Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04

آیت کمرے میں بیٹھی ہوئی تو ۔ آیت کو یہاں شفیٹ ہوئے دو دن ہوگئے تھے ۔ آیت
کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی ۔ وہ اپنے ماں باپ کے اتنے قریب ہو کر
بھی أن سے مل بھی نہیں سکتی تھی ۔ اشعر بسنیس کی میٹنگ کے لیے دو دن
کے لئے کراچی گیا ہوا تھا ۔ اشعر گھر پر نہیں ہے کیوں نا میں ماما سے جاکر
مل لوں ۔ آیت سوچتی ہے ۔ اور پھر آیت ہاشم ویلا کے اندر چلی جاتی ہے
ماما آیت عرشی کو لاونچ میں بیٹھا دیکھ کر بولتی ہے، عرشی آیت کو دیکھ کر
غصے سے بولتی ہے ۔کیوں آئی ہو تم یہاں؟ نکال جاؤ یہاں سے ۔ ماما ایسا تو نہیں
بولے، آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔ تم کو سمجھ نہیں آرہی ۔ جاؤ یہاں سے تمہاری وجہ
سے کم ہمارا تماشہ بنا تھا ۔ جو تم اور تماشا بنانے آگی ۔ نکل جاؤ یہاں سے
عرشی آیت کا ہاتھ پکڑ کر بولتی ہے اور گھر سے باہر نکلا دیتی ہے ۔ دروازہ بند کردیتی ہے
ماما میری بات سنے آپکی آیت ایسی نہ ہے۔ میرا یقین کرے آیت دروازے پر بیٹھے
روتے ہوئے بولتی ہے ۔ پھر بوجھل قدموں سے چل کر اپنے گھر جانے کے لیے کھڑی ہوئی
☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر میٹنگ سے جلدی فارغ ہوگیا تھا ۔ اشعر پہلی فلائٹ سے لاہور آگیا تھا
اشعر گھر جلدی آجاتا ہے ۔ کمرے میں آتا ہے تو
آیت کمرے میں ہوتی نہیں ہے ۔ اشعر اپنا موبائل بیڈ پر پیک کر سیڑھی سے اترکر
نیچے جاتا ہے ۔ آیت باہر سے گھر میں داخل ہوتی ہے ۔ اشعر کو دیکھ کر دروازہ پر روک جاتی
ہے۔ اشعر غصے سے آیت کی طرف دیکھتا ہے ۔ آیت اشعر کو دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتی ہے
اشعر سیڑھی سے اترکر آیت کے پاس آتا ہے ۔ کہاں گئی تھی؟ اشعر چیخ کر بولتا ہے
وہ وہ مم میں اپنے گھر آیت ہکلاتے ہوئے بولتی ہے ۔ کس کی اجازت سے تم وہاں گی تھی
بولو ! اشعر نے کہا، جاکر دیکھاو کسے باہر گی تھی ۔ جاؤ۔ اشعر نرم لہجے میں بولا
آیت سر اٹھا کر اشعر کی طرف دیکھتی ہے اور باہر جاکر اندر آتی ہے ۔ گڈ! اب یہ تم
رات تک کرتی رہوں یہی تمہاری سزا ہے۔ اشعر آیت کا گال تپتا کر بولتا ہے ۔ آیت
پریشانی سے اشعر کی طرف دیکھتی ہے ۔ جاؤ ۔ آیت کو بار بار اندر باہر کرتے
ہوئے دو گھنٹے ہوگے تھے ۔ آیت روتے ہوئے اشعر کے پاس آتی ہے ۔
اشعر لاونچ میں بیٹھ ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔ اشعر پیلز مجھے معاف کردے میں اب
دوبارہ آپ سے پوچھے بغیر کہی نہیں جاؤں گی ۔ آیت روتے ہوئے بولتی ہے
اشعر مسکراتےہوئے آیت کی طرف دیکھتا ہے ۔ ادھر آو میرے پاس یہاں آکر
بیٹھو ۔ آیت اشعر کے پاس آکر بیٹھتی ہے ۔ اشعر اپنے انگلیوں کے پوروں سے
آیت کے آنسو صاف کرتا ہے ۔ یہ کوئی رونے کی بات ہے ۔ کھانا کھایا تم نے
اشعر نرمی سے بولتا ہے ۔ آیت نا میں سر ہلاتی ہے ۔ جاؤ منہ دھوکر آؤ پھر ساتھ مل کر
کھاتے ہیں ۔ اشعر نے کہا ۔ آیت کمرے میں چلی جاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت کمرے میں آکر بہت روتی ہے ۔ اشعر میں تو تم کو بدعاء بھی نہیں دے سکتی
میں کبھی معاف نہیں کروگی تمہیں ۔ آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔ تمہاری وجہ سے
میرے اپنے مجھ سے بدگمان ہوگے ۔آیت بیڈ پر سر رکھ وہی روتے ہوئے سو جاتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماما آپ نے آپو کے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔ اسد روتے ہوئے بولتا ہے ۔ اسد چپ کرجاو
اور جاؤ اپنے کمرے میں، میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے ۔ عرشی غصے سے بولتی ہے
اسد روتا ہوا کمرے میں چلا جاتا ہے ۔ عرشی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر تم کو بھابھی کو سچ بتا دینا چاہیے کہ تم نے أن سے شادی کیوں کی۔ فرمان
چائے پیتے ہوئے بولتا ہے ۔ اشعر آفس میں فرمان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔
اشعر کچھ نہیں بولتا اپنا لیپ ٹاپ پر لکھنے میں مصروف رہتا ہے ۔ اشعر یار بھابھی کو
یہی لگتا ہوگا تو نے انکو بدلہ لینے کے لئے شادی کی ہے۔ فرمان بولتا ہے ۔
وہ جو سمجھتی ہے سمجھتی رہے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اشعر
تیز لہجے میں کہا! یار اشعر تو بھابھی کے ساتھ بہت غلط کررہا ہے ۔
تو أنھیں ذہنی اذیت دے رہا ہے ۔ وہ بھی اس لیے تو چاہتا ہے کہ بھابھی تجھ سے نفرت کرے
فرمان پریشانی سے بولتا ہے ۔ ہاں میں چاہتا ہوں وہ مجھ سے نفرت کرے ۔ میرے سائے سے
بھی پناہ مانگے اور ویسے بھی یہ شادی میں نے اسکو بچانے کیلئے کی تھی ۔ میں أسکا
دوبارہ ایڈمیشن کرادو گا۔ وہ ایک بار ڈاکٹر بن جائے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے اپنی
حفاظت کرنے لگے ۔ اور وہ لوگ جن سے أسے خطرہ ہے وہ پکڑے جائے، پھر أسکا اور
میرا راستہ الگ ہوجائے گا ۔ اور میں ان مردوں میں سے نہیں ہو جو کمزور لڑکی
سے اپنا بدلہ لیتے ہیں ۔ میں کرتا بھی کیا أسکو منع بھی کرتا وہ اپنے گھر نا
جائے وہاں خطرہ ہے تو وہ میرا یقین کرتی ۔ اگر أسکی دادی میرے آفس ملنے نہیں
آئی ہوتی مجھ سے مدد نہیں مانگی ہوتی تو میں کبھی أس لڑکی کو اغوا کرکے
شادی نہیں کرتا ۔مجھے بھی اچھا نہیں لگتا أس پر ظلم کرنا ۔ لیکن کیا کروں
میں نہیں چاہتا أس لڑکی کے دل میں میرے لے ذرا سی فیلنگ آئے۔ اشعر اپنا سر
پکڑ کر بولتا ہے ۔ اشعر میں جانتا ہوں یہ سب تیرے مشکل ہے ۔ اپنے دشمن کی بیٹی
کی حفاظت کرنا اور پھر أس لڑکی سے شادی کرنا یہ سب تیرے لیے آسان نہیں ہے
لیکن اس سب کے باوجود أس لڑکی کو تجھ سے محبت ہوگی تو یا تجھ أس ,سے
محبت ہوجائے تو فرمان اشعر کی طرف دیکھ کر بولتا ہے ۔ ایسا کبھی نہیں
ہوگا ۔ میں أس کے دل میں اپنے لیے اتنی نفرت بھر دو گا وہ میرے نام سے بھی نفرت کررہے
گی ۔ میرا اتنا ظرف نہیں ہے میں أس کمینے کی بیٹی سے محبت کرلو،
جب جب آیت کو دیکھتا ہوں وہ سب منظر میرے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگتا ۔
اشعر کرسی سے ٹیک لگتا ہوا بولا! ۔ میں ہاشم بیگ کو نہیں چھوڑوں گا
أس کمینے کی وجہ سے میری ماں اس دنیا میں نہیں ہے ۔ اشعر نفرت سے بولتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ کی شادی فرمان سے طے کردی تھی ۔ اریشہ منہ بنا کر کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی
اشعر کمرے میں آتا ہے ۔ اریشہ میری پیاری بہن مجھ سے ناراض ہے؟ اریشہ کے پاس
بیٹھ کر پیار سے بولتا ہے ۔ بھائی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ۔ ابھی عمر ہی
کیا ہے ۔ میرے کھیلنے کھودنے کے دن ہیں ۔ اریشہ معصومیت سے بولتی ہے ۔
اریشہ بیٹا ابھی شادی کہاں ہورہی ہے ابھی صرف نکاح ہورہا ہے
رخصتی ایک سال بعد ہے۔ اشعر اریشہ کے سر پر چپیٹ لگاتا ہوا بولتا ہے۔
اچھا موڈ ٹھیک کرو ۔ چلوں مامی کھانے پر ہمارا انتظار کررہی ہے ۔
اشعر بولتا ہے ۔ ٹھیک ہے بھائی اریشہ نے مسکراتےہوئے کہا !
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر تم شادی کب کررہے ہوں ۔ پروین بیگم نے اپنی پیلٹ میں چاول ڈالتے ہوئے کہا
مامی میری شادی کی کیا پڑ گی آپکو ؟ اشعر گبھرا کر بولتا ہے ۔ کیوں اشعر
تمہاری شادی میں حرج ہی کیا ہے؟ پروین ناراض ہو کر بولتی ہے ۔
مامی میں کرلو گا شادی ابھی اس بارے میں بات کرنا ضروری ہے؟ اشعر پریشانی سے بولتا
ہے ۔ اچھا ٹھیک ہے ۔ پروین بیگم منہ بنا کر بولتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر گھر آتے ہوئے رات ہوگی تھی ۔ اشعر اپنے کمرے میں آتا ہے ۔ آیت نماز پڑھ
کر دعا مانگ رہی تھی ۔ اشعر کو دیکھ کر کھڑی ہوجاتی ہے ۔ آپکے لے کھانا لگاؤ
آیت اشعر کے پاس آکر بولتی ہے ۔ نہیں مجھے بھوک نہیں ۔ یہ لوں اشعر
ایڈمیشن فارم آیت کو دیتا ہوا بولتا ہے، یہ کیا ہے؟ یہ تمہارا ایڈمیشن فارم
ہے ۔ تم کل سے یونیورسٹی جاؤ گی ۔ اور تمہارا سارا سامان سکینہ سے بول کر
دوسرے کمرے میں شفیٹ کردیا ہے۔ اب سے تم اس کمرے میں رہوں گی ۔
اشعر اپنی بول کر واش روم میں چلا جاتا ہے ۔ آیت کے لیے اشعر کا رویہ سمجھ سے باہر تھا
آیت ابھی وہی کھڑی ہوئی تھی ۔ اشعر چینچ کرکے واش روم سے باہر آتا ہے ۔ آیت
ابھی بھی کمرے میں ہوتی ہے ۔ تم گئ نہیں اپنے کمرے میں؟ اشعر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
آپ ایسا کیوں کررہے ہے؟ آیت اشعر کی طرف دیکھ کر بولتی ہے ۔ کیسا؟ میں جانتا ہوں
تم مجھ سے نفرت کرتی ہوں ۔ ” تم کو پتا ہے جس سے نفرت کی جاتی ہے أس کے سائے
سے بھی دور رہنا چاہیے ورنہ محبت ہو جانے کے امکان ہونے لگتے ہیں ۔ ” آخری بات پر اشعر
زور دیتا ہوا آیت کی طرف دیکھ کر بولتا ہے، آیت خاموشی سے کمرے سے جانے
لگتی ہے ۔ سنو اشعر آیت کو آواز دے کر روکتا ہے ۔ یہ موبائل اپنے پاس رکھو
تم کچھ چاہیے ہو تو فراز کو فون پر بتادینا وہ ہر وقت تمہارے ساتھ ہوگا تمہارا بوڈی گارڈ
بن کر ۔ آیت کی طرف موبائل فون بڑھتا ہوا کہتا ہے ۔ آیت اشعر سے موبائل لے لیتی ہے
اور میرے کمرے سے اور مجھ سے دور رہنا ۔ اب جاؤ اشعر بولتا ہے ۔ آیت جلدی سے
اشعر کے کمرے سے نکال کر اپنے کمرے میں آگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ ٹی وی پر فلم دیکھ رہی تھی ۔ پروین بیگم آکر بولتی ہے ۔اریشہ نیوز لگاؤ پتا تو
چلے ملک کے حالات کیسے ہیں ۔ جی مامی، اریشہ منہ بنا کر بولتی ہے ۔ اریشہ نیوز لگاتی ہے
نیوز پر اشعر کی شادی کی سیلفی کی خبر چل رہی تھی ۔ نیوز دیکھ کر اریشہ حیران رہ گی
لیکن پروین کے قدموں تلے زمین کسھک جاتی ہے ۔ پروین غصے سے اشعر کو فون ملاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر بہت تھگ گیا تو جلدی سو گیا تھا موبائل فون بجنے سے أس کی نیند میں خلل پڑتا ہے
اشعر بند آنکھوں سے فون اٹھا کر کان سے لگتا ہے ۔ ہیلو، اشعر نیند میں ڈوبی آواز سے
بولتا ہے ۔ فون پر پروین ہوتی ہے ۔ اشعر پروین کی غصے سے بھری ہوئی آواز سن کر
اٹھ جاتا ہے ۔ جی مامی میں آتا ہوں ۔ اشعر جلدی سے اٹھ کر فراش روم میں جاتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆
ارم کا آیا تھا ۔ عرشی نے ہامی بھر لی تھی بنا ارم سے پوچھے ۔ ارم کا نکاح بھی طے
کردیا تھا ارم بہت روتی ہے ۔ بہت احتجاج کرتی ہے ۔ لیکن عرشی پر ذرا سا
فرق نہیں پڑتا ۔ پاپا آپ ماما کو سمجھے نا، مجھے آپکی سزا کیوں مل رہی ہے ۔ ارم
روتے ہوئے ہاشم سے بولتی ہے ۔ ہاشم خاموش رہتا ہے ۔ دادی آپ تو میری بات سنے
ارم روتے ہوئے نسیم بیگم سے بولتی ہے ۔ عرشی تم ٹھیک نہیں کررہی اسمیں
ارم کا کیا قصور ہے ۔ نسیم بیگم عرشی سے بولتی ہے ۔ ماں جی آپ رہنے دے
یہ میرے بچوں کا معاملہ ہے ۔ آپ اس میں نا بولیے تو بہتر ہے سمجھے ۔
عرشی غصے سے بولتی ہے ۔ عرشی یہ تم کس لہجے میں ماں جی سے بات کررہی ہوں
ہاشم غصے سے بولتا ہے ۔ بس آپ رہنے دے ۔ مجھے مت سکھائے آیت کی پرورش تو
ماں جی نے کی تھی دیکھا کیا گل کھلایا أس نے ۔ عرشی نےنفرت سے کہا!
نسیم بیگم روتے ہوئے کمرے سے باہر چلی جاتی ہے ۔ اونہہ آئی بڑی عرشی ناک
چیڑ کر بولتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر تم نے اس لڑکی سے شادی کرنے کی خاطر میری انعم کو ٹھکرایا ۔ تم بھول کسے گئے
جس لڑکی کے باپ کی وجہ سے میرا شوہر نہیں رہا۔ میں بھری جوانی میں بیوا
ہوگی ۔ تمہاری ماں بند نام ہوئی ۔ تمہاری ماں کا قتل ہوا ۔ تم بے گھر ہوگئے
تمہارے باپ نے تم کو چھوڑ دیا۔
تم نے أس آدمی کی بیٹی کو اپنے گھر کی عزت بنا لیا ۔ تم محبت میں اتنے اندھے
ہوگئے تم کو اپنی ماں کی تکلیف بھول گئے ۔ پروین غصے سے اشعر کو باتیں سنا رہی تھی
اشعر سر جھکا کر سب باتیں سن رہا تھا ۔ اریشہ کو تو کچھ پتا نہیں ہے۔ أس بچاری کو
تو سچ پتا بھی نہیں ہے ۔ اگر أس کو پتا چلا کہ أسکی ماں کا قتل ہوا تھا
اور أسکے بھائی جان نے أس آدمی کی بیٹی سے شادی کرلی ۔ جس کی وجہ سے
أسکی ماں کے کردارد پر الزام لگے ، پروین دانت پیس کر
بولی ۔ مامی میری بات سنے میں کچھ نہیں بھولا اور نا میں نے أس لڑکی سے
محبت میں شادی کی ہے ۔ میں چھوڑو دو گا أسے۔ اور جہاں تک بات ہاشم کی ہے
میں وعدہ کرتا ہوں أسکو میں انجام تک پہنچاو گا ۔ یہ میرا آپ سے اور خود سے وعدہ ہے۔
مجھے وقت دے ۔ میں کبھی أس لڑکی کو نہیں اپناؤں گا ۔ اشعر نفرت سے بولتا ہے
ٹھیک ہے آپ چاہتی ہے نا میری شادی انعم سے ہوں ۔ میں أس شادی کروں گا
لیکن ابھی مجھے تھوڑا وقت چاہیے ۔ اشعر پروین بیگم کے قدموں میں بیٹھ کر بولتا ہے
ٹھیک ہے ۔ لیکن تم مجھ سے وعدہ کرو تم أس لڑکی سے دور رہوں گے ۔ پروین
اب نرمی سے بولتی ہے ۔ ٹھیک ہے اشعر سر جھکا کر بولتا ہے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *