Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01

آیت کا آج یونیورسٹی میں آخری دن تھا ۔ وہ بہت خوش تھی ۔ اسی مہینے میں
آیت کی شادی ہونے والی تھی ۔ آیت کو سب نے مبارکباد دی ۔ آیت اپنی دوستوں
کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔ یار آیت شادی کے بعد ہمیں بھول نہیں جانا
نمرہ چپس کھاتے ہوئے بولتی ہے ۔ ہاں آیت کہی ایسا نا ہو تم زوہیب بھائی کے چکر میں ہم سب کو بھول جاو
سحر بولتی ہے ۔
نہیں یار تم لوگوں تو میری جان ہوں
میں بھلا تم لوگوں کو کیسے بھول سکتی ہوں ۔ آیت دونوں کو اپنے سے لگاتےہوئے بولتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سر، ہاشم کی بیٹی کا پتا چلا گیا ہے ۔ سر یہ اسکی تصویر ہے فراز ٹبیل پر تصویر رکھتا ہے
سر اس لڑکی کا نام آیت ہے سر اس لڑکی کا آج یونیورسٹی میں آخری دن ہے ۔ ایک ہفتے بعد
اس لڑکی کی شادی ہے ۔فراز ہاتھ باندھے کھڑے ہو ئے بولتا ہے
اشعر فائل اسٹیڈی کررہا تھا ۔ نظر اٹھا کر فراز کو دیکھتا ہے ۔وہ پھر فائل کو میز پر رکھتا
ہے اور کرسی سے ٹیک لگتا ہے ۔ تم أس لڑکی کو اوٹھا لو ۔ اشعر کمینگی سے مسکراتےہوئے
بولتا ہے ۔ ٹھیک ہے سر ۔ فراز بولتا ہے۔ اب تم جاسکتے ہوں ۔ اشعر بولتا ہے ۔ فراز چلا جاتا
ہے ۔
نہیں ہاشم تمہاری زندگی میں کوئی خوشی آنے نہیں دوں گا ۔ تمہاری کیے گئے گناہوں کی
سزا تمہاری بیٹی کو اپنے خون کے ہر قطرے سے ادا کرنا ہوگا ۔ ہاشم ویلا میں اب کبھی
خوشی کے گیت نہیں بجے گے ۔ صرف ماتم ہوگا اشعر آیت کی تصویر دیکھ کر نفرت سے بولتا
ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کو ہوش آتا ہے ۔ آیت بڑی مشکل سے اٹھتی ہے ۔ یہ میں کہاں ہوں؟ آیت
ذہن پر زور ڈالتی ہے ۔ آیت یونیورسٹی سے گھر جارہی تھی پیچھے سے کوئی اسکے منہ پر
رومال رکھتا ہے آیت بے ہوش ہوگی تھی ۔ آیت زور زور سے دروازہ بجاتی ہے ۔
مجھے باہر نکالو ۔ مجھے کیوں یہاں کیوں قید کیا ہے ۔ لیکن باہر سے کوئی جواب نہیں آتا
آیت تھک ہار کے نیچے بیٹھ جاتی ہے ۔ بابا اپنی آیت کو بچالے آیت روتے ہوئے بولتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ کب سے گاڑی میں بیٹھ کر آیت کا انتظار کررہے تھے ۔ صاحب آیت بی بی کو
یونیورسٹی سے گئے ہوئے ایک گھنٹے سے زیادہ ہوگیا ڈرائیور یونیورسٹی سے
باہر آکر ہاشم بیگ سے بولتا ہے ۔ ہاشم بیگ پریشان ہو جاتے ہیں ۔ گھر پر فون کرتے ہیں
ہیلو عرشی آیت گھر پر آگی؟ ہاشم فون پر اپنی بیوی سے پوچھا ۔ نہیں ہاشم ابھی
تک نہیں آئی ۔ عرشی پریشانی سے بولتی ہے ۔ کیا اب کیا ہوگا ۔ ہاشم گبھرا کر بولتا ہے
ہاشم پولیس انسپکٹر یاور عباس کو فون ملاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کمرے کا دروازہ کھولتا ہے ۔ آیت گھٹنوں میں سر رکھ کر بیٹھی ہوئی تھی
دروازہ کھولنے کی آواز سن کر سر اٹھا کر دیکھتی ہے ۔ اشعر آنکھوں میں خون لے
اسکو دیکھ رہا تھا ۔ زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ آیت ڈر کر پیچھے ہٹتی ہے
یہاں تک دیوار سے چیپک جاتی ہے ۔ اشعر دیوار پر دونوں ہاتھ رکھ کر آیت کے بھاگنے کا
راستہ بند کردیتا ہے ۔ آیت کو اپنے چہرے پر اشعر کی گرم سانسیں محسوس ہوتی ہے
آیت ہمت کرکے اشعر کی طرف دیکھ کر بولتی ہے ۔ مجھے کیوں اغوا کیا میرا کیا قصور ہے
اشعر آیت کا منہ پکڑ کر بولتا ہے سارا قصور تمہارا ہے ۔ تم اس کمینے شخص کی اولاد ہو
یہ تمہارا قصور ہے ۔ اپنے باپ کے لے یہ الفاظ سن کر آیت غصے سے اشعر کی طرف دیکھ کر
بولتی ہے ۔ زبان سنھبال کر بات کرو ۔ میرا بابا تمہاری طرح گھٹیا نہیں ہے ۔ تم نے
کیوں مجھے اغوا کیا ہے ۔ ایک ہفتے بعد میری شادی ہے۔ تم میرے بابا کو
جانتے نہیں ہو اگر انہیں پتا چل گیا تو تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گے
آیت کی بات سن اشعر ہسنتا ہوا پیچھے ہوتا ہے ۔ یہی تو چاہتا ہوں میں،
تمہارے باپ کو پتا چلے جب اپنی بیٹی کی عزت پر بات آجائے تو کیسا لگتا ہے
اشعر نفرت سے بولتا ہے ۔ اشعر کی بات سن کر آیت کے جسم میں سنسنی کی لہر دوڑتی ہے
اسکو اشعر سے خوف آنے لگتا ہے ۔ پیلز مجھے جانے دو ۔ میری شادی ہونے والی ہے
میرا بابا کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہے گے ۔ آیت ہاتھ جوڑتے ہوئے بولتی ہے
اشعر کچھ نہیں بولتا گیٹ بند کرکے باہر چلے جاتاہے ۔ آیت زمین پر بیٹھ کر رونے لگتی ہے
پیلز دروازہ کھولو، پیلز دروازہ کھولو ۔ میں بے قصور ہوں
مجھے جانے دو، میرے بابا میرا انتظار کرے ہونگے ۔ تم کو اللہ کا واسطہ
آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔ وہ مسلسل دروازہ بجا رہی تھی ۔ لیکن
اشعر کے کان اسکی فریاد سنے سے انکاری تھے ۔ وہ اشعر جو کسی معمولی سی
تکلیف سے تڑپ اٹھتا تھا ۔ وہ ایک نازک سی لڑکی کو اسکے باپ کے گناہوں
کی سزا دے رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ ملک کے نامور بسنیس مین ہیں ۔ ہاشم بیگ کی تین بچے ہیں ۔ بڑی بیٹی
آیت دوسرے بیٹی ارم جو کالج میں پڑھ رہی ہے ۔ چھوٹا بیٹا اسد جو نویں جماعت
کا طالب علم ہے۔ ہاشم بیگ بہت پریشان تھے ۔ پولیس ہر جگہ آیت کو ڈھونڈ رہی تھی
آیت کو لاپتہ ہوئے چار گھنٹے ہوگے تھے ۔ آیت کے لاپتہ ہونے کی خبر آیت کے
سسرال کو بھی ہوگی تھی ۔ وہ لوگ ہاشم ویلا میں موجود تھے ۔ ہاشم صاحب
اگر آپکی بیٹی کو یہ شادی نہیں کرنی تھی تو آپ ہمیں پہلے بتا دیتے ۔ روبینہ
غصے سے بولتی ہے ۔ روبینہ کی بات سن کر ہاشم کو بہت غصہ آتا ہے لیکن وہ ضبط
کرتے ہیں ۔ نہیں روبینہ ہماری آیت اس رشتے سے بہت خوش تھی۔ عرشی بولتی ہے
مجھے تو یہی لگتا ہے ہماری آیت کسی نے اغوا کرلیا ہے۔ اماں بی بولتی ہے
کیا اغوا زوہیب پریشانی سے بولتا ہے ۔ آپ کے پاس اغوا کاروں کا فون آیا تھا؟
وحید ارشد نے پوچھا ۔ نہیں ابھی کسی کا فون نہیں آیا ۔ اماں بی بولتی ہے
تو آپ کو کیسے پتا وہ کیڈنیپ ہوئی ہے ہوسکتا ہے وہ کسی کے ساتھ بھاگ گی ہوں
روبینہ نے زبان سے زہر اگلا ۔ کیا بکواس کررہی ہے آپ؟ ہاشم کے برداشت کا
پیمانہ لبریز ہو گیا تھا وہ غصے سے بولتا ہے ۔ نہیں انکل آپ خفا نا ہو ماما کا یہ
مطلب نہیں تھا ۔ زوہیب بولتا ہے ۔ زوہیب کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہاشم نےکہا
وحید ارشد بہتر ہوگا آپ لوگ ابھی اسی وقت یہاں سے چلے جائے مجھے اپنی بیٹی
پر پورا بھروسہ ہے وہ کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے اسکے باپ کا
سر شرم سے جھکے ۔ چلوں یہاں سے بیگم بہت ہوگئی ہماری بے عزتی وحید ارشد
غصے سے بولتا ہے ۔ وہ سب منہ بنا کر ہاشم ویلا سے چلے جاتے ہیں ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کمرے کا جائزہ لیتی ہے ۔ کمرے کی کھڑکی اتنی جام تھی کھول نہیں رہی تھی ۔
باہر نکلنے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا ۔ اتنے میں دروازہ کھولتا ہے ۔ ملازم
کمرے میں کھانے کی ٹرے لاتا ہے ۔ ٹرے کو زمین پر رکھ کر خاموشی سے باہر چلاجاتاہے
آیت کا دل چاہتا ہے وہ کھانا اٹھا کر باہر پھینک دے ۔ مجھے یہ کھانا نہیں کھانا
مجھے گھر جانا ہے جاکر بول دو اپنے صاحب سے۔ آیت چیخ کر بولتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت سے ملنے کے بعد اشعر اپنے روم میں آجاتا ہے ۔ دیوار پر ہاشم کی تصویر لگی
ہوئی تھی ۔ ہاشم کی تصویر پر تیر لگا ہوا تھا ۔ اشعر ہاشم کی تصویر کو
غور سے دیکھتا ہے ۔ تم نے سب کچھ چیھین لیا مجھ سے ۔ اب میں بھی تم سے
سب چھین لوں گا ۔ تمہاری ہر خوشی کو غم میں بدل دوں گا ۔ کتنی معصوم ہے نا
تمہاری بیٹی ۔ لیکن معصوم میں بھی تھا کسی نے میری پرواہ کی نہیں نا
میرا کیا قصور تھا؟ میرا تو کوئی قصور نہیں تھا ۔ پھر بھی تمہارے گناہوں کی
سزا مجھے ملی ۔ خون کے آنسو روگے تم ہاشم بیگ ۔ اشعر کے لہجے میں سانپ کی پنگار تھی
اشعر کا فون بجنے لگتا ہے ۔ اشعر کال پیک کرتا ہے ۔ ہیلو جی بھائی کی جان
میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ ہماری بیٹی کیسی ہے ۔ فون پر بات کرنے والا اشعر کہی سے
غصہ کرنے والا اشعر نہیں لگ رہا تھا ۔ اتنےمیں ملازم دستک دیتا ہے ۔ اچھا میں تم سے بعد
میں بعد کرتا ہوں ۔ اشعر فون پر اپنی بہن سے بولتا ہے۔ اندر آجاو ۔ اشعر نوکر سے بولتا ہے
سر وہ لڑکی نے کھانا کھانے سے انکار کردیا ۔ ملازم بولتا ہے ۔ ٹھیک ہے تم جاو میں دیکھتا
اشعر بولتا ہے ۔ ملازم سر ہلا کر کمرے سے نکل گیا، کیوں تم میرے غصے کو ہوا دے رہی ہوں
اشعر غصے سے بولتا ہے ۔ اور پھر کمرے کا رخ کرتا ہے جہاں آیت کو بند کر کے رکھا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت روتے ہوئے اللہ سے اپنی رہائی کی دعا کررہی تھی ۔ اتنے میں دروازہ کھولتا ہے
اشعر غصے سے اندر آتا ہے ۔ اشعر کے تیور دیکھ کر آیت گبھرا جاتی ہے ۔
اشعر آیت کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا ہے ۔ تم کو کیا لگتا ہے تم کھانا نہیں کھاو
گی تو میں تم پر ترس کھا کر تم کو چھوڑ دوں گا ۔ نہیں میں ہرگز ایسا نہیں
کروں گا سمجھی ۔ شرافت سے کھانا کھاؤ ۔ اشعر غصے سے بولتا ہے ۔ اور ایک
جھٹکے سے آیت کو چھوڑ تا ہے آیت بیڈ پر جا کر گرتی ہے ۔ سکینہ سکینہ
اشعر اپنی ملازمہ کو آواز دیتا ہے ۔ نوکرنی گبھرا کر آتی ہے جی جی صاحب جی
تم اس لڑکی کو کھانا کھالو ۔ نہیں کھائے تو مجھے بتانا میں پھر نلکیوں کے
ذریعے اسکو خوراک دوں گا ۔ اشعر ایک نظر آیت پر ڈال کر بولتا ہے اور پھر کمرے سے
چلے جاتا ہے ۔ آیت بیڈ پر لیٹے رونے لگتی ہے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *