Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24

ارم چائے کی پیالی پکڑ کے ارسلان کے ساتھ بیٹھی ۔ کیا ہوا منہ کیوں اترا ہوا ہے؟
ارم اور ارسلان کے رشتے میں اتنی مضبوط ہوگے تھے کہ ارسلان بنا ارم کے
بولے اسکی پریشانی سمجھ جاتا تھا ۔ ارسلان آپ اپنے لاڈلے کو سمجھاتے کیوں نہیں
وہ دن بہ دن بہت شرارتی ہورہا ہے ۔ ارم ناک پھولا کے بولی۔ یار اب کیا کردیا؟
اسد ابھی 1سال کا تو ہے ۔ تم تو ایسی بول رہی ہوں جیسے وہ بہت بڑا ہوگیا ہے
ارسلان ہنستے ہوئے بولا۔ ارسلان آپکو اپنی ڈیوٹی سے فرصت نہیں ۔ وہ اب بڑھا ہو رہا ہے
میرا موبائل توڑ دیا ۔ مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا ۔ کل تو وہ گھٹنوں کے بل چلاتا
ہوا سیڑھی چڑھ گیا ۔ وہاں سے مجھے آواز دے رہا تھا ۔ میں سارے کام چھوڑ کے
أسکو جاکے اترا ارم روہانسی ہوکے بولی ۔ ارسلان نے قہقہہ لگایا ۔ ہنس لئے آپکو کیا
پتا کتنا میرے ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ اسد جو واہ گر میں بیٹھا تھا وہ اپنی شررات کا
سن کے خوشی سے ہنسنے لگا ۔ ارم نے گھور کے اسد کو دیکھا ۔ لے لئے یہ دیکھو ماما
کیا بول رہی ہے؟ ارسلان اسد کو گود میں اٹھا کے پیار سے بولا ۔
اسد اپنے پاپا کے یونیفارم میں لگے پیچ سے کھیل رہا تھا ۔ اسلام وعلیکم!
اشعر اتنے میں آجاتا ہے ارم کو سلام کرتا ہے ۔ وعلیکم السلام بھائی ارم خوشی سے
اشعر کے سلام کا جواب دیتی ہے ۔ اشعر ارم کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتا ہے
اشعر پھر ارسلان کی طرف بڑھتا ہے ارسلان کی گود سے اسد کو اٹھا کے خوب پیار کرتا ہے
بھائی آپ بیٹھے میں آپکے لئے چائے لاتی ہوں ۔ ارم اشعر سے بول کے کچن کی طرف بڑھی
اشعر ارسلان کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا ۔ یہاں کیسے آنا ہوا؟ ارسلان اشعر سے سوال کیا
آنٹی سے کام تھا اشعر اسد کے ساتھ کھیلتے ہوئے جواب دیا ۔ پھر تو فضول ہی آئے
ماما تم سے سخت ناراض ہے، تم کو دیکھ کے گھر سے نکال دئے گی ارسلان چائے
سے لطف اٹھاتے ہوئے بولا ۔ انکل کہاں ہے ؟ اشعر کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
بیکار میں پوچھ رہے ہو ۔ اس بار پاپا بھی ماما کی ٹیم میں ہے تمہارے اسطرح جانے سے
وہ بھی بہت خفا ہے ۔ ارسلان مسکراتےہوئے بولا ۔ یار کیا گناہ کردیا میں نے ۔
مطلب حد ہے یار؟ اشعر جھنجھلا کے بولا ۔ اشعر ٹیک اٹ ازی میرے بھائی
یہ سب آپکے جنونی فطرت کی وجہ سے ہوا ہے ۔ ارسلان اشعر کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے
بولا۔ یار اب میں کیا کروں؟ آیت میری سنتی نہیں میری اپنی سگی بہن آیت کے ساتھ
ملی ہوئی ہے ۔ میں نے اریشہ سے بولا وہ آیت کو سمجھے تو میڈم نے مجھے اتنا لیکچر
سنادیا ۔ اور یہ کمینہ فرمان میرا فون نہیں اٹھارہا ۔ گھر گیا تھا ملنے مجھے گھر میں
گھسنے نہیں دیا باہر سے چلتا کردیا ۔ اشعر دانت پیس کے بولا ۔
اب میں کیا بول سکتا ہوں ۔ ارسلان اپنے کندھے اچکائے ۔ ارم اتنی میں ٹرے نمکو ،
چپس، بسکٹ اور چائے رکھ کے لیے آئی ۔ ارم بھاپ اڑاتی چائے اشعر کے سامنے رکھی
کیا بات ہے بھائی؟ ارم اشعر کو پریشان دیکھ کے سوال کیا ۔ ارم تمہاری آپو
کتنی ظلم ہے ذرا سا مجھ پر ترس نہیں آرہا وہ معاف کرنے کو تیار نہیں
اشعر ٹھنڈی آہ بھر کے بولا ۔ بھائی برا مت مانے گا ۔ لیکن اس میں سارا قصور آپکا ہے
آپ نے آپو کی نادانی کو معاف کرنے کے بجائے انکو گھر سے نکال دیا تھا ۔ اور پھر انکو
چھوڑ کے یورپ چلے گئے ۔ ارم اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ ہاں مجھے ایسا نہیں
کرنا چاہیے تھا ۔ میں شرمندہ ہوں ۔ کیا مجھے معافی نہیں مل سکتی؟ وہ مجھے بات
کرنے کا موقع نہیں دئے رہی ۔ اشعر بیچارگی سے بولا ۔ اچھا ٹھیک ہے آپو سےمیں بات
کروگی ۔ ارم اشعر کو پریشان دیکھ کے بولی ۔ اچھا چائے تو پیے ورنہ ٹھنڈی ہوجائے گی
ارم نے اشعر سے کہا ۔ اشعر خاموشی سے چائے پینے لگا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت تم اور اشعر بھائی مجھے ٹوم اور جیری کی طرح لگتے ہوں جب دیکھو لڑتے رہتے
ہوں نمرہ چپس کھاتے ہوئے بولی۔ آیت گھور کے نمرہ کو دیکھتی ہے ۔ اچھا نا سیریز
نہیں ہو مذاق کر رہی ہوں ۔ نمرہ پیکٹ سے آخری چپس کھاتے ہوئے کہا ۔
نمرہ اشعر نے مجھے تڑپتا چھوڑ کے چلے گئے تھے ۔ ایک بار بھی مجھے موڑ کے نہیں پوچھا
اب ایک سال بعد آکے مجھ پر اپنا حق جتا رہے ہیں آیت نے منہ بنا کے بولا ۔
اچھا سیٹ نہیں ہو تھوڑا سا تو اشعر بھائی کو ستانا بنتا ہے نمرہ مسکراتےہوئے کہا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر علیشا سے ملنے آیا تھا ۔ اشعر کو دیکھ کر علیشا حیران کن نظروں سے اشعر کو
دیکھتی ہے ۔ آپ پاکستان کب آئے؟ علیشا اشعر سے پوچھا ۔ دو دن ہوگئے ۔ آپ کیسی ہے؟
اشعر بیلو کلر کے پیشنٹ شرٹ میں بہت ہنڈسم لگ رہا تھا ۔ أسکی بروان آنکھوں
کے سحر میں کوئی بھی گرفتار ہوسکتا تھا ۔ کاش اشعر آپ میرا مقدر ہوتے بے اختیار
علیشا نے دل میں سوچا ۔ کیا سوچنے لگی؟ علیشا کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے اشعر چونک
کے علیشا کے سامنے ہاتھ ہلاکے بولا۔ ک کچھ نہیں علیشا ہربڑاہ کر بولی ۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔ اشعر سنجیدگی سے بولا ۔ اگر آپکو حذیفہ کے بارے میں
بات کرنی ہے تو مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی ۔ علیشا کانٹ دار لہجے میں
بولی۔ علیشا دیکھو تم ماضی میں جو کچھ ہوا أسکو بھول نہیں سکتی ۔ اشعر
علیشا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ نہیں میں چاہ کے بھی نہیں بھول سکتی
اشعر آپ میرے نصیب میں نہیں تھے یہ میں نے مان لیا اسکے علاوہ مجھ سے کوئی امید
مت رکھے آپکو کیا پتا جسکو ٹوٹ کے چاہو وہ آپ کے سامنے کسی اور کا ہوجائے تو
أسکا درد کیسا ہوتا ہے ۔ نہ جاتے ہوئے بھی علیشا کے لہجے میں تلخی آگی تھی ۔
علیشا پھر اٹھ کے وہاں سے چلی جاتی ہے ۔ اشعر مایوس سے واپس چلا گیا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کی کل سالگرہ تھی ارم اریشہ کے ساتھ شاپنگ کرنے آئی تھی ۔ اشعر بھی ویہی
پہنچ گیا تھا ۔ بھائی آپ نے کیا پیلن تیار کیا ہے ؟ اریشہ چاٹ کھاتے ہوئے پوچھا
اشعر پھر دونوں کو کل کیلئے پلین بتاتا ہے ۔ بھائی آپکو کیا لگتا ہے بھابھی آپ کو
معاف کردے گی اریشہ نے سوال کیا ۔ یار مجھ سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتی
اشعر مسکراتےہوئے بولا ۔ بھائی پیلن تو بہت اچھا ہے ارم خوش ہوکے بولی
اریشہ تم یہ اتنا کب سے کھانے لگی؟ اشعر اریشہ کو تیسری پیلٹ چاٹ کی کھاتا دیکھ کے
حیرت سے پوچھا ۔ بھائی اتنا کم تو کھاتی ہوں ۔ اریشہ معصومیت سے بولی ۔
یہ کم ہے ۔ ابھی اس سے پہلے تم نے دو برگر کھا چکی ہوں ۔ اور اتنا کھاؤ گی
تو تمہارا ویٹ بڑھ جائے گا ۔ اشعر صدمے سے کہا ۔ بھائی آپ بھی فرمان کی طرح مجھے
بول رہی ہے اریشہ منہ بنا کے بولی ۔ اریشہ بس کرو رکھو ایسے اشعر اریشہ کے ہاتھ سے
پیلٹ لیے کے بولا ۔ اب تم کل سے جیم جاؤ گی ۔ دیکھو کتنی موٹی ہوتی جارہی ہوں
اور یہ اپنا کھانا کم کرو اور اب تم بس ایک روٹی کھاؤ گی ۔ اشعر اریشہ کو ڈانٹے ہوئے
کہا ۔ اریشہ منہ بنا لیتی ہے۔ ارم کو اریشہ کی شکل دیکھ کے ہنسی آنے لگتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حذیفہ تم شادی کیوں نہیں کرلیتے شرجیل حذیفہ سے بولا۔ کیا تم مجھ سے آفس شادی کی
بات کرنے کیلے آئے ہوں؟ حذیفہ شرجیل کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔ یار تم اتنا بدل گئے
ہوں لیکن تم ایک بات مان کیوں نہیں لیتے علیشا تمہاری نصیب میں نہیں ۔ تم کتنی بار
أسے ذلیل ہوچکے ہو ۔ شرجیل پریشانی سے بولا ۔ علیشا کو میں چاہ کے بھی بھول نہیں
سکتا مجھے یقین ہے وہ میرے مقدر میں ایک نا ایک دن لکھ دی جائے گی ۔ حذیفہ
مسکراتےہوئے بولا ۔ شرجیل افسوس سے حذیفہ کی طرف دیکھتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کیا بات ارسلان تم نے مجھے کیوں بلایا؟ اشعر ارسلان سے ملنے آرمی کے آفس میں آیا تھا
یار ایک لڑکی مجھے میلی ہے ۔ أسکے ساتھ بہت برا ہوا ہے ۔ وہ لڑکی کو ایک رونگ نمبر
تنگ کرتا تھا ۔ پہلے تو وہ بات نہیں کرتی تھی وہ نمبر بدل بدل کے أسکو پریشان کرتا تھا
لیکن پھر وہ لڑکی اسکے جال کو محبت سمجھ بیٹھی ۔ أسے روز فون پر باتیں کرنے
لگی ۔ تم کو تو پتا ہے جب ایک لڑکا لڑکی ایک ہوتے ہیں انکے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے
باتیں ملاقات تک جا پہنچی پھر ملاقات میں لڑکی کا اسنے لڑکے نے ریپ کردیا اور أسکی
ویڈیو بنالی اور أسکو بیلک میل کر رہا ہے ۔ اب وہ لڑکی آرمی کے ہیڈ آفس میں بیٹھی ہے
ارسلان ساری بات اشعر کو بتاتا ہے ۔ تو تم کیا چاہتے ہو؟ یار میں اس لڑکے کے ہاتھ نہیں
ڈال سکتا وہ مشہور بسنیس مین وحید ارشد کا بیٹا زوہیب ہے ۔ وہ جیل سے جب باعزت
بری ہوگیا تھا ۔ اب میں اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے کے کیس میں کچھ کرتا بھی
ہو تو کچھ نہیں ہوگا بس میڈیا لڑکی کے پیچھے پڑ جائے گا لڑکی کی بہت بدنامی ہوگی
ارسلان گری سانس لیتے ہوئے بولا ۔ اب تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اشعر سنجیدگی سے
بولا ۔ میں چاہتا ہوں تم زوہیب سے ملو ۔ أسکو سمجھو یا أسکی کمزوری دیکھ کے
أسکو مجبور کرو وہ لڑکی سے شادی کرے ۔ انفارمیشن تو میں نکال سکتا ہوں لیکن
میں أسکے سامنے نہیں جانا چاہتا میں چاہتا ہوں پورے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ أسکو
گرفتار کرو اور میں دوسرے کیس میں الجھا ہوا ہوں ۔أسکا بھی یہی تھا لڑکا رونگ نمبر پر
تنگ کرتا تھا وہ لڑکی کے بھائی نے فون اٹھا لیا پھر غیرت میں آکے بنا سچے جانے بہن کو
قتل کردیا وہ بھی زندہ جلا کے ۔ارسلان افسوس کرتے ہوئے کہا۔ کیا تو أسکے ماں باپ نے روکا
نہیں؟ اشعر افسوس سے پوچھا ۔ نہیں بوڑھے ماں باپ کیا کرسکتے تھے ۔
یہ موبائل کے غلط استعمال سے کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد ہوگئ ہیں
لیکن یہ سب ہونے کے باوجود نا لڑکیاں انکے جھانسے سے بچتی نہیں ۔ اور جو لڑکیاں انکے
چکر میں نہیں آتی وہ غیرت کے نام پر قتل ہوجاتی ہیں ۔ ارسلان دکھ سے بولا
ہاں ٹھیک ہے اس زوہیب کو میں دیکھتا ہوں ۔ تم پریشان نہ ہوں ۔ اشعر کچھ
سوچتے ہوئے بولا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت اشعر کا کب سے انتظار کر رہی تھی ۔ ویسے وہ اشعر سے بات نہیں کررہی تھی
لیکن رات کے 12 بجے رہے تھے اور اشعر کا کچھ پتا نہیں تھا ۔ اشعر کی گاڑی کا ہارن کی
آواز آئی ۔ لگتا ہے اشعر آگے ہیں آیت بیڈ سے اٹھ کے کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا
اشعر گاڑی سے اتر کے گھر میں داخل ہوا ۔ آیت جلدی سے اشعر کے لئے کھانا گرم
کرکے ٹیبل لگاتی ہے ۔ نوری (ملازمہ ) آیت نوکرانی کو آواز دیتی ہے
جی بی بی جی تمہارے صاحب آگے ہیں میں نے کھانا گرم کرکے ٹبیل پر لگادیا ہے
تم صاحب سے جاکے بولو وہ کھانا کھالے آیت روٹی کا برتن میز پر رکھے بولی
جی بی بی جی نوری کچن سے چلی جاتی ہے ۔ آیت نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا وہ
اشعر کے انتظار میں تھی، آیت کھانا کھانے لگی ۔ اشعر فریش ہوکے کھانا کھانے
آیا اشعر کو پتا تھا آیت انتظار کررہی ہوگی ۔ اشعر آیت کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا
خاموشی سے کھانا کھانے لگا ۔ آیت میرے انتظار میں بھوکی رہ سکتی ہوں لیکن مجھے
معاف نہیں کرسکتی اشعر آیت کی آنکھوں میں دیکھ کے بولا ۔ آپکو کچھ ذیادہ خوش فہمی
نہیں ہے ؟ آیت پانی پینے کے بعد بولی ۔ آیت بس کردو تم جیت گی میں ہار گیا ۔ تم نہیں
سمجھ سکتی أس وقت میرے پر کیا گزار رہی تھی ۔ میں کتنا ٹوٹا ہوا تھا ۔
مجھے تھوڑا وقت چاہیے تھا ۔ اشعر دھیمے لہجے میں بولا ۔ آیت میں نے کہا تھا نا
تم میرے درد کی وجہ ہوں ۔ میں أس وقت اپنے ہوش میں نہیں تھا ۔ میری ماں کے
ساتھ برا کرنے میں مامی کا بھی ہاتھ تھا ۔ أس وقت میں نے تم سے کہا تھا مجھے
اکیلا چھوڑ دو لیکن تم نے میری نہیں سنی ۔ میں شرمندہ ہوں اپنے ہر لفظ پر
میں اپنے ان الفاظ کو واپس نہیں لاسکتا ۔ لیکن تم مجھے کبھی بھی معاف نہیں
کروگی ؟ میں مانتا ہوں تم کو مجھ سے بہتر انسان ملنا چاہیے تھا ۔ میں تمہارے
قابل نہیں ۔ اشعر کی آنکھوں میں آیت کو درد محسوس ہوا ۔ اشعر یہ بول کے کمرے میں
چلا گیا ۔ آیت وہی بیٹھی رہ جاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *