Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21

اشعر کو ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹر نے ڈسچارج کردیا تھا ۔ اشعر تیار ہوکے آفس جا رہا تھا
آیت اشعر کے کمرے میں آئی اشعر آپ کہاں جارہے ہے؟ آیت اشعر کو آفس کیلئے تیار کھڑے
دیکھ کے بولی ۔ میں کہی بھی جاؤ تم اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے اشعر
اپنا بیگ اٹھا کے بولا ۔ اشعر آپ آخر کب مجھے معاف کرے گے ایک ہفتے سے آپ
مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کررہے ۔ آیت روہانسی ہوکے بولی ۔ سوچو میں نے پورا ایک
مہینہ تمہاری بے رخی برداشت کی ۔ تم سے تھوڑی سی بھی برداشت نہیں ہورہی
اشعر آیت کا بازو پکڑ کے غصے سے بولا ۔ اشعر چھوڑے مجھے درد ہورہا ہے آیت تکلیف سے
بولی ۔ اشعر آیت کا ہاتھ چھوڑ کے کمرے سے چلا جاتا ہے ۔ آیت وہی بیٹھے آنسو بہانے
لگی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر بسنیس کو جو نقصان پہنچا تھا اشعر کے لئے بہت بڑا نقصان ثابت ہوا تھا
اشعر کے ہاتھ بہت اہم پروجیکٹ ہاتھ سے نکال گیا تھا ۔
یورپ میں دوسری بڑی کمپنی میں شمار کی جاتی ہے اشعر کو وہاں سے نیا پروجیکٹ
ملا تھا ۔ اشعر بہت ٹیشن میں بیٹھا تھا ۔ سر اب کیا کرنا ہے آپ پر جو جھوٹا کیس
بنا تھا اس وجہ سے یہ سب مئسلہ ہوگیا طاہر صاحب اشعر سے بولے ۔
اشعر کچھ سوچتے ہوئے کرسی کو إدھر سے أدھر گھومتا ہے ۔ ہمیں یورپ کی سب سے
ناکام کمپنی کی طرف سے پروجیکٹ ملا تھا اشعر نے طاہر کی طرف دیکھتے ہوئے
کہا ۔ جی سر لیکن ہماری کمپنی نے یہ پروجیکٹ کینسل کردیا تھا ۔ طاہر نے
کہا ۔ ہاں مجھے یاد ہے یہ وہ کمپنی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی پروجیکٹ کرنے کو
تیار نہیں لیکن ہم اسکے ساتھ پروجیکٹ کررے گے آپ فون ملائے أن لوگوں سے
بات کرے اشعر نے کہا ۔ لیکن سر طاہر نے پریشانی سے بولنا چاہا لیکن اشعر نے بات
کاٹ دی میں جانتا ہوں بہت ہی کم یا کہنا غلط نہیں ہوگا مشکل سے کچھ فائدہ ہوگا
لیکن میں جانتا ہوں ہمیں کیا کرنا ہے ہم ایک بہت بڑا پروجیکٹ بناکے اس کمپنی کو دے
گے اور یہ پروجیکٹ یورپ کی اس کمپنی کو ٹکر دے گا ۔ میں اس پراجیکٹ کے ذریعے
اس کمپنی کو آسمان تک پہنچا دو گا لیکن بدلے میں ہمیں أن سے برابر کا پروفیٹ
میں حصہ چاہیے ۔ یہ ساری باتیں آپ جاکے ان لوگوں سے ڈیس کس کرلے
پھر مجھے بتائے گا ۔ اشعر نے نرمی سے کہا ۔ اوکے سر طاہر اشعر کی بات سمجھتے ہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر سے ملنے علیشا آفس آئی تھی ۔ اشعر صاحب مجھے معاف کردے ۔ میری وجہ سے آپکو
تکلیف اٹھانی پڑی ۔ علیشا اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ اشعر کا چہرہ سپاٹ تھا
دیکھے مس علیشا جو کچھ میرے ساتھ ہوا ۔ اس میں آپ کا قصور نہیں تھا
یہ سب حذیفہ کی حرکت تھی ۔ اس میں میرا قصور یہ تھا میں نے اپنی چیزیں
أسکو استعمال کرنے کی اجازت دی ۔ اس سب میں آپکا بھی قصور تھا آپ نے بنا
جانے آپ کس سے بات کررہی ہے آپ أسے باتیں کرتی رہی ۔ اشعر سنجیدگی سے کہا
علیشا شرمندگی سے نظریں جھکا لیتی ہے۔ مجھے ساری باتیں
مختار انکل نے بتا دی تھی ۔ میرا مقصد آپکو شرمندہ کرنا نہیں تھا اشعر نے
میز پر زور دیتے ہوئے کہا ۔ دیکھے اشعر صاحب میری غلطی ہے مجھے اتنے بڑے
خواب نہیں دیکھنے چاہیے تھے ایک لڑکی ہوکے اپنی حدود سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے تھا
لیکن میری وجہ سے اور میرے بھائی کی وجہ سے آپکو جو بھی تکلیف پہنچی
اسکے لئے مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے اور آپ پیلز بھائی پر
کیس جو آپ نے کیا ہے واپس لے لیے ۔
علیشا نم آواز سے بولی ۔ اشعر نے گہر سانس لیا اگر واقعی میں چاہتی ہے
میں آپکے بھائی کو معاف کردوں تو میری دو شرط ہے اشعر نے کہا
کسی شرط علیشا نے سوالیہ نظروں سے اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
پہلی آپکے بھائی کو انعم کے بچے اور انعم کو عزت کے ساتھ قبول کرنا ہوگا
میں جانتا ہوں امجد انعم سے شادی نہیں کرے گا سجاول خان کے کہنے پر بھی نہیں
لیکن انعم کے ساتھ جو کچھ امجد نے کیا ہے أسکو انعم پر صورت میں اپنانا ہوگا
پوری عزت کے ساتھ اور میری دوسری شرط آپکو حذیفہ کو معاف کرنا ہوگا
آپکو حذیفہ سے شادی کرنی ہوگی ۔ اشعر غور سے علیشا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا میں أس درندے کو کبھی معاف نہیں کرسکتی
ہر گز نہیں علیشا کرسی سے کھڑے ہو کے چیخ کے بولی۔ تو پھر ٹھیک ہے
میں بھی آپکے بھائی کو معاف نہیں کروں گا کیونکہ آپ کا بھائی بھی کسی درندے سے
کم نہیں أس نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کرایا مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے
اور تو اور مجھ سے بدلہ لینے کیلئے میری کزن کا استعمال کیا
اس سب بارے میں کیا بولی گی آپ؟ میں مانتا ہوں حذیفہ نے غلط کیا لیکن آپکے ساتھ
کوئی ایسی نیچ حرکت نہیں کی اشعر تلخی سے بولا ۔ علیشا روتے ہوئے
چلی جاتی ہے ۔ اشعر کے موبائل پر فرمان کی کال آنے لگی ہیلو ہاں فرمان بول
کہاں ٹھیک ہے میں پہنچتا ہوں اشعر نے کہا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر فرمان کے کہنے پر ارسلان کے گھر پہنچتا ہے ۔ اشعر ڈرائنگ روم میں قدم رکھتا ہے
وہاں سب پہلے سے موجود تھے ۔ پروین بیگم انعم کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ اریشہ
فرمان حمیدہ اظہر اور عرفانہ اور ارسلان کی پوری فیملی ۔ ارسلان خیرت سب
یہاں کیوں جمع ہے؟ اشعر سب کو اسطرح سنجیدہ بیٹھے دیکھا تو بولا ۔
اشعر پروین آنٹی تم کو کچھ بتانا چاہتی ہے دیکھو بہت تحمل سے سنا ارسلان
سنجیدہ لہجے میں کہا ۔ اشعر ناسمجھی سے ارسلان کی طرف دیکھتا ہے
اریشہ تم کچھ پتا ہے کس بارے میں بات کی جارہی ہے اشعر اریشہ سے پوچھا
بھائی مجھے خود کچھ نہیں پتا فرمان مجھے جلدی یہاں لیے آئے اریشہ منہ بنا کے بولی
اشعر میں تمہاری مجرم ہوں ہوسکے تو مجھے معاف کردینا پروین بیگم نے کہا
کیا کہنا چاہ رہی ہے مامی میں سمجھا نہیں کس بات کی معافی؟ اشعر
نے کہا ۔ اشعر تمہاری ماں کی میں مجرم ہوں میری وجہ سے تمہاری ماں کے ساتھ برا ہوا
پروین روتے ہوئے کہا اور پھر ساری بات بتاتا شروع کرتی ہے ۔ تمہارے باپ سے پہلا
میرا رشتہ لگا تھا میرا رنگ کم تھا ۔ اظہر کو جویریہ پسند آگی تھی
اظہر نے مجھ سے رشتہ توڑ دیا تھا ۔ پروین گہری سوچ میں گم ہوئے کہا
اشعر اور اریشہ حیرت سے ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگتے ہیں
پھر میرا رشتہ جویریہ کے بھائی جنید کے لیے آیا ۔ پروین نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا
میں شادی ہوکے جنید کے گھر آگی جنید کی ماں بہت نفیس خاتون تھی بہت عزت سے
مجھے رکھا جویریہ بھی مجھے بہت پیار عزت احترام دیتی تھی ۔ لیکن جب مجھے
پتا چلا کہ جویریہ وہی عورت تھی جس کی وجہ سے مجھے ٹھکرا یا گیا تو میں
جویریہ سے نفرت کرنے لگی ۔ میں نے جنید کو جویریہ سے دور کرنا شروع کیا
لیکن جنید اپنی بہن سے بہت محبت کرتے تھے ۔ انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا
مجھے برداشت نہیں ہوتا تھا میرے گھر میں میری کم جویریہ کی زیادہ سنی جاتی
پھر میں نے ایک چال چلی میں جنید کے سامنے جویریہ سے پیار سے بات
کرتی تھی ۔ اور جب وہ نہیں ہوتے تو جویریہ خوب ذلیل کرتی ۔
ایک دفعہ میں نے جنید کی ماں کو زور سے دھکا دیا جویریہ کو یہ سب برداشت نہیں ہوا
أسنے مجھے تپھڑ مار دیا ۔ اسی وقت جیند کام پر سے جلدی گھر آگئے تھے
جنید کو جویریہ نہیں دیکھا تھا ۔ میں نے جھوٹ موٹ کے آنسو بہا نا شروع کردیا
جنید میری باتوں میں آگے جنید نے جویریہ کو مجھ سے معافی مانگنے کو کہا
جویریہ غصے میں مجھے برا بھلا کہنے لگی جویریہ کی باتوں سے جنید کو غصہ
آنے لگا انھوں نے جویریہ پر ہاتھ اٹھایا یہ پہلی بار ہوا تھا ۔ جویریہ روتے ہوئے
اپنے سسرال چلی گئی ۔ اسکے بعد سے جنید میری مٹھی میں تھے میں جو دیکھاتی وہ
وہی دیکھتے ۔ ایک دن جویریہ کے موبائل پر ایک رونگ نمبر سے کال آرہی تھی میں نے
ریسوف کرلیا میں نے ہاشم سے پیار بھری باتیں کرنا شروع کردی ۔ اور پھر دو تین
رومینٹک سے میسج بھی کردے۔ ہاشم جانتا تھا میں أسے بات کررہی ہوں ۔ جویریہ نے
ہاشم کو فون پر کتنی بار منع کیا أسے تنگ نہیں کرے وہ ایک شادی شدہ عورت ہے
لیکن ہاشم نہیں مانا ۔ میں جانتی تھی عرفانہ آنٹی جویریہ کو پسند نہیں
کرتی میں نے اس بارے عرفانہ کو بتایا کہ جویریہ کسی رونگ نمبر سے باتیں کرتی ہے
جب انھوں نے جویریہ کا موبائل دیکھا تو انھوں نے جویریہ کو خوب مارا ۔
جب اظہر اور عرفانہ آنٹی نے جویریہ کو گھر سے نکال دیا تو میں نے جویریہ کو گھر میں
گھسنے نہیں دیا ۔ میں جویریہ کو برباد کرکے بہت خوش تھی ۔ پر مجھے نہیں پتا
تھا اس چنگاری سے میرا گھر بھی جل جائے گا ۔ پروین روتے ہوئے کہا ۔
اشعر بے یقینی سے پروین کی طرف دیکھتا ہے ۔ اشعر اور اریشہ مجھے معاف کردوں مجھے
اپنی کیے کی سزا مل گی میں نے ایک بے قصور کو رسوا کیا اللہ نے میری بیٹی کی
صورت میں مجھ سے مکافات عمل لیے لیا ۔ پروین اشعر کے سامنے ہاتھ جوڑ کے
بولی ۔ اشعر ضبط سے اپنی آنکھیں بند کرتا ہے ۔ اریشہ سسکیاں لئے کہ رو رہی تھی
اشعر انگارے بھری آنکھوں سے پروین کی طرف دیکھتا ہے ۔ اگر آپکی بیٹی کے
ساتھ یہ سب نہیں ہوتا تو آپکی کبھی ہمیں سچائی نہیں بتاتی ۔ میں نے آپکا ہر
ایک ظلم سہا ہے یہ سوچ کے آپ جیسی بھی آپ نے ہمیں رہنے دیا لیکن مجھے کیا پتا تھا
ہماری بربادی میں آپکا ہاتھ ہے اشعر نفرت سے کہا ۔ پروین شرمندہ ہوکے سر جھکا لیتی ہے
اریشہ روتے ہوئے اشعر کے گلے لگ جاتی ہے اشعر اریشہ کے آنسو پونچھتا ہے ۔
اشعر اریشہ کو چھوڑ کے نکلتا ہے۔اشعر غصے سے ڈرئیف کرتا ہوا گھر جاتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر غصے سے گھر میں داخل ہوا آیت اشعر کا غصہ سے لال چہرہ دیکھے گبھرا جاتی
اشعر کے پیچھے کمرے میں جاتی ہے ۔ اشعر کیا بات ہے ۔ آیت اشعر کا ہاتھ پکڑ کے
بولی ۔ تم سے مطلب جاؤ یہاں سے اشعر غصے سے چیخ کہ بولا ۔ آیت ڈر کے پیچھے ہٹی
اشعر آخر ہوا کیا ہے آپ مجھے کچھ تو بتائے آیت بضد ہوکے بولی ۔ آیت میری
نظروں کے سامنے سے چلی جاؤ یہی تمہارے لئے یہی بہتر ہے ۔ اشعر غصے سے بولا
نہیں جاؤ گی میں ۔ آخر کب تک اشعر آپ مجھے اگنور کرتے رہے گئے
بیوی ہوں آپکی ۔ غلطی تو خدا بھی معاف کردیتا ہے ۔ آیت روتے ہوئے بولی ۔ اشعر غصے سے
آیت کو بازو سے پکڑ تا ہے اشعر کی انگلیاں آیت کے بازو میں پوست ہورہی تھی
تم میرے ہردرد کی وجہ ہوں ۔ تمہارے باپ کی وجہ سے میری ماں نے اتنی تکلیفیں
برداشت کیں اشعر نفرت سے بولا۔ آیت کے آنسو اشعر کے ہاتھ پر گرتے ہیں ۔ تم کیوں ہو میری
زندگی آئیمیں جب جب تمہیں دیکھتا ہوں مجھے اپنی ماں کی تکلیفیں یاد آنے لگتی ہے ۔
کاش تم میری زندگی میں شامل نہیں ہوتی ۔ میں نے اپنی ماں کے قاتل کے بیٹی سے
شادی کرلی۔ تم کو دیکھ کے پچھتاو ہوتا ہے مجھے ۔ چلی کیوں نہیں جانتی میری زندگی سے
اشعر جنونی انداز میں کہا ۔ اشعر پیلز مجھے معاف کردے میں آپکے بغیر نہیں رہ سکتی
آیت روتے ہوئے اشعر سے کہا۔ تم تو مجھ سے طلاق چاہتی تھی نا تو اب کیوں میرے
ساتھ رہنا چاہتی ہوں؟ جب تمہاری محبت کہاں چلی گئی تھی اشعر نفرت سے بولا
اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کے گھر سے باہر نکل دیتا ہے ۔ آیت میری زندگی سے چلی جاؤ
اشعر غصے سے کہا ۔ اشعر پیلز دروازہ کھولے میں کہاں جاؤں گی آیت روتے ہوئے بولی
وہی جاؤ جہاں تم رہ رہی تھی ۔ میری زندگی میں اور میرے گھر میں تمہارے لیے کوئی
جگہ نہیں ہے اشعر نے بند دروازے کے اندر سے چیخ کہ کہا، آیت روتے ہوئے دروازے کے
پاس بیٹھ جاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
نمرہ جو آیت سے ملنے آئی تھی آیت کو دروازے پر اسطرح بیٹھے دیکھے گبھرا جاتی ہے
کیا ہوا آیت اسطرح یہاں کیوں بیٹھی ہوں؟ نمرہ پریشانی سے پوچھا ۔
آیت روتے ہوئے نمرہ کے گلے لگ گی، ساری بات سنے کے بعد نمرہ غصے سے اندر جانے لگتی ہے
لیکن آیت روک لیتی ہے ۔ چلوں آیت تم میرے گھر چلوں نمرہ غصے سے بولی ۔
آیت نمرہ کے ساتھ چلی گئی ۔ نمرہ غصے سے ارسلان کو فون ملاتی ہے
اور أسکو خوب سناتی ہے۔ کیسا دوست ہے تمہارا کوئی اسطرح اپنی بیوی کو گھر سے
نکلتا ہے نمرہ دل کی بھڑس نکال کہ بولی ۔ نمرہ آیت کو اپنے گھر لیے آئی تھی
ارسلان ارم کو اس بارے میں کچھ نہیں بتاتا وہ نہیں چاہتا تھا وہ
پریشان ہوں ارسلان پریشانی سے گھر سے باہر نکلتا ہے ۔ روکو ارسلان میں بھی ساتھ
چل رہی ہوں پیچھے سے ارفع افتخار بولی ۔ ماما آپ ارسلان پریشانی سے کہا
میں نے ساری باتیں سن لی ہے ۔ تم چلوں ذرا اشعر کو میں دیکھتی ہوں
بہت دماغ خراب ہوگیا ایک مئسلہ ختم ہوتا نہیں دوسرا شروع ہوجاتا ہے
زندگی کو اسٹار پیلس کے ڈرامے بنا کے رکھا ہے ۔ ارفع غصے سے بولی
ارسلان اشعر کی شامت کا سوچتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا اشعر ارسلان کی ماں
کو ماما ہی بولتا ہے ۔ وہ اشعر کو اپنا دوسرا بیٹا مانتی ہے ۔ اشعر اگر کسی کی
سنتا ہے تو ارسلان کی ماں ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ فرمان کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ اریشہ میں سمجھ سکتا ہوں تم پر کیا گزر رہی ہے
فرمان اریشہ کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا ۔ فرمان مامی اتنی بری نکلے گی میں نے
یہ نہیں سوچا تھا ۔ اریشہ روتے ہوئے بولی ۔ رولو جتنا رونا ہے تمہارے دل ہلکا ہوجائے گا
لیکن اسکے بعد میں تمہاری ان پیاری آنکھوں میں آنسو نا دیکھو ۔ تمہاری شکل ویسے
کتنی ڈراؤنی لگتی ہے رونے کی وجہ پورا کاجل پھیل گیا تھا ۔ اب اور بھی ڈراؤنی لگ رہی ہے
فرمان نے شررات سے کہا ۔ اریشہ صدمے سے فرمان کی طرف دیکھتی ہے ۔
کیا میں آپکو چڑیل لگ رہی ہوں اریشہ اپنے ہاتھ قمر پر رکھے غصے سے کہا ۔ میں کیا بول
سکتا ہوں آگے تم سمجھ دار ہوں فرمان معصومیت سے کہا ۔ اریشہ تکیہ اٹھا کے فرمان کو
مارنے لگتی ہے ۔ فرمان کا مقصد اریشہ کا دھیان بٹانا تھا جس میں وہ کامیاب ہوگیا تھا
ورنہ اریشہ ایسے بیٹھے روتی رہتی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حذیفہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کے معافی مانگنے لگتا ہے ۔ ماما پیلز مجھے معاف
کردے ۔ آپ مجھ سے ایک ہفتے سے ناراض ہے۔ حذیفہ نم آنکھوں سے سلمہ کی طرف
دیکھتے ہوئے کہا ۔ تم چاہتے ہو نا میں تمہیں معاف کرو تو پھر جاؤ پہلے اشعر سے
معافی مانگو اگر وہ تمہیں معاف کردیتا ہے تو میں تمہیں معاف کردوں گی سلمہ
کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا ۔ اور پھر سلمہ حذیفہ کو وہی بیٹھا چھوڑ کے کمرے سے
چلی جاتی ہے ۔ حذیفہ کی نظروں نے دور تک سلمہ کا پیچھا کیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اظہر کی طبیعت خراب ہو رہی تھی ۔ اظہر خون کی الٹیاں کرکے بیٹھا تھا ۔
اظہر کی خراب حالت دیکھ کے عرفانہ گبھرا جاتی ہے اور جلد سے حمیدہ کو فون ملاتی ہے
تب تک اظہر گرکے بے ہوش ہوجاتا ہے ۔
فرمان فرمان حمیدہ بھاگتے ہوئے فرمان کو آواز دیتے ہوئے فرمان کے کمرے میں آئی
اماں کیا ہوا؟ فرمان حمیدہ کے اسطرح بولنے پر گبھرا کے پوچھا ۔ تمہارے ماموں کی
طبیعت اچانک خراب ہوگی ہے وہ بے ہوش ہوگئے ہیں حمیدہ پھولی ہوئی سانسوں کے
ساتھ بتاتی ہے ۔ کیا اریشہ کی طرف دیکھتے ہوئے فرمان نے کہا، اچھا آپ چلے
فرمان اپنی گاڑی کی چابی اٹھا کے بولا ۔ فرمان اریشہ کو پریشان چھوڑ کے حمیدہ کے
ساتھ چلا جاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا امجد نے اشعر کی شرط سنے کے بعد غصے سے کہا ۔ بھائی اس کے
سوا کوئی چارہ نہیں آپکو انعم کو اپنانا ہوگا علیشا پریشانی سے بولی ۔ لیکن امجد نے کہا
ویکن کچھ بھائی آپ نے بھی تو ایک معصوم لڑکی کی زندگی برباد کی۔ جبکہ میرے ساتھ
حذیفہ نے کچھ ایسا نہیں کیا وہ تو بس مجھ سے اشعر بن کے بات کرتا تھا ۔ علیشا
نے کہا ۔ علیشا ٹھیک کہہ رہی ہے دروازے پر کھڑے سجاول خان بولے ۔ بابا جان آپ
امجد اپنی جگہ سے کھڑے ہوکے بولا ۔ تمہاری وجہ سے پہلی ہی ہماری بہت بدنامی ہوئی ہے
تمہارے اس پریس کانفرنس کا خوب مذاق بنایا جارہا ہے ۔ فیسک بوک پر تمہاری کانفرنس
کو لئے کے خوب لطیفے بنائے جارہے ہیں ۔ اشعر کوئی معمولی بندہ نہیں ہے ۔ وہ انٹرنیشنل
بسنیس مین ہے۔ أسکا بسنیس دنیا کے ہر ملک میں پھیلا ہوا ہے ۔ اشعر پر انگلی اٹھانا
ہمیں بہت مہنگا پڑ گیا اور تو اور تم نے جو أس پر حملہ کرایا تھا أسنے ہم پر کیس
کردیا ہے ۔ جو پولیس والے اس میں زخمی ہوئے تھے أن کے منہ میں پیسوں سے
نے بند کردیئے لیکن اشعر کا منہ بند کرنے کا سوچا بھی مت ۔ أسکے پاس پیسوں کوئی
کمی نہیں ۔ أسکا باپ ایک رئیس آدمی ہے ۔ اشعر سے سمجھوتے کے سوا کوئی چارہ
نہیں ہے سجاول خان نے کہا ۔ لیکن بابا جان میں بھی کیا کرتا جوانی کی آگ بہت
گرم ہوتی ہے ۔ امجد نے بے بسی سے کہا ۔ بیٹا ایک بات یاد رکھنا دوزخ کی آگ
بھی بہت گرم ہوتی ہے ۔ اگر تم یہ سوچ لیتے تو تمہاری جوانی کی آگ ٹھنڈی
پڑجاتی ۔ سجاول خان طنز کیا ۔ امجد نے شرمندگی سے نظریں جھکالی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر اپنے کمرے میں لیٹا تھا ۔ آیت کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن وہ آیت سے
کچھ وقت کے لیے دور رہنا چاہتا ہے ۔ اشعر نے غصے سے پورا کمرہ تہس نہس کردیا تھا
اپنی اور آیت کی تصویر والا فریم اٹھا کے زمین پر پھینک دیا تھا ۔ جو کرچی کرچی
ہوگیا تھا ۔ اشعر زور زور سے چیختا ہے ۔ پروین کا سچ جانے کے بعد اشعر اندر سے
ٹوٹ گیا تھا ۔ أس نے ہر رشتے سے دھوکا کھایا ۔ نہیں آیت اب میں تمہارے ساتھ نہیں
رہ سکتا ۔ اشعر اپنے بال کو اپنے ہاتھ کی موٹھی میں جکڑ کے بولا ۔
دوسری طرف آیت کمرے میں لیٹی آنسو بہا رہی تھی ۔ آیت کے دل پہ اشعر کے الفاظ تیر بن
کے لگے تھے ۔ اشعر آپ بہت برے ہے آیت روتے ہوئے اشعر کی تصویر سے بولی ۔
کیا میرا قصور ہے جو میں ایک خود غرض انسان کی بیٹی ہوں آیت سسکیوں سے روتے ہوئے
خود سے بولی ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *