Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14
اشعر کی آج سالگرہ تھی ۔ آیت نے اشعر کے لئے سبرئیز برتھ ڈئے پارٹی رکھی تھی ۔
ارسلان ارم آئے ہوئے تھے اور فرمان کو بھی بلایا گیا تھا ۔ اشعر آفس سے گھر
آگیا تھا ۔گھر میں اتنا اندھیرا تھا ۔ اشعر جیسے ہی لائٹ جلانے لگا، سب کی آوازیں
آنے لگی ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ، ہیپی برتھ ڈئے ٹو یو، پورے گھر کی لائٹس جل جاتی ہیں
پورا کمرہ لائٹ سے روشن ہوگیا تھا ۔ اشعر حیرت سے سب دیکھتا ہے
اریشہ کیک پکڑے اشعر کے پاس آئی ۔ہیپی برتھ ڈئے اشعر، آیت مسکراتےہوئے کہا
اشعر کے ارسلان گلے لگ کے مبارک باد دیتا ہے۔ فرمان بھی اشعر سے گلے ملتا ہے
اشعر سب کے ساتھ مل کے کیک کاٹا ۔ اریشہ نے سب کو کیک سرف کیا
فرمان اریشہ سے بات نہیں کرتا ۔ نا کیک کھاتا ہے سب سے مل کے چلا گیا تھا
اریشہ افسردہ ہوگی تھی اریشہ سے فرمان کا خود کو نظر انداز کرنا اچھا نہیں
لگا تھا، اریشہ نے فرمان کی پسند کا سوٹ پہناتھا ۔ فرمان اریشہ کو دیکھتے ہی
رہ گیا تھا ۔ لیکن یہ آیت کا پلین تھا اریشہ کو سبق سکھانے کا، فرمان نے بڑی مشکل سے
اریشہ سے ناراضگی دیکھائی تھی ۔
ارم ارسلان کے ساتھ بہت خوش تھی ۔ ارسلان کو چھٹیاں مل گئی تھی تو وہ آج ہی
فلائٹ سے لندن جارہے تھے ۔ ارسلان ارم کو اپنے والدین سے ملانے لندن جارہا تھا
ارسلان اور ارم نے پارٹی کو بہت انجوائے کیا ۔ ارم آیت سے مل کے ارسلان کے ساتھ
ائیرپورٹ کیلئے نکلتی ہے ۔ اریشہ نیند کا بول کے اپنے کمرے میں جاتی ہے ۔
اشعر بہت خوش تھا ۔ اشعر باہر تک ارسلان اور ارم کو سی آف کرنے گیا تھا
اشعر اپنے کمرے میں آتا ہے ۔ کمرہ لائٹ سے سجا تھا، پھولوں سے دیوار پر
ہیپی برتھ ڈئے اشعر لکھا تھا ۔ بیڈ پر پھول سے دل بنا ہوا تھا، اشعر خوشی اور
حیرت سے سب دیکھتا ہے۔ آیت نے ریڈ کلر کی فراک پہنی تھی ۔
اشعر مسکراتےہوئے آیت کی طرف دیکھتا ہے ۔ آیت اشعر کے گلے لگتی ہے
I love you Ashar
Ilove you so much
آیت جذبات سے چور لہجے میں کہا، اتنے میں میوزک بجنے لگتا ہے ۔ آیت اشعر کے
ساتھ کپل ڈنس کرتی ہے ۔ تھنکیس سو مچ آیت، یہ سب کرکے تم نے تو مجھے حیران
کردیا ۔ اشعر خوشی سے کہا اشعر کی آنکھوں میں خوشی واضح آیت
دیکھ سکتی تھی ۔ اشعر آیت کو بانہوں میں اٹھا کے بیڈ پر بیٹھتا ہے ۔ تمہارے لئے بھی
کچھ ہے اشعر آیت سے کہا اور آیت کے ڈائمنڈ کا نکلس اپنی جیب سے نکالا
یہ تمہارے لئے نیکلس پر دل گولڈ سے بنا تھا ڈائمنڈ سے A , A لکھا تھا
آیت خوشی سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے، اشعر آیت کو نکلس پہنتا ہے
اور آیت کے گردن پر اپنے پیار کی پہلی مہر لگاتا ہے ۔ آیت شرم سے لال ہوجاتی ہے ۔ اشعر
آیت پر اپنے پیار کی بارش کرنے لگتا ہے آیت خوشی سے اپنا اب اشعر کو سونپ دیتی ہے
یہ رات انکے پاک رشتے کی تکمیل کی رات تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر پندرہ منٹ سے آیت کو مسلسل اٹھا رہا تھا ، پر آیت پوری طرح نیند میں
ڈوبی تکیے کو منہ پر رکھے سو رہی تھی ۔
آیت یار اٹھ جاؤ نماز کا وقت نکال جائے گا، اشعر آیت کے چہرے سے تکیہ کو ہٹاتے ہوئے
بولا ۔ آیت کروٹ بدلی، سونے دیں، اشعر آیت کی اس حرکت پر مسکرتا ہے ۔
اشعر جھکے آیت کے ماتھے پر بوسہ دیتاہے ۔ آیت ایک آنکھ کھولتی ہے
کیا ہے اشعر آیت منہ بنا کے بولی۔ یار اٹھ جاؤ نماز کا ٹائم ختم ہوجائے گا ۔
اشعر آیت کی لٹ کھینچ کے بولا، آیت کھڑی پر نظریں گمائی سامنے دیوار پر لگی
گھڑی میں سوا 6 بج رہے تھے ۔ آیت ہربڑاہ کر اٹھی، آپ نے مجھے جاگیا نہیں آیت
اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے شکوہ کیا، میڈم کب سے جگا رہا تھا لیکن آپ تو
نیند میں ایسی غرق تھی کہ بس، اشعر آیت کی ناک پکڑ کے بولتا ہے
آیت منہ بنالیتی ہے۔ تیھنکس آیت تم نے اس رشتے کو قبول کیا میرے ساتھ زندگی کے
سفر آگے بڑھانے کے لئے اپنی رضامندی دینا کا اور مجھ پر بھروسہ کرنے کا تمہارا
بہت شکریہ، اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے بولتا ہے ، آیت کل رات کے بارے میں سوچتے ہوئے
شرمانے لگی ۔ اچھا میں مسجد جارہا ہوں ، اشعر بستر سے اٹھ کے اپنے کف بٹن بند کرتا ہوا
بولا! آیت بکھرے ہوئے بال کو جوڑا بناتے ہوئے اٹھی ۔ اشعر آیت کو نظر بھر کے دیکھا
اور کمرے کے دروازے کی طرف بڑھتا ہے ۔اشعر کے جانے کے بعد آیت اپنا ڈوپٹہ لئے وضو
کرنے واش روم کی طرف بڑھتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر مسجد سے آگیا تھا، آیت سورة رحمان کی تلاوت بلند آواز سے کررہی تھی
اشعر غور سے کلام پاک کی تلاوت سن رہا تھا ۔ آیت اشعر کو دیکھ کے خاموش ہوگئی
کیا ہوا ؟ روک کیوں گی ؟ تم اچھی تلاوت کرتی ہوں ۔ اشعر بولتا ہوا آیت کے پاس زمین پر
بیٹھ جاتا ہے ۔ آیت دوبارہ سے تلاوت شروع کرتی ہے ۔ اشعر تلاوت سنتے سنتے
آیت کی گود میں سر رکھ سوگیا تھا ۔ اللہ کے کلام میں اتنا سکون ہوتا ہے بندہ
اپنے آپکو ہر بوجھ سے آزاد محسوس کرتا ہے ۔ آیت بہت خوش تھی ۔ آیت کو
یقین تھا اب سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن قسمت نے ابھی انکی محبت کا امتحان لینا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آفس کیلئے تیار ہورہا تھا ۔ اشعر بیلک کلر پینڈ شرٹ کورٹ میں بہت ہنڈسم لگ رہا تھا
اشعر خود پر اسپرے کرنے کے لیے پروفیم اٹھانے کے ہاتھ میز پر کرتا ہے لیکن آیت پروفیم
اٹھا لیتی ہے ۔ آپ کس قدر پروفیم چھڑکتے ہیں توبہ ہے۔ میرے تو دماغ چکرا جاتا ہے
آیت اپنا ہاتھ نچا نچا کے بولی۔ اشعر آیت کے ہاتھ سے پروفیم لیکے لگانے لگتا ہے
اشعر آپ ٹائی کیوں نہیں باندھتے، آیت اشعر کے کورٹ پر اپنی انگلی چلاتے ہوئے
کہا، مجھے پسند نہیں ہے اشعر خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے بولا،
کیوں پسند نہیں، مجھے پسند ہے آپ آج ٹائی باندھ کے آفس جائے گئے
آیت لاڈ سے بولی۔ تم باندھو ۔اشعر بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے کہا
آیت خوش ہوکے الماری کی طرف بڑھتی ہے اشعر کے
سوٹ سے میچنگ کی ٹائی نکالی۔ اور الماری بند کرکے اشعر کی طرف آئی
اشعر سیدھے کھڑے ہو، آیت اشعر کے گلے میں ٹائی باندھتے ہوئے کہا
آیت جلدی سے اشعر کے گلے میں ٹائی باندھتی ہے۔ اور پھر اشعر کا جائزہ لینے لگی
اشعر آیت کو خود کے قریب کرلیتا ہے ۔ آیت کو اشعر کی سانسیں اپنے چہرے پر
محسوس ہوتی ہے۔ آیت Ilove you اشعر پیار سے آیت سے کہتا ہوا
آیت کے گال پر کس کرتا ہے ۔ آیت کے گال شرم سے لال ٹماٹر ہوگے تھے ۔
اشعر دھیرے سے آیت کو خود سے الگ کیا، میری محبت کو برداشت کرنی کی عادت ڈال لوں
ابھی تو صرف تم سے محبت ہوئی ہے آہستہ آہستہ عشق بھی ہوجائے گا ۔ پھر کیا
کروں گی، اشعر گمھبر لہجے میں کہا، اشعر کی آنکھوں میں آیت زیادہ دیر تک
دیکھ نہیں پاتی آنکھیں جھکالیتی ہے۔ تم شام میں ریڈی رہنا تمہارے لئے کچھ سبرئیز ہے
اشعر آیت کا سر اپنے سر کے قریب
کرکے بولا، اور آیت سے دور ہوکے دروازے کی طرف بڑھتا ہے ۔ آیت اشعر کے ساتھ
اشعر کو سی آف کرنے دروازے تک آتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت اشعر جانے کے بعد دوبارہ جاکے سو گئی تھی ۔ لیکن سکینہ کے کمرے میں آنے کے بعد
اٹھ گئی تھی ۔ اشعر نے آیت کی پسند کی ڈیزائنر سے برائیڈل ڈریس
بناکے آیت کے لئے بھیجا تھا ۔ آیت سوٹ دیکھ کے بہت خوش ہوئی۔ آیت جلدی فریش ہوکے
برائیڈل ڈریس پہنا اور پھر اتنی دیر میں ڈرائیور آیت کو پارلر لیے جانے کیلئے
آگیا تھا ۔ آیت کا آپینٹمینٹ اشعر نے آیت کے پسند کے پارلر سے لئے لیا تھا
آیت کو پارلر والی نے بہت اچھا میک اپ کیا تھا،
آیت تیار ہوکے پارلر سے باہر نکلی، اشعر باہر گاڑی سے ٹیک لگائے آیت کا انتظار کررہا تھا
آیت کو پارلر سے باہر آتا دیکھ کے اشعر سیدھے کھڑے ہوگیا، اور آیت کے لئے
خود گاڑی کا گیٹ کھولتا ہے ۔ آیت کو گاڑی میں بیٹھاکے گاڑی ڈرئیف کرتا
ہوا گاڑی کو شادی ہال کے پاس روکتا ہے ۔ آیت اشعر کا ہاتھ پکڑ کے
ہال کے اندر جاتی ہے ۔ اشعر آیت پر پھولوں کی برسات شروع ہونے لگی، آسمان میں
آتش بازی شروع ہوجاتی ہیں ۔ آیت یہ سب دیکھ کے بہت خوش ہو رہی تھی
اشعر آیت کے ساتھ کپل فوٹو شوٹ کرتا ہے ۔
سب رشک سے ان کی جوڑی دیکھ رہے تھے لیکن ایک آنکھ ایسی بھی تھی جو انھیں
حسد سے دیکھ رہی تھی ۔ اشعر آیت کے ساتھ رومینٹک انداز میں پوس کررہا تھا
آیت شرماتے ہوئے نظریں جھکا لیتی ہے ۔ اریشہ اپنے بھائی کی خوشی میں
بہت خوش تھی ۔ اشعر اور آیت کے ولیمہ میں سب لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا
ہر مشہور شخصیات ان کی خوشیوں میں شریک تھیں
فرمان وائٹ شرٹ پہنے اریشہ کو دیکھنے میں مگن تھا، اریشہ بہت پیاری لگ رہی تھی
اریشہ نے پینک کلر کا گررہا پہنا تھا، اریشہ خود پر فرمان کی نظر محسوس کرتی ہوئی
موڑ کے فرمان کو دیکھتی ہے، فرمان جلدی سے نظریں گھومالیتا ہے،
اریشہ فرمان کا خود کو نظر انداز کرنا اچھا نہیں لگا، اریشہ کا موڈ آف ہوگیا تھا
حمیدہ اریشہ سے آکے ملتی ہے ،حمیدہ کے پیار و خلوص کو دیکھ کے اریشہ خود کے
رویے پر شرمندہ ہوئی، اریشہ سے ملنے کے بعد حمیدہ اشعر اور آیت سے ملنے اسٹیج
کی طرف بڑھتی ہے، فرمان ایک لڑکی کی تعریف کررہا تھا، اریشہ سے یہ
برداشت نہیں ہوا اریشہ فرمان کی طرف بڑھتی ہے، فرمان ڈاکٹر بشری سے
مسکرا مسکرا کے بتاتیں کر رہا تھا، اریشہ کو دیکھ کے خاموش ہوجاتا ہے
اچھا بشری ہم وہاں چل کے بیٹھتے ہیں یہاں کتنی گھٹن ہورہی ہے ۔ فرمان بشری سے
پیار سے کہا! ، اریشہ کو نظر انداز کرتے ہوئے فرمان بشری کا ہاتھ پکڑے وہاں سے
چلا جاتا ہے، اریشہ پیچھے غصے سے دل میں بیچ تاب کھاتے رہ جاتی ہے،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آیت کو لے کے کمرے میں داخل ہوا، آیت نظر لگنے حد تک پیاری لگ رہی تھی
اشعر کی نظریں آیت سے ہٹنے سے انکاری تھی، آیت اشعر کی آنچ دیتی ہوئی آنکھوں میں
زیادہ دیر تک دیکھ نہیں پاتی نظریں جھکالیتی ہے۔ اشعر آیت کی تھوڑی اوپر کرکے
آیت کی آنکھوں میں دیکھتا ہے،
تم خاص ہو عبادتوں جیسے_____

اٹھتے ہاتھوں کی_____ مانگی دعا جیسے 

کتابوں میں لیکھے خوبصورت الفاظ جیسے 

تم خاص ہو_____ باکل میری زات
اشعر لہو دیتے لہجے میں کہا! آیت شرماتے ہوئے اشعر کے سینے سے لگ جاتی ہے
اشعر آیت کو ڈوپٹہ پہنیوں سے آزاد کرتا ہے پھر گھٹنوں میں بیٹھ کے آیت کو
ڈائمنڈ کی رینگ پہنتا ہے، آیت میں تم سے اتنی محبت کرتا اتنی شاید ہی
کوئی تم سے کر سکے اشعر آیت کے گردان پر جھکتا ہوا بولا، آیت اشعر کے
اس اظہار سے نروس ہونے لگی، اشعر آیت کے ساتھ گنیڈیل نائٹ ڈنر کیا
اور پھر اشعر آیت کے ساتھ کپل ڈنس کیا، اشعر آیت کو پھولوں کا گلدستہ دیا
“اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مجھے مکمل کردو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کردو
تم ہتھیلی کو میرے پیار کی مہندی سے رنگوں
اپنی آنکھوں میں میرا نام کا کاجل کردو
اس کے سائے میں میں میرے خواب دہک اٹھیں گے
میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کردو
دھوپ ہی دھوپ ہوں مینا ٹوٹ کر برسوں مجھ پر
اس قدر برسوں میری روح میں جل تھل کردو
جیسے صحراوں میں ہر شام ہوا چلتی ہے
اسطرح مجھ میں چلوں مجھے جل تھل کردو
تم چھپا لو میرا دل اوٹ میں اپنے دل کی
اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کردو
مئسلہ ہو ں تو نگاہیں نہ چراو مجھ سے
اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کردو
اپنے غم سے کہو ہر وقت میرے ساتھ رہے
ایک احسان کرو اسکو مسلسل کردو
مجھ پر چھا جاو کسی آگ کی صورت جاناں
اور میری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کردو
وصی شاہ کی غزل سناتا ہے۔ آیت شرم سے نظریں جھکالیتی ہے، اشعر آیت کو
بانہوں میں اٹھائے بیڈ پر لیٹتا ہے، اور کمرے کی لائٹ آف کرتا ہے، آیت کو
اپنے پیار کی بارش میں بیگھونے لگتا ہے، آیت اپنا آپ اشعر کو سونپ دیتی ہے
اشعر تنکا برابر بھی فاصلہ نہیں رکھتا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کی صبح آنکھ کھولتی آیت فریش ہوکے نماز پڑھتی ہے۔ آیت نماز سے فارغ ہوکے
اپنے بال بنانے لگتی ہے، اشعر کمرے میں نہیں تھا، آیت کو بیڈ کے پاس ایک
لفافہ ملتا ہے، آیت کھولتی ہے، اسمیں مری کے ٹکٹ تھے، آیت کو مری جانے کا
بہت شوق تھا ۔ آیت خوشی سے ٹکٹ دیکھ رہی تھی، کیسا لگا سبرئیز اشعر
پیچھے سے آکے بولتا ہے ، بہت اچھا ، آیت اشعر کے سینے پر اپنا سر رکھے بولتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
بھائئ آپ لوگوں کے ہنی مون پر میں جاکے کیا کروں گی، اریشہ آملیٹ کھاتے ہوئے
کہا، تم کو اکیلے میں چھوڑ کے نہیں جاسکتا اشعر چائے پیتے ہوئے بولا،
بھائی میں کوئی بچی نہیں ہو، اریشہ منہ بنا کے بولی، اریشہ تم ہمارے ساتھ
چل رہی ہوں میں نے کہہ دیا ہے بس ۔ اشعر اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا
بھابھی آپ بھائی کو سمجھائے میں کباب میں ہڈی بنتی کیا اچھی لگو گی اریشہ
پریشانی سے آیت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بھئی میں تم بہن بھائی کے معاملے میں
کچھ نہیں بول سکتی آیت اپنے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا، اریشہ اپنا سر پکڑ کے
بیٹھ گی،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ ایک ہفتے بعد ہاسپٹل میں رہے کے گھر آگیا تھا ۔ہاشم بیگ کی خدمت کرتے کرتے
عرشی تنگ آگئی تھی، ہاشم عرشی کی بےزاری دیکھ کے اندر ہی اندر کڑھتا تھا
لیکن کچھ بول نہیں سکتا تھا ۔ اسد کی موت نے ہاشم بیگ کو اندر سے توڑ دیا تھا
اسد کی ڈیتھ بوڈی پولیس لیے کے گھر آئی تھی ۔ اسد اپنے پیٹ میں رکھ کے
ڈرکس اسمگلنگ کررہا تھا ۔ ڈرکس کی تپش اسد کا کمزور جسم سہے نہیں
پایا ۔ ڈرکس اسد کے پیٹ میں آپریشن کے ذریعے بھیجی جارہی تھی ۔
ڈرگس اسد کے جسم میں پھیل گئی ۔ جسکی وجہ اسد کی پیٹ کی آنتیں پھٹ گئی
اسد کی موقعے پر ہی موت واقعہ ہوگئی۔
ہر چینل پر ہاشم بیگ کے بیٹے کی موت کی خبر چل رہی تھی ۔ ہاشم بیگ کو فالج کا
اٹیک ہوا تھا ۔ عرشی تو اپنے بیٹے کی لاش دیکھ کے بے ہوشی ہوگی تھی ۔
آیت اور ارم کو اپنے بھائی کی موت کا پتا چلا تو بہت افسوس ہوا ۔ اسد دونوں کو
بہت عزیز تھا ۔ پولیس نے تفتیش کی تو پتا چلا اسد کی فیسک بوبک پر
ایک لڑکی سے دوستی ہوئی تھی ۔ أس لڑکی نے اسد کو ڈرگس لے جانے کو کہا تھا
اسد أس لڑکی کو کافی قیمتی گفٹ بھی دے چکا تھا ۔
ہاشم بیگ کو آج پتا چلا ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیسے خاندان کو برباد کردیتا ہے
ایک رونگ نمبر سے کیسے گھر ٹوٹ سکتے ہیں ۔ ہمارے اس عمل سے اللہ کا ہم کتنا پر
عذاب نازل ہوسکتا ہے ۔ لیکن اب پچھتانا کیا جب چڑیا چک گئی کھیت ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جاری ہے
