Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23
آیت کا ڈاکٹر کا چیک اب کرنے کے بعد لیڈی ڈاکٹر نائمہ جو آیت کی دوست تھی ۔
پریشانی کوئی بات نہیں تھوڑی وکینس ہے۔ ڈاکٹر نائمہ نے بولا۔ ہاں میں سمجھ سکتی ہوں
اریشہ خوش ہوکے بولی ۔ اریشہ کے فضول میں مسکرانے پر ڈاکٹر نائمہ حیرت سے اریشہ کی
طرف دیکھتی ہے ۔ آپ مسکرا کیوں رہی ہے؟ ڈاکٹر نائمہ حیرت سے پوچھا۔ وہ مجھے
خوشی برداشت نہیں ہو رہی ۔ کیسی خوشی؟ ڈاکٹر نائمہ سوالیہ نظروں سے اریشہ
کی طرف دیکھتی ہے ۔ آیت بھی اریشہ کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے ۔ بھابھی
پریگنیٹ (pegrenat ) ہے نا ؟اریشہ خوشی سے بولی۔ کیا آیت اور نائمہ دونوں ایک ساتھ
بولی تم کو کس نے کہا آیت پریگنیٹ ہے؟ نائمہ نے حیرت سے پوچھا ۔ بھابھی کو چکر آرہے
تھے الٹی بھی ہوئی تھی تو میں سمجھی بھابھی پریگنیٹ ہے۔ اریشہ معصومیت سے بولی
تو اسکا مطلب ہے کہ دنیا کی ہر عورت کو چکر الٹیاں آتی ہیں وہ پریگنیٹ ہوجاتی ہیں
نائمہ نے طنز کیا ۔ کیا مطلب؟ تو پھر بھابھی کو چکر کیوں آرہے تھے؟ اریشہ ناسمجھی سے
پوچھا ۔ اریشہ تم واقعی میں دو جڑواں بچوں کی ماں ہونا نائمہ صدمے سے کہا
کیوں کیا ہوا؟ اریشہ پریشانی سے بولی ۔ یار آیت کے معدے میں مئسلہ ہوگیا تھا
اسنے رات کو کچھ الٹا سیدھا کھالیا ہوگا تبھی الٹی ہوگی تھی اور جہاں تک چکر کی بات
ہے تو وہ کمزوری سے آرہے تھے ۔ سمجھی ۔ اشعر کو گئے ہوئے ایک سال ہوگیا تو آیت
پریگنیٹ کیسے ہوسکتی ہے ۔ یار تمہارے پاس دماغ نہیں ہے تھوڑی عقل استعمال کرو
نائمہ نے سنجیدگی سے کہا ۔ یہ کیا ہوگیا مجھ سے اریشہ نے پریشانی سے بولی
کیوں اب کیا کردیا تم نے؟ آیت نے گبھرا کے پوچھا ۔ وہ میں نے بھائی کو
بھابھی کی پریگنیٹ کی خبر ای میل کردی کہ وہ پاپا بنے والے ہے ۔ اریشہ پریشانی سے بولی
کیا آیت سٹپٹا کے اریشہ کی طرف دیکھتی ہے ۔ اشعر کیا سوچ رہے ہونگے میرے بارے میں
آیت اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گی۔ نائمہ کو اشعر پر جو گزرنے والی ہے یہ سوچ کے فکر ہو رہی
تھی۔ بھابھی مجھے معاف کردے میں نے سوچا تھا بھائی یہ خبر سن کے خوشی سے
واپس آجائے گے اریشہ شرمندگی سے بولی ۔ خوشی کا تو نہیں پتا صدمہ ضرور لگے گا
نائمہ شررات سے بولی ۔ آیت غصے سے تکیہ اٹھا کے نائمہ کو مارا دفع ہوجاو تم دونوں یہاں
سے ۔ آیت تنگ آکے بولی ۔ دونوں کمرے سے چلی گئی ۔ آیت اشعر کا سوچ سوچ کے
پریشان ہو رہی تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر اریشہ کی ای میل پڑھ کے سٹپٹا جاتا ہے ۔ یہ کسے ممکن ہے ۔ اشعر اپنا سر پکڑ کے
بیٹھا تھا ۔ وہ ای میل کو دس بار پڑھ چکا تھا ۔ تنگ آکے اشعر نے پاکستان جانے کا فیصلہ
کیا تھا ۔ اشعر پہلی فلائٹ سے پاکستان آگیا تھا ۔ اشعر کو پیک کرنے ارسلان آیا تھا
ارسلان خوشی سے اشعر کے گلے ملتا ہے ۔ کیسے ہو اشعر ۔ میں بالکل ٹھیک ہوں
تم سناؤ اشعر مسکراتےہوئے بولا ۔ بالکل فیٹ تمہارے سامنے ارسلان گاڑی میں
بیٹھتے ہوئے بولا۔ اشعر ارسلان کے ساتھ عرفانہ کے گھر جارہا تھا ۔
اور گھر میں سب کیسے ہیں؟ اشعر موبائل چلاتے ہوئے پوچھا ۔ ہاں سب ٹھیک ہے ارسلان
ڈرائیف کرتے ہوئے بولا ۔ باتیں کرتے ہوئے آدھے گھنٹے کا راستہ طے ہوگیا تھا
گاڑی کی آواز سے چوکیدار گیٹ کھولتا ہے ۔ اشعر کا سامان ملازم لے کے اندر چلے گئے
اشعر کو گھر چھوڑ کے فرمان چلا گیا تھا ۔
اشعر عرفانہ کے پاس بیٹھا تھا ۔ بیٹا تم تو جاکے ہمیں بھول گئے ۔ اریشہ کی خوشی میں
بھی تم نہیں آئے ۔ عرفانہ بیگم تکیہ سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی۔ دادی جان سوری
مجھے تھوڑا وقت چاہیے تھا ۔ اشعر إدھر أدھر نظریں گھماتے ہوئے بولا ۔ اشعر کی
نگاہیں آیت کو ڈھونڈ رہی تھی ۔ بیٹا تم نے مجھے معاف تو کردیا نا؟ عرفانہ بیگم نے
پوچھا ۔دادی پرانی باتوں کو بھول جائیں ۔ اشعر سپاٹ چہرے سے بولا ۔
دادی میں نے ناشتہ بنا دیا تھا آپ نے کیا کیوں نہیں؟ آیت عرفانہ بیگم کی طرف
دیکھتے ہوئے خفگی سے پوچھا ۔ اشعر آیت کو غور سے دیکھ رہا تھا
آیت خود پر اشعر کی نظریں محسوس کرتی ہے ۔ اشعر کی طرف دیکھتی ہے جو اسکا
جانچتی نظروں جائزہ لیے رہا تھا ۔ آیت کا دل اریشہ کا سر پھاڑ نے کا چاہ رہا تھا
بیٹا مجھے ابھی بھوک نہیں ۔ ابھی تھوڑی دیر آرام کرو گی پھر کھاؤ گی
عرفانہ نے اٹھاتے ہوئے کہا ۔ اور پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
آیت اپنے کمرے میں جانے لگی اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے روک لیتا ہے ۔ یہ جو مجھے اریشہ نے
ای میل کیا تھا ۔یہ سب کیا بکواس تھی ۔ اشعر غصے سے آیت کے مقابل کھڑے ہوکے پوچھا
ہاتھ چھوڑے میرا اور یہ سوال جاکے اپنی بہن سے پوچھے ۔ کیوں کہ وہ جاگتی آنکھوں سے
خواب دیکھتی ہے آیت اپنا ہاتھ اشعر سے چھوڑاکے بولی ۔ اشعر آیت کا خود کو نظر انداز
کرنا بالکل بھی اچھا نہیں لگا ۔ اشعر آیت کے پیچھے کمرے میں جاتا ہے اس سے پہلے
وہ کمرے میں داخل ہوتا آیت اشعر کے منہ پر دروازہ بند کردیتی ہے ۔ اشعر اپنی
ناک پکڑ کے رہ جاتا ہے ۔ چھوڑو گا نہیں تمہیں اشعر اندر سے سلک کے بولا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر سے ملنے اریشہ آگی تھی ۔ اشعر اریشہ کی جڑواں بیٹیاں دیکھ کے بہت خوش تھا
بھائی میں آپ سے ناراض ہو ۔ آپ وہاں جاکے ہمیں بھول گئے اریشہ روٹھے ہوئے کہا
بھائی کی جان بھائی سے غلطی ہوگی ۔ اشعر کان پکڑ کے بولا ۔ اریشہ اشعر کے گلے
لگ گی ۔ اریشہ تم نے مجھے کیا ای میل کی تھی ۔ اشعر ہچکچاتے ہوئے پوچھا
بھائی وہ میں نے مذاق کیا تھا ۔آپ کو پاکستان بلانے کیلئے اریشہ ڈرے ہوئے کہا
کیا گھٹیا مذاق تھا اشعر غصے سے بولا ۔ بھائی مجھے فرمان بلارہے ہیں
اریشہ بول کے بھاگ جاتی ہے ۔ اشعر پیچھے مڑ کے دیکھتا ہے تو وہاں کوئی نہیں ہوتا
یہ اریشہ کب بڑی ہوگی ۔ اشعر اریشہ کی بیٹی سے بولا ۔ وہ آگے سے ہسنی لگی ۔
اشعر جھک کے دونوں کو پیار کرنے لگا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کا آیت نے مکمل بائیکاٹ کیا ہوا تھا ۔ اشعر جتنا آیت سے بات کرنا چاہتا۔ آیت
اتنا اشعر سے دور ہوتی ۔ اشعر کا سامان نوکر سے آیت دوسرے کمرے میں رکھایا تھا
آیت میری بات سنو اشعر غصے سے آیت کا بازو پکڑ کے بولا ۔ اشعر میرا ہاتھ چھوڑے
کتنی بار کہا ہے مجھے ہاتھ مت لگائے ۔ آیت چیخ کے بولی ۔ شوہر ہو تمہارا ۔
میرا پورا حق ہے تم پر ۔ اور تم کو کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں ایسے بی ہیف کررہی ہوں
اشعر آیت کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔ آپ نہیں جانتے؟ آیت تمسخر اڑاتے ہوئے
بولی۔ آیت بس کردو میں مانتا ہوں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، تم کو اسطرح
گھر سے نہیں نکالنا چاہے تھا ۔ اشعر آیت کو بازو سے پکڑ کے بولا ۔
اشعر کیا مذاق بنایا ہوا ہے آپ نے ہمارے رشتے کو جب دل کیاجوڑ لیا جب دل کیا
توڑ لیا ۔آپ خود کو کیا سمجھتے ہیں ؟ میں کوئی نوکر ہو آپکی ؟
میں بھی انسان ہوں میں بھی سینے میں ایک دل رکھتی ہوں،
کسے آپ مجھے چھوڑ کے یورپ چلے گئے اب ایک سال بعد آکے مجھ پر اپنا حق جتا رہے ہیں
آیت تلخی سے اشعر کا گریبان پکڑکے بولی۔ آیت انف میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی
ہوگی ۔ تم اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ کیوں بنا رہی ہوں ۔ اشعر بیچارگی سے بولا
اشعر میرے دل میں اب آپکے لئے کوئی جگہ نہیں بچی ۔ میرا اب آپ سے کوئی
تعلق نہیں ہے۔ جب آپ نے میری ایک نہیں سنی تھی میں کیوں آپکی سنو
کیا کہا تھا آپ نے؟ مجھے دیکھے کے آپکو تکلیف ہوتی ہے ۔ میں چلی جاؤ آپکی
زندگی سے ۔ اب میں آپ سے کہہ رہی ہوں ۔ آپ چلے جائے میری زندگی سے
آیت زخمی شیرانی کی طرح اشعر پر چڑھا دوڑی ۔ اشعر کا ہاتھ اپنے بازوں سے
ہٹا کے چلی گئی ۔پیچھے اشعر لب پینچ کر رہ گیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان تم ہنس رہے ہو ۔ میں یہاں تم سے مشورہ کرنے آیا تھا ۔ لیکن تیری ہنسی بند نہیں
ہورہی ۔ اشعر کب سے ارسلان کو ہنستا دیکھ رہا تھا ۔ تنگ آکے بولا ۔ یار مجھے ہنسی
آرہی ہے ۔ تم اریشہ کی ای میل پڑھ کے گبھرا کے پاکستان آگے ۔ اور اب بھابھی
تجھے گھاس نہیں ڈال رہی ۔ ارسلان اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے بولا ۔
میں کوئی گھوڑا نہیں ہو جو مجھے گھاس ڈالے گی ۔ اشعر منہ بناکے بولا
یار برا مت من لیکن غلطی تیری ہے۔ تو جس طرح یہاں سے گیا تھا
بھابھی کا یہ ریکیشن بنتا ہے ۔ ارسلان سنجیدہ ہوکے بولا ۔ یار وہ تو شیرانی بن کے میرے
سامنے کھڑی تھی ۔ وہ مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دے رہی اور اوپر سے أسکو
ارفع آنٹی کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، وہ أسی کا ساتھ دیئے رہی ہے ۔ میری یہاں
کسی کو پرواہ نہیں ۔ کسی آسانی سے کہا دیا چلئے جاؤ یہاں سے ۔ یار وہ گن گن کے
بدلے لئے رہی ہے ۔ اشعر دھائی دیتے ہوئے بولا ۔ بھائی صبر کر ۔ اسے کہتے ہیں
Women power ۔ عورت جب محبت کرنے پر آتی ہے تو سر پر بیٹھاتی ہے
لیکن جب نفرت کرنے پر آجائے تو وہ سر سے اترکے زمین پر پٹھک دیتی ہیں
ارسلان گری سانس لیتے ہوئے دانشور کی طرح بولا ۔ بکواس بند کرو اپنی
تم سے کچھ کہنا فضول ہے اشعر بدمزہ ہوا ۔ میں خود ہی کچھ کرتا ہوں
اشعر کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کمرے میں بیٹھا اپنے آفس کی فائل دیکھ رہا تھا ۔ اشعر صاحب جی باہر
حذیفہ صاحب آئے ہیں ۔ ملازم اشعر سے بولا ۔ ٹھیک ہے تم أسکو ڈرائنگ روم
میں بیٹھاو میں آتا ہوں ۔ اشعر اپنا فائل بیڈ پر رکھے ۔ ڈرئینگ روم کی طرف بڑھتا ہے
حذیفہ اشعر کو دیکھ کھڑا ہوا ۔ بیٹھو یہاں کیسے آنا ہوا؟ اشعر کرسی پر بیٹھتے ہوئے
پوچھا ۔ اشعر میں سے معافی مانگنے آیا ہوں، ہوسکے تو مجھے معاف کردینا میری
وجہ سے تمہیں اور بھابھی کو بہت تکلیف پہنچی مجھے بھابھی نے معاف کردیا
تم بھی پیلز مجھے معاف کردوں حذیفہ سنجیدگی سے سر جھکا کے بولا ۔
اچھا أسکو محترمہ نے معاف کردیا، مجھے معاف کرنے میں میڈم اتنی نخرے دیکھا
رہی ہے۔ اشعر سوچتا ہے ۔ ہاں میں نے تم کو کب کا معاف کردیا اشعر مسکراتےہوئے بولا
تھنکیس اشعر حذیفہ اشعر کے گلے لگ جاتا ہے ۔ تمہاری اور علیشا کے درمیان
کچھ ٹھیک نہیں ہوا؟ اشعر نے پوچھا ۔ نہیں وہ میری شکل دیکھنے کی تیار
نہیں ۔ حذیفہ تلخی سے مسکراہتے ہوئے بولا ۔ تم پریشان نہیں ہو میں بات کرو
گا ۔ اشعر حذیفہ کا بازو تپتا کے بولا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
علیشا یار کم کھایا کرو ۔ دیکھو تم کتنی موٹی ہوتی جارہی ہوں ۔ فرمان اریشہ کو
تیل میں ڈوبی آلو کے چپس کھاتے ہوئے دیکھ کے بولا ۔ آپ کی نظر کے چشمے کا
نمبر بڑھ گیا ہے ۔ میں کہاں سے موٹی ہوگی ۔ اتنی اسمارٹ تو ہو
اور آپ کیا ہر وقت میرے کھانے پر نظر رکھتے ہیں ۔ میں نے کھایا کیا ہے دو زنگر برگر
ایک سموسہ 5 جلیبیاں اور تیسری پیلٹ چپس کے تو کھائے ہیں ۔ اریشہ آخری چپس
سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا ۔ کیا اللہ کا مانو اریشہ اتنا تم کھاکے بول رہی ہوں کھایا
نہیں فرمان صدمے سے بولا ۔ اگر میرے کھانے سے آپکا خرچا بڑھتا ہے تو ٹھیک ہے
میں اپنا خرچا خود اٹھا لو گی اریشہ جھوٹ موٹ کے آنسو بہا کے بولی ۔ یار
میں نے ایسا کب بولا ۔ فرمان اپنے بال پکڑ کے بولا ۔ بس رہنے دئے ۔ ایک تو مجھے اتنی
باتیں سنا دی ۔ اب ایسا بول رہے ہیں ۔ اریشہ ناک سگھڑ کے بولی ۔ ٹھیک ہے
میری ماں مجھ سے غلطی ہوگی مجھے معاف کردو فرمان ہاتھ جوڑ کے بولا
ٹھیک ہے ایک شرط پر معافی ملے گی اریشہ منہ بنا کے بولی ۔ کسی شرط
فرمان ہار مانتے ہوئے بولا ۔ مجھے ایک پلیٹ چپس اور کھانی ہے اریشہ معصومیت سے
بولی ۔ اوف فرمان سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔ اب جائے بھی ورنہ مجھے بھوکا سونا پڑے گا
اریشہ فرمان کو ہلاکے بولی ۔ فرمان آنکھیں پھاڑ کے اریشہ کو دیکھتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جاری ہے
