوکر اور اس کے دونوں ہاتھ تھام کر شدت سے بولی … “خدا کا واسطہ ہے کبھی بھی دانش بھائی سے شادی مت کرنا , پلیز میں تمہیں دل سے کہے رہی ہوں وہ شخص تمہارے قابل نہیں ہے … اتنا خود پرست انا پرست ہے قسم سے مجھے تو خودغرض لگتا ہے اوپر سے اتنا روڈ خود پر اکڑ کرنے والا تم اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور سب سے اہم بات اتنا بڑا عمر کا فرق … پلیز انکار کردو …
اس کے لہجے میں دکھ تھا اپنی دوست کے لیئے, ماہیں خالی نظروں سے دیکھتی رہ گئی اسے …
جاری ہے ….
