Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25

آیت سو کے اٹھی تو بیڈ کے سائیڈ پہ پھولوں کا گلدستہ رکھا تھا ۔ آیت پھولوں کا گلدستہ
اٹھا کے پھول سونگھتی ہے ۔ پھولوں کے ساتھ ایک چیٹ بھی رکھی تھی ۔ آیت وہ پڑھی
اس میں اسمائل والا ایموجی بنا تھا جس میں سوری لکھا تھا ۔ آیت مسکراتےہوئے کھڑی
ہوئی پھر فریش ہوکے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکے بالوں میں کنگھی کرنی لگی ۔ شیشے پہ
لیپسٹک سے سوری لکھا تھا ۔ آیت ٹیشو سے شیشہ صاف کرتی ہے ۔ اور پھر کمرے کا گیٹ
کھولتی ہے آیت پر پھول گرتے ہیں ۔ آیت خوشی سے کمرے سے باہر نکلی گیٹ بند کرنے لگی
اس دروازے پہ سوری کی چیٹ لگی تھی ۔ آیت ناشتہ بنانے کچن میں جاتی ہے ناشتہ پہلے
سے تیار کرکے ٹیبل پر سجا تھا ۔ آیت پسند کا ناشتہ تھا ۔ آیت ناشتہ کرنے لگی ۔ پلیٹ
پر بھی سوری کی چیٹ لگی تھی ۔ آیت مسکرانے لگی ۔ ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد
آیت برتن سمیٹ کے اپنے کمرے کی طرف بڑھتی ہے ۔ آیت کے موبائل پر
ہیپی برتھ ڈئے آیت کا میسج آیا تھا جو اشعر نے بھیجا تھا ۔ آیت کے موبائل پر سب کے برتھ
ڈئے کے messages آتے رہیں ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آیت کی برٹھ ڈائے پارٹی کیلئے انتظامات کئے تھے ۔ اشعر کی مدد ارم اور اریشہ نے
کرائی تھی۔ فرمان بھی اشعر کی مدد کرانے آگیا تھا ۔ اشعر نے کافی معافی مانگی تب جاکے
فرمان نے اشعر کو معاف کیا ۔ کمرے کو غباروں اور پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔
اشعر نے ہارٹ بنا کے آیت کا نام پھولوں سے لکھا تھا ۔ سب کام ہونے کے بعد اشعر نے سب
کیلئے پیزا مانگایا۔ فرمان تم لوگ تو ہو یہاں میں ابھی ارسلان کی طرف جارہا ہوں
مجھے ارفع آنٹی کو منانا ہے ۔ اشعر اپنا موبائل أٹھاکے بولا ۔ ہاں ٹھیک تم جاؤ میں یہاں پر
ہو ۔ فرمان مسکراتےہوئے بولا ۔ اشعر جلدی سے باہر نکلتا ہے ۔ فرمان اشعر کے ملازموں
کو گائیڈ کرتا ہیں کیا چیز کہاں رکھنی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر ارفع کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا
اشعر تم اسطرح گھٹنوں میں بیٹھ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟ ارفع خفا ہوکے بولی ۔ سوری
آنٹی معاف کردینا ۔ دیکھے جب سے پاکستان آیا ہوں سب سے معافی مانگتے پیھر رہا ہوں
اشعر معصوم شکل بناکے بولا ۔ اچھا تم کھڑے ہو ۔ بیٹا قدموں میں نہیں ساتھ بیٹھا
اچھا لگتا ہے ارفع پیار سے بولی ۔ آنٹی اب تو ناراض نہیں ہے نا؟ اشعر بیچارگی سے بولا
نہیں میری جان ۔ ارفع اشعر کے سر پر ہلکی سی چیپٹ لگا کے بولی۔
اشعر مسکراتا ہے ۔ اب آپ اور انکل چلے میرے ساتھ آج آپکی لاڈلی بہو کی سالگرہ ہے
اشعر پلیٹ میں رکھا سینویچ کھاتے ہوئے بولا ۔ چلوں ٹھیک ہے میں ذرا تیار ہوکے آئی
ارفع مسکراتےہوئے بولی اور پھر کمرے کی طرف بڑھی۔ ارفع کے جانے بعد اشعر
افتخار صاحب کے پاس بیٹھا ۔ انکل تھنکیس کیا آئیڈیا دیا تھا آنٹی کو منانے کا اشعر
افتخار کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بولا ۔ ہاں میری تمہاری آنٹی کو جانتا ہوں جب
انکے پاؤں پکڑ لو تو خود ہی مان جاتی ہے افتخار صاحب اخبار میز پر رکھتے ہوئے کہا
آپکا ذاتی تجربہ بتا رہا ہے جب آنٹی ناراض ہوتی ہے آپ یہی کرتے ہیں ۔ اشعر
شررات سے بولا ۔ افتخار صاحب نے اشعر کو گھور کے دیکھا پھر اشعر کے کان پکڑ کے
کنھیچ کے بولے ہاں کیا بول رہے تھے تم؟ آہ انکل کان چھوڑے کان اور بڑے ہوجائے گے
لڑکیوں کو بڑے کان والے لڑکے پسند نہیں ۔ میں تو مذاق کررہا تھا ۔ اشعر
معصومیت سے بولا ۔ افتخار صاحب نے سامنے سے آتی ارفع کو دیکھ کے اشعر کے کان جلدی
سے چھوڑ دیا ۔ کیا ہورہا تھا ارفع اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا ۔ کچھ نہیں انکل
مجھے پاؤں پکڑنے کی ٹریننگ دے رہے تھے ۔ اشعر شررات سے افتخار کی طرف دیکھ کے
بولا ۔ کیا مطلب؟ ارفع چونک کے اشعر سے پوچھا ۔ کچھ نہیں بیگم یہ بس ایسی
فضول بولتا رہتا ہے چلے ہمیں دیر ہورہی ہے ۔ افتخار صاحب جلدی سے بولے
اس پہلے اشعر کچھ بولتا ۔ پھر دونوں اشعر کے ساتھ نکلتے ہیں ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت الماری کھولتی ہے سامنے آیت کو مہندی کلر کی ساڑھی رکھی نظر آئی ۔ جس پر
کاغذ کی چیٹ لگی تھی This is for you my love 😚😘
اشعر نے لکھا تھا ۔ آیت نیٹ کی مدد سے ساڑھی باندھتی ہے ۔ آیت تیار ہوکے خود کے میک
اپ کرتی ہے ۔ کانوں میں میچنگ کی بالیاں پہنی اور بالوں کو پینو سے سیٹ کرتے ہوئے
اسٹائل سے بال کھلے چھوڑے ۔ آیت مکمل تیار ہونے کے بعد خود کا تنقیدی جائزہ لیا
آیت اپنی جھیل جیسی گہری کالی آنکھوں میں کاجل لگاکے بہت حسین لگ رہی تھی ۔
آیت ساڑھی میں غضب ڈھارہی تھی ۔ آیت کے خوبصورت چہرے پر ہلکا سا میک اپ
اور بھی آیت کے حسن کو نکھر رہا تھا ۔ آیت اپنی ریشمی بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے
موبائل سے اپنی سلیفی لیتی ہے اور نمرہ کو whatsup کرتی ہے کیسی لگ رہی ہو؟
پرفیکٹ نمرہ کا reply آتا ہے ۔ اشعر تیار ہونے کمرے میں آتا ہے آیت کو دیکھ اشعر
اپنی جگہ جم جاتا ہے ۔ آیت ساڑھی میں سیدھے اشعر کے دل میں اتر رہی تھی ۔ اشعر
کسی ٹرئنس کی کیفیت میں آیت کی طرف بڑھتا ہے ۔ آیت کو اشعر کے اسطرح دیکھنے
سے شرم آرہی تھی ۔ اشعر آیت کی طرف بڑھتا ہے آیت دو قدم پیچھے ہٹتی ہے ۔ یہاں تک
کے آیت سنگار میز کے قریب ہوتی ہے اور پیچھے جانے کا راستہ نہیں ہوتا ۔ اشعر
آیت کے اور قریب ہوا آیت ڈر کے اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہے اشعر آیت کی طرف جھکتے ہوئے
میز سے اپنا چابی اٹھتا ہے اور پیچھا ہٹتا ہے ۔ آیت آنکھ کھول کے اشعر کو دیکھتی ہے
اشعر مسکرا کے چابی آگے کرتا ہے۔ آیت کو آنکھ مارکے الماری کھول کے اپنا سوٹ نکل کے
واش کی طرف بڑھتا ہے ۔ بدتمیز نا ہو تو ۔ آیت اشعر کی اس حرکت سے مصنوعی
غصہ کرتے ہوئے کہا ۔ اشعر تیار ہوکے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکے بالوں میں کنگھی کرتا
ہے اور خود پر پروفیم کی بارش کرتا ہے ۔ آیت اشعر کا جائزہ لیتی ہے ۔ اشعر بروان آنکھوں
کو بیلک کلر کے کوکلز سے چھپایا تھا ۔ بلاشبہ قدرت نے اشعر کو خوبصورت نقش ونگار
سے بنایا تھا اشعر بناکے کچھ بولے کسی کے بھی دل پر حکومت کرنے کا ہنر رکھتا ہے
اشعر کے جیل سے سیٹ کیے ہوئے بال جو أسکو مغرور ہونے کا پتا دیتے تھے ۔
آیت بے ساختہ اشعر کا جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔ اشعر کب سے خود پر آیت کی
نظر محسوس کررہا تھا ۔ اپنی مغرور چال چلتے ہوئے آیت کے پاس آیا ۔ بہت ہنڈسم لگ رہا
ہوں ؟ اشعر جھکے آیت سے پوچھا ۔ نہیں آیت اسطرح اشعر کے پوچھنے پر گبھرا جاتی ہے
ہربڑاہ کے بولی ۔ کیا میں ہنڈسم نہیں ہوں ؟ اشعر آیت کو تنگ کرتے ہوئے پوچھا
ہاں ہے نا بہت آیت گبھرا کے بولی ۔ اچھا جی اشعر مسکراتےہوئے بولا ۔ آیت کنفیوز ہوکے
سر جھکا لیتی ہے ۔ اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے بازو پر رکھتا ہے ۔ چلے سب ہمارا
انتظار کر رہے ہیں ۔ اشعر گمھبر لہجے میں بولا ۔ آیت ہاں میں سر ہلا یا
دونوں کو سیھڑی سے اترتے دیکھ کے سب لوگ خوش ہوکے آیت کو
wish کرتے ہیں ۔
آیت اور اشعر پر پھولوں کی برسات ہوتی ہیں ۔ آیت یہ سب دیکھ کے بہت خوش ہوری تھی
اشعر آیت کو خوش دیکھ کے مسکرانے لگا ۔ آیت اشعر کے ساتھ کیک کاٹتی ہے
کیک پر آیت کا نام لکھا تھا ۔ آیت اشعر کو کیک کھلاتی اور باری باری سب کو کیک کھلاتی
ہے ۔ اسکے بعد سب گیم کھلیتے ہیں ۔ ارفع آیت کو بہت پیار کرتی ہے ۔ آیت سب کے گفٹ
کھولتی ہے ۔ سب کے گفٹ بہت اچھے تھے ۔ آیت سب کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہے
اریشہ تو مزے سے کیک کھانے میں مصروف تھی ۔ فرمان ٹھنڈ آہ بھر کے رہ گیا تھا
دیکھو اپنی ماما کو کسطرح کھانے سے محبت ہے ۔ فرمان اپنی بیٹیوں ہانیہ اور تانیہ سے
بولا ۔ وہ دونوں خوشی سے تالیاں بجانے لگی۔ اوف کہاں پھنس گیا تم دونوں ماں پر
گی فرمان اپنا سر پکڑ کے بولا ۔ کیا باتیں ہورہی ہیں؟ ارسلان فرمان کے کندھے
پر ہاتھ رکھ کے بولا ۔ یار کچھ نہیں بس اریشہ کی کھانے کی محبت سے تنگ آگیا ہوں
قسم سے کھانے جلن ہونے لگی ۔ فرمان بیچارگی سے منہ بناکے بولا ۔ ارسلان کی ہنسی چھوٹ
گی، یار یہ اریشہ پہلے ایسی نہیں تھی ۔ ارسلان ہنستے ہوئے بولا ۔ ہاں جب سے ماں بنی ہے
تب سے کھانے کا جنون ہوگیا ہے فرمان منہ بناکے بولا ۔ اچھا فکر نہیں کروں ٹھیک ہوجائے گی
اب اشعر نے زیادہ کھانے نہیں دینا ویسے ہی اشعر نے اریشہ کا جم میں داخلہ کردیا ہے
اب وہ روز جئم جائے گی ۔ ارسلان فرمان تسلی دیتے ہوئے کہا ۔ فرمان اریشہ کی طرف
دیکھتا ہے مجھے نہیں لگتا ۔ یار میں اسکے ڈائمنڈ کا نکلس لایا تو محترمہ کہنے لگی اس
اچھا تھا کھانے کو لیے آتے ۔ دنیا میں لوگوں کی بیویاں سونا مانگتی ہیں لیکن میری
بیوی کو سوائے کھانے کی چیزوں کے مانگنے کے سوائے کچھ نہیں آتا ۔
فرمان افسردگی سے بولا ۔ صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ارسلان ہنستے ہوئے
بولا ۔ فرمان ارسلان کی قمر پر مکا مارتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت سب کے جانے بعد اپنی جیولری اتر رہی تھی ۔ اشعر آیت کو پیچھے سے ہگ کرتا ہے
اور اپنی تھوڑی آیت کے بازو پہ رکھتا ہے ۔ کیسا لگا سبرئیز؟ اشعر کے اسطرح کرنے سے
آیت کا دل زور زور سے ڈھرکنے لگا ۔ بہت اچھا ۔ آیت شرماتے ہوئے بولی
اشعر آیت کا رخ اپنی طرف کرتا ہے ۔ تم نے مجھے معاف کردیا؟ اشعر آیت سے پوچھا
کب کا آیت اشعر کے بال خراب کرتے ہوئے بولی ۔ اشعر آیت کے دونوں آنکھوں پر اپنے
ہونٹ رکھتا ہے ۔ آیت اشعر کے سینے سے لگ جاتی ہے ۔ اشعر آپ نے مجھے بہت رو لایا تھا
آیت اشعر کے سینے سے لگ کے بولی۔ آیت میں وعدہ کرتا ہوں
اب کبھی ان آنکھوں میں آنسو آنے دوں گا ۔ اشعر آیت کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے بولا
آیت مسکراتےہوئے اشعر کو دیکھتی ہے ۔ اشعر آپکو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہے آپ
کبھی سگریٹ نہیں پیئے گے ۔ آپکو پتا ہے نا نشہ اسلام میں حرام ہے ۔ اپنی دل بہلنے کے
لئے تھوڑا سا کوئی نہ ہوں، سگریٹ بھی نشے میں آتی ہے ۔ آپ بے شک شراب نہیں پیتے لیکن
چھوٹے گناہ کرکے اللہ کو ناراض تو کررہے ہیں ۔ آپ مجھ سے وعدہ کرے اب سگریٹ کو
کبھی ہاتھ لگائے گئے ۔ آیت اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا ۔ وعدہ کبھی نہیں پیو گئی ۔
اشعر آیت کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کے بولا ۔اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے بیڈ پر بیٹھتا ہے
اور آیت کے ہاتھ میں ڈائمنڈ کی رینگ پہنتا ہے ۔ آیت Ilove you لیکن مجھ سے زیادہ نہیں
آیت شرماتے ہوئے نظریں جھکا کے بولی ۔ اشعر آیت کو خود کے قریب کرلیتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سورج کی کرن اشعر کے چہرے پر پڑتی ہے ۔ اشعر منہ بناکے دوسری طرف گروٹ بدلتا
ہے ۔ آیت شاور لیے کے اشعر پر اپنے بالوں کے پانی کا چیھکڑتی ہیں ۔ اشعر اپنے ہاتھ منہ
پر رکھ لیتا ہے ۔ آیت دوبارہ اشعر کو تنگ کرتی ہے ۔ اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے خود کے
قریب کرلیتا ہے ۔ اب کرو ۔ آیت شرماتے ہوئے نظریں جھکا لیتی ہے ۔ اشعر آیت کے سر
پر بوسہ دیتا ہے ۔ اشعر چھوڑے اب جلدی اٹھ جائے ورنہ آفس کیلے لیٹ ہوجائے گے
آیت اپنا ہاتھ اشعر سے چھوڑاکے بولی ۔ اچھا تو تم چاہتی ہوں میں آفس جاو
اشعر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ جی اب اٹھ جائے زیادہ رومیو نہیں بنے شرافت سے آفس
جائے آیت ہنستے ہوئے بولی۔ آیت تھکنس پھر سے مجھ پر بھروسہ کرنے کیلے
اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے بولا ۔ اشعر اس پہلے کوئی خستگی کرتا ۔ اشعر کا موبائل بجنے
لگا ۔ اشعر بدمزہ ہوکر پیچھے ہٹتا ہے ۔ ہیلو ہاں طاہر صاحب میں آتا ہوں ۔ اشعر
فون بند کرکے اٹھتا ہے ۔ یار تم بہت ظلم ہو اشعر آیت کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
آیت اشعر کو واش روم جانے کا اشارہ کرتی ہے ۔ اشعر منہ بناکے واش روم جاتا ہے
آیت کل رات کے بارے میں سوچتے ہوئے شرمانے لگی ۔ اشعر نے جو أس پر
پیار کی بارش کی تھی ۔ آیت خود کو آئینےمیں دیکھتی ہے ۔ یہ اشعر کی محبت تھی جو
آیت کو اپنا آپ اور بھی حسین لگ رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان افتخار صاحب کے ساتھ ناشتہ کررہا تھا ۔ ارفع ارم کی کچن میں مدد کررہا رہی
تھی ۔ اسد بھی اٹھ گیا ۔ اب أسنے رو رو کے پورا گھر سر پر اٹھایا تھا ۔ ارم تم کام
چھوڑ دو ۔تم اسد کو دیکھو میں یہ پراٹھے لیے کے آتی ہوں ارفع پراٹھے کو پلٹتے ہوئے
کہا ۔ جی ماما ۔ ارم جلدی سے اسد کو گود میں لیتی ہے ۔ ارسلان کا موبائل پر رینک ہوتی ہے
ہیلو ہاں بولو ۔ ارسلان پراٹھا کھاتے ہوئے فون پر بولا ۔ کیا ! کب ہوا یہ سب؟ ارسلان
ناشتہ چھوڑ کے کھڑا ہوا ۔ ٹھیک ہے میں پہنچتا ہوں ۔ ارسلان کیا ہوا؟ افتخار صاحب
اپنے بیٹے کو پریشان دیکھ کے پوچھا ۔ میں نے جس لڑکی کا بتایا تھا اس لڑکی نے
خودکشی کرلی ۔ ارسلان پریشانی سے کہا ۔ کیا ارم گبھرا کے بولی۔ میں نکلتا ہوں
ناشتہ تو کرلیے ارسلان پیچھے سے ارم نے آواز دی لیکن ارسلان بنا جواب دئے چلا گیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سر یہ لڑکی کی ویڈیو شاہ زیب نے نیٹ پر ڈال دی تھی ۔ گھر والوں کو جب یہ پتا چلا
تو انھوں نے لڑکی کو خوب برا بھلا کہا ۔ لڑکی نے دل برداشتہ ہوکے خود کشی کرلی
ارسلان کو رپورٹ دیتے ہوئے بلال نے بتایا ۔ یہ بہت برا ہوا ۔ میں اشعر کو بولتا ہو
وہ شاہ زیب سے نہیں ملے ۔ ارسلان اشعر کو فون کرکے ساری بات اشعر کو بتاتا ہے
شاہ زیب کو پولیس گرفتار کرنے پہنچی لیکن شاہ زیب ملک سے باہر بھاگنے کے
لیے ایسپڈ سے ڈرئیف کرتا ہوا سامنے ٹرک سے ٹکرا جاتا ہے اور موقعے پر جاں بحق ہوجاتا ہے
شاہ زیب کی موت کی خبر سنے کے شاہ زیب کی ماں پاگل ہوگی ۔ وحید ارشد کو
غیر قانونی کام کرنے کے جرم میں 10 سال کی جیل ہوجاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عدنان عرشی کے ساتھ بہت خوش تھا ۔ عدنان نے پورے جتنے بھی غلط کام تھے وہ سب
چھوڑ دئے تھے جسکی وجہ سے مافیا کے لوگ عدنان سے ملنے اسکے گھر آئے تھے
عدنان ایک بار اور سوچ لو اس کام کی وجہ سے آج تم کو یہ مقام ملا ہے
اور تم جانتے ہیں یہاں سے انسان کی واپسی مرکے ہوتی ہے ۔ عدنان کو دھمکاتے ہوئے
مافیا کے ڈان نے بولا۔ میں فیصلہ کرچکا ہوں اور میں تم سے نہیں ڈراتا ۔
عدنان غصے سے بولا تو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔ وہ آدمی اپنی پستول أٹھاکے
عدنان کو گولی ماردیتا ہے ۔ عرشی دوسرے کمرے میں تھی ۔ عرشی کھڑکی سے یہ سب
دیکھ رہی تھی ۔ عرشی اپنے منہ پر ہاتھ رکھے کے خود چیخنے باز رکھتی ہے
أن لوگوں کے جانے کے بعد عرشی عدنان کے پاس آئی۔ عدنان گبھرا مت میں نے ایمبولینس
فون کیا ۔ عرشی عدنان کا سر اپنی گود میں رکھے روتے ہوئے بولی ۔ مجھے معاف کردینا
میرا آخری وقت آگیا ہے ۔ میری وجہ سے تمہارے بیٹے کی موت ہوئی، وہ ماریہ
میرے ساتھ ملی ہوئی تھی ۔ عدنان کی بات سے عرشی کو زبردست جٹکا لگا
میں تم سے محبت کرتا تھا لیکن تمہاری شادی ہاشم سے ہوگی تو میں نے فیصلہ کرلیا ایک
دن تم۔ کو حاصل کرکے دم لوں گا ۔ میں نے ہاشم کی فیکٹری کو آگ لگائی
میں چاہتا تھا تم أسکو چھوڑ کے میرے پاس آجاو لیکن تم اسد کی وجہ سے ہاشم سے کبھی
رشتہ نہیں توڑو گی تو أسکے لئے مجھے اسد کو راستے سے ہٹانا پڑا ۔ ہوسکے مجھے معاف
کردینا ۔ میں نے یہ سب تم کو حاصل کرنے کیلے کیا ۔ عدنان آخری بات بولتے کے ساتھ ہی
أسکا دم نکل جاتا ہے ۔ عرشی کو آج اپنے گناہوں کی سزا مل گی أسکو دولت چاہیے تھی
وہ اسکے پاس تھی ۔ لیکن أسنے اپنی اولاد کھو دی ۔ آیت اور ارم کا صبر أس پر قہر
بناکے ٹوٹا ۔ وہ آج اکیلی رہ گی تھی ۔ عرشی پاگلوں کی طرح ہنسنے لگی اور پھر اپنے
بال نوچ کے رونے لگی ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *