Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11
بیٹا تم آگئے ہو تو رشتے کی بات کرلیتے ہیں، حمیدہ اشعر سے بولی۔
اریشہ کی شادی فرمان سے نہیں ہوگی اشعر غصے سے بولتا ہے ۔ سب حیرت سے اشعر کی
طرف دیکھتے ہیں ۔ اشعر یار یہ کیا مذاق ہے فرمان زبردستی مسکراتےہوئے بولا
میں مذاق کر نہیں رہا اشعر سپاٹ چہرے لئے بولا۔ اشعر یہ آپ کیا بول رہے ہیں
آیت حیرت سے بولتی ہے ۔ تم چپ رہو اشعر غصے سے آیت کو بولتا ہے ۔
اظہر نذیر سمجھ رہا تھا اشعر یہ سب کیوں کر رہا ہے ۔ اریشہ پریشانی سے اشعر کی طرف
دیکھتی ہے ۔ میرے خیال سے اب آپ لوگ جاسکتے ہیں اشعر اظہر نذیر کی طرف دیکھتے
ہوئے بولا! فرمان تم ہماری یہاں بے عزتی کرانے لائے تھے؟ حمیدہ غصے سے کھڑی ہوکے
بولی۔ فرمان پریشانی سے اشعر کی طرف دیکھتا ہے ۔ اشعر یہ تو کیوں کررہا ہے ۔
مجھ سے کیا غلطی ہوگئی ۔ فرمان اشعر سے پوچھا ۔ فرمان چلو یہاں سے
بہت ہوگئی ہماری بے عزتی، حمیدہ فرمان کا ہاتھ پکڑ کر بولتی ہے ۔ فرمان بے بسی سے
اشعر کی طرف دیکھتا ہے ۔ اشعر منہ دوسری طرف کرلیتا ہے ۔ سب لوگ ڈرائنگ روم سے
جانے لگے روکے یہ مٹھائی کا ٹوکرا بھی لیتے جائے اشعر غصے سے بولتا ہے ۔ حمیدہ
مٹھائی کا ٹوکرا اٹھا کے لیے جاتی ہے ۔ اریشہ روتے ہوئے اپنے کمرے میں جاتی ہے
اشعر یہ سب کیا ہے؟ آیت پریشانی سے اشعر پوچھا، آیت مجھے اس وقت اکیلا
چھوڑ دو اشعر انگلی اٹھا کر آیت سے بولا، اشعر لیکن آیت پیلز
“Just leave me alone “
اشعر چیخ کے بولا، آیت ڈر کے پیچھے ہٹتی ہے ۔ آیت اشعر کی طرف ایک نظر
ڈال کے ڈرائنگ روم سے نکلتی ہے ۔ اشعر پھر سے ماضی میں گھوم ہوجاتا ہے
ماضی
بھائی یہ میسج جھوٹ ہے جویریہ روتے ہوئے بولتی ہے ۔ توبہ توبہ کسی بدچلن عورت ہے
تمہاری بہن نے دیکھو کیا گل کھلایا ہے ہمارے ہی ناک کے نیچے اس نے کسی دوسرے
مرد سے تعلقات بنا لیے عرفانہ جیند کو بھڑکاتے ہوئے کہا! جنید اپنی پستول جیب
سے نکلی تجھ جیسی بدکردار عورت کو اپنی بہن کہتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے
تم نے ہماری عزت کو مٹی میں ملا دیا تجھ زندہ رہنا کا کوئی حق نہیں
اشعر دروازے کے پیچھے چھپے یہ سب دیکھ رہا تھا ۔ جنید نے اپنی پستول جویریہ
کے سر پر رکھی ۔ عرفانہ اور اظہر ڈر گئے ۔ اظہر روکنے کے لیے آگے بڑھنے لگا
لیکن عرفانہ اظہر کو روک لیتی ہے ۔ جنید گولی چلا تا ہے ، جویریہ زمین پر
خون سے لت پت پڑی ہوئی تھی ۔ اشعر کے منہ سے چیخ نکلتی ہے ۔ اشعر
بھاگتا ہوا جویریہ کے پاس آتا ہے ۔ ماما ماما أٹھے ماما کیا ہوا آپکو ۔ اشعر روتے
ہوئے بولتا ہے ۔
بھائی اریشہ کی آواز سے اشعر ماضی سے باہر آیا ۔ کیا ہوا اریشہ؟ بھائی آپ نے
ایسا کیوں کیا؟ پہلے میں اس رشتے پر راضی نہیں تھی آپ نے مجھے کہا فرمان اچھا
لڑکا ہے تمہیں خوش رکھے گا ۔ لیکن اب جب میں اس رشتے کو دل سے قبول کرچکی
تو آپ میرے ساتھ ایسا کررہے ہیں ۔ اریشہ روتے ہوئے بولی۔ اریشہ تم اپنے کمرے میں
جاؤ اور اب میں ہی تم سے کہہ رہا ہوں فرمان کو بھول جاؤ اشعر غصے سے بولا
بھائی میں کوئی موم کی گڑیا نہیں ہو جہاں آپ کہہ گئے جیسا آپ کہہ گئے میں
ویسا کرتی جاؤ میں انسان میں اپنے سینے میں دل رکھتی ہوں ۔ آپ کو بتانا
پڑے گا آپ ایسا کیوں کررہے ہے؟ اریشہ اپنے آنسوؤں کو لگڑتی ہوئی بولی
اریشہ ایک بات کان کھول کر سن لوں تمہاری شادی فرمان سے نہیں ہوگی
اور بہت جلد میں تمہاری شادی مشہور بسنیس مین طارق کے بیٹے سے ہوگی
اشعر کی بات پر اریشہ کے سر پر دھمکا ہوا، اریشہ بے یقینی سے اپنے ظالم بھائی کو دیکھ
رہی تھی ۔ اشعر بول کے ڈرائنگ روم سے نکلتا ہے اریشہ وہی بیٹھے رونے لگی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر تم کیا بول رہے ہو؟ ارسلان نے حیرت سے اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا!
اشعر ارسلان سے ملنے اسکے گھر پر آیا تھا ۔ ہاں مجھے بھی آج پتا چلا فرمان میرا
کزن ہے۔ اشعر نے کہا، اشعر کا چہرہ حد سے زیادہ سنجیدہ لگ رہا تھا ۔
اشعر اس سب میں فرمان کا کیا قصور؟ ارسلان بولا ۔ تم نہیں جانتے فرمان کے نانی میری
ماں کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔ اور اسکی ماں نے کیسے کیسے ظلم میری ماں کے ساتھ
کیے ۔اشعر نفرت سے بولتا ہے ۔ اشعر میں سمجھتا ہوں تمہارے جذبات لیکن تم
اریشہ کا تو سوچو اس میں اریشہ کے دل کو کتنی ٹھیس پہنچے گئی ۔
ارسلان پریشانی سے بولا ۔ میں سنھبال لوں گا اسے اشعر نے کہا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم کو بسنیس میں بہت بڑا نقصان ہوا تھا ۔ ہاشم کی کمپنی کا تو دیوالیہ
نکل گیا تھا ۔ ہاشم بیگ کو پتا چلا گیا تھا أسکی بیٹیوں کی شادی
میں سب سے بڑا ہاتھ أسکی ماں کا تھا ۔ ہاشم بیگ غصے سے پاگل ہورہا تھا
ہاشم غصے سے اپنی ماں کے پاس جاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا اریشہ ۔ فرمان پریشانی سے بولا ۔ فرمان اریشہ سے
فون پر بات کررہا تھا ۔ فرمان میں صرف سے شادی کروگی، بھائی میری شادی
مشہور بسنیس مین حمزہ سے کررہے ہیں ۔ اریشہ روتے ہوئے بولتی ہے
کہی اشعر نے پیسہ دولت دیکھ کے اس رشتے سے انکار تو نہیں کردیا ۔
فرمان نے سوچتے ہوئے کہا، میں نے فیصلہ کرلیا ہے ہم آج ہی کورٹ میراج کررہے گئے
اریشہ نے غصے سے کہا، نہیں اریشہ ایسے ہم شادی نہیں کرے گئے ۔ تم ایک بار
اپنے بھائی کی عزت کا تو سوچو ۔ فرمان منع کرتے ہوئے کہا ۔ جب بھائی کو
میری خوشیوں کی پرواہ نہیں تو میں کیوں انکی پرواہ کرو ۔ بھائی ایک
خودغرض انسان ہے ۔ أنھیں بس اپنی انا عزیز ہے ۔ اریشہ نفرت سے بولتی ہے
اشعر جو اریشہ کو مانے آیا تھا ۔ اریشہ کی ساری باتیں اشعر نے سن لی تھی اریشہ کی باتوں
سے ٹوٹ گیا تھا ۔ أسکی بہن اسکے لئے ایسی رائے رکھتی ہے ۔ اریشہ ، اشعر کو پیچھے سے
آواز دیتا ہے اریشہ گبھرا کر پیچھے موڑتی ہے کہی بھائی نے میری بات تو نہیں سنی لی
اریشہ سوچتی ہے ۔ تم فرمان سے بات کررہی ہوں؟ اشعر اریشہ کے ہاتھ میں موبائل
دیکھ کے بولتا ہے ۔ جی کررہی ہوں ۔ اور میں شادی فرمان سے ہی کروں گی
اگر آپ نہیں مانے تو میں گھر سے بھاگ جاؤ گی ۔ اریشہ چیخ کر بولتی ہے
اشعر تپھڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھتا ہے لیکن روک جاتا ہے ۔ روک کیوں گئے مارے
اریشہ چیخ کر بولی ۔ تم شادی کرنا چاہتی ہونا تو ٹھیک ہے فرمان کو بلاو اسکو بولو
وہ مولوی کو لے آئے میں تمہاری شادی فرمان سے کردو گا ۔ لیکن اسکے بعد تمہارا
اور میرا کوئی رشتہ نہیں ہوگا سمجھی ، اشعر غصے سے بولتا ہے ۔ اور
اپنے کمرے کی طرف بڑھتا ہے ۔ اشعر کے جانے کے بعد اریشہ فون پر فرمان کو بتاتی ہے
اریشہ خوش تھی، کیا ہوا ایک بار شادی ہوجائے پھر میں بھائی کو منا لوں گی اریشہ
خود کو تسلی دیتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان اپنے ماں کے ساتھ اشعر پیلس میں آگیا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد نکاح شروع ہوگیا تھا
اریشہ کے قبول بولنے پر نکاح ہوگیا ۔ ارسلان بھی موجود ہوتا ہے ۔ اشعر اریشہ کو
فرمان کے ساتھ جانے کا بولتا ہے ۔ اور یہ سونے کی بالیاں ہے جو ماما نے تمہارے لئے
بنائی تھی ۔ اور کبھی اس گھر میں قدم رکھنے کا سوچنا بھی مت ۔ اشعر نفرت
سے بولا، اریشہ روتے ہوئے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ اشعر اپنے کمرے میں
جاتا ہے ۔ فرمان اریشہ کو لئے اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہے ۔
سب کے جانے کے بعد ارسلان آیت کے پاس آتا ہے، بھابھی آپ اشعر کو سنھبالیے گا
ارسلان آیت سے بولے کے چلا گیا تھا ۔اور آیت اپنے کمرے کی طرف بڑھتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر اپنے کمرے میں سگریٹ نوشی کررہا تھا ۔ آیت اشعر کے ہاتھ سے سگریٹ لئے کر
پیھکتی ہے ۔ یہ کیا حرکت ہے اشعر غصے سے آیت کی طرف دیکھ کے بولا
آیت اشعر کے پاس بیٹھتی ہے ۔ کیا بات ہے مجھ سے شئر نہیں کررہے گئے
آیت اشعر کے کندھے پر سر رکھ کے بولتی ہے ۔ اشعر آیت کے گود میں سر
رکھ لیتا ہے ۔ آیت اشعر کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلانے لگتی ہے ۔
اشعر کی زندگی کی تلخ سچائی اشعر آیت کو بتانے لگتا ہے ویسے اشعر کے
موبائل پر آفس سے کال آجاتی ہے ۔ اشعر کو ضروری کام سے جانا پڑتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان اریشہ کو لئے اپنے گھر لئے آتا ہے ۔ اریشہ بہت افسردہ تھی ۔
اریشہ تم پریشان نہ ہو، اشعر تم سے زیادہ دن ناراض نہیں رہ سکتا ۔ فرمان اریشہ سے
بولتا ہے ۔ حمیدہ بہت خوش تھی ۔ اظہر نذیر نے حمیدہ اور عرفانہ کو بتادیا تھا
اریشہ اسکی بیٹی ہے ۔ اریشہ میں تمہاری پھوپھو ہو اور یہ تمہارے پاپا ہے
حمیدہ خوشی سے بتاتی ہے ۔ اریشہ حیرت سے اظہر کی طرف دیکھتی ہے
بیٹا مجھے معاف کردوں ۔ اظہر نذیر ہاتھ جوڑ کر بولتا ہے، اریشہ اظہر نذیر
کے گلے لگ جاتی ہے ۔ اریشہ اپنے ماں باپ کا سچ نہیں پتا تھا ۔ وہ یہی
سمجھ رہی تھی اسکے باپ پیسوں کے چکر میں ملک سے باہر گئے تھے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماں جی آپ نے اپنے بیٹے کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ دیا ۔ ہاشم بیگ غصے سے بولا
نسیم بیگم جو تسبیح پڑھ رہی تھی ۔ ہاشم کی بات پر سر اٹھا کے ہاشم بیگ
کی طرف دیکھتی ہے ۔ آپ نے کیوں میری بیٹیوں کی شادی میرے دشمنوں سے
کرائی ۔ ہاشم بیگ غصے سے چیخ کے بولا، بس ہاشم بیگ، تمہاری ماں ہو
میں، اور تم کتنے بے حیائی اور بے غیرت ہو، نسیم بیگم غصے سے بولی۔
تمہاری میں نے ایسی تربیت نہیں کی تھی تمہاری وجہ سے ایک عورت کا قتل
ہوگیا تم أس پر ذرا شرمندہ نہیں ہو، تمہارے باپ نے تمہیں صحیح سے بیگاڑ تھا
لیکن اب تو سدھر جاؤ تم دو بیٹوں کے باپ ہوں، ڈرو انکے نصیب سے
نسیم بیگم غصے سے بولی۔ ہاشم بیگ غصے سے کمرے سے جانے لگتا ہے
میں تمہاری سچائی آیت کو بتاو گی ۔ نسیم بیگم پیچھے سے بولی۔
آپ ایسا کچھ نہیں کریں گی ۔ ہاشم بیگ غصے سے بولا، میں ایسا ہی
کروں گی، أس بھی باپ کی سچائی کا پتا چلے نسیم بیگم غصے سے
بولی۔ اور جانے لگتی ہے ہاشم ہاتھ پکڑ کر أنھیں روکنے کی کوشش
کرتا ہے وہ اپنا ہاتھ جوڑانے لگی۔ ہاشم بیگ غصے سے دھکا دیتا ہے
وہ سیڑھیوں سے نیچے جاکے گرتی ہے انکی دل خراشیں چیخیں پورے گھر میں
گونجتی ہے ۔ ہاشم گبھرا جاتا ہے ۔ جلدی سے سیھڑی اترکے نسیم بیگم کے پاس جاتا ہے ۔
اور أ نھیں چیک کرتا ہے تو ان کی ہلکی سانسیں چل رہی تھی ۔ ہاشم بیگ اپنے ملازم کو آواز
دیتا ہے اور اپنی ماں کو أٹھا کے ہاسپٹل لیے جانے کے لیے گاڑی میں لیٹتا ہے ۔ ڈرائیور کے
ساتھ ہاسپٹل جاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے ۔ ڈاکٹر نسیم بیگم کو ایمرجنسی وراڈ میں
میں لے جاتے ہیں ۔ ہاشم پریشانی سے پینچ پر بیٹھا ۔ عرشی جو پارلر میں فیشل کرا
رہی تھی سب چھوڑ کے ہاسپٹل پہنچتی ہے ۔ کیا ہوا ماں جی کو؟ عرشی
اپنا منہ ٹیشو سے صاف کرتے ہوئے بولی۔ وہ سیڑھی سے گر گی ہاشم ندامت سے
بولا۔ اتنے میں ڈاکٹر آتا ہے ۔ پیشنٹ کی حالت بہت سیرئس ہے آپ بس دعا
کریں ۔ ہاشم اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ چلوں اچھا ہے مر جائے بڑھیا میری
جان چھوٹے گئی عرشی دل میں سوچتی ہے ۔ لیکن پیشنٹ آیت سے ملنے کا
بول رہی ہے آپ أنھیں بلادے پیشنٹ کے پاس وقت کم ہے، ڈاکٹر پروفشنل انداز
میں کہا! ہاشم بیگ آیت کو فون ملانے لگتا ہے ۔
جاری ہے
