Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07
آیت یونیورسٹی سے گھر آگئی تھی ۔ آیت اپنا بیگ اور رجسٹر ٹبیل پر رکھتی ہے
اور کچن میں جاکے اپنے لیے چائے کا پانی چڑھاتی ہے۔ پیچھے سے اریشہ اپنے کمرے سے
نکال کے باہر آتی ہے ۔ سکینہ پیلز میرے لئے چائے بنادو۔ اریشہ بنا دیکھے بولتی ہے
آیت اریشہ کو دیکھ کر چونک جاتی ہے ۔ آپ کون ہے؟ آیت ، اریشہ کو دیکھ کر بولتی ہے
میں اریشہ اشعر بھائی کی بہن اور آپ یقینا” آیت ہے؟ اریشہ آیت کو دیکھتے ہوئے
خوشی سے بولتی ہے ۔ جی، آیت بولتی ہے ۔ اریشہ آیت کے گلے لگ جاتی ہے ۔
بھابھی آپ بہت پیاری ہوں ، یہ اصلی رنگ ہے یا ٹوٹکے کا کمال ہے ، اریشہ نے شررات سے
کہا ، آیت نا سمجھی سے اریشہ کو دیکھتی ہے ۔ ارے مذاق کررہی ہوں بھابھی
اریشہ ہسنتے ہوئے کہا، او اچھا آیت مشکل سے مسکرائی ۔ چلے اپنے بارے میں کچھ
بتائے، بھائی سے کہاں ملاقات ہوئی؟ بھائی نے کیسے پرپوز کیا؟ شادی
کہاں ہوئی؟ اریشہ نے ایک دم سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی تھی ۔
آیت حیرت سے اریشہ کی طرف دیکھتی ہے ۔ کیا ہوا آپ بول کیوں نہیں رہی
اریشہ خاموش ہو کر بولتی ہے ۔ ارے میں خاموش ہوگی تو آپ بولے گی نا اریشہ خود ہی
اپنی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا، آیت کو اریشہ بہت اچھی لگی ۔ آیت اریشہ کے
ساتھ بیٹھے باتیں کرنے لگی تھی ۔ دونوں نے ساتھ مل کر چائے بنائی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر ویسے اریشہ غلط تو نہیں بول رہی، فرمان چائے پیتے ہوئے بولتا ہے ۔
بکواس نہیں کرو تمہیں پتا بھی ہے میں نے آیت سے شادی کیوں کی ہے
اریشہ آیت سے ملے بنا أس کی اتنی حمایت کررہی ہے، جب ملے گی تو کیا کررہے گئی
اشعر پریشانی سے بولتا ہے ۔ تم پریشان نہ ہو، میں اریشہ سے بات کروں گا ۔
فرمان بولتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارم ارسلان کے ساتھ بہت خوش تھی، ارسلان نے اپنے گھر والوں سے ارم کی بات، ملاقات
اسکائیب پر کرائی تھی ۔ ارم کب سے خاموش بیٹھے ہوئی کچھ سوچ رہی تھی ۔ ارسلان
کمرے میں آتا ہے، ارم کے قریب ہو کے صوفے پر بیٹھتا ہے
ارم تم پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہوجائے گا،
وہ لوگ میرا کچھ نہیں بیگاڑ سکتے، ارسلان ارم کا ہاتھ پکڑ کے بولتا ہے ۔ ارسلان
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، پولیس ہمارے گھر آگئ تھی ۔ پاپا نے آپکو صاف دھمکی دی
ہے ۔ اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو ارم روتے ہوئے بولتی ہے ۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا
جس کے ساتھ اللہ کا ساتھ ہوتا ہے أس کا کوئی کچھ نہیں بیگاڑ سکتا ۔ ارسلان ارم کو
اپنے سینے سے لگا کہ بولتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ غصے سے اشعر کے گھر آتا ہے ۔ لیکن گارڈ اندر آنے نہیں دیتے ۔ ہاشم باہر
کھڑے ہوئے بہت شور مچاتا ہے۔ ہاشم بیگ کی آواز سن کے آیت دروازے پر
آجاتی ہے ۔ پاپا آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔ ہاشم بیگ آیت کو نفرت سے
دیکھتا ہے ، یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔ تمہارے شوہر نے ارم کو اپنی باتوں
میں پھسلا کر ہم سے بدگمان کردیا، ارم أس اشعر کی باتوں میں آکر گھر سے بھاگ
کر ارسلان سے شادی کرلی ہے ۔ ہاشم بیگ غصے سے بولتا ہے ۔ کیا آیت بے یقینی سے
بولتی ہے ۔ پاپا میں نے اشعر سے پسند کی شادی نہیں کی اشعر نے مجھے اغوا
کرکے مجھ سے زبردستی نکاح کیا تھا، آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔
بس رہنے دو ہاشم آیت کا ہاتھ جٹک کے یہاں سے چلے جاتا ہے ۔ آیت دروازے پر بیٹھے
رونے لگی ۔ اریشہ بھی کمرے سے باہر آگئی تھی ، آیت کو اوٹھا کے کمرے میں لے کر جاتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کو گارڈ نے ہاشم کے آنے کا بتا دیا تھا ۔ اشعر گاڑی کو گیراج میں کھڑی
کرکے، خود گھر کے اندر داخل ہوتا ہے ۔ آیت صوفے پر بیٹھے ہوئے رو رہی تھی
اشعر کے قدموں کی آواز سن کر سر اٹھا کر آیت اشعر کو دیکھتی ہے ۔ اریشہ آیت کے لیے
پانی لیے کر آتی ہے، بھابھی پانی پیئے ۔ آیت پانی پینے کے بجائے غصے سے اشعر کی طرف
بڑھتی ہے اور اشعر کا گریبان پکڑتی ہے تم خود کو سمجھتے کیا ہوا، تم کس نے
حق دیا میری بہن کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا، تم ہوتے کون ہوں، تمہاری وجہ سے
آج میرے پاپا مجھ سے بدظن ہوگے ۔ آیت نفرت سے بولتی ہے ۔ اشعر
ایک جھٹکے سے اپنا گریبان آیت سے چھوڑتا ہے ۔ اپنی حد میں رہو اشعر غصے سے
دھاڑ ۔ اشعر کی دھاڑ سے اریشہ بھی ڈر گی تھی ۔ اریشہ بیٹا اپنے کمرے میں جاؤ اشعر
نرمی سے اریشہ سے بولتا ہے ۔ اریشہ جانے لگتی ہے ،
اریشہ یہی کھڑی رہو اپنے بھائی کا اصلی چہرہ دیکھو آیت اشعر کی
طرف دیکھتی ہوئی اریشہ سے بولتی ہے ۔ اریشہ پریشانی سے دونوں کی طرف
دیکھتی ہے ۔ اریشہ تم نے سنا نہیں کیا بول رہا ہوں ۔ اشعر اریشہ کو دیکھتے ہوئے غصے سے
کہتا ہے اریشہ جلدی سے اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے ۔ اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کر
گھیسٹتا ہوا اپنے کمرے میں لیے جاتا ہے ۔ آیت کو بیڈ پر دھکا دیتا ہے
آیت بیڈ پر گرتی ہے ۔ اشعر دروازہ بند کرتا ہوا آیت کی طرف بڑھتا ہے
تم نیچے کیا بکواس کررہی تھی ؟ اشعر آیت کو بازو سے پکڑ کر بولتا ہے
سچ بول رہی تھی ۔ تمہاری بہن کو تمہارا اصلی چہرہ دیکھا رہی تھی ۔
تم انتہائی گھٹیا انسان ہوں ۔ تم کو کیا پتا عزت کیا ہوتی ہے، تم دوسروں کی بیٹی، بہنوں
کی عزت سے کھیلنے والے ایک درندے ہوں ۔ نفرت کرتی ہوں تم سے شدید نفرت
آیت اشعر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتی ہے ۔ تمہارا قصور نہیں ہے
تمہارا باپ ایک نمبر کا گھٹیا آدمی ہے۔تو تم سے کیا گلہ کروں اشعر
آیت کا بازو چھوڑ کر بولتا ہے ۔ اور اشعر اپنی گھڑی اتا کر ٹبیل پر رکھتا ہے، پیچھے
بیٹھی آیت نفرت سے اشعر کو دیکھتی ہے
تم نے میرے ساتھ جو کیا میں نے برداشت کیا
لیکن میں اپنی بہن کی زندگی برباد کرنے نہیں دوں گی، آیت روتے ہوئے بولتی ہے
اگر یہ سب میں تمہاری بہن کے ساتھ کرو تو تم کیسا لگے گا؟ آیت تلخی سے بولتی ہے
بکواس بند کرو اپنی، بس بہت بول لیا تم نے، بہت سن لیا میں نے اپنی اوقات میں رہوں،
ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اشعر چیخ کر بولتا ہے، ورنہ کیا؟
کیا کر لوں گئے ؟ بولو آیت بھی چیخ کر بولتی ہے ۔
تم اپنے باپ کے بارے میں جانتی کیا ہوں؟ تم نے اپنے باپ کا اصلی چہرہ دیکھا کب ہے
اشعر آیت کا منہ پکڑ کر بولتا
ہے ۔ خبردار اگر تم نے میرے پاپا کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا،
آیت اشعر کا ہاتھ پکڑ کر بولتی ہے ۔ اشعر آیت کا ہاتھ جٹکتا ہے اور آیت کی آنکھوں میں
دیکھ کر بولتا ہے ہاں میں نے خود ارم کی شادی اپنے دوست ارسلان سے کرائی ہے ۔ جاؤ جو
کرسکتی ہو کرلو، اور ہاں تمہارے باپ کو وہ حال کروں گا
کہ مجھ سے موت کی بھیگ مانگے گا ۔ اشعر سفاکی سے بولتا ہے ۔
اشعر غصے سے کمرے سے چلا جاتا ہے ۔ آیت زمین پر بیٹھ کے چیخ چیخ کر رونے لگتی ہے
اشعر مر جاؤ تم اللہ کرے موت آجائے تمہیں، تم کو کبھی سکون نصیب نا ہوں
آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔
دوریاں پھر سے سمٹ سکتی ہیں ؟؟ سمجھا ۔۔۔کیسے؟
فاصلے ختم بھی ہو سکتے ہیں ؟؟؟؟اچھا !!!! کیسے؟
میں کسی کو کبھی دل تک نہیں آنے دیتی ۔۔۔۔۔
باقی سب چھوڑ ۔۔۔ بتا ! تو یہاں پہنچا کیسے ؟
ٹھیک ہے !!!! تم نئی دنیا کے سفر پر نکلو
ہمسفر بھی نیا مل جائے گا ۔۔۔۔۔سوچا کیسے ؟
وہ مجھے دیکھتا رہتا ہے بڑی حسرت سے ۔۔۔۔۔
اس کو اندازہ تو ہے ۔۔۔۔دل سے وہ اترا کیسے
جاؤ ۔۔۔رہنے دو ۔۔۔کوئ بات نہیں ۔۔۔۔کام کرو
اس قدر تلخ رویّہ ؟؟؟ کوئ رکتا …کیسے ؟
صدف زبیری
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر اتنی سخت سردی میں سڑک کنارے پر بیٹھ ہوا تھا ۔ اشعر پھر سے ماضی میں گم
ہوجاتا ہے ۔
ماضی
جویریہ روتے ہوئے اپنے بھائی کے گھر جاتی ہے ۔ جنید جویریہ کو اپنے سینے سے لگا کر
خاموش کرتا ہے ۔ تم پریشان نا ہوں ۔ جویریہ تمہارا بھائی ابھی زندہ ہے چلوں میرے
ساتھ ۔ جنید جویریہ کو لیے کر اظہر نذیر کے گھر جاتا ہے ۔ جنید غصے سے دروازہ
بجاتا ہے اظہر نذیر باہر نکلتا ہے ۔ تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن پر گھٹیا الزام لگانے کی
جنید غصے سے اظہر کا گریبان پکڑ کر بولتا ہے ۔ ارے چھوڑ میرے بیٹے کو اظہر کی ماں
غصے سے بولتی ہے ۔ تمہاری بہن ایک بد چلن عورت ہے، اظہر کی ماں نے زہر اگلا
کیا ثبوت ہے آپکے پاس؟ جنید نے کہا! ۔ اندر آو اظہر نذیر بولتا ہے ۔
یہ دیکھو موبائل میں أس لڑکے کے میسج توبہ توبہ کتنے بے حیائی والی باتیں لکھی ہیں
اظہر کی ماں کان سے ہاتھ لگا کے بولتی ہے ۔ پتا نہیں کب سے یہ چکر چل رہا تھا
ہمیں تو پتا بھی نہیں چلتا ۔ میسج پڑھ کر جنید آگ بگولہ ہوگیا تھا ۔
جویریہ تم کو ذراسی شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوئے ، تم کو تو اپنی بہن کے ساتھ
کہتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے ۔ جنید غصے سے بولتا ہے ۔ نہیں بھائی یہ جھوٹ ہے
جویریہ روتے ہوئے بولتی ہے ۔ کیا جھوٹ ہے یہ میسج جھوٹ ہے؟ تمہاری طرف سے بھی
میسج گیا تھا ۔ جنید موبائل جویریہ کو دیکھتے ہوئے کہا! یہ میسج میں نے نہیں کیا
جویریہ روتے ہوئے بولتی ہے ۔ بس بہت بکواس کرلی تم نے اظہر نے نفررت سے کہا
گاڑی کے ہارن سے اشعر ہوش کی دنیا میں لوٹتا ہے ۔ اوئے بھائی مرنے کا
شوق ہے کیا؟ اشعر گاڑی سے ٹکراتے ہوئے بچ گیا تھا ۔ سوری بھائی صاحب اشعر
معذرت کی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان مجھے آپو سے ملنا ہے ۔ پیلز اشعر بھائی کے گھر لیے چلے ارم ارسلان سے بولتی ہے
اس وقت ؟ یار اچھا نہیں لگتا ۔ ارسلان ٹی وی دیکھتے ہوئے کہا ۔ پیلز لے چلے نا ۔
ارم مسلسل اسرر کر نے لگی ، اچھا ٹھیک ہے چلو، ارسلان بولتا ہے ۔ آپ کتنے
اچھے ہیں ارم نے خوشی سے کہا ۔ ارسلان ارم کے بچوں کی طرح خوش ہونے پر
مسکرتا ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کو گھر سے گئے ہوئے چار گھنٹے ہوگے تھے ۔ اریشہ بہت پریشان ہورہی ہے ۔
اریشہ اشعر کو فون ملاتی ہے لیکن اشعر کا نمبر بند جارہا تھا ۔ اریشہ
پھر فرمان کو فون ملاتی ہے ۔ ہیلو فرمان، اریشہ بولتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان دو دن سے نائٹ ڈیوٹی کررہا تھا ۔ آج أسے نیند پوری کرنے کا موقع ملا تھا
لیکن اریشہ کے فون سے اشعر کی نیند خراب ہوئی ۔ فرمان کا فون مسلسل
بج رہا تھا، فرمان بند آنکھوں سے فون اٹھتا ہے ہیلو نیند سے بوجھل
آواز سے بولتا ہے، کیا اشعر گھر سے کہی چلے گیا؟ کہاں چلا گیا؟
ٹھیک ہے تم پریشان نا ہوں میں دیکھتا ہوں ۔ فرمان پریشانی سے بولتا ہے ۔
اشعر کا کیا کروں میں، فرمان بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ عدنان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ تم اس اشعر کو جان سے مار دو
یہ میرے لیے سر کا درد بنتا جارہا ہے، ہاشم بیگ غصے سے بولتا ہے
ایک بار سوچ لو تمہاری بیٹی کا شوہر ہے ۔ عدنان شطرنج کی بازی کھلیتے ہوئے
کہا ۔ کوئی داماد نہیں ہے میرا، أس کمینے کو چھوڑو گا نہیں میں
ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ میرے سارے شیر خرید لیے ۔ میری کمپنی کو ایک دم
بہت بڑا نقصان ہوا ہے ۔ ہاشم بیگ غصے سے بولتا ہے ۔ بس اب اور نہیں
میں أس کو اب اور برداشت نہیں کرسکتا، ہاشم سفاکی سے بولتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان اشعر کو ہر جگہ ڈھونڈتا ہے ۔ اشعر فرمان کو سڑک پر بیٹھا نظر آیا ۔
فرمان گاڑی سے جلدی سے اتر کے اشعر کے پاس آیا ۔ تم یہاں مزے سے بیٹھے ہوئے ہو
اور میں پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈرہا تھا ۔ فرمان اپنے دونوں ہاتھ اپنی قمر
پر رکھے ہوئے بولتا ہے ۔ اشعر خاموش رہتا ہے ۔ تم سن بھی رہے ہوں؟ فرمان خفگی سے
بولا۔ بس دل چاہا رہا تھا ۔ تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہوگیا؟ اتنی سردی میں باہر
کھڑا نہیں ہوئے جارہا اور تم کو اتنی ٹھنڈ میں سڑک پر بیٹھنے کا دل کررہا ہے
فرمان تپ کر بولتا ہے ۔ اشعر سنجیدہ نظروں سے فرمان کو دیکھتا ہے ۔
کیا ہوا ؟ سب ٹھیک ہے؟ فرمان اشعر کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا، کچھ نہیں یار
تم بتاؤ تم یہاں کیسے آئے ؟ اریشہ کا فون آیا تھا، وہ بہت پریشان ہورہی تھی
فرمان جمائی لیتے ہوئے کہا! سوری یار میری وجہ سے تم پریشان ہوئے اشعر
فرمان کی نیند سے بوجھل آنکھوں میں دیکھ کر بولتا ہے ۔ اچھا بھائی اب چل بھی گھر
ویسے میں بہت رات کے 11 بج رہے ہے فرمان گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
چلوں اشعر کھڑے ہو کہ بولتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سر آپ کے بیٹے کا پتا چلا گیا ہے وہ پاکستان میں ہے ۔ گریس ڈاونی بولتا ہے ۔
اظہر نذیر امریکہ میں بیس سال رہائش پذیر تھا۔ امریکہ میں اظہر نذیر نے بہت دولت پیسہ
بنایا ۔ کئی شادیاں بھی کیں لیکن سب ناکام رہی۔ اظہر نذیر کی کسی بھی بیوی سے
ایک بھی اولاد نہیں ہوئی۔ جویریہ کے انتقال کے بعد اظہر نذیر پاکستان سے امریکہ
شفیٹ ہوگیا تھا ۔ اظہر کو جویریہ کی بے گناہی کا پتا چلا تھا ۔ لیکن سوائے پچھتاو
کے کیا کرسکتا تھا ۔ اظہر اپنے بچوں کو ہر جگہ ڈھونڈا تھا لیکن وہ أنھیں ڈھونڈنے
میں ناکام رہا ۔ اظہر نذیر امریکہ کی ایک کمپنی کا پتا چلا جو لوگوں کی
فیملی سے بچھڑ گئے تھے ۔ أن سے ملاتے ہیں أن لوگوں کو ڈھونڈتے ہیں
اور ساری معلومات حاصل کرکے بتاتے ہیں اور بدلے میں رقم وصول کرتے ہیں
اس کمپنی کے ملازمین کو ہر زبان آتی ہے ۔ ہر ملک لوگوں سے أن ہی زبان میں
بات کرتے ہیں ۔
اشعر نذیر یہ اسکی تصویر ہے، اور انٹرنیشنل بسنیس مین ہے اتنے کم وقت میں اسنے
اپنا بنالیا، اور اس فائل میں اسکی ساری معلومات موجود ہیں، کیا کھاتا ہے کیا
پہنتا ہے، کب سو کے اٹھتا ہے، کس سے ملتا ہے، رہتا کہاں ہے؟ اور ابھی حال ہی میں
اسے بیسٹ بسنیس مین ہونے کا ایوارڈ ملا ہے ۔ اور بھی کئی ایوارڈ حاصل کیے ہیں
گریس ڈاونی بولتا ہے ۔ اظہر نذیر اپنے جیب سے چیک بوک نکال کر خالی چیک پر
دستخط کرکے گریس ڈاونی کو دیا ۔ تیھنکس سر گریس ڈاونی چیک دیکھ کر
مسکراتے ہوئے بولتا ہے ۔ اظہر نذیر فائل لے کر گریس ڈاونی کی کمپنی سے نکالتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارم ارسلان کے ساتھ اشعر پیلس میں آگئی ۔ ارسلان ارم کو لے کر اندر جاتا ہے ۔
ارسلان کو گھر کے ملازمین جانتے ہیں تو ارسلان کو اندر آنے دیتے ہیں ۔ ارسلان
ارم کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھتا ہے،
سکینہ آیت کے کمرے میں آکر آیت کو أسکی بہن کے آنے کی اطلاع دیتی ہے ۔ آیت
بیڈ پر الٹا لیٹے رو رہی تھی ، سکینہ کی بات سنے کہ خوشی سے اٹھتی ہے
اپنے آنسو پونچھتے ہوئے جلدی سے کمرے سے نکلتی ہے سیڑھی سے اترکر ڈرائنگ روم میں
قدم رکھتی ہے اور
ارم کے گلے سے ملتی ہے ۔ تم کیسی ہو ارم ؟ آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔
آپو میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہے؟ اور یہ اشعر بھائی کہاں ہے؟ ارم آیت سے بولتی ہے
میں ٹھیک ہوں، آیت پیچھے ہٹتے ہوئے کہا، اور تم سے مجھے یہ امید نہیں تھی
تم نے أس گھٹیا آدمی کی باتوں میں آکے بھاگ کر شادی کرلی، ماما ، پاپا
کی عزت کا ذرا سا بھی خیال نہیں آیا؟ آیت غصے سے بولتی ہے ۔
آپو آپ سچ نہیں جانتی، اشعر بھائی ایک بہت اعظم انسان ہے، آپ کو نہیں پتا پاپا
کتنے گھٹیا انسان ہے۔ ارم نے نفررت سے کہا، ارم کی بات سن کر آیت کا ہاتھ
ارم پر اٹھ جاتا ہے ۔ تم کو شرم آنی چاہیے، تم اپنے باپ کے بارے میں
اتنا گھٹیا بات کرتے ہوئے ۔ أس آدمی کی باتوں میں آکر اپنے باپ کو برا بول رہی ہوں
آیت غصے سے بولتی ہے ۔ آپو، ارم اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا، آپ کو کچھ نہیں
پتا سچ جان جائے گی تو نفرت ہوجائے گی، ہمیں تو اشعر بھائی نے بچا لیا
ورنہ وہ ہماری سوتیلی ماں بیچ دیتی، ارم تلخی سے بولتی ہے ۔ بس اب ایک اور
لفظ بھی تم نے ماما، پاپا میں کہا نا تو اچھا نہیں ہوگا، کیا پٹی باندھی ہے
اشعر نے تمہاری آنکھوں پر، تمہیں اپنے ماں باپ سے بدگمان کردیا ۔
اتنے زہر بھر دیا کہ تم أن کے کردار پر انگلی اٹھنی لگی، آیت تالی مارتے ہوئے
طنزیہ انداز میں کہا، بس کردے آپو، بنا سچ جانے آپ اشعر بھائی کو یہ سب بول
رہی ہے سچ سامنے آنے پر آپ بہت پچھتاوگی، ارم روتے ہوئے بولتی ہے ۔
نکل جاؤ میرے گھر سے، آج سے تم میرے لیے مرگئی، آیت نے باہر کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے کہا، دیکھے بھابھی بات تو سنے ارسلان کب سے بیٹھا
دیکھ رہا تھا، اٹھا کر آیت کے پاس آکے بولتا ہے، مسڑ آپ کا جو بھی نام ہے
نکل جائے میرے گھر سے اپنی بیوی کو لیے کر ، آیت تلخی سے بولتی ہے،
پھر میری بات تو سنے، ارسلان پریشان سے بولتا ہے، رہنے دے ارسلان کوئی فائدہ نہیں
انھیں سمجھانے کا، چلے یہاں سے، ارم آیت پر نظر ڈال کر ارسلان سے بولتی ہے ۔
ارسلان ارم کو لے کر خاموشی سے باہر چلاجاتاہے، آیت وہی صوفے پر بیٹھ کر
رونے لگتی ہے ۔
کبھی کبھی انسان نا ٹوٹتا ہے
نا بکھرتا ہے ،بس ہار جاتا ہے
کبھی قسمت سے، کبھی خود سے
جاری ہے
