Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20
ڈاکٹر صاحب نرس ایمرجنسی روم سے بھاگتی ہوئی آئی ۔ کیا ہوا سسٹر؟ ڈاکٹر صاحب
پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے ۔ سب کے چہرے پر اطمینان آجاتا ہے ۔ ڈاکٹر اشعر کو چیک
کرنے ایمرجنسی روم میں جاتے ہیں ۔ آیت اریشہ کے گلے خوشی سے لگ گی ۔
مبارک ہو پیشنٹ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ۔ لیکن کمزوری بہت ہے۔ ڈاکٹر ایمرجنسی
روم سے باہر آکے بولے ۔ شکریہ ڈاکٹر صاحب فرمان آنکھوں میں آنسو لئے ڈاکٹر کے
خوشی سے گلے لگتے ہوئے کہا ۔ ڈاکٹر فرمان کی پیٹھ تپتا کے چلے جاتے ہیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کی حالت پہلے سے بہتر تھی ۔ اشعر کو وراڈ میں شفیٹ کردیا تھا ۔ سب گھر والے
جنرل وراڈ میں جمع تھے ۔ اشعر تم نے ہمیں ڈرا دیا تھا ۔ ارسلان نے اشعر کے کندھے
پہ ہاتھ رکھے کہا ۔ اشعر چادر اوڑھے لیٹا تھا ۔ اشعر کمزوری کی وجہ سے بیٹھے
نہیں جارہا تھا ۔ ارسلان اور فرمان اشعر کو تکیہ سے ٹیک لگاتے ہوئے بیٹھاتےہیں ۔
اشعر ارسلان کی بات پر مسکراتا ہے ۔ اشعر سجاول خان اسپتال تم سے ملنے
آیا تھا ۔ أس نے کیس واپس لے لیا ہے ۔ اور میڈیا میں جاکے سب کے سامنے معافی
بھی مانگی ۔ علیشا کے ساتھ کسی اور نہیں حذیفہ نے یہ سب کیا تھا ۔
فرمان نے کہا ۔ کیا اشعر حیرت اور دکھ سے بولا ۔ اتنے میں اریشہ روتے ہوئے اشعر کے سینے
سے لگ جاتی ہے بھائی اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو اریشہ ادھوری بات چھوڑ کے پھر سے رونے
لگتی ہے اریشہ اشعر ابھی زخمی ہے پیچھے ہٹو أسکو درد ہورہا ہے فرمان اریشہ کو ڈانٹتے
ہوئے بولا سوری بھائی اریشہ اپنی حرکت کا احساس ہوا تو شرمندگی سے بولی ۔ کوئی بات
نہیں اشعر پیار سے بولا۔ چلوں سب باہر بہت باتیں کرلی سب نے اب اشعر کو آرام کرنے دو
حمیدہ سب سے کہا تاکہ آیت اشعر سے بات کرسکے وہ سب سے پیچھے کھڑی تھی
سب وارڈ سے باہر نکل گئے تھے ۔ بس آیت وراڈ میں تھی۔ آیت آہستہ آہستہ
چلتے ہوئے اشعر کے پاس آئی ۔ اشعر ایم سوری مجھے معاف کردے مجھے آپکا
یقین کرنا چاہیے تھا ۔ آیت روتے ہوئے بولی ۔ اشعر تلخی سے مسکرایا ۔ کیا بات ہے
آیت جب دوسروں نے میرے کردار کی گواہی دی جب تمہیں یقین آیا۔
اشعر نے طنز کیا۔ اشعر پیلز مجھے معاف کردے آپکی بے رخی میں برداشت نہیں
کرسکتی آیت تڑپ کے بولی ۔ بس کردو آیت یہ تمہارے نقلی آنسوؤں سے مجھے کوئی
فرق نہیں پڑتا ۔ اور کیوں یقین کرو میں تمہارا؟ اور اب تمہاری اس معافی کا
میں کیا کروں؟ تم نے میری أس وقت ایک نہیں سنی ۔ اب جب سارا سچ سامنے آگیا
تو تم معافی مانگنے لگی ۔ اشعر غصے سے پھٹ پڑا ۔ آیت سسکیوں سے رونے لگی
پیلز آیت جاؤ یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ اشعر کوفت سے کہا ۔ اشعر اتنے سنگ دل نا
بنے ۔ میں مانتی ہوں مجھے آپکی سنی چاہیے تھی ۔ مجھے انعم کی باتوں میں نہیں
آنا چاہیے تھا ۔ اشعر مجھے خود سے دور نا کرے آیت اشعر کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں
تھام کے بولی ۔ اشعر آیت سے اپنا ہاتھ چھڑا لیتا ہے ۔ آیت جاؤ یہاں سے تمہاری ان سب
باتوں سے مجھے کوئی بھی فرق نہیں پڑنے والا ۔ اب جاؤ یہاں سے میرا سر درد
کے مارے پھٹ رہا ہے تم مجھے آرام کرنے دو اشعر تلخی سے بولا۔ اور
ویسے بھی ان آنسوؤں کو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں میں آگر مرجاتا تو کچھ کام بھی
آجاتے اشعر طنزیہ لہجے میں کہا ۔ اللہ نا کرے آپکو کچھ ہو ایسا مت بولے ۔آیت
اشعر کے منہ پر ہاتھ رکھ کے تڑپ کے بولی ۔ یار تم ڈرامہ اچھا کرلیتی ہو
اشعر آیت کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹاکے بولا۔ آیت بے بسی سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے
آپ کو میری محبت ڈرامہ لگ رہی ہے؟ آیت اشعر کی طرف شکوہ نظروں سے دیکھتے
ہوئے کہا ۔ آیت میں تم سے مزید بحث نہیں کرنا چاہتا اب پیلز چلے جاؤ مجھے
آرام کرنے دو اشعر بے زاری سے بولا۔ آیت روتے ہوئے باہر جانے لگی اور ہاں اب دوبارہ
یہاں مت آنا ۔ مجھے تمہاری ضرورت نہیں اشعر پیچھے سے بولا آیت بنا موڑے
چلی جاتی ہے ۔ اشعر تکیہ پر سر رکھ کے آنکھیں موند لیتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سلمہ مسعود کا تپھڑ کی آواز پورے گھر میں گونج اٹھی۔ حذیفہ بے یقینی سے اپنے گال پر
ہاتھ رکھے اپنی ماں کی طرف دیکھتا ہے ۔ مختار حیرت سے یہ سب دیکھتے ہیں ۔
حذیفہ تم نے آج یہ ثابت کردیا کہ تربیت سب کچھ ہوتی ہے خون سے کچھ نہیں ہوتا
میں نے ہمیشہ اپنی دولت پیسے پر ناز کیا اپنے خون پر اپنی اولاد ہمیشہ غرور کیا
لیکن وہ اشعر جس کو میں اپنے قابل نہیں سمجھتی تھی أس نے یہ ثابت کردیا
کہ خون اور دولت سے کوئی بڑا نہیں ہوتا اچھی تربیت اور اچھے اخلاق انسان
کو بڑے بناتے ہیں ۔ اشعر تم لاکھ گنا بہتر نکلا۔ تمہاری ایسی تربیت نہیں کی تھی
کیا میں نے تم سکھایا تھا کہ تم جاکے کسی لڑکی کے جذبات سے کھیلو؟
تم اشعر سے اتنا حسد کرتے تھے ۔ آپکو یہ سب کیسے پتا؟ حذیفہ نے حیرت سے پوچھا
جب تم اپنے باپ کو اپنے کارنامے سنا رہے تھے تبھی میں نے تمہاری باتیں سن لی تھی ۔
ماما اشعر نے سب کچھ چھین لیا مجھ
سے حذیفہ چیختے ہوئے کہا ۔ اور آپ نے پہلی بار مجھ پہ ہاتھ اٹھایا وہ بھی اشعر
کی وجہ سے؟ حذیفہ روتے ہوئے بولا ۔ مجھے یہ تپھڑ کاش تمہیں پہلے ہی مار دینا
چاہیے تھا ۔ سلمہ ہارے ہوئے لہجے میں بولی ۔ کیا چھین لیا تم سے؟ تمہارے دوست؟ جو
کبھی تمہارے تھے نہیں جنہوں نے تم سے دوستی صرف پیسوں کی خاطر کی۔
یا students of the year کی ٹرافی جو کوئی انسان محنت اور قابلیت سے جیتا ہے
یہ کوئی فلم نہیں جو انسان ناچ گاکے جیت لیے یہاں محنت کرنی پڑتی ہے
اشعر کے پاس قابلیت تھی ۔ أس نے محنت کی تو أسکو یہ ٹرافی ملی
تم کو پڑھنا دور کی بات اپنے دوستوں سے فرصت ملتی تو تم کبھی کتاب کھول کے
کچھ پڑھتے ۔ زندگی کے ہر موڑ پر أسکو تم نے نیچا دیکھانے کی کوشش کی
سچ تو یہ ہے تم نے اشعر سے ہر چیز چھینی ہے ۔ أس نے تم سے کچھ نہیں
چھینا۔ انسان اپنے آپکو قابل خود بناتا ہے وراثت میں کسی کو قابلیت نہیں ملتی ۔
اشعر اگر چاہتا نا تو تمہاری ہر بدتمیزی کا جواب دے سکتا تھا لیکن اشعر نے ہمیشہ
تمہارے باپ کی وجہ سے تمہارا لحاظ کیا ۔ ورنہ زبان وہ بھی رکھتا ہے ۔
“”حذیفہ حسد انسان کو ایسے کھاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے “”۔
سلمہ بے بسی سے کہا ۔ ماما مجھے معاف کردے میں علیشا سے بہت محبت کرتا ہوں
میں نے علیشا سے بہت محبت کی لیکن علیشا نے میری محبت کو ٹھکرا دیا تھا
اشعر کی وجہ سے علیشا اشعر کو پسند کرتی ہے ۔ مجھے یہ سب برداشت نہیں
ہوا میں نے اشعر سے انتقام لینے کا فیصلہ کیا ۔ میں نے سوچا کہ علیشا اگر
میری نہیں ہوگی تو میں علیشا کو کسی کا بھی ہونے نہیں دوں گا ۔
حذیفہ شرم سے سر جھکا کے بولا۔ بہت خوب بیٹا ! وہ تمہاری جاگیر ہے؟ کیا تم نے
أسکو خرید لیا تھا؟ یہ کہاں لکھا ہے تم جس سے محبت کرو أسکو زمانے کے
سامنے رسوا کرو؟ قرآن پاک میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
“اور عورتوں کے معاملے سے اللہ سے ڈرو “
تم اللہ سے ڈرے ؟ یہ آج کل نوجوان لڑکوں کیا ہوگیا ہے؟ لڑکی اگر راضی نہیں ہے
تو اغوا کرکے شادی کرلو یا نا مانے ریپ کردو تاکہ کسی کو منہ دیکھانے کے قابل
نہیں رہے یا چہرے پر تیزاب پھینک دو۔ پھر جب لڑکیوں کی زندگی سے کھیل لیتے
ہو انھیں برباد کردیتے ہو ۔ پھر وہ ہی قدرت تمہاری بہن اور بیٹی کی صورت میں
تمہارے گناہ سامنے لاتی ہے تو روتے کیوں ہو کیوں اللہ سے گلے شکوے کرنے لگتے ہوں
تم کو پتا ہے جو نکاح زبردستی کیا جاتا ہے اسلام میں أس نکاح کی کوئی اہمیت نہیں
ہوتی ۔ لڑکی کی مرضی کے بنا وہ نکاح باطل ہے ۔ جب ہمارے رب نے ایک عورت کو
خود فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے پھر تم کون ہوتے ہو اس پر زبردستی اپنا
رشتہ تھوپنے والے ۔
” آج کل مرد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جیسی بیوی تو چاہتے ہیں لیکن
حضرت علی رضی تعالٰی اللہ عنہ جیسے شوہر نہیں بن سکتے ۔ پہلے علی جیسا شوہر
بناؤ پھر فاطمہ جیسی عورت کی ڈائمنڈ کرو
تم نے جو کچھ علیشا کے ساتھ کیا کل کو تمہاری بیٹی کے ساتھ کوئی لڑکا یہ سب کرے گا
تو رونا مت غریت مند بن کے کھڑے مت ہونا ۔ سلمہ طنز کرتے ہوئے بولی ۔ ماما بس کردے
میں واقعی میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں ۔ حذیفہ سلمہ کے قدموں میں بیٹھ کے
بولا ۔ نہیں حذیفہ تم نے مجھے اللہ کے سامنے اور اپنے باپ کے سامنے شرمندہ کردیا
غلطی میری بھی تھی میں نے پیسے دولت کو ترجیح دی میں نے غرور کیا
لیکن میں بھول گئی تھی اللہ کو غرور کرنے والے پسند نہیں وہ غرور کرنے والوں کو
پسند نہیں کرتا ۔ میں نے اشعر سے مقابلے کے چکر میں تمہاری تربیت میں مجھ سے
کمی رہ گئی میں نے تمہیں عورتوں کو عزت دینا نہیں سکھایا ۔ ساری غلطی
میری ہے تمہارے باپ نے مجھے کتنا سمجھایا تھا تم کو بے جا لاڈ پیار نہیں
دوں تم بگڑ جاؤ گے لیکن میں نے ایک نا سنی اور اب اسکا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے
سلمہ روتے ہوئے کہا ۔ ماما میں سب ٹھیک کردو گا پیلز مجھے ایک موقع دے
میں اشعر سے بھی معافی مانگ لوں گا ۔ پیلز آپ خود کو قصور وار مت ٹھہرائے
حذیفہ نے روتے ہوئے کہا ۔ سلمہ مسعود حذیفہ کو نظر انداز کرتے ہوئے صوفے سے کھڑے
ہوئی آپ میرے ساتھ اسپتال چلے اشعر کو ہوش آگیا ہے سلمہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے
مختار مسعود سے کہا ۔ ہاں ٹھیک ہے بیگم چلے مختار مسعود نے خوشی سے کہا
پھر دونوں اشعر سے ملنے اسپتال کے لے نکلتے ہیں ۔ دونوں کے جانے کے بعد
حذیفہ شرجیل کو فون کرتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان گھر کے اندر جیسے ہئ قدم رکھتا ہے ارم جلدی سے ارسلان کے پاس آئی اشعر بھائی
کیسے ہیں؟ اب خطرے کی کوئی بات تو نہیں ہے؟ ارم پریشانی سے سوالات کرنا شروع
ہوجاتی ہے ۔ ارم وہ بالکل ٹھیک ہے پریشانی کی کوئی بات نہیں ۔ ارسلان ارم کو
بازو سے پکڑ کے بولا ۔ اللہ کا شکر ہے ۔ اور آپ نے کچھ کھایا؟ ارم ریلکس ہوکے پوچھا
نہیں یار کل سے بھوکا ہوں کچھ کھانے کا موقع نہیں ملا ۔ ارسلان صوفے سے
ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔ اچھا آپ جلدی سے فریش ہوجائے میں کھانا لگاتی ہوں ارم
کچن کی طرف بڑھتی ہوئے کہا ۔ ارم ماما کہاں ہے؟ ارسلان نے پیچھے سے سوال کیا
وہ آنٹی نے اشعر بھائی کے لیے منت مانگی تھی کہ وہ غریبوں کے راشن دیلائے گی
اشعر بھائی کی جان بچ جانے کی خبر سنے کے بعد آنٹی انکل کے ساتھ
جھکی والوں کو راشن باٹنے چلی گئی تھی ۔ ارم سالن فریج سے نکال کہ
چولہے پر رکھتے ہوئے کہا۔ اچھا ٹھیک ہے میں فریش ہوکے آتا ہوں ارسلان
صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا ۔ ارسلان کے جانے بعد ارم ڈئینگ ٹبیل پر کھانا لگانے لگی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شرجیل فون پہ حذیفہ کی رونے کی آواز سن کے جلدی سے حذیفہ کے بنگلے میں آگیا تھا
کیا ہوا حذیفہ یہ تم زمین پر بیٹھ کے اسطرح رو کیوں رہے ہوں ؟ ہوا کیا ہے کچھ تو
بتاؤ شرجیل حذیفہ کے کمرے کو بیکھرا ہوا دیکھ کے گبھرا کے بولا ۔ شرجیل میں
بہت برا ہوں۔ میں ایک کم ظرف انسان ہوں میری وجہ سے اشعر کی زندگی مشکل
میں پڑ گئی ۔ آج ماما کو مجھے اپنا بیٹا کہتے ہوئے شرم آرہی ہے ۔ وہ مجھ ے نفرت کرنے
لگی ہے حذیفہ بچوں کی طرح روتے ہوئے بولا۔ شرجیل حذیفہ کی حالت دیکھ کے ترس
آرہا تھا۔ حذیفہ وہ تم سے ناراض ہے دیکھو تم نے جو کچھ بھی کیا وہ غلط تھا
لیکن تم کیے پر شرمندہ ہوں تو سب سے معافی مانگو خاص اشعر اور علیشا سے
شرجیل نیچے حذیفہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔ ہاں میں سب سے ہاتھ جوڑ کے
معافی مانگو گا ۔لیکن وہ مجھے معاف تو کردے گئے نا ؟ حذیفہ نے ڈرتے ہوئے کہا
شرجیل کو وہ ایک چھوٹا بچہ لگا جو اپنے گناہوں کی معافی نہیں ملنے پر خوفزدہ
ہو
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر سے ملنے اظہر نذیر وارڈ میں داخل ہوا ۔ بیٹا اب کیسے ہو ۔ اظہر پیار سے اشعر سے
پوچھا ۔ آپکی اطلاع کے عرض ہے مجھے بیٹا مت کہے ۔ میرا نام اشعر ہے اور
میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں ۔ اشعر اظہر کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کے غصے سے
بولا ۔ اشعر تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسطرح غصہ مت کرو ورنہ تمہاری طبیعت خراب
ہوجائے گی۔ میں مانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا لیکن کیا مجھے
معافی نہیں مل سکتی ؟ اظہر نذیر نے ندامت سے بولا ۔ معافی تو گناہ
کی ملتی ہے جرم کی نہیں ۔ آپ میری ماں کے قتل ہے آپ کے ہوتے ہوئے میری ماں کا
قتل ہوگیا ۔ کسے مرد تھے اپنی بیوی کی حفاظت بھی نہیں کرسکے ۔ آپ مجھ سے
معافی کی بات کرتے ہیں جب کہاں تھے جب مجھے اور اریشہ کو آپکی ضرورت تھی
باپ کے ہوتے ہوئے یتیموں کی طرح پالا ہوں میں ۔ آپ نے مجھے اور اریشہ کو تو
اپنی اولاد ماننے سے منع کردیا تھا میں اتنا بچہ نہیں تھا کہ آپ کے لفظوں کی
تپیش محسوس نہیں کرسکتا تھا ۔ آج آپکو ہماری یاد اس لئے آگئی کہ آپکی باقی
بیویوں سے آپکو وارث نہیں ملا ۔ اشعر نفرت سے اظہر کی طرف دیکھتے ہوئے
کہا ۔ اظہر حیرت سے اشعر کی طرف دیکھتا ہے ۔ کیا ہوا کیا دیکھ رہے ہے؟
حیران ہے مجھے یہ سب کیسے پتا چلا؟ جب آپ میری معلومات پتا کراسکتے ہیں
تو میرے لئے کون سا مشکل کام ہے اشعر نے طنز کیا ۔ اظہر بے بسی سے اشعر کی
طرف دیکھتا ہے ۔ آپ یہاں سے چلے جائے ورنہ مجھے مجبورنا” اپنے گارڈز کو بلانا
پڑے گا۔ اشعر تلخی سے بولا اظہر خاموشی سے چلے گیا ۔
اظہر کے جانے کے بعد اشعر کے بینک کے منیجر طاہر صاحب آتے ہیں ۔ سر آپکا نیو موبائل
جو آپ نے مانگایا تھا ۔ طاہر اشعر کو دیتے ہوئے کہا ۔ طاہر کے ساتھ اور بھی اسٹاف
کے ممبر لوگ آئے تھے ۔ سر یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے اشعر کی سیکرٹری
شیما نے اشعر کو پھولوں کا گلدستہ دیتے ہوئے کہا ۔ اشعر نے مسکراتےہوئے سب کا
شکریہ ادا کیا ۔ “Sir get well soon “
اشعر سے طاہر نے کہا ۔ تھنکیس سو مچ آپ سب کی محبتوں کا بہت بہت شکریہ
سر آپ کے بغیر آفس میں دل نہیں لگتا ۔ توقیر نے کہا ۔ توقیر اشعر کی آفس میں
نیا آیا تھا وہ اشعر کو اپنا آئیڈیل مانتا تھا۔ یہاں تک کہ اشعر کی اٹھنے بیٹھنے تک
کو کاپی کرتا تھا اشعر کلاس کیسے پکڑتا ہے کس طرح بات کرتا ہے ۔
توقیر بہت ٹیلنٹ تھا أسکو ہر بڑی کمپنیوں نے جاب کی آفر کی تھی لیکن اشعر کی
کمپنی میں کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وہ اشعر کا طریقہ سیکھ سیکھے
اشعر جانتا تھا توقیر اشعر کو کتنا فولو کرتا ہے ۔ توقیر مجھے تم سے کچھ کام ہے
آپ سب کا شکریہ اشعر سب سے کہا سب باہر چلے جاتے ہیں توقیر کمرے میں
رہ جاتا ہے ۔ توقیر کی آنکھوں سے دیکھ کے صاف لگ رہا تھا وہ رویا ہے
تم روئے تھے اشعر نے غور سے توقیر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔ نہیں سر جی سر
میں رویا تھا ۔ توقیر سر جھکا کے بولا ۔ اشعر مسکراتاہے ۔ توقیر تم میرے
چھوٹے بھائی کی طرح ہو ۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا تو مجھے اتنا پسند کیوں
کرتے ہو تم کو باہر سے کام کرنے کی آفر آرہی ہے تمہارا بہتر مستقبل بن سکتا ہے
تم میری طرح ایک کامیاب بسنیس مین بن سکتے ہو ۔ اشعر نے کہا
سر میں آپ کے مقابل نہیں آپ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہوں ۔
توقیر نے عزم سے کہا ۔ اشعر لاجواب ہوجاتا ہے ۔سر آپ میرے آئیڈیل ہو آپ مجھے دھکے دے
کے بھی نکلے گے تب بھی میں نہیں جاؤں گا ۔ توقیر نے سر جھکا کے بولا ۔ توقیر ادھر آؤ
اشعر توقیر کو اپنے پاس بلاتاہے اشعر توقیر کو گلے سے لگا لیتا ہے ۔ تم آج کی
فلائٹ سے لندن جاؤ گے میرا وہاں بسنیس تم سنھبالو گے ۔ میں تمہیں زندگی میں
آگے بڑھتے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اشعر پیار سے توقیر کی پیٹھ تپتا کے بولا
تیھنکس سر ۔ توقیر نے مسکراتےہوئے کہا ۔ توقیر کے جانے کے بعد اشعر
اپنا موبائل یوز کرنے لگا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر نے فرمان اور اریشہ کو بھی گھر بیجھ دیا تھا ۔ وہ دونوں کل رات سے ہاسپٹل میں تھے
اشعر کے پاس آیت روک گئی تھی ۔ اشعر نے آیت کو گھر بیجھا نا چاہا لیکن وہ نہیں گئی
آیت صوفے پر بیٹھے سوگی تھی ۔ اشعر آیت سے بات نہیں کر رہا تھا ۔ آیت کو
مسلسل اگنور کر رہا تھا ۔ آیت کی شکل رونے والی تھی ۔ اشعر آیت سے گن گن کے
بدلے لے رہا تھا ۔ اشعر کو نرس دوا دینے آئی اشعر بہت پیار سے نرس کے ہاتھ سے
دوا کھائی آیت سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ آپ جائے اور یہ دوا مجھے
دے میں اپنے شوہر کا دھیان رکھ سکتی ہوں آپ یہاں سے جاسکتی ہے
آیت دانت پیس کے بولی نرس حیرت سے آیت کی طرف دیکھتی ہے اور باہر چلی جاتی ہے
آیت اشعر کو دوا دینے لگتی ہے ۔ یار بہت کڑوی دوا ہے بس رکھ دو مجھ سے نہیں
کھائی جارہی اشعر خراب سا منہ بناکے بولا ۔ کیوں وہ نرس کیا شہد ملا کے
دوا کیھلا رہی تھی جو آپ بڑے پیار سے دوا کھا رہے تھے ۔ آیت تپ کے بولی
اشعر کو ہنسی تو بہت آئی لیکن وہ اپنی ہنسی پر قابو پاکے لیٹ گیا
آیت منہ بنا کے صوفے پر جاکے دوبارہ بیٹھ گئی۔
جاری ہے
