Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02

ہاشم اپنے کمرے میں ادھر سے أدھر ٹہل رہے تھے ۔ عرشی کمرے میں آتی ہے ۔ کیا ہوا
ہاشم آیت کا کچھ پتا چلا ؟ عرشی پریشانی سے پوچھتی ہے ۔ نہیں عرشی
آیت کو لاپتہ ہوئے ایک دن گزر گیا لیکن کچھ پتا نہیں چلا ۔ دنیا والوں کے سوالوں کا
کیا جواب دو۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے ہاشم نےکہا ۔ ماما میں
اسکول نہیں جاوں گا ۔ اسد کمرے میں آکر روتے ہوئے بولتا ہے ۔ کیوں کیا ہوا تمہیں
عرشی غصے سے بولتی ہے، ماما سب آیت آپو کے بارے میں بہت غلط باتیں کرتے ہیں
کل مجھے میرے کلاس کا لڑکا جنید بول رہا تھا تیری بہن گھر سے بھاگ گی ۔
اسد نے روتے ہوئے کہا ! اسد کی بات سن کر عرشی پریشانی سے ہاشم کی طرف دیکھتی ہے
اچھا ٹھیک تم جاکر گاڑی میں بیٹھو میں تمہاری پرنسپل سے بات کروں گا، ہاشم نے کہا
اسد آنسو پونچھتے ہوئے کمرے سے باہر جاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آیت کے کمرے میں آتا ہے، کیسی ہو ۔ آیت اشعر کی آواز سن کر بیڈ پر سے کھڑی
ہوجاتی ہے ۔ زندہ ہوں آیت تلخی سے بولتی ہے ۔ تم کو زندہ رہنا ہے ۔ ورنہ مجھے اپنا بدلہ
تمہاری جگہ تمہاری بہن سے لینا پڑے گا ۔ اشعر نفرت سے بولتا ہے ۔
نہیں پیلز تم میری بہن کے ساتھ کچھ نہیں کروں گے اشعر کی بات سن کر آیت تڑپ کر بولتی
ہے ۔ اگر تم چاہتی ہوں میں تمہاری بہن کے ساتھ کچھ برا نہیں کروں تو ابھی مولوی
صاحب آئے گئے تم کو بس قبول ہے بولنا ہے، سمجھی ۔ اشعر نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
کیا نہیں میں ہرگز تم سے شادی نہیں کروگی چاہیے تم مجھے جان سے کیوں نا مار دو۔
آیت غصے سے بولتی ہے ۔ ٹھیک ہے مجھے بھی تم سے شادی کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے
اگر تم میرے ساتھ بغیر نکاح کے رہنا چاہتی ہوں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں
اشعر آنکھوں میں انگارے لیے آیت کو دیکھتے ہوئے بولتا ہے ۔ آیت خوفزدہ ہو کر
اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ تم ایسا کیوں کررہے ہو ؟ میں نے کیا بیگاڑ ہے تمہارا؟
مجھے جانے دو ۔ میری شادی ہونے والی ہے ۔ آیت اشعر کے قدموں میں بیٹھ کر روتے ہوئے
بولتی ہے ۔ تمہیں کیا لگتا ہے میں تم کو چھوڑ دوں گا تو وہ تمہارا وہ منگیتر تم سے
شادی کرلیے گا ؟ کون یقین کررہے گا تمہاری پاک دامنی پر؟ تم کو میں نے چھوا تک نہیں
ہے یہ بات صرف میں جانتا ہوں یا تم، دنیا تو نہیں جانتی ۔ کیا ثبوت دو گی سب کو
بولو؟ اشعر طنزیہ لہجے میں کہا! اشعر کی بات سن کر آیت بے یقینی سے اشعر کی طرف
دیکھتی ہے ۔ تم انتہائی گھٹیا انسان ہوں ۔ تمہاری ماں کیسی عورت تھی جس نے
تمہارے اتنی گھٹیا پرورش کی۔ آیت نفرت سے بولتی ہے ۔ آیت کی بات سن کر اشعر کا
چہرہ غصے سے لال ہوجاتا ہے ۔ آیت نے ان جانے میں اشعر کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا
اشعر جنونی انداز میں آیت کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتا ہے تو وہ اسکے سینے پر آلگتی
آیت اپنا ہاتھ اشعر کے سینے پر رکھ فاصلہ رکھتی ۔ اگر تم نے میری ماں کے بارے میں
ایک لفظ بھی کہا نا تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا تم زندگی بھر یاد رکھوں گی ۔ اشعر
نفرت سے بولتا ہے ۔ اور آیت جھٹکے سے چھوڑتا ہے ۔ آیت بڑی مشکل سے خود کو نیچے
گرنے سے بچاتی ہے۔ اشعر جاتے ہوئے موڑ کر بولتا ہے اور سنو 5 بجے تک نکاح خواہ آجائے گے
تو شرافت سے نکاح کے لئے تیار ہوجانا مجھے کوئی تماشا کرتی تم دیکھائی نا دو
ورنہ تمہاری جگہ تمہاری بہن یہاں ہوگی آگے تم خود سمجھدار ہو اشعر آیت کی طرف
دیکھ کر بولتا ہے اور کمرے سے چلا جاتا ہے ۔ آیت وہی زمین پر بیٹھی اپنی بے بسی پر
رونے لگتی ہے ۔ اللہ کریں تم کو موت آجائے ۔آیت نے اشعر کو دل میں بدعاء دیتے ہوئےکہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کمرے میں جاکر ہر چیز کو تہس نہس کر دیتا ہے ۔ آیت کی باتوں کو سوچتے ہوئے
وہ ماضی میں گم ہوجاتا ہے
ماضی
” نکل جاؤ میرے گھر سے ۔ اظہر نذیر جویریہ کو دھکے دیتا ہوا بولتا ہے میں اس وقت کہاں
جاؤ گی۔ آپکو اللہ کا واسطہ مجھ پر یہ ظلم نہیں کررہے ۔ جویریہ روتے ہوئے بولتی ہے
نکل میرے گھر سے، میری مت ماری گئی تھی جو تجھ جیسی نیچ اور گھٹیا عورت
کو اپنی بہو بنا لیا ۔ عرفانہ نفرت سے بولتی ہے ۔ نہیں ماں جی میں ایسی عورت نہیں
ہو ۔ جویریہ عرفانہ کا پاؤں پکڑ کر بولتی ہے، عرفانہ جویریہ کو پاؤں سے دھکا دیتی ہے
جویریہ نیچے گر جاتی ہے اور سر پر اسکے چوٹ لگتی ہے جس کی وجہ سے خون بہنے
لگتا ہے ۔ امی دس سالہ اشعر بھاگتا ہوا جویریہ کے پاس جاتا ہے ۔ نکل جاؤ میرے گھر سے
ساتھ میں اپنے بچے لیے کر بھی چلی جا نجانے کس کا خون کو میرے بیٹی کے سر پر
توپ رہی تھی ۔ عرفانہ نے منہ سے زہر اگلا ۔ جا اپنے أس عشق کے پاس جو تمہیں محبت
بھرے میسچ کرتا ہے ۔ اظہر نذیر نفرت سے بولتا ہے
اور تین ماہ کی اریشہ کو زمین پر رکھ کر
گھر کا دروازہ بند کردیا
فون بجنے کی آواز پر اشعر ماضی سے باہر آیا ۔ ہیلو ہاں فراز ٹھیک ہے ۔ اشعر فراز سے
بات کرکے فون بند کردیتا ہے ۔ واش روم میں جاکر سخت سردی کے باوجود ٹھنڈے
پانی سے منہ دھوتا ہے۔ اسکے اندر لگی ہوئی آگ کسی بھی صورت کم نہیں ہورہی تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کو دو لڑکیاں تیار کرنے آتی ہے ۔ آیت سادگی میں بہت پیاری لگتی تھی تیار
ہوکر اور بھی حسین لگ رہی تھی ۔ ہرنی جیسی گہری ہلکی بروان بڑی آنکھیں
خوبصورت ماتھا اور دودھ جیسی سفید رنگت ۔ بال زیادہ بڑے نہیں تھے
لیکن دیکھنے میں بہت ہی خوبصورت اور دلکش تھے ۔ آیت ریڈ کلر کے برائیڈل ڈریس
میں کوئی شہزادی لگ رہی تھی ۔ واہ میم آپ تو دیکھنے میں بالکل پری لگ رہی ہوں
ایک لڑکی آیت کے روپ کو دیکھ کر بے اختیار بولتی ہے ۔ آیت نم آنکھوں سے خود
کو آئینے میں دیکھتی ہے وہ خود حیران رہ جاتی ہے کیا یہ خود ہے ۔ آیت نے اس
دن کے لیے کتنے خواب دیکھے تھے کبھی سوچا نہیں تھا تعبیر اتنی بدصورت ہوگی
☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کے کمرے کی صفائی ملازم کرکے چلا گیا تھا ۔ اشعر اپنے بال بنا تاہوا آئینہ
سامنے کھڑے ہو کر خود کو ہمیشہ کی طرح آئینہ میں دیکھ رہا تھا ۔ اشعر کی بروان آنکھیں
جن میں ایک درد چھپا تھا ۔ بالوں کو جیل سے سیٹ کرکے خود پر اسپرے کرنا نہیں بھولا تھا
دیکھنے میں کسی ریاست کے شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔ اپنی مغرور چال چلتے ہوئے
کمرے سے باہر جاتاہے ۔
کچھ دیر بعد نکاح خواہ آجاتےہیں اور نکاح شروع ہوتا ہے ۔ اشعر والد اظہر نذیر سے
سکہ رائج الوقت پانچ لاکھ حق مہر میں آیت بنت ہاشم بیگ یہ نکاح آپکو قبول ہے
آیت مسلسل خاموش بیٹھی ہوئی تھی ۔ اشعر غصے سے آیت کو دیکھتا ہے
آیت کو اشعر کی دھمکی یاد آتی ہے آیت نم آواز سے جی بولتی ہے ۔
تین بار پوچھنے کے بعد نکاح تکمیل ہوا۔ سب لوگ اشعر کو مبارک باد دیتے ہیں
آیت کو پتا نہیں چلا کہ وہ کب آیت ہاشم بیگ سے آیت اشعر نذیر بن گی ۔
وہ سن بیٹھی ہوئی تھی ۔
آیت کو اشعر کے کمرے میں لا کر بیٹھا دیا تھا ۔ آیت کمرے میں بیٹھے رو رہی تھی
اشعر کمرے میں آتا ہے ۔ ایک نظر آیت پر ڈالتا ہے ۔ آیت کا روپ دیکھ کر اشعر پلکیں
چپکنا بھول جاتا ہے ۔ آیت اشعر کی موجودگی سے بے خبر رونے میں مصروف تھی
اشعر کو ایک دم سے اپنی ماں کا خیال آتا ہے اشعر ٹرنس کی کیفیت سے باہر نکلتا ہے
پھر سے اپنے اوپر نفرت کا خول چڑھا کر آیت کے پاس بیٹھتا ہے ۔ آیت اشعر کو اتنے
پاس دیکھ کر سمٹ کر بیٹھ جاتی ہے ۔ اشعر آیت کو اپنے قریب کرکے اپنے موبائل نکال
کر سیلفی لیتا ہے ۔ آیت حیرت سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ چلوں اب مسکراؤ
شاباش اشعر آیت کا منہ پکڑ کر بولتا ہے ۔ آیت زبردستی مسکراتی ہے ۔ اشعر
مسکراتےہوئے ایک اور سیلفی لیتا ہے ۔ چلوں اب تم جاکر چینچ کروں
اشعر آیت کو بازو سے پکڑ کر بولتا ہے ۔ آیت کو اشعر کے رویہ کی سمجھ نہیں آرہی تھی
آیت جلدی سے واش روم میں چلی جاتی ہے ۔ اشعر بیڈ پر لیٹ جاتا ہے
آیت فریش ہوکر واش روم سے باہر آتی ہے ۔ تم جاکر زمین پر لیٹوں گی تم اس قابل نہیں
تم بیوی کا درجہ دیا جائے ۔ اشعر آیت کی طرف دیکھ کر نفرت سے بولتا ہے
آیت اتنی ٹھنڈ میں خالی فرش پر بنا چادر تکیہ کے لیٹتی ہے ۔ جو کبھی
سردی میں بستر سے اٹھتی نہیں تھی وہ یہ سب برداشت کررہی تھی ۔
ٹھنڈے فرش پر آیت سے لیٹا نہیں جاتا وہ خاموش آواز سے رونے لگتی ہے
ٹھنڈ کے مارے اسکے ہونٹ نیلے پڑ نے لگے تھے۔ اشعر کو آیت کی حالت دیکھ کر ترس آنے
لگتا ہے ۔خود بستر سے اٹھ کر آیت کے پاس آتا ہے جاؤ جاکر بیڈ پر سوجاو ۔اشعر آیت سے
بولتا ہے ۔ آیت ناسمجھی سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ تم کیا اونچا سنتی ہوں
جاو جاکر بیڈ پر لیٹ جاؤ اشعر اب کی بار غصے سے بولتا ہے، آیت گبھرا کر
جلدی سے بیڈ پر چلی جاتی ہے ۔ اشعر کمرے سے باہر چلے جاتاہے ۔ بالکونی میں
جاکر سگریٹ پینے لگتا ہے ۔ اشعر کو یاد آتا ہے اسکی ماں کیسے سردی میں ٹھنڈے فرش پر
سوئی تھی ۔ اشعر غصے سے کمرے میں داخل ہوا اور آیت کا ہاتھ پکڑ کر جٹکے سے
کھڑا کرتا ہے ۔ آیت اچانک اس ردعمل سے گبھرا جاتی ہے ۔ تم ساری رات اسی طرح کھڑی
رہوگی سمجھی اور یہاں سے ہلنے کا سوچنا بھی مت اشعر آیت کی طرف انگلی
کرتے ہوئے بولتا ہے ۔ اور پھر آیت کو حیران و پریشان چھوڑ کر بستر پر جاکر لیٹتا ہے ۔
آیت وہی کھڑے ہوئے آنسو بہا رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *