Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03

اشعر نیند سے بیدار ہوکر اٹھتا ہے سامنے آیت کھڑی ہوئی تھی ۔ آیت رات بھر یہی کھڑی رہی
تھی ۔ اشعر آیت کو کھڑا ہوا دیکھ کر سوچتا ہے کیا یہ ساری رات یہی کھڑی رہی ۔ کتنی
بے وقوف ہے میں سوگیا تھا تو جاکر لیٹ جاتی ۔ اشعر سر جٹک کر بستر سے کھڑا ہوا
اور آیت کے پاس جاتا ہے ۔ تم جاکر لیٹ جاؤ ۔ اشعر آیت سے بولتا ہے ۔ پوری رات کھڑی ہونے
کی وجہ سے اسکی ٹانگیں بہت دکھ رہی تھی ۔ آیت سے ایک قدم بھی چلا نہیں جارہا تھا
آیت زمین پر گرتی اگر اشعر تھام نہیں لیتا ۔ اشعر آیت کو پکڑ کر بیڈ پر لیٹتا ہے ۔
اور آیت کے پاؤں پر کمبل ڈالتا ہے ۔ تم سو جاؤ ۔ اشعر آیت کو بولتا ہے
آیت حیرت سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ اشعر کمرے سے باہر چلا جاتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
روبینہ غصے سے ہاشم ویلا کے اندر داخل ہوتی ہے ۔ چیختے ہوئے ہاشم کو آواز دیتی ہے
ہاشم بھائی صاحب ، ہاشم بھائی صاحب ۔ ہاشم اپنے کمرے سے باہر آتا ہے ۔
کیا ہوا روبینہ بھابھی کیوں اتنا شور مچایا ہوا ہے ۔ ہاشم بولتا ہے
شور، ارے چھوڑے آپ تو بڑا اپنی بیٹی کی تربیت کی قسمیں کھارہے تھے وہ کچھ
غلط کام نہیں کر سکتی وہ گھر سے بھاگی نہیں ہے ۔ ارے یہ دیکھے آپکی بیٹی نے کیا
گل کھلایا ہے۔ روبینہ اپنے موبائل سے تصویر نکال کر دیکھاتی ہے ۔ آیت اور اشعر کی
شادی کی سیلفی تھی ۔ یہ یہ نہ نہیں ہوسکتا ۔ ہاشم نے ہکلاتے ہوئے کہا!
ارے میں کہتی ہوں اگر میرے بیٹے سے شادی نہیں کرنی تھی تو یہ سب کیوں کیا
خوب بیوقوف بنایا میرے بیٹے کو ۔ اب ہم سے بھی امیر لڑکا مل گیا تو أس سے شادی
کرلی ۔ توبہ توبہ کسی بدچلن لڑکی ہے، روبینہ کانوں کو ہاتھ لگا کر بولتی ہے ۔
ہاشم بیگ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے ہیں ۔ روبینہ اپنی دل کی بھڑاس نکال کر
چلی گئی ۔ عرشی کچن سے باہر آکر بولتی ہے کیا ہوا ہاشم اس طرح کیوں بیٹھے ہوئے ہیں
کیا بولا روبینہ نے؟ کچھ تو بولے میرا دل ویسے ہی بہت گبھرا رہا ہے ۔
ماما، بابا، ارم ٹی وی لاونچ سے آواز دیتی ہے ۔ دونوں گبھرا کر اندر جاتے ہیں
کیا ہوا ارم؟ عرشی پریشانی سے پوچھتی ہے ۔ ماما یہ نیوز دیکھے،
” جی ناظرین ہمیں برینگ نیوز ملی ہے ۔ مشہور بسنیس مین ہاشم بیگ کی بیٹی نے
انٹرنیشنل بسنیس مین اشعر نذیر سے خفیہ شادی کرلی ہے ۔ آج اشعر کے شوشل
اکاؤنٹ پر یہ تصویر ڈالی گی۔ مزید تفصیلات کے لیے ہم اپنے نمائندے سے بات
کرتے ہیں ۔ “
عرشی یہ خبر سن کر بے ہوش ہوجاتی ہے ۔ ماما کیا ہوا آپکو، ارم گبھرا کر بولتی ہے
تم جاکر اپنی دادی کو بلاو ہاشم بیگ بولتے ہیں ۔ جی پاپا ارم کمرے سے باہر جاکر
دادای کو بلانے جاتی ہے ۔ اور ہاشم ڈاکٹر کو فون کرتے ہیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کمرے میں ملازمہ ناشتہ لے کر آئی۔ بیگم صاحبہ ناشتہ کرلیے ۔ سیکنہ (ملازمہ)
آیت سے بولتی ہے ۔ آیت خاموشی سے ناشتہ کرنی لگی ۔ بیگم صاحبہ ناشتہ کے بعد
یہ دوا بھی کھالے گا۔ صاحب جی نے بیجھی ہے۔ سکینہ بولتی ہے، آیت سر ہلاتی ہے
ملازمہ کمرے سے چلی جاتی ہے ۔ آیت ڈبل روٹی کے سلائس کو پلیٹ میں
رکھ کر رونے لگتی ہے ۔ کیوں اشعر کیوں کررہے ہو ایسا ؟ کبھی زخم دیتے ہو
کبھی مرہم رکھتے ہوں ۔ آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کمپنی سے گھر آتا ہے ۔ گاڑی کیراج میں کھڑی کرکے
اشعر باہر سے اندر آتا ہے ۔ سکینہ سکینہ ، ملازمہ کو آواز دیتا ہے ۔ جی صاحب جی ۔ سکینہ
بولتی ہے ۔ آیت نے ناشتہ کرلیا؟ اشعر موبائل چلاتے ہوئے کہا! جی صاحب جی
ٹھیک ہے تم جاؤ ۔ اشعر ملازمہ کو بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلے جاتا ہے ۔
اشعر کمرے میں آتا ہے ۔ آیت اشعر کو بیلک کلر کے سوٹ میں دیکھ کر سوچتی ہے
کاش تم دیکھنے میں جتنے خوبصورت ہو تمہارا دل بھی اتنا خوبصورت ہوتا
اگر تم نے میرا جائزہ لے لیا ہو تو تیار ہوجاو ہم جارہے ہیں ۔ اشعر مسلسل خود پر
آیت کی نظر محسوس کررہا تھا ۔ آیت کی طرف دیکھ کر بولتا ہے ۔ آیت اشعر کی
بات سن کر شرمندہ ہوتی ہے ۔ اور جلدی سے اٹھ کر اپنے بال ٹھیک کرتی ہے
اشعر آیت کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنے اوپر پروفیم کی برسات شروع کردیتا ہے
اشعر کی پروفیم کی خوشبو اسکے ناک کے نتھو میں گھس رہی تھی ۔ خوشبو
سے اسکا دماغ چکرنے لگتا ہے ۔ اشعر ہم کہاں جارہے ہیں؟ آیت اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے
بولتی ہے ۔ سوہیٹ ہارٹ تمہارے لیے سبرئیز ہے ۔ اشعر آیت کو بازو سے پکڑ کر بولتا ہے
اب چلے اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کر بولتا ہے ۔ آیت سر ہلاتی ہے،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت یہ کیوں کیا تم نے ۔ عرشی روتے ہوئے بولتی ہے ۔ اماں ،اب ہم لوگوں کا سامنا
کیسے کررہے گے ۔ آیت نے ہمیں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔
صبر کرو عرشی بیٹا، نسیم بیگم نے بولا! ماما اسد بھاگتے ہوئے
آتا ہے ۔ کیا ہوا اسد؟ دادی جان بولتی ہے ۔ وہ سامنے والا بنگلہ اشعر نذیر کا ہے
آپو اشعر نذیر کے ساتھ یہاں شفیٹ ہوئی ہے ۔ کیا، عرشی بستر سے ایک دم سے
اٹھ کے بولتی ہے ۔ اب کیا ہوگا اور کتنا ذلیل کرنا چاہتی ہے یہ ہمیں ۔ عرشی روتے
ہوئے بولتی ہے ۔ کاش آیت میں پیدا ہوتے ہوئے تیرا گلہ گھوٹ دیتی ۔
دادای جان بھی رونے لگتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کو یہاں آکر زبردست جٹکا لگتا ہے ۔ اشعر آپ نے میرے گھر کے سامنے بنگلہ خرید لیا
آیت پریشانی سے بولتی ہے ۔ ہاں سوہیٹ ہارٹ، اب جاؤ سکینہ کے ساتھ گھر سیٹ کراؤ
اشعر نیا حکم آیت کو دیتا ہے ۔ آیت بے بسی سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے
اشعر آیت کو چھوڑ کر ہاشم ویلا میں جاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارم برئیک ٹائم میں کالج کی کنٹین میں اپنی دوست تحریم کے ساتھ بیٹھی سموسے
کھارہی تھی ۔ ارے ارم ہم نے سنا ہے تمہاری بہن نے بھاگ کر شادی کرلی ہے ۔ ارم کے
کندھے پر پیچھے سے ہاتھ رکھ کر ناذیہ بولتی ہے ۔ ناذیہ کا انداز مذاق اڑانے جیسا تھا
ارم غصے سے ناذیہ کی طرف دیکھتی ہے ۔ تم اپنے کام سے کام رکھو، میری بہن کے بارے
میں ایک لفظ بھی کہا تو اچھا نہیں ہوگا، ارم غصے سے بولتی ہے ۔ واہ بھی واہ
بہن بھاگی انکی غصہ بھی ہم پر نکال رہی ہے ۔ کرن طنزیہ لہجے میں کہا! ،
بس کردو تم دونوں، تم خود لڑکی ہو کر دوسری لڑکی کے بارے میں ایسی باتیں کررہی
ہوں ۔ تحریم غصے سے بولتی ہے ۔ ارے ہم نے کونسا غلط کہا، ہر نیوز چینل پر یہی
خبر چل رہی ہے ۔ اور ویسے بھی یہ امیر گھرانے کی لڑکیاں ہوتی ہی ایسی ہیں
پیار کسی اور سے، شادی کسی اور سے، بچہ کسی اور سے ۔ ناذیہ ناک چیڑ کر بولتی ہے
ارم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا وہ ایک زور دار تپھڑ ناذیہ کو مارتی ہے ۔
سب لڑکیاں حیرت سے ارم کی طرف دیکھتی ہیں ۔
بس ایک اور لفظ بھی کہا تو سوچ لینا میں کیا کروں گی ابھی تو صرف ایک
تپھڑ مارا ہے ۔ ارم انگلی ناذیہ کی طرف کرتے ہوئے کہا، ناذیہ اپنے
چہرے پر ہاتھ رکھ کر ارم کو گھور رہی تھی ۔ ارم جاتے ہوئے رکھ کر بولتی ہے
ہوتی ہوگی امیر گھرانے لڑکیاں ایسی، پر ہر امیر گھرانے کی لڑکیاں ایسی نہیں
ہوتی ۔ ارم بول کر چلی جاتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کیوں آئے ہو تم یہاں؟ اشعر کو ہاشم ویلا میں دیکھ کر ہاشم غصے سے بولتا ہے ۔
ارے سسرال میں آیا ہوں ۔ سسر جی آپکے ہاں داماد کی یہ عزت کی جاتی ہے ۔
اشعر صوفے پر بیٹھ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بولتا ہے
ہاشم اشعر کے اس انداز کو دیکھ کر اندر ہی اندر بیچ تاب کھارہا تھا۔
۔ کیا چاہتے ہو تم ؟ ہاشم دانت
پیس کر بولتا ہے ۔ آپکی کی بربادی اشعر نفرت سے بولتا ہے ۔ کیا مطلب کیا کہنا
چاہتے ہوں؟ ہاشم ناسمجھی سے اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا!
میں یہاں تم کو برباد کرنے آیا ہوں ۔ اشعر آنکھوں میں خون لے ہاشم کی آنکھوں
میں دیکھ کر بولتا ہے ۔ کون ہو تم؟ تمہارا عذاب۔اشعر طنزیہ بولتا ہے
کیا بکواس کررہے ہو ۔ ہاشم بیگ غصے سے بولتا ہے
جاننا چاہتے ہو میں کون ہوں ۔ تم کو یاد ہے بیس سال پہلے اخبار میں ایک خبر
آئی تھی ۔ ایک رونگ نمبر نے ایک شادی شدہ عورت کو بہت تنگ کیا ۔ گھر والے سمجھے
لڑکی قصور وار ہے بدکردار ہے۔
اسکی وجہ سے عورت کو اسکے بھائی نے غیرت میں آکر قتل کردیا ۔
اور سچ سامنے آنے کے بعد خود کو گولی مار کر خودخوشی کرلی ۔
تم یہ واقعہ مجھے کیوں سنا رہے ہوں؟ ہاشم نے گبھرا کر کہا!
کیوں کہ أس بدنصیب عورت کا بیٹا ہوں میں ۔ اشعر نفرت سے بولتا ہے
اور وہ رونگ نمبر والا میرے سامنے کھڑا ہے ۔ اشعر ہاشم کی آنکھوں میں
دیکھ کر بولتا ہے ۔ ہاشم صوفے پر بیٹھ کر رونے لگتا ہے ۔
مجھے معاف کردو ۔ میں نے بس ٹائم پاس کررہا تھا ۔ مجھے نہیں پتا تھا یہ سب
ہوجائے گا ۔ ہاشم بیگ اپنے ہاتھ جوڑ کر بولتا ہے ۔ معاف تم کو ۔ تمہاری وجہ سے
ایک عورت کا ہنستہ بنستا گھر اوجڑ گیا ۔ اسکے کردار پر تمت لگی ۔
اسکے بچوں کو ناجائز کا کہا گیا ۔ اسکو ناحق قتل کردیا گیا ۔
صرف اور صرف تمہاراے أس گھٹیا میسج کی وجہ سے ۔ تم کو کچھ یاد بھی نہیں
تھا تم تو گناہ کرکے بھول گئے تھے ۔ میں سامنے آگیا تو معافی مانگنے لگے ۔
گڈ ۔ اشعر نے ہولناک قہقہہ لگایا ۔ اشعر کی ہنسی سے ہاشم کو خوف آنے لگتا ہے
قصور تمہارا نہیں ہے موت کے فرشتے کو دیکھ کر انسان کو اپنے سارے گناہ
یاد آنے لگتے ہیں ۔ اشعر نے طنزیہ لہجے میں کہا!
“تم جیسے گھٹیا لوگ ہوتے ہوں جس کی وجہ سے لڑکیوں کے گھر برباد ہوتے ہیں
جو لڑکیاں موبائل یوز کرتی ہے، Facebook چلاتی ہیں تم جیسے گھٹیا مرد
أنھیں اپنی جاگیر سمجھتے ہو۔ گھٹیا مسیجز بھیجتے ہوں ۔ بات نہیں
کرنا چاہتی تو کہتے ہو اتنی پارسا بنی پھرتی ہو تو موبائل کیوں یوز کرتی ہوں ۔
اپنی بہن ، بیٹوں پر بات آئے تو کیسے شریف غریت مند بن جاتے ہوں۔
تمہارے ہر گناہ کی سزا تمہاری بیٹی کو بھگتنا پڑے گی۔
جب باپ کی جاگیر میں اولاد کا حصہ ہوتا ہے ۔ گناہ میں کیوں نہیں ۔ “
اشعر کے لہجے میں سانپ کی پنگار تھی ۔ اشعر کی باتیں سن کر ہاشم خوف سے
کاپنے لگتا ہے ۔ نہیں تم میری بیٹی کے ساتھ کچھ برا مت کرو گے میں تم سے رحم
کی بھیگ مانگتا ہوں ۔ ہاشم اشعر کے پاؤں پکڑ کر بولتا ہے ۔ یہی بھیگ میری ماں نے تم سے
مانگی تھی ۔ کہا تھا سب کو آکر سچ بتا دو ۔ تم نے سنی ؟ میں تم کو دنیا کے
سامنے عبرت بنادو گا۔ تاکہ کوئی بھی لڑکا کسی بھی لڑکی کو تنگ کرنے سے پہلے
تمہارا انجام سوچ لیے ۔اشعر ہاشم کے گھر سے نکالتا ہے۔ ہاشم زمین پر بیٹھ کر
رونے لگتا ہے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *