Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15
انعم روتے ہوئے اشعر پیلس میں آئی، آیت اشعر کے ساتھ شام کی چائے
لون میں بیٹھ پی رہی تھی، انعم کو روتا دیکھ کے آیت پریشانی سے
انعم کی طرف دیکھتی ہے، اشعر تم نے مجھے برباد کردیا میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل
نہیں رہی انعم روتے ہوئے اشعر سے بولی، کیا بکواس کررہی ہوں؟ اشعر انعم کی بات سنے کے
بعد غصے سے کہا، اشعر میں تمہارے بچے کی ماں بنے والی ہوں، انعم روتے ہوئے کہا
انعم کی بات سے اشعر اور آیت کو زبردست جٹکا لگتا ہیں، کیا بکواس کررہی ہوں
ہوش میں تو ہوں اشعر تیش میں آکے انعم سے بولا، میں سچ کہہ رہی ہوں
یہ میری میڈیکل رپورٹ ، انعم بیگ سے نکال کے رپورٹ آیت کی طرف
بڑھتی ہے، آیت اشعر اور انعم کو دیکھتی ہے پھر رپورٹ پڑھنے لگتی ہے، رپورٹ
پڑھتے ہی آیت کے قدموں تلے زمین کھسک گئی، آیت بے یقینی سے اشعر کی طرف دیکھتی
ہے ، اشعر آیت سے رپورٹ لیے کے پڑھنے لگا، یہ جھوٹ ہے آیت یہ رپورٹ نقلی ہے،
اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے بولا، اشعر تم آیت سے مت ڈرو تم بھول گئے تم نے
مجھ سے وعدہ کیا تھا تم آیت کو چھوڑ دوں گئے، انعم اشعر سے کہا
میں نے تم سے یہ کب کہاں؟ کیوں کررہی ہوں یہ سب؟ اشعر پریشانی سے بولا
آیت یہ جھوٹ بول رہا ہے، میرے پاس ثبوت ہے ۔ انعم آیت کو اپنی اور اشعر کی
تصویریں دیکھاتی ہے، اور موبائل فون میں ویڈیو تھی ،
انعم میں تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں، میں بہت جلد آیت کو چھوڑ دوں گا
اور تم سے شادی کرلو گا، اشعر پیار سے انعم سے بول رہا تھا ۔ میں نے آیت سے شادی صرف
اور صرف بدلے کے لیے کی ہے۔ اشعر بول کے انعم کو اپنے سینے سے لگا لیتا ہے ۔
آیت روتے ہوئے اشعر کی طرف دیکھتی ہے، آیت جھوٹ ہے، یہ ویڈیو جھوٹ ہے
اشعر پریشانی سے بولا، تم مجھے بتاؤ تم نے ایسا کہا تھا یا نہیں؟ آیت چیخ کے بولی
ہاں یا نہیں، ہاں میں نے کہا تھا لیکن آیت یہ پورا سچ نہیں ہے، اشعر اپنے بالوں
میں ہاتھ پھرتے ہوئے کہا! بس اشعر ندیز اور کتنا جھوٹ بولو گے، میں یہی سوچتی تھی
تم اتنے اچھے کیسے ہوسکتے ہو اپنی ماں کے دشمن کی بیٹی سے شادی کرسکتے ہو
کہاں ہوتے ہیں ایسے مرد ۔ آیت نفرت سے بولی، اشعر بے بسی سے آیت کی
طرف دیکھتا ہے ۔ آیت غصے سے اپنے کمرے میں جاتی ہے ۔ اور اپنے کپڑے بیگ میں ڈال
کے اور اپنا سارا سامان پیک کرکے گھر چھوڑ کے جانے لگتی ہے ۔ پیلز آیت روک جاو
میرا یقین کرو اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے بولا، آیت اشعر کا ہاتھ جٹک کے چلی گئی
اشعر آیت کے پیچھے بھاگتا ہے، آیت ایک کار روکے بیٹھ تھی۔ اشعر کار کے پاس
پہنچتا ہے روک جاؤ آیت یہ سب سچ نہیں تم بہت پچھتاوگی ۔ اشعر کار کو
پکڑ کے بولا، چلے آیت اشعر کو اگنور کرتے ہوئے ڈرائیور سے بولی، گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے
اشعر پاگلوں کی طرح کار کے پیچھے بھاگتا ہے ۔ پیچھے کھڑی انعم یہ سب دیکھ
کسی کو فون ملاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر بھاگتا ہوا گر جاتا ہے ۔ سب لوگ حیرت سے اشعر کی حالت دیکھ رہے تھے
اشعر مایوس ہوکے گھر واپس جانے لگا ۔ کیوں کہ آیت کی گاڑی آگے نکل چکی تھی
اریشہ رمشا کی طرف گی ہوئی تھی ۔ اشعر کی حالت دیکھ کے گبھرا جاتی ہے
بھائی یہ کیا حال بنا رکھا ہے آپ نے اور بھابھی کہاں ہے؟ اریشہ پریشانی سے
اشعر سے پوچھا، وہ مجھے چھوڑ کے چلی گئی اشعر سیڑھی پر بیٹھتے ہوئے کہا
کہاں چلی گئی؟ اریشہ ناسمجھی سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے
اشعر ساری بات انعم کو بتاتا ہے، کیا لیکن انعم نے یہ سب کیوں کیا، اریشہ پریشانی سے
کہا، اشعر غصے سے انعم کو آواز دیتا ہے لیکن انعم کب کی جاچکی تھی،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حمیدہ یہ فائل تمہارے پاس میری امانت ہے اظہرندیز حمیدہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
بھائی یہ فائل کس چیز کے لیے ہے، حمیدہ فائل دیکھتے ہوئے کہا! حمیدہ اس فائل میں
جائیداد کے کاغذات ہیں ۔ میں نے امریکہ میں کافی دولت بنائی تھی، یہ ساری
جائیداد میں نے اشعر اور اریشہ کے نام کردی ہے ۔
میرے زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں، تم تو جانتی ہو مجھے کینسر ہے۔ میرے پاس
زیادہ وقت نہیں ۔ میں چاہتا ہوں میں مرنے سے پہلے میرے بچے مجھے معاف کردے
لیکن میں کتنا بدنصیب ہو میرے پاس اتنا پیسہ دولت تھی لیکن میرے پاس کوئی خوشی
نہیں تھی ۔ جویریہ کے بعد مجھے کسی بھی بیوی سے کوئی خوشی نہیں ملی
میرے ایک شک نے میری خوشیاں ختم کردی، اظہر ندیز دکھ سے کہا
بھائی صاحب میں بات کروگی اشعر سے حمیدہ سے اپنے بھائی کا دکھ دیکھا نہیں جارہا تھا
حمیدہ مجھے تو لگتا ہے میری میت پر رونے والا کوئی نہیں ہوگا، اللہ جانے میرا
بیٹا مجھے اپنے کندھے پر أٹھاکے دفنانے بھی آئے گا بھی یا نہیں اظہر غمگین
لہجے میں کہا، حمیدہ دکھ سے اظہر کی طرف دیکھتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر غصے سے انعم کے گھر جاتا ہے لیکن وہاں تالا لگا تھا ۔ اشعر آیت سے ملنے
ہاشم بیگ کے گھر گیا تھا لیکن آیت وہاں نہیں تھی ۔ اشعر کے موبائل پر
ارم کا فون آگیا تھا، ارم آیت سے بات کرنے کو بولتی ہے اشعر بڑی مشکل سے کوئی بہانہ بنا
کے ارم کو ٹہلتا ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دیکھو میں نے تمہارے کہنے پر وہ سب کیا جو تم چاہتے تھے اب تو تم میری ماں کو
چھوڑ دوں ۔ انعم روتے ہوئے بولی، سوئیٹ ہارٹ تمہاری ماں کو میں نے کب قید میں رکھا
ہے دیکھو کتنی مطمئن نظر آرہی ہے۔ دیکھو نا کتنے آرام سے سو رہی ہے
ماجد انعم کا منہ پکڑ کے بولا، پروین کو انعم کی ماں بنے کی خبر سنے کے اٹیک
آگیا تھا ۔
ماجد میں نے یہ سب تمہارے کہنے پر کیا ہے
تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا تم مجھ سے شادی کرو گے اور میری ماں کو چھوڑ دوں گئے
انعم تکلیف سے بولی۔ میں کیوں تم جیسی بدکردار عورت سے شادی کرو گا
ماجد انعم کے بال پکڑ کے زور سے کھنچتے ہوئے کہا! ، انعم درد سے کراہ اٹھی، ماجد
چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے مت بھولو میں تمہارے بچے کی ماں بنے والی ہوں
انعم روتے ہوئے بولی، کیا ثبوت ہے یہ ہونے والا بچہ میرا ہے؟ تم اگر میرے ساتھ
بنا نکاح کے ازدواجی تعلقات قائم کرسکتی ہو تو کسی بھی مرد کے ساتھ
رکھ سکتی ہوں، نجانے کتنے مردوں کے ساتھ تمہارے تعلقات ہو ماجد
نفرت سے کہا، کیا بکواس کررہے ہو میں ایسی لڑکی نہیں ہو انعم چیخ کر بولی۔ انعم نے اپنی
تذلیل برداشت نہیں ہورہی تھی
اونچی آواز میں بات نہیں کرو یہ زبان تیری حلق سے کینھچ لوں گا، ماجد
انعم زور سے دھکا دیتے ہوئے کہا انعم گرتے گرتے بچی۔ ماجد غصے سے کمرے سے
چلا گیا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تم تو آج شام میں ہنی مون پر جارہی تھی نا، نمرہ کمرے میں چکر لگاتے ہوئے کہا
تم اچانک سے میرے گھر آگئی اور
آیت تم جب سے آئی ہو بس روئے جارہی ہو ۔ نمرہ پریشانی سے بولی، نمرہ اشعر بھی
دوسرے مردوں کی طرح نکلے، اشعر نے مجھے چیٹ کیا، آیت روتے ہوئے کہا
کیا تم کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی نمرہ حیرت سے کہا، نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں
آیت نمرہ کو انعم کی ساری بات بتاتی ہے ۔ کیا پتا وہ رپورٹ جعلی ہو پھر تم
کیا کرو گی، نمرہ آیت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، آیت کچھ نہیں بولتی،
اچھا تم ریسٹ کرو، نمرہ آیت کی حالت دیکھتے ہوئے کہا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ مجھے تم سے طلاق چاہئے میں اپنی زندگی تم جیسے معذور انسان کے ساتھ نہیں
گزرا سکتی، عرشی ہاشم بیگ کے کمرے میں آکے بولی، ہاشم بیگ کو فالج کا اٹیک
ہوا تھا ہاشم سے بولے نہیں جارہا تھا، ت، م م تم نے می میری بی ٹ ی بیٹی ک و کو
ب ی ج بیج رہی تھی، ہاشم ہکلاتے ہوئے کہا، ہاں میں تمہاری بیٹی کو بیچ دیتی بدلے میں
مجھے کافی پیسہ ملتا لیکن تمہاری ماں نے میرا کھیل بگاڑ دیا ۔
عرشی نفرت سے کہا، اور ویسے بھی تم سے شادی کرکے مجھے کیا حاصل ہوا
جس دولت وجہ سے تم سے شادی کی وہ اب تمہارے پاس رہی نہیں
بچا یہ گھر تو یہ بھی گورنمنٹ تم سے چیھین لی گی، تم نے بینک کا قرض جو ادا
کرنا ہے ۔ میں جارہی ہوں تم مجھ تلاق کے کاغذات بیجھا دینا ۔ عرشی سفاکی سے
بولی، ہاشم بے بسی سے بس آنسو بہا رہا تھا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ تم پریشان نہیں ہو سب ٹھیک ہوجائے گا فرمان اریشہ کو تسلی دیتے ہوئے
کہا، فرمان بھائی پتا نہیں کہاں چلے گئے ہیں بھائی کا فون بھی بند جارہا ہے
اریشہ روتے ہوئے بولی، آیت بھابھی کو انعم کی باتوں میں آنا نہیں چاہے تھا
فرمان نے کہا، فرمان، بھائی کتنے خوش تھے پتا نہیں کہاں سے وہ انعم آگی
اریشہ نفرت سے کہا، اچھا تم گبھرو مت میں ہونا فرمان اریشہ کو خود
کے قریب کرتے ہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارم بہت خوش تھی ۔ ارم ارسلان کے ساتھ خوب گھومی بہت انجوائے کیا ، ارسلان
کے گھر والے بہت اچھے تھے، ارم ارسلان کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھی ہوئی تھی
ارسلان نے اپنے اور ارم کے لیے ہوٹل بک کیا تھا، کنڈیل نائٹ ڈنر کے
بعد ارم ارسلان کے ساتھ کپل ڈنس کیا۔ ارم کے لئے ارسلان نے کیٹار بجایا ارم اگر
میں فوج میں نہیں ہوتا تو میں ایک سینگر ہوتا، میرے دو ہی شوق تھے
ایک فوجی بنا اور دوسرا سینگر، ارسلان خوشی سے بتایا، ارم مسکراتےہوئے
ارسلان کے کندھے پر اپنا سر رکھتی ہے ۔ ارم تم نے آیت بھابھی کو گوڈ نیوز سنائی
ارسلان ارم سے پوچھا، نہیں میں نے اشعر بھائی کو فون کیا تھا وہ گھر سے
باہر تھے، آپو کو فون کیا تو انکا نمبر بند جارہا تھا ۔ ارم نے کہا، او اچھا
ارسلان سوچتے ہوئے کہا، ارسلان آپ تو خوش ہے نا ارم نے ارسلان کا ہاتھ پکڑ کے پوچھا
خوش میں تو بہت خوش ہوں تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی، مجھے یقین ہے
جب آیت بھابھی کو پتا چلے گا وہ خالہ بنے والی ہے تو وہ بہت خوش ہوگی۔
ارسلان پیار سے ارم کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا ۔
جاری ہے
