Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10

فرمان اشعر سے ملنے ہاسپٹل آیا تھا ۔ اشعر کو ڈاکٹر نے ڈسچارج کردیا تھا
اشعر فرمان کے ساتھ گھر جارہا تھا ۔ میں ایک دن کے لئے گاؤں کیا چلا گیا تم نے
اپنا یہ حال کرلیا ۔ فرمان اشعر سے مذاق کرتے ہوئے بولتا ہے ۔ بس دیکھ لئے
بھائی ۔ اشعر مسکراتےہوئے کہا ۔ فرمان ہنستے ہوئے کار اسٹارٹ کرتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کو اشعر کے ڈسچارج ہونے کے بارے میں اریشہ نے فون کرکے بتادیا تھا ۔ آیت نے اشعر
کے لئے پرہیزی کھانا بنالیا تھا ۔ آیت بے صبری سے اشعر کے آنے کا انتظار کررہی تھی ۔
آیت آج یونیورسٹی بھی نہیں گئی تھی،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر گھر جانے کے بجائے اپنے آفس آگیا تھا ۔ اشعر کو جو بڑا پروجیکٹ ملا تھا
اس کے لئے اشعر نے ارجنٹ اسٹاف کی میٹنگ بلائی تھی ۔ اشعر اپنے اسٹاف کے ساتھ
پروجیکٹ ڈیکس کررہا تھا ۔ سر اس پروجیکٹ سے ہاشم بیگ کی کمپنی کو
بہت نقصان پہنچے گا ۔ منجیر طاہر اشعر کو فائل دیکھاتے ہوئے کہتا ہے ۔
ٹھیک ہے تو کام کب سے شروع ہوگا اشعر فائل اسٹیڈی کرتے ہوئے کہا
سر آج سے شروع کردیا جائے گا ۔ منجیر طاہر نے کہا ۔ گڈ اشعر نے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ اپنی دوست کے شاپنگ سینٹر میں آئی تھی ۔ یار کوئی مشرقی لباس آپ لوگوں
کے پاس ہے؟ یہاں تو کسی ڈریس میں آستین غائب ہے کسی کا گلہ بہت بڑا ہے
کسی کے ڈوپٹہ بہت چھوٹا ہے جسے بچوں کا ڈوپٹہ ہوں ۔ اریشہ غصے سے لڑکی سے بولتی
ہے ۔ سوری میم ہمارے پاس اس طرح ڈریس نہیں ہے ۔ گائیڈ کرنے والی لڑکی بولی
چلوں یہاں سے رمشا، اریشہ غصے سے اپنی دوست سے بولتی ہے ۔ اریشہ جانے لگتی ہے
پیچھے سے دوسری لڑکی آواز دیتی ہے ۔ میم روکے ہمارے پاس آپ کے پسند کے ڈریس ہیں
اپنے پاس رکھ لو ۔ اریشہ موڑکے بولتی ہے ۔ اور رمشا کا ہاتھ پکڑ کے بوتھیک سے باہر
نکلتی ہے ۔ اریشہ کے جانے کے بعد دوسری لڑکی أس لڑکی کے پاس آتی ہے
تمہارے ذرا عقل نہیں ہے ۔ کیا ضرورت تھی یہ بولنے کی؟ اگر میڈم کو پتا چلا نا کہ
کسٹمر بنا کچھ خریدے چلے گئے تو تمہاری خیر نہیں ۔ بوتھیک کی انچارج بولتی ہے
سوری میم مجھے نہیں پتا تھا میرا آج پہلا دن ہے ۔ وہ لڑکی روتے ہوئے بولتی ہے
انچارج سر جٹک کے چلی جاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر ارم سے ملنے آیا تھا ۔ بھائی آپ کیسے ہیں؟ اور آپ کیوں آئے؟ اس حالت میں
آپکو آرام کرنا چاہیے تھا ۔ ارم اشعر کو یہاں دیکھ کے بولتی ہے ۔ اشعر ارم کی بات
پر مسکراتا ہے ۔ اچھا آپ بیٹھے میں آپکے لئے چائے لاتی ہوں ۔ ارم اشعر کو
ڈرائنگ روم میں بیٹھا کے بولتی ہے ۔ نہیں مجھے چائے نہیں پینی ۔ تم سے بات
کرنے آیا ہوں ۔ اشعر ارم کو جاتا دیکھ کے بولتا ہے ۔ ارم روک کر اشعر کی طرف
سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہے ۔ بیٹھو یہاں، اشعر سامنے والے صوفے پر
اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔ ارم صوفے پر آکے بیٹھتی ہے ۔ ارم تم آیت کی باتوں کا برا نہیں
مانو ، وہ سچ سے ناواقف ہے ۔ تم اپنا دل چھوٹا نہیں کرو، ارسلان بہت اچھا انسان ہے
أس کے ساتھ اپنی زندگی کی شروعات نئے سرے سے کرو، پرانی باتیں بھول جاؤ
ارم بولنے کے لیے منہ کھولتی ہے، ایک منٹ میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی، اشعر ارم کو
بولنے سے روکتا ہے ۔ میں مانتا ہوں، سب بھول جانا آسان نہیں ہے ۔ لیکن زندگی میں
آگے بڑھنے کیلئے بھولنا ضروری ہے ۔ اشعر بول کے صوفے سے کھڑے ہوتا ہے
ارم کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے ۔ جو میں نے کہا اس بارے میں سوچنا ضرور، اشعر بول کے
چلا جاتا ہے ۔ ارم وہی بیٹھی رہ جاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کو گھر آتے ہوئے رات ہوگی تھی ۔ رات کے 8 بجے تھے ۔ڈرائیور گاڑی
سے اترکے اشعر کے لئے گیٹ کھولتا ہے ۔
اشعر کی گاڑی کے ہارن کی آواز سن کے آیت جلدی سے کمرے سے نکلتی ہے۔اشعر گاڑی سے
اتر کے گھر میں داخل ہوا ۔ آیت جلدی سے سیھڑی سے اترتی ہے اور بھاگتے ہوئے اشعر کے
سینے سے آ لگتی ہے ۔ آپ ٹھیک ہے اشعر ؟ میں نے آپکو بہت میس کیا ۔ آیت اشعر کے
سینے پر اپنا سر رکھے بولتی ہے اشعر حیرت سے
آیت کو اپنے اتنے قریب دیکھ رہا تھا ۔ آیت کی دل کی ڈھرکن کی آواز اشعر کو
صاف سنائی دے رہی تھی ۔ آیت اشعر کے حصار میں کھونے لگی تھی ۔
اشعر کے کندھے میں چوٹ لگی تھی ۔ آیت وہی ہاتھ رکھے کھڑی تھی ۔
اشعر اریشہ کو اپنے کمرے سے آتا دیکھ لیتا ہے۔ جلدی سے آیت کو خود سے دور کرتا ہے
آیت اپنی بے اختیاری پر شرمندہ ہوئی۔ اشعر آیت کا شرم سے لال چہرہ دیکھتا ہے
بھائی آپ نے آنے میں اتنی دیر لگادی، بھابھی کب سے آپ کا انتظار کررہی تھی
بھابھی نے کھانا بھی نہیں کھایا، آپکے انتظار میں صبح سے بھوکی بیٹھی ہے
اریشہ بولتی ہوئی صوفے پر بیٹھتی ہے اور ٹی وی چلانے لگتی ہے ۔
اشعر حیرت سے آیت کی طرف دیکھتا ہے ۔ میں کھانا لگاتی ہوں ۔آیت خود پہ اشعر کی
نظریں محسوس کرتے ہوئے بولتی ہے آیت جلدی سے کچن میں چلی جاتی ہے
اشعر مسکرانے لگتا ہے ۔ اور سیڑھی کی طرف بڑھتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت اشعر اور اپنے لئے کھانا نکال کے ٹرے میں رکھ کے کمرے کی طرف بڑھتی ہے ۔
اشعر اپنی شرٹ اتارنے کی کوشش کررہا تھا ۔ لیکن ہاتھ اٹھ بھی نہیں رہا تھا
آیت ٹرے میز پر رکھے ۔ اشعر کی طرف بڑھتی ہے ۔لائے میں مدد کرتی ہوں ۔ آیت اشعر
سے بولتی ہے ۔ نہیں میں کرلوں گا ۔ اشعر بولتا ہے ۔ میں کردیتی ہوں نا آیت باضد
رہی ۔ آیت اشعر کے شرٹ کے بٹن کھولتی ہے اور آرام سے اشعر کا ہاتھ
آستین سے نکالتی ہے ۔ بنا شرٹ کے اشعر کی بوڈی پر ایپس دیکھ رہے تھے
آیت اشعر کی بوڈی دیکھتی رہی گی تھی ۔ آیت کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے
اشعر مسکراتا ہوا آیت کے قریب ہوتا ہے ۔ اچھی بوڈی ہے نا؟ آیت اشعر کے اس طرح
بولنے سے گبھرا کر جلدی الماری کی طرف بڑھتی ہے ۔ اشعر کے لئے وائٹ شرٹ
نکالتی ہے ۔ اور اشعر کی طرف بڑھتی ہے آیت اشعر کو دیکھنے سے گریز کررہی تھی
اشعر آیت کی جھجک دیکھ کر محظوظ ہوتا ہے، آیت جلدی اشعر کو شرٹ
پہنا کے واش روم میں ہاتھ دھونے چلی گئی ۔ اشعر مسکراتا ہوا آیت کو
آتا دیکھتا ہے۔ آیت اشعر کے لئے کھانا کھانے والی ٹرے اٹھائی بیڈ پر رکھتی ہے ۔
اشعر کھانا کھالے، اشعر سے بولتی ہے ۔ اشعر آیت کو اپنا زخمی ہاتھ
دیکھتا ہے ۔ آیت خود روٹی توڑ کے سالن میں لگا کے اشعر کی طرف نولہ
بڑھاتی ہے اشعر آیت کی طرف دیکھتا اور کھالیتا ہے ۔ آیت کی انگلی اشعر کے
ہونٹ سے ٹش ہوتی ہے ۔ آیت جی جان تڑپ جاتی ہے ۔ آیت جلدی سے اشعر کو کھانا
کھالنے لگی، کیا مرنے کا ارادہ ہے؟ اشعر شررات سے بولتا ہے ۔
یار آرام سے کیھلاو انسان ہوں چبانے میں ٹائم لگتا ہے ۔ اشعر مسکین سے شکل بناکے
بولتا ہے ۔آیت شرمندہ ہوجاتی ہے ۔ سوری آیت بولتی ہے ۔ آیت ایک نوالہ خود کھاتی ہے اور
دوسرا اشعر کوکھلاتی ہے ۔
سنا ہے کوئی ہمارے انتظار میں بھوکا رہا اشعر آیت کی آنکھوں میں دیکھ کے بولا
آیت شرماتے ہوئے نظریں جھکا لیتی ہے ۔ اشعر نے قہقہہ لگایا ۔ اشعر آیت کی آنکھوں میں
دیکھتا ہے اور آیت اشعر کی آنکھوں میں دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھو جاتے ہیں
اظہار کے سو رنگ ھیں اک رنگ ھے ان میں
خاموش نگاہوں سے ۔۔۔۔خطابت کا طریقہ،
تم اھل نظر۔۔ ھو تو تمھیں کیوں نہیں آتا؟
نظروں کی گزارش ۔۔۔۔۔کو سمجھنے کا سلیقہ۔!
اشعر بے اختیار آیت کی آنکھوں پر اپنے لب رکھتا ہے ۔ آیت اشعر کے سینے سے لگ جاتی ہے
کچھ وقت ایسی گزار جاتا ہے ۔ اشعر دیکھتا ہے آیت سو گئی ہے ۔ اشعر کھانا کی ٹرے کو
سائیڈ میں رکھتا ہے ۔ اشعر یہ سب بہت آرام سے کرتا ہے تاکہ آیت کی آنکھ نہ کھولے اور
پھر آیت کے سر پر اپنا سر رکھے آنکھیں موند لیتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اظہر نذیر نے اشعر کے گھر کے قریب گھر خرید لیا تھا ۔ اظہر اپنی ماں کو لئے کراچی سے
لاہور آگیا تھا ۔ اظہر اپنی بہن سے ملنے گاؤں آیا ۔ حمیدہ اظہر کو دیکھ کے بہت
خوش ہوتی ہے ۔ بھائی آئے نا اندر ۔ حمیدہ دروازے پر کھڑے ہوئی بولتی ہے ۔
اظہر نذیر کمرے کے اندر آتا ہے ۔ گھر دیکھنے میں بہت بڑا نہیں تھا ۔ چار کمرے کا
کشادہ مکان تھا ۔ اظہر چارپائی پر بیٹھتا ہے ۔ حمیدہ تم کیسی ہو؟ اور تمہارا بیٹا
فرمان کیسا ہے؟ کہاں ہے نظر نہیں آرہا ۔ اظہر حمیدہ سے بولتا ہے ۔ بھائی میں بالکل ٹھیک
ہوں اور فرمان بھی ٹھیک ہے ۔ خیر سے میرا بیٹا ڈاکٹر بن گیا ۔ اب شہر میں رہتا ہے
حمیدہ خوشی سے بتاتی ہے ۔ اچھی بات ہے ۔ اظہر نے مسکراتےہوئے کہا، بھائی آپ
پاکستان کب آئے؟ حمیدہ نے پوچھا! مجھے پاکستان آئے ہوئے ایک ہفتہ ہونے والا ہے
اظہر نے بتایا ۔ بھائی اس ہفتے فرمان کا نکاح ہے ۔ حمیدہ اظہر کے برابر
بیٹھتے ہوئے کہتی ہے ۔ اچھا بہت مبارک ہو تمہیں، اظہر خوش ہوتے ہوئے کہا
بھائی خیر مبارک میرا ایک سہارا ہے ۔ فرمان کے والد کے گزرنے کے بعد میں نے اپنے بچے
کی تربیت اکیلی کی، اللہ نے مجھے مایوس نہیں کیا ۔ حمیدہ بولتی ہے ۔
اچھا آپ بیٹھے میں کھانا لگاتی ہوں کھانے کا ٹائم ہورہا ہے ۔ حمیدہ بولتے ہوئے کچن کی
طرف بڑھتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارم نے ارسلان کی پسند کا کھانا بنایا تھا ۔ ارسلان بہت مزے سے کھانا کھایا ۔ ارم تمہارے
ہاتھ میں جادو ہے ۔ ارسلان چائنس رئس کھاتے ہوئے بولتا ہے ۔ ارم مسکراتی ہے
ارسلان آپ بہت اچھے ہیں ۔ ارم ارسلان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !
کیا بات ہے آج تو جناب کو پیار آرہا ہے؟ ارسلان اپنی کرسی سے آگے ہوتے ہوئے کہا
ارسلان میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں، ارم منہ پھولا کے بولتی ہے۔ اچھا نا
بولو کیا بات ہے کیوں تم اتنی پریشان ہوں؟ ارسلان سنجیدہ ہوکے بولا،
اشعر بھائی پر حملہ پاپا نے کریا مجھے ڈر ہے پاپا نے اگر آپکو نقصان پہنچانے کی
کوشش کی تو؟ ارم سوچتے ہوئے کہا، مجھے کچھ نہیں ہوگا، اور میں کوئی معمولی
بندہ نہیں ہوں، ایک آرمی آفیسر ہو ۔ مجھ سے پنگا لیتے وقت تمہارے پاپا کئی بار
سوچے گے ۔ ارسلان گہری سانس لے کے بولا، اچھا تم اپنا موڈ ٹھیک کرو اور جلدی سے
کھانا ختم کرو نہیں تو ٹھنڈا ہوجائے گا ارسلان نے ارم سے کہا، ارم خاموشی سے
کھانا کھانے لگی،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ تو اس کیس بچ گیا تھا کیونکہ کہ اشعر نے میڈیا کو یہ بیان دیا تھا یہ ایکسیڈنٹ
ٹرک والے کی غفلت سے ہوا ہے ۔ ہاشم بیگ اپنا سر پکڑ کے بیٹھا تھا
تم کب سے ایسے بیٹھے ہوں، کن سوچوں میں گھوم ہو؟ عدنان کب سے ہاشم کو ایسے
بیٹھے دیکھ رہا تھا ۔ تنگ آکر عدنان بولتا ہے ۔ مجھے ایک بات پریشان کررہی ہے، اشعر
نے کیس کیوں واپس لے لیا؟ کچھ تو أسکے دماغ میں چل رہا ہے ۔ ہاشم عدنان کی
طرف دیکھتے ہوئے بولا، ارے بھئی تم فضول میں سوچ رہے ہوں، یہی شکر
کرو ہم بچ گئے، عدنان نےخار کھاتے ہوئے کہا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسد ماریہ کے لئے ڈائمنڈ کا ہار خرید کے أسے گفٹ کرتا ہے ۔ ماریہ اس سے لینے سے انکار
کردیا ۔ لیکن کیوں ماریہ تم لینا کیوں نہیں چاہ رہی ۔ اسد نے پریشانی سے پوچھا ۔
اسد دیکھو یہ تمہارے پاپا کی محنت کی کمائی ہے اور تم مجھ پر لٹوٹا رہے ہو
ماریہ فکرمندی سے بولتی ہے ۔ ارے تم کوئی غیر تو نہیں ہو، اسد ماریہ سے بولا،
اسد لیکن ماریہ ہچکچاتے ہوئے کہا! لیکن ویکن کچھ نہیں، تم بس یہ لے رہی ہوں
ورنہ میں ناراض ہوجاو گا۔ اسد منہ بنا کے بولتا ہے ۔ ٹھیک ہے ماریہ لیتے ہوئے کہا
اور کمرے میں چھپے راجا نے انگھوٹے کا نشان بنایا ہے ۔ ماریہ نے آنکھ مارتے ہوئے
اسد کی طرف دیکھ کے مسکرانے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فجر کی اذان پر آیت کی آنکھ کھولتی ہے ۔ آیت خود کو اشعر کی بانہوں میں دیکھتی ہے
آیت خود اپنے پر سے اشعر کا ہاتھ ہٹتی ہے ۔ آیت کے ہلنے سے اشعر کی آنکھ کھول جاتی ہے
اشعر آیت سے الگ ہوتا ہے ۔ تم رات کو یہی سو گئی تھی تو میں نے اٹھنا مناسب نہیں
سمجھا اشعر بولتا ہے ۔ آیت خاموشی سے اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی ۔ اشعر بستر سے
اٹھ کے وضو کرنے کے لیے واش روم کی طرف بڑھتا ہے ۔ آیت بستر ٹھیک کرکے کھڑی
ہوئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سکینہ کے کزن کی شادی دی تھی وہ گاؤں گئی ہوئی تھی ۔ اریشہ نے ناشتہ بنانے
کچن میں آتی ہے تو آیت پہلے سے ناشتہ بنا چکی تھی ۔ اریشہ آیت کی ناشتہ ٹبیل پر
لگانے میں مدد کرتی ہے ۔ اشعر بھی تیار ہوکے نیچے آجاتا ہے ۔ کل اشعر کے رومینٹک
انداز کو دیکھ کے آیت اشعر کی کپڑے چینچ کرنے میں مدد کیلئے نہیں گئی تھی ۔
اشعر خود ہی تیار ہوا تھا ۔ واہ بھئی آج تو بڑا مزیدار ناشتہ بنا ہے ۔ اشعر
چائنس آملیٹ دیکھ کے بولتا ہے ۔ خشبو بہت اچھی آرہی ہے، اریشہ ناشتہ تم نے
بنایا ہے؟ اشعر آملیٹ کو پیلٹ میں ڈالتا ہوا پوچھا، نہیں بھائی میں اتنی سگھڑ کہاں
بھابھی نے آج ناشتہ بنایا ہے ۔ اریشہ مسکراتےہوئے کہا! اشعر کچھ نہیں بولتا خاموشی سے
ناشتہ کرنے لگا ۔ آیت بھی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگتی ہے ۔ آج شام میں فرمان کی امی
أسکے ماموں اور نانی آئی گئی تو تم تیار رہنا میں آفس جلدی آجاو ں گا اشعر
آملیٹ کھاتے ہوئے اریشہ سے بولتا ہے ۔ جی بھائی اریشہ منہ بناتے ہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆
ارسلان اپنا آرمی کا یونیفارم پہنے کھڑا تھا، خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے بالوں میں
کنگھی کررہا تھا ۔ ارم ارسلان کے لئے چائے لاتی ہے ۔ ارسلان وردی میں بہت جج رہا تھا
ارم ارسلان کے بال کے پیچھے اپنی آنکھ کا کاجل لگاتی ہے ۔ یہ کیا حرکت ہے؟ ارسلان
حیرت سے پوچھا، تاکہ آپکو نظر نہ لگے آپ یونیفارم میں بہت پیارے لگ رہے ہو
ارم شرماتے ہوئے کہا! ارم پرپل کلر کے سوٹ میں بہت حسین لگ رہی تھی، ارسلان
ارم کو بہت پیار سے دیکھتا ہے اور ارم کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے اللہ حافظ کہتا ہوا
جانے لگتا ہے پھر یاد آنے پر پیچھے موڑ کے بولتا ہے ۔ ارم تیار رہنا ہمیں شام میں
اشعر کی طرف جانا ہے، ارسلان بول کے گھر دروازے کی طرف بڑھتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان کے ماموں کہاں سے ٹپ پکڑے اریشہ اشعر سے پوچھتی ہے ۔ اشعر آفس کے لیے
نکل رہا تھا اریشہ کے سوال پر روکتا ہے ۔ اریشو بری بات، أسکے ماموں کل ہی
امریکہ سے آئے ہیں اور تمہیں کیا مئسلہ ہے؟ اشعر اریشہ کو ڈانٹے ہوئے کہا
کیا ہوگیا ہے اشعر اریشہ نے صرف پوچھا ہے آیت اریشہ کی حمایت میں بولی،
ہاں ایک تم دونوں کی عقلمند ہو، اشعر نے تپ کر کہا ! اشعر پھر کورٹ
پہنے لگتا ہے ۔ آیت منہ کھولے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ اریشہ منہ بنا کر کمرے میں
جاتی ہے ۔ آیت اشعر کے ہاتھ سے کورٹ لیے کے خود پہناتی ہے ۔ اشعر آیت کو اللہ حافظ
بولتا ہوا گھر سے نکلتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان بہت خوش تھا ۔ فرمان آج ہاسپٹل نہیں گیا تھا ۔ فرمان ہاسپٹل سے آف لیا تھا ۔
فرمان بیلک کلر کی شرٹ پہنے اور گلے میں ٹائی باندھے خود کا آئینہ میں جائزہ لیے
رہا تھا ۔ حمیدہ فرمان کو بلانے کمرے میں آئی تھی ۔ فرمان جلدی کرو بیٹا ہمیں
پہنچنے میں دیر ہوجائے گی۔ تمہارے ماموں اور نانی کوگھر سے لینا ہے ۔ حمیدہ
مٹھائی کا ٹوکرا أٹھتے ہوئے بولی ۔ اچھا اماں، فرمان بال بناتے ہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
منیجر طاہر اشعر کو پروجیکٹ کا فائنل کرنے سے پہلے پورا پروجیکٹ کی رپورٹ اسکرین پر
دیکھا رہے تھا ۔ اشعر غور سے یہ سب دیکھ رہا ہے، اتنے میں اشعر کے موبائل پر
آیت کی کال آنے لگی تھی ۔ اشعر گھر کا نمبر دیکھ کے فون ریسوف کرتا ہے
طاہر صاحب آپ ذرا بعد میں آجائے گا ۔ اشعر موبائل کو کان میں لگا کے بولتا ہے
شور سر ، طاہر صاحب بولتے ہیں اور باقی اسٹاف طاہر صاحب کے ساتھ کمرے سے چلے
جاتے ہیں ۔ اشعر پھر موبائل کی طرف متوجہ ہوا ۔ ہیلو اشعر! فون کے دوسری طرف
آیت بول رہی ہے ۔ ہاں بولو! اشعر کرسی سے ٹیک لگتے ہوئے کہا! آپ نے میڈیسن کھالی
آپکا زخم بہت گہرا ہے ۔ آیت فکرمندی سے بولتی ہے ۔ ٹھیک کہا تم نے میرا زخم
واقعی میں بہت گہرا ہے ۔ اشعر معنی خیز لہجے میں کہا! کیا مطلب؟ آیت ناسمجھی سے
کہا! کچھ نہیں تم بس یہی پوچھنے کے لیے فون کیا تھا؟ اشعر پاس رکھا چوپس
کو ہاتھ سے گول گول گھماتے ہوئے بولتا ہے ۔ ہاں وہ مجھے فکر ہورہی تھی
پتا نہیں آپ نے میڈیسن لی کہ نہیں، ورنہ آپکی طبیعت کیسی صحیح ہوگی
اور اریشہ بھی پریشان ہوجائے گی، آیت ہونٹ دانت میں دباتے ہوئے کہا
اچھا بس اریشہ پریشان ہوگی تمہیں فرق نہیں پڑے گا، اشعر معصومیت سے کہا
کیوں نہیں فرق پڑے گا ۔ آیت کے منہ سے ایک دم دل کی بات زبان پر آجاتی ہے
آیت زبان کو دانتوں سے دبالتی ہے ۔ واقعی میں اشعر آیت کو تنگ کرنے کے
فل موڈ میں تھا ۔ اشعر وہ اریشہ کے سسرال والے آرہے ہیں تو میں کھانے میں
کیا پکاؤ آیت ایک دم بات گھماتے ہوئے بولتی ہے ۔ اشعر نے جاندار قہقہہ لگایا
آیت اشعر کے اس انداز سے سٹپٹا کے فون بند کردیتی ہے ۔ اشعر کو اسطرح ہسنتے
کوئی دیکھ لیتا کوئی یقین نہیں کرتا کہ یہی ہر وقت غصے کرنے والا اشعر ہے
اشعر آیت کو فون کرتا ہے ۔ آیت خود کو کوس رہی تھی کیا ضرورت تھی یہ بولنے کی
موبائل بجنے پر آیت کال ریسف کرتی ہے ۔ میں نے یہ پوچھنے کے لیے فون کیا تھا
کہ تم نے سوچ لیا کیا پکانا ہے؟ اشعر نے شرارت سے کہا! اشعر اب آپ نے یہی بات کہی
تو میں فون بند کردو گی آیت زچ ہوکے بولی، آیت مجھے لگتا ہے مجھے تم سے
محبت ہوجائے گی، اشعر گمھبر لہجے میں کہا! اشعر کی بات پر آیت کے کان
لو تک سرخ ہوگی تھی ۔ آیت کا دل میں زور زور سے دھڑکنے لگا ۔ آیت
تم سن رہی ہوں نا اشعر دوسری طرف خاموشی محسوس کرتا ہوا بولا،
جی آیت شرماتے ہوئے کہا! اچھا میں ابھی گھر آرہا ہوں، تم پر ریڈ کلر بہت سوٹ
کرتا ہے تم ریڈ کلر کی فراک پہنا، اشعر محبت سے چور لہجے میں بولا
اشعر مجھے اریشہ بلا رہی ہے آیت بہنا بناتے ہوئے کہا ، جھوٹی اشعر نے ہسنتے ہوئے کہا
اور فون بند کر دیا آیت فون کو اپنے دل کے قریب رکھ کر مسکرانے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان اظہر کے بنگلے کے سامنے کار روکتا ہے ۔ فرمان گاڑی سے اترکے حمیدہ کے ساتھ
اندر جاتا ہے ۔ اظہر تیار کھڑا تھا ۔ فرمان کو آتا دیکھ کے اظہر عرفانہ کے ساتھ
فرمان سے ملاتا ہے اور پھر سب گاڑی میں بیٹھ کے اشعر کے گھر کی طرف
بڑھتے ہیں، اظہر کا گھر اشعر کے سے ایک گلی چھوڑ کے تھا ۔ فرمان اشعر پیلس
کے اندر گاڑی لے کر جاتا ہے ۔ سب گاڑی سے اتر کے اندر جاتے ہیں، ملازم سفید
یونیفارم میں کھڑے تھے ان میں سے ایک انھیں اندر ڈرائنگ روم میں لے
جاتا ہے ۔ سر آپ سب یہاں تشریف رکھے سر ابھی آتے ہونگے ملازم صوفے
کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا! سب صوفے پر بیٹھتے ہیں ۔ حمیدہ مٹھائی کا ٹوکرا
میز پر رکھ دیتی ہے ۔ کمرے میں دوسرا ملازم چائے اور دیگر لوازمات ٹرے
میں رکھ لاتا ہے ۔ اتنے آیت ڈرائنگ روم میں قدم رکھتی ہے سب کو سلام کرتی ہے
آیت نے ریڈ کلر کی فراک پہنی تھی اور کانوں میں میچنگ کی بالیاں پہنے
آیت بہت پیاری لگ رہی تھی۔
بھابھی یہ میری ماں ہے، فرمان آیت سے سب کا تعارف کرتا ہے، اور یہ
میرے دوست اشعر کی وائف، فرمان آیت کی طرف ہاتھ کرتا ہوا بولا، اشعر کا نام سن کے
اظہر چونک گیا ۔ آپ لوگ کھائے نا پیلز آیت بولی، سب کو آیت سرف کرتی ہے
اریشہ نے پرپل کلر کا سوٹ پہنا تھا ۔ چہرے پر ہلکا سا میک اپ کیے اور سر پر ڈوپٹہ
لئے ڈرائنگ روم میں آتی ہے ۔ اریشہ ڈریگ فرمان کے دل میں اتر رہی تھی
اریشہ سب کو سلام کرتی ہے، حمیدہ أٹھ کے اریشہ
سے گلے ملتی ہے اور أسکا پیار سے ماتھا چومتی ہے، اریشہ ممتا کے احساس سے
اسکی آنکھیں نم ہونے لگی تھی، اریشہ کو نجانے یہ لوگ اپنے لگے، اریشہ کو حمیدہ اپنے
پاس بیٹھا لیتی ہے، اور یہ اریشہ آیت مسکراتےہوئے کہا! اظہر نذیر سن کے بہت
اریشہ کی طرف دیکھتا ہے ۔ اپنی بیٹی کو دیکھ کے اظہر بہت خوش ہوا ۔
بیٹا آپ کیا کرتی ہوں؟ حمیدہ نے پیار سے اریشہ سے پوچھا ، اماں کا مطلب
لوگوں کے دماغ کھانے کے علاوہ اریشہ اس پہلے کچھ بولتی فرمان بولتا ہے
سب ہسنے لگتے ہیں اریشہ غصے سے فرمان کو گھورتی ہے۔ آنٹی میں نے گریجویشن
کی ہے ۔ اریشہ نے مسکراتےہوئے کہا! اریشہ اظہر کو نہیں پہنچانی تھی ۔
اریشہ أس وقت بہت چھوٹی تھی ۔ اظہر نذیر نے ابھی کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا
گاڑی کے ہارن کی آواز پر آیت بولتی ہے لگتا ہے اشعر آگے ہے ۔ میں ابھی آئی آیت
أٹھتے ہوئے کہا اور ڈرائنگ روم سے باہر قدم رکھتی ہے ۔اشعر سومینگ پول
عبور کرتا ہوا دوسرے راستے سے اندر آتا ہے ۔ اشعر جلدی آئے وہ لوگ کب سے
آپ کا انتظار کررہے ہیں آیت اپنی فراک سنھبالیتی ہوئے کہا! اشعر آیت کی طرف دیکھتا
ہے، آیت نے وہی ڈریسنگ کی تھی جو اشعر نے بولا تھا ۔ کیا دیکھے جارہے ہیں؟
چلے اندر دیر ہورہی ہے ، اشعر کو اپنی طرف دیکھتے
ہوئے آیت نے بولا ۔ آیت جانے لگتی ہے اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچتا ہے
آیت اشعر کے سینے پر آلگتی ہے ۔ اشعر کی پروفیم کی خوشبو اسکے دماغ گھس رہی تھی
اشعر چھوڑے ، آیت شرماتے ہوئے کہا، اشعر جھک کے آیت کے گال پر کس کرتا ہے
آیت شرم سے لال ہوجاتی ہے، نظریں أٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ تم اتنا
بلش کرکے میرا امتحان لئے رہی ہوں، اشعر رومینٹک انداز میں کہا!
آیت اشعر کو دھکا دے کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھتی ہے ۔ اشعر ہسنے لگتا ہے
روکو میں بھی آرہا ہوں، اشعر ہسنتے ہوئے کہا اشعر آیت کے ساتھ ڈرائنگ روم میں
قدم رکھتا ہے، سامنے شخص کو دیکھ کر چہرے کی مسکراہٹ سختی میں
بدل جاتی ہے ۔ اشعر غصے اپنی مٹھیاں پینھچ لیتا ہے ۔ اشعر میرا دوست
فرمان صوفے سے أٹھ کے اشعر کے گلے ملتا ہے ۔ اشعر یہ ماں ہے اور میری نانی اور
یہ میرے ماموں ہے جو امریکہ سے آئے ہیں ۔ فرمان خوشی سے سب کا تعارف کرتا ہے
اشعر بالکل سپاٹ چہرے سے اظہر نذیر کو دیکھتا ہے ۔ اظہر اشعر کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ کے
گبھرا تا ہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *