Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13
ارم کو فون کرکے اشعر نے سب بتادیا تھا ۔ ارم ارسلان کے ساتھ اشعر پیلس میں آگئی تھی
ملازم نے أنھیں ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا تھا ۔
اشعر اور آیت کو کمرے میں آکے نوکر ارم اور ارسلان کے آنے کا بتاتا ہے ۔
ٹھیک ہے رحمت اللہ تم جاؤ ہم آتے ہیں اشعر بیڈ سے کھڑے ہو کے بولا۔
رحمت اللہ کمرے سے چلا گیا ۔ اشعر آیت کو لیے کے ڈرئینگ میں قدم رکھا ۔
اشعر اور آیت کو دیکھ کے ارسلان اور ارم صوفے سے کھڑے ہوجاتے ہیں
ارم اشعر کو سلام کرتی ہے ۔ اسلام وعلیکم اشعر بھائی ۔ وعلیکم السلام ارم
اشعر ارم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا ۔ آیت شرمندگی سے کھڑی ہوئی تھی
ارم خود آگے بڑھ کے آیت سے ملتی ہے ۔ آپو ابھی بھی ناراض ہو؟ ارم
آیت کے گلے لگ جاتی ہے آیت اور ارم رونے لگتی ہے ۔ مجھے معاف کردو ارم میں نے
تم پر ہاتھ اٹھایا، آیت ارم کا چہرہ اپنے ہاتھ میں پکڑکے بولی۔ کوئی بات نہیں
آپو جو ہو بھول جائے۔ ارم آیت کے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
آیت ارسلان کی طرف بڑھتی ہے مجھے معاف کردے ارسلان بھائی میں نے آپکے ساتھ بہت
برا سلوک کیا ۔ آیت شرمندگی سے ارسلان سے کہا، ارے بھابھی بھائی بھی کہتی ہے
اور معافی بھی مانگتی ہے۔ ارسلان مسکراتےہوئے کہا! اشعر کے موبائل پر رینک
ہونے سے سب کا دھیان موبائل کی طرف جاتا ہے ۔ اشعر ٹیبل پر رکھا موبائل فون
اٹھتا ہے فرمان کی کال تھی ۔ اشعر فون کاٹ دیتا ہے ۔پھر دوبارہ موبائل بجنے لگتا ہے
اشعر غصے سے فون ریسوف کرتا ہے ۔ کیا مئسلہ ہے تمہیں؟ کیوں فون کرکے
مجھے ڈسٹرب کررہے ہوں ۔اشعر بلند آواز میں کہا ! اشعر اریشہ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا
فرمان نے روتے ہوئے کہا! کیا اشعر کو شوک لگا۔ کہاں ہے اریشہ؟ اشعر پریشانی سے
بولا ۔ فرمان اشعر کو ہاسپٹل کا بتاتا ہے ۔ ٹھیک ہے میں پہنچتا ہو اشعر
نے کہا، اشعر گاڑی کی چابی اٹھا کے جانے لگتا ہے آیت اشعر کا راستہ روکتی ہے
کیا ہوا اشعر آپ کہاں جارہے ہیں آیت پریشانی سے کہا! اریشہ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے
اشعر پریشانی سے بولا، کیا آیت صدمے سے کہا! ہاں میں ہاسپٹل جارہا ہوں اشعر
باہر کی طرف بڑھتے ہوئے کہا! روکے میں بھی ساتھ چلتی ہو آیت بولی ۔
آیت اشعر کے ساتھ گھر سے باہر نکل گئی ۔ پیچھے سے ارسلان اور اریشہ بھی
نکلتے ہیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر رش ڈرئیف کرتا ہوا ہاسپٹل پہنچا۔ اشعر بھاگتے ہوئے ہاسپٹل کے اندر جاتا ہے
آیت بھی اشعر کے ساتھ بھاگتے ہوئے ہاسپٹل کے اندر داخل ہوئی ۔
پیچھے سے ارسلان اور ارم بھی ہاسپٹل پہنچے ۔
اشعر ریسیپشن کے پاس آتا ہے ۔ بات سنے پیشنٹ اریشہ اظہر کس روم میں ہے اشعر
شیشے کے بکس کے پار لڑکی سے پوچھا ۔ جی سر اوپر کے فلور پر ایمرجنسی روم
میں ہے۔ لڑکی نے اشعر کو بتایا ۔ اشعر جلدی جلدی سیڑھی چڑھتا ہوا ایمرجنسی
روم کی طرف بڑھتا ہے ۔ فرمان ایمرجنسی روم کے باہر کھڑا تھا ۔
کیسی اریشہ؟ اور یہ سب ہوا کیسے ؟ اشعر بیتابی سے بولا۔ فرمان اشعر کے روتے ہوئے گلے
لگ گیا ۔ اشعر اریشہ کو سب سچ پتا لگ گیا ۔ فرمان بولا۔ اشعر فرمان سے دور ہٹتا ہے
کیا کیا تم لوگوں نے اریشہ کے ساتھ ۔ اشعر غصے سے فرمان کا گریبان پکڑ کے بولا
آیت یہ سب دیکھ کے گبھرا جاتی ہے ۔ اشعر فرمان کو چھوڑے ۔ ہوش کرے
ہم ہاسپٹل میں ہیں ۔ یہ لڑنے کا وقت نہیں دعا کرے اریشہ کے لئے ۔ آیت
اشعر کو روکتے ہوئے کہا ۔ اشعر آیت کی بات سنے کے بعد فرمان کا گریبان چھوڑتا ہے
اتنے میں ایمرجنسی روم سے ڈاکٹر باہر آتے ہیں ۔ سب ڈاکٹر کی طرف بڑھتے ہیں
ڈاکٹر کیسی ہے میری بہن اشعر بیتابی سے پوچھا، پیشنٹ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے
تھوڑی دیر بعد ہوش آجائے گا خون زیادہ بہنے کی وجہ سے کمزوری بہت ہے
ڈاکٹر اشعر کے کندھےپہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا!اللہ کا شکر ہے تھنکیس ڈاکٹر کیا ہم مل سکتے
ہیں ؟ اشعر نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا ۔ جی لیکن پیشنٹ کو ہوش آنے کے بعد زیادہ
بات مت کریں گا ، ڈاکٹر مسکراتےہوئے کہا اور آگے بڑھ گئے ۔ اشعر فرمان کو اگنور کرکے
ایمرجنسی روم میں داخل ہوا ۔ پیچھے آیت اور فرمان بھی داخل ہوتے ہیں۔ اریشہ کو
آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا ۔ اریشہ مشینوں سے گری ہوئی تھی ۔سر پر پھٹی بندھی ہوئی
اریشہ بے ہوش تھی۔ اشعر کادل اپنی بہن کو اس حالت میں دیکھ کے کاٹ گیا تھا ۔
فرمان فون پر اریشہ کی بچنے کی اطلاع حمیدہ کو دیتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ کو ہوش آگیا تھا ۔ اشعر اریشہ کے پاس بیٹھا تھا ۔ اریشہ ماسک اتار کے اشعر کو
آواز دی۔ بھائی ۔ اشعر کرسی سے أٹھ کے اریشہ کے پاس آتا ہے ۔ کیسی ہے میری بہن؟
اشعر پیار سے کہا! بھائی مجھے معاف کردے، میں نے آپکا بہت دل دکھایا
اریشہ روتے ہوئے کہا، نہیں میری جان غلطی تمہاری نہیں میری تھی۔ مجھے تمہیں
سب بتا دینا چاہیے تھا ، اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں ماما کو کیا منہ دیکھتا
اشعر ندامت سے بولا، بھائی میں فرمان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اسکی
ماں نے ہماری ماما کے ساتھ بہت ظلم کیا، اریشہ نم آواز سے کہا
نہیں اریشہ اب تمہاری شادی فرمان سے ہوگی ہے ۔ شادی کوئی بچوں کا کھیل نہیں
جب دل چاہ کھیل لیا جب دل چاہ ختم کردیا، اور جو کچھ بھی ہوا أس میں
فرمان کا قصور نہیں، ہماری ماں کے ساتھ ہمارے باپ نے برا کیا ۔ حمیدہ آنٹی نہیں
جب ہمارے ساتھ یہ سب ہوا تھا وہ اپنے گاؤں میں تھی ۔ اور گاؤں جانے سے پہلے
أنھوں نے ماما سے معافی مانگ لی تھی، مجھے یہ سب بات ماما کی ڈائری پڑھ
کرکے پتا چلا ۔ اشعر نے کہا، بھائی آپ کے پاس ماما کی ڈائری کیسے؟ اریشہ نے
حیرت سے پوچھا، ڈائری کا کچھ پیج میری اسکول کی کتاب میں تھے
میں نے تمہارے جانے کے بعد وہ کتاب اور کچھ پرانی چیزیں دیکھ رہا تھا ۔
اشعر نے وضاحت سے بتایا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ کو ورڈ میں شفیٹ کردیا تھا ۔ ارم اریشہ کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ فرمان
اریشہ کے پاس آتا ہے ۔ اریشہ کیسی ہو ؟ فرمان نے پوچھا، زندہ ہو اریشہ
نفرت سے کہا، اریشہ ایسی باتیں نہیں کروں میں مانتا ہوں تمہاری ماما کے
ساتھ بہت برا ہوا ۔لیکن اس سب میں میرا کیا قصور ہے؟ تم مجھے کس بات کی
سزا دے رہی ہوں فرمان بے بسی سے کہا، اریشہ کچھ نہیں بولتی منہ دوسری طرف
کرلیتی ہے۔ فرمان مایوس ہوکے روم سے جاتا ہے،
ارم افسوس سے اریشہ کی طرف دیکھتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔ عرشی روتے ہوئے ہاسپٹل پہنچی ۔
ہاشم بیگ کی جان بچ گئی ہے میں خود حیران ہو اتنا زبردست اٹیک سے بچانا
ناممکن ہے، لیکن اب آپ کو ان کا ٹھیک سے دھیان رکھنا ہے ۔ اور ہر قسم کی
تکلیف اور پریشانی سے دور رکھنا ہے ۔ ڈاکٹر عرشی کو ہدایت دیتے ہوئے
کہا، عرشی پریشانی سے سر ہلاتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حمیدہ اور اظہر اریشہ سے ملنے ہاسپٹل آئے تھے ۔ لیکن اریشہ نے ملنے سے منع کردیا تھا
اشعر اظہر نذیر کے سامنے نہیں آتا ۔ اظہر نذیر مایوس ہوکے ہاسپٹل سے چلا گیا
اریشہ کو ہاسپٹل میں دودن ہوگئے تھے ۔ ڈاکٹر نے کچھ دوائیں لکھ کر دی تھی
اور سختی سے ٹائم پر لینے کی تاکید کی تھی ۔ اریشہ فرمان کے ساتھ گھر جانے سے
انکار کردیا تھا ۔
آیت اریشہ کو بہت سمجھاتی ہے۔ دیکھو اریشہ اس سب میں فرمان کا کوئی
قصور نہیں ۔ بھابھی آپ کوئی اعتراض ہے میرے گھر آنے سے تو بتا دئے
اریشہ تنگ آکر بولی۔ اریشہ ایسا کیوں بول رہی ہوں تم میرے لئے ارم کی طرح ہو
آیت پیار سے کہا ! میرا یہ آخری فیصلہ ہے۔ فرمان کب سے خاموش کھڑے
اریشہ کی بات سن رہا تھا ۔ اریشہ پیلز گھر چلوں ۔ فرمان اریشہ کا ہاتھ
پکڑ کے بولا، ٹھیک ہے میری ایک شرط ہے اریشہ اپنا ہاتھ فرمان سے چھوڑا کے
بولی، کسی شرط فرمان اریشہ کی طرف دیکھ کے پوچھا ۔
تمہیں اپنی ماں کو چھوڑنا ہوگا، اریشہ سفاکی سے بولی۔ اریشہ یہ تم کیا بول رہی ہوں
یہ نہیں ہوسکتا۔ فرمان کھڑے ہوکے کہا، فیصلہ کرلو ۔ تمہیں ماں کے ساتھ رہنا یا
بیوی کے ساتھ، جب فیصلہ کرلو بتا دینا مجھے اریشہ فرمان کی آنکھوں میں
دیکھ کے بولا ۔ اریشہ تم ایسی نہیں تھی نفرت نے تمہیں اندھا کردیا فرمان اریشہ
کی بات سے اندر سے ٹوٹ گیا تھا ۔ فرمان نم آنکھوں سے کمرے سے باہر نکلتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ اشعر کے ساتھ گھر آگئی تھی ۔ اشعر اسکی طبیعت دیکھ کے کچھ نہیں بولا
تھا ۔ ابھی وہ اریشہ سے اس معاملے پر بحث نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
حمیدہ نے اشعر سے ہاسپٹل میں معافی مانگی تھی ۔ حمیدہ کا رویہ اریشہ کے
ساتھ بہت اچھا تھا ۔ لیکن سچ سامنے آنے کے بعد اریشہ سب سے بدگمان ہوگی تھی
اریشہ اپنے کمرے میں بیٹھی فرمان کی تصویر دیکھ کے رو رہی تھی ۔
فرمان اریشہ کو کال کرتا ہے ۔ اریشہ کال ریسف نہیں کرتی ۔
موبائل آف کرکے سوجاتی ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر بالکونی میں کھڑا سگریٹ پھونک رہا تھا ۔ آیت اشعر کے ہاتھ سے سگریٹ لئے کے
پیھکتی ہے ۔ اشعر مجھے برداشت نہیں کوئی آپ کے اتنے قریب آئے۔ آیت روٹھے ہوئے
کہا، اشعر آیت کو اپنے قریب کرکے أسکے ہونٹ کی طرف جھکتا ہے آیت ڈر کے
آنکھیں بند کرلیتی ہے۔ کیا ہوا ابھی تو پیار جتایا جارہا تھا ۔ میں ذرا سا
شوق کیا ہوا ساری محبت کی ہوا نکل گئی اشعر آیت کو زچ کرتے ہوئے کہا
آیت چھوڑ نے کے بعد اشعر کمرے کی طرف بڑھتا ہے ۔ آیت اشعر کا ہاتھ پکڑ کے روکتی ہے
اشعر آیت کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہے ۔
آیت اشعر کی طرف بڑھتی ہے اشعر کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے اشعر کے گال پر
کس کرتی ہے ۔اور آیت بھاگے کے روم چلی جاتی ہے ۔ اشعر مسکراتےہوئے
روم کی طرف بڑھتا ہے ۔ آیت پورا کمبل اوڑھ کے سونے کا ناٹک
کرنے لگتی ہے ۔ اشعر آیت کی طرف دیکھتا ہے مسکرا کے لیٹ جاتا ہے
آیت اپنا سر اشعر کے سینے پر رکھ لیتی ہے ۔ اشعر آیت کے سر پر بوسہ دیتا ہے
آیت آنکھیں موند کے سوجاتی ہے۔ اشعر بھی نیند کی وادی میں گھوم ہوجاتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان صحن میں افسردہ بیٹھا تھا، حمیدہ فرمان کے پاس آئی ۔ کیا ہوا فرمان
حمیدہ فرمان کے بال سہلاتے ہوئے پوچھا، اماں اریشہ نے کہا ہے اگر میں اسکے ساتھ
رہنا چاہتا ہوں تو مجھے آپکو چھوڑنا ہوگا ۔ فرمان پریشانی سے بولا ۔
تو میں ہرج کیا ہے فرمان میں ویسے بھی ساری عمر گاؤں میں رہی ہوں آگے بھی
رہ لوں گی حمیدہ پیار سے کہا ۔ اماں پہلے کی بات اور تھی ۔ اب میں ڈاکٹر بن گیا ہوں
اور میں نے اپنا گھر بھی خرید لیا ہے ۔ میں اماں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ۔
اور جہاں تک اریشہ کی بات ہے أسے اپنا فیصلہ بدلنا ہوگا ۔ فرمان اپنی بات پر
قائم رہتا ہے ۔ حمیدہ پریشانی سے فرمان کی طرف دیکھتی ہے ۔ فرمان اپنے کمرے کی
طرف بڑھتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اظہر نذیر اندر سے ٹوٹ گیا ۔ نماز میں رو رو کے اپنے گناہوں کی معافی اللہ سے مانگ
رہا تھا ۔ اظہر کے پاس سوائے پچھتاوے کچھ نہیں بچا تھا ۔ اپنے بچوں کی
آنکھوں میں اپنے لیے نفرت برداشت نہیں کر پارہا تھا ۔ عرفانہ اپنے کیے پر
بہت پچھتا رہی تھی ۔ اگر وہ دل سے جویریہ کو قبول کرلیتی تو آج یہ حالات نہیں ہوتے
اسکی لگائی بجائی کی وجہ سے اپنے بیٹے کے گھر برباد ہوگیا۔
جاری ہے
