Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode

عرشی نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا ۔ اپنے گناہوں کا اطراف کرلیا تھا ۔ اپنے مافیا
کے ساتھیوں کے خلاف پولیس کی مدد کی ۔ پولیس نے عرشی کی مدد سے ایک پورا گرہوں
کو گرفتار کرلیا تھا ۔ بہت ساری لڑکیاں پولیس نے بازیاب کرائی ۔
عدالت نے عرشی کو بیس سال کی
قید کی سزا سنائی گئی ۔ اور 5 لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا ۔ عرشی کی گرفتاری کی
خبر دیکھ کے ارم کو بہت افسوس ہورہا تھا ۔ ارسلان ارم اور آیت کو عرشی سے
ملانے جیل لیے کے گیا تھا ۔ ارم اور آیت مجھے معاف کردو میں تمہاری مجرم ہوں
عرشی روتے ہوئے اپنے ہاتھ جوڑ کے بولی ۔ ارم اور آیت افسوس سے عرشی کو دیکھ
رہی تھی ۔ ہم نے آپکو ہمیشہ اپنی سگی ماں مانا جبکہ آپکے دل میں ہمارے لئے
نفرت بھری تھی۔ آپ کی وجہ سے ہماری ماں کی جان ہمارے باپ نے لے لی۔ لیکن پھر بھی
آپکے دل میں ہمارے لئے نفرت کم نہیں ہوئی ۔ آپ ہمارے سامنے ماں ہونے کا ڈھونگ
کرتی تھی ، پیٹ پیچھے ہمیں بیچنے کی سازش کررہی تھی ۔ لیکن آپ شاید بھول گئ تھی
ہمارا اللہ ہمارے ساتھ تھا۔ أسنے آپکی سازشوں کو ناکام بنادیا ۔ لیکن آپ تب بھی بازی
نہیں آئی اور ارم کو بیچنے کی سازش کرنے لگی ۔ آیت نفرت سے عرشی کی طرف دیکھتے
ہوئے کہا ۔ عرشی ندامت سے سر جھکا لیتی ہے ۔ میں مانتی ہوں میں نے غلط کیا
ہاشم بیگ نے تمہاری ماں سے دولت کیلئے شادی کی تھی ۔ آسیہ معذور تھی کوئی اس سے
شادی نہیں کرنا چاہتا تھا، ہاشم بیگ اور میں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے ۔ تمہاری
ماں ہمارے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔ میں نے اور ہاشم نے مل کے تمہاری ماں
کی دولت ہتھیانے کا پیلن بنایا ۔ ہاشم نے آسیہ کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا لیا تھا
شادی کے بعد ہاشم کو تمہاری سے محبت ہونے لگی تھی ۔ وہ آسیہ کو چھوڑنا نہیں
چاہتا تھا ۔ آیت کی پیدائش کے بعد ہاشم اور آسیہ کا رشتہ اور مضبوط ہوگیا تھا
آسیہ جتنی خوبصورت کیوں نا ہوں ۔ اسکے اندر ایک خامی تھی أسکی معذوری
ہاشم بیگ کو آسیہ کے ساتھ کہی بھی جانے میں شرم آتی ۔ آسیہ پھر سے ماں بنے والی تھی
لیکن ہاشم بیگ آسیہ کی معذوری سے اکتا گیا تھا ۔ وہ آسیہ سے جان چھوڑانا چاہتا تھا
ہاشم بیگ پھر سے میرے ساتھ تعلقات بحال ہونے لگے ہاشم نے میرے کہنے پہ
آسیہ کو کھانے کے ساتھ تھوڑا تھوڑا زہر دینے لگا جسکی وجہ سے آسیہ بیمار رہنے لگی
آسیہ ارم کی پیدائش کے وقت بہت کمزور تھی ۔ وہ ارم کی پیدائش کے بعد وہ مرگی
عرشی شرم سے سر جھکا کے ساری سچائی ارم اور آیت کو بتائی ۔ مجھے
اپنے گناہوں کی سزا مل گی آج میرا بیٹا بھی نہیں رہا ۔ اسد کو میرے گناہ کھاگے
خدا کیلئے مجھے معاف کردوں ۔ عرشی پاگلوں کی طرح روتے ہوئے بولی ۔
آپ نے جو کیا آپکو اسکی سزا مل گی ۔ میں آپکو اللہ کی خاطر معاف کرتی ہوں آیت روتے
ہوئے کہا ۔ ارم ارسلان ارم کے بازو پر زور دیتے ہوئے کہا ۔ میں نے بھی آپکو معاف کیا
ارم بولنے کے ساتھ وہاں سے چلی جاتی ہے اور آیت اور ارسلان ارم کے پیچھے جاتے ہیں
پیچھے جیل میں کھڑی عرشی اپنے گناہوں کی معافی ملنے پر زور زور سے رونے لگی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
علیشا تم کب تک ایک سیراب کے پیچھے بھاگو گی؟ انعم اپنی بیٹی کو سیری لک
کھلاتے ہوئے بولی۔ بھابھی آپ بھی مجھے سمجھنے لگی ۔ علیشا منہ بنا کے بولی ۔ دیکھو
علیشا اشعر تمہارے نصیب میں نہیں ہے۔ میری مانو حذیفہ سے شادی کیلئے ہاں کردو
انعم علیشا کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔ بھابھی پتا ہے میں کیا سوچتی ہوں۔ کاش میں
أس ہاشم بیگ کی بیٹی ہوتی تو آج اشعر سے میری شادی ہوجاتی ۔ اشعر آج میرا ہوتا
علیشا تلخی سے مسکراہتے ہوئے کہا ۔ بس کردو علیشا کیا پاگل پن ہے یہ ۔ تم کو کیا
لگتا ہے آیت کی زندگی میں سب کچھ آسان تھا ۔ أسکے باپ نے أسکی ماں کی جان لی تھی
اشعر اور آیت کے تعلقات کوئی محبت والے نہیں تھے ۔ ان دونوں نے اپنے رشتے میں بہت
کچھ برداشت کیا ۔ اشعر نے آیت کو اتنی جلدی اپنی بیوی قبول نہیں کیا تھا ۔ اشعر کا
رویہ آیت کے ساتھ بہت برا تھا ۔ اب جاکے دونوں کے رشتے میں سکون آیا ہے
پیلز تم کوئی انکی خوشیوں کی دشمن نہیں بنوں ۔ تم حذیفہ کو ایک موقعہ دیے
کے تو دیکھو ۔ انعم علیشا سے بول کے جانے لگی ۔ بھابھی میں حذیفہ سے شادی کیلئے
تیار ہوں پیچھے سے علیشا اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔ انعم نےخوشی سے علیشا کو
گلے لگالیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آیت کے ساتھ بیٹھا موی دیکھ رہا تھا ۔ آیت تم نے اچھا کیا عرشی بیگم کو معاف
کرکے ۔ اشعر ٹی وی بند کرکے بولا ۔ آیت اشعر کے کندھے پر سر رکھ لیتی ہے ۔
اشعر مجھے پاپا کی فکر ہورہی ہے ۔ نجانے وہ کہاں ہونگے ۔ أنھوں نے جس عورت کی خاطر
میری ماں سے بے وفائی کی اسی عورت نے أنھیں چھوڑ دیا ۔ پاپا کسے انسان تھے
صرف اپنی ذات سے پیار کرنے والے ۔ آیت تلخی سے بولی ۔ تم یہ سب سوچ کے خود کو
پریشان نا کرو ۔ اشعر آیت کو ماتھے پر کس کرتے ہوئے کہا ۔ تم نے کھانا کھایا؟ اشعر آیت کے
بال پیچھے کرتے ہوئے پوچھا ۔ نہیں دوپہر سے کچھ نہیں کھایا ۔ دل ہی نہیں کررہا تھا
آیت معصوم شکل بناکے بولی ۔ تم بیٹھو میں تمہارے لئے کھانا گرم کرکے لاتا ہوں
اشعر کھڑے ہوئے کے بولا ۔ ٹھیک ہے آیت مسکراکے بولی ۔ اشعر پھر کچن کی طرف بڑھا
آیت صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں بند کرلی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ نے جب سے جم جوائن کیا تھا تب سے أسکے لئے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے
اریشہ اپنی پسند کا کچھ بھی نہیں کھاسکتی تھی ۔ اریشہ کو کیک، چاکلیٹ،
چاول، برگر ہر طرح کے جام فوڈ منع تھے ۔ فرمان اریشہ کو خوب تنگ کرتا تھا اور بھی
مزے مزے کے کھانے اریشہ سے بنواتا تھا ۔ اریشہ تو کھا نہیں سکتی تھی ۔ بس دل موند کر
بیٹھ جاتی تھی۔ فرمان مزے سے اریشہ کے سامنے بیٹھ کے بریانی کھا رہا تھا ۔
واہ واہ کیا مزے دار بریانی ہے دل قسم سے خوش ہوگیا ۔ فرمان بریانی سے لطف اندوز ہوتے
ہوئے بولا ۔ اریشہ کو یہ سب دیکھ کے منہ میں پانی آرہا تھا ۔ فرمان مجھے ایک چمچہ
بریانی تو چھکائے اریشہ خوش ہونٹوں پر زبان پھرتے ہوئے بولی۔ نہیں ہاتھ ہٹاو اپنے
اور یہ نظر لگانا بند کرو ۔ تمہارا ویسے ہی پانچ کلو وزن اتنی مشکلوں سے کم ہوا ہے
جب تک تم اسمارٹ نہیں ہوجاتی یہ سب کو کھانا دور کی بات تم دیکھو گی نہیں
فرمان بریانی کی پیلٹ اٹھاتے ہوئے بولا ۔ اریشہ رونی والی شکل بناکے فرمان کو
دیکھتی ہے ۔ اتنے میں تانیہ اور ہانیہ کی رونے کی آواز کمرے سے آنے لگی
جاؤ اپنی اولاد کو سنھبالو فرمان اریشہ کو تپاتے ہوئے کہا ۔ کیا مصیبت ہے
ایک تو مجھے کوئی کھانا کھانے نہیں دیتا ۔ اوپر سے ان دونوں کو رونے سے فرصت نہیں
اریشہ جل بھن کے بولی۔اور میں اکیلے انکو سنھبالینے والی نہیں ہوں آپ چلے ایک کو آپ
خاموش کرائے اریشہ فرمان کو ہلاکے بولی ۔ اچھا چلو فرمان منہ بنا کے بولا ۔
فرمان اپنی بریانی کی پیلٹ پکڑ کے اریشہ کے پیچھے کمرے کی طرف بڑھتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان تم ارم کے ساتھ آج ہسپتال جانا اسد کو حفاظتی ٹیکے لگاوانے ہیں ۔
ارفع کھانا میز پر رکھتے ہوئے کہا ۔ ماما آپ چلی جائے مجھے ایک اہم میشن کے لئے
وزیرستان جانا ہے ۔ ارسلان پیلٹ میں سالن ڈالتے ہوئے بولا ۔ ارسلان کتنے دن کے لیے جارہے ہو
افتخار صاحب روٹی ارسلان کی طرف بڑھتے ہوئے بولے ۔ پاپا ایک ہفتے کے لئے ہوسکتا ہے
ایک مہینہ بھی لگ جائے ۔ آپکو پتا ہے نا کبھی جانا پڑتا ہے ۔ ارسلان کھانا کھاتے ہوئے
کہا ۔ ارم منہ بنا کے ارسلان کی طرف دیکھتی ہے ۔ ارسلان آپکو بس اپنی ڈیوٹی کی پرواہ
ہے ۔ آپ کے پاس ہمارے لئے ٹائم ہی نہیں ہوتا ۔ ارم ارسلان سے شکوہ کیا ۔ ارم تم سمجھا کرو
یار ۔ میرے لئے میرا فرض سب سے پہلے ہے ۔ اور جب مجھے موقع ملتا ہے تو میں
پوری کوشش کرتا ہوں تم لوگوں کو وقت دئے سکوں ارسلان بیچارگی سے بولا
ارم منہ بناکے کمرے میں چلی گئی ۔ ارسلان پریشانی سے ارفع کی طرف دیکھتا ہے
تم پریشان نا ہوں میں سمجھاؤں گی ۔ ارفع ارسلان کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔
بیٹا وہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے ۔ دیکھو نا تم کو ارم کے ساتھ جانا چاہیے تھا
وہ جب فرمان اور اریشہ کو ایک ساتھ دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل چاہتا ہے اسکا
شوہر ایسے ہی اسکے ساتھ رہے ۔ افتخار صاحب بولے ۔ پاپا آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں
لیکن میں کروں اچانک ہی فون آگیا ۔ ارسلان پریشانی سے کہا ۔ اچھا تم کھانا کھاؤ
ارفع ارسلان سے بولی ۔ اور خود ارم کو منانے کمرے میں چلی گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے نا ارفع ارم کے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے کہا ۔ ماما
آپ دیکھے نا ارسلان کو صرف اپنی ڈیوٹی کی پرواہ ہے ۔ ارم ارفع کے گلے لگ کے بولی
میری جان تم بھی تو أسکی مجبوری کو سمجھو ۔ کونسا انسان ہوگا
جو اپنے گھر والوں کو وقت دینا نہ چاہے ۔ چلوں بس اپنا موڈ ٹھیک کرو چل کے کھانا
کھاؤ تم اگر أسکا حوصلہ نہیں بڑھاؤ گی تو وہ کمزور پڑ جائے گا ۔ شاباش اٹھو
ارفع پیار سے ارم سے بولی ۔ ارم ارفع کے ساتھ کمرے سے باہر جاتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آیت کو ہسپتال لیے کے آیا تھا ۔اشعر کیا بات ہے آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہے؟ آیت
پریشانی سے پوچھا ۔ تم چلوں تو سہی اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے ایمرجنسی روم میں
لے کے جاتا ہے ۔ ہاشم بیگ ہاسپٹل کے بیڈ پہ لیٹا تھا ۔ أسکی حالت دیکھ کے آیت
کو رونا آرہا تھا ۔ پاپا آیت کی آواز سنکے ہاشم بیگ اپنی آنکھیں کھولتا ہے
آیت م ج ھ ے م ع ا ف ک ر د و مجھے معاف کردو ہاشم ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا
پاپا میں نے آپکو معاف کردیا ۔ آیت روتے ہاشم بیگ کے سینے لگ کے بولی ۔
اشعر آیت کو ہاشم بیگ سے دور کرتا ہے ۔ دیکھے مسٹر اشعر آپ انھیں معاف کردے
تاکہ انکی روح آسانی سے نکل سکے ۔ کمرے میں کھڑے داروامان کے چیئرمین
نے کہا ۔ آیت روتے ہوئے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ اشعر پیلز پاپا کو معاف کردے
پیلز پاپا بہت اذیت میں ہے ۔ آیت سسکیوں سے روتے ہوئے اشعر کا ہاتھ پکڑ کے بولی
اشعر دیکھے آپکے ساتھ پاپا نے جو کیا آج أسکی سزا پاپا کو مل گی ۔ اشعر
آیت کی طرف دیکھ رہا تھا جسکا دل اپنے باپ کی تکلیف دیکھ کے تڑپ رہا تھا
ہاشم بیگ اشعر کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑتا ہے ۔ ہاشم بیگ کے آنکھوں سے ندامت کے آنسو
بہے رہے تھے ۔کل رات میری ماں میرے خواب میں آئی تھی ۔ وہ وہاں بہت خوش ہے
اس لے میں نے ہاشم بیگ تم کو معاف کیا ۔اشعر اپنی آنکھیں بند کرکے ضبط سے بولا
اشعر کے بولنے کے بعد ہاشم بیگ کا دم نکل جاتا ہے ۔ پاپا آیت زور سے رونے لگتی ہے
اشعر آیت کو سینے سے لگا کے چپ کراتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ کی موت کو تین مہینے گزر گئے تھے ۔ آیت پریگنیٹ تھی ۔ اشعر آیت کا بہت خیال
رکھا رہا تھا ۔ آیت ہمارے بی بی کی آنکھیں جو ہے تمہاری طرح ہونی چاہیے اور ناک
میری طرح ۔ او ر بال بھی میرے جیسے ہونے چاہیے اور کان بیشک تمہارے جیسے ہوں
اشعر ٹیراس میں آیت کے ساتھ کھڑے چائے پیتے ہوئے بولا، نہیں ناک میری طرح
ہونی چاہیے آنکھیں آپکی طرح ہونی چاہیے اور بال بھی میری طرح آیت
بسکٹ کھاتے ہوئے کہا ۔ آیت یہ کیا بات ہوئی ۔ اشعر منہ بناکے بولا ۔ کیا اشعر ہمارا پہلا
بی بی ہوگا تو کچھ تو میری پسند ہوں ۔ آیت روٹھتے ہوئے کہا ۔
عرفانہ جو انھیں بلانے آئی تھی ۔ ان دونوں کی نوک چونک دیکھ کے انکی لمبی زندگی کی
دعا مانگی ۔ اور واپسی اپنے کمرے میں چلی گئی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
علیشا اور حذیفہ کی شادی تھی ۔ اشعر اور آیت اسٹیج پر آکے حذیفہ کو مبارک باد دیتے ہیں
مختار مسعود بہت خوش تھے انکے بیٹے کو أسکا ہم پسند ساتھی جو مل گیا تھا
نکاح کے ہونے کے بعد علیشا کو حذیفہ کے ساتھ بیٹھا دیا گیا تھا ۔ علیشا کا
دل حذیفہ کے لیے دھڑک رہا تھا ۔ شاید یہ نکاح کے بول کا اثر تھا ۔
انعم ماجد کے ساتھ چلتی ہوئی اشعر اور آیت کے پاس آئی ۔ اشعر مجھے
معاف کردو میری وجہ سے تمہیں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ انعم شرمندگی سے بولی
بھول جاؤ پرانی باتوں کو ۔ میں خوش ہوں تمہاری اور ماجد لائف سیٹ ہوگی اشعر
مسکراتےہوئے کہا ۔ تھنکیس امجد مسکراتےہوئے اشعر کے گلے ملتا ہے ۔
اسٹیج پر کھڑی سلمہ ان چاروں کو گروپ فوٹو کیلئے بلا رہی تھی ۔
وہ چاروں اسٹیج کی طرف بڑھتے ہیں ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر ایمرجنسی روم کے باہر چکر لگا رہا تھا ۔ یار تم اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہو ۔ انشاءاللہ
سب ٹھیک ہوگا، فرمان اشعر کو تسلی دیتا ہے ۔ لیکن اشعر کی بے چینی ختم ہونے
کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ ایمرجنسی روم کا دروازہ کھولا ۔ ڈاکٹر باہر آئے
بہت بہت مبارک ہو بیٹا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر مسکراتےہوئے کہا ۔ اشعر خوشی سے ڈاکٹر کے گلے
لگ جاتا ہے، اور میری وائف؟ اشعر آیت کا خیال آتے ہی پوچھا ۔ وہ بھی ٹھیک ہے
ڈاکٹر نے کہا ۔ بہت بہت مبارک ہو یار فرمان بول کے اشعر کے گلے لگ گیا ۔
اشعر اپنے بیٹے کو اٹھا کے آیت کے پاس لیٹتا ہے ۔ بہت مبارک ہو اشعر آیت کے سر پر بوسہ
دیتے ہوئے کہا ۔ تھنکیس آیت اس پیارے سے تحفے کیلئے ۔ اشعر خوشی سے بولا
آیت جھکے اپنے بیٹے کو پیار کرتی ہے ۔ اور نم آواز سے بولی ماشاءاللہ
اشعر آیت کو خود سے لگا لیتا ہے ۔ اریشہ اسپتال میں سب کو مٹھائی بانٹ رہی تھی
بھائی مٹھائی کھائے اور بھابھی بہت بہت مبارک ہو ۔ اریشہ خوشی سے بولی
خیر مبارک آیت مسکراتےہوئے کہا ۔ فائنلی میں پھوپھو بن گی اریشہ خوشی سے
بچے کو پیار کرتے ہوئے بولی۔ فرمان اریشہ کو بچوں کی طرح خوش ہوتے دیکھ کے
مسکراتا ہے ۔ حمیدہ تانیہ اور عرفانہ ہانیہ کو لیے کے آیت سے ملنے آتی ہے
ارسلان ارم کے ساتھ اسپتال آیا ۔ ارسلان اشعر کو گلے لگا کے مبارک باد دیتا ہے
ارم آیت سے گلے ملتی ہے ۔ اور بچے کو گود میں لیے کے پیار کرتی ہے ۔ آپو
اسکی آنکھیں تو اشعر بھائی کی طرح بروان ہے اور بال بکل تمہارے جیسے ہے
ارم خوشی سے بولی ۔ آیت ہنسنی لگی ۔ ارفع اور افتخار بھی آگے تھے
چلوں بھائی گروپ فوٹو لیتے ہیں ۔ فرمان اپنا موبائل سے کیمرہ آون کرتے
ہوئے کہا ۔ پھر سب کی گروپ فوٹو لی گئی ۔ ارفع اور افتخار اشعر کو
خوش دیکھ کے مطمئن تھے ۔ ارفع دل میں سب بچوں کی خوشیوں کی دعا مانگی
“اختتام “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *