Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06
اشعر آفس جانے کے لیے تیار ہورہا تھا ۔ تیری پیس سوٹ میں غضب ڈھارہا تھا ۔
أسکی بروان آنکھوں میں خاص چمک تھی ۔ اشعر اپنے ہاتھ میں برینڈ نیو گھڑی باندھتا
ہوا کال پر مینجر سے بات کررہا تھا ۔ اتنے میں آیت دروازے پر دستک دیتی ہے ۔
اوکے طاہر صاحب میں آپ سے آفس آکر بات کرتا ہوں ۔ اشعر فون رکھ کر بولتا ہے
اندر آجائے ۔ آیت یونیورسٹی جانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔ اشعر آیت کو فون سے نظر ہٹا کر
آیت کی طرف دیکھتا ہے ۔ اشعر کی نظریں آیت سے ہٹ نہیں رہی تھی ۔ پینک کلر کے سوٹ
میں بہت حسین لگ رہی تھی ۔ آیت کے بال بار بار اسکے چہرے پر آرہے تھے ۔ آیت کندھے پر
اپنا بیگ ڈالے کھڑی تھی اور ہاتھ میں رجسٹر تھا ۔ اشعر کے اسطرح دیکھنے سے
آیت کنفیوز ہورہی تھی ۔ اشعر آپ مجھے یونیورسٹی ڈراپ کردئے گئے
آج ڈئیور نہیں آیا ۔ آیت کی بات سے اشعر ہوش کی دنیا میں لوٹتا ہے ۔ تم نے کچھ کہا
اشعر آیت کے قریب آکر کہتا ہے ۔ اشعر کی پروفیم کی خوشبو اسکے ناک کے نتھو میں گھس
رہی تھی ۔ آیت کا سر چکرنے لگتا ہے ۔ اشعر وہ آپ مجھے یونیورسٹی ڈراپ کردے گئے؟
اشعر کے اتنے قریب آنے سے آیت کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔
آیت ہلکی آواز میں بولتی ہے ۔ ٹھیک ہے چلوں اشعر آیت کے بال پیچھے کرتے ہوئے بولتا ہے
پھر پیچھے ہٹ کہ ایک نظر آیت پر ڈالتا ہے اور کمرے سے چلا جاتا ہے ۔ آیت
اپنی روکی ہوئی سانسیں بحال کرتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت گاڑی میں خاموش بیٹھی ہوئی تھی ۔ اشعر نے بھی کوئی بات نہیں کی تھی ۔
سگنل پر گاڑی روکتی ہے ۔ اشعر کی گاڑی کے پاس ایک چھوٹا بچہ پھول بیجھنے
آتا ہے ۔ صاحب پھول خرید لوں ۔ اپنی بیوی کو دے دینا ۔ بچہ آیت کی طرف دیکھ کر بولتا
ہے ۔ اشعر کو پھولوں سے الرجی تھی اشعر کو مسلسل چینک آنا شروع ہوگئی ۔
مجھے پھولوں سے الرجی ہے ہٹاو اسے ۔ اشعر غصے سے بولتا ہے ۔
بچہ پیچھے ہٹتا ہے ۔ اشعر اپنے والٹ سے ہزار کا نوٹ نکال کر بچے کو دیتا ہے
اور پھول لیے کر جلدی سے آیت کی گود میں رکھ کر گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے
توبہ کسے انسان ہے انھیں پھولوں سے الرجی ہے۔ آیت دل میں سوچتی ہے ۔
اشعر گاڑی روکتا ہے ۔ اگر سوچنا ختم ہوگیا ہو تو گاڑی سے اترنے کی زحمت
کرو گی؟ اشعر زچ ہو کر بولتا ہے ۔ آیت جلدی سے گاڑی سے اترتی ہے ۔
آیت گاڑی میں اپنا رجسٹر بھول جاتی ہے ۔ اشعر آیت کے گاڑی سے اترنے کے بعد گاڑی
زن سے لیے کر چلا گیا تھا ۔ آیت یونیورسٹی کے اندر داخل ہوتی ہے ۔
آیت کو دیکھ کر ایک لڑکا آیت کے پاس آتا ہے ۔ ہائےمجھے جمیل کہتے ہیں ۔
اور آپکا نام لڑکا آیت کی طرف ہاتھ بڑھا کر بولتا ہے ۔
اشعر گاڑی میں آیت کا رجسٹر دیکھ لیتا ہے ۔ اشعر واپس یونیورسٹی آگیا تھا ۔
آیت سے کسی لڑکے کو بات کرتے دیکھ لیتا ہے ۔ نجانے کیوں اشعر کو جلن ہوئی۔
اشعر غصے سے آیت کی طرف بڑھتا ہے ۔
آیت اس سے پہلے اس لڑکے کو کچھ بولتی ہے اشعر آجاتا ہے ، “شی از مائی وائف ، آیت اشعر “
اشعر آیت کو اپنے قریب کرتا ہوا بولا ۔ آیت حیرت سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔
وہ لڑکا اشعر کی بوڈی دیکھ کر گبھرا کر بولتا ہے ۔ اس کیوز می جمیل بول کر یہاں سے
چلا جاتا ہے ۔ اشعر آیت کو کے بازو سے اپنا ہاتھ ہٹا لیتا ہے ۔ یہ لو تمہارا رجسٹر تم
کار میں بھول گئی تھی ۔ اشعر آیت کو دیتا ہے۔ آیت اشعر سے رجسٹر لیتی ہے ۔
اب میں چلتا ہوں ۔ خیال رکھنا اپنا، کوئی بھی مئسلہ ہو مجھے فون کردینا اشعر
نرمی سے بولتا ہے ۔ آیت حیرت سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ اشعر اپنے
گوکلز لگا کہ گاڑی میں بیٹھ کر چلا جاتا ہے ۔
آیت اپنے کندھے پر ہاتھ رکھ اشعر کا لمس محسوس کرکے مسکراتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آفس میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اشعر کے ذہن بار بار آیت کی طرف جارہا تھا ۔
یہ مجھے کیا ہورہا ہے ۔ کیوں میں أسے سوچے جارہا ہوں ۔ اشعر پریشانی سے بولتا ہے
نہیں آیت تم میرے دل پر قابض نہیں ہوسکتی ۔ اشعر خود سے بولتا ہے ۔
انعم اچانک سے اشعر کے آفس میں آتی ہے ۔ ہائے اشعر، انعم اشعر سے گلے
لگانے لگی تھی لیکن اشعر جلدی سے پیچھے ہوتا ہے ۔ اشعر کو انعم کا بے باک انداز
بہت برا لگا۔ انعم تم یہاں کیا کر رہی ہوں؟ اشعر نے اپنا غصے پر ضبط کرتے ہوئے کہا
کیا مطلب کیا کررہی ہوں؟ تم سے ملنے آئی ہو ۔ انعم خوشی سے بولتی ہے ،
اچھا ٹھیک ہے تم بیٹھو، اشعر زبردستی مسکراتےہوئے کہا ! انعم
کرسی پر بیٹھ جاتی ہے ۔ تم کیا کررہے ہو آج کل انعم اشعر سے بولتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ اپنا سامان پیک کر کے اشعر کے گھر میں آجاتی ہے ۔ اشعر کو فون ملاتی ہے ۔
اشعر انعم سے بات کررہا تھا ۔ بلکہ یہ کہا جائے انعم اشعر کا دماغ کھا رہی تھی
اشعر کو کوفت ہورہی تھی ۔ لیکن وہ برداشت کررہا تھا ۔ اتنے میں اشعر کے موبائل پر
کال آنے لگی تھی ۔ اشعر فون ریسوف کرتا ہے ۔ ہیلو ہاں فراز میں پہنچ رہا ہوں ۔
فون پر اریشہ تھی لیکن انعم سے جان چھوڑنے کیلئے اشعر اریشہ کو فراز بولتا ہے
مجھے کچھ کام ہے میں تم سے بعد میں ملتا ہو اشعر گاڑی کی چابی اٹھا کر بولا
اور جلدی سے باہر نکلتا ہے ۔ انعم کا جواب سنے بنا ۔ انعم تپ کر رہ گئی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ بھائی مجھے اس مونچھیں فراز والے سے کیوں ملا رہے تھے ۔ اریشہ اپنا چہرہ آئینہ میں
دیکھ کر بولتی ہے ۔ کہی میری مونچھیں تو نہیں آرہی؟ یااللہ اب میرا کیا ہوگا
فرمان کا میں شوہر لگو گی ۔ اریشہ پریشانی سے بولتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر اچانک اریشہ کے گھر پر پہنچنے سے بہت پریشان تھا ۔ جلدی سے ڈرئیف کرتا ہوا
گھر پہنچتا ہے ۔ اشعر جلدی سے گھر کے اندر داخل ہوتا ہے ۔
اریشہ تم یہاں کیوں آئی؟ اشعر پریشانی سے بولتا ہے ۔ کیوں بھائی میں نہیں آسکتی؟
اریشہ معصومیت سے بولتی ہے ۔ اریشہ تم مامی کے ساتھ رہ رہی تھی نا ۔
اشعر پریشانی سے بولتا ہے ۔ بھائی میں اب آپ کے ساتھ رہو گی ۔
اور یہ سب چھوڑے یہ بتائے میری پیاری بھابھی کہاں ہے؟ ویسے اصول کے طور پر مجھے
آپ سے ناراض ہونا چاہیے تھا ۔ آپ نے مجھ سے یہ بات چھپائی ۔ اریشہ نے بولا!
اشعر یہ سوچ رہا تھا وہ کسطرح سے اریشہ کو واپس بیجھے ۔ اشعر آیت سے
اریشہ کو نہیں ملنا چاہتا تھا ۔بھائی، اشعر کو
خاموش دیکھ کر اریشہ غصے سے بولتی ہے ۔ ٹھیک ہے تم رہوں یہاں مجھے اعتراض نہیں
اور آیت یونیورسٹی پڑھنے گی ہے ۔ اشعر تنگ آکر بولتا ہے ۔ اریشہ خوشی سے اشعر
کے گلے لگ جاتی ہے ۔ مجھے کسی طرح اریشہ کو یہاں سے بیجھنا ہوگا اشعر سوچتا ہے
مجھے کسی بھی طرح کرکے بھائی اور آیت کے درمیان کی دوریاں کو ختم کرنا
ہوگا ۔ میں چڑیل انعم کو اپنے بھائی کی زندگی میں شامل نہیں ہونے دوں گی
دوسری طرف اریشہ سوچتی ہے۔ اتنے میں اشعر کے موبائل بجنے لگا ۔ اشعر
فون پر ارسلان افتخار سے بات کرتا ہے ۔ ٹھیک ہے میں پہنچ رہا ہوں
اشعر اریشہ سے مل کے نکالتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان آرمی آفیسر ہے۔ ارسلان کے والدین ملک سے باہر شفیٹ تھے ۔ ارسلان کو
بچپن سے ہی فوج میں بھرتی ہونا کا شوق تھا ۔ ارسلان ملک کی محبت میں امریکہ
چھوڑ کر پاکستان شفیٹ ہوگیا تھا ۔ اشعر اور فرمان سے دوستی ارسلان کی
کالج میں ہوئی تھی ۔ ارسلان نے شاپنگ سینٹر میں ارم کو دیکھا تھا
جبھی سے ارم کو پسند کرنے لگا تھا ۔ اشعر نے ارم کی بات ارسلان کو بتائی
تو ارسلان نے ارم سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔
ارسلان بہت خوش تھا ۔ ارسلان ارم کو بہت چاہتا تھا ۔ اشعر کو پتا تھا جبھی اشعر
ارم کے لے ارسلان افتخار کی بات نسیم کی تھی ۔
ارم اور ارسلان کا نکاح تھا
اشعر ارم اور نسیم بیگم کو لیے کر ارسلان کے گھر پر آیا تھا ۔ کچھ دیر بعد
نکاح خواہ آجاتےہیں ۔ نکاح شروع ہوتا ہے ۔ ارم روتے ہوئے قبول ہے، قبول ہے
بولتی ہے ۔ اشعر ارم کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے ۔
نسیم بیگم ارم کو ارسلان کے گھر چھوڑ کر اشعر کے ساتھ چلی گئی ۔
ارم ہلکے سے میک اپ کے ساتھ سادھے سے سوٹ میں ارسلان کے کمرے میں بیٹھی تھی
ارسلان کمرے میں آتا ہے ۔ ارم کے قریب ارسلان بیٹھتا ہے ۔ ارم خوف سے کاپنے لگی تھی
ریلکس ارم ارسلان افتخار ارم کا ہاتھ پکڑ کر بولتا ہے ۔ ارم ڈرتے ہوئے سر اٹھا کر
ارسلان افتخار کی طرف دیکھتی ہے ۔ تم گبھرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں
اور بے فکر رہو، جب تک تم اس رشتے کو آگے بڑھانے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتی
میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جو تمہیں مشکل میں ڈالے ۔ ارسلان نرمی سے بولتا ہے
ارم کا ڈر اب دور ہونے لگتا ہے ۔ تم کو بھوک لگی ہے؟ ارسلان نے پوچھا،
ارم ہاں میں سر ہلاتی ہے ۔ اچھا روکو میں کچھ کھانے کے لیے کر آتا ہوں ۔ ارسلان
کمرے سے چلا جاتا ہے ۔ ارم کو ہاشم اور عرشی کی سچائی نسیم بیگم نے
بتادی تھی ۔ ارم یہ سچ جان کر اندر سے ٹوٹ گی تھی ۔ ارم دل میں
آیت اور اشعر کی خوشیوں کی دعا کررہی تھی ۔ سچ جانے کے بعد
ارم اشعر سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی ۔ لیکن اشعر نے پیار سے ارم کو سمجھایا تھا
اور أس سے وعدہ بھی کیا تھا وہ آیت کو کبھی نہیں چھوڑے گا ۔
ارم نے کبھی اپنی شادی کا ایسے نہیں سوچا تھا ۔ لیکن قسمت پر کس کا اختیار ہوتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
صاحب جی انعم بی بی جی کالج گئی ہی نہیں تھی ۔
کیا بکواس کررہے ہوں ؟ ہاشم غصے سے بولتا ہے ۔ ارے اس پر کیا غصہ کررہے ہیں
وہ بھی آیت کی طرح بھاگ گئ ہے ۔ عرشی غصے سے بولتی ہے ۔ میں چھوڑو گا
نہیں ۔ ہاشم بیگ غصے سے بولتا ہے اور پولیس کو فون کرنے لگا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عرشی تمہارے ہاتھوں سے دونوں لڑکیاں نکل گئی ۔ روبینہ منہ بنا کر بولتی ہے ۔ ارے مجھے
کیا پتا تھا دونوں اتنی چالاک نکلے گئی۔ عرشی سر پکڑ کہ بولتی ہے ۔ ہم تو آیت کا
کچھ بیگاڑ نہیں سکتے أسکی شادی اشعر نذیر سے ہوئی ہے ۔ وہ طاقت ور ہے ۔
وہ بہت پیسے والا ہے ۔ اگر أس کو ہمارا پتا بھی چلا تو وہ ہماری چٹنی بنا دے گا
روبینہ نے ڈرتے ہوئے کہا! ارم کو تو میں نہیں چھوڑوں گی ۔ عرشی غصے سے بولتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شام کے پانچ بج رہے تھے ۔ اشعر گھر جانے کے بجائے فرمان سے ملنے آگیا تھا ۔
فرمان آپریشن سے فارغ ہو کر اشعر سے ملتا ہے ۔ کیا بات ہے اشعر تم کچھ
پریشان نظر آرہے ہو ؟ فرمان اشعر کو خاموش دیکھ کر بولتا ہے
یار فرمان میں بہت پریشان ہوں اریشہ گھر پر رہنے آگئ ہے۔ اشعر پریشانی سے بولتا ہے
فرمان پانی پی رہا تھا ۔اشعر کی بات سن کے فرمان کو پھندا لگا فرمان کو زور زور سے
کھانسی آنے لگی، اشعر فرمان کی پیٹ سہلاتا ہوا بولتا ہے تم ٹھیک تو ہو؟
فرمان کو کھانسی کی وجہ سے آنکھوں میں آنسو آگے تھے، فرمان سر ہلا تا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ صاحب ہم ارسلان افتخار کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیے سکتے
آپکی بیٹی نے پولیس کو بیان دیا ہے یہ شادی أسکی مرضی سے ہوئی ہے
انسپکٹر رشید بولتا ہے ۔ ہاشم بیگ غصے سے پولیس اسٹیشن سے نکلتا ہے
عدنان ہاشم کو تسلی دیتا ہے تم پریشان نہ ہوں ۔ ارسلان سے میرے
بندے نمٹ لیے گئے ۔ تم غصہ ٹھنڈا کرو اور گھر جاؤ ۔ عدنان ہاشم سے بولتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جاری ہے
