Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19

اشعر کے کیس کی آج سماعت تھی ۔ میڈیا کا عدالت کے باہر رش لگا تھا ۔ سارے میڈیا
والے جمع تھے ۔ سب کی نظریں اشعر ندیز پر تھی ۔ اشعر کو پولیس ہتھگری لگا کے
عدالت میں پیشی کے لیے لا رہی تھی ۔ میڈیا کے نمائندے اپنے مائک اشعر کے سامنے
کرکے سوالات کرنا شروع کیے ۔ اشعر آپ اس الزام کے بارے میں کیا بولیے گے ؟ میڈیا
کی رپورٹر نے سوال کیا ۔ No comments اشعر نے کہا ۔
پولیس میڈیا کو ہٹاتی ہوئی اشعر کو کمرہ
عدالت میں پیشی کے لیے لیے جاتی ہے۔ عدالت کی کارروائی شروع کی جائے جج نے
کہا ۔ سارے ثبوت اشعر کے خلاف تھے ۔ جج صاحب یہ اشعر ندیز کے موبائل
کے کال ریکارڈ کی رپورٹ ہے ۔ اشعر ندیز نے سب سے زیادہ علیشا سے فون پر
باتیں کی تھیں ۔ جج کو وکیل نے کاغذات دیتے ہوئے کہا ۔ جج کاغذات دیکھتے ہیں
اس بارے میں اشعر ندیز آپ کیا بولے گئے؟ جج نے اشعر سے پوچھا ۔ میں بے قصور ہوں
میرا علیشا سے کوئی تعلق نہیں ۔ اشعر نے کہا ۔ ہر مجرم خود کو بے قصور کہتا ہے
ماجد کے وکیل طنز کرتے ہوئے کہا ۔ سارے ثبوت دیکھنے کے بعد عدالت نے
اس کیس کی سماعت اگلے ہفتے کرے گی عدالت اگلے ہفتے فیصلہ سنائی گی۔
جب تک کے عدالت برخاست کی جاتی ہے ۔ جج نے کہا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کو پولیس گاڑی میں واپس تھانے لیے جایا جارہا تھا ۔ راستے میں پولیس وین
پر گولیوں سے حملہ ہوتا ہے ۔ سب نیچے جھک جاتے ہیں ۔ گولی ڈرائیور کو لگی
اور گاڑی ادھر أدھر ہوتی ہوئی سامنے سے آتے ہوئے ٹرک سے ٹکرا گئی
گاڑی بہت بری طرح ٹرک سے ٹکراتی ہوئی قلابازی کھاتے ہوئے کھائی کے قریب جاکے روکتی
ہے۔ ہیلو بوس کام ہوگیا ۔ ٹرک میں بیٹھے آدمی نے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی ۔ پولیس ایمبولینس میں سب زخمیوں کو اسپتال
منتقل کررہی تھی ۔ اشعر کو بھی ایمبولینس میں ڈال کے اسپتال لایا گیا ۔
اشعر کی حالت بہت نازک تھی ۔ باقی پولیس والے شدید زخمی تھے وہ سب بھی
ایمرجنسی روم میں تھے۔ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔
اشعر ایمرجنسی روم میں تھا ۔ اشعر پر حملہ کی خبر سنے کے بعد
فرمان اریشہ اور ارسلان ہاسٹل آگئے تھے ۔ اریشہ بہت رو رہی تھی ۔ اظہر نذیر بھی اپنی ماں
اور بہن کے ساتھ ہاسپٹل پہنچ گیا تھا ۔ اشعر کی زندگی کے لے اریشہ جائے نماز پیچھا کے
دعا مانگ رہی تھی ۔ سب بہت پریشان تھے ۔ فرمان تم نے آیت بھابھی کو فون کیا؟ ارسلان
نے پوچھا۔ نہیں مجھے یاد نہیں رہا ۔فرمان نے کہا
ٹھیک ہے میں کرتا ہوں ارسلان فرمان سے بولنے کے بعد اپنی جیب سے موبائل فون نکلتا
ہوا آیت کو فون ملاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کچن کی صفائی کررہی تھی ۔ موبائل بجنے کی آواز پر جلدی کچن سے آکے فون اٹھایا
آیت بھابھی میں ارسلان بات کررہا ہوں ۔ اشعر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ۔ ارسلان نے بنا
کوئی تمہید باندھے کہا ۔ کیا؟ اشعر کا ایکسیڈنٹ؟ آیت صدمے سے کہا ۔ جی
بھابھی آپ جلدی سے اسپتال آجائے ۔ ارسلان آیت کو ہاسپٹل کا پتا بتاکے فون بند
کردیا۔ آیت جلدی سے چادر اوڑھ کے اپنا پرس اٹھائے باہر نکلتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماجد بہت خوش تھا ۔ أس نے اشعر سے بدلہ لے لیا ۔ ماجد اپنی بہن کے کمرے میں
آیا ۔ علیشا میں نے اشعر سے تمہارا بدلہ لیے لیا ۔ اب وہ زندگی موت کے درمیان
سانسیں لیے رہا ماجد اپنی بہن کی تصویر سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ خان جی نوکر کمرے
میں آکے بولا۔ کیا ہوا نوشاد؟ صاحب جی باہر کوئی عورت آپ سے ملنے آئی ہے
ٹھیک ہے تم أسے ڈرائنگ روم میں بیٹھاو میں آتا ہوں ماجد نے کہا ۔
نوکر کمرے سے چلا گیا ۔
میڈم آپ اندر آجائے یہاں تشریف رکھے ابھی خان جی آتے ہیں ۔ نوشاد سلمہ مسعود سے
کہا ۔ سلمہ مسعود سامنے صوفے بیٹھ جاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت بھاگتے ہوئے ہاسپٹل کے اندر داخل ہوئی اور ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی کے پاس
گی ۔ پیشنٹ اشعر ندیز کہاں ہے؟ آیت اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔ میم وہ
ایمرجنسی روم میں ہے ۔ یہاں سے سیدھا جائے اور سیھڑی چڑھ کے اوپر
ایمرجنسی روم میں ہے ۔ آیت لڑکی کی پوری بات سنے بنا جلدی سے بھاگتی ہوئی
سیڑھی چڑھتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ کے پاس جاتی ہے ۔ آیت کو سب ایمرجنسی
روم کے پاس کھڑے نظر آگے تھے ۔
اشعر کہاں ہے آیت روتے ہوئے ارسلان سے پوچھا؟ بھابھی ایمرجنسی روم میں ہے
آپ دعا کرے اشعر کی حالت بہت سیرئس ہے ۔ ارسلان اپنے آنسو پہ قابو پاتے ہوئے کہا
آیت بھابھی اریشہ آیت کو دیکھ کے گلے سے لگالیا ۔ آیت روتے ہوئے اریشہ کے آنسو
پونچھتی ہے ۔ بھابھی بھائی ٹھیک تو ہوجائے گے نا؟ اریشہ روتے ہوئے آیت سے کہا
ہاں انشاءاللہ آیت ضبط سے کہا ۔ اتنے میں ڈاکٹر ایمرجنسی روم سے باہر آتے ہیں ۔
ڈاکٹر اشعر کیسا ہے؟ ارسلان نے بے تابی سے پوچھا ۔ پیشنٹ کی حالت بہت سیرئس
آپ سب دعا کریں ۔ سر پر گہری چوٹ لگی ہے ۔ خون بہت زیادہ بہے گیا ہے ۔
اگر پیشنٹ کو چوپس گھنٹے کے اندر ہی اندر ہوش نہیں
آیا تو ہم کچھ نہیں کرسکتے ۔ دعا کرے چوپس گھنٹے بہت اہم ہے۔ ڈاکٹر پروفشنل انداز
میں کہتے ہوئے چلے گئے ۔ اریشہ روتے ہوئے پینچ پر بیٹھ جاتی ہے ۔ فرمان اریشہ کو
سنھبالتا ہے ۔ آیت شیشے سے اشعر کو دیکھتی ہے ۔ اشعر کو آکسیجن ماسک لگا تھا
سر پر پٹی باندھی تھی۔ اشعر کی حالت آیت سے دیکھی نہیں جارہی تھی ۔
“اشعر اگر میں کبھی آپ کو چھوڑ کے چلی گئی تو پھر آپ کیا ہوگا؟ آیت
اشعر کا ہاتھ پکڑ کے پوچھا ۔ تو میری سانسیں روک جائے گی ۔ اشعر آیت کی آنکھوں میں
جھانکتے ہوئے کہا ۔ آیت کا دل اشعر کی بات سے زور زور سے ڈھرکنے لگا ۔ “
آیت ایک دم سے خیالوں کے تسلسل سے باہر آئی ۔ نہیں اشعر آپ مجھے چھوڑ کے
نہیں جاسکتے۔ آیت روتے ہوئے خیالوں میں اشعر سے کہا ۔ اشعر میں مرجاوں گی آپ
کے بغیر ۔ پیلز اشعر ۔ آیت رونے لگتی ہے ۔ اظہر آیت کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے
آیت چونک کے اظہر کو دیکھتی ہے ۔ بیٹا وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ اتنی دعائیں
کرنے والے سب موجود ہیں ۔ اشعر کو کچھ نہیں ہوسکتا ۔ اظہر آیت سے
کہا ۔ آیت کو یوں لگا جیسے وہ خود کو یقین دیلا رہے ہوں ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماجد خان ڈرئینگ میں قدم رکھتا ہے ۔ سلمہ مسعود ماجد خان کو دیکھ کے اپنی جگہ سے
کھڑی ہوگی۔ معاف کیجئے محترمہ میں نے آپکو پہچانا نہیں ماجد خان نے کہا ۔
میں سلمہ مسعود ہوں ۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔ جی تشریف رکھے
ماجد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ جی بولے آپ نے کیا بات کرنی ہے؟ ماجد خان
نے کہا ۔ ماجد صاحب آپکی بہن کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس میں میرے بیٹے
حذیفہ مسعود کا ہاتھ ہے ۔ أس سے رابطے میں میرا بیٹا تھا ۔ اشعر کے موبائل سے
وہ علیشا سے بات کرتا تھا ۔ کیا ماجد اپنی جگہ سے کھڑا ہوکے کہا ۔ جی میں
آپ سے بے حد شرمندہ ہوں ۔ لیکن اس سب میں قصور آپکی بہن کا بھی ہے
آپکی بہن بنا جانے کسی بھی لڑکے سے تعلقات کیسے رکھ سکتی ہے ۔
اگر میرے بیٹے نے غلط کیا تو أسے غلط کرنے کا موقع بھی آپکی بہن نے دیا
سلمہ ماجد کے غصے سے لال چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔ چلے جائے یہاں سے اس سے
پہلے میں اپنا آپا کھو دو۔ ماجد غصے سے بولا ۔ سلمہ خاموشی سے چلی گی۔
ماجد کو پچھتاو ہو رہا تھا أس نے ایک بے قصور کی جان لینے کی کوشش کی ۔
اگر اشعر کو کچھ ہوگیا تو ماجد خان نے سوچا ۔ نہیں میں اشعر کو کچھ نہیں
ہونے نہیں دوں گا ۔ ماجد نے خود سے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سجاول خان ماجد کو زور سے تپھڑ مارتے ہیں ۔ میں کچھ دنوں کے لیے ملک سے باہر
کیا چلا گیا تم نے یہ گل کیھلائے؟ تم نے ایک معصوم کی جان لینے کوشش کی ۔ سجاول خان
غصے سے کہا بابا جان ،علیشا کمرے میں داخل ہوکے بولی ۔ علیشا تم کومے سے کب باہر آئی؟
ماجد علیشا کو صحیح سلامت اپنے سامنے کھڑے دیکھ کے حیرت سے بولا ۔ ایک ہفتے
پہلے مجھے ہوش آگیا تھا ۔ بھائی مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی، میں مانتی ہوں
میں نے غلط کیا مجھے اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے تھا ۔
اسلام میں عورتوں کو نامحرم مردوں سے بات کرنا منع ہے ۔ لیکن میں نے اپنی دل کی
سنی اور شیطان کے راستے پر چلنے لگی ۔ بنایہ سوچے اسکا انجام کیا ہوگا
مجھے اپنے کیے گے گناہوں کی سزا مل گی۔ علیشا شرمندگی سے کہا ۔ ماجد آگے
بڑھ کے علیشا کو گلے لگالیا ۔ ماجد اپنی بہن کو دیکھ بہت خوش تھا
علیشا نے جو حرکت کی اسکی سزا قدرت نے أسکو دیدی۔
لیکن تم نے کیا کیا تم نے اشعر کی کزن کو استعمال کیا وہ بھی اشعر سے بدلہ لینے کے لئے
شرم آنی چاہیے تمہیں ۔ تم میں اور أس لڑکے حذیفہ میں کوئی فرق نہیں ہے تم دونوں
ایک جیسے ہوں اپنی نفس کے غلام ۔ ماجد حیرت سے سجاول خان کی طرف دیکھتا ہے
تمہیں کیا لگا ہمیں کچھ پتا نہیں چلے گا ۔ سجاول خان غصے سے کہا ۔ بیٹی
اندر آجاو سجاول انعم کو اندر بلاتے ہیں ۔ انعم پروین کے ساتھ اندر داخل ہوئی
انعم کو ماجد خون خوار نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ تم إس بچی کو کیا گھور رہے ہو
میری طرف دیکھو میں لیے کے آیا ہوں اسے ۔ تمہاری شادی اس لڑکی سے ہوگی
تم کو ذراسی بھی شرم نہیں آئی اس لڑکی کے ساتھ بنا کسی رشتے کے تعلقات بناتے ہوئے
مجھے کہتے ہوئے شرم آرہی ہے سجاول خان غصے سے کہا ۔ دعا کرو اشعر کو
کچھ نہ ہوں ورنہ تمہیں سجاول خان کے قہر سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔
اب دفع ہوجاو میری نظروں کے سامنے سے ۔ سجاول خان غصے سے کہا ۔
ماجد خاموشی سے چلا جاتا ہے ۔ انعم اور پروین بہن کو أن کا کمرہ دیکھاو
سجاول علیشا سے کہا ۔ جی بابا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت سنھبالو خود کو نمرہ آیت سے بولی۔ نمرہ یہ سب میری وجہ سے ہوا
میں مجرم ہوں اشعر کی ۔ آیت روتے ہوئے کہا ۔سجاول خان اسپتال اشعر کو دیکھنے آئے
تھے ۔ تب آیت کو ساری سچائی کا پتا چلا ۔ اشعر کی حالت بہت خراب ہے
اشعر کو ابھی تک ہوش نہیں آیا ۔ مجھے اشعر کا یقین کرنا چاہیے تھا
میں نے اشعر کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ۔ مجھے کتنی بار اشعر نے سچ بتانے
کی کوشش کی ۔ لیکن میں نے اشعر کی ایک نہیں سنی ۔ آیت کو بہت پچھتاو ہو
رہا تھا ۔ آیت بہت رو رہی تھی ۔ نمرہ کو آیت کی حالت دیکھ کے ترس آرہا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یااللہ میں تیرا گنہگار بندہ ہوں ۔ میرے بیٹے کو زندگی دیدے ۔اپنے حبیب صلی اللہ علیہ والہ
وسلم کے صدقے میں میرے بیٹے کی جان بچالیے ۔ اظہر نذیر روتے ہوئے دعا کررہا تھا
عرفانہ قرآن پاک کی تلاوت کررہی تھی اور اشعر پر پھونک رہی تھی ۔
اریشہ کا حال بہت برا تھا ۔ حمیدہ اریشہ کو زبردستی کھانا کھالیا ۔
ارسلان کی سجاول خان سے بحث ہوگی تھی ۔ ارسلان صاف دھمکی دی تھی
اگر اشعر کچھ بھی ہوا تو ماجد کو ارسلان زندہ نہیں چھوڑے گا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان تم رو رہے ہو؟ فرمان ارسلان کو ہاسپٹل کے باہر کھڑے روتا ہوا دیکھتے ہوئے کہا
نہیں تو آنکھ میں کچرا چلا گیا ہے ۔ ارسلان آنکھ صاف کرتے ہوئے کہا ۔ فرمان ارسلان
کے گلے لگ گیا ۔ مجھ سے تو جھوٹ مت بول ۔ فرمان نے کہا ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ارسلان
اگر اشعر کو کچھ ہوگیا تو ۔ اشعر کی حالت بہت سیرئس ہے ۔ تجھے پتا ہے نا
ڈاکٹر نے کہا ہے اگر اشعر کو چوپس گھنٹے میں ہوش نہیں آیا تو، فرمان ادھوری
بات چھوڑ کے رونے لگا ۔ ارسلان بھی رونے لگتا ہے ۔ شیش چپ کرو ایسا نہیں
بولتے أسے کچھ نہیں ہوگا ۔ فرمان کے بال سہلاتے ہوئے ارسلان نےکہا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ لوں مٹھائی کھاؤ ۔ شرجیل مٹھائی کا ڈبہ حذیفہ کے آگے رکھتا ہے ۔ حذیفہ
کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا ۔ حذیفہ سوالیہ نظروں سے شرجیل کی طرف
دیکھتا ہے ۔ ارے مٹھائی کھاؤ نا تمہارے سب سے بڑے دشمن کی جان
خطرے میں ہے ۔ تھوڑی دیر بعد کیا پتا مرجائے ہوش نہیں آیا تو
شرجیل طنزیہ کرتے ہوئے کہا ۔ کیا بکواس کررہے ہو ۔ حذیفہ غصے سے کھڑے ہوکے
بولا ۔ بکواس نہیں کر رہا تمہاری لگائی گئی آگ نے کام کردیا، ماجد خان نے
اشعر پر حملہ کرایا ۔ بہت بہت مبارک ہو ۔اب شاید تمہارے اندر کی آگ بجھ جائے
شرجیل نے غصے سے کہا ۔ شرجیل یہ تم کیا کہہ رہے ہو میں نے ایسا نہیں چاہ
تھا ۔ میں نفرت ضرور کرتا تھا اشعر سے لیکن إسکی جان لینا نہیں چاہتا تھا
حذیفہ پریشانی سے بولا۔ بس تم رہنے دو۔ شرجیل غصے سے کہا ۔
شرجیل حذیفہ پر ملامتی نظر ڈال کے چلا گیا ۔ حذیفہ زمین پر بیٹھ کے رونے لگا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *