Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09

ارم اشعر کی ایکسیڈنٹ کی خبر دیکھ کے پریشانی تھی ۔ ارم ارسلان کو
فون ملاتی ہے ۔ ہیلو ارسلان اشعر بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ۔ آپ پتا کرے
اچھا ٹھیک ہے ۔ ارم فون رکھے اشعر کی سلامتی کے لیے دعا کرنے لگی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر گاڑی سے نکل گیا تھا ٹرک کے أسکی قریب پہنچنے سے پہلے ۔ اشعر درخت کے پیچھے
چھپ گیا تھا ۔ ٹرک کے اندر سے آدمی نکلتا ہے ۔ اشعر کی گاڑی کو ٹھیک سے چیک کرتا ہے
اشعر کا کورٹ گاڑی کے اندر دبا نظر آتا ہے ۔ وہ آدمی سمجھتا ہے اندر اشعر ہے ۔
وہ خوش ہوکے اپنے مالک کو أسکی اطلاع دیتا ہے ۔ جیسے ہی وہ بات کرکے جانے لگا
اشعر جلدی سے درخت سے نکلتا ہے اور پیچھے سے أس آدمی کو دپوچتا ہے
أسے سمنبھلے کا موقع دئیے بغیر اشعر اس آدمی کی گردن مخصوص نس دبا کے
بے ہوش کردیا ۔ اشعر اس آدمی کو جلدی سے درخت کے پیچھے لیے جاتا ہے
اور ارسلان کو فون کرتا ہے ۔ ارسلان پریس کانفرنس میں مصروف تھا صحافیوں
سوالات کے جوابات دئے رہا تھا ۔ اشعر کی کال آنے پر صحافیوں سے مذرات
کرتا ہوا وہاں سے جلدی سے نکلتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسد ماریہ کو گھر چھوڑنے جاتا ہے ۔ اسد تم پیلز ڈرائیور سے کہو یہاں کار روک دو۔ میرے
محلے میں سے کسی نے دیکھ تو مئسلہ ہوجائے گا، میرے گھر والے بہت ہی غیرت مند ہے ۔
ماریہ اسد سے بولتی ہے ۔ ٹھیک ہے دینو بابا گاڑی روک دے اسد ڈرائیور سے کہا
اچھا میں اب چلتی ہوں، اسد تم پہلے لڑکے ہو جس سے میں نے محبت کی ہے اور جس سے
میں ملنے آئی ہو ۔ ورنہ میں ایسی لڑکی نہیں ہو، ماریہ آنکھوں میں نمی لاتے ہوئے کہا، نہیں
ماریہ میں جانتا ہوں تم ایک نیک اور با حیا لڑکی ہو اسد بولتا ہے ۔ ماریہ مسکراتےہوئے
کار سے اترتی ہے ۔ اسد کی گاڑی چلی جاتی ہے ۔ ماریہ ہسنتے ہوئے اپنے ساتھی کو
فون ملاتی ہے ہیلو راجا مرغا جال میں پھنس گیا ۔ ماریہ پھر قہقہہ لگایا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر تم ٹھیک تو ہے ۔ یہ تمہارے ہاتھ سے خون کتنا بہا رہا ہے ۔ ارسلان پریشانی سے
بولتا ہے ۔ ہاں میں ٹھیک ہوں بس یہ ہاتھ میں ہلکی سی چھوٹ لگی ہے ۔ گاڑی سے
جلدی میں نکلتے ہوئے نیچے گر گیا تھا تو لگ گئی ۔ اشعر نے کہا!
اچھا تم میرے ساتھ ہاسپٹل چلوں اور یہ آدمی کون ہے؟ ارسلان نے پوچھا ۔
یہ وہ آدمی ہے جس نے مجھے مارنے کا کمیشن لیا تھا ۔ ابھی بے ہوش کچھ دیر بعد ہوش
میں آجائے گا، اشعر بولتا ہے ۔ تم جلدی سے اس آدمی کو گاڑی میں ڈالو اور
ٹرک یہی رہنے دیتے ہیں ۔ اشعر نے ارسلان سے کہا ۔ ہاں ٹھیک ہے جلدی کرو پولیس
یہاں آتی ہوگی ۔ ارسلان ادھر أدھر نظر ڈالتے ہوئے کہتا ہے ۔
اشعر ارسلان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کے چلا جاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر ہاسپٹل جانے کے بجائے اپنے فلیٹ میں چلا جاتا ہے وہی اپنے فیملی ڈاکٹر کو بلا لیتے
ہیں اور اریشہ کو فون کرکے اپنی خیریت کا بتاتا ہے ۔ اشعر تم بھابھی کو بھی فون کرکے
بتا دو۔ اب تک میڈیا میں تیرے ایکسیڈنٹ کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی ہوگی
ارسلان نے اشعر کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا، نہیں اسکی ضرورت نہیں ۔ اسکی بلا سے
میں مرو یا جیو أسے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اشعر درد سے کہرتے ہوئے بولتا ہے ۔
اتنے میں ارسلان کے موبائل پر ارم کی کال آجاتی ہے وہ اشعر کے ایکسیڈنٹ کا بتارہی تھی
ارسلان ارم کو سچ نہیں بتاتا أسے دعا کرنے کا بولتا ہے ۔ اب کیا کرنا ہے فون بند کرنے کے بعد
ارسلان اشعر سے بولتا ہے ۔ میرے پاس ایک پیلن ہے تم میڈیا کو فون کرکے میرے شدید
زخمی ہونے کا بتاؤ ۔ اور أس آدمی کے ہوش آنے کے بعد أسے میڈیا کے سامنے پیش
کرو۔ مجھے پتا ہے اس سب کے پیچھے ہاشم بیگ کا ہی ہاتھ ہے۔ اشعر بولتا ہے
ارسلان میڈیا کے نمائندے کو فون ملاتا ہے ۔ ڈاکٹر طلعت صاحب آپکے ہاسپٹل میں
ایمرجنسی وراڈ تو خالی ہے نا اشعر شاطرانہ مسکراہٹ چہرے پر لئے بولتا ہے
ڈاکٹر صاحب ناسمجھی سے ہاں میں سر ہلاتے ہیں ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کے بچنے کی خبر میڈیا میں چل رہی تھی ۔ آیت کو یہ خبر سن کے جان میں جان آئی۔
سکینہ تم یہ صفائی چھوڑو ۔ مجھے تم سے کچھ کام ہے ۔آیت سکینہ سے بولتی ہے
کیسا کام بیگم صاحبہ؟ تم ارسلان کو فون کرکے اشعر کی خیریت معلوم کرلو
آیت ہچکچاتے ہوئے بولتی ہے جیسے کوئی جرم کرنے کا بول رہی ہوں ۔ سکینہ حیرت
سے آیت کی طرف دیکھتی ہے، وہ دراصل میں خود فون کرلیتی لیکن میرا گلہ ٹھیک نہیں
نا اس لیے ۔ آیت نے بے توکا سا جوز پیش کیا ۔ سکینہ کو آیت کی ذہنی حالت پر شک ہوا
پھر آیت کے ہاتھ سے فون لیے کے ارسلان کو ملاتی ہے، سکینہ اشعر کی خیریت کا پوچھ
کے فون بند کرتی ہے ۔ بیگم صاحبہ صاحب ٹھیک ہے بس چھوٹ زیادہ لگی ہیں
سکینہ بولتی ہے ۔ ٹھیک ہے تم جاؤ آیت اپنا ہونٹ دانت میں دباتے ہوئے بولتی ہے
سکینہ کچن میں چلی جاتی ہے ۔ آیت کا دل چارہا تھا وہ ہاسپٹل جاکے اشعر سے
مل لیے لیکن ہائے یہ انا ۔ اشعر ٹھیک ہے یہ جان کے آیت کی بےچینی میں کچھ
قرار آیا تھا ۔
“دل ❤مانگ✊رہا ہے مہلت
تیرے ساتھ 💑ڈھرکنے 💞کی
تیرے👈نام سے جینے 😍کی
تیرے نام سے 🌷مرنے کی۔ “
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ جو اپنی فتح کا جشن مانا رہا تھا وہ اشعر کے بچنے کی خبر سن کے غصے سے
پاگل ہورہا تھا ۔ عدنان ہاشم بیگ غصے سے ادھر أدھر ٹہلتا دیکھ رہا تھا ۔
ٹی وی پر اچانک سے برئینک نیوز آتی ہے ۔ جس کو دیکھ کے عدنان کو اتنی ٹھنڈ میں
پسنے آنے لگے ۔
نیوز میں اشعر پر حملہ کرنے والے کی تصویر چل رہی تھی ۔ یہ تو شیدے کی تصویر ہے
عدنان پریشانی سے بولتا ہے ۔ اب کیا ہوگا آخر اس نے پولیس کے سامنے منہ کھول دیا تو
تمہارے چکر میں، میں فضول میں پڑگیا ۔ عدنان اپنا سر پکڑ کے بولتا ہے ۔ یہ مشورہ
تم نے مجھے دیا تھا ۔ اب جب وہ پکڑا گیا ہے تو سارا ملبہ مجھ پر ڈال رہے ہوں
ہاشم بیگ غصے سے بولتا ہے ۔ ارے نیکی کا زمانہ نہیں رہا تم ہی تو آکے میرے پاس
اشعر کا رونا روتے تھے، عدنان چیخ کے بولا، ایک دوسرے کو الزام دینے سے بہتر ہے
اس مسئلے کا حل نکالا جائے ۔ یہ کیس اگر پولیس کے پاس ہوتا تو میں اس معاملے کو
دیکھ لیتا لیکن یہ کیس پاک فوج کے انڈر ہے۔ ہاشم بیگ پریشانی سے بولتا ہے
تم اپنے وکیل کو فون کرو کیا پتا وہ کچھ بہتر مشورہ دے عدنان نے تجویز دی
ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔ ہاشم بیگ نے عدنان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر سے ہاسپٹل میں ملنے انعم پروین کے ساتھ آئی تھی ۔ اشعر اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو
ہمارا کیا ہوتا انعم مشکل سے آنکھ میں آنسو لے کے اشعر سے کہا! نہیں جب تک تم سب کی
دعا ہے تو مجھے کیا ہوسکتا ہے ۔ اشعر دھیمی آواز میں کہا ۔ بیٹا اپنا خیال رکھنا
ویسے تم برا مت منانا لیکن گھر میں سانپ رکھو گے تو زہر ہی ملے گا ۔ پروین کا
اشارہ آیت کی طرف تھا ۔ اریشہ کو پروین کی بات بالکل پسند نہیں آئی تھی
لیکن وہ خاموش رہی ۔ اشعر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر نے آرام کا بولا ہے
اور زیادہ باتیں کرنے سے منع کیا ہے ۔ ارسلان ماحول میں گرمی دیکھ کے
پروین سے بولتا ہے، اچھا ہم چلتے ہیں بیٹا اپنا خیال رکھنا ۔ پروین اشعر کے سر پر
ہاتھ رکھے ہوئے بولتی ہے اور انعم کے ساتھ چلی جاتی ہے ۔ اشعر نےسکھ کا
سانس لیا ۔ بھائی آپ نے تو فون پر کہا تھا معمولی سی چوٹ آئی ہے۔ لیکن
یہاں آکے دیکھ رہی ہوں آپ بہت زخمی معلوم ہورہے ہیں ۔ اریشہ اشعر سے
خفا ہوکے بولتی ہے ۔ نہیں بھائی کی جان اشعر اس پہلے سچ بتاتا ۔
ارسلان بیچ میں بولنے لگا۔ اشعر نہیں چاہتا تھا تم پریشان ہو اس لئے اس نے یہ سب کیا
ارسلان اشعر کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ بھائی پتا ہے بھابھی بہت پریشان ہورہی تھی
اتنی بار مجھے فون کرکے آپکا پوچھا ۔ اشعر اریشہ کی بات سن کے مسکراتےہوئے تکیہ سے
ٹیک لگا کے آنکھیں موند لی اسکا مطلب صاف تھا اشعر اب مزید باتیں نہیں کرنا چاہتا ۔
اریشہ اشعر کے جواب نہیں دینے پر خاموشی سے باہر چلی جاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اظہر بیٹا تمہارے جانے کے بعد میں بالکل اکیلی ہوگی تھی ۔ تم جو ہر مہینے پیسے بجھیتے
تھے۔ میرا اس رقم سے اچھا خاصا گزرا ہوجاتا تھا ۔ تمہارے بھائی وہ پیسے جو تم سب
کیلئے بجھیتے تھے وہ لینے دس تاریخ کو لینے آجاتےہیں تھے ۔ اسکے بعد کوئی آکے
بوڑھی ماں کو کوئی نہیں پوچھتا ۔ عرفانہ نے دکھ سے کہا، ماں جی میں آگیا ہونا
سب ٹھیک ہوجائے گا، اظہر نذیر بولتا ہے ۔ بیٹا کسی طرح مجھے اپنے پوتے اشعر
سے ملادو۔ وہ اریشہ اس وقت تین ماہ کی تھی، اب تو بہت بڑی ہوگی
نجانے اس وقت دونوں کہاں ہونگے ۔ عرفانہ آہ بڑھتے ہوئے کہا ۔ اظہر نذیر خاموش رہتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
نسیم بیگم نماز میں رو رو کے اللہ سے اپنی پوتیوں کے نصیب کے لیے دعا
مانگ رہی تھی ۔ اور اپنے بیٹے کی ہدایت کے لیے اللہ سے التجا کررہی تھی ۔
جب دیکھو تپ بڑھیا منحوست پھیلائے رہتی ہے ۔ نجانے کون مرگیا ہے جس کے لئے
رو رو دعائیں مانگی جارہی ہے عرشی نسیم بیگم کو دعا کرتے ہوئے دیکھ کے بولتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کے 11 بجے ارسلان گھر آتا ہے ۔ ارم ارسلان کے اندر آتے ہی سوالات کرنا شروع
ہوجاتی ہے ۔ اشعر بھائی کسے ہیں؟ اور کوئی خطرے والی بات تو نہیں ہے؟
ارم ارسلان سے پوچھتی ہے ۔ ریلکس ارم سانس تو لے لوں ۔ ارسلان
اپنے موزے اتارتے ہوئے کہا! او سوری میں آپکے لئے پانی لاؤ؟ ارم کو ارسلان کے
تھکن زہ چہرے کو دیکھ کے بولتی ہے ۔ نہیں یار چائے پیلا دو سر میں بہت درد ہورہا ہے
ارسلان صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔ جی ابھی لائی ارم ارسلان سے بول کے
کچن میں چلی جاتی ہے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *