Mera Kia Qasoor by Muniba Asif NovelR50738 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08
No Download Link
271.4K
26
Rate this Novel
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode01 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode02 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode03 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode04 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode05 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode06 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode07 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08 (Watching)Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode09 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode10 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode11 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode12 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode13 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode14 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode15 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode18 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode19 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode20 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode21 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode22 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode23 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode24 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode25 Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Last Episode
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08
Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode08
اشعر کو فرمان گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔ اشعر گھر میں داخل ہوتا ہے، اشعر کو آیت کے
رونے کی آواز ڈرائنگ روم سے آرہی تھی ۔ اشعر ڈرائنگ روم میں قدم رکھتا ہے
آیت مسلسل رو رہی تھی ۔ اشعر آیت کے پاس جاتا ہے ۔آیت کی حالت دیکھ کے اشعر کے
دل کو ٹھیس لگی۔ اشعر آیت کے قریب بیٹھ کر أسکے آنسوؤں
کو پونچھتا ہے۔ آیت چونک کر اشعر کو دیکھتی ہے، تم ہاتھ مت لگاؤ مجھے، آیت نفرت سے
بولتی ہے، اور اشعر کا ہاتھ جٹکتی ہے، تم نے سب کچھ چیھین لیا مجھ سے، اللہ کرے
تم بھی میری طرح رو تڑپو، تم کو کہی سکون ملے، ترسو تم میری طرح اپنوں کے
پیار کے لیے أن کی محبت کے لیے ۔ آیت اشعر کی آنکھوں میں دیکھ کر بولتی ہے
آیت تم جاکر آرام کرو، تمہاری حالت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ اشعر آیت کے
بکھیرے ہوئے بال اور آنسوؤں سے بیگا ہوا چہرہ دیکھ کے پریشانی سے بولتا ہے
کچھ نہیں ہوا مجھے، ہٹو یہاں سے، آیت غصے سے بولتی ہے ۔ اور کھڑی ہونے لگتی ہے
اشعر کو آیت اندر سے ٹوٹ و بکھری ہوئی لگی، اشعر آیت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب
کر لیتا ہے اور اپنے سینے لگتا ہے، رولو جتنا رونا ہے میں ہوں نا، اشعر آیت کے
بال سہلاتے ہوئے کہتا ہے، آیت اشعر کو دھکا دے کر پیچھے کرنا چاہتی ہے
لیکن اشعر پکڑ اور مضبوط کردیتا ہے، آیت پھر مذمت نہیں کرتی ہے، اشعر کے سینے سے
لگ کر رونے لگتی ہے ۔ اشعر آیت کو رونے دیتا ہے ۔ آیت روتے ہوئے سو جاتی ہے
آیت؟ اشعر آیت کو ہلاتا ہے لیکن وہ گہری نیند سو رہی تھی ۔ اشعر آیت کو
اپنی بانہوں میں اٹھا کے اپنے کمرے میں لیے جاتا ہے ۔ آیت کو بیڈ پر لیٹتا ہے
آیت کو کمبل اوڑھ کے کمرے کا لیمپ بند کرتا ہے۔ اور خود صوفے پر
جاکے سو جاتا ہے ۔
خیال تیرا بھی___ جان لیوا ھے مگر…
تیرے خیال سے نکلوں تو___جان جاتی ھے…!!!
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کی فجر کی اذان کی آواز سے آنکھ کھولتی ہے ۔ اشعر نماز پڑھنے کے لیے اٹھتا ہے
وضو کرکے سنت پڑھ کے پڑھنے کے بعد مسجد جانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے ۔
آیت کی بھی آنکھ کھولتی ہے ۔ میں یہاں کیسے؟ آیت کو رات کا منظر یاد آتا ہے ۔
آیت سامنے دیوار پر لگی گھڑی میں ٹائم دیکھتی ہے اور نماز پڑھنے کے لیے اٹھتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر نماز پڑھ کرکے مسجد سے واپس آرہا تھا ۔ اشعر کے موبائل پر ارسلان کی کال
آرہی تھی ۔ اشعر فون اٹھتا ہے ۔ ہیلو اشعر ، یار تم کیسے ہو؟ اور بھابھی کیسی ہے؟
اشعر بولتا ہے ۔ ہاں میں ٹھیک ہوں ۔ کیا بات ہے تم نے اتنی صبح فون کیا اشعر
گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا، یار وہ میں کل ارم کے ساتھ تیرے گھر آیا تھا
ارسلان پوری بات اشعر کو بتاتا ہے ۔ کیا یار تم آنے سے پہلے مجھے فون تو کرلیتے
اشعر پریشانی سے بولتا ہے ۔ تمہیں نہیں پتا اس پہلے ہاشم بیگ میرے گھر آچکا تھا
أس نے آیت کو میرے بارے میں اتنا کچھ بولا کہ وہ مجھ سے اور بھی بدگمان ہوگی
اور میرا اور أسکا جھگڑا ہوگیا تھا ۔ اور اسکے بعد تم ارم کے ساتھ آگئے
جبھی وہ اتنا رو رہی تھی ۔ اشعر اپنا متھا سہلاتے ہوئے کہا ۔ یار ارم بھی بہت
رو رہی تھی ۔ اشعر میں نے ارم کو بہت سمجھایا لیکن آیت بھابھی کی باتوں سے
ارم بہت دل برداشتہ ہوگی ہے۔ ارسلان پریشانی سے بولتا ہے ۔ اچھا تم فکر نہیں
کروں میں آفس سے واپسی پر چکر لگاؤں گا اور ارم کو سمجھا دوں گا
اشعر سیڑھی چڑھتے ہوئے کہا، او کے اللہ حافظ ارسلان بولتا ہے ۔
اشعر اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ آیت قرآن پاک کی تلاوت کررہی تھی ۔
اشعر آیت پر ایک نظر ڈال کر الماری سے اپنے ہینگ ہوئے کپڑے نکال کے واش میں
چلا جاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سکینہ سب کے لیے ناشتہ بناتی ہے، اریشہ بھی اسکی ہیلپ کراتی ہے ۔
آیت تیار ہوکے نیچے آگئی تھی ۔ آیت نے بیلک کلر کے پاجامہ پر بیلک کلر کی کاٹن کپڑے
کی کرتی پہنی تھی ۔ اور ڈوپٹہ کندھے پر طریقے سے لیا تھا ۔ ہاتھ میں اسٹائل سے بیگ
لیے ہوئی تھی ۔ بھابھی آئے نا ناشتہ کرے ۔ آیت کو دیکھ کے اریشہ بولتی ہے،
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔ آیت بولتی ہے، بھابھی کچھ تو کھالئے آپ نے کل رات کو بھی
کچھ نہیں کھایا تھا، کھانے سے کسی ناراضگی اریشہ آیت کا ہاتھ پکڑ کے بولتی ہے ۔
نہیں اریشہ میرا دل نہیں چاہ رہا، مجھے اگر بھوک لگی تو یونیورسٹی میں کھالو گئی
آیت پیار سے اریشہ سے بولتی ہے ۔ ٹھیک ہے بھابھی جیسی آپکی مرضی ۔
اریشہ بولتی ہے ۔ آیت اریشہ سے مل کے ڈرائیور کے ساتھ یونیورسٹی کے لیے نکلتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر نیوی بیلو کلر کا تیری پیس کا سوٹ پہنا تھا ۔ جیل سے بال سیٹ کیے ہوئے تھے
آئینہ میں خود کا تنقیدی جائزہ لیا ۔ اور سنگار میز کی دراز سے گھڑیوں کا بکس
نکالا، جسمیں بے تحاشا برینڈ نیو گھڑیاں تھی ۔ اشعر نے ان میں سے ایک گولڈ کی
برینڈ نیو گھڑی نکالی اور باقی دراز میں رکھ دی۔ گھڑی ہاتھ میں باندھ لینے کے بعد
پرفیوم کا بکس نکالا جسمیں ہر برینڈ کے پروفیم رکھے تھے ۔ اشعر ان میں ایک
پروفیم اٹھا کے اپنے اوپر اسپرے کیا ۔ پھر اپنا منگا اسٹائلش موبائل فون
کو ہاتھ میں پکڑے کمرے سے باہر نکلتا ہے ۔
اشعر سیڑھی سے اترکے اریشہ سے ملتا ہے ۔
اسلام وعلیکم! صبح بخیر بھائی اریشہ اشعر کے گلے سے لگ کے بولتی ہے ۔ وعلیکم السلام
اریشو، اشعر پیار سے بولتا ہے ۔ بھائی ناشتہ کرے نہیں سوئیٹ ہارٹ مجھے دیر ہورہی ہے
ایک امپورٹنٹ میٹنگ ہے، مجھے جانا ہے ۔ میں نکلتا ہوں، اللہ حافظ، اشعر اریشہ کو
پیار کرتا ہوا باہر نکلتا ہے ۔ اریشہ منہ بنا کر بولتی ہے، دیکھو ذرا ہم پاگل تھے
جو ہم نے ناشتہ بنایا، سکینہ مسکراتی ہے ۔ چلوں ہم دونوں مل کر ناشتہ
کرتے ہیں ۔ اریشہ سکینہ سے بولتی ہے ۔ پھر دونوں ساتھ بیٹھ کے ناشتہ کرتی ہیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان اشعر کے گھر آتا ہے ۔ اریشہ ناشتہ کررہی تھی ۔ فرمان اندر داخل ہوکے سلام کرتا ہے
اسلام وعلیکم! وعلیکم السلام اریشہ فرمان کے سلام کا جواب دیتی ہے ۔ ارے واہ
ناشتہ کیا جارہا ہے، فرمان نے ناشتہ نہیں کیا تھا، ٹبیل پر پراٹھے، ڈبلروٹی کے
سلائس، مکھن، انڈے ہاف فرائی، اور چائے ، رکھی ہوئی تھی ۔
فرمان کا یہ سب دیکھ کے منہ پانی آجاتا ہے، فرمان جلدی سے کرسی کھسکا کے
بیٹھتا ہے اور ناشتہ کرنے لگا ۔ کتنے بھوکے ہے ؟ اریشہ دل میں سوچتی ہے پہلا مہمان
دیکھ رہی ہوں جو بنا بولے کھانا کھانے لگتا ہے ۔ اریشہ طنزیہ بولتی ہے ۔شرم
کرو میں مہمان کہاں سے ہوا؟ میرا تو سسرال ہے۔ فرمان پراٹھے سے ہاتھ صاف
کرتے ہوئے کہا، فرمان کی بات سنے کے اریشہ منہ پر ہاتھ رکھ لیتی ہے،
ابھی شادی نہیں ہوئی تو سسرال کہاں سے ہوا؟ اریشہ تپ کے بولتی ہے ۔
تم ذرا سا قدر کیا کرو میری، خوش نصیب ہو جو ڈاکٹر مل گیا لڑکیاں
ترستی ہیں ڈاکٹر کے رشتے کے لیے، فرمان اپنا کالر اٹھتے ہوئے کہا،
” اے تم ہمیں مونگ پھلی اور خود کو چلوخوزے سمجھتے ہو کیا” ؟
اریشہ فرمان کے سامنے انگلی کرتے ہوئے کہا، کیا مطلب ؟ فرمان نے حیرت سے پوچھا ،
مطلب صاف ہے مونگ پھلی سستی ہوتی ہے ہر کسی کو دستیاب ہوتی ہے
اور چلوخوزے مہنگے ہوتے ہیں ۔ ہر کسی کو میسر نہیں ہوتے ۔ اریشہ نے اپنا
لاجک دیا، کیا فرمان اپنا سر پکڑ کر بولتا ہے، تمہاری تو بات کیا ہے، کہاں سے
لاتی ہو اتنی ذہانت والی باتیں؟ فرمان دانت پیس کر بولتا ہے ۔ میں تو پیدائشی
ذہن ہو کبھی غرور نہیں کیا، اریشہ نے کہا، اریشہ خود کی تعریف کرتے ہوئے اپنی نظر اتاری
اللہ بس نظر بد سے بچائے ۔ فرمان نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ارسلان نے اپنی ٹیم کے ساتھ خفیہ آپریشن کیا ، سب ڈرگس ڈلیر کو گرفتار کیا،
کچھ تو اسمیں مارے بھی گئے ۔ آپریشن میں زوہیب بھی پکڑ گیا، میڈیا نے اس
آپریشن کے حق میں پاک فوج کے لیے خراج تحسین پیش کیا ۔ بہت بڑی تعداد میں
ڈرگس پکڑی گئی۔ جسمیں ہر طرح کا نشہ شامل تھا ۔
ارسلان میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا! مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے ۔ اس غلاظت
میں ہمارے کالج بچے اور بچیاں، ملوث ہیں ۔ امیر سے لیے کے غریب طبقہ اس غلاظت
میں ڈوبا ہوا ہیں ۔ لیکن ماں باپ اپنے بچوں پر توجہ نہیں دیتے، دیکھتے نہیں ہیں
ہمارے بچے کہاں اٹھتے بیٹھتے ہیں، کون دوست ہے، کہاں جارہے ہیں ۔ کالج میں کیا
پڑھائی ہورہی ہیں ۔ لیکن اس سب کے بارے میں والدین کو کچھ علم نہیں ہوتا
لیکن جب بچہ یا بچیاں اس ماحول میں چلی جاتی ہے تو پھرسر پکڑ کے روتے ہیں۔
ہم نے کافی تعداد میں ڈرگس پکڑی ہیں، اور پاکستان کے چند عناصر ان کالے کاموں میں
شامل ہیں ۔ جن میں مشہور بسنیس مین وحید ارشد کا بیٹا زوہیب بھی اس کاموں
میں ملوث ہے ۔ اور بھی مشہور شخصیات کے اور ان کے بچے اس کاموں میں ملوث ہیں
ارسلان میڈیا سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا! ارسلان کی باتیں ختم ہونے کے بعد
میڈیا کے نمائندے سوالات کرنا شروع کرتے ہیں ۔ارسلان ہر سوال کا جواب تحمل سے
دیتا رہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر کی بنس میٹنگ کامیاب رہی تھی، اشعر کی کمپنی کو بہت بڑا پروجیکٹ ملا تھا،
اشعر کا موڈ کافی خوشگوار تھا ۔ اشعر واپسی میں ارسلان کے گھر کی طرف گاڑی
موڑتا ہے ۔ راستے میں اشعر کے سامنے اچانک سے ٹرک آگیا، اشعر بڑی مشکل سے اپنی گاڑی
کو کنٹرول کرتا ہے ۔ اور گاڑی کو سائیڈ میں کرتا ہے۔ لیکن ٹرک جانے کے بجائے اشعر کی گاڑی
کی تیزی سے آرہا تھا ۔ اشعر گاڑی سے جلدی سے اترتا کہ ۔ اتنے میں ٹرک گاڑی کو کچل
دیتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت تم برا مت منانا یار تمہیں ایک بار ارم کی بات سن لینی چاہیے تھی ۔ نمرہ آیت کی ساری
بتاتیں سنے کے بعد بولتی ہے ۔ نمرہ ماما نے ہمیں بہت چاہ سے پالا ہے کبھی ہمیں سوتیلا
ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا ۔ کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اور پاپا نے
کتنے لاڈ سے ہمیں پالا ۔ یہ سب کچھ اشعر نے کیا ہے ۔ پتا نہیں کونسی دشمنی کا بدلہ
ہم سے لیے رہا ہے ۔ آیت تلخی سے بولتی ہے ۔ یار آیت کیا پتا ارم سچ کہہ رہی ہوں ۔ اگر یہ
سب سچ نکالا تو؟ نمرہ پریشانی سے بولتی ہے ۔ مجھے یقین نہیں ۔ اور تم میری دوست ہو
یا اشعر کی ہمدرد ہوں؟ جسے دیکھو وہ اشعر اشعر کی لٹ لگائے رکھتا ہے ۔ آیت
تپ کر بولی۔ اچھا نا چھوڑو کیٹین میں چل کے کچھ کھاتے ہیں ۔ نمرہ نے آیت کا ہاتھ پکڑ
کر کھینچتی ہوئےکہا ! آیت پھر نمرہ کے ساتھ کینٹین کا رخ کرتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اظہر نذیر پاکستان آگیا ۔ اظہر نذیر اپنے آبائی گھر کے باہر کھڑے ہو کر گھنٹی (بیل) بجتا ہے ۔
ایک بوڑھی عورت دروازہ کھولتی ہے ۔ اظہر ، میرا اظہر واپس آگیا ۔ عرفانہ روتے ہوئے بولتی
ہے ۔ اظہر اپنی ماں کے گلے ملتا ہے ۔ ماں جی مجھے معاف کردے میں نے وہاں جاکے آپ سے
رابطہ نہیں رکھ سکا ۔ اظہر روتے ہوئے کہا، اچھا چھوڑو یہ سب، چلو اندر، عرفانہ بولتی ہے
اظہر نذیر عرفانہ کے ساتھ اپنا سامان اٹھائے اندر چلے جاتا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مبارک ہو ہاشم بیگ تمہارا کام ہوگیا ۔ ہاشم بیگ سے عدنان نے کہا، اب اشعر نے لاش بھی
صحیح سلامت مل جائے تو بڑی بات ہے ۔ عدنان نے شراب پیتے ہوئے کہا ۔ ہاشم بیگ نے
جاندار قہقہہ لگایا اور ساتھ میں عدنان نے بھی قہقہہ لگایا ۔ بڑا آیا مجھ سے انتقام لینے
والا ۔ کبھی اچھائی کو جیت حاصل کرتے دیکھا ہے؟ ہمیشہ برائی کی ہی جیت ہوئی ہے
Facebook پر ہم جیسے کہیں ہیں جنہوں نے لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنس کر رکھا ہے
ارے ہم جیسے مردوں کو کون پکڑے گا؟ کسی کے باپ میں ہمت نہیں ہے ۔ جو ہم پر
ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ صفئے ہستی سے مٹ جائے گا ۔ ہا ہا ہا ۔
ہاشم نے غرور سے کہا ۔ تم تیار ہوجاو۔ تم کو آخر میڈیا کے سامنے نقلی آنسوؤں
بھی بہانے ہیں ۔ عدنان نے کہا، ہاں بھئی ہم اس میں ماہر ہیں ۔ ہاشم بیگ نے کہا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسد کی نائین کلاس کا رزلٹ آگیا تھا ۔ اسد کی پوزیشن بہت اچھی بنی تھی ۔ اسد
کی فس بوک پر ایک لڑکی سے دوستی ہوئی تھی ۔ یہ دوستی بڑھتے بڑھتے
محبت میں بدل گی تھی ۔ اسد بہت خوش تھا ۔ اور آج أس لڑکی سے
ریسٹورنٹ میں ملنے آیا تھا ۔ ماریہ اسد سے کافی بڑی نظر آرہی تھی ۔ لیکن کہتے ہیں نا
محبت میں کیا عمر، ماریہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں ۔ اسد ماریہ کا ہاتھ
پکڑ کر بولتا ہے ماریہ شرماتے ہوئے مسکراتی ہے ۔ میں بھی اسد آپ سے بہت محبت کرتی
ہوں ۔ ماریہ اپنی پلکیں اٹھا کے بولتی ہے ۔ یہ سن کر اسد بہت خوش ہوا۔
اتنے میں ویٹر کھانا لئے کر آتا ہے ۔ دونوں کھانا کھانے میں مصروف ہوجاتے ہیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان اپنی ماں حمیدہ سے ملنے گاؤں آیا تھا ۔ اماں میں نے تیری بہو پسند
کرالی اگلے ہفتے تیرے بیٹے کا نکاح ہے۔ فرمان حمیدہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہتا ہے
شرم کرو لڑکی پسند کرکے ماں کو بتا رہا ہے ۔ ابھی کیوں بتا رہا ہے
شادی کرکے بتاتا ۔ حمیدہ ناراض ہوتے ہوئے کہا ۔ اماں ناراض تو نا ہو اپنی بہو کی
تصویر تو دیکھو کتنی پیاری ہے۔ فرمان اریشہ کی تصویر موبائل فون میں دیکھاتا ہے
ارے ماشاءاللہ بہت پیاری ہے ۔ چل اس بچی کے صدقے میں تجھے معاف کرتی ہوں ۔
حمیدہ خوش ہوکے بولتی ہے ۔ اماں کچھ کھلا بھی دو بہت بھوک لگی ہے ۔ اتنی دور سے
تیرا بیٹا آیا ہے فرمان پیٹ پر ہاتھ رکھے بولتا ہے ۔ اچھا تو منہ ہاتھ دھو لیں میں ( ملازمہ )
بانو سے بول کے کھانا لگاتی ہوں ۔ حمیدہ بولتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت یونیورسٹی سے آکے ٹی وی کھولتی ہے ۔ اور پانی نکال کر پینے لگتی ہے
” ناظرین ہمیں برینگ نیوز ملی ہے ۔ مشہور بسنیس مین اشعر نذیر کی گاڑی کا بہت برا
ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ۔ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے ۔ اشعر نذیر بچ گئے ہیں
یا نہیں ۔ جسی ہمیں اسکی خبر ملتی ہے ہم آپکو بتاتے ہیں ۔ باقی تفصیلات
جانے کے لیے ہمارے چینل کے ساتھ بندھے رہے ۔ “
ہر چینل پر یہی خبر چل رہی تھی ۔ آیت کے ہاتھ سے کلاس چھوٹ کے زمین پر گرتا ہے ۔
کلاس ٹوٹنے کی آواز سن کے سکینہ گبھر کر کمرے میں آتی ہے ۔ بیگم صاحبہ آپ ٹھیک تو
ہے؟ سکینہ بولتی ہے ۔ آیت ہولناک کی طرح ٹی وی کی طرف دیکھ رہی تھی
اشعر کی ایکسیڈنٹ کی خبر آیت پر بجلی بن کے گری ۔ آیت بے یقینی سے یہ
سب دیکھ رہی تھی ۔ دل اشعر کی سلامتی کی دعا مانگ رہا تھا ۔ آیت
ٹی وی بند کرکے رونے لگتی ہے ۔ صاحب جی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔ مجھے اریشہ بی بی کو
فون کرکے بتانا ہوگا۔ سکینہ گبھرا کے بولتی ہے ۔ نہیں تم اریشہ کو کچھ نہیں بتاو گئی
وہ پریشان ہوجائے گی ۔ آیت سکینہ کو منع کرتی ہے سکینہ کانچ اٹھا کے کمرے سے چلی
جاتی ہے ۔ مجھے تو خوش ہونا چاہیے لیکن مجھے کوئی تکلیف
ہورہی ہے ۔ أسکا دل آج أس سے بغاوت کررہا تھا ۔ دل اور دماغ کی جنگ میں
دل بازی جیت رہا تھا ۔ وہ اشعر کی زندگی کی دعا کررہی تھی ۔ أس شخص
کے لے جس نے أسے برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کیا محبت کا جادو
چل گیا ہے ؟ آیت وضو کرکے جائے نماز پیچھا کے اشعر کی سلامتی کی دعا مانگنے
لگتی ہے ۔
ہر گھڑی تیرا تصور ہر نفس تیرا خیال
اس طرح تو اور بھی تیری کمی بڑھ جائے گی.
جاری ہے
