Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12

آیت کو جب اپنی دادی کا پتا چلتا ہے وہ اشعر کو بہت فون کرتی ہے لیکن اشعر
فون ریسوف نہیں کرتا ۔ آیت ڈرائیور کے ساتھ ہاسپٹل جاتی ہے ۔
آیت بھاگتے ہوئے ہاسپٹل کی سیھڑی چڑھتی ہے ۔ پاپا کہاں ہے دادی؟ آیت بھولی ہوئی
سانس سے بولی۔ اندر ایمرجنسی میں ہے، ہاشم بیگ بولا، آیت ایمرجنسی وارڈ میں
داخل ہوتی ہے دادی آیت نسیم بیگم سے لیپٹ کر رونے لگتی ہے ۔ آیت میں میری بات سنو
نیسم بیگم سے بولے نہیں جارہا تھا
آیت سر أٹھاکے نسیم بیگم کی طرف دیکھتی ہے ۔ جی دادی؟ آیت بولی۔
بیٹا آیت تمہارا باپ ٹھیک آدمی نہیں ہے أس نے اس سے پہلے نسیم بیگم پوری بات
بتاتی أنکی سانس اوکھڑ نے لگتی ہے ۔ کیا ہوا دادای آپکو ؟ آیت گبھرا کر بولتی ہے
آیت ڈاکٹر کو آواز دینے لگتی ہے ، آیت نسیم بیگم آیت کے کان میں کچھ بولتی ہے
پھر انکا دم نکل جاتا ہے ۔ ڈاکٹر اندر آکر چیک کرتے ہیں سوری شی از نو مور
آیت رونے لگتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کو ڈرائیور نے فون کرکے سب بتادیا تھا ۔ اشعر ہاسپٹل پہنچ جاتا ہے ۔
آیت پینچ پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی اشعر آتا ہے ۔ یہ سب کیسے ہوا
اشعر آیت کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
آیت روتے ہوئے اشعر کے سینے سے لگ کے رونے لگتی ہے ۔ اشعر آیت کو چپ کرانے
لگتا ہے ۔ ہاشم بیگ غصے سے اشعر کو دیکھتا ہے ۔
کچھ دیر بعد میت کو گھر لے آتے ہیں ۔ ارم ارسلان کے ساتھ گھر آتی ہے وہ بھی بہت
رو رہی تھی ۔ ارسلان ارم کو سنھبالتا ہے ۔ عرشی ایکٹنگ کرکے آنسو بہا رہی تھی
ہائے میری ماں جی مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئی ۔ کہاں ہوتی ہے اتنی
نیک بہو، بھئی بڑی خوش نصیب عورت تھی جو اتنی اچھی ملی
کچھ عورتیں دیکھ کے بولتی ہیں ۔ ارم یہ عرشی کی طرف نفرت سے دیکھتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ کو یہی ٹیشن تھی کہی آیت سچ نا جان گی ہو ۔ نسیم بیگم کو گزرے ہوئے
ایک دن ہو گیا تھا ۔ آیت نسیم بیگم کے کمرے میں رہ رہی تھی ۔ مرنے سے پہلے
نسیم بیگم نے آیت کے کان میں خط کہا تھا ۔ آیت روتے ہوئے نسیم بیگم کی
تصویر کو سینے سے لگائی ہوئی تھی ۔ آیت کو اچانک سے خط کا یاد آتا ہے
آیت کمرے میں خط ڈھونڈنے لگتی ہے ۔ آیت کو خط نسیم بیگم کے پان دان کے
اندر رکھا نظر آگیا تھا ۔آیت کو نسیم بیگم کا
خط مل گیا تھا، آیت خط کھول کے پڑھنا شروع کرتی ہے
آیت جیسے جیسے خط پڑھتی جارہی تھی أسکے قدموں تلے زمین
کسھکتی چلی گئی ۔ آیت کو اپنے باپ سے شاید نفرت ہورہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آیت کو لینے ہاشم ویلا میں آتا ہے ۔ یہاں کیا لینے آئے ہو؟ ہاشم بیگ اشعر کو
دیکھ کے بولتا ہے ۔ میں یہاں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں ۔ اشعر اکڑ کے بولتا ہے
اور آیت کو آواز دینے لگتا ہے ۔ وہ تمہارے ساتھ نہیں جائے گی ہاشم بیگ غصے سے
بولتا ہے ۔ آیت کمرے سے باہر آتی ہے ۔ آیت گھر چلوں اشعر آیت سے بولتا ہے
آیت کہی نہیں جائے گی ہاشم بیگ غصے سے بولتا ہے ۔ آیت اگر تم اسکے
ساتھ چلی گئی تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ۔ ہاشم بیگ آیت سے بولا
مجھے آپ کو اپنا باپ کہتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ آیت نفرت سے بولتی ہے ۔ ہاشم
بیگ حیرت سے آیت کی طرف دیکھتا ہے ۔ کاش آپ میرے باپ ہی نا ہوتے
آپ ایک قاتل ہے ۔آپ نے دو دو قتل کیے ہیں ۔ پہلے اشعر کی ماں کا دوسرا دادی کا
آیت چیخ کے بولی ۔ کیا ہوا حیرت ہورہی ہے ہاشم بیگ آیت نفرت سے بولتی ہے
آپکی اصلیت مجھے دادای اپنے خط میں بتاکے چلی گئی ۔ اور دادای کو
کسطرح آپ نے سیڑھی سے دھکا دیا یہ مجھے نجمہ (نوکرانی ) نے سب بتادیا
آپکو اشعر معاف کرے یا سزا دے میں آپکو کبھی معاف نہیں کروگی
آپکے کیے کی سزا میں آپکو دیلا کر رہوں گی ۔ آیت روتے ہوئے بولتی ہے
اور آپکی بیوی جسکی محبت میں آپ نے میری ماں کو زہر دیا أنھیں میں چھوڑو گی
نہیں، وہ مجھے اور ارم کو بیچ رہی تھی، اگر دادی اشعر سے میرے لئے مدد
نہیں مانگتی تو شاید آج میں کسی کوٹھے پر بیٹھی ہوتی ۔ جس شخص کی
ماں کو آپ رونگ نمبر بن کے تنگ کرتے تھے أسی عورت کے بیٹے نے آپکی بیٹی کو
بچایا ۔ آپکی گھر کی عزت کو رسوا ہونے سے بچالیا
آج مجھے یقین ہوگیا ہے ۔ اللہ کی ذات پر ۔ میرے رب نے سچ کہا ہے
کوئی کسی کا قیامت کے دن بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ آپکے گناہ کی سزا اللہ نے مجھے نہیں
دی مجھے بچا لیا ۔ آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔ ہاشم بیگ میں تم سے شدید نفرت کرتی ہوں
میں اللہ سے دعا کروں گی خدا تم جیسا باپ اور تم جیسا بیٹا کسی کو نا دے، آیت روتے
ہوئے گھر سے باہر جاتی ہے ۔ اشعر ایک افسوس کی نظر ہاشم بیگ پر ڈالتا ہے
اور باہر نکل جاتا ہے ۔ ہاشم بیگ کے کانوں میں ایک ہی جملہ گونج رہا تھا
خدا تم جیسا باپ اور تم جیسا بیٹا کسی کو نا دے ۔ ہاشم چیخ چیخ کر رونے لگتا ہے
آج وہ اپنی بیٹی کی نظروں میں گر گیا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت جب سے ہاشم کے گھر سے آئی تھی رو رہی تھی ۔آیت اندر سے ٹوٹ گئی تھی
اشعر آیت کے پاس بیٹھتا ہے
اشعر پیلز مجھے معاف کردے میں نے آپکو کتنا برا بھلا کہا ، آیت روتے بولتی ہے
ایم سوری اشعر آیت کو اپنے سینے سے لگا لیتا ہے ۔ اشعر آپ مجھے چھوڑ تو
نہیں دے گئے نا آیت ڈرتے ہوئے بولی ۔ کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔ اشعر آیت کے آنسو
اپنی انگلیوں کے پوروں سے پونچھتا ہے ۔ اشعر آیت کے ماتھے پر بوسہ دیتا ہے
آیت اشعر کے سینے سے لگ جاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ اپنے کمرے میں بیٹھی بور ہورہی تھی ۔ أسکی نظر اپنے بیگ پر پڑی
جسمیں أسکی ماں کی ڈائری رکھی تھی ۔جو أسکو اسٹور کی صفائی سے ملی تھی
اریشہ نے پروین سے چھپا کے اپنے پاس رکھ لی تھی ۔ اریشہ کے ذہن سے ڈائری نکال گئی
تھی ۔ اریشہ اپنا بیگ اٹھا کے ڈائری نکال کے پڑھنے لگتی ہے
اسمیں جویریہ کی زندگی کی تلخ سچائی لکھی تھی ۔
میں اپنے ماں باپ کی لاڈلی اولاد تھی۔ اور بھائی کی پیاری بہن، جنید بھائی مجھ سے
بہت پیار کرتے تھے ۔ والد کے گزرنے کے بعد بھائی گھر کا سہارا بنے ۔ میری پڑھائی اور
گھر کی زمینداری بھائی کے کاندھوں پر تھی ۔ بھائی کی اچھی نوکری لگی تھی
پھر ہمارا گزارا اچھے سے ہونے لگا ۔
“اظہر نے مجھ سے پسند کی شادی کی تھی ۔ اظہر نذیر نے مجھے کالج سے نکلتے دیکھا تھا
وہی پسند کرلیا تھا ۔ میں نے انٹر بھی نہیں کیا تھا میری شادی کردی گئی ۔ شادی کے شروع
کے دن بہت اچھے گزرے ۔ لیکن عرفانہ آنٹی مجھے پسند نہیں کرتی۔ أنکا رویہ میرے ساتھ
اچھا نہیں تھا ۔ أنھیں یہی لگتا تھا میں نے أنکے بیٹے کو پھنسا کے شادی کی ہے، جبکہ
خود میرے گھر رشتہ لیے کے آئی تھی ۔ اشعر کی پیدائش کے بعد أن کا رویہ کچھ بہتر ہوا
لیکن پھر اریشہ کی پیدائش پر وہ بالکل خوش نہیں ہوئی ۔ اظہر کا کاروبار
ٹپ ہوگیا اسکا قصور میری بچی کو ٹھہرا گیا ۔ عرفانہ آنٹی کھل کے سامنے آگئی تھی وہ
میری بیٹی کو منحوس بولتی ۔
کیسے وہ مجھ سے سارا گھر کا کام کراتی، ہر وقت حمیدہ اپنے میکے آجاتی
پہلے تو صرف زبان کی مار ماری جاتی پھر ہاتھ بھی أٹھنے لگا ۔
اظہر مجھ سے بدظن ہوگے تھے ۔ ہر وقت ہمارے درمیان جھگڑا رہتا ۔ حمیدہ بھی مجھ سے
خار کھاتی ۔ میں اگر کچھ کہہ دیتی تو ایک کی دس لگاتی
ایک دن میں اپنے بھائی کے گھر چلی گئی ۔ بھائی کی شادی ہوگی تھی
شادی کے بعد بھائی میں بدل گے تھے ۔ انھوں نے کہا اپنے گھر جاکر رہو اب وہی
تمہارا گھر ہے ۔ آج مجھے پتا چلا میں یتیم ہوگی ہوں ۔ بھابھی جو کہتی بھائی وہی
کرتے ۔ ایک دن میرے موبائل پر رونگ نمبر کی کال آئی میں نے فون آف کردیا
وہ مجھے نمبر بدل بدل کے تنگ کرتا رہتا ۔ ایک دن أسکا میسج میری ساس نے دیکھ لیا
بس پھر کیا أنھوں نے میرے کردار پر خوب کیچڑ اچھالی ،مجھے میرے کمرے سے نکل دیا گیا
اور میری سزا کے طور پر مجھے ٹھنڈے فرش پر بنا چادر تکیہ کے کے سونا پڑتا ۔ وہ بھی
کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی میں ۔ اظہر شہر سے باہر گئے ہوئے تھے
اشعر اپنی چادر میرے اوپر ڈالتا ۔ جب صبح ہونے سے پہلے میرے پر سے چادر
ہٹا دیتا ۔ اشعر وقت سے پہلے بڑا ہوگیا تھا ۔ جب اظہر نذیر گھر آئے تو أنھیں
میرے خلاف خوب بھڑکایا گیا ۔ أنھوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا خوب مارا پیٹا
اور دھکے دے کے گھر سے نکال دیا اور ساتھ میرے بچوں کو بھی میں جب
بھائی کے گھر گی تو بھابھی نے مجھے گھر کے اندر آنے نہیں دیا ۔ میں سڑک
پر بچوں کے ساتھ سوئی۔ پھر صبح بھائی مسجد کے لئے جارہے تھے ۔ میں بھائی کے پاس
گئی أنھیں ساری سچائی بتائی ۔ میری حالت دیکھ کے بھائی گبھرا گئے ۔ بھائی مجھے
اپنے گھر لیے گئے ۔ مجھے اور میرے بچوں کو کھانا دیا ۔ میری حالت کچھ بہتر ہوئی
تو میں اپنی ڈائری لکھنے بیٹھ گئی ۔ مجھے ڈائیری لکھنے کی عادت تھی ۔
یہ ڈائیری میری دکھ و سکھ کی ساتھی تھی۔ “
اریشہ آگے صفحے پلٹ کے دیکھتی وہ خالی تھے ۔ اریشہ بہت رو رہی تھی ۔ أسے
اب اشعر کا احساس ہورہا تھا ۔ وہ بہت رو رہی تھی ۔ بھائی مجھے معاف کردے
میں نے آپ کے ساتھ بہت برا کیا ۔ فرمان کمرے میں آتا ہے ۔ اریشہ کو روتا دیکھ کے
گبھرا جاتا ہے ۔ کیا ہوا اریشہ رو کیوں رہی ہو؟ فرمان اریشہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
ہاتھ مت لگاؤ مجھے ۔ نفرت کرتی ہوں میں تم سے، اریشہ چیخ کے بولی
ہوا کیا ہے ۔ فرمان اریشہ کے ردعمل سے گبھرا گیا ۔ فرمان پریشانی سے بولتا
ہے ۔ اریشہ بستر سے اٹھتی ہے اور نیچے کمرے سے باہر جاتی ہے
فرمان بھی اریشہ کے پیچھے جاتا ہے ۔اریشہ، اریشہ آواز دیتا ہے ۔ اریشہ غصے سے
سیھڑی اترتی ہے اور جاکے اظہر نذیر کے سامنے گھڑی ہوجاتی ہے ۔اظہر نذیر
جو کے چائے پی رہا تھا ۔ اریشہ کے اسطرح کھڑے ہونے پر حیران ہوجاتا ہے
مجھے آپ سے بات کرنی ہے اظہر نذیر صاحب اریشہ دانت پیس کر بولی
اظہر نذیر اریشہ کا بدلہ ہوا روپ دیکھ کے پریشان ہوجاتا ہے ۔ کیوں کیا میری
ماں کے ایسا؟ کیا قصور تھا میری ماں کا؟ بولے جواب دے ۔
اریشہ چیخ کر بولتی ہے ۔ عرفانہ اور حمیدہ بھی آجاتی ہے ۔ بیٹا اظہر بولتا ہے
مت کہہ بیٹا ، آپ نے میری ماں پر کتنے ظلم کیے۔ کیا ہوا تھا جب ماموں آئے تھے
آگئی کی بات ڈائیری میں نہیں لکھی ۔ مجھے سچ بتائے ۔ بالکل سچ
اریشہ روتے ہوئے بولتی ہے ۔ فرمان پریشانی سے سب کو دیکھ رہا تھا ۔ اظہر
کو پتا تھا اریشہ کو ایک کا ایک دن سچ پتا چلے جائے گا لیکن اتنی جلدی یہ پتا نہیں تھا
اظہر بے بسی سے اریشہ کی طرف دیکھتا ہے اور پھر
سب بتانا شروع کرتا ہے۔ شروع سے اینڈ تک ۔ تمہاری ماں سے میں نے
پسند کی شادی کی تھی ۔ تمہاری ماں بہت صابر و شاکر عورت تھی ۔
میری اور میری بہن کا ہر ظلم برداشت کیا ۔ پھر ایک دن رونگ نمبر کی وجہ سے
مجھے غلط فہمی ہوگی ۔ اور میں نے اپنی ماں کے ساتھ دھکے دے کے تم سب کو گھر سے
نکال دیا ۔ مجھے لگا تم لوگ بھی میری اولاد نہیں ہوں ۔ میرے ساتھ جویریہ نے
بے وفائی کی ہے۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ دوبارہ گھر آئی۔ اشعر بھی ساتھ تھا
ماں جی نے جنید کو بہت نمک مرچ لگا کے سب بتایا ۔ جنید نے پھر تمہاری ماں
کو گولی مار دی ۔ وہ وہی تڑپ تڑپ کے مرگئی ۔ بعد میں پولیس آئی پولیس نے
جنید کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس نے چھان بین کی تو پتا چلا وہ رونگ نمبر
جویریہ کو تنگ کرتا تھا ۔ جویریہ پاک دامن تھی ۔ جنید کو جب یہ پتا چلا تو
أس نے جیل میں اپنی نس کاٹ کے خودکشی کرلی۔ اظہر نذیر نے بولا
اریشہ چیخ چیخ کے رونے لگتی ہے ۔ میں نے اپنی ماں کے قاتل کے بیٹے سے
شادی کرلی ۔ مجھے اب یہاں نہیں رہنا ۔ تم لوگ درندے ہوں درندے ۔
میری ماں کو کھا گئے ۔ فرمان اریشہ کو سنھبالتا ہے ۔ تم ایک انتہائی گھٹیا انسان ہوں
نا ایک اچھا شوہر بن سکے اور نا اچھا باپ ۔ اریشہ نفرت سے اظہر کا گریبان پکڑ کر
بولتی ہے اظہر نذیر اپنا سر شرم سے جھکا لیتا ہے ۔ مجھے معاف کردو اریشہ کے
آگے ہاتھ جوڑ تا ہے ۔ اریشہ تلخی سے مسکراتی ہے
اور آپ تو ایک عورت ہے نا کیسے دوسری عورت کے ساتھ ظلم کرسکتی
ہے۔ اریشہ حمیدہ سے بولتی ہے ۔ حمیدہ نظریں جھکا لیتی ہے ۔ اور آپ
عرفانہ صاحبہ آپ تو ایک بیٹی کی ماں تھی تو پھر کسی دوسری بیٹی کے ساتھ
ایسا کیسے کرسکتی ہے۔ آپ خود اپنے بیٹے کے کہنے پر رشتہ لیے کر گئ تھی
میری ماں نے آپکے بیٹے سے بھاگ کے شادی نہیں کی تھی ۔ یا وہ خود چل کے آپکے
گھر نہیں آئی تھی آپ لائے تھی أنھیں ۔ اریشہ تلخی سے بولی۔عرفانہ بیگم
شرمندگی سے سر جھکالیتی ہے ۔ میرے سامنے کتنے معصوم بنے ہوئے تھے اریشہ
نفرت سے بولتی ہے، مجھے اب یہاں ایک منٹ نہیں رہنا اریشہ بولی اور
اریشہ روتے ہوئے گھر سے باہر نکلتی ہے ۔ اریشہ اریشہ، فرمان اریشہ کو آواز دیتا
ہے ۔ فرمان اریشہ کے پیچھے بھاگتا ہے۔
اریشہ گھر سے باہر نکل جاتی ہے سامنے سے ایک گاڑی آرہی تھی أس سے ٹکرا
جاتی ہے ۔ اریشہ کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ۔ فرمان زور سے چیختا ہے اریشہ
فرمان دیوانہ وار اریشہ کو أٹھتا ہے۔ اریشہ آنکھیں کھولو ۔ پیلز فرمان روتے ہوئے بولتا ہے
اریشہ کے سر سے بہت خون بہا رہا تھا۔فرمان جلدی سے
اریشہ کو گاڑی میں لیٹا کے فرمان پاگلوں کی طرح گاڑی چلاتا ہوا ہاسپٹل پہنچتا ہے
ڈاکٹر اریشہ کو فوری ایمرجنسی میں لے جاتے ہیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ سو رہا تھا ۔ أسکا فون بجنے لگتا ہے ۔ وہ فون ریسوف کرتا ہے ۔ ہیلو،
سر میں حارث بات کر رہا ہوں ۔ سر آپکی فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے ۔ کیا ہاشم
کو زبردست جٹکا لگتا ہے ۔ جب تک أسکی ماں زندہ تھی، مصبیت ٹل رہی تھی، أسے
ہر بار محصلت مل رہی تھی ۔ ماں کے جانے کے بعد گھر سے رحمت بھی أٹھ گئی تھی
ہاشم اپنی چپل پہن کے پاگلوں کی طرح گھر سے نکلتا ہے ۔
ہاشم بیگ جب فیکٹری پہنچتا ہے تو سب کچھ جل کے راکھ بن گیا تھا ۔
ہاشم بیگ یہ سب دیکھ کے خون کے آنسو رونے لگتا ہے ۔ ہاشم بیگ اپنا
دل پکڑنے لگتا ہے ۔ کیا ہوا سر آپکو؟ حارث پریشانی سے بولتا تھا
ہاشم بیگ گر کے بے ہوش ہوجاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسد ماریہ کے ساتھ بیٹھا تھا ۔ ماریہ کیا بات ہے تم روئے کیوں جارہی ہوں؟ اسد پریشانی سے بولتا ہے
اسد میرے بھائی کو ہارٹاٹیک ہوا تھا ۔ مجھے علاج کے لئے پیسے چاہیے تھے ۔ میں نے گاؤں کے وڈیرے
سے قرضا لیا تھا ۔ اب مجھے اسکا قرض سود سمیت ادا کرنے ہے ورنہ مجھے أس سے شادی کرنی پڑے گی
ماریہ روتے ہوئے بولی ۔ تم پریشان نہ ہوں کتنا قرض ہے۔؟ اسد نے پوچھا ۔ تم میرا ایک کام کردو یہ پارسل
ہے تم اسکو پہنچا دو ۔ اس سے میرا قرضا ادا ہوجائے گا ۔ ماریہ آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔ ٹھیک ہے میں
لیے جاؤ گا ۔ تم اب مت رونا اسد پیار سے بولا ۔ ماریہ ہاں میں سر ہلاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
انعم دروازہ کھولو پروین پریشانی سے بولتی ہے ۔ انعم نے خود کو کمرے میں بند کر رکھا تھا ۔
پروین دوسری چابی سے دروازہ کھولتی ہے ۔ انعم کمرے میں بے ہوش پڑی تھی ۔ پروین جلدی سے
ڈاکٹر کو فون کرتی ہے ۔ انعم آنکھیں کھولو کیا ہوا؟ پروین انعم کو ہلاکے بولتی ہے ۔
تھوڑی دیر بعد لیڈی ڈاکٹر آتی ہے، انعم کا چیک اب کرنے کے بعد بولتی ہے ۔ گبھرا نے کی بات نہیں ہے
اسی حالت میں ایسا ہوتا ہے ۔ کیا مطلب کیسی حالت میں؟ پروین نے پوچھا؟ یہ ماں بنے والی ہے
کیا پروین کو زبردست جٹکا لگتا ہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *