Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18

اشعر کے خلاف ماجد خان پریس کانفرنس کررہاتھا ۔ اشعر ندیز دیکھنے میں کوئی شریف
اور نیک انسان ہے وہ انسان کی شکل میں بھیڑیا ہے ۔ اشعر نے میری بہن کے ساتھ
تعلقات رکھے لیکن جب أس نے شریفوں کی طرح رشتہ لانے کو کہا تو اشعر اپنی اصلیت
پر اتر آیا ۔ ماجد میڈیا کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا۔
ماجد صاحب آپکے پاس کیا ثبوت ہے یہ سب اشعر ندیز نے کیا ہے ۔ ایک صحافی نے سوال
کیا ۔ یہ ریکارڈ اشعر کے موبائل فون کا جس میں اشعر نے سب سے زیادہ فون میری
بہن علیشا کو کیا ہے۔ اور یہ میسج دیکھ رہے ہیں انتہائی چیپ باتیں لکھی ہیں
ماجد سارے کاغذات اور موبائل میڈیا کو دیکھایا ۔ اور یہ کچھ تصویریں ہیں
جو اشعر کی علیشا کے ساتھ تھیں ۔ اور سات سال پہلے میری بہن کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا لیکن جب پولیس
نے تفتیش کی تو پتا چلا کہ میری بہن کی گاڑی کے برئیک فیل تھے جو اشعر نے کرائے
تھے، لیکن اللہ نے میری بہن کو بچالیا لیکن وہ سات سال سے کومے میں ہے ۔ ماجد
نم لہجے میں کہا! آپ کے پاس کیا ثبوت ہے اشعر نذیر نے آپکی بہن کا قتل کرنے کی سازش کی تھی
ایک سنئیر صحافی نے سوال کیا ۔ پولیس اسٹیشن کل ایک آدمی آیا تھا أس نے پولیس
کو بیان دیا ہے أس نے علیشا کی گاڑی کے برئیک فیل کیے تھے وہ بھی اشعر کے
کہنے پر ۔ اشعر اس کام کے أسکو پانچ لاکھ دئے تھے ۔ ماجد نے کہا ۔ صحافیوں نے
اور بھی سوالات کیے جن کے جوابات ماجد خان نے دیئے ۔ میری آپ سب
سے التجا ہے میری بہن کو انصاف دیلائے ۔ ایک بھائی کی آپ سب سے انصاف
کی درخواست ہے۔ میری بہن کو انصاف دیلائے ماجد روتے ہوئے اپنے ہاتھ میڈیا
کے سامنے جوڑتے ہوئے کہا ۔
ماجد کی پریس کانفرنس جنگل میں آگ کی طرح پھیلی ۔ اشعر کے بسنیس ساخ کو کافی
نقصان پہنچا ۔ اور شوشل میڈیا پر اشعر کے خلاف ایک معاذ کھڑا ہوگیا تھا ۔ ٹی وی پر ٹاک
شوز میں یہی موضوع زیرِ بحث تھا ۔ جج نے اس کیس کا از خود نوٹس لیا اور
اشعر کی گرفتاری کا حکم جاری کیا ۔
پولیس اشعر کو گرفتار کرنے آگئی تھی ۔ اشعر اس سب سے پریشان تھا ۔ اپنے وکیل سے
بات کررہا تھا ۔ پولیس اشعر کے آفس میں آکے اشعر کو گرفتار کرلیا تھا ۔
اشعر پولیس کے ساتھ بنا مذمت کیے پولیس کی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت تم نے یہ دیکھا نمرہ آیت کو اپنے موبائل پر اشعر کی گرفتاری کی نیوز دیکھا رہی تھی
آیت چاول چولہے پر چڑھانے کے بعد نمرہ سے موبائل لیے کے دیکھا ۔ نیوز اشعر کے
خلاف تھی۔ آیت اشعر کی نیوز سنے کے بعد اشعر کو فون ملاتی ہے لیکن نمبر
بند جارہا تھا ۔ آیت اب کیا ہوگا تمہیں کیا لگتا ہے؟ نمرہ پریشانی سے بولی ۔
میرے خود کچھ سمجھ نہیں آرہا یہ سب کیا ہورہا ہے آیت اپنے ہونٹ دانتوں سے دباتے ہوئے
کہا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کی گرفتاری کی خبر سنے کے بعد فرمان اریشہ اپنا ہنی مون ادھورا چھوڑ کے
لاہور آگئے تھے ۔ اریشہ کا رو رو کے برا حال تھا ۔ فرمان بھائی کو بچالے بھائی
ایسا کچھ نہیں کرسکتے اریشہ روتے ہوئے بولی ۔ تم پریشان نہ ہوں میں کچھ کرتا ہوں
فرمان اریشہ کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔ فرمان اریشہ کو گھر پر چھوڑ کے
خود پولیس اسٹیشن چلا گیا ۔ اریشہ نے بھی جانے کی ضد کی لیکن فرمان نے
منع کردیا تھا ۔ حمیدہ اریشہ کو سنھبال رہی تھی ۔ اظہر نذیر کے تعلقات
بڑے لوگوں سے تھے ۔ اظہر نذیر اپنی power استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو بچانے
کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن یہ کیس خود جج دیکھ رہے ہیں تو ہر کسی نے مدد کرنے
سے انکار کردیا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مختار مسعود کا ضمیر انھیں ملامت کررہا تھا ۔ وہ سچ جاننے کے بعد خاموش تھے
وہ اپنے بیٹے کی ضد کے آگے بے بس ہوگے تھے ۔ لیکن اشعر کو بھی تکلیف میں
نہیں دے سکتے تھے ۔ اگر وہ اشعر کی مدد کرتے تو وہ بیٹا کھودے گے اور
اگر بیٹے کی بات مانے گے تو اشعر کے ساتھ ناانصافی ہوجائے گی ۔ قسمت نے انھیں عجیب
دہرائے پر لاکے کھڑا کردیا تھا ۔ وہ کچھ فیصلہ نہیں کر پارہے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان اور ارم پاکستان واپس آرہے تھے۔ ارسلان کے ولداین نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا
وہ ارسلان کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے تھے ۔ ارم کو اس حالت میں اکیلے نہیں
چھوڑ سکتے تھے ۔ ارسلان اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان پہنچ گیا تھا ۔
ارسلان اپنی فیملی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کے ائیرپورٹ سے گھر جارہا تھا ۔
ارم بور ہورہی تھی ارم موبائل پر YouTube سے ویڈیو دیکھ رہی تھی
اشعر کی گرفتاری کے خبر کی ویڈیو بھی تھی۔ ارسلان یہ دیکھے ارم ارسلان کو اشعر کی
گرفتاری کی نیوز دیکھا رہی تھی ۔
مشہور انٹرنیشنل بسنیس مین اشعر نذیر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے ۔ اشعر کے خلاف
کیس کی سماعت کل سے شروع ہوگی ۔ اشعر ندیز پر گاؤں کے وڈیرے سجاول خان
کی بیٹی علیشا کے قتل کرانے الزام ہے۔ اشعر ندیز نے پہلے علیشا کے ساتھ تعلقات
رکھے لیکن جب علیشا نے شادی کرنے کا اصرار کیا تو اشعر نے قتل کرنے
کا منصوبہ بنایا ۔
ارسلان اب کیا ہوگا؟ ارم پریشانی سے کہا۔ تم پریشان نہ ہوں ۔ تمہیں ڈاکٹر نے اسٹیرس
لینے سے منع کیا ہے ۔ ارسلان ارم سے کہا ۔ ارسلان تمہارے ساتھ میں تھانے
چلتا ہوں ۔ افتخار صاحب نے اپنے بیٹے سے کہا ۔ نہیں پاپا آپ لوگ پریشان نہیں
ہوں ۔ آپ ارم اور ماما لیے کے گھر جائے میں پولیس اسٹیشن سے ہوکے آتا
ہوں ارسلان ڈرائیور سے کہہ کے گاڑی روکے اتر گیا ۔ ارسلان نے گاڑی سے اترنے سے پہلے
فرمان کو فون کردیا تھا ۔ گاڑی کے جانے بعد ارسلان فرمان کے آنے کا انتظار کرنے لگا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کی گرفتاری کا سن کہ حذیفہ بہت خوش تھا ۔ حذیفہ نے اپنے گھر میں اس خوشی میں
پارٹی رکھی تھی ۔ حذیفہ تم یہ سب کرکے خوش ہوں؟ شرجیل نے کہا
یار تم کہنا کیا چاہتے ہوں؟ حذیفہ ڈرنگ پیتا ہوا بولا۔ تم کو علیشا سے محبت ہوگئی
تھی لیکن جب علیشا کو ساری سچائی کا پتا چلا تو علیشا تم سے ملنے آئی تھی
تم نے علیشا سے بات کرنے کے خاطر اشعر کے فون سے أسے باتیں کرتے تھے
اشعر بن کے ۔ وہ تمہاری محبت کا جواب محبت سے دیتی تھی ۔ لیکن وہ تم اشعر سمجھ
کے تم سے بات کررہی تھی ۔ سچ جاننے کے بعد علیشا نے تم کو ٹھکرا دیا تم سے
یہ برداشت نہیں ہوا کہ اشعر کی وجہ سے پہلی بار کسی لڑکی نے تم کو ٹھکرا یا
أس رات کیا ہوا تھا یہ تم بھی جانتے ہوں ۔ اور میں بھی اشعر کو اس بارے میں
کچھ علم نہیں ۔ تم اپنے کیے کی گناہوں کی سزا اشعر کو دئے رہے ہوں
اشعر کا کیا قصور ہے؟ اور وہ کوئی عام انسان نہیں ہے ۔ وہ ایک انٹرنیشنل بسنیس مین
تمہاری اس حرکت سے اشعر کو کتنا نقصان پہنچا ہے تم سوچ بھی نہیں سکتے
تمہارا ضمیر تمہیں ملامت نہیں کرتا؟ تم کو شرم نہیں آئی گی جب اشعر کا نام
علیشا کے ساتھ عدالت میں لیا جائے گا جب تمہاری غیرت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا؟
کوئی بھی عاشق اپنی محبوبہ کا نام کسی دوسرے کے ساتھ برداشت نہیں کرسکتا
یہ کسی محبت ہے تمہاری؟ ترس آتا ہے تم پر ۔ تم اشعر سے حسد کرتے کرتے خود کو بھی
برباد کردیا ۔ شرجیل حذیفہ کو آئینہ دیکھا کے چلا گیا تھا ۔ حذیفہ کا نشا شرجیل
کی باتوں سے ختم ہوگیا تھا ۔ حذیفہ غصے سے کلاس زمین پر زور سے
پیھکتا ہے کلاس ٹوٹ کے کرچی کرچی ہوگیا تھا ۔
کلاس ٹوٹنے کی آواز سن کے سب حذیفہ کی طرف حیرت سے دیکھنے لگتے ہیں
کیا دیکھ رہے ہو تم سب ؟ جاؤ اپنے گھر پارٹی ختم ہوگی ۔ جاؤ یہاں سے
حذیفہ چیختے ہوئے کہا، سب خاموشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں
پھر حذیفہ کی طرف دیکھتے ہوئے باہر نکل جاتے ہیں ۔ حذیفہ کی ذہنی حالت
دیکھ کے ڈی جے بھی جلدی سے باہر نکلتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر یہ سب کیا ہے؟ یہ علیشا کون ہے؟ ارسلان اور فرمان اشعر سے ملنے جیل آئے تھے
مجھے خود کچھ نہیں پتا یہ سب کیا ہورہا ہے اشعر سپاٹ چہرے لئے بولا
اشعر کیا بکواس ہے تمہیں نہیں پتا ماجد خان تمہارے کردار کی دھجیاں
بیکھر رہا ہے ۔ تمہیں یہ نہیں پتا یہ سب تمہارے ساتھ کیوں ہورہا ہے
کیا بات ہے تمہاری ۔ ارسلان دانت پیس کے بولا ۔ ارسلان کیا کررہے ہو
تم دیکھ نہیں رہا اشعر کتنا پریشان ہے ۔ فرمان ارسلان کو غصہ ہوتا دیکھ کے
بولا ۔ یار میں نہیں جانتا اسکی بہن کو۔ میرے کوئی تعلقات نہیں ہے اسکی بہن
کے ساتھ ۔ میں کبھی أس لڑکی سے نہیں ملا ۔ وہ لڑکی ایک بار مجھ سے ملنے
آئی تھی ۔ اپنی محبت کا اظہار کرنے لگی۔ میں نے أسکو خوب برا بھلا کہہ کے آفس سے نکال دیا تھا
مجھے کیا پتا تھا وہ لڑکی میرے گلے کا طاق بن جائے گی۔ اشعر اپنے بال پیچھے کرتے
ہوئے کہا۔ اشعر سارے ثبوت تمہارے خلاف ہیں ۔ تمہارے موبائل سے أس لڑکی کو
فون کیا گیا تھا ۔ ایک نہیں کہی بار۔ تم یاد کرو تم نے اپنا موبائل کبھی کسی کو
دیا ۔ فرمان نے اشعر سے کہا ۔ نہیں میرا فون تو میرے پاس تھا مجھے یاد نہیں
آرہا میں نے کسی کو دیا۔ یار میرا ابھی دماغ کام نہیں کررہا ۔ اشعر سوچتے
ہوئے کہا ۔ اچھا تم پریشان نہ ہوں ہم کچھ کرتے ہیں ارسلان اشعر کے ہاتھ
پر دباؤ دیتے ہوئے کہا، یار اریشہ کیسی ہے؟ اشعر نےفرمان سے پوچھا ۔ وہ ٹھیک ہے
تمہارے لیے فکرمند ہے۔ فرمان نے کہا ۔ اچھا ہم چلتے ہیں ۔ ملاقات وقت ختم
ہوگیا ۔ ارسلان نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت اشعر کی سلامتی کے لیے دعا مانگ رہی تھی ۔ آیت کب سے رو رو کے اشعر
کی رہائی کی دعا مانگ رہی تھی ۔ نمرہ آیت کے لئے اداس تھی ۔ نجانے کب آیت
کی مشکلیں ختم ہوگی ۔ نمرہ نے کہا ۔ نمرہ سے ملنے نمرہ کا کزن منگیتر آیا تھا
نمرہ کے والدین کسی رشتے دار کی شادی میں شرکت کیلئے کوئٹہ گئے تھے
نمرہ امتحان کی وجہ سے نہیں گئی تھی ۔ نمرہ تم پریشان نہیں ہو اللہ سب
بہتر کرے گا شرجیل نے کہا ۔ شرجیل کو جب پتا چلا کہ آیت اشعر کی بیوی ہے تم شرجیل
کو بہت خوشی ہوئی۔ لیکن شرجیل کو حذیفہ کا دوست ہونے پر شرمندگی ہورہی تھی
أسکو دوست کی وجہ سے کتنے لوگوں کی زندگی مشکل میں آگی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *