Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22

اظہر کی حالت بہت نازک ہے بیٹا تم اریشہ کو لئے آؤ اور اشعر کو بھی فون کردو
حمیدہ تسبیح پڑھتے ہوئے کہا ۔ ٹھیک اماں فرمان اشعر کو فون کرتا ہے لیکن وہ
ریسف نہیں کر رہا تھا ۔ فرمان پھر ارسلان کو فون ملاتا ہے ۔
ہیلو ہاں فرمان بولو۔ ارسلان گاڑی ڈرئیف کرتے ہوئے کہا ۔ کیا ٹھیک ہے میں ماما کے ساتھ
اشعر کی طرف جارہا ہوں میں أسکو لئے کہ پہنچتا ہوں ۔ ارسلان نے پریشانی سے بولا۔
کیا ہوا ارسلان سب خیریت ہے؟ ارفع افتخار اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
کچھ ٹھیک نہیں ماما اشعر کے والد کی حالت سیریز ہے انکو کینسر ہے وہ بھی لاسٹ ائسٹج
پر۔ ڈاکٹر نے کہا اب انکے پاس زیادہ وقت نہیں کبھی بھی موت واقع ہوسکتی ہے
جلدی سے أنکے بچوں کو بلا لیے ارسلان فون بند کرکے گہری سانس لیے کہ بولا
اللہ رحم کرے ارفع پریشانی سے بولی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ فرمان کے ساتھ ہاسپٹل آگئی تھی ۔ اریشہ ایمرجنسی روم میں اظہر نذیر سے ملنے
آئی ۔ پاپا اریشہ نم آواز سے اظہر کو مشینوں میں گیرا دیکھ کے بولی ۔ اظہر اریشہ کی
آواز سن کے آنکھیں کھولتا ہے ۔ اریشہ مجھے معاف کردو اظہر اپنے ہاتھ اٹھانے کی
کوشش کرتا ہے لیکن ڈریپ لگی ہونے کی وجہ سے اٹھا نہیں پا رہا تھا ۔
پاپا میں نے آپکو معاف کردیا، بیٹیاں ہوتی ایسی ہے نازک سا دل رکھنے والی اپنے
باپ کی آنکھوں میں کوئی بیٹی آنسو برداشت نہیں کرسکتی جو کچھ اظہر نے کیا
اسکی قدرت نے اشعر کو سزا دیدی ۔ اریشہ اظہر کے سینے سے لگ کے رونے لگتی ہے
باپ کی شفقت پاکے اریشہ کو لگا کہ وہ چھاؤں میں آگی ہے ۔ اظہر بھی آنسوؤں سے
رورہا تھا ۔ اشعر نہیں آیا؟ اظہر نذیر نے پوچھا ۔ اریشہ فرمان کی طرف سوالیہ
نظروں سے دیکھتی ہے ۔ ماموں وہ راستے میں ہے آنے والا ہے فرمان ہچکچاتے ہوئے کہا
فرمان مسلسل اشعر کو فون کر رہا تھا لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر ارسلان اشعر کو آواز دیتے ہوئے اشعر پیلس میں داخل ہوا ۔ اشعر کے نوکر ارسلان کا
راستہ روک لیتے ہیں سر آپ اندر نہیں جاسکتے سر نے کسی کو اندر آنے سے منع کیا ہے
(ملازم)حشمت اللہ نے کہا ۔ میں جارہا ہوں ہٹو سامنے سے میں خود دیکھتا ہوں
تمہارے مالک کو ۔ ارسلان غصے سے بولتا ہوا سیڑھی کی طرف بڑھتا ہے
پیچھے سے ارفع بھی آجاتی ہے ۔
ارسلان اشعر کے کمرے میں قدم رکھتا ہے اشعر کا کمرہ پورا پھیلا ہوا تھا ۔ پورے کمرے
میں کانچ بکھرے ہوئے تھے ۔ اشعر خود بیڈ پر لیٹتا تھا ۔ ارسلان افسوس کی نگاہ
اشعر پر ڈالتا ہے ۔ اشعر یہ کیا کمرے کا حال بنا کے رکھا ہے ۔ ارفع غصے سے بولی
اشعر ارفع کی آواز سن کے پیچھے موڑ کے دیکھتا ہے اور جلدی سے بیڈ پر سے کھڑا
ہوا ۔ آنٹی آپ یہاں ؟ اشعر حیرت سے کہا ۔ اشعر تم میرے ساتھ ہاسپٹل چلوں تمہارے
پاپا کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔ ارسلان اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ دیکھو
ارسلان مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی اور میرا أس شخص کو
کوئی تعلق نہیں اشعر ہنکار بھرتے ہوئے کہا ۔ اشعر یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تم ایسے تو نہیں
تھے وہ جیسے بھی ہے تمہارے باپ ہے ۔ اور اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیے رہے ہیں
ارفع اشعر کو ڈانٹتے ہوئے بولی۔ کیا اشعر سنجیدگی سے بولا۔ اب تم جلدی چلو
ایسا نہ ہو تمہارے پاس صرف پچھتاو رہ جائے ارسلان نے کہا ۔ لیکن میں ان سے نہیں
ملنا چاہتا جب وہ کہاں تھے مجھے انکی ضرورت تھی ۔ ویسے بھی وہ میرے لیے پہلے
مر چکے ہیں اب أنکے ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اشعر
جنونی انداز میں کہا ۔ اشعر آج تمہاری ماں زندہ ہوتی تو کب کا تمہارے والد کو
معاف کرچکی ہوتی ۔ اشعر اتنے سنگ دل نا بناؤ ۔ وہ بستر مرگ پر ہے
تم کو پکار رہے ہیں ۔ اپنی ماں کی خاطر چل لوں، تم میری بات نہیں مانو گے
کیا میں تمہاری ماں نہیں ہو ؟ ارفع اداسی سے کہا ۔ آنٹی ایسا مت بولے
اشعر تڑپ کے بولا ۔ چلوں ارسلان یہاں سے یہ فیصلہ کرچکا ہے ارفع اشعر کو
نظر انداز کرتے ہوئے کہا ۔ روک جائے میں چلتا ہوں اشعر ہار مانتے ہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر ارسلان کے ساتھ ہاسپٹل پہنچتا ہے ۔ اشعر ایمرجنسی روم میں اظہر سے ملنے گیا
اریشہ پہلے سے اظہر کے پاس بیٹھی تھی ۔ اشعر آہستہ آہستہ قدم أٹھاکے
اظہر کے پاس جاکے کھڑے ہوگیا ۔ اظہر اشعر کو دیکھ کے اپنے سینے سے لگانے کے لئے
اٹھنا چاہا لیکن کمزوری کی وجہ سے اٹھ نہیں سکا ۔ اشعر مجھے معاف کردوں
میں تمہارا گنہگار ہو اظہر روتے ہوئے بولا۔ اشعر اپنے باپ سے نفرت ضرور کرتا تھا
لیکن اپنے باپ کو ایسی حالت میں دیکھ نہیں پاہ رہا تھا ۔ اشعر آنکھوں میں آنسو
لئے اظہر کو دیکھ رہا تھا پھر آگے بڑھ کے اشعر اظہر کے سینے سے لگ گیا
اشعر کے سر پر اظہر اپنا کپکپتا ہوا ہاتھ رکھا ۔ اشعر بچوں کی طرح رو رہا تھا
میں نے آپکو معاف کردیا پاپا ۔ اشعر کے منہ سے الفاظ سنے کے اظہر کا دم نکل گیا
اظہر کا ہاتھ ایک طرف گر گیا ۔ اشعر روتے ہوئے سر اٹھا کے دیکھتا ہے
ہارٹ کی لائن سیدھی چل رہی تھی ۔ پاپا اریشہ زور سے چیختی ہے ۔ اتنے میں ڈاکٹر اندر آتے
ہیں ۔ اشعر سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھتا ہے ۔ سوری ہی از نو مور
ڈاکٹر بول کے چلے جاتے ہیں ۔ اریشہ زور زور سے رونے لگتی ہے ۔ اشعر اپنی آنسو
ضبط کرتا ہوا اریشہ کو سنھبالتا ہے ۔ بھائی پاپا ہمیں چھوڑ کے چلے گئے
اریشہ روتے ہوئے بولی ۔ اشعر اریشہ کو خود سے لگا کے چپ کرتا ہے اور اظہر کی آنکھیں
بند کرتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اظہر کی تدفین کے بعد اشعر بنا کسی کو بتائیے یورپ چلا گیا تھا ۔
اشعر کے جانے کے بارے میں کسی کو نہیں پتا تھا ۔ آیت اریشہ کو سنھبال رہی تھی
آیت نے پورے گھر سنھبال ہوا تھا ۔ جو تعزیت کے آرہے تھے سب سے آیت مل رہی تھی
آیت اشعر کو فون ملاتی ہے لیکن اشعر کا نمبر بند جارہا تھا ۔ آیت تم یہی روک جاؤ
تمہاری یہاں ضرورت ہے نمرہ نے کہا ۔ ہاں، مجھے پتا ہے ۔ ارسلان بھائی آیت نمرہ سے
بات کرتے ہوئے ارسلان کو آواز دیتی ہے جو کچھ غصے میں نظر آرہا تھا
ارسلان آیت کے پاس آیا جی بھابھی ۔ ارسلان بھائی اشعر کا کچھ پتا ہے وہ کہاں ہے
آیت پریشانی سے پوچھا ۔ بھابھی وہ یورپ چلا گیا ہے ارسلان اپنے غصے کو کنٹرول
کرتے ہوئے کہا ۔ کیا آیت کو یہ سنکے شوک لگا ۔ ارسلان آیت کو پریشان چھوڑ کے چلا گیا
اشعر ایسے کیسے کسی بنا بتائے چلے گئے ۔ آیت خود سے سوال کرتی ہے ۔ کیا اشعر
ہمارے درمیان اتنی دوریاں آگی ہے ۔ آیت سوچتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر تم یورپ کیوں چلے گئے؟ ارفع پریشانی سے اشعر سے فون پر بات کرتے ہوئے پوچھا
آنٹی میں نہیں چاہتا تھا کوئی آکے مجھ سے کہہ میرا باپ مرگیا ۔ اشعر روتے ہوئے بولا
اشعر میری جان ارفع کا دل بھر آیا ۔ آنٹی میرے میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں
سب سے مل سکتا ۔ اشعر کسی چھوٹے بچے کی طرح ڈرتے ہوئے بولا ۔
اشعر فون بند کردیتا ہے ۔ ارفع گری سانس لیتی ہے،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اظہر کو گزرے ہوئے ایک سال ہوگیا تھا ۔ اشعر نے ان ایک سال میں کسی سے رابطہ نہیں
رکھا ۔ ارم ارسلان کے ہاں پیارا سا بیٹا ہوا تھا۔ جسکا نام ارم نے اسد رکھا تھا ۔
ارم کو اسکی آنکھیں اسد سے ملتی جلتی لگی ۔ سب بہت خوش تھے ۔
آیت عرفانہ کے ساتھ رہ رہی تھی ۔ نمرہ کی شادی شرجیل سے ہوگی تھی ۔
اریشہ اور فرمان کے ہاں جڑواں بیٹیاں ہوئی تھی ۔ جس میں سے ایک ہاتھ بچپن میں ارسلان
نے اپنے بیٹے کے لیے مانگ لیا تھا ۔ان ایک سال میں بہت کچھ بدل گیا تھا ۔
انعم کی شادی امجد سے ہوگی تھی ۔ امجد کے ہاں بیٹی ہوئی تھی ۔ انعم امجد کے ساتھ
خوش تھی ۔ علیشا نے سیلائی سینڑ کھول لیا تھا ۔ جس میں غریب لڑکیوں کو
مفت میں سیلائی سکھاتی تھی۔ حذیفہ بہت بدل گیا تھا ۔ اب وہ اشعر سے
حسد و بغض نہیں رکھتا تھا ۔ حذیفہ اپنے ماں باپ کو عمرہ کرانے لے گیا تھا
حذیفہ اب اشعر کی طرح ایک کامیاب بسنیس مین بن گیا تھا ۔
پروین کو رہنے کے لئے عرفانہ نے اپنے گھر میں جگہ دیدی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مختار اور سلمہ کے عمرے کے واپس آگے تھے۔ انکی دعوت عرفانہ بیگم نے رکھی تھی
سب افراد اس دعوت میں شریک تھے ۔ ارسلان اپنی فیملی کے ساتھ آگیا تھا
اریشہ اور حمیدہ پہلے سے آگی تھی ۔ فرمان اپنے ہاسپٹل سے جلدی فارغ ہوکے آگیا تھا
انعم امجد کے ساتھ آئی تھی ۔ سجاول خان اور علیشا بھی دعوت میں شریک تھے
آیت نے سارا انتظام سنھبال تھا۔ اشعر کے جانے کے بعد آیت بہت کمزور ہوگی تھی ۔
آیت اب پہلی والی آیت نہیں لگتی تھی ۔ بھابھی گھر میں اتنے ملازم ہیں پھر بھی
آپ اتنا کام کررہی ہے کچھ انھیں بھی کرنے دے اریشہ آیت کو بریانی دم پر رکھتے ہوئے
دیکھے کہ بولی ۔ اریشو کیا ہوا ویسے بھی میں سارا دن بور ہوتی رہتی ہوں
کام تو ویسے بھی تھوڑا تھا ہوگیا ۔ آیت مسکراتےہوئے بولی ۔
بھابھی جاکے کپڑے چینچ کرلیے آپ نے تو تیار ہونا چھوڑ دیا اریشہ آیت کے سادہ سا
کوٹن کے سوٹ میں دیکھا کے بولی ۔ کس کیلے تیار ہو؟ اریشہ عورت تو اپنے شوہر
کے لیے تیار ہوتی ہے نا آیت تلخی سے بولی ۔ بھابھی سوری میرا مقصد آپکو ہڑٹ کرنا نہیں
تھا اریشہ اداسی سے بولی ۔ کوئی بات نہیں آیت کچن سے نکلتے ہوئے بولی آیت کو
چلتے ہوئے چکر آنے لگتے ہیں ۔ بھابھی آپ ٹھیک تو ہے؟ اریشہ جلدی سے آیت کو پکڑ کے
بولی۔ ہاں میں ٹھیک ہوں پتا نہیں کیوں صبح سے چکر آرہے ہیں آیت بولتی ہوئی
بیسن کی طرف بھاگی ۔ اریشہ یہ دیکھتے ہوئے مسکرائی اب تو بھائی کو واپس آنا
پڑے گا ۔ اریشہ خوش ہوکے بولی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *