Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05

آیت پھر سے یونیورسٹی جانے لگی تھی ۔ نمرہ ،آیت کو اتنے دونوں بعد یونیورسٹی میں
دیکھ کر خوشی سے اوچھل پڑی۔ آیت، نمرہ بھاگتے ہوئے آیت کے پاس آتی ہے ۔ آیت
کے گلے لگ جاتی ہے ۔ آیت Iam so so happy ، نمرہ خوشی سے بولتی ہے ۔
آیت مسکرا تی ہے ۔ اچھا چلوں اندر کلاس اب شروع ہونے والی ہے ۔ سر آگے ہیں
نمرہ بولتی ہے ۔ آیت نمرہ کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارم کو مسلسل کچھ دنوں سے رونگ نمبر تنگ کر رہا تھا ۔ ارم اسکی شکایت ہاشم بیگ سے
بھی کی تھی ۔ لیکن بجائے أسکو سزا دینے کے عرشی ارم سے بدگمان ہوگی تھی ۔
ارم کے کردار کے بارے میں ایسی باتیں کی ۔ اور ہاشم خاموشی سے سنتا رہا
ارم روتے ہوئے خالی پیٹ کالج چلی گی ۔ نسیم افسوس سے ہاشم کی طرف دیکھتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارم غصے سے پیدل ہی کالج کے لیے نکل پڑتی ہے ۔ ارم بے دھیانی سے چلتے ہوئے روڈ پار
کر رہی تھی ۔ أسکا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ۔ اگر وقت پر آکر اشعر ارم کو نہیں
بچتا ۔ ارم تم ٹھیک ہو؟ اشعر ارم سے نرمی سے پوچھتا ہے ۔ ارم پاگلوں کی طرح
اشعر کو دیکھتی ہے ۔ اشعر ارم کو لے جاکر اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہے ۔ خود گاڑی میں
بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے ۔ کیا بات ہے کچھ پریشانی ہے؟ اشعر ارم کو دیکھ کر بولتا ہے
اشعر بھائی آپو کی قسمت میں بچپن سے سب اچھا لکھا ہے ۔ آپو جو چاہ وہ ملا ۔
یہاں تک وہ پڑھنے یونیورسٹی بھی جاسکی۔ اور سب سے بڑھ کر آپو نے آپ کو چاہ
آپ بھی أنھیں مل گے ۔ لیکن مجھے کیا ملا؟ آپو نے تو آپ سے شادی کرکے مزے سے
اپنی زندگی جی رہی ہے اور میری 40 سال کے آدمی سے شادی ہورہی ہے ۔
ارم تلخی سے بولتی ہے ۔ اشعر ارم کی بات سن کر گہری سانس لیتا ہے ارم
تم کس نے بولا تمہاری آپو نے مجھ چاہ؟ اشعر ارم کی طرف دیکھ کر بولتا ہے ۔ارم خاموش
رہتی ہے ۔
تم پریشان نہ ہوں تمہارا بھائی ہے نا میں کچھ کرتا ہوں ۔ لیکن تمہیں اسکے لیے
میری بات مانی ہوگی ۔ اشعر سوچتے ہوئے کہا ! ٹھیک ہے مجھے منظور ہے
ارم روتے ہوئے بولتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر ارم کو کالج چھوڑ کر آفس آگیا تھا ۔ سر آپ سے ملنے کوئی خاتون آئی ہے۔ کون
خاتون اشعر بولتا ہے ۔ سر جو پہلے بھی آپ سے ملنے آئی تھی ۔
اشعر کو انٹرقوم پر اشعر کی سیکرٹری عروج بتاتی ہے ۔ ٹھیک ہے بیجھو اندر
اشعر نے کہا ۔
اسلام وعلیکم! بیٹا نسیم بیگم اندر آکر بولتی ہے، وعلیکم السلام آئے بیٹھے ۔
اشعر کھڑے ہو کر بولتا ہے ۔ بیٹا میں جبھی تم سے ملتی ہوں تو شرمندہ ہو جاتی ہوں
میرے بیٹے کی وجہ سے تمہارے ساتھ اتنا کچھ ہوا لیکن تم نے أس بدبخت کی بیٹی
کو بچایا ۔ نسیم بیگم روتے ہوئے کہا! اشعر کرسی سے ٹیک لگا کر نسیم بیگم کی بات
غور سے سن رہا تھا ۔ بیٹا تم اگر ہاشم کو سزا دینا چاہو تو میں نہیں روکو گی
وہ اسی قابل ہے ۔ لیکن میری ارم کو بچالو ۔ وہ عورت اب ارم کو بیچ رہی ہے
نسیم بیگم نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا! ۔ کون عورت؟ اشعر کرسی کو آگے کرتا ہوا بولا
عرشی آیت کی سوتیلی ماں ۔ وہ آیت کو زوہیب کے ساتھ شادی کرکے باہر
بیچ رہی تھی ۔ زوہیب ایک ڈرکس ڈیلر ہے۔ اور وہ لڑکیوں کی اسمگلنگ
کرتا ہے ۔ آیت کو تو تم نے بچا لیا لیکن ارم کو کیسے بچاؤ ۔ وہ لوگ بہت خطرناک ہے
نسیم بیگم نے بولا! ہاشم بیگ کچھ نہیں بول رہا؟ اشعر نے حیرت سے پوچھا ۔
أسے کچھ پتا نہیں ۔ وہ تو اپنی بیوی کے پیار میں اندھا ہوگیا ہے ۔ میں نے کئی بار
بتانا چاہا لیکن ہاشم نے میری ایک نا سنی ۔ آیت اور ارم بہت چھوٹی تھی جب عائشہ
کی ڈیتھ ہوگی تھی ۔ ہاشم کی عرشی سے لوف میرج ہوئی تھی ۔ وہ شروع شروع میں
بہت اچھی رہی لیکن اسد کی پیدائش کے بعد وہ بدل گی ۔ ہاشم کو بھی اپنے رنگ میں
رنگ لیا ۔ نسیم بیگم نے بولا! مجھے سب سن کر بہت افسوس ہوا ۔ ہاشم ایک خودغرض
انسان ہے۔ اشعر نسیم بیگم سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا! نسیم بیگم سر جھکا لیتی ہے
آپ پریشان نہ ہوں ۔ میرا ایک دوست ارسلان افتخار ہے، وہ ارم سے شادی کرلیے گا
اگر آپکو اعتراض نا ہو؟ اشعر ہچکچاتے ہوئے کہا! نہیں بیٹا تم تو داماد ہو تمہارا پورا
حق ہے بولنے کا ۔ نسیم بیگم نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔ تو ٹھیک ہے میں آپکو ارسلان سے
ملادیتا ہوں اشعر کرسی سے کھڑے ہو کر بولتا ہے ۔نسیم بیگم کو لیے کر اشعر ارسلان
سے ملانے نکلتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت مجھے یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا ۔ نمرہ ساری کہانی سنکر بولتی ہے ۔ ہاں
نمرہ سمجھ نہیں آتا رہوں یا ہنسو ۔ اشعر پل میں تولہ پل میں ماشا ہوتے ہیں ۔
مجھے اشعر کا رویہ سمجھ نہیں آتی ۔ کبھی اتنے اچھے سے بات کرتے ہیں اور کبھی
ایک دم اجنبی ہوجاتے ہیں ۔ آیت افسردگی سے بولتی ہے ۔ تم پریشان نہ ہوں
اللہ سب ٹھیک کردئے گا ۔ نماز میں اللہ سے دعا مانگو اللہ اشعر بھائی کا دل نرم کردے
نمرہ آیت کو تسلی دیتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم جب سے اشعر سے ملا تھا جب سے خوفزدہ تھا ۔
ہاشم اپنے دوست عدنان عباسی کے گھر میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ہاشم ساری بات
عدنان کو بتاتا ہے۔ کیا مجھے تو یقین نہیں آرہا أس جویریہ کا بیٹا زندہ ہے ؟
جب وہ اپنی ماں کے جنازے سے واپس آرہا تھا
وہ أس دن میری گاڑی کے نیچے آگیا تھا ۔ میں تو وہی سڑک پر أسے مرتا چھوڑ دیا تھا
وہ بچ گیا؟ کاش میں أسے جبھی مار دیتا ۔ عدنان پریشانی سے بولتا ہے
اب کیا ہوگا ۔ عدنان وہ ہم سے بدلہ لینے آگیا ہے ۔ میری بیٹی بھی أسی کے پاس ہے
ہاشم بیگ نے کہا! کچھ کرنا پڑے گا تم پریشان نہیں ہو ۔ عدنان نے کہا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت یونیورسٹی سے گھر آکر سو گئی تھی ۔ اشعر کی گاڑی کے ہارن کی آواز سے
آیت کی آنکھ کھولتی ہے ۔ آیت جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر اور بال بنا کر
نیچے جاتی ہے ۔ اشعر فون پر بات کرتا ہوا اندر داخل ہوتا ہے ۔
آیت کا آخری سیھڑی پر پاؤں موڑتا ہے وہ سیدھا اشعر سے ٹکراتی ہے ۔
آیت اشعر کو زور سے پکڑ لیتی ہے ۔ اشعر اچانک اس سب سے چونک گیا تھا
وہ آیت کو پکڑ کر خود سے الگ کرتا ہے ۔ اللہ نے یہ آنکھیں یہ دیکھنے کے لیے
بنائی ہے ۔ سر پر سجانے کے لیے نہیں ۔ اشعر آیت کو زیچ کرتے ہوئے کہا ۔
آیت پہلے اپنے اس عمل سے شرمندہ تھی ۔ لیکن اشعر کی بات سن کر تپ جاتی ہے
کیا مطلب ہے آپکا؟ میں آپ سے جان بوجھ کر ٹکرائی ہوں۔ آیت غصے سے بولتی ہے
میں تم سے بحث کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ اشعر بول کر جانے لگتا ہے لیکن آیت اشعر کا
ہاتھ پکڑ کر روک لیتی ہے ۔ اشعر غصے سے آیت کا ہاتھ جٹکتا ہے۔ تم سے کہا تھا نا
دور رہو مجھ سے آئندہ ہاتھ مت لگانا ۔ اشعر غصے سے بولتا ہے ۔
میں آپکی بیوی ہوں ۔ آپ کا جب دل چاہے میرا ہاتھ پکڑ سکتے لیکن اگر میں
یہی کام کرو تو غلط ہے ۔ آیت بھی چیخ کر بولتی ہے ۔ آواز نیچی رکھ کر بات کرو
مجھے اونچی آواز سنے کی عادت نہیں سمجھی ۔ اشعر غصے سے بولتا ہے
اشعر آخر میرا قصور کیا ہے ۔ آپ نے پہلے مجھ سے زبردستی شادی کی
اب ایسا سلوک کررہے ہیں آیت روتے ہوئے بولتی ہے ۔ تم پریشان نہ ہوں
میں بہت جلد تم کو اس زبردستی کے رشتے سے آزاد کردو گا۔
اشعر موڑ کر بولتا ہے ۔ اور اوپر چلا جاتا ہے، آیت وہی کھڑی رہ جاتی ہے
اشعر کی بات سے آیت اندر سے ٹوٹ گی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ فرمان سے ملنے أس کے گھر آئی تھی ۔ فرمان کچن میں اپنے لیے کھانا بنا رہا تھا
دروازہ کھولا ہوا تھا اریشہ اندر آتی ہے ۔ اسلام وعلیکم! اریشہ سلام کرتی ہے
وعلیکم السلام اریشہ تم یہاں؟ فرمان کو اریشہ کو دیکھ کر حیرت کے ساتھ خوشی بھی
ہوئی تھی ۔ کیوں میں نہیں آسکتی؟ اریشہ منہ بنا کر بولتی ہے ۔ نہیں یار میرا مطلب
یہ نہیں تھا ۔ اچھا تم بیٹھو تو سہی فرمان بولتا ہے ۔ مجھے آپ سے کچھ کام ہے
اریشہ صوفے پر بیٹھ کر بولتی ہے ۔ کیسا کام فرمان نے پوچھا ۔ وہ مجھے بھائی کی
بیوی سے ملنا ہے ۔ لیکن بھائی کو پتا نہیں چلے ۔ ارم جلدی سے بولتی ہے ۔ کیا
لیکن کیوں؟ مطلب تم کیوں ملنا چاہتی ہوں؟ فرمان گڑبڑا کر بولتا ہے
بس مجھے ملنا ہے بھابھی سے ۔ اریشہ نے اپنی بات دوہرائی ۔ اریشہ میں تمہیں کیسے
سمجھو؟ فرمان پریشانی سے بولتا ہے ۔ دیکھو تم کو کچھ نہیں پتا ۔ میری بات
سمجھنے کی کوشش کرو فرمان ہے بسی سے بولتا ہے ۔ میں سب جانتی ہوں
میں نے کل چھپ کر بھائی اور مامی کی بات سن لی تھی ۔ اریشہ سنجیدگی سے
کہا ۔ کیا مطلب؟ فرمان نے کہا ۔ مطلب میں سب جان چکی ہوں ۔ اشعر بھائی
أس معصوم لڑکی کو چھوڑ دے گے ۔ میں مامی کی چال کامیاب نہیں ہونے دوں گی
میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔ ویسے بھی جو کچھ بھی ہوا أس میں أس لڑکی کا کیا قصور؟
اریشہ بولتی ہے ۔ ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا ۔ فرمان ہار مانتے ہوئے کہا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
أنعم کو جب اشعر کی شادی کا پتا چلا تھا وہ دبئی چھوڑ کر پاکستان آگی تھی ۔
ماما میں اشعر کو اس چڑیل کا ہونے نہیں دوں گی ۔ ماما اشعر صرف اور صرف میرا ہے
انعم روتے ہوئے بولتی ہے ۔ نہیں میری جان اب اور آنسو نہیں ۔ تم دیکھنا کسے تمہاری
ماں اشعر کی زندگی سے أس لڑکی کو نکلاتی ہو ۔ پروین بیگم نے مکاری سے بولا ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *