Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Last updated: 29 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif

بیٹا تم آگئے ہو تو رشتے کی بات کرلیتے ہیں، حمیدہ اشعر سے بولی۔
اریشہ کی شادی فرمان سے نہیں ہوگی اشعر غصے سے بولتا ہے ۔ سب حیرت سے اشعر کی
طرف دیکھتے ہیں ۔ اشعر یار یہ کیا مذاق ہے فرمان زبردستی مسکراتےہوئے بولا
میں مذاق کر نہیں رہا اشعر سپاٹ چہرے لئے بولا۔ اشعر یہ آپ کیا بول رہے ہیں
آیت حیرت سے بولتی ہے ۔ تم چپ رہو اشعر غصے سے آیت کو بولتا ہے ۔
اظہر نذیر سمجھ رہا تھا اشعر یہ سب کیوں کر رہا ہے ۔ اریشہ پریشانی سے اشعر کی طرف
دیکھتی ہے ۔ میرے خیال سے اب آپ لوگ جاسکتے ہیں اشعر اظہر نذیر کی طرف دیکھتے
ہوئے بولا! فرمان تم ہماری یہاں بے عزتی کرانے لائے تھے؟ حمیدہ غصے سے کھڑی ہوکے
بولی۔ فرمان پریشانی سے اشعر کی طرف دیکھتا ہے ۔ اشعر یہ تو کیوں کررہا ہے ۔
مجھ سے کیا غلطی ہوگئی ۔ فرمان اشعر سے پوچھا ۔ فرمان چلو یہاں سے
بہت ہوگئی ہماری بے عزتی، حمیدہ فرمان کا ہاتھ پکڑ کر بولتی ہے ۔ فرمان بے بسی سے
اشعر کی طرف دیکھتا ہے ۔ اشعر منہ دوسری طرف کرلیتا ہے ۔ سب لوگ ڈرائنگ روم سے
جانے لگے روکے یہ مٹھائی کا ٹوکرا بھی لیتے جائے اشعر غصے سے بولتا ہے ۔ حمیدہ
مٹھائی کا ٹوکرا اٹھا کے لیے جاتی ہے ۔ اریشہ روتے ہوئے اپنے کمرے میں جاتی ہے
اشعر یہ سب کیا ہے؟ آیت پریشانی سے اشعر پوچھا، آیت مجھے اس وقت اکیلا
چھوڑ دو اشعر انگلی اٹھا کر آیت سے بولا، اشعر لیکن آیت پیلز
"Just leave me alone "
اشعر چیخ کے بولا، آیت ڈر کے پیچھے ہٹتی ہے ۔ آیت اشعر کی طرف ایک نظر
ڈال کے ڈرائنگ روم سے نکلتی ہے ۔ اشعر پھر سے ماضی میں گھوم ہوجاتا ہے
ماضی
بھائی یہ میسج جھوٹ ہے جویریہ روتے ہوئے بولتی ہے ۔ توبہ توبہ کسی بدچلن عورت ہے
تمہاری بہن نے دیکھو کیا گل کھلایا ہے ہمارے ہی ناک کے نیچے اس نے کسی دوسرے
مرد سے تعلقات بنا لیے عرفانہ جیند کو بھڑکاتے ہوئے کہا! جنید اپنی پستول جیب
سے نکلی تجھ جیسی بدکردار عورت کو اپنی بہن کہتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے
تم نے ہماری عزت کو مٹی میں ملا دیا تجھ زندہ رہنا کا کوئی حق نہیں
اشعر دروازے کے پیچھے چھپے یہ سب دیکھ رہا تھا ۔ جنید نے اپنی پستول جویریہ
کے سر پر رکھی ۔ عرفانہ اور اظہر ڈر گئے ۔ اظہر روکنے کے لیے آگے بڑھنے لگا
لیکن عرفانہ اظہر کو روک لیتی ہے ۔ جنید گولی چلا تا ہے ، جویریہ زمین پر
خون سے لت پت پڑی ہوئی تھی ۔ اشعر کے منہ سے چیخ نکلتی ہے ۔ اشعر
بھاگتا ہوا جویریہ کے پاس آتا ہے ۔ ماما ماما أٹھے ماما کیا ہوا آپکو ۔ اشعر روتے
ہوئے بولتا ہے ۔
بھائی اریشہ کی آواز سے اشعر ماضی سے باہر آیا ۔ کیا ہوا اریشہ؟ بھائی آپ نے
ایسا کیوں کیا؟ پہلے میں اس رشتے پر راضی نہیں تھی آپ نے مجھے کہا فرمان اچھا
لڑکا ہے تمہیں خوش رکھے گا ۔ لیکن اب جب میں اس رشتے کو دل سے قبول کرچکی
تو آپ میرے ساتھ ایسا کررہے ہیں ۔ اریشہ روتے ہوئے بولی۔ اریشہ تم اپنے کمرے میں
جاؤ اور اب میں ہی تم سے کہہ رہا ہوں فرمان کو بھول جاؤ اشعر غصے سے بولا
بھائی میں کوئی موم کی گڑیا نہیں ہو جہاں آپ کہہ گئے جیسا آپ کہہ گئے میں
ویسا کرتی جاؤ میں انسان میں اپنے سینے میں دل رکھتی ہوں ۔ آپ کو بتانا
پڑے گا آپ ایسا کیوں کررہے ہے؟ اریشہ اپنے آنسوؤں کو لگڑتی ہوئی بولی
اریشہ ایک بات کان کھول کر سن لوں تمہاری شادی فرمان سے نہیں ہوگی
اور بہت جلد میں تمہاری شادی مشہور بسنیس مین طارق کے بیٹے سے ہوگی
اشعر کی بات پر اریشہ کے سر پر دھمکا ہوا، اریشہ بے یقینی سے اپنے ظالم بھائی کو دیکھ
رہی تھی ۔ اشعر بول کے ڈرائنگ روم سے نکلتا ہے اریشہ وہی بیٹھے رونے لگی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *